امام خمینی معاصر تاریخ کا مردِ مجاہد (حصّہ اوّل )

امام خمینی معاصر تاریخ کا مردِ مجاہد (حصّہ اوّل )

امام خميني رضوان لله تعالي عليه

امام خمینی(رہ) ایک ایسے عظیم انقلاب کے موجد و بانی تھے جس نے شہنشاہوں کے2500سالہ اقتدار کا یکسر خاتمہ کیا ۔ انہوں نے اپنی بے لوث و پرخلوص قیادت کے بل پر امریکہ ، روس اور دیگر عالمی طاقتوں کے اثر و رسوخ کو ختم کرکے اسلامی معاشرے کو پاک و صاف کرانے کی جدوجہد آخری دم تک جاری رکھی ....دیکھتے ہی دیکھتے سرزمین ایران کے کلمہ گو نوجوان اور بزرگ مع خواتین جن کے سینوں میں جوش وخروش اور انقلابی لہر موجزن تھی ‘ عیش وآرام چھوڑ کر سڑکوں پر نکل آئے ۔ انہوں نے شاہی لوازمات ٹھکرائے ،امام خمینی(رہ) کے فرمان کو دلوں سے لگائے ،سلطنتی نظام کے خاتمے اور اسلامی حکومت کے قیام کا نعرہ بلند کیا ۔ الغرض پرخلوص اور دیانتدارانہ قیادت کے زیر اثرخوابیدہ قوم کواسلامی انقلاب کے طلوع کی خوش خبری سننے کو ملی ۔

امام خمینی (رہ) کو ابتداء ہی سے اس بات کا احساس تھا کہ دنیا کے ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں کی نمائندگی کرنے دو عظیم طاقتوں کے سیاسی ونظریاتی حملوں کا مقابلہ کرنے اور اسلامی مقاصد کے دفاع وتحفظ کے لئے ایرانی جیالوں کو صف اوّل میں کھڑا ہونا ہے ۔ دنیا والوں پر یہ حقیقت آشکار ہوگی کہ امام کی بے لوث اور بروقت رہنمائی میں امت نے تمام رکیک حملوں کا مقابلہ کیا ۔

۔ امام خمینی(رہ)  نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں فرمایا تھا :

” یہ اسلامی تحریک کسی شخص پر قائم نہيں ہے ۔ میں آپ کے درمیان رہوں یا نہ رہوں مگر یاد رکھو کہ اتحاد ویگانگت کی ڈگر سے وابستہ تحریکی سفر جاری رکھ کے ہی آپ کو منزل ملے گی “۔

.اس وقت اسلامی دنیا امام خمینی(رہ)  کے بوئے ہوئے تحریکی پودے کو تناوردرخت کی صورت میں دیکھ رہی ہے ۔ بلاشبہ امام خمینی (رہ)کا انقلابی مشن اور ان کا لازوال پیغام آبندہ نسلوں کے لئے بھی مفید اور تعمیری ثابت ہوگا کیونکہ امام انقلاب(رہ)  نے آ ج کے انسان کو یہ سبق دیا ہے کہ سیاسی ، اقتصادی اور ثقافتی قوتوں کے سامنے جھکنا ذلت ورسوائی کے مترادف ہوگا ۔

ان کی وصیت میں سے ایک جھلک پیش خدمت ہے :

” اسلامی ممالک کے غیور عوام سے میری وصیت ہے کہ آپ اس انتظار میں نہ رہیں کہ کوئی باہر سے آ کر اسلامی احکامات کے مفاد کے سلسلے میں آپ کے مقاصد میں کسی طرح کی مدد کرے ۔ آپ خود اس حیات بخش عمل کے لئے جو آزادی کو اپنے ہمراہ لاتا ہے اقدام کیجئے‘ اسلامی ممالک کے علماءاعلام اور خطبائے کرام کا فریضہ ہے کہ وہ حکومتوں کی بڑی طاقتوں کی غلامی سے آزاد ہونے اور اپنی قوم سے مفاہمت کرنے کی دعوت دیں“۔

یورپ اور امریکا سے انتھا پسندوں کا شام جانا

امریکی وزارتِ خارجہ نے حال ہی میں شدت پسندوں کی جانب سے بھرتیوں کے جواب میں انگریزی بولنے والے افراد کو بھرتی کرنا شروع کیا ہے جس کا مقصد انٹرنیٹ پر شدت پسندوں کی کوششوں کو زائل کرنا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے یہ قدم ایسے وقت اٹھایا گیا ہے جب القاعدہ اور اس سے وابستہ تنظیمیں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے افراد کو اپنی جانب مائل کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف 2011 سے جاری مسلح جد و جہد میں باغیوں کے ہمراہ لڑنے کے لیے کئی امریکی شام گئے یا انہوں نے شام جانے کی کوشش کی۔

یمن میں القاعدہ انگریزی پڑھنے والوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے اپنی ویڈیوز پر انگریزی سب ٹائٹل دیتی ہے۔ دوسری جانب صومالیہ کی شدت پسند تنظیم الشباب انگریزی میں آن لائن رسالہ بھی شائع کرتی ہے۔

وزارت خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کا پروگرام تجرباتی سطح پر ہے جس میں انگریزی کی ویب سائٹوں، ٹوئٹر، یوٹیوب ویڈیوز اور فیس بک پیجز پر نظر رکھی جائے گی جہاں پر اب تک یہ شدت پسند تنظیمیں اپنے نظریات بغیر کسی روک ٹوک کے پھیلاتی تھیں۔

تاہم امریکی اور یورپی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ انگریزی بولنے والے شدت پسند اس وقت زیادہ بڑا خطرہ بن سکتے ہیں جب وہ شام میں مسلح تصادم میں حصہ لے کر واپس اپنے ملک لوٹیں گے۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق پچھلے تین سالوں سے وزارت خارجہ کے ایک چھوٹے سے دفتر میں آن لائن کے تجزیہ کار اور بلاگر یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں ایسی کیا چیز ہے جس سے لوگ شدت پسندی کی جانب مائل ہوتے ہیں اور ایسا کیا کیا جا سکتا ہے کہ ان افراد کو شدت پسندی سے دور رکھا جا سکے۔

ان تجزیہ کاروں کی توجہ 18 سے 30 سال تک کی عمر کے افراد پر ہے جن میں سے اکثریت کا تعلق مشرق وسطیٰ سے ہے۔ یہ تجزیہ کار عربی، اردو، صومالی اور پنجابی بول سکتے ہیں۔بدھ کے روز شروع ہونے والے پائلٹ پراجیکٹ میں پہلی بار یہ تجزیہ کار ان ویب سائٹوں پر پیغام پوسٹ کریں گے جنھیں جہادی تنظیمیں بھرتیوں، فنڈ اکٹھا کرنے اور دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

ابتدائی طور پر یہ تجزیہ کار ان ویب سائٹوں پر صرف تصاویر اور پیغامات پوسٹ کریں گے اور شدت پسندوں کے ساتھ بحث میں حصہ نہیں لیں گے۔

وزارتِ خارجہ کے دفتر کے رابطہ کار اور سابق سفارت کار البرٹو ایم فرنینڈس کا کہنا ہے: ’ہمیں ان کے پیغام کو زائل کرنے لیے تیار رہنا ہو گا۔

امریکی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جہادی ویب سائٹوں پر تصاویر شائع کی گئی ہیں جس میں ان امریکی افراد کو دکھایا گیا ہے جو جہاد کے لیے مختلف ممالک گئے۔ ان افراد میں عمر حمامی نامی امریکی شخص بھی شامل ہے۔ ان تصاویر کے نیچے لکھا گیا ہے ’وہ جہاد کے لیے گئے تھے لیکن الشباب کے ہاتھوں قتل کردیے گئے۔

ایک اور تصویر میں ایک شخص تابوت کے قریب بیٹھا رو رہا ہے اور اس کے نیچے لکھا گیا ہے: ’بےگناہ افراد کا قتل درست راستہ کیسے ہو سکتا ہے؟

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق شام میں جاری مسلح تصادم کے لیے جانے والے انگریزی بولنے والے افراد کو متوجہ کرنے کے لیے شامی صدر بشار الاسد اور القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی تصویر ایک ساتھ لگائی گئی ہے اور لکھا ہے: ’اسد اور القاعدہ شام کو تباہ کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ آپ اس کو مزید تباہ کن نہ بنائیں۔

ہر پیغام کے ساتھ ایک تنبیہہ بھی شائع کی گئی جو ہے ’دوبارہ سوچیں۔ یہ مت کریں۔

امریکی وزارت خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ واضح طور پر لکھا جائے گا کہ یہ پیغام امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے ہے اور اس کے ساتھ وزارت کا لوگو بھی ہو گا۔

امریکی تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوشن میں فیلو اور سابق وزارت خارجہ کے انسداد دہشت گردی کے اہلکار ولیم میک کینٹس کا کہنا ہے: ’مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے کئی جہادی اور القاعدہ کی کم از کم ایک اتحادی تنظیم الشباب نئی بھرتیوں کے لیے انگریزی کا استعمال کرتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان کے پیغام کے اثر کو زائل کرنے کے لیے انگریزی ہی کا استعمال کیا جائے۔

وزارت خارجہ کی یہ کوشش امریکی حکومت کی شدت پسندوں کی کوششوں کے اثر کو زائل کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے 2008 میں ایک ٹیم قائم کی تھی جو اسی قسم کے پیغامات شائع کرتی تھی۔

اس ٹیم میں 12 افراد ہیں جو عربی، پشتو، دری، اردو، فارسی اور روسی بولتے ہیں۔

امریکی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ضرورت کے مطابق پیغامات میں تبدیلی لائی جائے گی، اور اس بات کا بھی فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا یہ پیغام مستقل طور پر رکھے جائیں یا نہیں۔

 

قائد انقلاب اسلامي کا نمازجمعہ

قائد انقلاب اسلامي کا نمازجمعہ کے اجتماع سے خطاب

آيت اللہ العظمي خامنہ اي

ولي امر مسلمين آيت اللہ العظمي خامنہ اي نے فرمايا کہ ايران کے اسلامي انقلاب نے ملت ايران کو گھٹن کے ماحول سے باہر نکال کراور اس حقارت سے جو ايراني عوام پر مسلط کر رکھي گئي نجات دلاکر انہيں عزت و شرف اور آزادي عطا کي ہے

ابنا: قائد انقلاب اسلامي نے نماز جمعہ کے عظيم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جس ميں دسيوں لاکھ نمازيوں نے شرکت کي اسلامي انقلاب کي کاميابي کے بعد کي ترقي وپيشرفت کا ذکر کرتے ہوئے فرمايا کہ گذشتہ تين عشروں کے دوران ايران کے عوام نے تمام چيلنجوں منجملہ صدام کے ذريعے مسلط کي گئي آٹھ سالہ جنگ ، اوراسي طرح پابنديوں اور اپنے خلاف دہشتگردانہ واقعات پرغلبہ حاصل کيا اور ان ميں سے کوئي بھي اقدام اسلامي انقلاب کو گھٹنے ٹيکنے پر مجبور نہ کرسکا -

قائد انقلاب اسلامي نے اسي طرح ايران کے خلاف امريکا کي پابنديوں اور دھمکيوں ميں شدت کا بھي ذکر کرتے ہوئے فرمايا کہ يہ دھمکياں امريکا کي بے بسي کي علامت ہيں اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ بات چيت کي منطق سے عاري ہيں اور امريکا اپنے مقاصد کے حصول کے لئے طاقت کے استعمال اور خونريزي کي منطق کے علاوہ اور کچھ نہيں جانتا - قائد انقلاب اسلامي نے فرمايا کہ امريکا اگر جنگ کي دھمکي ديتا ہے تو بھي اس کے نقصان ميں ہے اور اگر جنگ کرتا ہے تو اس کو دس گنا زيادہ نقصان ہوگا - قائد انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي خامنہ اي نے ايران کے آنےوالے عام انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے فرمايا کہ جو چيز دشمنوں کے مقابلے ميں ايراني عوام کي ہيبت کو ظاہر اور دشمنوں پر خوف طاري کرتي ہے وہ انتخابات ميں عوام کي بھرپور شرکت ہے -

ولي امر مسلمين آيت اللہ العظمي خامنہ اي نے نماز کے خطبے ميں علاقے ميں جاري اسلامي بيداري کي لہر اور تبديليوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمايا کہ علاقے ميں جاري عوامي انقلابات ميں تيونس مصر اور ليبيا کے عوام کے انقلابات کامياب ہوگئے ہيں اور اس عرصے ميں چار خطرناک ڈکٹيٹروں کا خاتمہ ہوچکا ہے اور يہ بہت ہي مبارک واقعات ہيں - آيت اللہ العظمي خامنہ اي نے فرمايا کہ علاقے ميں جاري انقلابي تحريکوں کا ايک اثر يہ ہے کہ غاصب صہيوني حکومت الگ تھلگ پڑگئي اور کمزور ہوئي ہے اور فلسطيني نوجوانوں کو اپنے مستقبل کے تعلق سے حوصلہ ملا ہے -

قائد انقلاب اسلامي نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ بحرين کے عوام کا انقلاب علاقے کے ديگر انقلابات کے مقابلے ميں سب سے زيادہ مظلوم ہے فرمايا بحريني عوام کے انقلابات کو پوري دنيا کے ذرائع ابلاغ نے بائيکاٹ کيا ہے آپ نے بحريني حکام کے ان بيانات کو مسترد کرتے ہوئے کہ ايران بحرين کے داخلي معاملات ميں مداخلت کررہا ہے فرمايا ہے کہ ہم بحرين کے معاملات ميں مداخلت نہيں کررہے ہيں اور اگر مداخلت کررہے ہوتے تو اس کا اعلان بھي کرديتے جس طرح ايران اسرائيل کے خلاف مداخلت کرتا ہے جس کا نتيجہ لبنان ميں تينتيس روزہ اور غزہ ميں بائيس روزہ جنگوں ميں سامنا آيا اور اس کے بعد بھي جہاں بھي کوئي قوم يا گروہ صہيوني حکومت کے مقابلے کے لئے اٹھ کھڑي ہوگي اس قوم اور گروہ کي مدد کرنے سے ہم دريغ نہيں کريں گے قا ئد انقلاب اسلامي نے اس بات پر تاکيد کرتے ہوئے کہ آج امريکا اور يورپ اقتصادي اور سياسي مسائل ميں عالمي سطح پر کمزور پڑ گئے ہيں فرمايا امريکا کو عراق افغانستان اور فلسطين ميں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور خود امريکا کے اندر امريکي حکومت کو مشکلات کا سامنا ہے جس کي مثال گذشتہ چار مہينوں سے امريکي عوام کا سڑکوں پر نکلنا اور دھرنا دينا ہے.

قائد انقلاب اسلامي نے ايران کے خلاف امريکا اور يورپ کي پابنديوں اور دھمکيوں کے سلسلے ميں فرمايا کہ ان پابنديوں کا جواب دينے کے لئے ہمارے پاس کرنے کو بہت کچھ ہے اور وقت آنے پر ہم انجام بھي ديں گے - ولي امر مسلمين نے نماز کے دوسرے خطبے ميں جو عربي زبان ميں ديا گيا علاقے کے عرب عوام کو سفارش فرمائي کہ وہ علاقے کے عوامي انقلابات کو مغرب کي طرف سے اچک لے جانے کي کوششوں سے ہوشيار رہيں آپ نے فرمايا کہ جتني بھي آمر حکوaمتوں کا خاتمہ ہوا ان سب کي مشترکہ خصوصيت مذہب اور دين کي مخالفت تھي وہ مغرب کي ايجنٹ اور پٹھو حکومتيں تھي جو صہيونيوں کا ساتھ ديتي تھيں اور مسئلہ فلسطين سے غداري کرتي تھيں.

جديد شاعري ميں کربلا

جديد شاعري ميں کربلا کا تذکرہ

محرم الحرام

کربلا ، امام حسين "ع" ، حسينيت اور مصائب کربلا ، بلا تفريق مسلک و مذھب ہماري زندگيوں کا لازمي جزو بن چکے ہيں - ان الفاط اور اصطلاحات کا استعمال نہ صرف واقعہ کربلا اور نواسہ رسول حضرت امام حسين "ع" کي مظلوميت کے حوالے سے زبان زد خاص و عام ہے بلکہ زبان و ادب ميں بھي اس کو انتھائي اہم حيثيت حاصل ہے - اردو ادب چاہے وہ نثر کي صورت ميں ہو يا نظم  ميں ، واقعہ کربلا کا استعارہ اس کو ايک نئي زندگي عطا کرنے کا باعث بنا -

 حقيقت يہ ہے کہ واقعہ کربلا کے بعد سب سے پہلے کوفہ و شام کے اسيروں نے نثرونظم ميں اپنے جذبوں اور حوصلوں کا اظہار کيا - ان کے تاريخي خطبے آج بھي ارباب فکرونظر کو اپنے مدمقابل سجدہ ريز پاتے ہيں -

برصغير ميں اردو زبان جس وقت ابھي اپني منزليں طے کر رہي تھي بعض علاقائي بوليوں ميں اور لوک روايتوں ميں واقعہ کربلا کا ذکر کثرت سے ملتا ہے -سرائيکي ، سندھي ، پنجابي جيسي علاقائي زبانوں کے علاوہ کئي ايک دوسري زبانوں ميں بھي واقعہ کربلا اپني تمام تر مظلوميت کے ساتھ لکھنے ، سننے اور پڑھنے والوں کو گريہ و زاري پر اکساتا رہا -

اردو زبان ميں صنف مرثيہ کے باقاعدہ وجود ميں آنے سے پہلے دوہے ، دہے ، نوحے وغيرہ پڑھے جاتے تھے - دکھني ، اردو ميں چو مصرع مرثيوں کا رواج تھا ، شمالي ھندوستان ميں بھي مرثيے کي مختلف شکليں موجود تھيں -

مير ضمير اور ميرخليق کے بعد انيس و دبير نے مرثيے کي صنف کو ايسي ترقي دي اور اپنے شعري کمالات کي ايسي دھاک بٹھائي کہ ان کے بعد پھر کسي کو ايسي بلندي نصيب نہ ہوئي - مرثيہ پر اردو ادب ميں جو کام ہوا وہ ہمارے مد نظر نہيں ہے بلکہ اردو ادب ميں کربلا کے استعارے اور "سيد الشھداء امام حسين عليہ السلام" کي پاکيزہ شخصيت کو جديد شاعري ميں جس طرح استعمال کيا گيا ہے اس پر مختصر روشني ڈالنے کي کوشش کريں گے -

دنيا کي ہر چھوٹي زبان کو واقعہ کربلا نے جلا بخشي ، بقول قيصر بارہوي :

شاعر کسي خيال کا ہو يا کوئي اديب

واعظ کسي ديار کا ہو يا کوئي خطيب

تاريخ بولتا ہے جہاں کوئي خوش نصيب

اس طرح بات کرتا ہے احساس کا نقيب

ديکھو تو سلسلہ ادب مشرقين کا

دنيا کي ہرزبان پہ قبضہ حسين کا

محرم الحرام

اردو ادب کے معروف تنقيد نگار اور اديب پروفيسر گوپي چند نارنگ لکھتے ہيں :

" راہ حق پر چلنے والے جانتے ہيں کہ صلواۃ عشق کا وضو خون سے ہوتا ہے اور سب سے سچي گواھي خون کي گواھي ہے - تاريخ کے حافظے سے بڑے بڑے شہنشاہوں کا جاہ و جلال شکوہ و جبروت ،شوکت و حشمت سب کچھ مٹ جاتا ہے ليکن شہيد کے خون کي تابندگي کبھي ماند نہيں پڑتي بلکہ کبھي کبھي تو جب صدياں کروٹ ليتي ہيں اور تاريخ کسي نازک موڑ پر پہنچتي ہے تو خون کي سچائي  پھر آواز ديتي ہے اور اس کي چمک ميں نئي معنويت پيدا ہو جاتي ہے " -

جب جب خير و شر اور حق و باطل کي آميزش و پيکار ميں معاشروں کو نئے مطالبات اور نئي ہولناکيوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے يا جبر و استبداد ، ظلم و بے مہريوں کا کوئي نيا باب وا ہوتا ہے تو معاشرے يادوں کے قديم دفينوں کي طرف متوجہ ہوتے ہيں اور تاريخي روايتوں نيز ثقافتي لاشعور کے خزينوں سے حرکت و حرارت کا نيا سازوسامان لے کر فکروعمل کي نئي راہوں کا تعين کرتے ہيں -

کربلا کے لق و دق صحرا ميں سيدالشہداء نے جو تاريخ رقم کي ہے وہ ہر دور ميں حق پرستوں کے لئے مشعل راہ بني رہے گي -

واقعہ کربلا ميں انساني فکروعمل کے لاتعداد گوشے پنہاں ہيں ان کو کبھي حق و باطل ايثار و قرباني اور حريت و آزادي کے نام سے دائمي اقدار ميں شمار کيا جاتا ہے تو کبھي فرات ، پياس ، قتل ، لاوارثي ، سجدہ ، نيزہ ، سرفروشي ، بلندنطري اور شام غريباں جيسي علامتوں کے ذريعے شاعري کو معراج عطا کرنے کي کوشش کي جاتي ہے -

جديد اردو ادب ميں يا دوسرے الفاظ ميں جديد رثائي ادب ميں حرف غم و الم کي بات اور آنسووں کي رواني نہيں بلکہ اعلي انساني اقدار اور بلند ترين اخلاقي اقدار کي ترجماني بھي نظر آتي ہے اور بلاشبہ کربلا ہي ہے جس نے جہاد و قرباني ، ثبات و استقامت اور محنت و وفاداري کا جذبہ عطا کيا ہے - جن شاعروں نے کربلا سے متاثر ہو کر رثائي ادب تخليق کيا ہے ان ميں يہ اقدار پوري طرح جلوہ گر نظر آتي ہيں اور اردو شعراء کے اشعار کي ايک بڑي  تعداد کو اگر واقعات کربلا کے پس منظر ميں نہ ديکھا جائے تو بالکل نامفہوم ہو کر رہ جاتے ہيں -

ذوق نے شايد اسي وجہ سے کہا تھا :

لکھوں جو ميں کوئي مضمون ظلم چرخ بريں

تو کربلا کي زمين ہو مري غزل کي زمين

شايد يہ کہنا غلط نہ ہو کہ اردو ادب ميں استعارے کي شاعري کو کربلائيت نے ہي مقبوليت عطا کي - اگر کربلا کا تصور نہ ہوتا تو اردو غزل کا يہ شعر کہاں سے آتا ؛

اس دشت ميں اے سيل سنبھل کر ہي قدم رکھ

ہر سمت کو ياں دفن مري تشنہ لبي ہے -

يا اسي طرح يہ شعر ؛

لٹنے والوں کو وفا کا يہ سبق ياد رہے

بيڑياں پاوں ميں ہوں اور دل آزاد رہے -

دبير سيتا پوري کا يہ شعر بھي قابل غور ہے :

ستمگرو ! نہ ستم کرتے کرتے تھک جانا

ہمارے صبر کي حد جنگ کربلا تک ہے -

محرم الحرام

موجودہ دور کے نامور شاعر افتخار عارف کے کلام ميں بھي کربلا کا شعري استعارہ نہايت منفرد ہے - وہ کربلا کي تعليمات کو نئے سماجي انساني مفاہيم ميں استعمال کرتے ہيں - ايسا محسوس ہوتا ہے کہ افتخار عارف کے تخليقي وجدان کو کربلا کے کرداروں سے گہري انسيت ہے اور وہ انداز بيان بدل بدل کر حق و حقيقت کے اس واقعہ کو انساني اذہان تک پہنچانے کيلئے کوشاں ہيں ، مثلا :

وہي پياس ہے وہي دشت ہے وہي گھرانا ہے

مشکيزے سے تير کا رشتہ پرانا ہے

صبح سويرے رن پڑنا ہے اور گھمسان کا رن

راتوں رات چلا جائے جس جس کو جانا ہے -

ايک اور جگہ کہتے ہيں :

خلق نے ايک منظر نہيں ديکھا بہت دنوں سے

نوک سناں پہ سر نہيں ديکھا بہت دنوں سے

خاک اڑانے والے لوگوں کي بستي ميں

کوئي صورت گر نہيں ديکھا بہت دنوں سے

افتخار عارف کا يہ شعر تو اپني مثال آپ ہے ؛

سپاہ شام کے نيزے پہ آفتاب کا سر

کس اہتمام سے پروردگار شب نکلا

پاکستان کي معروف شاعرہ پروين شاکر کربلا کے کرداروں کي مظلوميت کا آج کي مظلوميت سے کس طرح موازنہ کر رہي ہيں ؛

جلے ہوئے راکھ خيموں سے کچھ کھلے ہوئے سر

ردائے عفت اڑھانے والے

بريدہ بازو کو ڈھونڈتے ہيں

بريدہ بازو کہ جن کا مشکيزہ

ننھے حلقوم تک اگرچہ پہنچ نہ پايا

مگر وفا کي سبيل بن کر فضا سے ابتک چھلک رہا ہے

برہنہ سر بيبياں

ہواوں ميں سوکھے پتوں کي سرسراہٹ پہ

چونک اٹھتي ہيں

نگاہ تخيل ديکھتي ہے

چمکتے نيزوں پہ سارے پياروں کے سر سجے ہيں

کٹے ہوئے سر

شکستہ خوابوں سے کيسا پيمان لے رہے ہيں

کہ خالي آنکھوں ميں روشني آتي جا رہي ہے

پروين شاکر اپنے خدا سے آرزو کرتے ہوئے کہتي ہيں :

پہروں کي تشنگي پہ بھي ثابت قدم رہوں

دشت بلا ميں روح مجھے کربلائي دے -

پاکستان کے ايک اور شاعر احمد نديم قاسمي کا خراج تحسين ملاحظہ ہو ؛

يہ شہادت ہے اس انسان کي آب حشر تلک

آسماں سے صدا آئے گي انساں انساں -

اسي مقام پر ياس يگانہ کا يہ شعر نہ لکھا جائے تو بات نامکمل رہ جائے گي ؛

ڈوب کر پار اتر گيا اسلام

آپ کيا جانيں کربلا کيا ہے -

مجيد امجد نے بھي کيا خوب کہا ہے :

سلام ان پہ تہہ تيغ بھي جنہوں نے کہا

جوتيرا حکم ، جو تيري رضا ، جو تو چاہے -

ان کا يہ انداز بھي منفرد ہے :

وہ شام صبح دو عالم تھي جب بہ سرحد شام

رکا تھا آکے ترا قافلہ ، ترے خيام

متاع کون و مکاں تجھ شہيد کا سجدہ

زمين کرب و بلا کے نمازيوں کے امام

يہ نکتہ تو نے بتايا جہان والوں کو

کہ ہے فرات کے ساحل سے سلسبيل اک گام

سوار مرکب دوش رسول ، پور بتول

چراغ محفل ايماں ترا مقدس نام -

مسز نيازي نے اپنے مجموعے "دشمنوں کے درميان شام" کا انتساب امام حسين عليہ السلام کے نام کيا -

خواب جمال عشق کي تعبير ہے حسين ع

شام ملال عشق کي تصوير ہے حسين ع

مصطفي زيدي نے کربلا کے شہيدوں کو يوں خراج عقيدت پيش کيا ہے :

دلوں کو غسل طہارت کے واسطے جا کر

کہيں سے خون شہيدان نينوا لاو

شہرت بخاري يوں کہتے ہيں :

پھر کوئي حسين آئے گا اس دشت ستم ميں

پرچم کسي زينب کي ردا ہو کے رہے گي

جي مارنا پروانوں کا ايمان بنے گا

روشن پھر شمع وفا ہو کے رہے گي

عہد حاضر کے معروف شاعر احمد فراز کا سلام بھي دلوں کو گرما ديتا ہے :

اے مرے سربريدہ ، بدن دريدہ

سدا ترا نام برگزيدہ

ميں کربلا کے لہو لہو دشت ميں تجھے

دشمنوں کے نرغے ميں ، تيغ در دست ديکھتا ہوں

ميں ديکھتا ہوں

کہ تيرے سب رفيق ، سب ہمنوا، سبھي جانفروش

اپنے سروں کي فصليں کٹا چکے ہيں

گلاب سے جسم اپنے خوں ميں نہا چکے ہيں

ہوائے جانکا کے بگولے

چراغ سے تابناک چہرے بجھا چکے ہيں

مسافران رہ وفا لٹ لٹا جا چکے ہيں

اور اب فقط تو

زمين کے اس شفق کدے ميں

ستارہ صبح کي طرح

روشني کا پرچم لئے کھڑا ہے

يہ ايک منظر نہيں

اک داستاں کا حصہ نہيں

اک واقعہ نہيں

يہيں سے تاريخ اپنے تازہ سفر کا آغاز کر رہي ہے

يہيں سے انسانيت

نئي رفعتوں کو پرواز کر رہي ہے

ميں آج اسي کربلا ميں بے آبرو ، نگوں سر،شکست خوردہ، خجل کھڑا ہوں

جہاں سے ميرا عظيم ہادي

حسين کل سرخرو گيا ہے

ميں جاں بچا کر ، فنا کے دلدل ميں جاں بلب ہوں

وہ جاں لٹا کر

منارہ عرش چھو گيا ہے -

شکيب جلالي لکھتے ہيں :

ساحل تمام گرد ندامت سے اٹ گيا

دريا سے کوئي آ کے پياسا پلٹ گيا

مظفر حنفي نے کيا خوبصورت منظر کشي کي ہے :

چاہتا يہ ہوں کہ دنيا ظلم کو پہچان جائے

خواہ اس کرب و بلا کے معرکے ميں جان جائے

محسن نقوي نے کربلا اور امام حسين ع کے بارے ميں بہت کچھ کہا ہے ليکن درج ذيل اشعار ميں انکي انفراديت انسان کو اپني سو متوجہ کرتي ہے ؛

ملي نہ جن کي جبيں کوپئے سجود جگہ

ان ہي کے پاک لہو سے ہے باوضو مٹي

اقبال ساجد کہتے ہيں

تو نے صداقتوں کا نہ سودا کيا حسين

باطل کے دل ميں رہ گئي حسرتـ خريد کي

امير مينائي کے بقول

جو کربلا ميں شاہ شہيداں سے پھر گئے

کعبہ سے منحرف ہوئے قراں سے پھر گئے

گلزار بخاري نے کيا خوب کہا ہے

کسي سے اب کوئي بيعت طلب نہيں کرتا

کہ اہل تخت کے زہنوں ميں ڈر حسين کا ہے  

ہم اپنے مضمون کا اختتام سيد آل رضا کے ان اشعار سے کرتے ہيں جن ميں گويا مقصد حسين عليہ السلام مکمل تفصيل سے بيان کيا گيا ہے :

قافلہ آل محمد کا سوئے شام چلا

لے کے کچھ خونوں سے لکھا ہوا پيغام چلا

روندتا پيروں سے ہر گردش ايام چلا

ہاتھ بندھوائے لئے خدمت اسلام چلا

اک سفر ختم ہے اک اور سفر کرنا ہے

کربلا فتح ہوئي شام کو سر کرنا ہے

اس مضمون ميں اقبال و جوش جيسے  شعراء کے اشعار کا ذکر اس وجہ سے نہيں ہوا چونکہ ان کا تذکرہ اکثر ہوا کرتا ہے اور يوں بھي اختصار مد نظر تھا -

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان

علامه اقبال ره

دور حاضر ميں  اقبال کے فلسفہ خودي کي اہميت

اقبال لاہوری

فلسفہ خودي درحقيقت اقبال کي  فلاسفي کا بنيادي نقطہ  ہے -  دنيا کے بہت سے محققين  و دانشوروں نے  اقبال کے فلسفہ خودي پر بڑي تفصيل کے ساتھ روشني ڈالي ہے ليکن يہ فلسفہ اتنا گہرا ہے کہ اب بھي اس  پر مزيد تحقيق کي ضرورت ہے تاکہ اس کے اندر  پوشيدہ رموزو اسرار کو دور حاضر کے انسان کے ليۓ اجاگر کيا جا سکے - اس  تحرير ميں مصنف نے اقبال کے فلسفہ خودي کو دور حاضر کي ضروريات  کي روشني ميں بيان کرتے ہوۓ  آج  کي مادي دنيا ميں انسان کے حقيقي وقار کو حاصل کرنے کي اہميت پر زور ديا  ہے -

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے پيغام و فکر کا مرکز ان  کا  " فلسفہ خودي " ہے  -

اقبال کے پيغام اور فکر کا مرکزي نقطہ ان کا تصور " خودي  " ہے- يہ وہي تصور خودي ہے کہ جس نے اقبال کي شخصيت کو بقاء دوام بخشا اور ملت اسلاميہ کا عروج  اسي ميں مضمر ہے  -

بقول اقبال !

خودي کے ساز سے ہے عمر جاوداں کا چراغ

خودي کے سوز سے روشن ہيں امتوں کے چراغ

خودي کيا ہے ؟

 خودي  درحقيقت خود سے آگاہي ہے -  اقبال کے  اس پيغام کي اصل حديث نبوي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ہے کہ

مَنْ عَرَفَ نَفْسَه فَقَدْ عَرَفَ رَبَّه.

’’جس نے اپنے آپ کو پہچان ليا- اس نے اپنے رب کو پہچان ليا‘‘-

گويا خودي کا يہ تصور خود شناسي سے شروع ہوکر بندے کو خدا شناسي تک لے جاتا ہے اور اس سفر ميں بندہ کو بقاء و دوام تب نصيب ہوتا ہے کہ جب بندہ اپني خودي کي حقيقت کو پہچان کر خود اپني ہي خودي ميں گم ہونے کي بجائے اپني خودي کو خدا شناسي ميں گم کرديتا ہے تب بندہ مقام فنا سے مقام بقا پر فائز ہوجاتا ہے - يعني انسان کا شعوري سفر اپنے احساس نفس سے اپني معرفت اور پہچان کي حقيقت کے ساتھ جتنا آگے بڑھے گا اسے اتنا ہي اپنے رب کي معرفت حاصل ہوگي انسان جتنا اپني ذات پر غور کرتا ہے، اپني حقيقت کو پہچانتا ہے اتنا ہي اسے اپنے رب کي معرفت حاصل ہوتي ہے اور يہ معرفت اس کو رب کي محبت ميں فنايت پر مجبور کرتي ہے گويا جب بندہ اپني خودي کو پہچانتا ہے تو وہ اس نتيجے پر پہنچتا کہ حقيقت ميں وہ کيا ہے ايسے ميں پھر وہ يہ کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے -

شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان

شادي

شادي کے ليۓ آپ کب تيار ہيں ؟  ( حصّہ دوّم )

شادی بیاه

  اس سے پہلے کہ کوئي حتمي فيصلہ کريں  اپنے آپ کو کچھ مزيد وقت ديں تاکہ آپ کو يہ سوچنے کا موقع مل سکے کہ شادي کرنے  سے آپ کو  کيا کچھ حاصل ہو گا اور کن چيزوں کو  آپ کھو ديں گے -  

* شادي کا جشن منانے کي آپ کو کس حد تک فکر ہے ؟

شايد يہ بات بہت غير منطقي سي لگے مگر حقيقت يہ ہے کہ بہت ساري کنواري لڑکياں شادي سے پہلے ہميشہ يہ سوچتي رہتي ہيں کہ ان کي شادي بہت دھوم دھام سے منائي جاۓ گي - جب وہ اپني شادي کے جشن کے بارے ميں سوچتي ہيں تو ان پر ايک ہيجان کي کيفيت طاري  ہو جاتي ہے اور اس تخيلاتي حالت تک پہنچنے کے ليۓ وہ بہت  بےتاب ہوتي  نظر آتي ہيں اور ان کي خواہش ہوتي ہے کہ جلدي سے جلدي وہ وقت آ جاۓ جب ان کي شادي کا جشن منايا جاۓ - اگر آپ بھي ايسي ہي  لڑکيوں  کے گروہ کا حصّہ ہيں تو  ذرا سوچيں اور محتاط رہيں کہ شادي سے پہلے ہي شادي کے جشن کا خيال آپ کے  ذہن کو کہيں ضرورت سے زيادہ الجھا تو  نہيں رہا ہے - آپ نے  کامياب زندگي کے بارے ميں سنا ہو گا کہ " عشق کافي نہيں ہے " -  يقين کريں کہ زندگي ميں  پيش آنے والے مختلف حالات و واقعات نے اس  جملے کو ثابت کيا ہے -  ايک شادي صرف عشق اور پسنديدگي کي وجہ سے کامياب نہيں ہو سکتي ہے - اگر کسي خاص فرد سے آپ شادي کرنا چاہتے ہيں اور کامياب زندگي گزارنا چاہتے ہيں تو ضروري ہے کہ آپ زندگي کے بارے ميں دونوں کا نقطہ نظر بہت نزديک ہو -

*  مستقبل کے بارے ميں آپ نے کيا خواب ديکھے ہيں ؟

ايک کامياب  ازدواجي زندگي کے ليۓ ضروري ہے کہ   لڑکي اور لڑکا دونوں ہي ذہني اور احساساتي طور پر صحيح و سالم ہوں - اس کا يہ مطلب ہے کہ آپ  کو حالات کا صحيح ادراک ہونا چاہيۓ اور  اپنے  مستقبل کے جيون ساتھي کو پرکھنے کي پوري صلاحيت ہوني چاہيۓ - اپنے جيون ساتھي کو اس کي موجودہ قابليت اور صلاحتيوں کي بنا پر قبول کريں نہ کہ اس کے مستقبل کے بارے ميں  توقعات لگا کر بيٹھ جائيں -

تحرير : سيد اسداللہ ارسلان

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان

پارا چنار میں آرمی چیک پوسٹیں قائم،

پارا چنار میں آرمی چیک پوسٹیں قائم، اصلی شناختی کارڈ کے بغیر داخلہ ممنوع
اسلام ٹائمز:متاثرہ عوام نے کانوائےکے منسوخ ہونے پر علی زئی میں تحصیل دفتر کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پاراچنار میں مکمل امن ہے اور وہاں فوج تعینات کر کے عوام کے بنیادی انسانی حقوق سلب کر کے ہر بیس قدم کے فاصلے پر فوجی چیک پوسٹ پر کھڑا کر کے انہیں ذلیل کیا جا رہا ہے۔
پارا چنار میں آرمی چیک پوسٹیں قائم، اصلی شناختی کارڈ کے بغیر داخلہ ممنوع
علیزئی کرم ایجنسی:اسلام ٹائمز۔ پاراچنار شہر کے اندر آرمی نے چیک پوسٹیں قائم کرکے عوام کو اصلی شناختی کارڈ کے بغیر شہر کے اندر داخل نہ ہونے کے احکامات جاری، جبکہ لوئر کرم میں عدم سکیورٹی اور طالبان کے دھمکیوں کی وجہ سے گذشتہ دن پاراچنار سے پشاور جانے والی سرکاری کانوائی منسوخ کرنے سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سکیورٹی فورسز نے گذشتہ دن اعلان کیا تھا کہ علیزئی سے ٹل تک کانوائے روانہ ہو گی تاکہ پاراچنار سے پشاور اور پشاور سے پاراچنار آنے والے افراد کو سہولت مہیا ہو جائے، جس کے بعد پاراچنار کے بیچارے عوام ہزاروں روپے فی پرائیوٹ گاڑی پکڑ کر رات کے وقت پاراچنار سے علیزئی پہنچے لیکن انہیں علیزئی پہنچنے پر بتایا گیا کہ طالبان دھمکیوں کے پیش نظر کانوائے منسوخ کر دی گئی جس سے عوام میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ 
غم و غصے سے بھپرے متاثرہ عوام نے کانوائی کے منسوخ ہونے پر علی زئی میں تحصیل دفتر کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پاراچنار میں مکمل امن ہے اور وہاں فوج تعینات کر کے عوام کے  بنیادی انسانی حقوق سلب کر کے ہر بیس قدم کے فاصلے پر فوجی چیک پوسٹ پر کھڑا کر کے انہیں ذلیل کیا جا رہا ہے جبکہ لوئر و ایف آر کرم جہاں طالبان دہشت گردوں کی موجودگی اور ٹل پاراچنار روڈ کی بندش کی وجہ سے فوج و سکیورٹی فورسز کی اشد ضرورت ہے وہاں فوج تعینات کرنے کی بجائے پاراچنار کے عوام کو مزید تکلیف دینے کے لئے تا حکم ثانی کانوائی ملتوی کر کے ظلم کے اوپر ظلم کیا جا رہا ہے۔ عوام کی حالت اس وقت "آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا" کے مترادف ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاراچنار شہر میں مذکورہ چیک پوسٹوں کی سکیورٹی گذشتہ تین سالوں سے طوری اور بنگش رضا کار سنبھال چکے تھے، اس دوران نہ ہی کوئی خودکش حملہ ہوا اور فوج اور ایف سی بھی بغیر ہتھیار کے پاراچنار شہر میں بغیر ہتھیار تک کے گھوم پھر سکتی تھی اور پاراچنار کا امن اسلام آباد سے بھی مثالی تھا، اب آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔

مغربی دنیا میں شیعیت اور شیعہ تعلیمات كے فروغ كا ذریعہ

خلاصہ :

 

    ڈاكٹر ادریس السماوی، ایك امریكی ھدایت یافتہ اسكالر ھیں جو كلارورڈی یونیورسٹی امریكہ میں فلسفہ كے پروفیسر ھیں اور انٹرنیشنل شیعہ اسٹیڈیس میگزین 1 كے ایڈیٹر ھیں جس كا دائرہ كار مغربی دنیا میں شیعہ مذھب كی شناخت كرنا اور امریكی معاشرہ میں شیعہ مكتب فكر كا فروغ ھے ۔ لوگوں كو اس كی طرف جذب كرنا اس كا مقصود نظر ھے یہ تحریر ان كے ساتھ انٹرویو كا خلاصہ ھے جسے قارئیں كے لئے پیش كیا جاریا ھے تا كہ امریكہ میں شیعوں كے حالات سے مطلع ھوسكیں اور مغربی دنیا میں ان كے تبلیغی طریقہ سے آگاہ ھو سكیں !

متن:

 

با عرض معذرت، آپ اپنا تعارف فرمائیں گے ؟

جی ھاں، میں واشنگٹن ڈی سی میں پیدا ھوا، میرے والد یوسف مظفر الدین، ایك مرد مجاھد اور شھید مصر سید قطب اور سید اعلم الدوری پاكستانی كے شاگرد تھے انھوں نے امریكہ میں ایك مؤسسہ (ادارہ) كھول ركھا تھا جس كی كوشش تھی كہ مغربی دنیا میں اسلامی معاشرہ قائم ھونے كے اسباب و امكانات پیدا كئے جائیں، وه بهت روشن فكر تھے جس كی بنا پر میں نے بچپن ھی میں شیعوں سے متعلق بھت سی چیزیں سیكھ لی تھیں، میں كچھ مدت، پاكستان، سعودی عرب، اور دوسرے علاقوں میں رھا ھوں، B.A و M.A كی ڈگری فیزیك سے حاصل كی جب كہ ڈاكٹریٹ ((P.H.D فلسفہ سبجكٹ سے كیا اور شیخ احمد الساعی كے سلسلہ میں میرا تخصص ھے ۔ اس وقت انٹرنشیل میگزین جرنل آف شیعہ اسٹیڈیس كا ایڈیٹر ھوں، یہ یونیورسٹی سطح پر سب سے پھلا رسالہ ھے جو شیعه مكتب فكر سے تعلق ركھتا ھے ۔

اگر ھوسكے اپنے شیعہ ھونے سے متعلق كچھ معلومات عنایت فرمائیں!

میرا اپنا عقیدہ، اھل بیت علیھم السلام كی حكمت كے مطالعہ كی بنیاد پر ھے جس كی رو سے تشیع ایك فطری شی ھے، عالم ذر میں اس كا تعین ھوچكا ھے جو اس دنیا میں نمایاں ھوتا ھے ۔ میری زندگی اور میرا شیعہ ھوجانا، یہ خود ایك كھانی ھے، جو تاریخ اور گذشت ایام كے ساتھ ساتھ تدریجاً وجود میں آئی ھے ۔

اپنے پچپن میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ كے سلسلے میں مطالعہ كیا امیرالمومنین(ع) ذات، ھمیشہ میری محبوب شخصیت رهى ھے، جب بڑا ھوا، میرے ان كی طرف جذب ھونے میں اضافہ ھوا، آخر امر، جب صحیفہ سجادیہ پڑھا، میں نے خود سے كھا، اگر اس كتاب كا مؤلف، ان كو حجت خدا كھہ رھا ھے، جھوٹ نھیں ھوسكتا، یہ قصہ بھی تدریجی تھا، اگر آپ كو قصہ سننا ھے اور میرے شیعہ ھونے كی علت جاننا ھے تو وہ میرا صحیفہ سجادیہ پڑھنا ھے، لیكن اس وقت سے آج تك پھر بھی میں تحولات كے ساتھ ساتھ تھا چونكہ اس كتاب كے بعد میں نے زیارت جامعہ كبیرہ پڑھنا شروع كیا اور اس كی شرح میں زیادہ وقت صرف كیا، اس طرح در حقیقت اھل بیت كی ولایت كا مطالعہ ھوا جس كی درجہ بندی مختلف ھے اور ھر روز رشد و تكامل میں اضافہ ھوتا رھا آخر امر میں شیعہ ھوگیا۔

كياآپ مغربی زمین میں شیعه مكتب فكر سے متعلق اپنے تجربات بیان كرسكتے ھیں ۔

ممكن ھے آپ میں سے كچھ مغربی دنیا میں رھے ھوں اور كچھ لوگوں نے نہ دیكھا ھو جو میں كھنا چاھتا ھوں یہ ھے كہ وھاں پر ایك شدید معنوی پیاس ھے، اس علاقہ میں شیعہ تفكر كے حوالہ سے كچھ كھنے سے پھلے اس مقدمہ كی وضاحت ضروری ھے ۔

میرا تجربہ، میری اكیٹوٹیز میرے والد مرحوم، مجاھد، یوسف مظفر الدین سے شروع ھوتی ھے جو سید سعید قطب كے گھرانہ كے شاگرد تھے، انھوں نے اپنی ساری عمر، دین كی تبلیغ اور اسلامی اداروں كی خدمت میں صرف كی جس كے نتیجہ میں اور خود ان كی اور ان كے دوستوں كی كوشش كے زیر اثر سیكڑوں لوگ مسلمان ھوئے اس طرح میں نے ایك انقلابی تبلیغ كے بڑے ماحول میں تربیت پائی۔ ایسا ماحول جس كی میرے والد تعریف كیا كرتے تھے، وہ امام خمینی رحمۃ الله علیہ كی فكر سے بھت متاثر تھے میں نے جنرل اسٹیڈی كی تعلیم كے بعد یونیورسٹی میں داخلہ لیا، میرا موضوع فیزیك تھا لیكن درس كے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات كے مطالعہ كا بھت شوق تھا، اس كو بھی جاری ركھا، پھر اسلامی انقلاب سے متعلق بھی بھت مطالعہ كیا، چونكہ آپ نے مجھ سے مطالبہ كیا كہ میں اپنے تجربوں كو پیش كروں اس لئے عرض كرتا ھوں كہ میں نے اب تك كی اپنی زندگی، ایكیڈیمیك ایجوكیشن ماحول، اور دوسری طرف اسلامی عمومی انقلابی ماحول میں گزاری ھے، اس دوران جو میں نے مطالعہ كیا، تجربہ سے سیكھا، بھت كچھ حاصل ھوا، جس میں، ایك یہ ھے كہ وہ كون سی چیز ضروری ھے جس كے ذریعہ ھم وسیع، مضبوط پیمانہ پر شیعہ تبلیغ كا فریضہ پوری دینا میں ادا كرسكتے ھیں ۔

حوزہ علمیہ كے سنتی نظام تعلیم كے سلسلہ میں ھم كو چاھئیے كہ دو چیز میں تفكیك كریں، شكل، مادہ، مضمون اور اس كا طریقہ ۔حوزہ كے مضمون و مادہ سے متعلق كوئی غم نھیں، لیكن اس كے طریقہ، روش، معمول كے سلسلے میں ایك انقلابی تغیر كی سخت ضرورت ھے ۔ جس سے اسلامی حقیقت اور اس كے جوهر كو مغربی دنیا كے سامنے پیش كیا جاسكے، میں جھان بینی(عقیده) اور اس كے طریقہ كے ما بین فرق كا قائل ھوں، ھم جب مغربی دنیا میں دین سے متعلق گفتگو كرتے ھیں، عقیدہ، معنویت اس كے نظام كے سلسلہ میں گفتگو كرتے ھیں حالانكہ مذھب اور دین كے معنى مغرب زمین میں محدود یا كچھ اور ھیں، اس بنا پر كہ یھودیت، عیسائیت، مذھب كے عنوان سے یورپ میں دین كو پھچانا جاتا ھے، لیكن كیپٹالیزم كو مذھب كا عنوان نھیں دیا جاتا ھے، جس نكتہ تك میں پھونچا ھوں یہ ھے كہ ایران اور دوسری جگہ كے علماء اسلام، دین كو اسی طرح دیكھتے ھیں جس طرح یورپ میں، اسی لئے دین كو اس طرح پیش كرتے ھیں جس طرح یھودیت، عیسائیت كو وہ لوگ پیش كرتے ھیں جبكہ سنتی دین یورپی دنیا میں رو بہ زوال ھے، گرچہ ممكن ھے كسی علاقہ میں پھیل رھا ھو لیكن عالمی پیمانہ پر زوال كے قریب ھے، اگر اس مطلب كو دوسرے لفظوں میں كھنا چاھیں اس طرح كھیں گے، یھودیت، عیسائیت جو سنتی طرز پر ھے و زوال كے قریب ھے، پس اسلام بھی اگر اسی طرز پر پیش كیا جائے تو وہ پیش كرنے كے قابل نھیں ھوگا، خصوصاً یونیورسٹی ماحول میں اسٹوڈنس كے درمیان جن كے ساتھ میرا اٹھنا بیٹھنا ھے، میں نے دیكھا كہ وہ لوگ دین سے بیزار ھیں جبكہ بھت سے جوان اسٹوڈنٹ روشن فكر ھیں جو بودہ اور دوسرے عرفانی مكتب كی طرف جذب ھوگئے ھیں جو اس طرح كے سنتی مذھب و آئین سے الگ ھیں ۔

جس طرح میں نے كھا۔ سنتی دین یا مذھب، كچھ عقائد معنویات اور ایك نظام كا مجموعہ ھے اگر گذشتہ دور پر نظر ڈالیں تو مسئلہ روشن ھوجاتا ھے ۔ مثلا اسلام تفكر كی دعوت دیتا ھے، تاكید كرتا ھے حتی عقائد كے سلسلہ میں، لیكن عیسائی مذھب، آمادہ عقیدہ آپ كے حوالہ كرتا ھے ۔ ضروری ھے اس كے معتقد رھو، اس كو اپنا عقیدہ اپناؤ، لیكن كیا مسلمان بھی ایسا ھی كرتے ھیں كچھ محدود عقائد دیتے ھوں اور پھر كھیں اس كو اپنا عقیدہ اپناؤ اگر مسلمان رھنا چاھتے ھو جس نكتہ كی طرف میں توجہ دلانا چاھتا ھوں وہ اس كا دوسرا رخ ھے جو تفكر ھے اس سے متعلق گفتگو كی جائے۔

اعتقاد كے كیا معنی ھیں، اس طرح اسلام پیش كرنے كا ایك نیا دروازہ كھلے گا جو سنتی طریقوں سے مختلف ھوگا، اس طرز تفكر كی بنیاد پر ھمارا اسلام جن عقائد كو عرض كرتا ھے اس كے متعلق تفكر كے دروازے ھر ایك كے لئے كھلے ھوئے ھیں، ان كو كسی خاص گروہ سے مختص نھیں كیا جاسكتا۔

دوسرا نكتہ جو میرے لئے قابل توجہ تھا یہ ھے كہ شیعہ مكتب فكر كیا ھے اور ھمارے پاس كوئی ایسی شئے ھے جو دوسروں كے پاس نھیں ھے وہ مفھوم وَلایت ھے یہ مفھوم وِِِِِِِِِلایت

میں مغربی دنیا میں اپنے شاگردوں كو مفھوم ولایت كی وضاحت سے اسلام كی تعریف شروع كرتا ھوں یہ ان مفاھیم میں سے ھے جس كی طرف ھم شیعوں كی اكثر توجہ نھیں ھوتی، جب ولایت كی بحث ھوتی ھے، ھم تصور كرتے ھیں كہ بحث ولایت اھل بیت عصمت و طھارت ھے ۔

جناب استاد! مفھوم ولایت اور ولایت اھل بیت اور ولایت مطلق كی مزید وضاحت فرمائیے!

عرض ھے كہ ولایت اھل بیت خداوند كی ولایت كے بغیر بے معنی ھے، مثلا حدیث میں ذكر ھے كہ اسلام پانچ چیزوں پر مبنی ھے ان میں ایك ولایت ھے 2

يه ولايت كيا شئےھےجب امام صادق عليه السلام اس حديث میں ولايت كو ذكر كرتے ھیں اس میں اسلام كے تمام پھلو كو مد نظر ركھتے ھیں، اس عالم میں هر دوشئے كے درمیان ایك ولائی رابطہ ھے جیسے زمين خورشيد بر ولايت ركهتي هے اور خورشيد زمين بر ولابت ركهتا هے اور جب ولایت مطلق كا تذكرہ ھوتا ھے وہ ولایت در اصل خداوندمتعال سے مختص ھوتی ھے، اور جب مخلوق پر ولایت حق كی گفتگو ھوتی ھے۔مراد ولایت خداوندی ھوتی ھے، اور جب ولایت مخلوق بر حق كی بات ھوتی ھے مراد ولایت بندگی ھوتی ھے ۔

آپ كی توجہ شرط ھے، ھم جب اس موضوع پر گفتگو كرتے ھیں ھماری بحث عقائد سے مربوط نھیں ھوتی، جب اسٹوڈنس اس طرح كی بحثوں كی طرف متوجہ ھوتے ھیں ھم دیكھتے ھیں كہ ان كے چھرہ پر نور تابان ھوجاتا ھے، كوئی چیز ان كے لئے واضح ھوجاتی ھے، وہ لوگ اس طرح كے مباحث كی تلاش میں ھیں، اگر وہ بودّھ یا ھندوئیزم، اور دوسرے سارے اس جیسے مكتب فكر كی طرف جاتے ھیں اس كی یھی وجہ ھے اور سارے مذاھب سے قویتر، كتنا اچھا لگتا ھے جب ھم دیكھتے ھیں كہ طالب علم ان مسائل پر گفتگو كر رھے هوتے ھیں، میں ان سے نھیں كھتا كہ تم لوگ یہ عقیدہ اپناؤ اس كو اختیار كرو، یہ تمھارا عقیدہ ھونا چاھئے، یہ تمھارا عقیدہ ھے بلكہ مسئلہ جھان بینی كا ھے جس كے لئے تفكر اور تدبر ضروری ھے، یہ بھت مھم ھے ۔

پس جب آپ عرفانی نكتہ نظر كو پیش كرتے ھیں نہ كسى عقيد ه كو اس وقت زیادہ توجہ هوتى ھے ۔ اور اگر عرض عقیدہ كا سلسلہ ھو، طالب علم كھتے ھیں، كیا فرق ھے كہ ایك شخص عیسیٰ كا معتقد ھے، عیسائیت اس كا عقیدہ، دوسرا شخص محمد(ص) كا معتقد ھے، عقائد كی بحث میں ان كے لئے بھت زیادہ جاذبیت نھیں ھوتی، لیكن اگر اس طرح شروع كریں تو ان كے دل تك نفوذ كر سكتے ھیں، ان كے لئے اسلام، شیعه مذھب كی طرف بھت زیادہ جذابیت فراھم كرسكتے ھیں، اصول كافی كی پھلی جلد اسی موضوع سے شروع ھوتی ھے ۔

عقیدہ كی بحث نھیں ھے، اور جب ھم تفكر و تعقل سے شروع كرینگے وھیں پھنچیں گے جھاں پھونچنا چاھتے ھیں، میرا عقیدہ ھے كہ ان تمام مسائل و حالات كو نظر میں ركھتے ھوئے سنتی اسلام پیش كرنے كی روش میں اصلاح كی ضرورت ھے، دوسرا فرق اسلام اور سنتی دین میں یہ ھے كہ اسلام، زندگی گزارنے كا كامل طریقہ عطا كرتا ھے ۔ اس مقام پر۔ كیبٹالیزم اور اسلام كے ما بین فرق نمودار ھوتا ھے ۔ مغربی دنیا میں اسلام كی تبلیغ كے لئے مھم نكتہ یہ ھے كہ اسلام كو اس طرح پیش كریں كہ وہ آزادی، آزاد رھنے كا ذریعہ ھے ۔ جب اسلام پیش كریں اس كو دین كے عنوان سے پیش نہ كریں بلكہ زندگی شناسی اور جھان بینی كے عنوان سے پیش كریں، اس عنوان سے پیش كریں كہ اسلام ایك قوی مضبوط زندگی گزارنے كا عملى طریقہ ھے جس سے انسان كو رھائی، آزادی ملتی ھے، بات نہ رہ جائے، اسلام كو بعض لوگ اس طرح پیش كرتے ھیں كہ مسیحت كی طرح نظر آتا ھے، مثلا زنا حرام ھے یا اس سے مھم اور شدیدتر كہ اسلام كھتا ھے: ربا زنا سے زیادہ بدتر ھے، زنا قبیح عمل ھے اور ربا گناہ كبیرہ ۔حدیث میں آیا ھے ۔ربا زنا سے ستر مرتبہ بد تر ھے ۔ 3 اس طرح كی باتیں اور یہ سب پیش كرنے كے بجائے جوانوں كو بتائیں كہ كيو ن ربا زنا سے بدتر ھے، سب جانتے ھیں كہ ربا فقر آور ھے اور فقر سماجی مشكلات ایجاد كرتا ھے: سماجی مشكلات سے اخلاقی مشكلات وجود میں آتی ھیں، مسئلہ كو اس طرح پیش كرنے اور عرفانی نظر كو ساتھ ملانے سے ان كے اندر شوق پیدا ھوتا ھے، اس روش پر اسلام اب تك پیش نھیں كياگیا ھے ۔

اس بنا پر بعض عقائد پیش كرنے كے بجائے اگر اسلام كی اس طرح تصویر دكھائی جائے تو جاذبہ پیدا ھوگا، اور لوگ خود اس كے افكار، اور عقائد كی تلاش میں نكلیں گے، اس توجہ كے ساتھ كہ اسلام ایك سنتی دین كے علاوہ زندہ بن كر سامنے آئے گا۔

-ایسا لگتا ھے كہ آپ كا عقیدہ، تجربہ كی بنیاد پر ھے، اس صورت میں كچھ خطروں كا سامنا ھے جیسے یہ كہ بھر حال هر تحریك اور دینی نھضت اور هر تجربہ گر دین كے لئے كچھ بنیادی عقائد اور اركان ھوتے ھیں، اگر وہ نہ ھوں، حركت شروع نھیں ھو سكتی، اور اگر ھر مرحلہ میں ان اركان كو ذكر كیا جائے مشكلات وجود میں آتی ھیں ان كے حل كے لئے آپ كیا مشورہ دیتے ھیں ۔

امام صادق علیہ السلام سے ایك حدیث ھے، فرماتے ھیں: ھم لوگوں كو ان كے مختلف سطح كے لحاظ سے دیكھتے ھیں، امام علیہ السلام كھنا چاھتے ھیں كہ ھر شخص كے اندر ایك خاص قابلیت ھے اس كو نظر میں ركھتے ھوئے اس سے برتاؤ كرنا چاھئے۔ ایك مرتبہ ھندوستان سے ایك ڈاكٹر امام صادق (ع) كے پاس آیا امام نے اس كو وہ سب كچھ دیا جس كی اسے ضرورت تھی، كچھ بھی اضافی بات نھیں كھی 4 اس طرح امام صادق (ع) جب اپنے شاگردوں كے ساتھ ھوتے ان كے گروہ یا فرقہ كو نظر میں نھین ركھتے تھے، ھر ایك كو اس كی قابلیت لياقت كے مطابق سكھاتے تھے، اس بنا پر اتنی بڑی تعداد میں مختلف فرقے كے لوگوں كو اپنا شاگرد بنایا، ان كو تعیلم دی، تربیت كی، یھی وجہ ھے كہ امام صادق (ع) كو اھل سنت اور شیعہ حتى عیسائی بھی تسلیم كرتے ھیں ۔

آپ كے اس نكتہ نظركو نظر میں ركھنے سے كیا عقائدی، معنوی ھرج و مرج وجود میں آئے گا، اس وقت دنیا میں نئی نئی تحریكیں(تحریك جدید دین، نہضت نوین دینی، دین كی نئی تحریك)جیسے مختلف ناموں سے وجود میں آرھیں ھیں جن میں ایك طرح كی ابتدائی معنویت پائی جارھیں ھے جو دائرہ دین كے اندر نھیں ھے ۔ یہ مشكل حتی اپنى كسی خاص شكل میں امام صادق كے زمانہ میں بھی رونما ھوئی تھی جیسے مغیرہ بن سعید، ابو الخطاب، جس میں غلو اور بے ربط باتیں تھیں، اس طرح كی مشكلات كے لئے ھم كیا كرسكتے ھیں ۔

ابتداً، عرض كرتا چلوں كہ قرآن مجید كے مطابق ھم عوام كے نہ وصی ھیں نہ وكیل، ھمارا فریضہ بیان مطلب ھے، ھم عوام كو مسخر نهیں كرسكتے، اپنے اختیار میں نھیں لے سكتے، جو بھی اس مطلب كو جس طرح چاھے، اخذ كرسكتا ھے اور جھاں چاھے پھونچ سكتا ھے، وھی ھمارے ذمه نھیں ھے ۔دور امام صادق اور ھمارے اس دور كے درمیان فرق یہ ھیكہ اس زمانہ میں عقیدہ محوری اور شریعت محوری مسلمانوں پر غالب تھی، امام صادق روح معنویت كی توسیع كے لئے اسی محوریت كی بنیاد پر تكلم فرماتے تھے تا كہ ان كے دور میں موجود متكلم و فقیہ كی تندرو شریعت محوری، و عقیدہ محوری كی اساس میں تعادل بر قرار رھے عقیدہ و شریعت كو محور بنائے ھوئے تھے، لیكن آج كے اس دور میں، عقیدہ و شریعت كی كوئی قیمت حیثیت نھیں ھے، اور معنوی تمایل حتی مصنوعی و مجازی صورت میں بھی عام ھوچكی ھے جس سے ممكن سے سوء فھم یا انحراف دینی كا سبب بن جائے، یھاں جیسا كہ آپ كھہ رھے ھیں وہ ممكن ھے، اور ھوسكتا ھے لیكن ھمارے پاس اور كوئی راستہ نھیں ھے اور ھم حجت خدا نھیں ھیں ۔امام صادق، پیامبر حجت بالغہ الٰھی تھے، اسی بنا پر جب وہ كوئی بات كرتے تھے حجت تمام ھوجاتی اور كھتے تھے جو اس بات كو نہ مانیں اس پر خدا كی لعنت، لیكن ھم اس طرح نھیں كھہ سكتے اور ھم كھیں گے، یه میں كھہ رھا ھوں اس حد تك كھہ رھا ھوں جو سمجھ رھا ھوں، میرے بس میں ھے جس كے اندر توانائی ھے، سمجھتے ھیں، اگر نتیجہ آور ھوا تو بھتر اور اگر بے نتیجہ رھا، خدا جانے اور وہ جانین۔ جو چیز مسلم ھے یہ ھے كے اسلام تفكر اور تفكر كے مشورے سے شروع ھوتا ھے میں بھی یھی مشورہ دے رھا ھوں، اگر اھل بیت كے صحیح عقیدہ تك میرا تفكر پھونچا تو بھتر، اور اگر نھیں پھونچا تو خدا كے حوالہ، اھل بیت سب كے ولی ھیں نہ صرف شیعوں كے، انشاء اللہ اس نئی تحریك میں بھی حقیقت شیعہ كی جھلك یا اس كی كچھ بوپائی جائے گی، انشاء اللہ ویسی ان كی نجات كا ذریعہ ھوگا ۔

جناب آقای ڈاكٹر آپ شیعہ اور شیعیسم كی كیا تعریف پیش كرتے ھیں؟

اولاً، میں ترجیح دیتا ھوتا ھوں انگریزی زبان میں شیعیسم (SHIISM) كا لفظ استعمال نہ كیا جائے چونكہ ایسم (ISM) انتزاعی معنا پر دلالت كرتا ھے جبكہ تشیع مرحلہ وار تغییر و تحول كی ترجمانی كرتا ھے، جیسا كہ امام صادق(ع) فرماتے ھیں ۔

انما سموا شیعۃ لا نھم خلقوا من شعاع نورنا 5

ان كو شیعہ اس لئے كے كھا گیا كہ ھمارے نور كی شعاع سے پیدا كئے گئے ھیں ۔

تشیع مرحلہ وار تحول كا نتیجہ ھے جو انسان كے ذھن وقلب میں رو نما ھوا ھم اسلام كے بارے میں بھی كھتے اسلامیسم (ISLAMISM) یا محمدیسم (MOHAMMADISM)، صرف اسلام (ISLAM) كھتے ھیں، میرا عقیدہ ھے كہ ھم لوگوں كو شوق دلائیں كه، لفظ تشیع كو انگریزی زبان میں استعمال كریں چونكہ یھی ھمارے مذھب كا نام ھے نہ شیعیسم، جب ایسم كے ساتھ استعمال ھوگا اس كے معنی یہ ھونگے كہ اس میں ایك ضمنی دلالت پائی جاتی ھے جو كہ انتزاعی آیڈیا سے شباھت ركھتا ھے، نہ یہ كہ ایك فكر یا عقیدہ اور مرحلہ وارقلبی اورذهنی تحول اس لئے هم نے اپنے رساله كے پهلے شماره سے هی كسی كو اجازت نھیں دی كہ كسی بھی مقالہ میں شیعیسم كا لفظ استعمال كیا جائے اس كی جگہ لفظ تشیع استعمال كیا گیا،

میری محقیقین سے درخواست ھے كہ جب انگریزی میں شیعوں كے حوالہ سے مقالہ پر ھیں تو ان خاص موارد كو نظر میں ركھیں، اسی كی اصلاح كریں اور صحیح شكل میں، انتقاد كریں یہ خود ایك موضوع بحث ھے تمام قوت كے ساتھ بیان كریں كہ ھمارے مذھب كا نام تشیع ھے ۔

تشیع كی تعریف میں آپ كا اصل جواب یہ ھے، كه تشیع اھل بیت كے ذریعہ اللہ كی ولایت كو قبول كرنا ھے

مذھب تشیع كی وہ صفات جو مغربی اسكالرس كے لئے مورد توجہ قرار پائیں بیان فرمائیں

كلی طور پر زیادہ تر مستشرقین، اھل سنت كی طرح، شیعہ مذھب كو، صحیح مذھب نھیں سمجھتے، یعنی شیعه ایك ایسا مذھب ھے جو ایرانیوں كے عقیدے اور دوسرے عقائد سے تركیب دے كر ایجادكیاگیا ھے، اور اھل سنت كو ایسے مذھب سے جو اسلام سے نزدیك ھے، تصور كرتے ھیں، البتہ استثناء كی صورت بھی پائی جاتی ھے جیسے ویلفر ماد لونگ، جو آكسفورڈیونیورسٹی میں ماهر تاریخ هیں كھتے ھیں:

اوائل اسلام سے مربوط شيعه نتيجه گيری اهل سنت كی بہ نسبت تاریخی واقعیت سے نزدیك تر ھے، اسلامی مختصر دائرŭ المعارف(شارت اسلامی انسائیكلو پیڈیا) جس میں اسلام كے تمام اصلی موارد كا تذكرہ ھے، مضمون نگار، اھل سنت یا صوفیوں كے نظریوں كی تائيدكرتا ھے، اور جب بھی كوئی بحث شیعوں كے متعلق پیش آجاتی ھے اسے اس طرح پیش كرتا ھے كہ گویا وہ اسلامی مسئلہ نھیں ھے، وہ كتاب كے ایك حصه میں شیعوں كے متعلق (شیعیسم) عنوان كے تحت بحث كرتا ھے، ایك دوسرا مقالہ ملاصدرا سے متعلق هے، اس طرح شیعوں سے متعلق متعدد موضوعات پر منفی لهجہ میں تحریر كرتا ھے، یہ كتاب گرچه ايك يادكاري اثر ھے، لیكن اگر كوئی سابقہ اطلاع كے بغیر اس كا مطالعہ كرے، شیعوں كے متعلق منفی تصور بنالے گا

در حقیقت، اسلام سے متعلق دو نقطہ نگاہ ھے، حقیقی اسلام تصوف كی صورت میں یا كوئی شئے وھابیت كی شكل میں، اور اگر واقعي اسلام كی آپ كو تلاش ھو یا تصوف و وھابیت كي مشابھت كي جستجو هو میرا عقیدہ ھےكہ یہ مسئلہ ایك طرح سے سیاسی مقصد ركھتا ھے چونكہ اگر اسلام آئین وھابیت ھو تو پھر كون ھے جسے اسلام سے پیار ھو، اسی لئے پوری كوشش كی جاری ھے كہ وھابیت كو اصل اور واقعی اسلام كے عنوان سے رائج كیا جائے اور اگر اسلام كو صوفی شكل میں پیش كرتے ھیں تو ان كا مقصد یہ ھے كہ اسلام روزمرہ كی زندگی سے بے ربط ھے، سیاسی، اقتصادی، اجتماعی مسائل سے اس كا كوئی ربط نھیں ھے ۔ اس طرح ایك دوسری مشكل ھے، مثال كے طور پر جب اسلامی تحریكوں و غیرہ كے متعلق گفگتو كرتے ھیں تو به طور معمول اس طرح نتیجہ نكالتے میں كہ یہ لوگ مسلمان نھیں هیں، البتہ بھت ساری جزئی باتیں اور بھی ھیں لیكن عام نظریہ یھی ھے، افسوس یہ ھے كہ تشیع كامل طور پر پھچانا نھیں گیا اور اس كا احترام نھیں كیا گیا آپ تل آبیب یونیورسٹی سے صادر شدہ كتاب اسلام اور شیعہ كا مطالعہ كیجئے، ۱۹۸۰ ع یھودیوں نے بھت سارے لوگوں كو مختص كیا كہ تشیع كی شناخت حاصل كریں، البتہ ایران میں اتفاقی حادثہ ھونے كے سبب اور ابن طاؤوس كی كتاب، ان كی لائبریری، جس كو اتان كھلبرك نے تحریركیا ھےجو قرون وسطا كے دانشمندوں میں سے ھے اس كی یہ كتاب بھت عالی ھے، اس طرح كچھ افراد ھی جو واقعی طور پر شیعوں كے متعلق تحقیقات كرتے ھیں، اتان كھلبرگ، ان بھترین محققیں میں سے ھے جنھوں نے شیعہ پر تحقیق كی ھے فراموش نہ ھوجائے كہ اس تحقیق سے اس كا اپنا خاص مقصد تھا جو شاید منفی اثر و لگاؤ ھے بلكہ ان افراد كے خاتمہ اور كنٹرول كے لئے نھیں بلكہ ان كامقصد شیعہ مكتب كے متعلق اطلاع كشف كرنی تھی، غیروں نے اس كام كو بھت اچھی طرح انجام دیا ھے جب میں نے اس كتاب كو دیكھا شرمندہ ھوگیا كہ كیوں ھمارے مسلمان اس طرح كے كام انجام نھیں دیتے، مراد یہ ھے كہ یہ بھت معیاری كتاب ھے ابن طاووس كی شناخت كے لئے۔

اتان كلبرگ نے كچھ زیادہ ھی مقالات، دایر ۃ المعارف اسلام میں تحریر كئے ھیں!

جی ھاں، بالكل درست ھے، یا درحقیقت یہ كہ اسلامی تحقیقات میں زیادہ تر محققین، یھودی یا مسحیوں میں حتی خود آمریكا میں بھی، كھنا یہ چاھتا ھوں كہ اس انٹرنشنیل شیعہ میگزین كا ایك مثبت پھلو یہ ھے كہ پھلا اور اكیلا نشریہ ھے، مغرب زمین پر جو شیعہ مذھب سے مختص ھے اس كی مدیریت بھی ان لوگوں كے ذمہ ھے جو اسلامی مطالعات پر نظر ركھتے ھیں، اس میں یھودی طور پر نھیں ھیں جب كہ زیادہ تر تحقیقات جو اسلام سے متعلق كی جاتی ھے اس پر یھودی بھائیوں كا كنٹرول ھوتا ھے ۔

اگر آپ شیعہ مكتب كو كسی محقق(جو شاید شیعہ نہ ھو)كے حوالہ سے آسیب شناسی كرنا چاھیں تو ایسی صورت مین كن امور كی طرف اشارھ كرینگے!

آپ كا یہ سوال بھت كلی ھے، یعنی اس كو علمی، یا تحقیقی، یا اجتماعی و غیرہ جیسے نقطہ نظر سے دیكھا جا سكتا ھے اور ھر ایك نقطہ نگاہ سے الگ الگ جواب دیا جا سكتا ھے میں كھہ سكتا ھوں شاید اگر شیعہ مكتب كی كتابوں كی تلاش میں آپ آمریكا میں كتاب فروشی كی دوكان پر جائیں تو آپ كو نظر آئے گا كہ بڑے بك سیلر نے ایك حصہ مخصوص كر ركھا ھے اسلامی كتابوں كے لئے، لیكن كوئی بھی كتاب اھلبیت علیھم السلام سے متعلق نھیں دیكھ سكتے مگر یہ كہ شاذ و نادر كوئی كتاب نظر آجائے، اسلامی كے متعلق ساری كتابیں سنی مكتب فكر یا شیعہ مذھب كے خلاف ھونگی، اس لئے، ایك بڑی مشكل یہ بھی ھے جب كہ تاریخ اسلام میں، تشیع ھمیشہ پیش پیش رھا ھے اور فكری، علمی، تحقیقی توسیع اسلامی تعلیمات كو ترویج میں سب سے آگے رھا ھے ۔

تم نے مغربی دنیا میں كوئی اچھا كام انجام نھیں دیا ھے، بھت ساری كتابوں كا ترجمہ تو كیا ھے لیكن عموماً ان كی سطح، متوسط رھی ھے، اور عرض كتاب كی كیفیت یا سطح متوسط یا اس سے بھی نیچے رھی ھے، ان كتابون كے مخاطبین بھی وہ شیعہ ھی جو مختلف معاشروں میں زندگی كر رھے ھیں، مثال كے طور پر، انتشارات انصاریان، اچھی كتابیں نشر كرتا ھے لیكن اس كی كتاب زیادہ تر ان لوگوں كے لئے ھیں جو پھلے سے مسلمان ھیں، اس نكتھ كی طرف توجہ دلانا بھت ضروری ھے كہ وسیع تر معاشرہ میں نفوذ كے لئے، اھل بیت كی فكر كو نئے طرز پر پیش كرنا لازم ھے، جب كوئی كسی بك سیلر كے پاس جائے تو اس كو ایسی كتاب نظر آئے جو كسی ایك امام كی حدیث پر مشتمل ھو اور نئے و خوبصورت انداز میں پیش كی گئی ھوں، ھم كو چاھیئے كہ زیادہ سے زیادہ تلاش كریں!

دوسرا نكتہ یہ ھے كہ حداكثر مخاطبین كو جذب كرنے كے لئے كوئی ایسا دوسراراستہ اختیار كیا جائے جن سے شیعہ عقائد كے زیادہ سے زیادہ طرفدار پیدا ھوں، خصوصاً مفھوم ولایت، جس پر بھت كچھ كیا جا سكتا ھے، اس كے مفھوم و معنی اور اس كام پر، كتاب بھت جذاب خوبصورت طرز و انداز میں چھاپنا بھت اھم ھے ۔

افسوس كے ساتھ كھنا پڑ رھا ھے كہ اگر كتاب كی كیفیت اچھی ھوتی تو اس رائٹر اھل سنت نھیں ھوتا، اور جب كتاب كا مضمون اچھا ھوتا ھے اس كی ظاھری كیفیت اچھی نھیں ھوتی، یہ ایك اور مشكل ھے، اس لئے ضروری ھے كہ مضمون اور شكل دونوں كی خوبصورتی كو ساتھ ركھ كر كتاب نشر كریں، میں جب كتاب كی دوكان پر، دعوت B.P ھو یا بودہ B.P میں جاتا ھوں، بھت اچھی اچھی خوبصورت كتابیں نظر آتی ھیں جس میں بودھ كے نظریات اور "لادزلو" كنفوسیوس كے نظریات درج ھوئے ھیں، بھت دلكش ھوتے ھیں ۔

آپ صرف حضرت امیر المومنین كی حدیثوں كو انتخاب كریں ان كو نوآوری اور جذاب انداز میں ترجمہ كریں لوگ خود ھی جذب ھونگے، اس كے لئے ممكن ھے كسی ھنرمند سے استفادہ كیا جا ئے جو ھر حدیث سے متعلق كوئی آرٹ بنائے، اس كے ساتھ كتاب پیش كی جائے پھر كسی اچھے ناشر سے رابطہ برقرار كر كے اس كی توزیع، سیلنگ كا كام انجام دیا جائے اس طرح كتاب كو سیریل وار بھی پیش كیا جا سكتا ھے ۔

ایك اچھی كتاب جو پیش كی گئی ھے، مصباح الشریعہ نامی كتاب ھے جو امام صادق (ع) سے منسوب ھے جو قابل قبول روش میں ترجمہ ھوئی ھے، لیكن بھت سے عرصہ سے دوسرا ایڈیشن نھیں آیا ھے، ھم كو اس طرح كی كتابوں كی سخت ضرورت ھے ان كو جذاب صورت میں عوام كے ھاتھ تك پھونچائیں اھل بیت كے نظریات كو واضح كریں!

آپ كن موضوعات و نقطہ نگاہ كو تحقیقات میں مھم جانتے ھیں!

جیسا كہ میں نے اشارہ كیا كوئٰی بھی راستہ مغربی عوام كے دلوں میں نفوذ كرنے كا نھیں ھے سوائے یہ كہ اھلبیت كی ولایت كا صحیح، واقعی مفھوم ان كے لئے بیان كیا جائے، اس وقت میں اسلام كے سلسلے میں ایك كتاب لكھ رھا ھوں جس میں میری تلاش ھے كہ اسلام كے تمام پھلؤوں كو دائرہ ولایت كے ضمن میں توضیح دوں، خصوصاً، اس آیت ضمین میں، ھنالك الولایۃ للہ (كھف ۴۴) عبودیت كے دائرہ ولایت میں تعریف كر سكتے ھیں، قابل ذكر نكتہ یہ ھے كہ ھم جب ولایت كے عملی، معنوی، جھان شناسی كے پھلؤوں پر بحث كرینگے، اسٹوڈنٹس كی توجہ كو جلب كریں گے، یہ صرف اس مطلب كے اظھار كے لئے نھیں ھے، میں فلان مسئلہ كا معتقد ھوں، میں فلان مسئلہ پر عمل كرتا ھوں، بلكہ وہ روح جوان كے ضمن میں مخفی ھے جذاب ھے

صرف یہ كھنا كہ مسلمان ھونا یعنی اس كا عقیدہ ركھنا، فلان عمل انجام دینا كسی كے لئے جذب ھونے كا باعث نھیں ھوگا، یا ممكن ھے چند لوگ جذب ھوں جوانوں كی اكثریت اور اسكالرس، اس طرح جذب نھیں ھونگے، یھی دلیل ھے كہ وہ لوگ مشرقی تھذیب كے نظریات و عرفانیات كی طرف جذب ھوتے ھیں چونكہ ان مكاتب میں اعتقاد اور علم كے علاوہ مزید چیزیں پیش كی جاتی ھیں، در حقیقت اسلام كے پاس بھی یھی ھے، چونكہ وہ تفكر سے شروع ھوتا ھے، میرا خیال ھے كہ جن چیزوں میں جدید تحقیق كی ضرورت ھے وہ قرآنی مفاھیم اور ان كی وضاحت ھے، تفكر، اس كے كیا معنی ھیں ۔تفكر، تدبر میں كیا فرق ھے، اولوا الالباب یعنی كیا۔

آج ھی كل میں، امام صادق علیہ السلام سے ایك بھت اچھی حدیث، اولوالالباب كے معنی میں میری نظر سے گزری، اس طرح كی حدیثوں كو انگریزی میں ترجمہ كریں، چھوٹی چھوٹی كتا بیں ان سے متعلق لكھیں، نشر كریں، یہ كام بھت اچھا اور جذاب ھوگا۔

اس بنا پر، میری نظر میں اسی موضوع اور طریقہ اھل بیت پر، جدید تحقیق كی جائے۔مثال كے طور پر ایك بھت ھی اچھی كتاب جس كا عنوان ھے، الطریق الی للہ، تالیف، شیخ حسین بحرانی، جس میں بھت ھی زیبا انداز میں اھل بیت كے طریقہ عمل كو بیان كیا گیا ھے، میرے ایك استاد نے مجھ سے خواھش ظاھر كی كہ اس كتاب كے مطالب كو انگریزی زبان میں ترجمہ كے لئے تحقیق كردوں چونكہ اس میں وھی مطالب ھیں جن كو عوام كی ضرورت ھے، اور یہ وہ موضوع ھے جس میں تحقیق كی مزید ضرورت ھے ۔

میرے خیال سے لوگ، صرف كلامی یا فقھی مباحث سے زیادہ دلچسپی نھیں ركھتے، حالانكہ بھت مھم ھیں لیكن لوگ جذب نھیں ھوتے، خصوصاً مغربی دنیا میں زیادہ تر لوگ فساد اور دوسرے سارے مسائل كی بناپر سمجھنے كی صلاحیت و قابلیت نھیں ركھتے، اس لئے صرف یہ كھنا كہ كیا كرنا چاھئے كیا نھیں كرنا چاھئے كہ دلوں كو مسخر نھیں كرتا بلكہ اھل بیت كی روش كو بیان كركے دلوں كو مسخر كیا جا سكتا ھے ۔جیسے حسن ظن باللہ، توكل، جو اس كے حقیقی معنا ھیں، ضروری ھے بیان كیۓجائیں مثال كے طور پر اس حدیث كو نظر میں ركھیں جس میں آیا ھے كہ عاشورا كے بعد، كسی دن امام سجاد سفر كررھے تھے، ایك قافلہ سے ملاقات ھوئی جس میں امام حسین كا ایك قاتل بھی تھا۔

بیابانی سفر میں كاروان میں شریك ھر آدمی كے لیۓ پانی نھیں ھوتا ھے۔ اس كا پانی ختم ھوگیا تھا، جب اس نے امام سجاد كو دیكھا ان كے پاس گیا اور پانی مانگا، اس كے قاصد نے كھا یہ كاروان امام سجاد كا ھے۔ تونے ان كے باپ كو كس طرح قتل كیا تھا، وہ تجھے پانی نھیں دینگے، یہ سن كر وہ مایوس بو گیا، لیكن امام نے دیكھا كہ وہ آدمی گھوڑے سے اتر كر پیدل ان كی طرف آرھا ھے، امام نے اس كو اپنے پانی كا حصہ اسے دیدیا، جب وہ شخص متوجہ ھوا كہ یہ تو زین العابدین ھیں ان سے مخاطب ھو كر كھاشاید تم نےمجھے نھیں پھچانا اگر مجھے پھنچانتے تو پانی نھیں دیتے، امام نے جواب دیا، وہ دن تمھارا، دن تھا، و آج یہ ھمارا دن ھے

آپ جب اس داستان كو سنائیں گے، لوگ جذب ھونگے، اور كھیں گے اس میں كوئی حقیقت چھپی ھے كہ اس طرح كا اخلاق ھوتا ھے، عوام كو جذب كرنے كے لیۓ ھمیں اس طرح كے واقعہ كی ضرورت ھے

افسوس ھے كہ زیادہ تر كتابیں جو شیعوں كے بارے میں ھیں یا كلامی ھیں یا فقھی جو مورد نظر جاذبیت ایجاد نھیں كرتیں، اس طرح كی كتابوں سے تصوف و تشیع مخلوط نظر آتے ھیں اور حیرت كا سبب بنتی ھیں۔ اگرھم دقت كے ساتھ، اھل بیت كی تاریخ

مد نطر ركھیں، میرا تصور ھے كہ زیادہ كامیاب ھونگے۔

آپ كی مراد دو چیز سے كیا انسان اور امام ھیں۔

قابل توجہ امر ھے كہ جب ھم كھتے ھیں، ھنا لك الولایۃ للہ الحق، یھاں پر ولایت خداوند سبحان سے مربوط ھے یعنی ربوبیت، عبودیت، البتہ مولا كے معنی محل ولایت ھے، یعنی امام اس بناپر، ھماری جھان بینی ھے، ھمارا عقیدہ ھے، ولایت ایك اقدام ھے فعلیت ھے، نہ صرف احساس یا ایك انتزاعی، امر ولایت، كل عالم ھستی میں پویا عملكرد ھے ۔مثال كے طور پر سورج اور زمین كے ما بین ولایت ھے، پس آیہ، ھنالك الولایۃ الحق، كو دو طرح سے تقسیم كر سكتے ھیں، ولایت من الخلق الی الحق، یا من الحق الی الخلق، خلق كی ولایت حق پر، حق كی ولایت خلق پر ھو سكتی ھے، من الحق الی الخلق كی ولایت، وھی ربوبیت ھے اور من الخلق الی الحق، عبودیت ھے ۔اس طرح پھر بھی ھم اس مطلب كو ولایت كی اساس پر ھی تعریف كرینگے۔

اب ربوبیت كیا ھے، ربوبیت، ایك قسم كی ولایت ھے، عبودیت كیا ھے وہ بھی ایك قسم كی ولایت ھے، ولایت كا دائرہ شمول كیا ھے، ولایت ھمیشہ محبت كے ساتھ ھے اس طرح سے ھم اسٹوڈنس كے لئے بیان كرینگے كہ وھابیت كی پریشانی ان كی مشكل كھاں پر ھے، مشكل یہ ھے كہ وہ ایمان ركھتے ھیں، خدا كے معتقد ھیں لیكن اس نكتہ كو نھیں سمجھتے كہ ولایت ایك قسم كی محبت ھے تمام مخلوقات كے مابین، اسی بنا پر وہ لوگ گروہ مارقین میں ھیں جیسا كہ امیر المومنین فرماتے ھیں، ما یمرقون من الدین كا یمرق السھم من الرمیۃ 6 چونكہ وہ لوگ ولایت كے معنی نھیں سمجھ پا رھے ھیں، جبكہ خدا و رسول كا عقیدہ ركھتے ھیں مگر عشق و محبت كو بھولے پڑے ھیں اور جب محبت نہ ھو، ولایت نہ ھوگی اور ولایت نہ ھوگی دین نہ ھوگا خواہ فقہ اور عقیدہ كے پائبند كیوں نہ ھوں اس لئے ولایت، محور اسلام ھے یھی وہ شئے ھےجو لوگوں كو اپنی طرف جلب كرے گی۔

آپ كے لحاظ سے اس یونیورشل میں تشیع كا كیا مقام ھوگا۔

اسلام كو كلی طور پر دیكھنے اور وہ واقعات جس سے تمام لوگ آگاہ ھیں، اسلام پر مختلف جھت سے سنگین حملے ھو رھے ھیں، یونیورشل كی ایك مشكل یہ ھے كہ وہ پلورال كی تشویق كرتا ھے جس كی بنیاد ھے كہ كسی شخص كو حق حاصل كرنےو تلاش كرنےكا حق نھیں ھے، ھم سب كا كچھ نہ كچھ عقیدہ ھے اور سارے عقیدہ برابر ھیں یہ چیلنج ھے خصوصاً اسلام سے جو پویا زندگی كا ایك نظام دیتا ھے جس میں جھان بینی معنوی، عمل، اور ایدولوژیك ھے، ھاں اسلام، اپنا خاص پروگرام جھان سازی یونیورشل كا ركھتا ھے جو كافی حد تك عصر حاضر كے (یونیورشل) علمبردار كے مد مقابل اور متضاد ھے آج، یونیورشل، لیبرال، كپیٹل اور دوسری طاقتوں كے زیر نفوذ ھے جو تیزی سے بڑھ رھا ھے جس كی بنا پر عالمی تجارت تنظیم اور اس جیسے ادارے، كوشش كر رھے ھیں كہ لیرال كپیٹل كے آرمانوں كی اس دنیا میں تبلیغ و تزویج ھو، جس كی بناپر زیادہ تر لوگ فقر كی طرف كھنچے جا رھے ھیں اور اقلیت ثروت مند ھو رھی ھے، اس جھت سے اسلام كے سامنے ایك چیلنج ھے جس كے لئے ضروری ھے كہ منسجم نقد اس یونیورسل كے لئے دنیا كے سامنے پیش كرے نہ یہ كہ صرف اعتراض كرے مخالفت كرے، بلكہ اصلاح كن تنفیذ اس كا فریضہ ھے، اس طرح توجہ كرنا چاھئے كہ اسلام عالمی وحدت كے لئے كیا نظریہ ركھتا ھے ۔

اسلام لیبرال كپیٹل یا سیكولار و امانیسٹی كے بدلہ كون سا بدل پیش كر رھا ھے، كبھی كبھی میں محسوس كرتا ھوں كہ جو شاید اشتیاق ھو علماء قم حد سے زیادہ مسیحیت، یھودیت كے متلعق تطبیقی مطالعہ كی تاكید كرتے ھیں جبكہ یہ دونوں دین كے عنوان سے اس دنیا سے ناپید و زائل ھونے كے قریب ھیں، اصل ٹكر سیكولارو امانیسم و كاپیٹل سے ھے ۔
یھان پر توجہ كی ضرورت ھے كہ اسلام كس طرح اس چیلنج(لیبرال، كپیٹل، سیكولار، امانیسم)كا صحیح جواب دیتا ھے، یہ بھت بڑا چیلنج ھے ۔

سید محمد باقرالصدر اور دوسرے علماء شیعہ اور سنی نے، اپنے زمانہ میں اپنے طریقہ سے كمیونسٹ كے مسئلہ كو كس طرح حل كیا اور اس سے متعلق نقد آمیز قوی كتابیں لكھیں، لیكن ایسا نقد، لیبرال، كپیٹل كے مد مقبل دیكھنے میں نھیں آرھا ھے، جبكہ عراق افغانستان اور دوسرے سے علاقے میں ان كا یھی پروگرام جاری ھے افسوس اس پر ھے، اس لیۓ ھے كہ علماء، مفكرین، خود حیران ھیں كہ اس مسئلہ سے كیسے نپٹیں۔

آپ كی نظر میں شیعوں كو كس كا چیلنج ھے اپنے كو كس سے مقابلہ كے لئے آمادہ كریں!

یہ سوال بھت وسیع ھے، میرا خیال ھے كہ تشیع كے متعلق، كھا جائے ھم ایك ایسی دنیا میں زندگی گزار رھے ھیں جو ھمیشہ تغییر و تفسیر میں ھے ۔میرا عقیدہ ھے كہ سب سے بڑیٰ مشكل جوانوں كے دلوں كو جذب كرنا ھے، شاید سب سے بڑا چیلنج یہ ھو كہ كس طرح اتنی بڑی تعداد میں جوانوں كو اس طرف جذب كریں، ایك طرف سے لیبرالسیم، اور لیبرال كپیٹل موڈل، مضحكہ اور شیطنت ھے جنھوں نے سالوں سے مختلف طریقے سے تجربہ كیا ھوا ھے، آخر كار اس كو سب سے اچھا راستہ نظر آگیا، سب سے بڑا چیلنج یہ كہ كس طرح اسلام كو جاذبیتی انداز میں پیش كیا جائے اور ھماری بات پھونچے صرف عقیدہ، احكام جیسا اسلحہ اس جنگ میں كافی نھیں ھے ھم مجبور ھیں كہ اس سے بھتر اسلحھ حاصل كریں تا كہ مشرق و مغرب كے جوان ذھنوں كو اپنی طرف جذب كریں!

منبع فارسی: مجله شیعه شناسی / شماره 13


1. International Journal of Shici Studies.

2. امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اسلام پانچ ركن ھیں، نماز، زكات، صوم، حج، ولایت اور جتنی تاكید ولایت كی گئی ھے كسی شی كے لئے نھیں ھے ۔ (محمد بن يعقوب كلينى، الكافى، ج 2، ص 18، روايت 1)

3. امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: سود كا ایك درھم بدتر است ستر زنا سے جو كسی محرم سے كی جائے (محمّد بن حسن طوسى، التهذيب، ج 7، ص 14، روايت 61، باب 22)

4. دیكھیئے: محمّدباقر مجلسى، بحارالانوار، ج 3، ص 153، روايت 1، باب 5.

5. محمّدباقر مجلسى، پيشين، ج 25، ص 23، روايت 39، باب 1

6. ابن ابى الحديد، شرح نهج البلاغه، ج 1، باب 3، ص 201.

خوارج کون تھے؟

 


ميں خوارج کے سلسلہ سے بہت زيادہ حساس ہوں،ماضي ميں ان کے بارے ميں کافي مطالعہ بھي کيا ہے انھيں خشک مقدس سے تعبير کيا جاتا ہے۔ليکن تعبير غلط ہے خوارج اس قسم کے لوگ نہيں ہیں اس لئے کہ جو خشک و مقدس مآب ہو گا وہ گوشہ نشيني کي زندگي بسر کرے گا اسے کسي سے کيا لينا دينا، کہاں يہ اور کہاں خوارج؟ خوارج تو فسادي تھے، قتل و غارت کرتے تھے، شکم پارہ پارہ کرتے تھے اور چوري چکاري بھي ان کا ايک معمول کاکام تھا، آخر ان کے بارے ميں يہ کيسے مشہور کر ديا ہے کہ خشک مقدس مآب تھے۔اگر وہ گوشہ نشين بھي ہوتے تو پھر اميرالمومنين عليہ السلام کو ان سے کيا مطلب ہوتا وہ تو انھيں ہاتھ بھي نہ لگاتے؟خوارج سے جنگ کے دوران ميں عبداللہ بن مسعود کے ساتھيوں نے اميرالمومنين عليہ السلام سے کہا ’’لا لک ولا عليک‘‘ نہ تو اس جنگ ميں آپکے ساتھ ہيں نہ آپکے خلاف،اب خدا جانے کہ خود عبداللہ بن مسعود بھي انہيں کہنے والوں ميں سے ہيں يا نہيں مجھے کچھ ايسا ہي لگتا ہے کہ وہ خود بھي اس قول ميں شريک تھے اور اميرالمومنين عليہ السلام سے کہا اگر آپ کفار و اھل روم وغيرہ سے جنگ کرنے جائيں تو ہم بھي آپ کے ساتھ ساتھ ہيں ليکن اگر آپ مسلمانوں ’’اھل بصرہ و اھل شام‘‘ سے لڑنے کے ليے جائيں گے تو پھر نہ ہم آپ کے ساتھ لڑيںگے نہ آپ کے خلاف جنگ کريں گے۔اب ذرا بتائيں اميرالمومنين عليہ السلام ان لوگوں کے ساتھ کيا سلوک انجام ديں؟

متن:

 

خوارج کون تھے؟

ميں خوارج کے سلسلہ سے بہت زيادہ حساس ہوں،ماضي ميں ان کے بارے ميں کافي مطالعہ بھي کيا ہے انھيں خشک مقدس سے تعبير کيا جاتا ہے۔ليکن تعبير غلط ہے خوارج اس قسم کے لوگ نہيں ہیں اس لئے کہ جو خشک و مقدس مآب ہو گا وہ گوشہ نشيني کي زندگي بسر کرے گا اسے کسي سے کيا لينا دينا، کہاں يہ اور کہاں خوارج؟ خوارج تو فسادي تھے، قتل و غارت کرتے تھے، شکم پارہ پارہ کرتے تھے اور چوري چکاري بھي ان کا ايک معمول کاکام تھا، آخر ان کے بارے ميں يہ کيسے مشہور کر ديا ہے کہ خشک مقدس مآب تھے۔اگر وہ گوشہ نشين بھي ہوتے تو پھر اميرالمومنين عليہ السلام کو ان سے کيا مطلب ہوتا وہ تو انھيں ہاتھ بھي نہ لگاتے؟خوارج سے جنگ کے دوران ميں عبداللہ بن مسعود کے ساتھيوں نے اميرالمومنين عليہ السلام سے کہا ’’لا لک ولا عليک‘‘ نہ تو اس جنگ ميں آپکے ساتھ ہيں نہ آپکے خلاف،اب خدا جانے کہ خود عبداللہ بن مسعود بھي انہيں کہنے والوں ميں سے ہيں يا نہيں مجھے کچھ ايسا ہي لگتا ہے کہ وہ خود بھي اس قول ميں شريک تھے اور اميرالمومنين عليہ السلام سے کہا اگر آپ کفار و اھل روم وغيرہ سے جنگ کرنے جائيں تو ہم بھي آپ کے ساتھ ساتھ ہيں ليکن اگر آپ مسلمانوں ’’اھل بصرہ و اھل شام‘‘ سے لڑنے کے ليے جائيں گے تو پھر نہ ہم آپ کے ساتھ لڑيںگے نہ آپ کے خلاف جنگ کريں گے۔اب ذرا بتائيں اميرالمومنين عليہ السلام ان لوگوں کے ساتھ کيا سلوک انجام ديں؟
کيا اميرالمومنين عليہ السلام نے ان کو موت کے گھاٹ اتار ديا؟ ھر گزنہیں، حتيٰ آپ ان کے ساتھ بد اخلاقي سے بھي پيش نہيں آئے۔ خود ان لوگوں نے آپ کے سامنے پيشکش کي کہ ہميں سرحدوں کي پاسباني کے ليے بھيج ديں،اميرالمومنين عليہ السلام نے قبول کر ليا اور ان کو سرحدوں کي نگہباني پر لگا ديا، بعض کو خراسان کي طرف بھيج ديا يہي ربيع بن خثيم ،جو مشہد ميں خواجہ ربيع سے شہرت رکھتے ہيں ،جيسا کہ نقل کرتے ہيں انھيں افراد ميں سے ايک ہيں ۔اميرالمومنين عليہ السلام نے ان مقدس مآب لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ ديا ۔ يہ دراصل جھل مرکب کا شکار تھے يعني ايک غلط ديد کي بنائ پر دائرہ دين کو نہايت تنگ سمجھتے تھے اور پھر اس تنگ نظري کے ساتھ عمل بھي کرتے تھے اس راہ ميں چوري بھي کرتے تھے قتل و غارت سے بھي انھيں دریغ نہيں تھا اور جنگ و جدال بھي کرتے تھے: البتہ جو ان کے سردار اور رئيس تھے وہ اپنے آپ کو پيچھے رکھتے تھے، اشعث بن قيس اور محمد بن اشعث جيسے لوگ ہميشہ مورچے کے پيچھے پيچھے دکھائي ديتے تھے اور ان کے آگے آگے کچھ جاھل نادان ، ظاھر بين تھے جن کے ذہن غلط باتوں سے پرُ ہيں اور ان کے ہاتھ ميں تلوار بھي تھي انھيں آگے آگے بڑھا ديا گیااور يہ لوگ آگے بڑھ بھي گئے وہ تلوار چلاتے تھے ، قتل کرتے تھے مارے بھي جاتے تھے ابن ملجم کے بارے ميں کوئي خيال نہ کرے کہ يہ کوئي عقلمند آدمي تھا بلکہ يہ ايک احمق آدمي تھا جس کا ذہن اميرالمومنين عليہ السلام کے خلاف بھر ديا گيا تھا وہ کافر ہو گيا تھا اسے علي عليہ السلام کے قتل کے ليے کوفہ بھيجا گيا، اتفاقاً اس ماموريت کے ساتھ ايک عشقيہ حادثہ بھي پيش آگيا اور وہ اپنے اس ناپاک ارادے ميں اور مصمّم ہو گيا يہاں تک کہ وہ خيانت انجام دي ۔ تو خوارج اس قسم کے لوگ تھے جو بعد ميں بھي اسي طرح سے رہے۔
خوارج کے ايک فرد سے حجاج بن يوسف کا مناظرہ:
آپ جانتے ہيں کہ حجاج بن يوسف ايک نہايت سفاک، اور قسي القلب خونخوار حاکم تھا جس کے ظلم اور بربريت کي مثال نہيں ملتي شايد صدام حاکم عراق(جو اب معزول کر ديا گيا ہے) کي طرح تھا اتفاقاً وہ بھي عراق پر حکومت کر رہا تھا ! البتہ صدام کي ظالمانہ روش ترقي يافتہ ہے! اس کے پاس قتل و شکنجے کے جدید اسباب وسائل ہيں اور اس کے پاس نيزہ ، شمشير تيغ و تير جيسي چيزيں نہيں ،حجاج بن يوسف کے اندر کچھ خصوصيتيں بھي تھيں مثلاً اس کا شمارفصحائ و بلغائ ميں ہوتا تھا کہ الحمداللہ موجودہ حکّام ان کمالات سے بھي عاري ہيں!۔
اُس نے منبر سے جو خطبے پڑھے ہيں جاحظ نے ’’البيان والتبين‘‘ ميں اسے نقل کيا ہے، وہ حافظ قرآن تھا مگر ايک خبيث النفس انسان بھي تھا عدل و انصاف اور پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور اھل بيت عليھم السلام کا دشمن بھي تھا ايک عجيب آدمي! انھي خوارج ميں سے کسي ايک کو حجاج کے پاس ليکر آئے حجاج اس کے بارے ميں پہلے سے جانتا تھا کہ وہ حافظ قرآن ہے لہذا اس سے سوال کيا:’’آجمعت القرآن‘‘ قرآن کو جمع کر رکھا ہے؟ اس کي مراد تھي کہ کيا قرآن کو اپنے ذھن ميں يونہي جمع کر رکھا ہے، اگر آپ اس کے تيز و تند جوابات پر توجہ کريں تو آپ لوگوں کو اس کي طبيعت اور مزاج کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ اس نے جواب ديا؛ ’’آصفرقاً کان فاجمعہ‘‘مگر قرآن پھیلاتھاکہ ميں اسے جمع کرتا؟ جب کہ وہ (خارجي) اس کے مقصد سے واقف تھا مگر اسے جواب نہيں دينا چاہتا تھا۔
حجاج اپني تمام شدّت و قساوت کے باوجود اسے برداشت کر رہا تھا اور پھر کہا’’ آفتحفظہ‘‘ کيا قرآن حفظ کرتے ہو؟ اس نے جواب ديا ’’آخثيتُ فرارہ کا حفظہ‘‘ کيا اس بات کا خوف تھا کہ وہ کہيں فرار نہ کر جائے جو اسے محفوظ کر ليتا؟ ايک اورجواب اسنے سنا! اسنے پوچھا’’ما تقول في اميرالمومنين عبدالمالک‘‘ عبدالمالک بن مروان کے بارے ميں تمہارا کيا خيال ہے عبدالمالک بن مروان خبيث جو اموي خليفہ تھا، اس خارجي نے کہا ’’لعنہ اللہ ولعنک معہ‘‘ خدا اس کے ساتھ تم پر بھي لعنت کرے! ذرا ديکھيں يہ وہ لوگ تھے جو بغير کسي تکلف، بالکل صراحت کے ساتھ،شدت پسندي سے گفتگو کرتے تھے، حجاج غصہ دباکرکہتا ہے تو مارا جاے گا لہذا يہ بتاو کہ تم خدا سے کس حالت ميں ملاقات کرو گے؟اس نے جواب ديا’’ القيٰ اللہ بعملي و تلقاہ انت بدمن‘‘ ميں خدا سے اپنے اعمال کے ساتھ ملوںگا اور تو ميرے خون کے ساتھ خدا سے ملاقات کرے گا ! آپ ذرا ملاحظہ تو کريں ، اس جيسے افراد کا مقابلہ کوئي آسان کام نہيں ہے اگر ايک عام آدمي انھيں ديکھے گا تو ان کا گرويدہ ہو جائيگا، ايک بے بصيرت اگر ان کے اعمال و افعال کو ديکھے تو پھر انھي کا ہو جائے گا، جيسا کہ خود حضرت اميرالمومنين عليہ السلام کے زمانے ميں بھي ايسے اتفاقات ہوئے۔
جنگ نہروان:
ايک روايت کے مطابق، جنگ نہروان کے زمانے ميں ايک دن اميرالمومنين عليہ السلام اپنے ايک صحابي کے ساتھ چہل قدمي کر رہے تھے، وہيں کہيں نہروان کے قريب، نيمہ شب ميں تلاوت قرآن کي آواز سنائي دي، کوئي ايک درد ناک، آواز ميں خوبصورت انداز سے قرآن پڑھ رہا تھا، جوصحابي اميرالمومنين عليہ السلام کے ساتھ تھا کہنے لگا کاش ميں اس کے بدن کا ايک بال ہوتا، کيونکہ سوائے بہشت کے اس شخص کا کوئي ٹھکانا ہو ہي نہيں سکتا، حضرت نے تقريباً اس جيسا جملہ ارشاد فرمايا تھوڑا صبر کرو اس قدر جلدي فيصلہ نہ کرو،اور يہ واقعہ گزر گيا یہاں تک کہ نہروان کي جنگ چھڑ گئي۔اس جنگ ميں يہي، شدت پسند، بد زبان ،متعصب غصہ ور خارجي، ہاتھ ميں تلوار ليے مسلح ہو کر اميرالمومنين عليہ السلام کے مقابلے ميں آگيا،حضرت عليہ السلام نے فرمايا جو ميدان سے چلا جائے يا اس علم کے نيچے پناہ لے لے گا ميں اس سے جنگ نہيں کروںگا اور آپ کے اس اعلان پر کچھ آئے بھي ليکن تقريباً چار ہزار ٤٠٠٠ لوگ رہ گئے پھر آپ عليہ السلام نے اس جنگ ميں ان تمام لوگوں کو تہہ تيغ کر ديا اور لشکرکے دس ١٠ لوگ ہي زندہ بچے بقيہ سب کے سب قتل ہو گئے، اس جنگ ميں اميرالمومنين عليہ السلام فاتح قرار پائے جب کہ اس ميں بہت سے مقتولين اہل کوفہ تھے يا کوفہ کے قرب وجوار کے رہنے والے تھے۔ وہي لوگ جو صفين و جمل ميں حضرت کے ساتھ ہم رزم رہ چکے تھے اور اس کے بعد ان کے ذہن بھٹک گئے تھے زمين پر ان کے لاشے يونہي بکھرے ہوئے تھے اور حضرت ايک خاص کيفيت کے ساتھ ان کے درميان ميں قدم زني فرما رہے تھے ، اس کے باوجودکہ وہ سب مر چکے تھے مگر حضرت ان سے،حکمت کي ايک تہہ اپنے اندر سموئے ہوئے گفتگو فرمارہے تھے اس کے بعد ايک مقتول کے قريب پہنچے اور فرمايا اسے ذرا پلٹو: آپ نے اسپر ايک نگاہ ڈالي اور اس صحابي سے کہ جو ايک شب ان کے ساتھ چہل قدمي کر رہا تھا خطاب کر کے فرمايا! کيا تم اس مقتول کو پہچانتے ہو؟ اسنے کہا نہيں يا اميرالمومنين عليہ السلام !فرمايا! يہ وہي شخص ہے اس رات کو اسطرح دردناک انداز ميں تلاوت قرآن کر رہا تھا اور تم تمنّا کر رہے تھے کہ کاش تم اس کے جسم کا ايک بال ہوتے ! وہ اس طرح سوزو گداز سے تلاوت قرآن کر رہاتھا مگر قرآن مجسم( علي عليہ السلام ) سے لڑنے کیلئے آيا تھا علي ابن ابي طالب عليہ السلام نے ايسے لوگوں سے جنگ کي اور انہيں قلع قمع کيا،البتہ خوارج مکمل طور پر قلع قمع نہيں ہوئے ۔اور ہميشہ ايک محکوم اقليت کي حيثيت سے باقي رہے۔وہ معاشرہ پر تو مسلط نہيں ہو سکے مگر ان کا مقصد اس سے کہيں زيادہ وسيع اور آگے کا تھا جو پورا نہيں ہو سکا۔
استقامت کے ليے بصيرت لازمي ہے:
ميںہميشہ سے تکرار کرتا رہا ہوں کہ اگر کوئي قوم حالات کا تجزئيہ و تحليل کرنے کي صلاحيت کھو بيٹھے تو وہ شکست کھا جائيگي، اصحاب امام حسن عليہ السلام تجزئیے کي صلاحيت سے محروم تھے وہ يہ نہيں سمجھ سکے تھے کہ ماجرا کيا ہے اور ان کے ساتھ کيا چال چلي جا رہي ہے، (اسي طرح) اصحاب اميرالمومنين عليہ السلام بھي حالات کو نہيں سمجھتے تھے کہ جنہوں نے آپ کو خون دل پينے پر مجبور کيا ،وہ سب کے سب آپ کے دشمن نہيں تھے، ليکن اس ميں سے بہت سے ايسے تھے جيسے خوارج، جو پوري طرح واقعات کو سمجھنے سے قاصر تھے ان کے اندر تجزيہ و تحليل کي قوت مفقودتھي ايک بد جنس ايک ناکارہ شخص ادھر ادھر نکل آتا تھا اور لوگوں کو ايک طرف کھيچ ليتا تھا، سنگ ميل کو کھو بيٹھتے تھے اور راستے سے بھٹک جاتے تھے، راستہ چلتے وقت ہميشہ سنگ ميل پر نظر رکھني چاہيے اگر سنگ ميل نظروں سے اوجھل ہو گيا تو ياد رکھيئے بہت جلد راستے سے بھي بھٹک جائيں گے۔
اميرالمومنين عليہ السلام فرماتے تھے ’’ولا يحمل ھذا العلم الا اھل البصر و الصبرہ‘‘(١) سب سے پہلے بصيرت، ہوشمندي، ہوشياري ، تجزئيہ وتحليل اور فھم و درک کي صلاحيت حاصل کرنا پھر اس کے بعد صبرو استقامت سے کام لينا چاہيے جو واقعات پيش آرہے ہيں اس سے بہت جلد دل برداشتہ نہ ہو، حق کا راستہ بہت دشوار گذار راستہ ہے۔
دنيا کے سارے ظالمين اور طاقتور آئے اور کچھ نہ کچھ باطل کے لشکر ميں انہوں نے اور اضافہ ہي کيا طول تاريخ اور ہمارے زمانے ميں بھي سارے شيطان صفت انسان آئے اور اس باطل کے بند کو (جو اميرالمومنين عليہ السلام اور بندگان خدا کے راستہ ميں حائل تھا)کواور قوت بخشي جب کہ حق انسانوں کے راستے ميں حائل اس بند اور اس ٹيلے کو ہٹا دينا چاہتا ہے جو خود اپني جگہ کوئي آسان کام نہيں ہے بلکہ ايک مشکل امر ہے جو صبر و تحمل کے ساتھ ساتھ سعہ صدر اور اپني روحاني قوت کي طرف رجوع کرنے کے علاوہ اپنے اندروني چشمے کے ابلنے کا مطالبہ کرتا ہے، تاکہ انسان حق کي ڈگر پر چل سکے،البتہ راہ حق پر چلنے کي کوشش زندگي کو لذيذ بنا ديتي ہے، ايک ايسي زندگي جس ميں ظلم و زيادتي، زور و زبردستي نہ ہو، کوئي چيز الگ سے اس پر تھوپي نہ جائے ايک ايسي زندگي جس ميں انسان کے اعمال پر شيطان کا بسيرا نہ ہو، بلکہ اس کي زندگي روحانيت اورمعنویت سے لبريز ہو۔


١۔ نہج البلاغہ،خطبہ ١٧٣
اقتباس از    شخصیت امیرالمومنین حضرت امام علي عليہ السلام   حضرت آیت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي  کے مجموعہ خطابات کي روشني ميں

مذھب شافعی

 

ذکی

خلاصہ :

 

اسلامی فقہ شریعت الھی پر اسلامی امت کی خاص توجہ کا مظہرہے کیونکہ تمام اسلامی فرقوں نے اپنی ضرورت کے مطابق اس سے احکام فقہی کا استنباط و استخراج کیا ہے اس لحاظ سے فقہ شافعی بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے اس مختصر مضمون میں ہم فقہ شافعی کا جائزہ لیں گے ۔

متن:

 

  امام شافعی کی زندگي اورکتابیں ۔

امام شافعی کو ناصرالحدیث اور مجدد القرن الثالث کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ان کا نام محمد اور وہ ادریس ابن عباس بن عثمان ابن شافع ہیں ان کی کنیت ابوعبداللہ ہے ،امام شافعی ایک سوپچاس ہجری قمری میں ابو حنیفہ کی وفات کے بعد شہر غزہ میں پیدا ہوے ،انہوں نے مکہ مکرمہ میں مسلمی زنجی سے فقہ و حدیث کی تعلیم حاصل کی اور بیس سال کی عمر میں مدینہ میں امام مالک بن انس کے سامنے زانوے ادب تہ کیا وہ محمد ابن حسن اور عبداللہ ابن عباس کے دوستوں میں شمار ہوتے تھے ۔

سن دوسو ہجری قمری میں مصر جاتے ہیں اور وہیں پر ان کی وفات ہوتی ہے اورماہ رجب سن دوسوچار میں انہیں قاہرہ میں سپرد خاک کیا جاتا ہے۔

 امام شافعی کی کتابیں

بتایا جاتا ہےکہ امام شافعی نے فقہ و تفسیر واصول و ادب میں ایک سو تیرہ کتابیں لکھی ہیں ان کی کتابوں میں الرسالۃ ،الحجۃ ،الوصایا الکبیرہ ،اختلاف اھل العراق اور ابطال الاستحسان ،جامع المزنی الکبیر و الصغیر قابل ذکر ہیں ۔

کتاب الام ان کی اہم ترین فقہی کتاب ہے ۔

 دینی قیادت و رہبری کے بارے میں شافعی کی بعض اہم آراء

 الف :دینی رہبر کو دو اہم خصوصیتوں کا حامل ہونا چاہیے پہلی یہ کہ قرشی ہو اور دوسرے یہ کہ عوام الناس اس کے بارے میں مثبت نظر رکھتے ہوں ۔

بیعت کے بغیر کسی کا رہبربننا مگر یہ کہ ضرورت ہو غیر شرعی ہے اسی بناپر شافعی نے حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کو برحق مان کر آپ کی مخالفت کرنے والوں جیسے معاویہ کو باغی قراردیا ہے ۔

ب:حدیث صرف رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قول کو کہا جاتاہے ۔

ج :مکتب شافعی میں صحابہ سے بے حد محبت دیکھی جاسکتی ہے ۔

د:مکتب شافعی میں اولیاء الھی سے تبرک و توسل، جائزہے ۔

ھ:نمازجماعت ،جمعہ اورنمازعیدین کی پابندی مذھب شافعی کی دیگر خصوصیات ہیں۔

 فقہ شافعی ۔

فقہ شافعی مطالعہ کرنے کے قابل ہے کیونکہ یہ فقہ اھل راي  اھل نقل و حدیث کے درمیان رابطہ برقرارکرتاہے امام شافعی استخراج احکام کے لۓ سب سے پہلے قرآن سے مدد لیتے ہیں اس کے بعد حدیث کو نہایت اہمیت دیتے ہیں اور راوی حدیث کے لۓ تمام شرایط جیسے صدق ،ایمان ،دیانت و حافظہ وغیرہ کو ضروری جانتے ہیں ،قرآن و حدیث کے بعد فقہی مسائل میں اجماع مسلمین کو اہمیت دیتے ہیں البتہ اجماع کے لۓ بھی بعض شرایط کے قائل ہیں ،شافعی علم کلام کو پسند نہیں کرتے تھے بلکہ اسے بدعت سمجھتے تھے ،شافعی نے علم اصول کے قواعد وضع کۓ ہیں چنانچہ فخررازی نے علم اصول کی طرف شافعی کی نسبت کومنطق کی طرف ارسطو کی نسبت کی طرح قراردیا ہے ۔

3 مذھب قدیم و مذھب جدید شافعی :شافعی نے پچاس سال حجازوعراق میں گذارے اس کے بعد مصر چلے گۓ ،مصر جانے کے بعد شافعی نے اپنے قدیمی نظریات کا انکار کرکے رسائل شافعی نامی کتاب لکھی جس میں جدید مکتب کے اصول بیان کۓ اور چار ہزار صفحات پر مشتمل کتاب الام اسی جدید مکتب کے نظریات پر حاوی ہے ۔

فقہاء کا اتفاق نظر ہے کہ شافعی کی کتاب الحجۃ مذھب قدیم کے نظریات پر مشتمل ہے ۔

4 اصول فقہ یا قوانین اجتھاد ؛ امام شافعی نے استنباط احکام شرعی کو کتاب ،سنت ،اجماع ،اوراصحاب کے قول وفعل وقیاس میں منحصر کردیا اور استحسان کے رد میں قوی و مستحکم دلیلیں پیش کیں انہوں نے عرف و مصالحہ مرسلہ کو بھی باطل قراردیا ہے ۔

 دیگر فقہی مذاھب سے شافعی مذھب کا امتیاز۔

 1 مکتب شافعی دراصل مکہ کےمکتب قرآن ، مدینہ کے مکتب حدیث ،اورعراق کےمکتب اھل راي کے درمیان توازن پیداکرنے والا مذھب ہے ۔

2 احکام دینی کو عادات اقوام ،مصلحت اندیشی ،اورعقل عامہ اور مصالح مرسلہ سے کہیں بالاترسمجھتے ہیں ۔

3 اجتھاد کو منظم کرنا اور علم اصول کے قواعد وضع کرنے کا سہرا امام شافعی کے سر ہے ان سے پہلے کے فقہاء نے اگر اصولی قواعد پر توجہ کی ہے تو یہ ان کے ذاتی ذوق کی بناپر تھا نہ یہ کہ وہ اصولی قواعد وضع کرنا چاہتے تھے ۔

 ماخذ۔

فقہ تطبیقی مذاھب پنج گانہ جعفری حنفی شافعی مالکی حنبلی ۔محمد جواد مغنیہ

تجزیہ وتحلیل زندگانی امام شافعی ۔عبداللہ احمدیان

چھار امام اھل سنت و جماعت ۔محمد رئوف توکلی

افتاب نیوزایجنسی ۔

مذھب حنفی

 

خلاصہ :

 

مذھب حنفی اسلام کے پانچ بزرگ مذاھب اور اھل سنت کے چار مذاھب میں سے ایک ہے جس کے عالم اسلام میں کثیر پیرو ہیں زیر نظر مضمون میں اختصار سے سب سے پہلے اس مکتب کے فقہی آراء اور امام ابوحنیفہ کی زندگی اور عقائد پر نظر ڈالیں گے ۔

متن:

 

امام ابوحنیفہ

ابو حنیفہ نعمان بن ثابت بن زوطی المعروف بہ امام اعظم کوفے میں پیدا ہوۓ ان کے اجداد ایرانی نژاد اور کابل یا ترمذ کے رہنے والے تھے ابو حنیفہ عبدالمالک بن مروان اموی کے دور میں پیداہو‌ۓ اور اور عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں اپنے ہوش و ذکاوت کے بنا پر مشہور ہوۓ انہوں نے خود لکھاہےکہ انہوں نے اصحاب علی علیہ السلام اور عمر سے علم حاصل کرنا شروع کیا تھا اور عبداللہ بن عباس کے ساتھیوں کے سامنے بھی زانو ادب تہ کیا ہے ان کے معروف ترین اساتذہ میں حماد بن ابی سلیمان اشعری ہیں جو فقہ کے مسلم استاد تھے ،ابو حنیفہ کے شاگردوں میں ابو یوسف ،(فقیہ) ابو عبداللہ محمد بن حسن شیبانی (فقیہ و ادیب) زفربن الھذیل اور حسن بن زیاد لولوئی کوفی کا نام قابل ذکر ہے ۔

ابو حنیفہ کانبوغ علمی اس وقت ظاہرہوا جب انہوں نے مستقل فقہی مذھب کی بنیاد رکھی البتہ انہوں نے اپنے مذھب کے لۓ کوئي الگ سے کتاب نہیں لکھی لیکن ان کے شاگردوں نے جیسے ابویوسف اور محمد نے اس ضمن میں کتابیں تالیف کی ہیں ۔


اصول مذھب ابو حنیفہ

ابو حنیفہ کا کہنا ہے کہ استنباط احکام کے لۓ سب سے پہلے کتاب خدا سے رجوع کرتے ہیں اگر قرآن سے انہیں حکم شرعی نہیں ملتا ہے تو سنت پیغمبر سے استنباط کرتے ہیں اور اصحاب کے اقوال سے استفادہ کرتاہوں اور دیگر چيزوں کو چھوڑدیتا ہوں ،کسی اور کے قول پر عمل نہیں کرتا ،ابو حنیفہ نے جن منابع شریعت کو ذکر کیا ہے وہ قرآن سنت صحابہ مجتھدین اور دیگروں کا اتفاق نظراور قیاس ہیں ،البتہ ان چار منابع کے بعد استحسان کی نوبت آتی ہے ۔

قیاس پر عمل کرنے کے شرایط

حکم غیر منصوص کو حکم منصوص کے ساتھہ مشترکہ علت پاۓ جانے کی صورت میں ملحق کرنے کو قیاس کہتے ہیں۔

ابوبکر بن احمد ابی سھل سرخسی نے مذھب ابو حنیفہ میں قیاس پر عمل کرنے کے لۓ پانچ شرطیں ذکر کی ہیں

1 حکم اصل مقیس علیہ کہ جس کا حکم کسی دوسرے نص سے حاصل نہ ہوا ہو ۔

2 حکم معقول نہ ہو۔

3 فرع یعنی مقیس منصوص نہ ہو ۔

4 حکم مقیس علیہ اثبات علت کے بعد اپنے حال پر باقی رہے ۔

5 قیاس نص کے کسی لفظ سے باطل قرارنہ پاۓ ۔

4 امام ابو حنیفہ کے فقہ کی خصوصیات ۔

1 عبادات و معاملات میں آسانی :ابو حنیفہ پانی کے علاوہ دیگر مایعات کوبھی پاک سمجھتے ہیں یا معاملات کے سلسلے میں جس چیز کو کسی نے نہ خریدا ہو اسکی خرید و فروش کو جائز مانتے ہيں ،بقیہ موارد ان کی کتابوں میں مذکور ہیں ۔

2 غریبوں اور ناتوان افراد کی رعایت :ابوحنیفہ کے نزدیک عورتوں کے زیوروں پر زکات ہے کیونکہ اس سے غریبوں کی مدد ہوتی ہے ،ابو حنیفہ کا ایک اور فتوی ہےکہ جس شخص کا قرض اس کے اموال کے برابر ہو اس پر قرض ادا کرنا واجب نہیں ہے ۔

3 انسان کے عمل کو تاحد ممکن صحیح کرنا :ابو حنیفہ ا س سلسلے میں کہتے ہیں کہ طفل ممیزکا ایمان صحیح ہے اس بارے میں وہ علی ابن ابیطالب علیہ السلام کے ایمان لانے کو دلیل بناتے ہیں اور کہتے ہیں جس طرح سے رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے طفولیت میں حضرت علی علیہ السلام کے ایمان کو قبول کیا تھا اسی طرح یہ امر دیگر موارد میں بھی صادق آتا ہے ۔

4انسانیت و آزادی کا احترام

ابو حنیفہ نے عورت کو شوہر کے انتخاب میں آزادی دی ہے اور زبردستی شادی کرانےکو غلط اور غیرشرعی قراردیا ہے ۔

5 حکمرانوں کا احترام ۔

ابو حنیفہ کا کہنا ہے کہ اگر کسی نے حاکم وقت کی اجازت کے بغیر کسی زمین کا احیآء کیا ہے تو وہ اس کا مالک نہیں بنتا۔

6 اقسام علم فقہ

ابو حنیفہ کی نظر میں فقہ کی دوقسمیں ہیں ،الف فقہ اکبر جو اعتقادی امور جیسے ایمان،خدا کی صفات کی شناخت ،نبوت و معاد وغیرہ سے عبارت ہے ۔

ب:فقہ اصطلاح جو کہ احکا م شرعی کے علم سے عبارت ہے جسے ادلہ تفصیلیہ سے حاصل کیا گیا ہو مثلا نماز و روزہ و دیگر فقہی احکام وہ کہتے ہیں کہ فقہی احکام کو فقہ اصطلاحی سے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے ۔

نصوص پر عمل کرنے کے سلسلے میں ابو حنیفہ کے اصول وقواعد ۔

ابو حنیفہ محض حدیث کے راوی و حافظ نہیں تھے بلکہ انہوں نے نقل حدیث کے بارے میں کچہ قواعد بھی وضع کۓ ہیں جنہیں بعد میں "ترتیب الادلہ" کے نام سے جانا گیا کہا جاتا ہے کہ ابوحنیفہ راي و قیاس کے قائل تھے اور انہیں امام اھل رائ کہا جاتا ہے لیکن وہ بدعت کا سد باب کرنے کے لۓ راي کو ایسی جگہ استعمال کرتے ہیں جہاں قرآنی آیت اور کوئي حدث نہ ہو یا کئي موارد میں رای کو خبر واحد پر ترجیح دیتے ہیں ۔

خبر واحد ایسی روایت ہے کہ جو حد تواتر تک نہ پہنچی ہو اور اسے کچہ ہی افراد نے نقل کیا ہو اس سلسلے میں ابو حنیفہ نے بعض اصول ذکر کۓ ہیں جو حسب ذیل ہیں ۔

1 معتمد افراد کی مرسلہ احادیث قبول کی جاسکتی ہیں ۔

2 نصوص کی تحقیق کے بعد جو اصول معین کۓ گۓ ہیں ان پر خبر واحد کو پرکھنے کے بعد اگر خبر واحد ان اصولوں کے مخالف ہوتو ابو حنیفہ اپنے اصول وقواعد کے مطابق اس خبر واحد کو شاذ قراردیتے ہیں ۔

3 خبر واحد کو ظواہر قرآن پر تولنے کے بعد اگر آیت قرآن کی مخالف ہوتو آیت کو ارجحیت حاصل ہے ۔

4 حدیث مخالف سنت مشہورنہ ہو خواہ سنت عملی ہویا سنت قولی تاکہ قوی دلیل پر عمل ہوسکے ۔

5 راوی اپنی حدیث کے برخلاف عمل نہ کرے ۔

6 علماء سلف کی جانب سے راوی پر لعن نہ ہوئي ہو ۔

7 حدود وتعزیرات کے باب میں اختلاف کی صورت میں آسان ترین روایات پر عمل کیا جاۓ ۔

8راوی روایت کو حفظ کرنے اور لکھنے کے بعد اسے نقل کرنے تک نسیان و فراموشی کا شکارنہ ہو ۔

 


ماخذ ۔

1 جلوہ ھائي اززندگانی ابوحنیفہ ۔وھبی سلمان غاوجی

2 الخیرات الحسان فی مناقب الام ابی حنیفہ احمد بن محمد ۔ابن حجر ھیثمی ۔

3 چھار امام اہل سنت وجماعت ۔محمد رئوف توکلی

4 فقہ تطبیقی مذاھب پنجگانہ جعفری ،حنفی ،شافعی ،مالکی ،حنبلی ۔ محمد جواد مغنیہ ۔

مختصر تعارف فرقہ بوہرہ

 

ذکی

 

 

خلاصہ :

 

داودی بوہروں کی آبادی کے بارے میں صحیح معلومات نہیں ہیں تاہم ھندوستان میں تقریبا دولاکھہ دس ہزار بوہرے رہتے ہیں بعض تخمینوں کے مطابق عالمی سطح پر بوہروں کی تعداد پانچ لاکھہ بتائي جاتی ہے ،داودی بوہرے ھندوستان ،پاکستان ،یمن ،سری لنکا مشرق بعید اور خلیج فارس کے جنوبی علاقوں میں بستے ہیں ان ملکوں میں داودی بوہروں کی تعداد میں کمی آرہی ہے ۔

متن:

 


عقائد
بوہروں کا امام اوران کے جانشین سب غائب ہیں یہ بوہروں کا اہم ترین اصول عقیدہ ہے اور جو داعی ہیں وہ امام کے حکم سے اس کے جانشین بنتے ہیں ان کی پہلی دینی کتاب قرآن ہے صرف داعی ہی قرآن کے باطن تک رسائي حاصل کرسکتاہے ،حدیث و سنت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ان کے منابع دینی میں شامل ہیں ،بوہرے خداکی وحدانیت پر یقین رکھتے ہیں اور مفہوم خدا نہایت مجرد اور دورازذھن ہے،بوہرے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم الانبیاء اور اپنے داعی کورسول کی صلاحیتوں کا حامل سمجھتے ہیں ۔

دینی فرائض
بوہروں کے نزدیک رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اھل بیت کی مودت و محبت رکن اسلام ہے یہ لوگ قسم میثاق میں جس پر تمام بوہرے متفق ہیں کہتے ہیں کہ " صدق دل سے امام ابوالقاسم امیرالمومنین جوتمہارے امام ہیں پیروی کریں "ان کے فرائض پنجگانہ اس طرح ہیں ،اذان انکی اذان شیعہ اشناعشری کی طرح ہے لیکن وضو کا طریقہ اھل سنت کی طرح ہے ،بوہرے نمازکے دوران ہاتھہ کھلے رکھتے ہیں نمازکے لۓ ان کا لباس مخصوص ہوتا ہے یہ لوگ تین وقت نمازپڑھتے ہیں اور ہر نماز کے اختتام پر رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،حضرت علی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھم اور اپنے اکیس اماموں کا نام لیتے ہیں ۔
بوہرے نمازجمعہ کے قائل نہیں ہیں ان کی دعاؤں کی کتاب کانام "صحیفۃ الصلاۃ "ہے بوہروں کے نزدیک شفاعت کانہایت اہم مقام ہے ۔
زکات ؛ہربوہرے پر زکات واجب ہے ان پر چھہ طرح کی زکاتیں واجب ہیں جو جسب ذیل ہیں ۔
1 زکات صلات ؛اس کی مقدار چار آنہ ہے اور ہرفرد پرواجب ہے
2 زکات فطرہ اس کی مقدار بھی چارآنہ ہے ۔
3 زکات حق النفس یہ زکا ت عروج ارواح اموات ہے جس کی مقدار ایک سو انیس روپیے ہے ۔
4 جق نکاح ؛یہ زکات حق ازدواج کے طور پر اداکی جاتی ہے اس کی مقدار گیارہ روپیے ہے ۔
5 زکات سلامی سیدنا؛یہ داعی مطلق کے لۓ نقدی تحفے ہیں ۔
6 زکات دعوت؛یہ زکات دعوت کے اخراجات پورے کرنے کے لۓ ادا کی جاتی ہے اور تین طرح کی ہے ۔
الف ؛آمدنی پر ٹیکس جو کہ تاجربرادری سے لی جاتی ہے
ب؛خمس جوکہ متوقع آمدنی کا ایک بٹاپانچ حصہ ہوتا ہے جیسے وراثت میں ملنے والے اموال ۔
ج وہ لوگ جو بیماری کی وجہ سے نماز وروزہ ادا نہیں کرسکتے ان پر بھی یہ زکات واجب ہے ۔
7نذر مقام ،امام غائب کی نذر کےلے جوپیسہ رکھاجاتا ہے اسے کہتے ہیں ۔

روزہ
بوہروں کاروزہ تیس دنون کا ماہ رمضان میں ہوتا ہے یہ لوگ ہرمہینے کی پہلی اور آخری تاریخ اور ہر پنچ شنبہ کوبھی روزہ رکھتے ہيں اس کے علاوہ ہرمہینے کے وسطی چہارشنبہ کوبھی روزہ رکھتے ہیں ۔روزے اھل سنت سے چند روزقبل شروع کرکے چند روزپہلے ہی تمام کرتے ہیں ۔

حج وزیارت
بوہروں کے نزدیک استطاعت رکھنے والون پر حج واجب ہے اور اس فریضے کے لۓ ضروری ہےکہ قسم میثاق کھائی جاۓ یہ لوگ مکہ کے علاوہ کربلا کی زیارت کو بھی جاتے ہيں اور کچہ لوگ نجف و قاہرہ بھی جاتے ہيں ھندوستان میں بوہروں کی مشہورزیارتگاہیں احمد آباد ،سورت ،جام نگر،مانڈوی،اجین اور برھانپور میں ہیں ۔
بوہروں کے مشاہد اولیاء میں ان مقامات کانام لیا جاسکتا ہے مقبرہ جندابای بمبئی ،مقبرہ نتابائی ،مقبرہ مولانا وحید بائی ،مقبرہ مولانا نورالدین بمبی ۔
بوہروں کے نزدیک محرم کے تابوتوں اور تعزیوں کے لۓ نذر کرنا شرک ہے لیکن انکے نزدیک اولیاء خدا کے مزارت پرنذر کرنا جائزہے اس علاوہ وہ اور بھی نذورات کے قائل ہیں جیسے معین دنوں میں نذر کاروزہ رکھنا ،بعض دعائيں باربار پڑھنا،کھانا کھلانا ،مذھبی مقامات تعمیرکرنا ،اور وقف کرنا ۔
بوہروں پر عھد اولیآءکی بناپر جھاد واجب ہے اور جھاد ہرزمانے میں جب بھی امام یا داعی ضروری سمجھیں واجب ہے اور اس میں خلوص سے شرکت ضروری ہے ۔

حشرونشر
بوہرے حشرونشر و قیامت کے بارے میں فاطمیوں کے عقائد کے تابع ہیں سعادت کی واحد راہ امام کی پیروی ہے موت کے بعد بھی سعادت کی راہ جاری رہتی ہے یہانتک کہ مومن بوہرہ خدا سےجاملتا ہے اور دونوں ایک ہوجاتے ہیں بنابریں نیک بوہرے کی روح موت کے بعد اس کے نفس سے جوابھی دنیا میں ہے نزدیک ہوتی جاتی ہے اس طرح زندہ شخص کو خیرو شر کا الھام ہوتاہے اور اسی کے ساتھہ ساتھہ اس سے تعلیم بھی حاصل کرتی ہے ۔

خلاصہ :

 

توحيد کا عقيدہ صرف ايک مسلمان کے ذہن اور فکر پر ہي اثر انداز نہيں ہوتا بلکہ يہ عقيدہ اس کے تمام حالات شرائط اور تمام پہلوؤں پر اثر ڈالتا ہے۔ خدا کون ہے؟ کيسا ہے؟ اور اس کي معرفت و شناخت ايک مسلمان کي فردي اور اجتماعي اور زندگي ميں اس کے موقف اختيار کرنے پر کيا اثر ڈالتي ہے؟ ان تمام عقائد کا اثر اور نقش مسلمان کي عملي زندگي ميں مشاہدہ کيا جاسکتا ہے۔توحيد کا مطلب صرف ايک نظريہ اور تصور نہيں ہے بلکہ عملي ميدان ميں” اطاعت ميں توحيد “ اور” عبادت ميں توحيد“ بھي اسي کے جلوہ اور آثار شمار ہوتے ہيں۔ امام حسين عليہ السلام پہلے ہي سے اپني شہادت کا علم رکھتے تھے اور اس کے جزئيات تک کو جانتے تھے۔ پيغمبر نے بھي شہادت حسين عليہ السلام کي پيشينگوئي کي تھي۔ ليکن اس علم اور پيشين گوئي نے امام کے انقلابي قدم ميں کوئي معمولي سا اثر بھي نہيں ڈالا اور ميدان جہادو شہادت ميں قدم رکھنے سے آپ کے قدموں ميں ذرا بھي سستي اور شک و ترديد ايجاد نہيں کيا بلکہ اس کي وجہ سے امام کے شوق شہادت ميں اضافہ کيا

متن:

 

توحيد کا عقيدہ صرف ايک مسلمان کے ذہن اور فکر پر ہي اثر انداز نہيں ہوتا بلکہ يہ عقيدہ اس کے تمام حالات شرائط اور تمام پہلوؤں پر اثر ڈالتا ہے۔ خدا کون ہے؟ کيسا ہے؟ اور اس کي معرفت و شناخت ايک مسلمان کي فردي اور اجتماعي اور زندگي ميں اس کے موقف اختيار کرنے پر کيا اثر ڈالتي ہے؟ ان تمام عقائد کا اثر اور نقش مسلمان کي عملي زندگي ميں مشاہدہ کيا جاسکتا ہے۔

ہر انسان پر لازم ہے کہ اس خدا پر عقيدہ رکھے جو سچا ہے اور سچ بولتا ہے، اپنے دعووں کي مخالفت نہيں کرتا ہے جس کي اطاعت فرض ہے اور جس کي ناراضگي جہنمي ہونے کا موجب بنتي ہے ۔ ہر حال ميں انسان کے لئے حاضرو ناظر ہے، انسان کا چھوٹے سے چھوٹا کام بھي اس کے علم و بصيرت سے پوشيدہ نہيں ہے.... يہ سب عقائد جب ”يقين “ کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہيں تو ايک انسان کي زندگي ميں سب سے زيادہ مؤثر عنصر بن جاتے ہيں۔ توحيد کا مطلب صرف ايک نظريہ اور تصور نہيں ہے بلکہ عملي ميدان ميں” اطاعت ميں توحيد “ اور” عبادت ميں توحيد“ بھي اسي کے جلوہ اور آثار شمار ہوتے ہيں۔ امام حسين عليہ السلام پہلے ہي سے اپني شہادت کا علم رکھتے تھے اور اس کے جزئيات تک کو جانتے تھے۔ پيغمبر نے بھي شہادت حسين عليہ السلام کي پيشينگوئي کي تھي۔ ليکن اس علم اور پيشين گوئي نے امام کے انقلابي قدم ميں کوئي معمولي سا اثر بھي نہيں ڈالا اور ميدان جہادو شہادت ميں قدم رکھنے سے آپ کے قدموں ميں ذرا بھي سستي اور شک و ترديد ايجاد نہيں کيا بلکہ اس کي وجہ سے امام کے شوق شہادت ميں اضافہ کيا،امام اسي ايمان اور اعتقاد کے ساتھ کربلاآئے اور جہاد کيا اور عاشقانہ انداز ميں خدا کے ديدار کے لئے آگے بڑھے، جيسا کہ امام سے منسوب اشعار ميں آيا ہے :
ترکت الخلق طرّا في ہواکا واٴيتمت العيال لکي اراکا

کئي موقعوں پر آپ کے اصحاب اور رشتہ داروں نے خيرخواہي اور دلسوزي کے جذبہ کے تحت آپ کو عراق اور کوفہ جانے سے روکا اور کوفيوں کي بے وفائي اور آپ کے والد اور برادر کي مظلوميت اور تنہائي کو ياد دلايا گرچہ يہ سب چيزيں اپني جگہ ايک معمولي انسان کے دل ميں شک و ترديد ايجاد کرنے کے لئے کافي ہيں ليکن امام حسين عليہ السلام روشن عقيدہ، محکم ايمان اور اپنے اقدام و انتخاب کے خدائي ہونے کے يقين کي وجہ سے نااميدي اور شک پيدا کرنے والے عوامل کے مقابلے ميں کھڑے ہوئے آپ فقاء الٰہي اور مشيت پروردگار کو ہر چيز پر مقدم سمجھتے تھے، جب ابن عباس نے آپ سے درخواست کي کہ عراق جانے کے بجائے کسي دوسري جگہ جائيں اور بني اميہ سے ٹکر نہ ليں تو امام حسين نے بني اميہ کے مقاصد اور ارادوں کي جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمايا: ” اني ماض في امر رسول الله صلي الله عليہ وآلہ وسلم و حيث امرني وانا لله وانا اليہ راجعون“ اور يوں آپ نے رسول الله صلي ا لله عليہ وآلہ وسلم کے فرمودات کي پيروي اور خدا کے جوار رحمت کي طرف بازگشت کي جانب اپنے مصمم ارادہ کا اظہار کيا، اس لئے کہ آپ کو اپنے راستے کي حقانيت اور خدا کے وعدوں کے صحيح ہونے کا يقين تھا۔

” يقين“ دين خدا اور حکم شريعت پر محکم اعتقاد کے ظہور کا نام ہے گوہر يقين جس کے پاس بھي ہو اس کو مصمم اور بے باک بنا ديتا ہے عاشورہ کا دن جلوہ گاہ يقين تھا اپنے راستہ کي حقانيت کا يقين، دشمن کے باطل ہونے کا يقين ،قيامت و حساب کے برحق ہونے کايقين، موت کے حتمي اور خدا سے ملاقات کا يقين، ان تمام چيزوں کے سلسلے ميں امام اور آپ کے اصحاب کے دلوں ميں اعليٰ درجہ کا يقين تھا اور يہي يقين ان کو پايداري، عمل کي کيفيت ،اور راہ کيانتخاب ميں ثابت قدمي کي راہنمائي کرتا تھا۔

کلمہ ”استرجاع“ ( انا لله وانا اليہ راجعون) کسي انسان کے مرنے يا شہيد ہونے کے موقع پر کہنے کے علاوہ امام حسين کي منطق ميں کائنات کي ايک بلند حکمت کو ياد دلانے والا ہے اور وہ حکمت يہ ہے کہ ” کائنات کا آغاز و انجام سب خدا کي طرف سے ہے “ آپ نے کربلا پہونچنے تک بارہا اس کلمہ کو دہرايا تا کہ يہ عقيدہ ارادوں اور عمل ميں سمت و جہت دينے کا سب بنے۔

آپ نے مقام ثعلبيہ پر مسلم اور ہاني کي خبر شہادت سننے کے بعد مکرر ان کلمات کو دوہرايا اور پھر اسي مقام پر خواب ديکھا کہ ايک سوار يہ کہہ کر رہا ہے کہ ” يہ کاروان تيزي کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور موت بھي تيزي کے ساتھ ان کي طرف بڑھ رہي ہے“ جب آپ بيدار ہوئے تو خواب کا ماجرا علي اکبر کو سنايا تو انھوں نے آپ سے پوچھا ” والدگرامي مگر ہم لوگ حق پر نہيں ہيں؟ “ آ پ نے جواب ديا ” قسم اس خدا کي جس کي طرف سب کي بازکشت ہے ہاں ہم حق پر ہيں“ پھر علي اکبر نے کہا ” تب اس حالت ميں موت سے کيا ڈرنا ہے؟ “ آپ نے بھي اپنے بيٹے کے حق ميں دعا کي۔[1]

طول سفر ميں خدا کي طرف بازگشت کے عقيدہ کو بار بار بيان کرنے کا مقصد يہ تھا کہ اپنے ہمراہ اصحاب اور اہل خانہ کو ايک بڑي قرباني وفداکاري کيلئے آمادہ کريں، اس لئے کہ پاک و روشن عقائد کے بغير ايک مجاہد حق کے دفاع ميں آخر تک ثابت قدم اور پايدار نہيں رہ سکتا ہے۔

کربلا والوں کو اپني راہ اور اپنے ہدف کي بھي شناخت تھي اور اس بات کا بھي يقين تھا کہ اس مرحلہ ميں جہاد و شہادت ان کا وظيفہ ہے اور يہي اسلام کے نفع ميں ہے ان کو” خدا“ اور ”آخرت“ کا بھي يقين تھا اور يہي يقين ان کو ايک ايسے ميدان کي طرف لے جارہا تھا جہاں ان کو جان ديني تھي اور قربان ہونا تھا جب وہب بن عبد الله دوسري مرتبہ ميدان کربلا کي طرف نکلے تو اپنے رجز ميں اپنا تعارف کرايا کہ ميں خدا کي پر ايمان لانے والا اور اس پر يقين رکھنے والا ہوں۔[2]

مدد و نصرت ميں توحيد اور فقط خدا پر اعتماد کرنا، عقيدہ کے عمل پر تاثير کا ايک نمونہ ہے اور امام کي تنہا تکيہ گاہ ذاکردگار تھي نہ لوگوں کے خطوط، نہ ان کي حمايت کا اعلان اور نہ ان کي طرف آپ کے حق ميں ديئے جانے والے نعرے، جب سياہ حر نے آپ کے قافلہ کا راستہ روکا تو آپ نے ايک خطبہ کے ضمن ميں اپنے قيام يزيد کي بيعت سے انکار اور کوفيوں کے خطوط کا ذکر کيا اور آخر ميں سے گلہ کرتے ہوئے فرمايا ” ميري تکيہ گاہ خدا ہے اور وہ مجھے تم لوگوں سے بے نياز کرتا ہے ” سيغني الله عنکم“[3] آگے چلتے ہوئے جب عبد الله مشرقي ملاقات کي اور اس نے کوفہ کے حالات بيان کرتے ہوئے فرمايا کہ لوگ آپ کے خلاف جنگ کرنے کے لئے جمع ہوئے ہيں تو آپ نے جواب ميں فرمايا ” حسبي الله ونعم الوکيل“[4]

عاشور کي صبح جب سياہ يزيد نے امام کے خيموں کي طرف حملہ کرنا شروع کيا تو اس وقت بھي آپ کے ہاتھ آسمان کي طرف بلند تھے اور خدا سے مناجات کرتے ہوئے يوں فرمارہے تھے ”خدايا! ہر سختي اور مشکل ميں ميري اميد اور ميري تکيہ گاہ تو ہي ہے، خدايا! جو بھي حادثہ ميرے ساتھ پيش آتا ہے اس ميں ميرا سہارا تو ہي ہوتا ہے، خدايا! کتني سختيوں اور مشکلات ميں تيري درگاہ کي طرف رجوع کيا اور تيري طرف ہاتھ بلند کئے تو تو نے ان مشکلات ک دور کيا“[5]

امام کي يہ حالت اور يہ جذبہ آپ کے قيامت اور نفرت الٰہي پر دلي اعتقاد کا ظاہري جلوہ ہے اور ساتھ ہي دعا و طلب ميں توحيد کے مفہوم کو سمجھاتا ہے۔

ديني تعليمات کا اصلي ہدف بھي لوگوں کو خدا کے نزديک کرتا ہے چنانچہ يہ مطلب شہداء کربلا کے زيارتناموں خاص کر زيارت امام حسين ميں بھي بيان ہوا ہے ۔ اگر زيارت کے آداب کوديکھا جائے توان کا فلسفہ بھي خدا کا تقرب ہي ہے جو کہ عين توحيد ہے امام حسين کي ايک زيارت ميں خدا سے مخاطب ہو کے ہم يوں کہتے ہيں کہ ”خدايا! کوئي انسان کسي مخلوق کي نعمتوں اور ہدايا سے بہرہ مند ہونے کے لئے آمادہ ہوتا ہے اور وسائل تلاش کرتا ہے ليکن خدايا ميري آمادگي اور ميرا سفر تيرے لئے اور تيرے ولي کي زيارت کے لئے ہے اور اس زيارت کے ذريعہ تيري قربت چاہتا ہوں اور انعام وہديہ کي اميد صرف تجھ سے رکھتا ہوں۔[6]

اوراسي زيارت کے آخر ميں زيارت پڑھنے والا کہتا ہے ! خدايا! صرف تو ہي ميرا مقصود سفر ہے اور صرف جو کچھ تيرے پاس ہے اس کو چاہتا ہوں ” فاليک فقدت وما عندک اردت“

يہ سب چيزيں شيعہ عقائد کے توحيدي پہلو کا پتہ دينے والي ہيں جن کي بنا پر معصومين عليہم السلام کے روضوں اور اولياء خدا کي زيارت کو خدا اور خالص توحيد تک پہونچنے کے لئے ايک وسيلہ اور راستہ قرارديا گيا ہے اور حکم خدا کي بنا پر ان کي ياد منانے کي تاکيد کي گئي ہے۔
[1] بحار الانوار،ج/۴۴،ص/۳۶۷
[2] بحار الانوار،ج۴۵،ص/۱۷، مناقب،ج/۴،ص/۱۰۱
[3] موسوعہ کلمات امام حسين،ص/۳۷۷
[4] موسوعہ کلمات امام حسين،ص/۳۷۸
[5] بحار الانوار،ج/۴۵،ص/۴
[6] تہذيب الاحکام، شيخ طوسي،ج/۶،ص/۶۲

متعہ کے موضوع پر ایک مناظرہ

 صادق حسینی الشیرازی

 

خلاصہ :

 

عبداللہ : جب تمام مسلمان متعہ کے حرام ہونے پر اجماع رکھتے ہیں تو آپ شیعہ حضرات اس کو جائز کیوں مانتے ہیں ۔
رضا: عمر خطاب کے قول کے مطابق ’’رسول خدا (ص) اس کو حلال اور جائز سمجھتے تھے ‘‘ہم بھی اس کو جائز مانتے ہیں ۔
عبد اللہ : پیغمبر (ص) نے کیا کہا تھا ۔
رضا : جاحظ ، قرطبی ، سرخسی حنفی ، فخر رازی اور بہت سے دوسرے اہل سنت اماموں نے نقل کیا ہے کہ عمر نے خطبہ میں کہا متعتان کانتا علیٰ عہد رسول اللہ (ص) و انا انہی عنھا و اعاقب علیھا متعۃ الحج و متعۃ النساء رسول (ص) کے زمانہ میں دو متعہ جائز تھے میں انہیں منع کررہا ہوں اور جو اس کا مرتکب ہوا اس کو سزادوں گا ، متعہ حج (۳۸)اور متعہ نسائ(۳۹) ( ازدواج موقت )۔

متن:

 

عبداللہ : جب تمام مسلمان متعہ کے حرام ہونے پر اجماع رکھتے ہیں تو آپ شیعہ حضرات اس کو جائز کیوں مانتے ہیں ۔
رضا: عمر خطاب کے قول کے مطابق ’’رسول خدا (ص) اس کو حلال اور جائز سمجھتے تھے ‘‘ہم بھی اس کو جائز مانتے ہیں ۔
عبد اللہ : پیغمبر (ص) نے کیا کہا تھا ۔
رضا : جاحظ ، قرطبی ، سرخسی حنفی ، فخر رازی اور بہت سے دوسرے اہل سنت اماموں نے نقل کیا ہے کہ عمر نے خطبہ میں کہا متعتان کانتا علیٰ عہد رسول اللہ (ص) و انا انہی عنھا و اعاقب علیھا متعۃ الحج و متعۃ النساء رسول (ص) کے زمانہ میں دو متعہ جائز تھے میں انہیں منع کررہا ہوں اور جو اس کا مرتکب ہوا اس کو سزادوں گا ، متعہ حج (۳۸)اور متعہ نسائ(۳۹) ( ازدواج موقت )۔
تاریخ ابن خلکان میں آیا ہے کہ عمر نے کہا دو متعہ پیغمبر (ص) اور بوبکر کے زمانہ میں جائز تھے اور انھیں منع کرتا ہوں۔(۴۰)
آپ کا اس کے بارے میں کیا نظریہ ہے کیا عمر کا یہ کہنا کہ دومتعہ رسول (ص) کے زمانے میں جائز اور حلال تھے ایک سچی بات ہے یا جھوٹ ہے ۔
عبداللہ: عمر سچ کہہ رہے ہیں ۔
رضا : تو پھر رسول (ص) کے کہنے کو چھوڑ دینا اور عمر کے کہنے کو مان لینے کی کیا وجہ ہے ۔
عبد اللہ: اس بات کی وجہ عمر کا منع کرنا ہے
رضا: تو پھر ( حلال محمد(ص) روز قیامت تک حلال ہے اور حرام محمد (ص) روز قیامت تک حرام ہے (۴۱) ) کا کیا مطلب یہ ایک ایسی بات ہے جس پر تمام علمائے اسلام بغیر کسی استثناء کے متفق ہیں ۔
عبداللہ: ( کچھ فکر کرنے کے بعد ) صحیح کہہ رہے ہیں ، لیکن پھر عمر بن خطاب نے اس کو حرام کیسے کردیا اور انکے پاس اس کے لئے کیا سند تھی ۔
رضا: یہ ان کا پنا اجتہاد تھا اگر چہ ہروہ اجتھاد جو نص کے مقابلہ میں کیا جائے قابل قبول نہیں ہے ۔
عبداللہ : حتی اگر وہ اجتہاد عمر بن خطاب کا ہو ؟!
رضا: اگر اس سے بھی بزرگ کا ہو تب بھی اس پر توجہ نہیں کی جاسکتی آپ کی نظر میں خدااور رسول(ص) کا فرمان پیروی کرنے لائق ہے یا عمر بن خطاب کی بات ؟
عبداللہ : کیا قرآن میں متعہ اور اس کے جائز ہونے کے سلسلہ میں کوئی آیت آئی ہے ؟
رضا: ہاں خداوند عالم فرماتا ہے :فما استمتعتم بہ منھن فأتوھن اجورھن فریضۃ۔۔۔۔ ؛؛؛سورہ نساء ۲۴ ۔ پس جو بھی ان عوتوں سے تمتح(متعہ)کرے ان کی اجرت انھیں بطور فریضہ دیدے ۔۔۔۔)
مرحوم علامہ امینی نے اہل سنت کی کتابوں سے بہت زیادہ مدارک اکٹھا کیے ہیں کہ جن میں سب کے سب اس آیت کی شان نزول کو متعہ کے بارے میں مانتے ہیں اور اسی کو متعہ کے جائز ہونے کی سند قرار دیتے ہیں(۴۲)
عبد اللہ: آج تک اس بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا تھا ۔
رضا: کتاب الغدیر کا مطالعہ کرنے سے آپ دیکھیں گے کہ اس میں وہ تمام باتیں موجود ہیں جو میں نے کہیں اور یہ کہ حلال خدا ورسول(ص) کو صرف عمر کے کہنے سے کیسے کنارہ کردیا جئے ؟ آخر ہم کس کی امت ہیں رسول خدا(ص) کی یا عمر کی ؟
عبد اللہ : ہم تو رسول (ص) کی امت ہیں ، اور عمر کی فضیلت اس لئے ہے کہ وہ رسول کی امت میں سے ہیں ۔
رضا: تو پھر وہ کیا چیز ہے جو تم کو رسول کو کہے پر چلنے سے روکتی ہے ؟
عبد اللہ : متعہ کے حرام ہونے پر مسلمانوں کا اتفاق مجھے ایسا کرنے پر مجبور کرتا ہے ۔
رضا: لیکن یہ مسئلہ مسلمانوں کا مورد اتفاق نہیں ہے ۔
عبداللہ : کس طرح ۔
رضا: جس طرح کہ تم نے ابھی کہا کہ شیعہ متعہ کوجائز سمجھتے ہیں شیعہ مسلمانوں میں تقریبا ً آدھے ہیں جو کہ ایک عرب تک ہیں(۴۳) اب جبکہ شیعوں کی اتنی بڑی جماعت اس کو جائز اور حلال سمجھتی ہے توپھر یہ اتفاق نظر کیسے وجود میں آئیگا ؟ ۔
اس بھی آگے بڑھ کر معصوم اماموں کہ جو رسول کے خاندان سے تھے کہ جن کی مثال پیغمبر(ص) نے کشتی نوح سے دی تھی
’’ مثل اہل بیتی فیکم کمثل سفینۃ نوح ‘‘(۴۴)میرے اہل بیت(ع) کی مثال تمہارے درمیان کشتی نعح کی طرح ہے
اور یہ بھی فرمایا ’’انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ وعتری اہل بیتی ‘‘(۴۵) ۔میں تمہارے دو گرانقدر چیزیں چھوڑیں جارہا ہوں ایک کتاب خدا دوسرے میرے اہل بیت‘‘۔ یہ بزرگان ( اہل بیت جن کی پیروی نجات کا راستے اور اللہ سے قربت حاصل کرنا ہے اور ان سے منھ پھیرنا اور دوسروں کی بات ماننا گمراہی ہے ) متعہ کو جائز سمجھتے تھے اور اس کے منسوخ ہونے کو نہیں مانتے تھے شیعوں نے بھی اس مسئلہ میں ان کی پیروی کی ہے ،امیرالمؤمنین (ع) سے روایت ہے کہ آپ (ع) نے فرمایا’’لولا ان عمر نھی عن المتعۃ ما زنی الاشقی۔ اگر عمر متعہ سے نہ روکتے تو بیشک شقی کے علاوہ کوئی اپنے دامن کو زنا سے آلودہ نہ کرتا۔(۴۶)
حضرت علی (ع) کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ عمر کے متعہ کو روکنے کی وجہ سے لوگ متعہ نہ کرسکے اور چونکہ ہر ایک دائمی بیوی کا خرچ نہیںاٹھا سکتا تو ناچار ہو کر وہ اپنے دامن کو زنا سے آلودہ کرتا ۔
مسلمانوں کے رہبروں کا متعہ کو جائز ماننا اور یہ کہ بہت سے صحابی ،تابعین اور مسلمانوں نے قرآن اور رسول کی اجازت سے استدلال کیا ہے اور عمر کے منع کرنے کو باطل مانا ہے تو پھر یہ کہنا کہاں جائز ہے کہ اس بات میں مسلمانوں پر اجماع ہے اور کس اتفاق نظر کی بات کہی جارہی ہے یہاں پر میں ان لوگوں میں سے کچھ کا ذکر کرتا ہوں جنھوں نے متعہ کو جائز مانا ہے ۔
(۱) عمران بن الحصین کہتے ہیں: متعہ کی آیت قرآن میں آئی ہے اور دوسری آیت نے اس کو منسوخ نہیں کیا ہے ۔ رسول خدا(ص) نے ہم کو اس کی اجازت دی اور ہم نے ان کے ساتھ حج تمتع کیا اور جس وقت انھوں نے وفات کی انھوں نے اس تمتع سے نہیں روکا لیکن اس شخص ( عمر بن خطاب ) نے رسول کی وفات کے بعد اپنی رائے سے جو چاہا کہا (۴۷)
(۲) جابر بن عبداللہ اور ابوسعید خذری ۔ یہ دونوں کہتے ہیں عمر کی خلافت کے درمیانی زمانہ تک ہم متعہ کرتے تھے ،یہاں تک کہ عمر نے عمر وبن حریث کے معاملہ میں اس کو لوگوں کے لئے حرام کردیا ۔
(۳) ابن حزم نے ’’المحلی‘‘میں اور زرقانی نے ’’شرح المؤطا ‘‘میں عبداللہ بن مسعود کو ان لوگوں میں شامل کیا ہے جو متعہ کو جائز مانتے تھے حافظان حدیث نے بھی ان سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا غزوہ میں رسول (ص) کے ساتھ جنگ کررہے تھے اور اپنی بیوی کو اپنے ساتھ نہیں لایا تھا ہم نے رسول (ص) سے کہا اور فرمایا یارسول خدا(ص)
رسول نے ہم کو اس کام سے روکا اور اجازت دی کہ ایک معین مدت تک کے لئے بیوی حاصل کرلیں ( متعہ کرلیں ) پھر یہ آپ آیت پڑھی:
"یا ایھا الذین امنوا لا تُحرموا طیبٰت ما احل اللہ لکم و لا تعتدوا اِنّ اللہ لا یُحب المعتدین" ( سورہ مائدہ آیت ۸۷ )اے ایمان والو جن چیزوں کو خدا نے تمہاتے لیے حلال کیا ہے انھیں حرام نہ بناءو اور حد سے اگے نہ بڑھو کہ خدا تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا(۴۸)
(۴)عبد اللہ بن عمر ۔احمد بن حنبل ( حنبلیوں کے امام ) اپنی سند کے ذریعہ عبداللہ بن نعیم اعرجی سے روایت نقل کی ہے کہ اس نے کہا کہ عبداللہ بن عمر کے پاس تھا ، ایک شخص نے متعہ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا خدا کی قسم رسول (ص) کے زمانہ میں ہم زنا کار نہیں تھے (اپنی احتیاج کو متعہ کے ذریعہ پورا کرلیتے ) (۴۹)۔
(۵) سلمہ بن امیہ بن خلف ابن حزم نے ’’المحلی ‘‘ میں اور زرقانی نے شرح المؤطامیں نقل کیا ہے کہ مسلمہ بن امیہ متعہ کو جائز اور مباح جانتے تھے
(۶) معبدین امیہ بن خلف ،ابن حزم نے ان کو متعہ مباح جاننے والوں میں شمار کیا ہے ۔
(۷) زبیر بن العلوام ، راغب کہتا ہے عبداللہ بن زبیر نے عبداللہ بن عباس کے متعہ کو جائز سمجھنے کی وجہ سے سر زنش کی ابن عباس نے اس سے کہا اپنی ماں سے پوچھو کہ کیسے .................اس نے اپنی ماں سے جاکر سوال کیا اس کی ماں نے جواب دیا تم متعہ کے ذریعہ دنیا میں آئے ہو (۵۰) یہ داستان متعہ کے جائز ہونے پر دلالت کرتی ہے ۔
(۸)خالد بن مہاجربن خالد مخزمی ، وہ ایک شخص کے نزدیک بیٹھا تھا کہ ایک دوسرا آدمی آیا اور متعہ کے بارے میں سوال کیا خالد نے اس کے مباح ہونے کا جواب دیا ۔
ابن ابی عمرہ انصاری نے اس سے کہا ، آہستہ ( اتنی آسانی سے کیوں فتویٰ دے رہے ہو ) خالد نے کہا خدا کی قسم اس کام کو میں نے پرہیز گاروں کے سردار کے زمانہ میں انجام دیا ہے (۵۱)
(۹) عمر بن حریث حافظ عبد اللہ الرزاق نے اپنی کتاب ’’مصنف ‘‘ میں ابن حریح سے نقل کیا ہے کہ ابوالزبیر نے میرے لئے نقل کیا کہ جابر نے کہا کہ عمربن حریث کوفہ آیا ، اور وہں ایک کنیز سے متعہ کیا اس کنیز کو جب وہ حاملہ تھی عمر کے پاس لایا گیا ، عمر نے اس ماجر ہ کو عمر سے پوچھا اس نے بھی تائید کی اسی وجہ سے عمر نے متعہ کو روک دیا (۵۲)
(۱۰) ابن ابی کعب
(۱۱) ربیعہ بن امیہ
(۱۲) سمیر (سمرۃ ) بن جندب
(۱۳) سعید بن جبیر
(۱۴) طاؤس یمانی
(۱۵) عطاابومحمد مدنی
(۱۶) سدی
(۱۷) مجاھد
(۱۸) زفربن اوس مدنی ، اور دوسرے بزرگ صحابہ ، تابعین ، اور بزرگ مسلمانوں نے عمر کے اس فتویٰ واجتہاد کو محکوم کیا ہے ۔
اے عبد اللہ اتنی تفصیل کے ساتھ کہ اب بھی تم متعہ کے حرام ہونے پر مسلمانوں کے اجماع کی بات کرو گے ۔
عبداللہ۔ میں معافی چاہتا ہوں جو کچھ میں نے آپ سے کہا وہ سب میری سنی ہوئی باتیں تھیں اور ان کے صحیح ہونے کے بارے میں کوئی مطالعہ و تحقیق نہیں تھی اب میں اس نتیجہ تک پہونچ ہوں کہ اسی طرح کے سائل میں تحقیق و مطالعہ کروں تاکہ حقائق کو بے جاتعصب مذہبی سے دور ہوکر حاصل کرسکوں اور ان کی حقیقت کو سمجھ سکوں ۔
رضا۔ تو اب آپ مانتے ہیں کہ متعہ جائز و مباح ہے ۔
عبدا للہ ۔ جی ہاں ، اور یہ بھی سمجھتاہوں کہ اس کے منع کرنے والوں صرف اپنی خاہشات پر عمل کیا اور قرآ ن نے جو حکم اس کے جائز ہونے کے لئے دیا ہے اس کو کسی دوسری آیت کے ذریعہ منسوخ نہیں کیا اور اس نتیجہ پر بھی احکام خدا کو نہیں بدل سکتے ، میں ابھی تک تعجب کررہا ہوں کہ کس طرح عمر نے یہ فتویٰ دیا اگر آپ یہ مہربانی کریں کہ مجھے کچھ کتابو ں کے نام بتادیں کہ جو بغیر کسی تہمت کے ان موضوع پر بحث کرتی ہو ۔
رضا ۔ علامہ امینی کی ’’الغدیر ‘‘علامہ شرف الدین کی ’’النص والاجتہاد ‘‘اور ’’الفصول المہمہ ‘‘ اور استاد توفیق الفکیکی کی ’’المتعہ‘‘ایسی کتابیں ہیں جن کا مطالعہ آپ کرسکتے ہیں ، ان کتابوں کو دقت کے ساتھ پڑھو ۔
عبد اللہ ۔ یقینا ایسا ہی کروں گا داور خدا سے آپ کے لئے نیکی چاہوں گا ۔
رضا۔ یہاں پر اہل سنت پر ایک اور اشکال وارد ہوتا ہے کہ جو ان کے عمر کے فتوء کو ماننیکے بارے میں ہے ۔
عبد اللہ ۔ کیا اشکال ہے ۔
رضا ۔عمر نے متعہ زنان اور متعہ حج دونوں سے روکا ہے پھر اہل سنت متعہ حج کو جائز کیوں مانتے ہیں اور متعہ زنان کو حرام کہتے ہیں اگر عمر کا فتویٰ صحیح تھا تو پھر دونوں متعہ حرام ہے اور اگر باطل تھا تو دونوں متعہ جائز ہے ۔
عبداللہ ۔ کیا اہل سنت متعہ حج کو جائز مانتے ہیں ۔
رضا ۔ ہاںاگر آپ ان کی کتابوں کی طرف رجوع کریں تو اس حقیقت کی طرف آگاہ ہوجائیں گے ۔
عبد اللہ ۔ آپ کا بہت بہت شکریہ ۔
سبحان ربک رب العزہ عمایصفون و سلام علی المرسلین والحمد للہ رب العالمین (صافات آیت ۱۸۰۔۱۸۲)

امام مہدی کی ولادت

خلاصہ :

 

امام مہدی کے اہلبیت میں سے ہونے ، ان کے آخری زمانے میں ظہور کرنے اوراس پر مسلمانوں کا اتفاق جان لینے کے بعد ہمیں حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کو ثابت کرنے والی دلیلوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
جب کہ امام مہدی کے نسب سے جو بحث ہم نے کی تھی اس کا نتیجہ بھی واضح ہے کہ بیشک امام مہدی اہل بیت کے بارہ اماموں میں سے بارہویں امام ہیں اورآپ کا سلسلہ نسب یوں ہے محمد بن حسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابو طالب علیھم السلام ۔
آپ باپ کی طرف سے حسینی اورماں کی طرف سے حسنی ہیں کیونکہ امام باقر کی والدہ گرامی امام حسن کی دختر اختر جناب فاطمہ سلام اللہ علیھا تھیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت امام مہدی کی ولادت اوراس کے شرعی ثبوت کے بارے میں بحث کرنا ایک غیر طبیعی بحث ہے مگر بعض تاریخی مغالطوں اورشکوک وشبہات کی وجہ سے جیسا کہ آپ کے چچا جعفر کذاب کا دعوی کرنا کہ میرے بھائی حسن کی کوئی اولاد نہیں تھی ۔

متن:

 


امام مہدی کے اہلبیت میں سے ہونے ، ان کے آخری زمانے میں ظہور کرنے اوراس پر مسلمانوں کا اتفاق جان لینے کے بعد ہمیں حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کو ثابت کرنے والی دلیلوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
جب کہ امام مہدی کے نسب سے جو بحث ہم نے کی تھی اس کا نتیجہ بھی واضح ہے کہ بیشک امام مہدی اہل بیت کے بارہ اماموں میں سے بارہویں امام ہیں اورآپ کا سلسلہ نسب یوں ہے محمد بن حسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابو طالب علیھم السلام ۔
آپ باپ کی طرف سے حسینی اورماں کی طرف سے حسنی ہیں کیونکہ امام باقر کی والدہ گرامی امام حسن کی دختر اختر جناب فاطمہ سلام اللہ علیھا تھیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت امام مہدی کی ولادت اوراس کے شرعی ثبوت کے بارے میں بحث کرنا ایک غیر طبیعی بحث ہے مگر بعض تاریخی مغالطوں اورشکوک وشبہات کی وجہ سے جیسا کہ آپ کے چچا جعفر کذاب کا دعوی کرنا کہ میرے بھائی حسن کی کوئی اولاد نہیں تھی ۔
اورحکومت وقت کا ان کے اس دعوی کو قبول کرتے ہوئے امام حسن عسکری کی وارثت ان کے حوالے کردینا جیسا کہ خود علماء شیعہ اثنی عشری نے لکھا ہے اور اگر غیر شیعہ نے لکھا ہے توانہیں کے طرق سے نقل کیا ہے۔

 

 

 

یہی چیز ایک منصف اورغور وفکر کرنے والے کیلیے کافی ہے کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ شیعہ ایک چیز کو نقل کریں اوراس کے بطلان کو ثابت کیے بغیر اس کے خلاف عقیدہ رکھیں یہ ایسا ہی ہے جیسے شیعہ ان روایات کو نقل کرتے ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ معاویہ ، حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں پیغمبر کے ہاں کسی بھی مقام ومرتبے کا قائل نہیں تھا۔
پس معاویہ کا انکار بھی ثابت ہے اورحضرت علی کا مقام ومرتبہ بھی ثابت ہے اوردونوں کا ثبوت یقین کی حدتک ہے۔
اسی طرح شیعوں کے یہاں جعفر کذاب کا انکار اورحکومت وقت کا ان کے انکار سے مطابق عمل درآمد کرنا ثابت ہے اوراس کے مقابلہ میں حضرت امام مہدی کی ولادت بھی ،اقرار ، مشاہدہ اوربرہان کے ساتھ ثابت ہے۔
لیکن مغرب کے دستر خوانوں پر پلنے والے انہیں شبہات سے استفادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اورانہیں (اصلاح )کے نئے اوررنگارنگ لباس سے سجاتے ہیں ۔
چنانچہ ہمارا دعوی ہے کہ کسی شخص کی ولادت صرف اس کے باپ اوردادا کی گواہی سے ثابت ہوجاتی ہے چاہے اسے کسی نے بھی نہ دیکھا ہومورخین نے اس کی ولادت کا اعتراف کیا ہو۔
علماء نساب نے اس کا نسب بیان کیا ہو اس کے قریبی لوگوں نے اس کے ہاتھ پر معجزات کا مشاہدہ کیا ہو اس سے وصیتیں اور تعلیمات ،نصیحتیں اورارشادات ، خطوط ، دعائیں ، درود ، منا جات منقول ہوں ، مشہور اقوال اورمنقول کلمات صادر ہوئے ہوں ، اس کے وکیل معروف ہوں ،ان کے سفیر معلوم ہوں اورہر عصر ونسل میں لاکھوں لوگ اس کے مدر گار اورپیروکار ہوں۔
مجھے اپنی عمر کی قسم!جو شخص ان شبہات کو ابھارتاہے اورحضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کا انکار کرتا ہے کیا اس سے زیادہ ثبوت چاہتا ہے یا اپنی زبان حال کے ساتھ مہدی کو وہی کہہ رہا ہے جو زبان متعال کے ساتھ مشرکین آپ کے جد امجد پیغمبر کے بارے میں کہتے تھے۔
"وقالو الن نومن لک حتی تفجرلنا من الارض ینبوعاً ، اوتکون لک جنة من نخیل وعنب فتفجر الانھارخلالھا تفجیرا،اوتسقط السماء کمازعمت علینا کسفااو تاتی باللہ والملائکة قبیلاً ، اویکون لک بیت من زخرف اوترقی فی السماء ولن نومن لرقیبک حتی تنزل علینا کتابا نقروہ! قل سبحان ربی ھل کنت الا بشرا رسولا
کفار مکہ نے کہا جب تک تم ہمارے واسطے زمین سے چشمہ جاری نہیں کروگے ہم تم پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یا کھجوروں اورانگوروں کا تمہارا کوئی باغ ہو اس میں تم بیچ بیچ میں نہریں جاری کرکے دکھاویا جیسے تم گمان رکھتے تھے ہم آسمان کو ٹکرے کرکے گراؤ یا خدا اور فرشتوں کو اپنے قول کی تصدیق میں ہمارے سامنے گواہی میں لا کھڑا کرو یا تمہارے رہنے کیلیے کوئی طلائی محل سرا ہو یا تم آسمان پر چڑھ جاو۔
اورجب تک ہم تم پر (خدا کے ہاں سے ایک )کتاب نازل نہ کرو گے ہم اسے خود پڑھ لیں اس وقت تک ہم تمہارے آسمان پر چڑھنے کے بھی قابل نہیں ہو گے (اے رسول )تم کہہ دو کہ میں ایک آدمی (خدا کے)رسول کے سوا اورکیا ہوں (جو یہ بیہودہ باتیں کرتے ہو(اسراء ۱۷:۹۴۔۹۰)
اے اللہ تعالی ! ہمیں اس کی ہدایت کی کوئی امید نہیں جو حق کو پہچان کر باطل سے تمسک کرتا ہے کیونکہ ج سورج کی روشنی میں نہیں دیکھ سکتا وہ چاند کی روشنی میں کیسے دیکھ سکتا ہے ہم توجاہل تک حق کو پہنچانا چاہتے ہیں اورکمزورایمان ک وقوی کرنا چاہتے ہیں ۔

حضرت امام حسن عسکری کا اپنے فرزند حضرت امام مہدی کی ولادت کی خبر دینا۔
اس کی دلیل وہ روایت ہے جو محمد بن یحییٰ عطار نے احمد بن اسحاق سے انہوں نے ابو ہاشم جعفری سے صحیح سند کے ساتھ نقل کی ہے
وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام حسن عسکری سے عرض کیا آپ کی عظمت مجھے آپ سے سوال کرنے سے روکتی ہے پس مجھے آپ سوال کرنے کی اجازت فرمائیں توآپ نے فرمایا:۔
پوچھو !میں نے عرض کیا اے میرے آقا کیا آپ کا کوئی فرزند ہے ؟
آپ نے فرمایا:۔ ہاں
میں نے کہا اگرآپ کو کوئی حادثہ پیش آگیا تواسے کہاں تلاش کریں ؟فرمایا مدینہ میں "(اصول کافی ۲۔۳۲۸:اباب ۷۶)
اورعلی بن محمد کی محمد بن علی بن بلال سے صحیح روایت ہے وہ کہتے ہیں مجھے امام حسن عسکری نے اپنی وفات سے دوسال قبل خط لکھ کر اپنے خلیفہ کی خبر دی پھر اپنی وفات سے تین دن پہلے خط لکھ کر مجھے یہی خبر دی(اصول کافی ۱: ۳۲۹۔۲باب ۷۶)
علی بن محمد سے مراد ثقہ اورفاضل ادیب ابن بندار ہیں اورمحمد بن علی بن بلال کی وثاقت اورعظمت زبان زد خاص وعام ہے اورعلماء رجال کے بقول ابوالقاسم حسین بن روح جیسے افراد آپ کے پاس آتے تھے۔

دایہ کی امام مہدی کی ولادت کے بارے میں گواہی
یہ پاک وپاکیزہ علوی سیدہ امام جواد کی بیٹی ، امام ہادی کی بہن اورحضرت امام عسکری علیہ السلام کی پھوپھی حکیمہ ہیں امام زمانہ کی ولادت کے وقت آپ کی والدہ نرجس خاتون کی دایہ کا کام آپ نے سر انجام دیا تھا (کمال الدین ۲۔۴۲۴،۱ وباب ۴۲شیخ کی الغیبة ۲۰۴۔۲۳۴)
اورولادت کے بعد امام زمانہ کو دیکھنے کی گواہی دی تھی (اصول کافی ۱:۳۳۰، باب ۷۷، کمال الدین ۲:۴۳۳۔۱۴باب ۴۲)اورولادت کے کام میں بعض عورتوں نے آپ کی مدد کی تھی جیسے ابوعلی خیزرانی کی لونڈی جو اس نے امام عسکری کو ہدیة کے طور پر دی تھی جیسا کہ موثق راوی محمد بن یحییٰ کی روایت میں ہے (کمال الدین ۲:۴۲۱۔۷باب ۴۲)اورامام عسکری کی خادمہ ماریہ اورنسیم (کمال الدین ۲:۴۳۰۔۵باب۴۲۔شیخ کی کتاب الغیبة ۲۱۱۔۲۴۴)
مخفی نہ رہے کہ مسلمانوں کے بچوں کی پیدائش کے وقت ماں کا مشاہدہ فقط دایہ کرتی ہے جو اس کا انکارکرتا ہے وہ ثابت کرے کہ اس کی ماں کو دایہ کے علاوہ کے علاوہ بھی کسی نے دیکھا تھا ۔اور پھر امام مہدی کی ولادت کے بعد امام عسکری نے سنت شریفہ کو جاری کرتے ہوئے عقیقہ کیا تھا جیسا کہ سنت محمدیہ کے پابند لوگ بچے کی پیدائش کے وقت کرتے ہیں۔

حضرت امام زمانہ کے لئے دعا ضرور ی ہے

خلاصہ :

 

شرائط و آداب دعا کو بیان کرنے کے بعد:سب سے ضروری اور اہم ترین دعا جس کو غیبت کے زمانہ میں لوگوں کو کرنا چاہئے امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہور کے لئے دعا ہے اس لئے کہ حضرت ہمارے سید وسردار اور ہمارے زمانہ کے مالک ہیں۔.یہی نہیں بلکہ صاحب امر 'ولی اور تمام عالم کے سر پرست ہیں کیا آپ سے غافل ہوا جاسکتا ہے؟ جب کہ آنحضرت ہمارے امام ہیں اور امام سے غفلت یعنی حقیقی بھول اور اصول دین سے غفلت ہے ۔
    لہٰذا ضروری ہے کہ قبل اس کے کہ خود اپنے لئے اور اقرباء وا حباب کے لئے دعا کریں، حضرت(عج)کے لئے دعا کریں ۔

متن:

 

    شرائط و آداب دعا کو بیان کرنے کے بعد:سب سے ضروری اور اہم ترین دعا جس کو غیبت کے زمانہ میں لوگوں کو کرنا چاہئے امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہور کے لئے دعا ہے اس لئے کہ حضرت ہمارے سید وسردار اور ہمارے زمانہ کے مالک ہیں۔.یہی نہیں بلکہ صاحب امر 'ولی اور تمام عالم کے سر پرست ہیں کیا آپ سے غافل ہوا جاسکتا ہے؟ جب کہ آنحضرت ہمارے امام ہیں اور امام سے غفلت یعنی حقیقی بھول اور اصول دین سے غفلت ہے ۔
    لہٰذا ضروری ہے کہ قبل اس کے کہ خود اپنے لئے اور اقرباء وا حباب کے لئے دعا کریں، حضرت(عج)کے لئے دعا کریں ۔
    مرحوم سید بن طاؤس کتاب (جمال الاسبوع )میں تحریر فرماتے ہیں :ہم نے پہلے بیان کیا کہ ماضی میں ہمارے رہنما امام عصر صلوٰت اللہ علیہ کے لئے دعا کے متعلق خاص اہمیت کے قائل تھے اس سے پتہ چلتا ہے آنحضرت (عج) کے لئے دعا اسلام و ایمان کے اہم ترین فرائض میں سے ہے ہم نے ایک روایت نقل کی کہ امام صادق علیہ السلام نماز ظہر کی تعقیب میں کامل ترین دعا امام عصر (عج)کے حق میں کیا کرتے تھے پھر کہیں اپنے لئے کرتے تھے ہم نے گذشتہ مختلف عناوین میںایک باب حضرت بقیت اللہ الاعظم (عج)کے لئے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی دعا سے مخصوص کیا ہے واضح ہے کہ جو اسلام میں ان دو بزرگوں کی حیثیت کو پہچان لے تو ان کی پیروی میں اس کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے گا ۔ (۱)
    لہٰذا اگر مولا کے لئے دعا کے ذریعہ بار گاہ معبود اور زندہ مردہ کے مالک و مختار کے حضور میں جائیں اور دعا کریں تو امید ہے آنحضرت (عج)کی وجہ سے باب اجابت ہمارے لئے کھل جائے اور جو اپنے اور دوسروں کے لئے دعا کرتے ہیںکہ فضل پروردگارہمارے شامل حال ہو اور اس کی رحمت ،کرم اور عنایت ہماری طرف متوجہ ہو جائے، یہ اس لئے ہے کہ ہم نے اپنی دعا میں اس کی رسی کو پکڑرکھا ہے۔
     شاید کہو فلاں ، فلاں ، جو کہ تمہارے اساتذہ میں سے ہیں ان کی پیروی کرتے ہو اور وہ اس قول پر عمل نہیں کرتے۔
    اس کا جواب معلوم ہے اس لئے کہ وہ ہمارے مولا سے غافل ہیں اور ان کے متعلق کوتاہی اور سستی کرتے ہیں ۔
    اس جگہ پر سید بن طاؤوس علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: جو ہم نے تم سے کہا اس پر عمل کرو اس لئے کہ وہ کھلی ہوئی حقیقت ہے اور جو ہمارے مولا کے متعلق سہل انگاری کرے اور سستی دکھائے اور جو بیان کیا اس سے غافل ہو خدا کی قسم وہ ایسے شبہ میںمبتلا ہوا ہے کہ جو ننگ وعار کا سبب ہے ۔
    پھر آپ فرماتے ہیں ائمہ علیہم السلام کی نگاہ میں اس امر کی اہمیت کس طرح پاتے ہیں ؟کیا ابھی تک اس موضوع کے متعلق آپ کا جو رویہ رہا ہے وہ لاپرواہی نہیںتھی ؟
    اس لئے واجب نمازوں میں آنحضرت (عج)کے لئے زیادہ دعا کریں اور اس کے لئے دعا کرنے سے پرہیز نہ کریں جس کے لئے دعا کرنا جائز ہے ۔
    میں پھر عرض کرونگا جو ہم نے بیان کیا اس کی بنا پر آنحضرت (عج)کے ظہور میں تعجیل کے لئے دعا کرنے کو اہمیت نہ دینے کے لئے کوئی عذرہمارے پاس باقی نہیں بچتا ۔ (۲)
    صاحب مکیال المکارم فرماتے ہیں: جیسا کہ آیات وروایات دلالت کرتی ہیں کہ دعا عبادت کی بہت اہم قسم ہے اور اس میں شبہ نہیں ہے کہ سب سے اہم اور باعظمت دعا اس کے لئے ہے کہ جس کے حق کو پروردگار عالم نے سب پر واجب کیاہے ۔
    اور اس کے وجود کی برکت کی بنا پر تمام مخلوقات کو پروردگار عالم کی نعمت پہنچ رہی ہے ، اور جس طرح کوئی شبہ نہیں کہ خدا کے ساتھ مشغول رہنے سے مراد اس کی عبادت میں مشغول رہنا ہے اسی طرح دعا میں استمرار باعث ہوتاہے کہ پروردگارعالم اسے عبادت کی توفیق عطا فرماے اور اسے اپنے اولیاء میں قرار دے ۔
    چنانچہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے مولا حضرت حجت ارواحنا فدا کے لئے دعا میں پابندی 'آنحضرت (عج)کے ظہور میں تعجیل کے لئے پروردگار عالم سے سوال اور اس آخری امام (عج)کے غم و اندوہ کے برطرف کرنے اور نشاط پیدا کرنے کے لئے دعا اس اہم مسئلہ کے فراہم ہونے کا باعث ہے ۔
    لہٰذا اہل ایمان پر لازم ہے کہ اہتمام کریں اور ہر وقت و ہر جگہ آنحضرت (عج)کے ظہور میںتعجیل کے لئے دعا کریں ۔
    جو اس مطلب کے ساتھ مناسب ہے اور ہماری گفتگو کی تائیدکرتی ہے وہ مطلب ہے جسے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے مکاشفہ کی صورت میںیاعالم خواب میں مرحوم آیت اللہ مرزامحمد باقر فقیہ ایمانی سے فرما یا:اپنی تقریروں میں لوگوں سے کہو اور حکم دوتوبہ کریں اور حضرت (عج) کے ظہور میں تعجیل کے لئے دعا کریں آنحضرت (عج)کے آنے کے لئے دعا نماز میت کی طرح نہیں ہے جو واجب کفائی ہو اور کچھ لوگوں کے انجام دے دینے سے دوسروں سے ساقط ہوجائے بلکہ پنجگانہ نماز کی طرح ہے یعنی ہر بالغ و عاقل پر واجب ہے کہ امام زمانہ (عج) کے ظہور کے لئے دعا کرے ۔ (۳)
    جو ہم نے نقل کیا اس کے پیش نظر امام زمانہ (عج)کے لئے دعا کرنا ضروری ہے سب پر واضح ہو گیا۔   
۱)۔جمال الاسبوع ص ۳۰۷
۲)۔فلاح السائل :۴۴
۳)۔ مکیال المکارم ج ۱ص

کربلا پر وہابیوں کا حملہ

 

خلاصہ :

 

    ابتداسے ہی آل سعوداور عراقیوں میں جو اس زمانہ میں عثمانی بادشاہ کے تحت تھے ، لڑائی جھگڑے ہوتے رہتے تھے اور وہابی لوگ عراق کے مختلف شہروں پر حملہ کرتے رہتے تھے، لیکن عراق کے دومشہور شہر نجف اور کربلا پر حملہ ایسا نہیں تھا جو مختلف شہروں پر ہوتا رہتا تھا، بلکہ اس حملہ کا انداز کچھ اور ہی تھا او ر اس حملہ میں مسلمانوں کا قتل عام اور حضرت امام حسین (ع) کے روضہئ مبارک کی توہین کے طریقہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے مذکورہ کاموں کا بنیادی مقصد ان کے مذہبی عقائد تھے اور وہ بھی شدت اور تعصب کے ساتھ، کیونکہ انھوں نے تقریباً دس سال کی مدت میں کئی مرتبہ ان دونوں شہروں پر حملہ کیا ہے۔

متن:

 

 کربلا پر وہابیوں کا حملہ

    ابتداسے ہی آل سعوداور عراقیوں میں جو اس زمانہ میں عثمانی بادشاہ کے تحت تھے ، لڑائی جھگڑے ہوتے رہتے تھے اور وہابی لوگ عراق کے مختلف شہروں پر حملہ کرتے رہتے تھے، لیکن عراق کے دومشہور شہر نجف اور کربلا پر حملہ ایسا نہیں تھا جو مختلف شہروں پر ہوتا رہتا تھا، بلکہ اس حملہ کا انداز کچھ اور ہی تھا او ر اس حملہ میں مسلمانوں کا قتل عام اور حضرت امام حسین (ع) کے روضہئ مبارک کی توہین کے طریقہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے مذکورہ کاموں کا بنیادی مقصد ان کے مذہبی عقائد تھے اور وہ بھی شدت اور تعصب کے ساتھ، کیونکہ انھوں نے تقریباً دس سال کی مدت میں کئی مرتبہ ان دونوں شہروں پر حملہ کیا ہے۔
     ابن تیمیہ اور اس کے مرید اس وجہ سے شیعوں سے مخالفت اور دشمنی رکھتے تھے کہ ان کو قبروں پر حج کرنے والے یا قبروں کی عبادت کرنے والے کہا کرتے تھے اور بغیر کسی تحقیق کے ان کا گمان یہ تھا کہ شیعہ حضرات اپنے بزرگوں کی قبروں کی پرستش کرتے ہیں اور خانہ کعبہ کا حج کرنے کے بجائے قبور کا حج کرتے ہیں، اور اسی طرح کے دوسرے امور بھی ۔
    بہر حال چونکہ یہ دو شہر،( کربلا اور نجف اشرف) شیعوں کے نزدیک خاص اہمیت کے حامل تھے اور ہیں، اس بناپر ان دونوں زیارت گاہوں پر عالی شان ، اور عمدہ گنبدیں بنائی گئی ہیں او ربہت سا نذر کا سامان او ربہت سی چیزیں ان روضوں کے لئے وقف کرتے ہیں اور ہر سال لاکھوں کی تعداد میں دور اور نزدیک سے مومنین کرام زیارت کے لئے جاتے ہیں ، اور جیسا کہ پہلے بھی عرض کرچکے ہیںوہابی لوگ اپنی کم علمی کی وجہ سے بہت سے شبہات او راعتراضات کے شکار تھے جن کی بناپر شیعوں سے بہت زیادہ تعصب رکھتے تھے اور ہمیشہ ایسی چیزوں کی تلاش میں رہتے تھے جن کے ذریعہ اپنے مقصد تک پہنچ سکیں۔
    دائرۃ المعارف اسلامی کی تحریر کے مطابق، ''خزائل نامی شیعہ قبیلہ'' کی طرف سے نجدی قبیلہ پر ہوئی مار پیٹ کو انھوں نے کربلا اور نجف پر حملہ کرنے کا ایک بہانہ بنا لیا۔ (۱)
    کربلا او رنجف پر وہابیوں کے حملے ۱۲۱۶؁ھ میں عبد العزیز کے زمانہ سے شروع ہوچکے تھے جو ۱۲۲۵؁ھ سعود بن عبد العزیز کی حکومت کے زمانہ تک جاری رہے۔ان حملوں کی تفصیل وہابی اور غیر وہابی مؤلفوں نے لکھی ہے اور اس زمانہ کی فارسی کتابوں میں بھی یہ واقعات موجود ہیں، نجف اشرف کے بعض علمائے کرام جو ان حملوں کے خود چشم دید گواہ ہیں اور ان میں سے بعض اپنے شہر کے دفاع میں مشغول تھے انھوں نے ان تمام چیزوں کو اپنی کتابوں میں لکھاہے جن کو خود انھوں نے دیکھا ہے یا دوسروں سے سنا ہے، ہم یہاںپر ان کی کتابوں سے بعض چیزوں کو نقل کرتے ہیں:

• کربلا پر حملہ

    وہابی مؤلف صلاح الدین مختار اس سلسلہ میں کہتا ہے:
    '' ۱۲۱۶؁ھ میں امیر سعود (ابن عبد العزیز) نے اپنی پوری طاقت کے ساتھ نجد اور عشایر کے لوگوں کے ساتھ او راسی طرح جنوب ،حجاز اور تہامہ وغیرہ کے لوگوں کی ہمراہی میں عراق کا رخ کیا اور ذیقعدہ کو شہر کربلا پہنچ کر اس شہر کو گھیر لیا، اور اس لشکر نے شہر کی دیوار کو گرادیا، اور زبردستی شہر میں داخل ہوگئے کافی لوگوں کو گلی کوچوں میں قتل کرڈالا اور ان کے تمام مال ودولت لوٹ لیا، اور ظہر کے وقت تک شہر سے باہر نکل آئے اور '' ماء الابیض '' نامی جگہ پر جمع ہوکر غنیمت کی تقسیم شروع ہوئی اور مال کا پانجواں حصہ (یعنی خمس) سعود نے لے لیا ،باقی مال کو اس طرح اپنے لشکر والوں میں تقسیم کیا کہ پیدل کو ایک اور سوار کو دوحصّے ملے''۔ (۲)
    پھر چند صفحہ بعد لکھتے ہیں کہ امیر عبد العزیز بن محمد بن سعود ایک عظیم لشکر کو اپنے بیٹے سعود کی سرداری میں عراق بھیجا جس نے ذیقعدہ ۱۲۱۶؁ھ میں کربلا پر حملہ کیا۔
    صلاح الدین مختار، ابن بشر (۳) کی باتوں کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ امیر سعود نے اس شہر پر حملہ کیا جس کا شیعوں کی نظر میں احترام کرنا ضروری ہے۔ (۴)
    شیخ عثمان بن بشر نجدی مورخ مذکور واقعہ کی تفصیل اس طرح بیان کرتا ہے کہ ذی قعدہ ۱۲۱۶؁ھ میں سعود بھاری لشکر کے ساتھ جس میں بہت سے شہری اور خانہ بدوش (نجد، جنوب، حجاز اور تہامہ وغیرہ کے) تھے حضرت امام حسین(ع) کی بارگاہ کربلا کا رخ کیا اور شہر کے باہر پہنچ کر پڑاؤ ڈال دیا۔
    مذکورہ لشکر نے شہر کی دیوار کوگرادیااور شہر میں داخل ہوگئے ، شہر میں پہنچنے کے بعد گھروں او ربازاروں میں موجود لوگوں کا قتل عام کردیا، اور حضرت امام حسین (ع) کی گنبد کو بھی گرادیا، اور آپ کی قبر پر موجود ہ صندوق (ضریح) جس پر یاقوت اور دیگر جواہر ات لگے ہوئے تھے اس پر قبضہ کرلیا، اور ان کے تمام مال ودولت، اسلحہ، لباس، فرش، سونا چاندی بہترین اور نفیس قرآن کو مال غنیمت میں لے لیا نیز اس کے علاوہ تمام چیزوں کو غارت کردیا، اور ظہر کے وقت شہر سے باہرنکل گئے، اس حملہ میں وہابیوں نے تقریباً دو ہزار لوگوں کو قتل کیا ۔ (۵)
    شیعوں کے عظیم عالم دین مرحوم علامہ سید جواد عاملی ،نجف اشرف پر وہابیوں کے حملہ کے چشم دید گواہ ہیں، وہ وہابی مذہب کی پیدائش کے ضمن میں اس طرح فرماتے ہیں کہ ۱۲۱۶؁ھ میں حضرت امام حسین (ع) کے روضہئ مبارک کو غارت کردیا چھوٹے بڑوں کو قتل کر ڈالا لوگوں کے مال ودولت کو لوٹ لیا خصوصاً حضرت امام حسین (ع) کے روضہ کی بہت زیادہ توہین و بے حرمتی کی اور اس کومسمار کر ڈالا۔ (۶)
    جن شیعہ مؤلفوں نے کربلا کے قتل عام کی تاریخ ۱۸ ذی الحجہ (عید غدیر) ۱۲۱۶ ؁ھ ق. بیان کی ہے ان میں سے ایک صاحب ''روضات الجنات''بھی ہیں جنھوں نے مولیٰ عبد الصمد ہمدانی حائری کے حالات زندگی کے ضمن میں فرمایاہے: بروز چہار شنبہ ۱۸/ ذی الحجہ (عید غدیر) ۱۲۱۶ ؁ھ ق. کا دن تھا کہ وہابیوں نے مرحوم ہمدانی کو اپنی مکاریوں کے ساتھ گھر سے نکالا اور شہید کردیا۔ (۷)
    لیکن اس واقعہ کی تفصیل ڈاکٹر عبد الجواد کلید دار (جو خود کربلا کے رہنے والے ہیں) اپنی کتاب تاریخ کربلا وحائر حسینی میں ''تاریخِ کربلائے معلی'' ( ص ۲۰، ۲۲ )سے کچھ اس طرح نقل کرتے ہیں :
    '' ۱۲۱۶؁ھ میں وہابی امیر سعود نے اپنے بیس ہزار جنگجو ؤں کا لشکر تیار کیا اور کربلا شہر پر حملہ ور ہوا، اس زمانہ میں کربلا کی زیادہ شہرت اور عظمت تھی ۔ ایرانی ،ترکی اورعرب کے مختلف ممالک سے زائرین آیا کرتے تھے، سعود نے پہلے شہر کو گھیرا اور اس کے بعد شہر میں داخل ہوگیا، دفاع کرنے والوں کا قتل عام کیا، شہر کے اطراف میں خرمے کی لکڑیوں اور اس کے پیچھے مٹی کی دیوار بنی ہوئی تھی جس کو انھوں نے توڑ ڈالا۔
    وہابی لشکر نے ظلم اور بربریت کا ایسا منظر پیش کیا جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا ، یہاںتک کہ کہا یہ جاتا ہے کہ ایک ہی دن میں انھوں نے بیس ہزار لوگوں کا قتل عام کیا۔ (۸)
    اور جب امیر سعود کا جنگی کام ختم ہوگیا تو وہ حرم مطہر کے خزانہ کی طرف متوجہ ہوا، یہ خزانہ بہت سی نفیس اور قیمتی چیزوں سے بھرا ہوا تھا، وہ سب اس نے لوٹ لیا ، کہا یہ جاتا ہے کہ جب ایک خزانہ کے دروازہ کو کھولا تو وہاں پر کثیر تعداد میں سکّے دکھائی دئے اور ایک گوہر درخشان جس میں بیس تلواریں جو سونے سے مزین تھیں اور قیمتی پتھر جڑے ہوئے تھے اسی طرح سونے چاندی کے برتن اور فیروزہ اور الماس کے گرانبہا پتھر تھے ان سب کو لوٹ لیا، اسی طرح چار ہزار کشمیری شال، دوہزار سونے کی تلواریں اور بہت سی بندوقیں اور دیگر اسلحوں کو غارت اور قبضہ میں کرلیا۔
    اس حادثہ کے بعد شہر کربلا کی حالت یہ تھی کہ شاعر لوگ اس کے لئے مرثیہ کہتے تھے، اور جو لوگ اپنی جان بچا کر بھاگ نکلے تھے، شہر میں لوٹ آئے، اور بعض خراب شدہ چیزوں کے ٹھیک کرنے کی کوشش کرنے لگے۔
     ''لونکریک'' نے اپنی تاریخ (چہار قرن از عراق)میں لکھا ہے کہ اس واقعہ کو دیکھ کر اسلامی ممالک میں ایک خوف ووحشت پھیل گئی۔ (۹)
    مذکورہ مؤلف دوسری جگہ پر ''لونکریک'' سے نقل کرتے ہوئے اس طرح لکھتا ہے: وہابیوں کے کربلا سے نزدیک ہونے کی خبر۲/نیسان( جولائی ) ۱۸۰۱؁ء کو شام کے وقت پہنچی اس وقت کربلا کے لوگوں کی کثیرتعداد زیارت کے لئے (عید غدیر کی مناسبت سے) نجف اشرف گئی ہوئی تھی، جو لوگ شہر میں باقی تھے انھوں نے جلدی سے شہر کے دروازے بند کردئے، وہابیوں کی تعداد ۶۰۰ / پیدل اور ۴۰۰ /سوار تھے، چنانچہ شہر سے باہر آکر جمع ہوگئے اور اپنے خیمہ لگادئے او راپنے کھانے پینے کی چیزوں کو تین حصوں میں تقسم کیا اور ''باب المخیم'' نامی محلہ کی طرف سے دیوار توڑ کر ایک گھر میں داخل ہوگئے اوروہاں سے نزدیک کے دروازے پر حملہ کردیا اور پھر شہر میں داخل ہوگئے ۔
    اس موقع پر خوف ودہشت کی وجہ سے لوگوں نے ناگہانی طور پر بھاگنا شروع کردیا، وہابیوں نے حضرت امام حسین (ع) کے روضہ کا رخ کیا ، اور وہاں پر توڑ پھوڑ شروع کردی، اور وہاں پر موجود تمام نفیس اور قیمتی چیزوں کو جن میں سے بعض ایران کے بادشاہوں اور دیگر حکّام نے نذر کے طور پر بھیجی تھی ان تمام چیزوں کو غارت اور قبضہ کرلیا، اسی طرح دیوار کی زینت اور چھت میں لگے سونے کو بھی ویران کرڈالا، قیمتی قالینوں ،قندیلوں اور شمعدانوں وغیرہ کو بھی لوٹ لیا، اور دیواروں میںلگے جواہرات کو بھی نکال لیا۔
    ان کے علاوہ ضریح مبارک کے پاس تقریباً ۵۰ / لوگوں کو اور صحن میں ۵۰۰ / لوگوں کو قتل کردیا، وہ لوگ جس کو بھی پاتے تھے وحشیانہ طریقہ سے قتل کردیا کرتے تھے، یہاں تک کہ بوڑھوں اور بچوں پر بھی کوئی رحم نہیں کرتے ، اس حادثہ میں مرنے والوں کی تعداد بعض لوگوں نے ایک ہزار او ربعض لوگوں نے پانچ ہزار بتائی ہے۔ (۱۰)
    سید عبد الرزاق حسنی صاحب اس سلسلہ میں فرماتے ہیں کہ ۱۲۱۶؁ھ میں وہابیوں کے لشکر نے جس میں ۶۰۰ /اونٹ سوار اور ۴۰۰/ گھوڑے سوار تھے کربلا پر حملہ کردیا اور یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب اکثر لوگ نجف اشرف کی زیارت کے لئے گئے ہوئے تھے۔
    حملہ آوروں نے حضرت امام حسین(ع) اور جناب عباس(ع) کے روضوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا، اور ان دونوں روضوں میں جوکچھ بھی تھا وہ سب غارت کردیا۔ ساری قیمتی چیزیں جیسے قیمتی پتھر ''ساج'' کی لکڑی ، بڑے بڑے آئینے اور جن ہدیوں کو ایران کے وزیروں اور بادشاہوں نے بھیجا تھا ان سب کو لوٹ لیا، اور در ودیوار میں لگے قیمتی پتھروں کو ویران کردیا اور چھت میں لگے سونے کو بھی ننکال لے گئے ۔وہاں پر موجود تمام قیمتی اور نفیس قالینوں ، قندیلوں اور شمعدانوں کو بھی غارت کردیا۔ (۱۱)
    قارئین کرام ! جیسا کہ آپ حضرات نے ملاحظہ کیا کہ مختلف کتابوں نے وہابیوں کی تعداد اور مقتولین کی تعداد میں اختلاف کیا ہے ۔لیکن وہابی مؤلف کی تحریر کے مطابق جس کو ہم نے پہلے ذکر کیا ہے اور دوسرے شواہد کی بناپر وہابیوں کی تعداد بیس ہزار او رمرنے والوں کی تعداد پانچ ہزار سے زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔

• حسینی خزانہ کے بارے میں

    حاج زین العابدین شیروانی صاحب جو تقریباً محمد بن عبد الوہاب کے ہم عصر تھے اور ایک طولانی مدت سے کربلا میں مقیم تھے ۔ کربلا پر وہابیوں کا حملہ ا نھیں کے زمانہ میں رونما ہوا ہے، موصوف اپنی کتاب '' حدائق السیاحہ'' میں وہابیوں کے حملے کی تفصیل اس طرح لکھتے ہیں: ''روضہ امام حسین (ع) کا تمام زر وجواہرات ، قندیلیں ، سونے اور چاندی کے ظروف وغیرہ سب وہ (وہابی) ظالم لوٹ لے گئے اور باقی تمام دوسری چیزیں غارت کردیں، سوائے وہ سامان جو ان کے حملہ سے پہلے پہلے کاظمین پہنچادیا گیا تھا بچ گیا۔
    میر عالم صاحب جو دکھن (ہند وستان) کے نوابوںمیں سے تھے انھوں نے اس واقعہ کے بعد کربلا شہر کے چاروں طرف دیوار بنوائی اور اس کے قلعہ کو گچ (چونے) اور اینٹوں سے مضبوط کرایا ، اسی طرح آقا محمد خان شہریار ایران نے وہابیوں کے حملے سے پہلے حضرت امام حسین (ع) کے روضہ کو بنایا اور اس کے گنبد کو سونے کی اینٹوں سے بنوایا۔ (۱۲)
    وہابیوں کے نجف اشرف پر حملے کے ضمن میں یہ بات بیان کی جائے گی کہ جب نجف کے علماء اور اہم لوگوں کو یہ پتہ چلا کہ وہابی نجف پر بھی حملہ کرنے والے ہیں تو انھوں نے حضرت امیر المومنین(ع) کے خزانہ کو کاظمین پہنچادیا۔
    لیکن حضرت امام حسین (ع) کے خزانہ کو کاظمین لے جانے کے بارے میں صرف جناب شیروانی صاحب نے نقل کیا ہے اس کے علاوہ اگر کسی نے بیان کیا ہو، تومؤلف کی نظروں سے نہیں گزرا، جبکہ تمام لکھنے والوں نے یہی لکھا ہے کہ کربلائے معلی کا سب سامان غارت کردیا گیا،جیسا کہ ہم نے وہابیوں کے کربلا پر حملہ کے ضمن میں اشارہ بھی کیاہے ، اور یہی بات صحیح بھی لگتی ہے کیونکہ ساکنین کربلا کو اس حملہ کے بارے میں کوئی خبر نہیں تھی وہ بالکل بے خبر تھے تو کس طرح وہ سامان کاظمین لے جانا ممکن ہوسکتا ہے۔
     دوسری بات کربلا کے مومنین خصوصاً جوان اور کار آمد لوگ وہابیوں کے حملے سے ایک یا دو دن پہلے ہی عید غدیر کی مناسبت سے نجف اشرف زیارت کے لئے گئے ہوئے تھے ۔ اگر ان لوگوں کو وہابیوں کے اس حملہ کا ذرا بھی احتمال ہوتا تو یہ لوگ اپنے شہر، عورتوں، بچوں او ربوڑھوں کو دشمن کے مقابلے میں چھوڑ کرکبھی نہ جاتے۔
    ظاہر ہے کہ کاظمین اس خزانہ کا منتقل کرنا اسی صورت میں ممکن تھا جب ان کو اس حملہ کی خبر ہوتی یا اس کا احتمال ہوتا۔ (۱۳)

• کربلا ئے معلی پر وہابیوں کا حملہ ، عثمانی مؤلفوں کی نظر میں

    ''شیخ رسول کرکوکلی'' تیرہویں صدی ہجری کی ابتداء کے عثمانی مؤلف نے ۱۱۳۲؁ھ سے ۱۲۳۷؁ھ تک کے عراق ، ایران اور عثمانی واقعات پر مشتمل ایک کتاب اسلامبولی ترکی میں لکھی ہے ، اور موسیٰ کاظم نورس نے مذکورہ کتاب کا عربی میں ترجمہ کیا ہے جو ''دوحۃ الوزرا'' کے نام سے طبع ہوچکی ہے۔
    کتاب''دوحۃ الوزرا'' میں ایسے واقعات موجود ہیں جو خود مؤلف کے زمانہ میں رونما ہوئے، اور شاید بہت سے واقعات کے وہ خود بھی شاہد ہوں، لہٰذا اس کتاب کے واقعات خاص اہمیت کے حامل ہیں۔
    اس کتاب کے تفصیلی اور دقیق مطالب میں عراق پروہابیوں کے حملے بھی ہےں اور بغداد کے والیوں کی طرف سے ہونے والی تدبیروں اور عراق کے حکام کی طرف سے نجد کے علاقہ پر لشکر کشی کرنا بھی موجود ہے لہٰذا ہم یہاں پر کربلائے معلی پر وہابیوں کے حملہ کو اس کتاب سے نقل کرتے ہیں:
    ۱۲۱۴؁ھ میں قبیلہ خزائل اور وہابیوں کے درمیان نجف اشرف میں ہونے والی لڑائی اور اس میں وہابیوں کے تین سو کے قریب قتل ہونے والے افراد کو دےکھتے ہوئے عبد العزیز سعودی بادشاہ نے عراق کے حکام کو ایک خط لکھا کہ جب تک مقتولین کی دیت ادا نہ کی جائے اس وقت تک عراق اور نجد کے درمیان ہونے والی صلح باطل ہے۔ (۱۴)
    سلیمان پاشا والی ئبغداد نے صلح نامہ کو برقرار رکھنے کے لئے عبد العزیز کے پاس ''عبد العزیزبیک شاوی'' (اپنے ایک اہم شخص ) کو بھیجا جو حج کا بھی قصد رکھتا تھا اس کو حکم دیا کہ اعمال حج کے بجالانے کے بعد وہابی امیر کے پاس جائےں اور اس سے صلح نامے کو باطل کرنے سے پرہیز کرنے کے بارے میں گفتگو کریں۔
    عبد العزیز بیک نے والی بغداد کے حکم کے مطابق عمل کیااور سعودی امیر عبد العزیز سے گفتگو کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا، آخر میں عبد العزیز نے یہ پیشکش کی کہ وہابیوں کے خون کے بدلے میں نجد کے عشایر کو ''شامیہ'' (عنّہ اور بصرہ کے درمیان) علاقہ میں اپنے چارپایوں کو چرانے دیا جائے، او راگر ان کو روکا گیا تو پھر صلح نامہ کے پیمان کو توڑنے میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔
    جب عبد العزیز شاوی، عبد العزیز وہابی کو قانع کرنے سے ناامید ہوگئے تو انھوں نے ایک قاصد بغداد کے والی کے پاس بھیجا اور اس کو گفتگو کی تفصیل سے آگاہ کیا اور یہ بھی بتایاکہ وہابی لوگ اپنے مقتولین کا انتقام لینے کی غرض سے عراق کا رخ کرچکے ہیں ۔
    والی بغداد نے وہابیوں کے احتمالی حملہ کی وجہ سے کافی انتظامات کئے ، کئی مہینہ گزر جانے کے بعد بھی وہا بی حملہ کرنے کے لئے نہیں آئے۔
    ۱۲۱۶ ؁ھ میں شہر بغداد میں وباپھیل گئی اور آہستہ آہستہ یہ وبا شہر کے قرب وجوار میں بھی پھیلنے لگی، یہ دیکھ کر شہر کے لوگ بھاگ نکلے، اسی وقت شیخ حمود رئیس قبیلہ منتفق نے والی شہر کو خبر دار کیا کہ سعود بن عبد العزیز اپنے ایک عظیم لشکر کے ساتھ عراق پر حملہ کرنے کے لئے آرہا ہے۔
    بغداد کے والی نے علی پاشا کو حکم دیا کہ وہ وہابیوں کو روک دے اور قتل غارت نہ ہونے دے، علی پاشا ''دورہ'' نامی علاقہ کی طرف چلے تاکہ دوسرے لشکر بھی اس سے ملحق ہوجائیں، راستہ میں بعض عشایر کا لشکر بھی اس سے ملحق ہوگیا۔
     جب علی پاشا اپنے لشکر کو وہابیوں سے مقابلے کے لئے تیار کررہے تھے تو ان کو یہ خبر ملی کہ وہابیوں نے کربلا پر حملہ کردیا ہے اور بہت زیادہ قتل وغارت کیاہے، جس میں تقریباً ایک ہزار لوگوں کو تہہ تیغ کردیا، اس وقت علی پاشا نے محمد بیک شاوی کو وزیر کے پاس بھیجا تاکہ اس کو مذکورہ واقعہ سے خبردار کرے اور یہ خبر پاتے ہی فوراً وہ کربلا کی طرف روانہ ہوگئے تاکہ حملہ آوروں پر کامیابی حاصل کرے اور ان سے اس قتل وغارت کا انتقام لے ، اور شہر کو دشمنوں کے پنجہ سے نجات دلائے، لیکن ابھی علی پاشا شہر حلہ میں ہی پہنچے تھے کہ اس کو خبر ملی کہ وہابی لوگ قتل وغارت کے بعد ''اخیضر'' نامی علاقہ کی طرف چلے گئے ہیں ، یہ سننے کے بعد علی پاشا کچھ وجوہات کی وجہ سے حلّہ میں ہی رہ گئے ، کیونکہ جب انھوں نے یہ خبر سن لی کہ وہابی لشکر کربلا سے نکل چکا ہے تو ان کا کربلا جانا بے فائدہ تھا پھر بھی احتیاط کے طور پر مختصر سے لوگوں کو کربلا بھیج دیا۔
    چنانچہ وہابیوں کے حملہ کے خوف سے نجف اشرف کے خزانہ کو بغداد بھیج دیا اور مذکورہ خزانہ کو حضرت امام موسی کاظم (ع) کے روضہ میں رکھ دیا گیا، مذکورہ خزانہ کو لے جانے والے محمد سعید بیک تھے، اور یہ خبریں نیز وہابیوں کے حملہ کے سلسلہ میں ہوئی تدبیروں کو ایرانی حکومت کے پاس پہنچا دیا گیا۔ (۱۵)

• شہر کربلا پر وہابیوں کی کامیابی کے وجوہات

     وہابیوں نے نجف اشرف پر بھی حملہ کیا او رنجف کو فتح کرنے کی بہت کوششیں کی لیکن وہ لوگ اپنے اس مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے، لیکن کربلا شہر میں انھوں نے جو کچھ کرنا چاہا وہ با آسانی کرڈالا، مؤلف کی نظر میں اس کی کچھ وجوہات ہیں جن کو چند چیزوں میں خلاصہ کیا جاسکتا ہے:
    ۱۔ سلیمان پاشا والی بغداد ا ور عثمانی بادشاہ کی طرف سے معین شدہ کربلا کے حاکم عمر آقا نے شہر کی حفاظت کے لئے کوئی خاص کام انجام نہیں دیا، بلکہ کچھ بھی نہ کیا ، اسی وجہ سے سلیمان پاشا نے اس سے مواخذہ کیا، اور سرانجام اس کو قتل کردیا گیا۔ (۱۶)
    ۲۔ شہر کربلا کی دیوار اور اس کا برج زیادہ مضبوط نہیں تھا اور اس کے علاوہ اس کی حفاظت کرنے والوں کی تعداد بھی بہت کم تھی۔ (۱۷)
    ۳۔ سب سے اہم وجہ یہ تھی کہ اکثر مرد او رجوان عید غدیر کی مناسبت سے نجف اشرف زیارت کے لئے گئے ہوئے تھے ۔شہر کا دفاع کرنے والا کوئی نہیں تھا دشمنوں کے مقابلہ میں فقط عورتیں بچے اور بوڑھے باقی رہ گئے تھے، جو کچھ نہیں کرسکتے تھے۔
    ۴۔ صاحب مفتاح الکرامۃ کے قول کے مطابق جس وقت وہابیوں نے شہر کربلا پر حملہ کیا بعض شیعہ قبیلوں میں اختلاف پایا جاتا تھا جیسے قبیلہ خزاعل وآل بعیج اور آل جشعم وغیرہ میں شدید اختلاف تھا اور آپس میں چھوٹے موٹے واقعات ہوتے رہتے تھے۔ (۱۸) جس کی بناپر ان میں وہابیوں سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں تھی۔
    ہم دیکھتے ہیں کہ انھیں وہابیوں نے جب دوسرے شہروں پر حملہ کرنا چاہا تو لاکھ کوشش کی لیکن پھر بھی کسی شہر میں داخل نہ ہوسکے کیونکہ وہاں پر یہ سب وجوہات نہیں تھیں ۔

• وہابیوں کا کربلا پر دوسرا حملہ

    وہابیوں نے تقریباً بارہ سال تک کربلا اور قرب وجوار کے علاقوں پر موقع موقع سے حملہ کیا ہے او رلوگوں کا قتل عام کیا نیز وہاں پر موجود مال و دولت غارت کی ہے جن میں سے سب سے پہلا حملہ ۱۲۱۶؁ ھ کا تھا جس کی تفصیل گزر چکی ۔
    صلاح الدین مختار، ان حملوں میں سے ایک حملہ کے بارے میں اس طرح بیان کرتے ہیں : '' ماہ جمادی الاوّل ۱۲۲۳؁ھ میں امیر سعود بن عبد العزیز نے دوبارہ اپنے عظیم لشکر کے ساتھ عراق کا رخ کیا جس میں بہت سے علاقے مثلاً نجد، حجاز، احسا، حبوب، وادی دواسر، بیشہ، رینہ، طائف اور تہامہ کے افراد شامل تھے، وہ سب سے پہلے کربلا پہنچا اس وقت کربلا شہر کی باہر کی دیوار او ربرجِ مستحکم ہوچکی تھی ،کیونکہ کربلا پر ہوئے پہلے حملہ نے اہل کربلا کو اپنے دفاع کی خاطر شہر کی دیوار کو مضبوط اور مستحکم بنانے پر مجبور کردیا۔
    وہابیوں کے لشکر نے شہر پر گولیاں چلائیں لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلا، اور چونکہ اہل شہر نے ایسے وقت کے لئے اپنے دفاع کی بہت سی چیزوں کو جمع کر رکھا تھا لہٰذا انھوں نے اپنے شہر کا دفاع کیا ، امیر نے یہ دیکھ کر اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اپنے ساتھ لائی ہوئی سیڑھیوں کا استعمال کریں چنانچہ انھوں نے سیڑھیاں لگا کر دیوار پر چڑھنا شروع کیا۔
وہابی لشکر کربلا میں داخل ہونا ہی چاہتا تھا لیکن اس طرف سے اہل کربلا اپنے دفاع میں لگے ہوئے تھے، انھوں نے ان پر حملہ کیا ، جس کی وجہ سے وہ لوگ کربلا پر حملہ کی فکر چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ (۱۹)
    ابن بشر نے (گویا صلاح الدین مختار نے اس واقعہ کی تفصیل انھیں سے نقل کی ہے) مذکورہ واقعہ کو ۱۲۲۲؁ھ میں نقل کیا ہے اور اس طرح کہتے ہیں کہ گولیوں سے حملہ کی وجہ سے بہت سے (سپاہ سعود کے) سپاہی قتل ہوئے اور جب سعود نے دیکھا کہ کربلا شہر کی دیوار مضبوط اور مستحکم بنی ہوئی ہے اس نے ان کو کربلا پر حملہ کرنے سے روکا اور عراق کے دوسرے علاقوں کا رخ کیا ۔ (۲۰)
    مرحوم علامہ سید محمد جواد عاملی صاحب نے بھی مفتاح الکرامہ کی ساتویں جلد کے آخر میں اس طرح بیان کیا ہے کہ یہ کتاب رمضان المبارک ۱۲۲۵؁ھ کی نویں تاریخ کی آدھی رات میں ختم ہوئی جبکہ ہمارا دل بہت پریشان تھا کیونکہ ''عُنَیْزَہ'' کے عربوں نے جو وہابی خارجیوں کے عقائد سے متاثر تھے ، نجف اشرف کے اطراف اور قرب وجوار نیز حضرت امام حسین(ع) کے روضہ پر حملہ کیا اور وہاں پر قتل وغارت کا کھیل کھیلا، اس وقت کے مقتولین کی تعداد ۱۵۰ / افراد بتائی جاتی ہے اگرچہ بعض لوگ اس تعداد کو اس سے بھی کم بتاتے ہیں۔ (۲۱)
    ''عبد اللہ فیلبی'' صاحب کہتے ہیں کہ کربلا پر وہابیوں کے اس حملہ نے شیعوں کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں کو تعجب اور حیرانی میں ڈال دیا ، لیکن اس حملہ کے انتقام میں ایک بہترین محاذبن گیا جس کی بنا پر سعودی حکومت کو کافی نقصان اٹھانا پڑا۔ (۲۲)

• وہابیوں کے کربلا پر حملے کاذکر ایرانی کتابوں میں

    بعض ان ایرانی علماء نے اس حادثہ کو اپنی کتابوں میں لکھا ہے جو وہابیوں کے حملہ کے وقت یا اس کے نزدیک زندگی بسر کرتے تھے ،یہاںان کی بعض تحریروں کو ہوبہو یا خلاصہ کے طور پر نقل کرنا زیادہ مناسب ہے۔ (۲۳)
    (مؤلف کی اطلاع کے مطابق) ایرانی مؤلفوں میں سب سے قدیمی کتاب جس میں اس حادثہ کے بارے میں تحریر ہے وہ میرزا ابو طالب اصفہانی کی کتاب ہے ، موصوف وہابیوں کے کربلا میں قتل عام کے گیارہ ماہ کے بعد کربلا پہنچے ہیں ، او رجس وقت وہاں پہنچے ہیں صرف یہی واقعہ زبانزد خاص وعام تھا چنانچہ موصوف اس سلسلہ میں یوں رقمطراز ہیں:
    '' ۱۸ ذی الحجہ (عید غدیر) کو کربلا کے اکثر اور معتبر افراد نجف اشرف میں حضرت امیر المومنین علی (ع) کی مخصوص زیارت کے لئے گئے ہوئے تھے ، ادھر ۲۵۰۰۰ کا وہابی لشکر (عربی گھوڑوں اور بہترین اونٹوں پر سوار) شہر کربلا میں داخل ہوا ، جس میں سے بعض لوگ زائرین کے لباس میں پہلے ہی سے شہر میں داخل ہوچکے تھے اور شہر کا حاکم عمر آقا ان کے ساتھ ملا ہوا تھا(یعنی ان سے سانٹھ گانٹھ کئے ہوئے تھا ''یہ بات حاشیہ سے نقل ہوئی ہے'') جس کی وجہ سے وہابی لوگ پہلے ہی حملے میں شہر میں داخل ہوگئے اور یہ نعرے بلند کئے، ''اقتلوا المشرکین'' و '' اذبحوا الکافرین''، یہ سن کر عمر آقا ایک دیہات کی طرف بھاگ نکلا ، لیکن بعد میں اپنی کوتاہیوں کی بناپر سلیمان پاشا کے ہاتھوں قتل کیا گیا۔
    وہ لوگ قتل وغارت کے بعد گنبد کی سونے کی اینٹوں کو اکھاڑنا چاہتے تھے لیکن چونکہ یہ اینٹیں بہت مضبوطی سے لگائی گئی تھیں، لہٰذا جب ان کو اکھاڑ نہ سکے تو گنبد کے اندر کا حصہ کلہاڑیوںوغیرہ سے توڑ ڈالا اور عصر کے وقت بے خوف وخطر اپنے وطن کو لوٹ گئے، تقریباً پانچ ہزار لوگوں کو قتل کیا او ر زخمیوں کی تعداد تو بے شمار تھی منجملہ میرزا حسن ایرانی شاہزادہ، میرزا محمد طبیب لکھنوی وعلی نقی لاہوری اور ان کے ساتھ میرزا قنبر علی وکنیز وغلام وغیرہ،اور حضرت امام حسین (ع) کے روضہ مبارک اور شہر کا جتنا بھی قیمتی سامان تھا سب غارت کردیا۔
     اس قتل وغارت میں حضرت امام حسین (ع) کے صحن میں مقتولین کا خون بہہ رہا تھا اور صحن مبارک کے تمام حجرے مقتولین کی لاشوں سے بھرے پڑے تھے ، حضرت عباس (ع) کے روضہ اور گنبد کے علاوہ، اور کسی کو بھی اس حادثہ سے نجات نہیں ملی ، اس حادثہ کی وجہ سے لوگوں میں اس قدر خوف ووحشت تھی کہ میں اس حادثہ کے گیارہ مہینہ بعد کربلائے معلی گیا ہوں لیکن پھر بھی اس حادثہ میں اتنی تازگی تھی کہ صرف یہی حادثہ لوگوں کی زبان پر تھا، اور جو لوگ اس حادثہ کو بیان کرتے تھے وہ حادثہ کو بیان کرتے کرتے رونے لگتے تھے اور اس حادثہ کی وہ درد بھری داستان تھی کہ سننے والوں کا بھی رُواں کھڑا ہوجاتا تھا۔
لیکن اس حادثہ کے مقتولین کو بڑی بے غیرتی سے قتل کیا گیا تھا بلکہ جس طرح گوسفند کاہاتھ پیر باندھنے کے بعد بے رحم قصّاب کے حوالے کردیاجاتا ہے اس طرح سے ان لوگوں کو ذبح کیا گیا۔
    اور جس وقت وہابی لشکر شہر سے باہر نکل گیا اس وقت اطراف کے اعراب نے ان کے پلٹنے کا شور مچایا اور جب شہر کے لوگ دفاع کے لئے شہر سے باہر باغات کی طرف پہونچے تو خود وہ اعراب گروہ گروہ کرکے شہر میں داخل ہوئے اور وہابیوںسے بچا ہوا تمام سامان غارت کردیا، اس طرح شب وروز لوٹ مار ہوتی رہی، اور اس وقت جو شخص بھی شہر میں داخل ہوتا تھا وہ قتل ہوجاتا تھا، اور جب ہم نے وہابی مذہب کے اصول وفروع اور اس کے ایجاد کرنے والے کا حسب ونسب معلوم کیا تو کسی نے نہیں بتایا، کیونکہ اس شہر کے رہنے والے افراد عثمانی بادشاہوں کے تحت تاثیر اور نسبتاً کم عقلی کی وجہ سے ان کے بارے میں نہیں جانتے تھے اور اس کے معلوم کرنے کی ضرورت بھی نہیں سمجھتے تھے۔ (۲۴)
     سید عبد اللطیف شوشتری نے کتاب ''تحفۃ المعالم'' میں شہر کربلا پر وہابیوں کے حملے کا ذکر کیا ہے اور وہابیوں کے بعض عقائد کو لکھا ہے جس کو ہم نے باب پنجم میں ذکر کیا ہے ، یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ مذکورہ کتاب ''تحفۃ المعالم'' ۱۲۱۶؁ھ کی تالیف ہے یعنی جس سال کربلائے معلی پر وہابیوں کا حملہ ہوا ہے اور اس کتاب کا ضمیمہ دوسال بعد بنام ''ذیل التحفۃ'' کے نام سے لکھا گیا ہے۔
     مرحوم میرزائے قمی کا وہ خط جس میں وہابیوں کے بارے میں ان کے کربلا کے حملہ کے ضمن میں ذکر ہوا ہے جس کو ہم نے عبد الرزاق دنبلی کی تفصیل کے ساتھ باب پنجم میں بیان کیا ہے۔
    اس سلسلہ میں رضا خان ہدایت صاحب یوں رقمطراز ہیں کہ ۱۲۱۶؁ھ کے آخری حصے میں ۱۸ ذی الحجہ عید غدیر صبح کے وقت سعود اور اس کے لشکر نے حضرت امام حسین (ع) ے روضہئ مبارک پر حملہ کردیا اور بے خبری کے عالم میں شہر پر قبضہ کرلیا ، اس وقت شہر کے بہت سے افراد زیارت امام علی ؑکے لئے نجف اشرف گئے ہوئے تھے اور صرف کمزور او ربوڑھے زاہد و عابد حضرات موجود تھے وہ لوگ روضہ امام حسین (ع) میں نماز اور عبادت میں مشغول تھے وہابیوں نے تجّار اور حرم میں ساکن افرادکے کئی لاکھ تومان غارت کردلئے اور بہت زیادہ کفر اور الحاد کا مظاہرہ کیا او رتقریباً چھ گھنٹوں میں سات ہزار علماء او رمحققین کو قتل کرڈالا، اور عورتوں اور بچوں اور بوڑھوں پر وہ ظلم کیا کہ ان کے خون سے سیلاب جاری تھا ، حق پرست اور متقی لوگ جو حضرت امام حسین (ع) کے ساتھ رہکر شہادت کے درجہ پر فائز ہونا چاہتے تھے لیکن اس زمانہ میں نہیں تھے انھیں حضرت کی بارگاہ میں جام شہادت مل گیا اور شہدائے کربلا کے ساتھ ملحق ہوگئے۔ (۲۵)
    ''میرزا محمد تقی سپہر ''رقمطراز ہیں : ''عبد العزیز نے جس وقت نجف اشرف کا رخ کیا اور حضرت کے روضہئ مبارک پر حملہ کرنا چاہا او رنجف اشرف کے گنبد کو گرانا چاہا اور وہاں پر زیارت کرنے والوں کو جنھیں وہ اپنے خیال میں بت پرست جانتا تھا ان سب کو قتل کرنا چاہا تو اس نے سعود کی سرداری میں ایک لشکر تیار کیا اور نجف کی طرف روانہ کیا اس لشکر نے نجف اشرف کا محاصرہ کرلیا، قلعہ پر کئی حملے بھی کئے لیکن کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ، مجبوراً اس نے واپسی کا ارادہ کیا اور وہاں سے کربلا ئے معلی کا رخ کیا بارہ ہزار کے لشکر کے ساتھ طوفان کی طرح کربلائے معلی پر حملہ کردیا وہ دن عید غدیر کا دن تھا۔
    شہر میں داخل ہونے کے بعد انھوں نے پانچ ہزار لوگوں کا خون بہایا حضرت امام حسین ؑ کی ضریح مقدس کو بھی توڑ ڈالا، وہاں موجود قیمتی سامان جومختلف ممالک کے شیعوں کے ذریعہ بطور نذر وہاں آیا تھا سب غارت کردیا بہترین قندیلوں کو توڑ ڈالا سونے کی اینٹوں کو حرم مطہر کے دالان سے نکال لیا حرم مطہر میں ہر ممکن توڑ پھوڑ کی، اور چھ گھنٹے کی اس قتل وغارت کے بعد شہر سے باہر نکل گئے اورنفیس اور قیمتی سامان کو اپنے اونٹوں پر لاد کر درعیہ شہر کی طرف نکل گئے۔ (۲۶)
    قارئین کرام ! جناب سپہر صاحب کی یہ عبارت دوسرے مؤلفوں سے فرق کرتی ہے، اسلئے کہ وہابیوں نے پہلے کربلا ئے معلی پر حملہ کیا اس کے بعد نجف اشرف پر حملہ کیا ہے مگر یہ احتمال دیا جائے کہ ان کی مراد قبیلہ خزاعل کے ذریعہ دفع شدہ حملہ ہو ۔
۱)۔ دائرۃ المعارف اسلامی جلد اول ص ۱۹۲، مذکورہ شیعہ قبیلہ کا واقعہ نجف کے حملہ کے تحت بیان ہوگا وہابیوں کے کربلا پر حملہ کرنے سے اس واقعہ کا کوئی خاص ربط نہیں ہے ، یہ بات معلوم رہے کہ ۱۲۱۴؁ھ میں وہابیوں نے نجف پر حملہ کیا تھا لیکن خزائل نامی قبیلہ نے ان کا مقابلہ کیا اور وہابیوں کے تین سو افراد کو قتل کرڈالا تھا۔ (دوحۃ الوزرا، ص۲۱۲)
۲)۔ تاریخ المملکۃ العربیۃ السعودیہ جلد اول ص ۷۳.
۳)۔ تیرہویں صدی ہجری کے وہابی مورخ ومؤلف .
۴)۔ تاریخ المملکہ العربیۃ السعودیہ جلد اول ص ۷۷، ۷۸.
۵)۔ عنوان المجد فی تاریخ نجد جلد اول ص ۱۲۱، ۱۲۲.
۶)۔ مفتاح الکرامۃ ، خاتمہئ جلد پنجم ص ۵۱۲، طبع مصر.
۷)۔ روضات الجنات ج۴ ص ۱۹۸.
۸)۔ کتاب ''نزہۃ الغری'' کے مؤلف شیخ خضر ثانی سے نقل کرتے ہیں کہ وہابیوں نے حبیب ابن مظاہر کی قبر کی ضریح جو لکڑی سے بنی ہوئی تھی توڑ کر اس میں آگ لگادی، اور اس سے حرم مطہر کے قبلہ کی طرف دالان میں قہوہ (چائے) بنایا، اس کے بعد حضرت امام حسینں کی قبر کی ضریح کو بھی توڑنا چاہتے تھے لیکن چونکہ اس میں لوہا لگا ہوا تھا جس کی بناپر اس کو نہ توڑ سکے.(ص۵۲)
۹)۔ تاریخ کربلا وحائر حسین ص ۱۷۴.
۱۰)۔ تاریخ کربلا وحائر حسین ص ۱۷۲.
۱۱)۔ العراق قدیماً وحدیثاً ص ۱۲۷.
۱۲)۔ حدائق السیاحہ ص ۴۲۷.
۱۳)۔ حضرت امام حسین ں کے خزانہ کے غارت ہونے پر دوسری دلیل یہ ہے کہ شیخ خضر نے بہت سی ان چیزوں کو وہابیوں کے پاس دیکھا ہے جو غارت کرنے کربلا میں آئے تھے ، جیسے ایک بڑا قرآن بہت خوبصورت تحریر میںجس پر سونے سے جدول بنے ہوئے تھے، اور حضرت امام حسین ؑ کے خزانہ سے متعلق ہیرے وجواہرات سے مزین تلواریںوغیرہ بھی تھیں.(نزہۃ الغریٰ ص۵۲)
۱۴)۔ ۱۲۱۳ھ میں علی پاشا والی بغدادکے حکم سے نجد پر حملہ کیا گیا اور اس کے بعد ہوئے واقعات کو دوحۃ الوزرا میں تفصیل کے ساتھ نقل کیا گیا ہے (ص ۲۰۴ سے) اس کے بعد علی پاشا اور سعود بن عبد العزیز کے درمیان ایک صلح ہوئی جس میں ایک بات یہ تھی کہ عراق سے جانے والے حجاج کو وہابی حضرات کچھ نہ کہیں اور دوسری بات یہ تھی کہ عراق پر حملہ کرنے سے باز رہیں، چنانچہ عبد العزیز نے اپنے خط میں اسی صلح کی طرف اشارہ کیا ہے.
۱۵)۔ دوحۃ الوزرا ، ص ۲۱۳ سے ۲۱۷ تک کا خلاصہ.
۱۶)۔ میرزا ابو طالب اپنے سفر نامے میں(جس کے بعض حصہ کو بعد میں ذکرکیا جائے گا) اس طرح لکھتے ہیںکہ عمر آقا کربلا کا حاکم وہابیوں کا ہم زبان او رہم قول تھا جب وہابیوں نے حملہ شروع کیا اور یہ نعرہ ''اقتلوا المشرکین'' و''اذبحوا الکافرین'' بلند کیا اس وقت عمر آقا ایک دیہات میں جا چھپا ، اور آخر کار سلیمان پاشا کے ہاتھوں قتل ہوا۔ (ص۴۰۸)
۱۷)۔ میرزا ابو طالب صاحب وہابیوں کے حملہ کے گیارہ مہینہ بعد کربلا پہنچے ،وہ فرماتے ہیں کہ شہر کربلا کی دیوار مٹی کی تھی جس کا عرض بھی کم تھا اور مضبوط بھی نہیں تھی جس کی بناپر وہابی لوگ اس کو گراکر شہر میں داخل ہوگئے تھے۔ (سفر نامہ ص ۴۰۸)
۱۸)۔ مفتا ح الکرامۃ جلد ۷ ص ۶۵۳، گزشتہ چار وجوہات کے علاوہ ایک دوسری وجہ یہ بھی بیان کی جاسکتی ہے کہ بغداد اور اس کے قرب وجوار میں طاعون کی بیماری پھیل چکی تھی ، (دوحۃ الوزرا ص ۲۱۶) جس کی بنا پر شہر کے ذمہ دار افراد اپنی جان بچانے کی فکر میں تھے لہٰذا وہ شہر کربلا سے دفاع نہ کرسکے.
۱۹)۔ تاریخ المملکۃ العربیۃ السعودیہ جلد اول ص ۹۷، ۹۸.
۲۰)۔ عنوان المجد جلد اول ص ۱۴۲.
۲۱)۔ مفتاح الکرامۃ ج ۷ ص ۶۵۳.
۲۲)۔ تاریخ نجد ص ۹۹.
۲۳)۔ ان تحریروں میں اگرچہ بعض غلطیاں بھی ہیں لیکن اس کے ساتھ بہت سے دقیق اور باریک نکات بھی ملتے ہیں.
۲۴)۔ مسیر طالبی ص ۴۰۸، ۴۰۹.
۲۵)۔ روضۃ الصفائ، ناصری ج ۹ ص ۳۸۱.
۲۶)۔ ناسخ التواریخ جلد اول ص ۱۱۹، ۱۲۰.

خلاصہ :

 

علامہ شیخ عباس قمی علیہ الرحمہ نے دور ِ غیبت ِامام میں آٹھ طرح کے فرائض کا تذکرہ کیا ہے جو احساس غیبت امام اور امام کی حقیقت کے واضح کرنے کے بہترین وسائل ہیں اور جن کے بغیر نہ ایمان بالغیب مکمل ہو سکتا ہے اور نہ انسان کو منتظرین امام زمانہ میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ ان آٹھ فرائض کی مختصر تفصیل یہاں ذکر ہے

متن:

 

فرائض دور ِ غیبت


علامہ شیخ عباس قمی علیہ الرحمہ نے دور ِ غیبت ِامام میں آٹھ طرح کے فرائض کا تذکرہ کیا ہے جو احساس غیبت امام اور امام کی حقیقت کے واضح کرنے کے بہترین وسائل ہیں اور جن کے بغیر نہ ایمان بالغیب مکمل ہو سکتا ہے اور نہ انسان کو منتظرین امام زمانہ میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ ان آٹھ فرائض کی مختصر تفصیل یہ ہے:

۱۔ محزون و رنجیدہ رہنا: ۔ حقیقت امر یہ ہے کہ انسان کو غیبت ِ امام کی حقیقت اور اس سے پیدا ہونے والے نقصانات کا اندازہ ہو جائے تو اس کی زندگی سے مسرت و ابتہاج ناپید ہو جائے۔
زمانہ کے بدترین حالات، اہل زمانہ کے بے پناہ ظلم و ستم، نظام اسلامی کی بربادی، تعلیمات الٰہیہ کا استہزاء اور اس طرح کے بے شمار معاملات ہیں جن سے غیبت ِ امام کے نقصانات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے اور ان کا احساس ہی انسان کے آنسو بہانے کے لیے کافی ہے۔ پھر اگر یہ بات صحیح ہے کہ امام انسان کی زندگی کی محبوب ترین شخصیت کا نام ہے، تو کیسے ممکن ہے کہ محبوب نگاہوں سے اوجھل رہے اور عاشق کے دل میں اضطراب اور بے قراری نہ پیدا ہو اور وہ اپنے محبوب کی طرف سے اس طرح غافل ہو جائے کہ مخصوص تاریخوں اور مواقع کے علاوہ اس کے وجود اور اس کی غیبت کا احساس بھی نہ پیدا کرے۔
دعائے ندبہ میں انہیں تمام حالات کا تفصیلی تذکرہ موجود ہے اور اسی لیے اس دعا کو دعائے ندبہ کہا جاتا ہے کہ انسان اس کے مضامین کی طرف متوجہ ہو جائے اور غیبت ِ امام کی مصیبت کا صحیح اندازہ کر لے تو گریہ اور ندبہ کے بغیر نہیں رہ سکتا ہے اور شاید اسی لیے اس دعا کی تاکید ایام عید میں کی گئی ہے یعنی روز عید فطر، روز عید قربان، روز عید غدیر اور روز جمعہ جسے اسلامی احکام کے اعتبار سے عید سے تعبیر کیا گیا ہے کہ عید کا دن انسان کے لیے انتہائی مسرت کا دن ہوتا ہے اور اس دن ایک محب اور عاشق کا فرض ہے کہ اپنے محبوب حقیقی کے فراق کا احساس پیدا کرے اور اس کی فرقت پر آنسو بہائے تاکہ اسے فراق کی صحیح کیفیت کا اندازہ ہو سکے جیساکہ امام محمد باقرں نے فرمایا ہے کہ :
”جب کوئی عید کا دن آتا ہے تو ہم آل محمد کا غم تازہ ہو جاتا ہے کہ ہم اپنا حق اغیار کے ہاتھوں پامال ہوتے دیکھتے ہیں اور مصلحت ِ الٰہیہ کی بنیاد پر کوئی آواز بھی بلند نہیں کر سکتے۔“
ائمہ معصومین میں مولائے کائنات کے دور سے امام عسکریں تک ہر امام نے غیبت کے نقصانات اور مصائب کا تذکرہ کرکے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس کائنات میں خیر صرف اس وقت نمایاں ہوگا جب ہمارا قائم قیام کرے گا اور اس سے پہلے اس دنیا سے کسی واقعی خیر کی امید نہیں کی جا سکتی ہے تاکہ انسان موٴمن بدترین حالات سے بھی مایوس نہ ہو جائے اور پھر انہیں حالات سے راضی اور مطمئن بھی نہ ہو جائے کہ یہ اس کے نقص ایمان کا سب سے بڑا ذریعہ ہوگا۔
اس مقام پر سدیر صیرفی کی اس روایت کا نقل کرنا نامناسب نہ ہوگا کہ میں (سدیر) اور مفضل بن عمر اور ابو بصیر اور ابان بن تغلب امام صادقں کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ خاک پر بیٹھے ہوئے بے تحاشہ گریہ فرما رہے ہیں اور فرماتے جاتے ہیں کہ میرے سردار! تیری غیبت نے میری مصیبت کو عظیم کر دیا ہے، میری نیند کو ختم کر دیا ہے اور میری آنکھوں سے سیلاب ِ اشک جاری کر دیا ہے۔ میں نے حیرت زدہ ہوکر عرض کی کہ ”فرزند رسول! خدا آپ کو ہر بلا سے محفوظ رکھے، یہ گریہ کا کون سا انداز ہے اور خدا نخواستہ کون سی تازہ مصیبت آپ پر نازل ہوگئی ہے؟“ تو فرمایا کہ:
”میں نے کتاب ِ جفر کا مطالعہ کیا ہے جس میں قیامت تک کے حالات کا ذکر موجود ہے تو اس میں آخری وارث پیغمبر کی غیبت اور طول غیبت کے ساتھ اس دور میں پیدا ہونے والے بدترین شکوک و شبہات اور ایمان و عقیدہ کے تزلزل کے حالات اور پھر شیعوں کے مبتلائے شک و ریب ہونے اور تغافل اعمال کا مطالعہ کیا ہے اور اس امر نے مجھے اس طرح بے قرار ہوکر رونے پر مجبور کر دیا ہے کہ اس غیبت میں صاحبانِ ایمان کا کیا حشر ہوگا اور ان کا ایمان کس طرح محفوظ رہ سکے گا۔“
عزیزانِ گرامی! اگر ہمارے حالات اور ہماری بد اعمالیاں سیکڑوں سال پہلے امام صادقں کو بے قرار ہوکر رونے پر مجبور کر سکتی ہیں تو کیا ہمارا یہ فرض نہیں ہے کہ ہم اس دور ِ غیبت میں ان حالات اور آفات کا اندازہ کرکے کم از کم روز ِ جمعہ خلوص دل کے ساتھ دعائے ندبہ کی تلاوت کرکے اپنے حالات پر خود آنسو بہائیں کہ شاید اسی طرح ہمارے دل میں عشق امام زمانہ کا جذبہ پیدا ہو جائے وار ہم کسی آن ان کی یاد سے غافل نہ ہونے پائیں جس طرح کہ انہوں نے خود اپنے بارے میں فرمایا ہے کہ ہم کسی وقت بھی اپنے چاہنے والوں کی یاد سے غافل نہیں ہوتے ہیں اور نہ ان کی نگرانی کو نظر انداز کرتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ان کا اعتماد ہمارے اوپر رہے اور ان کی حفاظت و رعایت کی ذمہ داری بھی ہمارے ہی حوالے کی گئی ہے۔

۲۔ انتظار ِ حکومت و سکونِ آل محمد :۔ اس انتظار کو دور ِ غیبت میں افضل اعمال قرار دیا گیا ہے اور اس میں اس امر کا واضح اشارہ پایا جاتا ہے کہ اس دنیا میں ایک دن آل محمد کا اقتدار ضرور قائم ہونے والا ہے اور موٴمنین کرام کی ذمہ داری ہے کہ اس دن کا انتظار کریں اور اس کے لیے زمین ہموار کرنے اور فضا کو سازگار بنانے کی کوشش کرتے رہیں۔
اب یہ دور کب آئے گا اور اس کا وقت کیا ہے؟ یہ ایک راز ِ الٰہی ہے جس کو تمام مخلوقات سے مخفی رکھا گیا ہے بلکہ روایات میں یہاں تک وارد ہوا ہے کہ امیر الموٴمنینں کے زخمی ہونے کے بعد آپ کے صحابی عمرو بن الحمق نے آپ کی عیادت کرتے ہوئے عرض کی کہ مولا! ان مصائب کی انتہاء کیا ہے؟ تو فرمایا کہ ۷۰ء ھ تک۔ عرض کی کہ کیا اس کے بعد راحت و آرام ہے؟ آپ نے کوئی جواب نہیں دیا اور غش کھا گئے۔
اس کے بعد جب غش سے افاقہ ہوا تو دوبارہ سوال کیا۔ فرمایا: بے شک ہر بلا کے بعد سہولت اور آسانی ہے لیکن اس کا اختیار پروردگار کے ہاتھ میں ہے۔
اس کے بعد ابو حمزہ ثمالی نے امام باقرں سے اس روایت کے بارے میں دریافت کیا کہ ۷۰ء ھ تو گزر چکا ہے لیکن بلاؤں کا سلسلہ جاری ہے؟ تو فرمایا کہ شہادت ِ امام حسینں کے بعد جب غضب پروردگار شدید ہو تو اس نے سہولت و سکون کے دور کو آگے بڑھا دیا۔
پھر اس کے بعد ابو حمزہ نے یہی سوال امام صادقں سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ بے شک غضب ِ الٰہی نے اس مدت کو دوگنا کر دیا تھا، اس کے بعد جب لوگوں نے اس راز کو فاش کر دیا تو پروردگار نے اس دور کو مطلق راز بنا دیا اور اب کسی کو اس امر کا علم نہیں ہو سکتا ہے، اور ہر شخص کا فرض ہے کہ اس دور کا انتظار کرے کہ انتظار ظہور کرنے والا مر بھی جائے گا تو وہ قائم آل محمد کے اصحاب میں شمار کیا جائے گا۔

۳۔ امام کے وجود ِ مبارک کی حفاظت کے لیے بارگاہِ احدیت میں دست بدعا رہنا:۔
ظاہر ہے کہ دعا ہر اس مسئلہ کا علاج ہے جو انسان کے امکان سے باہر ہو اور جب دور ِ غیبت میں امام کی حفاظت کسی اعتبار سے بھی ہمارے اختیار میں نہیں ہے اور ہم خود انہیں کے رحم و کرم سے زندہ ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے وجود ِ مبارک کی حفاظت کے لیے بارگاہِ احدیت میں مسلسل دعائیں کرتے رہیں اور کسی وقت بھی اس فرض سے غافل نہ ہوں: ﴿اَللّٰھُمَّ کُنْ لِّوَلِیِّکَ الْحُجَّةِ بْنِ الْحَسَنِ﴾ جسے عام طور سے اثنائے نماز قنوت یا بعد نماز وظیفہ کے طور پر پڑھا جاتا ہے۔ امامں کے وجود کی حفاظت، ان کے ظہور کی سہولت اور ان کی عادلانہ حکومت کے بارے میں جامع ترین دعا ہے، جس سے صاحبانِ ایمان کو کسی وقت غافل نہیں ہونا چاہیے۔

۴۔ امام کی سلامتی کے لیے صدقہ نکالنا :۔ صدقہ درحقیقت خواہش سلامتی کا عملی اظہار ہے کہ انسان جس کی سلامتی کی واقعاً تمنا رکھتا ہے اس کے حق میں صرف لفظی طور پر دعا نہیں کرتا ہے بلکہ عملی طور پر بھی دفع بلا کا انتظام کرتا ہے اور یہ انتظام صدقہ سے بہتر کوئی شے نہیں ہے۔ دعا ان لوگوں کے لیے بہترین شے ہے جو صدقہ دینے کی بھی استطاعت نہیں رکھتے ہیں لیکن جن کے پاس یہ استطاعت پائی جاتی ہے وہ اگر صرف دعا پر اکتفا کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف لفظی کاروبار کرنا چاہتے ہیں اور امام کی سلامتی کے لیے چند پیسے بھی خرچ نہیں کرنا چاہتے ہیں جب کہ جو کچھ مالک کائنات سے لیا ہے وہ سب انہیں کے صدقہ میں لیا ہے اور جو کچھ آئندہ لینا ہے وہ بھی انہیں کے طفیل میں اور انہیں کے وسیلہ سے حاصل کرنا ہے۔

۵۔ امام عصر کی طرف سے حج کرنا یا دوسروں کو حج نیابت کے لیے بھیجنا :۔ جو دور قدیم سے شیعوں کے درمیان مرسوم ہے کہ لوگ اپنے امام زمانہں کی طرف سے نیابةً اعمال انجام دیا کرتے تھے اور امام عصرں ان کے ان اعمال کی قدر دانی بھی فرمایا کرتے تھے جیساکہ ابو محمد دعلجی کے حالات میں نقل کیا گیا ہے کہ انہیں کسی شخص نے امام عصرں کی طرف سے نیابةً حج کے لیے پیسہ دیے تو انہوں نے اپنے فاسق و فاجر اور شرابی فرزند کو حج نیابت ِ امام کے لیے اپنے ساتھ لے لیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میدانِ عرفات میں ایک انتہائی نوجوان شخص کو دیکھا جو یہ فرما رہے ہیں کہ تمہیں اس بات سے حیا نہیں آتی ہے کہ لوگ تمہیں حج نیابت کے لیے رقم دیتے ہیں تو تم فاسق و فاجر افراد کو یہ رقم دے دیتے ہو۔ قریب ہے کہ تمہاری آنکھ ضائع ہو جائے کہ تم نے انتہائی اندھے پن کا ثبوت دیا ہے۔ چنانچہ راوی کہتا ہے کہ حج سے واپسی کے چالیس روز کے بعد ان کی وہ آنکھ ضائع ہوگئی جس کی طرف اس مرد نوجوان نے اشارہ کیا تھا۔

۶۔ امام عصر کا اسم گرامی آنے پر قیام کرنا :۔ بالخصوص اگر آپ کا ذکر لفظ قائم سے کیا جائے کہ اس میں حضرت کے قیام کا اشارہ پایا جاتا ہے اور آپ کے قیام کے تصور کے ساتھ کھڑا ہو جانا محبت ،عقیدت اور غلامی کا بہترین مقتضی ہے جس سے کسی وقت بھی غفلت نہیں کی جا سکتی ہے۔

۷۔ دور غیبت میں حفاظت دین و ایمان کے لیے دعا کرتے رہنا :۔
امام صادقں نے زرارہ سے فرمایا تھا کہ ہمارے قائم کی غیبت میں اس قدر شبہات پیدا کیے جائیں گے کہ اچھے خاصے لوگ مشکوک ہو جائیں گے لہٰذا اس دور میں ہر شخص کا فرض ہے کہ سلامتی ایمان کی دعا کرتا رہے اور یاد امام میں مصروف رہے اور عبد الله بن سنان کی امام صادقں سے روایت کی بنا پر کم سے کم ﴿یٰا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبیْ عَلٰی دِیْنِکَ﴾ کا ورد کرتا رہے کہ سلامتی دین و ایمان کے لیے یہ بہترین اور مختصر ترین دعا ہے۔

۸۔ امام زمانہ سے مصائب و بلیات کے موقع پر استغاثہ کرنا :۔ کہ یہ بھی اعتقاد کے استحکام اور روابط و تعلقات کے دوام کے لیے بہترین طریقہ ہے اور پروردگار عالم نے ائمہ طاہرین کو یہ طاقت اور صلاحیت دی ہے کہ وہ فریاد کرنے والوں کی فریاد رسی کر سکتے ہیں جیساکہ ابو طاہر بن بلال نے امام صادقں سے نقل کیا ہے کہ پروردگار جب اہل زمین تک کوئی برکت نازل کرنا چاہتا ہے تو پیغمبر اکرم سے امام آخر تک سب کو وسیلہ قرار دیتا ہے اور ان کی بارگاہوں سے گزرنے کے بعد برکت بندوں تک پہنچتی ہے اور جب کسی عمل کو منزل قبولیت تک پہنچانا چاہتا ہے تو امام زمانہں سے رسول اکرم تک ہر ایک کے وسیلہ سے گزار کر اپنی بارگاہِ جلالت پناہ تک پہنچاتا ہے اور پھر قبولیت کا شرف عنایت کرتا ہے بلکہ خود امام عصرں نے بھی شیخ مفید کے خط میں تحریر فرمایا تھا کہ تمہارے حالات ہماری نگاہوں سے پوشیدہ نہیں ہیں اور ہم تمہارے مصائب کی مکمل اطلاع رکھتے ہیں اور برابر تمہارے حالات کی نگرانی کرتے رہتے ہیں۔
علامہ مجلسی نے تحفة الزائر میں نقل کیا ہے کہ صاحبانِ حاجت کو چاہیے کہ اپنی حاجت کو کسی کاغذ پر لکھ کر ائمہ طاہرین کی قبور مبارکہ پر پیش کر دیں یا کسی خاک میں رکھ کر دریا یا نہر وغیرہ کے حوالہ کر دیں کہ امام زمانہں اس حاجت کو پورا فرما دیں گے۔ اس عریضہ کی ترسیل میں آپ کے چاروں نواب خاص میں سے کسی کو بھی مخاطب بنایا جا سکتا ہے۔ انشاء الله وہ اسی طرح امام کی بارگاہ میں پیش کریں گے جس طرح اپنی زندگی میں اس فرض کو انجام دیا کرتے تھے اور امامں اسی طرح مقصد کو پورا کریں گے جس طرح اس دور میں کیا کرتے تھے۔      

خلاصہ :

 

انسان کی پیدائش کا آخری مقصد خداوندمتعال کے نزدیک ہونا ہے لہذا اس مقصد تک پہنچنے کے لیے وسایل کا فراہم کرنا اوررکاوٹوں کا دورکرنا ضروری ہے اوروہ صرف امام زمان عج کی حکومت ہے جس کے ذریعے ہم اللہ تعالی تک پہنچ سکتےہیں انسان دوچیزوں (جسم وروح)سے مرکب ہے اس بناپر ضروری ہے کہ کمالات تک پہنچنے کے لیے دونوں طرف سے حرکت کرے اورعدالت جو کہ الہی حکومت کے ذریعے ممکن ہے انسان کی مادی اورمعنوی سیر کی ضامن ہے
اس بنا پر امام زمانہ عج کی حکومت کے اہداف بھی دومحور کی بنیاد پر بیان کیے جاسکتےہیں

متن:

 

امام مہدی عج کی حکومت اور آپ کے انصار کی خصوصیات
امام زمانہ عج اس وقت دنیا کی حکومت کی باگ ڈورسنبھالیں گے جب دنیا میں ناامنی ،بے سروسامانی اورلاکھوں جسمانی ،روحانی اورذہنی بیماریاں پھیل چکی ہوں گی دنیا پر تباہی وبربادی چھاچکی ہوگی شہرجنگوں کی وجہ سے ویران ہوچکے ہوں گے
ایسی حکومت قائم کریں گے جو مظہر صفات وجمال پروردگار عالم ہوگی
امام مہدی کی حکومت کے اہداف
انسان کی پیدائش کا آخری مقصد خداوندمتعال کے نزدیک ہونا ہے لہذا اس مقصد تک پہنچنے کے لیے وسایل کا فراہم کرنا اوررکاوٹوں کا دورکرنا ضروری ہے اوروہ صرف امام زمان عج کی حکومت ہے جس کے ذریعے ہم اللہ تعالی تک پہنچ سکتےہیں انسان دوچیزوں (جسم وروح)سے مرکب ہے اس بناپر ضروری ہے کہ کمالات تک پہنچنے کے لیے دونوں طرف سے حرکت کرے اورعدالت جو کہ الہی حکومت کے ذریعے ممکن ہے انسان کی مادی اورمعنوی سیر کی ضامن ہے

اس بنا پر امام زمانہ عج کی حکومت کے اہداف بھی دومحور کی بنیاد پر بیان کیے جاسکتےہیں

معنوی ترقی :

انسان اپنی زندگی میں ہمیشہ معنوی اورروحانی راستے سے ہٹ کرحرکت کررہا ہے اورنفسانی خواہشات اور وسوسہ ھای شیطانی میں گھرچکا ہے اوراپنی زندگی کی اچھائیوں کو بھول بیٹھا ہے اوراپنے ہاتھ سے شہوت کے قبرستان میں دفن ہورہا ہے پاکی وطہارت، صداقت وسچائی ، باہمی تعاون ،ایثار اورفداکاری ،احسان اورنیکی کی جگہ ،شہوت رانی ،جھوٹ ،فریب ،۔خیانت ،ظلم ،مال ودولت کی ھوس میں زندگی گزاررہا ہے اورجس کے نتیجے میں معنویت اورروحانت رخت سفر باندھ کر دورہورہی ہے امام زمانہ کی حکومت انسان کے اندرمعنویت اورروحانیت کو زندہ کرنے کے لیے سب سے پہلا قدم یہی اٹھائے گی تاکہ انسان جو سجود ملائکہ ہے اپنی حقیقی  زندگی کا ذائقہ چکھ لے جس طرح قرآن مجید میں ہے یاایھاالذین امنوا استجیبواللہ وللرسول اذا دعاکم لما یحییکم   اے ایمان والو اللہ ورسول کی آوازپرلبیک کہو جب وہ تمہیں اس امر کی دعوت دیں جس میں تمہاری زندگی ہے شیعوں کے دوسرے پیشوا فرماتے ہیں خداوندعالم آخری زمانے میں ایک شخص کو مبعوث کرے گا کہ کوئی فاسد ومنحرف نہیں رہ جائے گا مگریہ کہ اس کی اصلاح ہوجائے گی حرص وطمع لوگوں کے درمیان سے ختم ہوجائے گا اوربےنیازی پیدا ہوجائے گی ۔

عدالت کا قیام

طول تاریخ بشری میں ظلم وستم کا دورچلاآرہاہے اوربشر اپنے حقوق کو حاصل کرنے میں ہمیشہ محروم رہا ہے اورکبھی بھی بنی آدم کے درمیان عادلانہ تقسیم نہیں ہوئی کچھ لوگ بھوک سے مررہے ہیں اورکچھ لوگ مرغن غذاوں سے اپنے پیٹ بھر رہے ہیں کچھ لوگ بڑے محل اورعمارتوں میں زندگی گزاررہے ہیں اورکچھ لوگ ویرانوں میں زندگیاں گزارنے پر مجبورنظرآتےہیں ظالمین اورمستکبرین نے ضعیف اورناتوان لوگوں کو اپنا غلام بنایا ہوا ہے یعنی ہمیشہ غریبوں اورفقیروں کے حقوق پایمال ہورہے ہیں لذا انسان اپنی خواہشات کو حاصل کرنے کےلیے عدالت کا منتظر ہے

اس انتظار کی انتہا امام مہدی عج کی حکومت ہے کہ جس کا بہت سی روایات میں تذکرہ کیاگیاہے

امام حسین علیہ السلام ارشاد فرماتےہیں کہ میں نے رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فرمایا اگر دنیا کے ختم ہونے میں صرف ایک دن باقی رہ جائے گا تو خداوندمتعال اس دن کو اتنا طولانی کرے گا یہاں تک کہ میری عترت سے قیام کرے گا اورزمین کو عدل سے پرکردے گا

زمین کا زندہ ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عدالت مہدوی اسی عدالت ہوگی جو پورے عالم کو گھیر لے گی اورتمام لوگ امام کی عدالت سے بہرہ مند ہوں گے

حکومت مہدوی کے پروگرام

مذکورہ بالااہداف تک پہنچنے کے لیے لازم ہے کہ حکومت کے پروگراموں کی جانچ پڑتا کی جائے تاکہ وہ لوگ جو امام کا انتظار کررہے ہیں اس سے آشنا ہوجائیں اور معاشرہ کو ایسے راستےکے لیے آمادہ کریں

ثقافتی پروگرام :

(۱)کتاب وسنت کا زندہ کرنا

قرآن غریب اورتنھا رہ گیا ہے اورہم اپنی زندگی میں قرآن کو بھول چکے ہیں لذا حجت خدا کے زمانے میں قرآن ہماری زندگی کے تمام پہلووں میں داخل ہوگا اورسنت جو قول اورفعل معصومین ہیں ان پر عمل ہوگا

حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ جب امام مہدی عج ظہورکریں گے اس وقت نفسانی خواہشات حکومت کررہی ہوں گے حضرت ہدایت اور کامیابی کی راہ پر گامزن کریں گے وہ زمانہ جب انسان اپنی رائے کو قرآن پر مقدم کرتا ہوگا (امام )افکار کو قرآن کی طرف متوجہ کرے گا اور(قرآن کو )معاشرہ پر حاکم قراردے گا

نیز فرمایا :گویا کہ میں اپنے شیعوں کو دیکھ رہا ہوں کہ مسجد کوفہ میں خیمہ لگائے ہوئےہیں اورقرآن کو جس طرح نازل ہوا ہے تعلیم دے رہے ہیں

معرفت اوراخلاق میں وسعت

قرآن کریم اور اہل بیت کی تعلیمات نے بشر کے اخلاقی اور معنوی ترقی پر بہت زوردیا ہے کیونکہ انسان کے بلند وعالی مقصد تک پہنچنے کا ذریعہ اچھااورنیک اخلاق ہے لیکن ہم قرآن اوراہل بیت علیھم السلام سے دورہونے کی وجہ سے اس مہم ہدف سے ہٹ چکے ہیں جس کی وجہ سے معاشرتی زندگی ویران ہوچکی ہے

امام باقر علیہ السلام فرماتےہیں کہ اذاقام قائمنا وضع یدہ علی رؤوس العباد فجمع بہ عقولھم واکمل بہ اخلاقھم

جب ہمارے قائم قیام کریں گے اپنا ہاتھ ان کے سروں پر رکھیں گے اور ان کے عقول کو جمع کردیں گے اوران کے اخلاق کو کمال تک پہنچا دیں گے

اس کنایہ آمیز تعبیر سے استفادہ ہوتا ہے کہ امام زمان عج کی حکومت میں عقل اور اخلاق کمال تک پہنچے گے یہ وہی وعدہ ہے جو حضرت مہدی عج کی حکومت میں پورا ہوگا جسے کسی حکومت نے انسانیت کو ایسا تحفہ پیش نہیں کیا ۔

علم اورحکمت میں ترقی

امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتےہیں  علم ودانش کے ۲۷ حروف ہیں اوراب تک جو کچھ انبیاء نے پیش کیا ہے وہ دو حرف ہیں اورجب ہمارے قائم قیام کریں گے تو باقی ۲۵حروف کو بھی ظاہرکردیں گے

پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتےہیں کہ

خداوندعالم کے ذریعے دنیا کو روشنائی سے پرکردے گا اورپورا عالم علم اوردانائی سے بہرہ مند ہوگا

امام باقر علیہ السلام ارشادفرماتے ہیں کہ امام مہدی عج کی حکومت تمہیں حکمت اوردانائی عطاکی جائے گی حتی کہ گھرمیں عورت کتاب وسنت کے مطابق فیصلہ کرے گی

بدعتوں کا خاتمہ

بدعت سنت کے مقابلے میں دین میں نئی چیز کا داخل کرنا ہے امام علیہ السلام ارشادفرماتےہیں کہ

بدعت گزاروہ ہے جو حکم خدا اورکتاب خدا اورپیغمبر کی مخالفت کرے اور اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق عمل کرے

بدعت ایک ایسا کام ہے جو سنت اورخدااورپیغمبر کی شیوہ کو ختم کرتاہے

امام علی علیہ السلام ارشادفرماتےہیں کہ ماھدم الدین مثل البدع

کوئی چیز بھی بدعت کی طرح دین کو ویران اوربرباد نہیں کرتی

اس لیے پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم  ارشاد فرماتے ہیں کہ جب بھی بدعت دین میں ظاہر ہو عالم دین پر واجب ہے کہ اپنے علم کو ظاہر کرے اورجو ایسا نہیں کرے گا اس پر خدا کی لعنت ہو

اس لے عالم اس انتظار میں ہے کہ صاحب مکتب تشریف لائے تاکہ اس کی حکومت کے سایہ میں سنتیں زندہ ہوں اوربدعتیں ختم ہوں اس لے امام زمانہ عج تشریف لائیں گے تو بدعتوں کی جڑیں اکھاڑدیں گے

اقتصادی پروگرام

طبعی منابع سے استفادہ

امام زمانہ عج کے دورمیں رحمت الہی آسمان سے برسے گی اوریہ چیز باعث بنے گی کہ زمین کے خزانے زمین سے باہر آئیں گے کوہ وصحرا سرسبز ہوجائیں گے

امام علی علیہ السلام ارشادفرماتےہیں کہ

۔۔۔۔۔جب ہمارے قائم قیام کریں گولوقد قام قائمنا لانزلت السماء القطرھا ولاخرجت الارض نباتھا ے آسمان سے بارش نازل ہوگی اورزمین نباتات اگے گی امام مہدی عج کی حکومت کے دوران زمین اپنے تمام امکان امام کے اختیار میں دے گی

مال ودولت کی عادلانہ تقسیم

اقتصاد کی کمزوری کا مہمترین عامل یہ ہے کہ خاص گروہ ذ خیرہ کرلے اوران کو ذاتی منافع کے لیے استعمال کرے امام مہدی ان سے مقابلہ کریں گے اورعدالت علوی کو سب کے سامنے برپا کریں گے

امام محمد باقر علیہ السلام ارشادفرماتےہیں کہ

اذاقام قائم اھل البیت قسم بالسویہ وعدل فی الرعیۃ ۔۔۔۔۔۔جب خاندان پیغمبر میں سے قائم قیام کریں گے تو اموال کو مساوی تقسیم کریں گے اورمخلوق کے درمیان عدالت سے پیش آئیں گے

پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشادفرماتے ہیں کہ میں آپ کو مہدی کی بشارت دیتا ہوں جو میری امت میں سے قیام کرے گا اور اموال کی صحیح تقسیم کرے گا

غربت کا خاتمہ

پیغمبرا کرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت مہدی کے ظہور کے وقت لوگ اپنے واجبات گلیوں میں ڈال دیں گے اوران کا دریافت کرنے والا نہیں ملے گا

امام باقرعلیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگ اپنے واجبات سروں پر اٹھا کر مہدی کی طرف روانہ ہوں گے خداہمارے شیعوں کو اتنا عطا کرے گا کہ وہ بی نیاز ہوجائیں گے

معاشرتی پروگرام

حکومت امام زمانہ عج میں معاشرتی پروگرام قرآنی تعلیمات اور سنت اہل بیت کے مطابق برپا ہوں گے برائیوں سے روکاجائے گا اوربدکاروں کے ساتھ قانونی طورپر نمٹا جائے گا اورمعاشرتی حقوق کی عادلانہ تقسیم ہوگی

نیکی کا حکم اور برائی سے روکنا

امام مہدی عج کی حکومت میں سب سے مہم فریضہ امربالمعروف اورنہی عن المنکر ہوگا یہ وہ واجب ہے کہ جس کی قرآن نے تائید کی ہے

یہ ایسا فریضہ ہوگا جس کی وجہ سے تمام واجبات الہی اداہوتے ہیں اوراس کو ترک کرنے سے تمام برائیاں معاشرہ میں جنم لیتی ہیں  امام باقر علیہ السلام ارشادفرماتےہیں کہ

المھدی واصحابہ ۔۔۔۔۔یامرون بالمعروف وینھون عن المنکر

مہدی ع اور اس کے اصحاب امربالمعروف اورنہی عن المنکر کرنے والے ہیں

ظلم وفساد کا خاتمہ

نہی عن المنکر الہی حکومت کا وہ مہم ترین وظیفہ ہے جو صرف زبان کے ساتھ نہیں بلکہ عمل کے ساتھ بھی ہوتا ہے اوراسی کے ذریعے معاشرہ سے برائیوں کا خاتمہ کیاجاسکتا ہے

دعا ء ندبہ میں ہے کہ این طامس آثار الزیغ والاھواء ، این قاطع حبائل الکذب والافتراء

کہاں ہے وہ جو گمراہی اور ہواوہوس کے آثار کو نابود کرے گا ؟ کہاں ہے وہ جو جھوٹ اورتہمت کی جڑوں کا کاٹے گا

الہی قوانین کا جاری کرنا

معاشرہ میں فساد کرنے والوں کے خلاف حکومت مہدی عج میں مختلف طریقے استعمال کیے جائیں گے مثلا علوم کی تعلیم ،عقاید کی تعلیم عام کریں گے تاکہ مفسد لوگ صراط مستقیم کی طرف آجائیں ان کی تمام تر ضروریات کو پورا کیا جائے گا تاکہ ان کے پاس فساد اورگناہ کا کوئی بہانہ نہ رہ جائے  اگر وہ لوگ ان کاموں کے باوجود بھی دوسروں پر ظلم کریں گے ان پر الہی قوانین جاری کیے جائیں گے امام جواد علیہ السلام پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں :

مہدی عج الہی قوانین کو جاری کریں گے

امام مہدی عج کی حکومت کی خصوصیات

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امام زمانہ عج کی حکومت عالمی حکومت ہوگی کیونکہ وہ تمام بشریت کی آرزو ہے جو بھی اچھائیاں اس کی حکومت میں ہوں گی تمام عالم کے لیے ہوں گی اوریہ ایسی حقیقت ہے کہ جس کی طرف روایات میں اشارہ کیا گیا ہے

بہت سی روایات جن کا خلاصہ یہ ہے کہ مہدی عج زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح پر کردیں گے جس طرح وہ ظلم وستم سے بھر چکی ہوگی

اوراس دنیا سے مراد تمام عالم کائنات ہے

پیغمبر اکرم ص ارشاد فرماتے ہیں کہ مہدی عج زمین کو میرے دشمنوں سے پاک کردیں گے اوروہ مشرق سے مغرب تک زمین کے حاکم ہوں گے

امام باقرعلیہ السلام  ارشاد فرماتےہیں کہ قائم ہمارے خاندان سے ہے اور وہ مشرق سے مغرب تک حاکم ہوگا اورخداوند متعال اس کے ہاتھوں سے اپنے دین کو تمام ادیان پر غلبہ دے گا

امام زمانہ عج کی حکومت کا مرکز کوفہ ہوگا امام صادق علیہ السلام ارشاد فرماتےہیں کہ اس کی حکومت کا مرکز شہرکوفہ ہوگا اور مقام قضاوت مسجد کوفہ ہوگی

حکومت کی مدت

حکومت امام مہدی عج اتنی ہونا چاہیے کہ پورے عالم میں تبدیلی آجائے اوردنیا کے کونے کونے میں عدالت قائم ہوجائے اوریہ صرف چند سالوں میں پورا نہیں ہوتا لیکن ممکن ہے کہ حضرت غیبی مدد اوررہبر الہی ہونے کے ناطے پر اوراچھے اصحاب کی وجہ سے بہت کم مدت میں اپنی ذمہ داری انجام دیں گے بہت زیادہ روایات اس موضوع کی طرف بیان ہوئی ہیں کہ جن میں سے بعض میں حضرت کی حکومت کی مدت پانچ سال ،  سات سال اوربعض دوسری روایات میں ،۸  ، ۹ ،۱۰ سال اورکچھ روایات میں ۴۰ سال بھی بیان ہوئی ہے

البتہ علماء شیعہ نے ۷سال سال کی روایت  لی ہے کیونکہ ان کی تعداد زیادہ ہے

بعض نے کہا ہے کہ امام مہدی عج کی حکومت کی مدت ۷سال ہے لیکن ہرسال ۱۰سال کے برابر ہوگا امام صادق علیہ السلام ارشادفرماتے ہیں کہ

امام مہدی عج ۷ سال حکومت کریں گے لیکن تمہارے ۷۰ سال کے برابر ہے

عالمی حکومت میں امام مہدی عج کا رویہ

جب امام مہدی عج حکومت کی باگ ڈورسنبھالیں گے تو ایک خاص طرزعمل کے ذریعے حکومت کو چلائیں گے معصومین کی روایات میں وارد ہوا ہے کہ

ان کا طرز عمل پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح ہوگا جس طرح پیغمبر اکرم ص نے جہالت کے ساتھ مقابلہ کیا اور اسلام کو فتح اورکامرانی سے ہمکنار کیا امام مہدی عج بھی جہالت سے مقابلہ کریں گے ایسی جہالت جو اس قدیم جہالت سے دردناک ہوگی

امام کے جہاد کا طرزعمل

امام مہدی عج کفروشرک کی بنیادیں ختم کردیں گے اورتمام دنیا کو اسلام کی دعوت دیں گے روایات میں وارد ہوا ہے کہ حضرت مہدی عج تورات اورانجیل واقعی کو غارانطاکیہ سےبارہ نکالیں گے اور ان کے وسیلہ سے یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ مناظرہ کریں گے ان میں سے بہت سےمسلمان ہوجائیں گے اورانبیاءکی نشانیاں جیسے حضرت موسی  علیہ السلام کا عصا ، حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی اورپیغمبر کی زرہ اورتلوار کو ساتھ لائیں گے اورجو لوگ اس کے باوجود اسلام قبول نہیں کریں گے اوراسلام کی مخالفت کریں گے تو ان کے ساتھ جہاد کریں گے

امام مہدی عج کی قضاوت کا طرزعمل

امام مہدی عج اپنے جد امجد حضرت علی علیہ السلام کی سیرت پر عمل کریں گے اور حق کو اس کے مالک  کے پاس لوٹا کررہیں گے اور روایات میں وارد ہوا ہے کہ قضاوت میں حضرت سلیمان اورحضرت داود علیھما السلام کے طرز پر عمل کریں گے امام صادق علیہ السلام ارشاد فرماتےہیں کہ جب قائم آل محمد قیام کریں گے حضرت داود اور حضرت سلیمان کے رویہ پر عمل کریں گے

امام مہدی عج کا ذاتی رویہ

امام زمانہ عج کی نظر میں حکومت ایک وسیلہ ہوگی لوگوں کی خدمت کرنے کا اور ان کوکمال تک پہنچانے کا اورجب بھی امام برحق کرسی عدالت پر بیٹھتے ہیں تو باوجود اس کے کہ تمام اموال وخزانے ان کے پاس ہوتےہیں لیکن پھر بھی کم پر اکتفاء کرتےہیں

امام علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں

امام مہدی اگرچہ اسلامی معاشرہ کے حاکم ورہبر ہوں گے لیکن رعیت کی طرح سفرکریں گے اور ان کی طرح لباس پہنیں گے اورا ن کی طرح سواری استعمال کریں گے

امام صادق علیہ السلام ارشادفرماتے ہیں کہ ان قائمنا اذا قام لبس لباس علی وسار بسیرتہ

جب ہمارے قائم قیام کریں گے تولباس علی علیہ السلام کی طرح لباس پہنیں گے اور ان کی سیرت پر چلیں گے

امام مہدی عج کے انصار اوراصحاب کی خصوصیات

زہد اورتقوی

حکومت میں کام کرنے والوں کا متقی اورپرہیزگار ہونا ضروری ہے ورنہ حکومت ظلم وستم کے روبرو ہوجائے گی اورحکومت چلانے والے اگر صالح اورپرہیزگار ہوں تو معاشرہ ترقی کرے گا امام زمانہ عج کے وزیراعظم حضرت عیسی علیہ السلام ہوں گے جن کا شمار اولوالعزم پیغمبروں میں ہوتا ہے حضرت عیسی علیہ السلام فرماتےہیں کہ

بعثت وزیرا ولم ابعث امیرا

میں وزیر مبعوث ہوا ہوں نہ امیر

امام صادق علیہ السلام ارشادفرماتےہیں کہ :جب قائم آل محمد قیام کریں گے تو ۲۷ افراد بشت کعبہ سے ظاہرہوں گے اوران میں ۲۵ افرادحضرت موسی علیہ السلام کی قوم میں سےہوں گے

پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ

اولئک ھم خیرالبریہ وہ میری امت کے بہترین افراد میں سے ہوں گے

امام علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ

فبابی وامی من عدۃ قلیلۃ اسمائھم فی الارض مجھولۃ

میرے ماں باپ قربان ہوں اس چھوٹے سے گروہ پر جن کو زمین میں کوئی نہیں جانتا

جو لوگ امام کے خاص وزراء اور کمانڈر ہوں گے وہ بہت ہی متقی اورپرہیزگار ہوں گے

امام صادق علیہ السلام امام زمانہ عج کے اصحاب کے بارے میں فرماتےہیں کہ :

وہ لوگ شب زندہ دار انسان ہیں جو راتوں کو قیام کی حالت میں عبادت کرتےہیں پاکیزہ ،نفیس اوردن کے دلاور شیر ہیں اورخوف الہی سےایک خاص کیفیت پیدا کرچکے ہیں خداوندمتعال ان کے ذریعے امام برحق کی مدد کریں گے ان کے دل محکم اور مضبوط ہوں گے ان میں سے ہرایک چالیس آدمی کی قوت کا مالک ہوگا اورکافر اورمنافق کے علاوہ کسی کو قتل نہیں کریں گے

اطاعت امام

امام باقر علیہ السلام فرماتےہیں ظہورسے دوراتیں پہلے آپ کا نزدیک ترین خادم حضرت کے دیدار کو جائے گا اورآپ سے پوچھے گاکہ آپ یہاں کتنے لوگ ہیں ؟کہیں گے چالیس آدمی تو وہ کہے گا تمہار کیاحال ہوگا جب تم اپنے پیشوا کو دیکھوگے جواب دیں گے اگر وہ پہاڑوں پر زندگی کریں تو ہم ان کے ساتھ ہوں گے اوراسی طرح زندگی گزاریں گے

امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتےہیں کہ

حضرت کے انصار اپنے ہاتھوں کو حضرت امام کی سواری کی زین میں ڈال کو برکت کےلیے کھینچیں گے اورحضرت کے حلقہ بگوش ہوں گے اوراپنے جسم وجان کو ان کی سپر بنالیں گے اورآپ جو ان سے چاہیں گے وہ کریں گے

رسول خداصل اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتےہیں خداوندجل جلالہ حضرت مہدی کے لیے گوشہ وکنار سے اہل بدر کی تعداد میں لوگوں کو ان کے اردگرد جمع کردے گا اور وہ لوگ حضرت کی فرمانبرداری کرنے میں حد سے زیادہ کوشاں ہوں گے

امام صادق علیہ السلام ارشاد فرماتےہیں کہ حضرت مہدی رکن ومقام کے درمیان کھڑے ہوں گے اور فریاد کریں گے اے میرے مخصوص اصحاب اور چنے ہوئے اے وہ جن کو میرے ظہور سے پہلے خدا نے ذخیرہ کیاہوا ہے شوق ورغبت کے ساتھ میرے پاس آو

امام کا آواز دینا ہی ہوگا کہ یہ آواز شرق وغرب میں پہنچے گی درحالانکہ بعض ان میں سے محراب عبادت میں ہوں گے اور بعض بستر پر آرام کررہے ہوں ،امام کی آواز سنتے ہی آنکھ جھپکنے میں پہنچ جائیں گے

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتےہیں کہ گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ حضرت قائم اوران کے ناصر ومددگار نجف میں مستقر ہیں اور اسی طرح ثابت قدم کہ گویا پرندہ ان کے سرپر سایہ افگن ہے

طاقتوراورجوان

حضرت امیرالمومنین علیہ السلام ارشاد فرماتےہیں کہ حضرت مہدی کے ناصر سارے کے سارےجوان ہیں اوران میں سے کوئی ضعیف اورسن رسیدہ نہیں ہے جز بہت کم افراد کے جو آنکھوں میں سرمہ یا غذا میں نمک کے مانند ہیں

امام جعفر صادق علیہ السلام ارشادفرماتے ہیں کہ کوئی طاقت مہدی موعود اور ان کے ناصروں کو قدرت کے برابر نہیں ہوگی اورہرایک آدمی کی قوت چالیس مردکے برابر ہوگی اور ان کے پاس لوہے سے زیادہ ہموار دل ہے اورجب پہاڑوں سے گذریں گے تو چٹان لرز اٹھیں اورخداوندمتعال کی رضا اورخوشنودی  کے حصول تک وہ تلوارچلاتے رہیں گے

امام باقر علیہ السلام ارشاد فرماتےہیں کہ جب ہمارے مہدی تشریف لائیں گے توہرشیعہ کی  جرات اور شجاعت  ،شیرسے زیادہ ہوگی ۔۔اورہمارے دشمنوں کو پاووں میں روندیں گے اورہاتھ کھینچیں گے

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتےہیں کہ ہمارا حکم (حضرت مہدی عج کی حکومت )آتے ہی خداوندعالم ہمارے شیعوں کے دلوں سے خوف مٹا دے گا اور ان کے دشمنوں کے دلوں میں ڈال دے گا اس وقت ہمارا ہرشیعہ شیر کی طرح دلیر ہوگا ۔۔۔

اسی طرح فرماتےہیں کہ امام مہدی عج کے چاہنے والے وہ لوگ ہیں جن کے دل فولاد کے مانند مضبوط ہیں اور کبھی ان دلوں پر ذات الہی کی راہ میں شک وشبہ نہیں آئے گا وہ لوگ پتھر سے زیادہ سخت اورمحکم ہیں اگرانہیں حکم دیا جائے کہ پہاڑوں کو ان کی جگہ سے ہٹادیں تو بااسانی اورتیزی سے ایساکردیں گے اسی طرح شہروں کی تباہی کا حکم دیاجائے گا تو فوارا  ویران کردیں گے ان کے عمل میں اتنی پختگی ہوگی جیسے عقاب گھوڑوں پر سوار ہو

پسندیدہ سپاہی

امام باقر علیہ السلام ارشاد فرماتےہیں کہ حضرت مہدی کے ناصروں کو دیکھ رہا ہوں کہ  پوری کائنات کو احاطہ کیے ہوئےہیں اوردنیا کی کوئی چیز نہیں ہے جو ان کی مطیع اورفرمانبردار نہ ہو زمین کے درندے اورشکاری پرندے بھی ان کی خوشنودی کے خواہاں ہوں گے وہ لوگ اتنی محبوبیت رکھتےہوں گے کہ ایک زمین دوسری زمین پر فخرومباحات کرے گی اور وہ زمین کہےگی کہ آج حضرت مہدی عج کے چاہنے والے نے مجھ پر قدم رکھا ہے

شہادت کے مشتاق

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتےہیں کہ حضرت مہدی کی خصوصیات میں سےایک یہ ہے کہ وہ لوگ خدا کا خوف اور شہادت کی تمنا رکھتے ہوں گے اورا ن کی خواہش یہ ہے کہ راہ خدا میں قتل ہوجائیں اور ان کا نعرہ حسین کے کون کابدلہ لینا ہے جب وہ چلیں گے تو ایک ماہ کے فاصلے سے دشمنوں کے دلوں میں خوف بیٹھ جائے گا ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ امام مہدی عج کے ساتھی میدان جنگ میں آنحضرت کے اطراف میں چکر لگارہے ہوں گے اور اپنی جان سے ان کی حفاظت کریں گے

نیز فرمایا :وہ آرزو کریں گے کہ راہ خدا میں شہادت پر فائز ہوں

صابر اوربردبار

امام علی علیہ السلام ارشاد فرماتےہیں کہ وہ ایسا گروہ ہے جو صبروبردباری کی خاطر خداوندعالم پر احسان نہیں سمجھتے  وہ جان کا نذرانہ دے کر بھی اپنے آپ پر فخر نہیں کریں گے

غیبت کے زمانہ میں مومنین کا کردار

 

حضرت امام زمان پر ایمان فکر وامید کے نمو ورشد کا باعث ہے امام زمان کی غیبت کا عقیدہ اور یہ احتمال کہ و ہ کسی وقت بھی تشریف لاسکتے ہیں پاک دل اور شائستہ افراد پر گہرے اثرات رکھتاہے یہ لوگ اپنے کو آمادہ کرتے ہیں اور ظلم وجور سے کنارہ کشی کرتے ہیں عدل وانصاف اور برابری وبرادری کے خوگر بنتے ہیں تاکہ امام کی نصرت اور ان کی خدمت میں شرفیابی کی توفیق حاصل کرسکیں اور امام زمان کے دیدار اور زیارت سے محروم نہ رہ سکیں اور امام سے دوری اور ناخوشنودی کی آگ میں نہ جلیں،امام پر ایمان ہو کہ انہوں نے کسی فاسد حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے اور کسی بھی ستم پیشہ کو قبول نہیں کیا ہے ان کے پیروکاروں میں یہ جذبہ پیدا کرتاہے کہ کہ وہ ظالم وسرکش کی مقابلہ میں قیام کریں ،اس کی حاکمیت کو تسلیم نہ کریں ۔
 

متن:

 

غیبت کے زمانہ میں مومنین کا کردار

حضرت امام زمان پر ایمان فکر وامید کے نمو ورشد کا باعث ہے امام زمان کی غیبت کا عقیدہ اور یہ احتمال کہ و ہ کسی وقت بھی تشریف لاسکتے ہیں پاک دل اور شائستہ افراد پر گہرے اثرات رکھتاہے یہ لوگ اپنے کو آمادہ کرتے ہیں اور ظلم وجور سے کنارہ کشی کرتے ہیں عدل وانصاف اور برابری وبرادری کے خوگر بنتے ہیں تاکہ امام کی نصرت اور ان کی خدمت میں شرفیابی کی توفیق حاصل کرسکیں اور امام زمان کے دیدار اور زیارت سے محروم نہ رہ سکیں اور امام سے دوری اور ناخوشنودی کی آگ میں نہ جلیں،امام پر ایمان ہو کہ انہوں نے کسی فاسد حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے اور کسی بھی ستم پیشہ کو قبول نہیں کیا ہے ان کے پیروکاروں میں یہ جذبہ پیدا کرتاہے کہ کہ وہ ظالم وسرکش کی مقابلہ میں قیام کریں ،اس کی حاکمیت کو تسلیم نہ کریں ۔
حضرت کے ظہور کا عقیدہ اس بات کا سبب نہ ہو کہ لوگ باتوں کو آئندہ پرٹال دیں اور خود کنارہ کشی اختیار کرکے گوشہ نشین ہوجائیں اور امور کی اجام دہی میں ٹال مٹول کریں ،کفار واشرار کے تسلط کو قبول کرلیں ،علمی، صنعتی ترقیوں میں کوتاہیاں کریں اور معاشرے کی اصلاح کی فکر نہ کریں ۔
یہ نظریہ کہ امام زمان کے ظہور کا عقیدہ سستی وکاہلی لاتاہے بالکل بے بنیاد ہے ،مگر ہمارے ائمہ اور ان کے فعال شاگر دامام کے ظہور پر ایمان نہیں رکھتے تھے؟
مگر اسلام کے عظیم المرتبت علماء اس کے معتقد نہیں تھے ؟ لیکن ان لوگوں نے سعی وکوشش میں بھی کوئی کوتاہی نہیں کی اور کلمہ اسلام کی سر بلندی کیلیے کسی بھی طرح کی فدا کاری ،جانثاری سے دریغ نہیں کیا ،اپنی ذمہ داریوں میں ذرا برابر بھی کوتاہی نہیں برتی ،اپنی عظیم ذمہ داریوں کو بحسن وخوبی انجام دیا اور سماج میں اپنا مئوثر کردار یقینی امیدوں کے ساتھ نافذ کیا ۔
صدر اسلام کے مسلمانوں نے پیغمبر اسلامۖ سے سنا تھا کہ اسلام پھیلے گا اور بڑی بڑی فتوحات نصیب ہوں گی لیکن ان یقینی بشارتوں نے مسلمانوں کی قوت عمل کو کم نہیں کیا بلکہ اس میں اور اضافہ کردیا ان لوگوں نے نہایت ثابت قدم اور جواں مردی کے ساتھ اپنے مقاصد حاصل کیے ۔
آج بھی مسلمانوں پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہیں جنہیں استقامت اور ثابت قدمی کے ساتھ انجام دینا ضروری ہے لازم ہے کہ عصری تقاضوں کو پہنچانیں اور فرصت سے حتی الامکان استفادہ کریں۔
ہم حقیقتا میدان عمل میں موجود رہیں ،بری باتوں سے ایک دوسرے کو روکتے رہیں ،اچھائیوں کو پھیلا کر انہیں عملی بنائیں ،دشمن کے نفوذ پر پابندی لگائیں ،دشمنوں کی فکری ،اقتصادی ،سیاسی اور جنگی حملوں سے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کریں ،بہت جلد اور بہترین انداز سے تعمیر کردار کریں۔
تاکہ امام زمان کی نصرت اور زیارت کے لائق بن سکیں اور امام کی عنایتوں کے مستحق بن سکیں اور حضرت کے ظہور پر نور کے لیے زمین ہموار کریں ۔
امام زین العابدین فرماتے ہیں: کہ امام زمان کی غیبت طولانی ہوگی ،وہ لوگ جوان کی غیبت میں کے زامانہ میں ان کی امامت کے معتقد اور ان کے ظہور کے منتظر ہونگے وہ تمام زمانوں کے لوگوں سے بہتر ہیں ،کیونکہ خداوند عالم نے انہیں اس قدر عقل ،فہم اور معرفت عطا کی ہے کہ ان کے نزدیک غیبت کا زمانہ بالکل حضور امام کے زمانے جیسا ہے ،خدا نے ان لوگوں کواس زمانے میں ان مجاھدین کے مانند قرار دیاہے جوجنگ میں رسول خداۖ کے ہمرکاب تھے ،یہ لوگ واقعاً مخلص ہیں اور حقیقی شیعہ ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو پوشیدہ اور علانیہ طورپر لوگوں کو خد ا کی طرف بلاتے ہیں ۔
امام زمان پر پختہ ایمان رکھنا
غیبت امام زمانہ میں ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں ؟جب خدا کی آخری حجت پردہ غیبت میں ہے تو ہمیںکس طرح اس کی طرف سے عائد ہونے والی ذمہ داریوں کو انجام دینا چاہیئے؟
این باب اللہ التی منہ یوتی
کہاں ہے وہ باب اللہ کہ جس سے داخل ہواجاتاہے
حضرت امام زمان ہی وہ امام وقت ہیں ،حجت خدا ہیں ،روح بقائے کائنات ہیں کہ جن کے ذریعہ اللہ تعالی تک پہنچا جاسکتاہے ۔ خدا وند متعال کی بارگاہ میں اپنے اعمال کو قبولیت کی منزل تک پہنچایا جاسکتاہے ۔امام زمانہ کی غیبت نے ان کے چاہنے والوں کو ظاہری رسائی سے ضرور دور کردیا ہے۔ لیکن بے کس ولاچار شیدائی کسی نہ کسی طریقہ یا بہانے سے ان کی یاد کو باقی رکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں تاکہ امام بر حق کا ادنی سا حق ادا ہوجائے جن کے وجود مقدس سے یہ نظام کائنات باقی ہے اور چاروں طرف حیات جہاں میں شادابی پائی جاتی ہے ۔
امام زمان کی بے پناہ عنایتوں ،الطاف اور اکرام کو سامنے دیکھتے ہوئے ، ہم اہل بیت طاہرین کے چاہنے والوں پر اس دور غیبت کبری میں بہت سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
جن کو انجام دیتے رہنا ہمارا فرض بن جاتا ہے جس طرح سابق ائمہ معصومین کی حیات طیبہ میں ان کے صحابیوں نے اپنے زمانے کے امام کا ساتھ دیا وقت پڑا تو دفاع کیا دین پر آنچ آئی تو قربان ہوگئے ، کبھی اپنے بچوں کو نثار کردیا.......وغیرہ۔
تاریخ میں جانباز صحابیوں کی قربانیاں دیکھ کر ، آج کے دور میں بھی شیعوں اور محبوں پر امام عصر کی طرف بہت سی ذمہ داریاں اور فرائض عائد ہوتے ہیں ، انہیں فرائض کو مکیاں المکارم فی فوائد الدعاء للقائم ، (مولف آیة اللہ موسوی اصفہانی ) کی کتاب سے ترجمہ و تلخیص قارئین محترم ، منتظرین امام منتظر کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں ۔
مولف نے اپنی کتاب میں منتظرین کے کل ٨٨ فرائض بیان کئے ہیں۔ اس کتاب کے بارے میں اتنا جان لینا کافی ہے کہ امام عصر نے خواب میں ان عالم بزرگوار کو اس کا یہ نام دینے کا حکم دیا تھا ۔ آیة اللہ موسوی نے آیات کی روشنی میں ان تمام فرائض و ذمہ داریوں کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا اورہمارے بزرگ شیعہ علماء نے آیات اور روایات کی روشنی میںبعض ذمہ داریاں بیان کی ہیں جن میں سے چندذمہ داریاںآپ کی خدمت میں پیش کی جارہی ہیں۔
١۔حضرت کی غیبت میں ، ان کے اخلاق کی پیروی کریں اور ان کے نقش قدم پر چلیںجب کوئی مومن امام کو اپنا نمونہ عمل پاکر، ان کے اخلا ق و کردار پر چلنے کی کوشش کرتا ہے تو یہی وہ حقیقی ماموم ہوتا ہے یعنی وہ امام کی اطاعت کرتا ہے ۔ اس کا یہ عمل کمال ایمان ہے ، تمامیت اتباع امام ہے وہ روز قیامت ان حضرت کے ہمراہ ہوگا جنت میں بھی ان ہی کے ساتھ ہوگا۔
امیر المومنین نے فرمایا:
الا و ان لکل ماموم اماما یقتدی بہ و یستضی ء بنور علمہ۔
یادر ہے ! کہ ہر ماموم کا ایک امام ہوتا ہے کہ جس کی وہ پیروی کرتا ہے اور اس کے نور علم سے فائدہ اٹھاتا ہے (١)
روایت میں ہے کہ :
کبھی خداوند متعال کسی بندہ کو دوست رکھتا ہے لیکن اس کے کردار سے غضبناک ہوتا ہے اور کبھی کسی بندہ سے غضبناک ہوتا ہے لیکن اس کے کردار کو دوست رکھتا ہے ۔
اس شخص کی فضیلت میں جو آپ کی غیبت میں آپ پر ایمان لایا اور آپ کی محبت پر باقی رہا
اس جگہ چند حدیثیں بیان کرتے ہیں
کمال الدین ۔ احمد ب زیاد بن جعفر ھمدانی نے علی بن ابراہیم بن ہاشم سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے بسطام بن مرہ سے انہوں نے عمر و بن ثابت سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: سید العابدین ، علی بن الحسین نے فرمایا:
جو شخص ہمارے قائم کی غیبت میں ہماری محبت پر باقی و ثابت رہا ِ، خدا اس کو بدرواحد کے ہزار شہدوں کے برابر اجر عطا کرے گا۔
کمال الدین ۔ اپنی سند سے امام جعفر بن محمد سے آپ نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے جد علی بن ابی طالب سے ایک طویل حدیث میں جو کہ نبی ۖ کی وصیت سے متعلق ہے ۔ ذکر کیا ہے کہ رسول ۖ نے آپ نے فرمایا:
اے علی ! جان لو کہ ایمان کے لحاظ سے حیرت انگیز ترین انسان اور یقین کے اعتبار سے سب سے عظیم وہ لوگ ہیں جو آخری زمانہ میں ہے کہ حجت کو ان سے پوشیدہ رکھاجائے گا ۔وہ تاریکی سے رونی پر ایمان لائے ہیں۔(2)
کمال الدین ۔ محمد بن الحسن بن احمد بن الولید نے محمد بن الحسن الصفار سے انہوں نے احمد بن ابی عبداللہ البرقی سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے ابن المغیرہ سے انہوں نے مفضل بن صالح سے انہوں نے جابر سے انہوں نے ابو جعفر باقر سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ جس میں ان کے امام ان کی نظرون سے غائب ہوجائیں گے ، خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس زمانہ میں ہمارے امر پر ثابت رہیں گے۔
ان کاادنی ثواب یہ ہے کہ انہیں خداندادے گا ۔ فرمائے گا :میرے بندو! میری کنیز و !تم میرے راز پر ایمان لائے میرے غیب کی تصدیق کی ، میری طرف سے اچھے ثواب کی خوشخبری لو ، اے میرے بندو اور اے میری کنیزو ! میں تسلیم کرتاہوں کہ تمہارا حق ہے ، تم سے درگذر کرتاہوں اور تمہیں بخش دیتا ہوں اور تمہاری وجہ سے میں اپنے بندوں کو بارش سے سیراب کرتاہوں اور ان سے بلاء کو دفع کرتا ہوں، اگر تم نہ ہوتے تو ان پر ضرور اپناعذاب کرتا ۔ جابر کہتے ہیں :
میں نے عرض کی : فرزند رسول کونسی چیز افضل ہے کہ جس پر اس زمانہ میں مومن عمل کرے فرمایا: زبان پر قابورکھنا اور گھر میں رہنا۔
کمال الدین ۔ محمد ب موسی بن المتوکل نے محمد بن یحیی العطار سے انہوں نے احمد بن محمد بن عیسی سے انہوں نے عمر بن عبد العزیز سے انہوں نے ہمارے بہت سے اصحاب سے اور انہوں نے داؤد بن کثیر رقی سے انہوں نے ابو عبداللہ سے خداوند عالم کے اس قول ''الذین یومنون بالغیب'' کے بارے میں روایت کی ہے آپ نے فرمایا:
جو حضرت قائم کے قیام سے پہلے اس بات پر ایمان لایا کہ وہ حق ہیں ۔(یہی غیب پر ایمان ہے)
کمال الدین ۔ علی بن احمد الدقاق نے احمد بن ابی عبداللہ کوفی سے انہوں نے موسی بن عمران نخعی سے انہوں نے اپنے چچا حسین بن یزید سے انہوں نے علی بن ابی حمزہ نے یحیی بن ابی القاسم سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:
میں نے امام صادق سے انہوں نے یحیی بن ابی القاسم سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے امام صادق سے خدا کے اس قول ''الم ذلک الکتاب لا ریب فیہ ھدی للمتقین الذین یومنون بالغیب ''
کے بارے میں دریافت کیا تو فرمایا: متقین سے مراد شیعیان علی ہیں اور اور غیب سے مراد غائب و حاضر کیلئے حضرت حجت ہیں اور یہ خدا کا قول ہے ''و یقولون لولا انزل علیہ آیت من ربہ فقل انما الغیب للہ فانتظر و انی معکم من المنتظرین ''اس حدیث کو المحجة میں اسی اسناد کے ساتھ بس اس فرق کے ساتھ کہ اس میں احمد بن ابی عبداللہ کوفی کی بجائے محمد بن ابی عبداللہ کوفی لکھاہے اور لکھا ہے کہ غیب سے مراد حجت القائم ہیں اور یہی اس کا ثبوت ہے ۔
کمال الدین ۔مظفر علوی نے محمد ن جعفر بن مسعود اور حید بن محمد بن نعیم سمرقندی اور نہوں نے محمد بن عیسی سے انہوں نے یونس بن عبدالرحمن سے انہوں نے علی بن ابی حمزہ سے انہوں نے ابو بصیر سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:
خدا کے اس قول ''یوم یاتی بعض آیات ربک لا ینفع نفسا ایمانھا لم تکن آمنت من قبل اور کسبت فی ایمٰنھا خیرا کے بارے میں جعفر صادق بن محمد نے فرمایا:
یعنی ہم میں قائم المنتظر مراد ہیں ( یعنی جو شخص آپ کے ظہور سے پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا یا اس ایمان سے پہلے اس نے کوئی نیک کام انجام نہیں دیا ہو گا تو اس کا ایمان کوئی فائدہ نہیں پہچا سکے گا) اور فرمایا:
اے ابوبصیر خوش نصیب ہیں ہمارے قائم کے شیعہ جو کہ ان کی غیبت کے زمانہ میں ان کے ظہور کے منتظر ہیں اور ظہور کے زمانہ میں ان کے فرمانبردار ہیں۔
یہی تو اخدا کے اولیاء ہیں کہ جن پر نہ خوف طاری ہوتا ہے اور نہ وہ رنجیدہ ہوتے ہیں،۔
کمال الدین ۔ مظفر بن جعفر بن مظفر علوی سمرقندی نے جعفر بن محمد بن مسعود عیاشی سے انہوں نے جعفر بن احمد سے انہوں نے عمر کی بن بحر نوفلی سے انہوں نے حسن بن علی بن فضال سے انہوں نے مروان بن موسی سے انہوں نے مسلم سے انہوں نے ابو بصیر سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: امام جعفر صادق بن محمد نے فرمایا طوبیٰ ہے اس شخص کیلئے جس نے ہمارے قائم کی غیبت کے زمانہ میں ہمارے امر سے تمسک کیا اور ہدایت کے بعد اس کے دل میں کجی پیدا نہ ہوئی عرض کیا گیا:
میں قربان یہ طوبیٰ کیاہے؟فرمایا:جنت میں ایک درخت ہے جسکی جڑ علی بن ابی طالت کے گھر میں ہے اور ہر مومن کے گھر میں اس کی ایک شاخ ہے اور یہ خدا کا قول ہے : طوبی لھمو حسن مآب ان کیلئے طوبیٰ اور بہترین جائے بازگشت ہے ۔
کتاب المحجة سے ، اس میں یزید بن معاویہ عجلی سے اور انہوں نے امام محمد باقر سے خدا کے کے اس قول ''یا ایھا الذین آمنوا اصبروا و صابروا و رابطوا''کے بارے میں فرمایا: یعنی فرائض کی ادائیگی پر صبر اور اپنے دشمن کے اذیت پر صبر کرو اور امام مہدی منتظر سے رابطہ قائم کرو۔(3)
زمین سے چمٹ جاؤ ، بلاؤں پر صبر کرتے رہو اور اپنی زبان کی خواہشوں سے مغلوب ہو کراپنے ہاتھوں اور تلواروں کو حرکت نہ دو اور جس میں خدا نے تمہارے لئے جلدی نہیں کی ہے اس میں جلدی نہ کرو کیونکہ مین جو شخص خدا اور اس کے رسول ۖ اور ان کے اہل بیت کے حق کو پہنچانتے ہوئے اپنے بستر پر مجائے تو وہ شہید مرتاہے اور اس کا اجر خدا کے ذمہ ہے اور جس نیک عمل کی اس نے نیت کی ہے اس کے ثواب کا مستحق ہے اور اس کی یہ نیت تلوار کھینچنے کے برابر ہے بیشک ہر چیز کی ایک مدت و میعاد ہوتی ہے۔(4)
غیبت الشیخ ۔ فضل بن شاذان نے حسن بن محبوب سے انہوں نے عبداللہ بن سنان سے انہوں نے عبداللہ سے روایت کی ہے کہ آپ فرمایا:رسول ۖ کا ارشاد ہے کہ تمہارے بعد ایک قوم آئے گی کہ جس کے ایک آدمی کا اجر تمہارے پچاس آدمیوں کے اجر کے برابر ہے ۔صحابہ نے عرض کی اے اللہ کے رسول ۖ : ہم بر ، احد اور حنین میں آپ ۖ کے ساتھ تھا اور ہمارے بارے میں قرآن میں آیتین بھی نازل ہوئی ہیں۔ فرمایا: اگر تم اس مصیبت کو اٹھا تے جو وہ اٹھائیں گے تو ان جیسا صبر نہ کر پاتے ۔ خرائج میں بھی ایسی ہی حدیث نقل ہوئی ہے۔
غیبت الشیخ۔فضل بن فضال نے ثعلبہ بن میمون سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:اپنے امام کو پہچانو!جب تم انہیں پہچان گے تو تمہیں اس امر کے تقدم و تاخر سے کوئی تکلیف نہیں ہوگی اور جس نے اپنے امام کو پہچان لیا اور پھر وہ اس امر کو دیکھنے سے پہلے ہی مرگیا اور اس کے بعد حضرت قائم کا خروج ہوا تو اس کا اجر اس شخص کی مانند ہو گا جو کہ حضرت قائم کے ساتھ ان کے خیمہ میں ہوگا۔
غیبت الشیخ ۔ فضل نے ابن فضال سے انہوںنے مثنی الحناط سے انہوں نے عبداللہ بن عجلان سے انہوں نے ابو عبداللہ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: جس نے اس امر کو پہچان لی اور پھر وہ حضرت قائم کے قیام کرنے سے پہلے مرگیا تو اس کا اجر اس شخص کے برابر ہے جس نے آپ کی رکاب میں رہ کر جنگ کی۔
بحار الانوار ۔ میں صدوق کی مجالس سے اپنی سند سے عوف بن مالک سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ایک دن رسول ۖ نے فرمایا: اے کاش میں اپنے بھائیوں سے ملاقات کرلیتا۔
ابوبکر و عمر نے عرض کی : کیا ہم آپ ۖ کے بھائی نہیں ہیں کیا ہم آپ پر ایمان نہیں لائے اور آپ ۖ کے ساتھ ہجرت نہیں کی؟فرمایا تم ایمان بھی لائے ہو اور تم نے ہجرت بھی کی ہے پھر آپ ۖ نے فرمایا:
اے کاش میں اپنے بھائیوں سے ملاقت کر لیتا : پھر وہی جملہ کہا گیا : تو رسول ۖ نے فرمایا: تم میرے صحابی ہو لیکن جو لوگ تمہارے بعد آئیں گے وہ میرے بھائی ہیں وہ مجھ پر ایمان لائیں گے ، مجھ سے محبت کریں گے ، میری تصیدق کریں گے حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہے ، اے کاش میں اپنے بھائیوں سے ملاقات کرلیتا۔
المحاسن ۔(کتاب الصفوة والنور ) میں اپنی سند سے فضیل سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا میں نے ابو جعفر سے سنا کہ فرماتے ہیں : جو شخص مرگیا ور اس کا کوئی امام نہیں تھا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی کوئی عذر نہیں پیش کر سکیں گے جب تک کہ اپنے امام کو نہیں پہچان لیں گے اور جو شخص مرگیا جبکہ وہ اپنے امام کی معرفت رکھتا تھا تو اسے اس امر کا تقدم و تاخر کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا اور جو شخص امامت کی معرفت رکھتے ہوئے مرگیا تو وہ شخص کی مانند ہے جو حضرت قائم کے ساتھ آپ کے خیمہ میں ہو۔
المحاسن ۔ کتاب الصفوة و النور)میں اپنے والد سے انہوں نے علاء بن سیابہ سے روایت کی ہے کہ انہوںکہا: ابو عبداللہ نے فرمایا:
تم میں سے جو شخص ہمارے اور امر پہ مرگیا تو وہ اس شخص کی مانند ہے کہ جس نے حضرت قائم کے رواق ۔ برآمدہ ۔ میں خیمہ لگا یا ہو بلکہ اس شخص کی طرح ہے کہ جس نے آپ کے ہمراہ اپنی تلوار سے جہاد کیا ہو بلکہ اس شخص جیسا ہے کہ جس نے آپ ۖ کے ساتھ شہادت ؛پائی ہو بلکہ اس شخص کے مثل ہے جس نے رسول ۖکے حضور میں شہادت پائی ہو۔
بحار الانوار ۔ تاریخ قم میں اپنی اسناد سے صفوان بن یحیی ابیاّع السابری سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: ایک روز میں ابوالحسن کی خدمت میں حاجر تھا کہ وہاں قم کے باشندوں اور حضرت مہدی کی طرف ان کے میلان کا ذکر چھڑ گیا تو آپنے فرمایا کہ خدا ان پر رحم کرے اور فرمایا:
رضی اللہ عنہم پھر فرمایا: بیشک جنت کے آٹھ دروازے ہیں اور ان میں سے ایک قم والوں کیلئے ہے تمام شہروں میں وہ ہمارے بہترین شیعہ ہیں ، ہمارے ولایت کو خدا نے ان کی طنیت میں خمیر کردیا ہے۔
الکافی ۔ اپنی سند سے ابو الجارود سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا۔ میں نے ابو جعفر کی خدمت میں عرض کی فرزند رسول ۖ !
کیا آپ جانتے ہیں کہ مجھے آپ سے کتنی محبت ہے ؟اور میری آپ ہی پر اکتفاء ہے اورآپ سے مودت و عقیدت ہے ؟ راوی کہتا ہے کہ آپ فرمایا :
ہاں ۔ راوی کہتا ہے ۔ میں نے کہا: میں آپ سے ایک مسئلہ دریافت کرنا چاہتا ہوں جواب مرحمت فرمائیں، مجھے کم دکھائی دیتا ہے ، سست رفتار ہوں اور ہر وقت آپ کی زیارت نہیں کرسکتاہوں۔ فرمایا تمہاری کیا حاجت ہے ؟
میں نے عرض کی مجھے اپنے اس دین سے آگاہ کیجئے جس سے خدا نے آپ کو اور آپ کے اہل بیت کو نوازا ہے تا کہ اس کے ذریعہ میں بھی خدا سے قریب ہوجاؤں ، فرمایا: اگر چہ تم نے بات چھوٹی کہی ہے اور سوال بڑا کیا ہے پھر بھی خدا کی قسم میں تمہیں اپنا اور آباء کے اس دین سے ضرور آگاہ کروں گا کہ جس سے خدا نے انہیں نوازا ہے ، وہ ہے ، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہنا اور اس چیز کا اقرار کرناجو رسول لائے ہیں اور ہمارے ولی کی ولایت کو تسلیم کرنا اور ہمارے دشمن سے بیزار رہنا اور ہمارے امر کو تسلیم کرنا ، ہمارے قائم کاانتظار اور کوشش و پاکدامنی سے کام لینا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم اپنے امام زمانہ کو مانتے ہیں، ان کی امامت پر عقیدہ رکھتے ہیں لیکن کبھی کبھی ہم اپنے برے اخلاق اور خراب کردار کی وجہ سے دشمن کو طعنہ اور عیب جوئی کا موقعہ دے دیتے ہیں ، جس کی بناپر امام وقت نشانہ بن جاتے ہیں، یہی سبب ہے کہ
امام صادق نے فرمایا۔
کونوا لنا زینا و لاتکونواعلینا شینا۔
تم لوگ ہمارے لئے باعث زینت بنونہ کو باعث ذلت ۔(5)
امام جعفر صادق فرماتے ہیں:
زبان کو استعمال کئے بغیر ، لوگوں کو مذہب کی طرف دعوت دو ۔یعنی اپنے اچھے کردار کے ذریعہ سے ۔
امام صادق فرماتے ہیں:
ہم کسی کو مومن میںشمار نہیں کرتے جب تک وہ ہمارے تمام امور کی پیروی نہیں کرتا ۔
ہم اس دنیا میں دیکھتے ہیں کہ کافر کو ہر نعمتوں کی فراوانی ( نعمتوں کی آسائش ) ہے وہ دولت ریاست عزت ظاہری و غیرہ میں پوری طرح سے ڈوبا ہوا ہے ور اس کے بر عکس ہمارے یعنی مومنین کے حالات بالکل خراب ہیں ، ان باتوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد ہمیں گمراہ نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ جن نعمتوں کا اللہ نے مومنین کو دینے کا وعدہ کیا ہے وہ ان سب سے کئی گناہ زیادہ اور بہتر ہے۔
جیسا کہ آیہ قرآنی نے اس طرف اشارہ کیا ہے۔
لا یغرنک تقلب الذین کفروا فی البلاد۔متاع قلیل ثم ماوھم جھنم و بئس المھاد ۔ لکن الذین اتقوا ربھم لھم جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا نزلا من عنداللہ و ما عندہ اللہ خیر للابرار۔(6)
خبردار تمہیں کفار کا شہر شہر چکر لگانا دھو کہ میں نہ ڈال دے ۔
یہ حقیر سرمایہ اور سامان تعیش ہے اس کے بعد جہنم ہے اور وہ بدترین منزل ہے ،لیکن جن لوگوں نے تقوی الہی اختیار کیا ان کے لئے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ۔ خدا کی طرف سے یہ
سامان ضیافت ہے اور جو کچھ اس کے پاس ہے سب نیک افراد کے لئے خیری ہے ۔
امام کا مقصد دین خدا کی ترویج اور تمام مخلوقات کا اپنے پروردگار کی اطاعت کرنا ۔پس جب مومن اطاعت خدا کی کوشش کرتا ہے اور گناہ سے دوری اختیار کرتا ہے تو کیا اس نے امام کے مقصد میں مدد کی ؟
جب مومن اطاعت سے قربت اور معصیت سے دور رہنے کی کوشش کرتا ہے تو لوگ اس مومن کی پروی کرنے کے لئے راغب و متوجہ ہوتے ہیں اور اس کا کردار امام کی حقانیت کو ثابت کرتا ہے کیونکہ اس کا یہ اچھا اخلاق اس بات کی دلیل ہے کہ امام نے ان باتوں کو بتایا ہے ۔
اس طریقہ سے اس نے امام وقت کی مدد ہے اور دشمنوں سے جنگ کی ہے ۔ امام کی اطاعت و پیروی ، گناہوں سے دوری سبب ہیں امام سے جنگ میں نزدیک ہونے کا ۔ اور کردارمیں امام کی مخالفت کرنے سے مومن امام کی قربت سے دور ہوجاتا ہے جیسے امام صادق ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے والدنے فرمایا:
میرے بیٹے بیشک اگر تم میرے کردا کے خلاف کام انجام دوگے توکل روز قیامت میرے گھر( میری منزل)کے پاس نہیں ہوگے ( یعنی میرے ساتھ نہیں ہوگے۔)(7)
٢۔ امام زمانہ کو یاد کرنا
قرآن کریم کی آیات اور ائمہ معصومین کی روایتوں سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ امام ہم پر ناظر و شاہد ہیں اور ہمارے تمام حالات ، حرکات اور سکنات کی اطلاع رکھتے ہیں ، اگر ہمیں اس بات کا احساس ہوجائے تو ہم ہر حال میں ہر جگہ ہر موقع پر یہی تصور کریں گے کہ امام ہمارے سامنے ہیں، ہمیں دیکھ رہے ہیں ، پس یہ خیال آتے ہی ہم ان تمام آداب و کردار کی رعایت اور وظائف کی بجا آوری کریں گے جن کی امام سے نسبت ہے ۔
مثال : ایک نابینا شخص کا بادشاہ سے ملاقات کرنا اور اس کے سامنے تمام آداب کا انجام دینا برابر نہیں ہے اس بینا شخص کے جو بادشاہ سے ملاقات اسے سامنے دیکھ کر کرتا ہے اور ان تمام آداب کو اسی طرح انجام دیتا ہے جیسا اس کا انجام دینے کا حق ہے ۔ اسی طرح جب کوئی مومن امام زمانہ کو اپنی ایمانی آنکھوں سے دیکھتا ہے تو وہ انہیں آداب و کردار کو انجام دیگا جو امام پسند کرتے ہیں۔
جیسا کہ علی اپنے ایک خطبہ میں فرماتے ہیں:
اے اللہ لازم ہے کہ تیری زمین تیری حجت سے خالی نہ رہے جولوگوں کو تیرے دین کی طرف ہدایت کرے اور تیرے دین کی تعلیم دے تا کہ تیری حجت باطل نہ ہواور تیرے اولیاء کی اتباع کرنے والے گمراہ نہ ہوں بعد اس کے کہ انہیں ہدایت مل چکی ہو۔
چاہے یہ حجت ظاہر ہو جس کی اطاعت نہ کی جارہی ہو یا پوشیہ ہو اور دشمن اس کی تاک میں ہو کہ خود لوگوں کی نظرون سے پوشیدہ ہوجبکہ لوگ ہدایت یافتہ ہوں اور اس کا علم اور احکام مومنین کے دلوں میں ثابت ہوں جب پر وہ عمل کریں۔(8)
پس مجھے یقین رکھنا چاہیئے کہ میں اپنے امام عصر کی نظروں سے دور نہیں ہوں ، وہ میری جگہ اور میرے حال سے آگاہ اور واقف ہیں، اگرمیں ان لوگوں میں سے بن جاؤں جو امام کی نسبت ان کے آداب و اخلاق کی رعایت کرتے ہیں تو میں ان کی (امام کی ) عنایت و محبت کو اپنی طرف کھینچ سکتا ہوں ۔
اور اگر میں اہل غفلت اور ان کی باتوں سے دوری اختیار کروں تو خداوند کریم آواز دے گا:
و من اعرض عن ذکری فان لہ معیشة ضنکا و نحشرہ یوم القیمة اعمی۔ قال رب لم حشرتنی اعمی و قد کنت بصیرا ۔ قال کذلک اتتک ایتنا فنسیتھا کذلک الیوم تنسی۔
اور جو میرے ذکر سے اعراض کرے گا اس کے لئے زندگی تنگ بھی ہی اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا بھی محشور کریں گے ۔وہ کہے گا کہ پروردگار یہ تونے مجھے اندھ اکیوں محشور کیاہے جب کہ میں دار دنیا میں صاحب بصیرت تھا ارشاد ہوگا کہاسی طرح ہماری آیتیں تیرے پاس آئی تھیں اور تونے انہیں بھلا دیا تو آج تو بھی نظر انداز کردیاجائے گا۔
( 9)اور یہی نہیں بلکہ:
قیامت کے دن لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ بلا یا جائے گا۔(10)
آخرت کی بربادی سے بچنے کے لئے اور اپنے امام وقت کی عنایت و توجہ کو اپنی طرف مبذول کرانے کے لئے ، امام کو خدا کی بارگاہ میں وسیلہ اور شفی قرار دیں ،انہیں ہر امور میں ( ہر کام میں )پناہگاہ قرار دیں ، جب مشکلات و سختی آئے تو امام کی بارگاہ سے لولگا ئیں۔
٣۔ امام زمانہ کی بارگاہ میں خدمت کے سلسلے میں کوشش کرنا
ہمیں اپنی زندگی میں جتنا ممکن ہوسکے ، امام زمانہ کی بارگاہ میں خدمت کرنے کی کوشش کرنا چاہیئے اس لئے کہ یہ زندگی انہیں حضرت کے با برکت وجود سے باقی ہے ۔ تمام فرشتے ان کی خدمت کرتے ہیں ، ان کے حکم کے مطابق امور جہان کو انجام دیتے ہیں، فرشتے امام کی اجازت کے بغیر بیٹھ بھی نہیں سکتے۔ اس لئے امام صادق اپنی زندگی میں آخری امام کی خدمت کرنے کے سلسلے میں ارشاد
فرماتے ہیں:!
لو ادرکتہ لخدمتہ ایام حیاتی (1١)
اگر میں ان کے دور (امام زمانہ ) کو پالینا تو اپنی ساری زندگی ان کی خدمت و نوکری میں صرف کردیتا ۔
اس روایت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ امام قائم کی خدمت کا اہتمام کرنا سب سے بڑی و بزرگترین اطاعت ہے اور تقریب الہی کا بہترین وسیلہ ہے ۔
امام زمانہ کی خدمت کی افضل ترین عبادت اور بہترین اطاعت کی وجہ یہ ہے کہ:
١۔امام کی ولایت:
ولایت مطلقہ ہے اور خدا و رسول کی طرف سے حضرت کی جانشینی۔
٢۔ امام کا حق پدری:
امام رضا ارشاد فرماتے ہیں:الامام الایس الرفیق والوالد الشفیق ۔(1٢)
امام ایک مہربان دوست اور شفیق والدہیں۔
رسول اکرم ۖ :
انا و علی ابواھذہ الامة۔
میں اور علی اس امت کے باپ ہیں۔
اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ان کا حق ہمارے ظاہری والد سے کئی گناہ زیادہ ہے ۔ امام ہمارے روحانی والد ہیں، ہماری نگہداشت کرتے ہیں۔
حق ، ایمان و اسلام :
جو شخص مسلمان و مومن ہوتا ہے ، ان کی خدمت کرنے کا ثواب ، آخرت میں ایک خدمتگذار کو پانے کا ہے ۔
رسول نے فرمایا:
جو مسلم کسی مسلمان قوم کی خدمت کرتا ہے تو خداوند متعال اسے جنت میں خدمت کرنے والوں کے برابر اتنے ہی خادم عطا کرے گا ۔
امام عصر کی خدمت کرنے کا طریقہ
١۔ان کاموں بجالانا جس کا امام نے حکم دیاہے ۔
٢۔وہ کام جس سے ان حضرت ۖ کی عزت و توقیر میں اضافہ ہو۔
٣۔حضرت کی بارگاہ میں احسان کرنا۔
٤۔آنحضرت کی نصرت و مدد کے ذریعہ۔
٢۔آنحضرت کی یاد تذکرہ کے لئے مجلسوں ،محفلوں کا بر پاکرنا منعقد کرنا۔
٣۔ امام زمانہ کے متعلق کتابوں کی تصنیف کرنا، تالیف کرنا۔
٤۔ ان حضرت پردرود و سلام بھیجنا۔
٥۔ امام زمانہ کے دوستوں ، چاہنے والوں اور شیعوں پر بہ قصد خدمت امام ، احسان کرنا۔
روایات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ امام کے دوستوں اور شیعوں پر احسان کرنامساوی ہے (برابری ہے )امام زمانہ پر احسان کرنے کے۔
٦۔ ان حضرت کے دوستوں اور شیعوں سے نیک برتاؤ کرنا وابستگی رکھنا برابر و مساوی امام کے ساتھ نیک برتاؤ کرنے کے اور انہیں ہلکا یاذلیل سمجھنا بھی برابر ومساوی ہے امام کو ہلکا سمجھنے کے امام موسی کاظم سے روایت ہے۔
منلم یقدر ان یزورنا فلیزر صالحی موالینا یکتب لہ ثواب زیارتنا ،ومن لم یقدر علی صلتنا فلیصل صالحی موالینا یکب لہ ثواب صلتنا۔( کامل الزیارات باب ١٠٥)
جو ہمارے زیارت کی استطاعت نہیں رکھتا ہے اسے چاہئے کہ ہمارے نیک چاہنے والوں کی ملاقات کرے تو اس کے لئے ہماری زیارت کا ثواب لکھا جائے گا جو ہم سے جڑنے ( وابستگی) کی استطاعت نہیں رکھتا ہے تو اسے چاہیئے کہ ہمارے نیک چاہنے والوں سے جڑے تو اس کے لئے ہم سے جڑنے کا ثواب لکھا جائے گا ۔
٤۔ مال کے ذریعہ امام عصر سے وابستگی
ہر مومن مرد و عورت کو چاہیئے کہانے مال میں سے کچھ حصہ امام زمانہ کے لئے نکالے ۔ یہ کام ہر سال کرنا چاہیئے ، اس عمل خیر میں امیر و فقیر برابر ہیںمگر یہ کہ دولتمند اپنی توانائی کے حساب سے اور غریب اپنی استطاعت کی بناپر نکالنے کے لئے مکلف ہیں۔
روایتوں میں مال کے نکالنے کی مقدار کو معین نہیں کیا ہے یہ عمل مستحب موکدہ ہے بلکہ ائمہ کی تعبیر میں بہ عنوان فریضہ قرار دیا ہے۔
امام صادق سے روایت ہے:
جس نے گمان کیا کہ امام لوگوں کے مال کا محتاج ہے تو وہ کافر ہے بلکہ لوگ اس کے محتاج ہیں کہ امام ان کا مال قبول کرلیں۔
خداوند عالم فرماتا ہے:
خذ من اموالھم صدقة تطھر ھم و تزکیھم بھا۔(13)
ان کے اموال کولے تا کہ وہ صدقہ و گیرہ دینے کی وجہ سے پاک و صاف ہوجائیں۔(14)
راوی نے امام موسی کاظم سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا۔
من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا فیضعفہ لہ اضعافا کثیرة۔( 15)
جو اللہ کو قرض حسنہ دے وہ اس کو دو چند واپس دے گا اور اس کے لئے بہت بڑا اجر ہے ۔
امام نے فرمایاک، اس سے مراد امام تک مال پہونچاناہے۔
امام صادق نے فرمایا:
ایک درہم جو امام تک پہونچایا جائے وہ کو ہ اُحُد کے وزن سے گراں تر ہے ۔
یا دوسری روایت میں:
بہتر ہے ان لاکھوں درہم سے جو کسی امر خیر میں خرچ کیا جائے۔
تفسیر برہان میں امام صادق سے روایت ہے کہامام باقر نے فرمایا:
جو شخص اگر ایک سال میں اپنے مال امام تک کچھ نہ پہونچائے تو خداوند عالم روز قیامت اس کی طرف نظر رحمت نہیں کریگا بلکہ اس سے اپنی نظر ہٹالے گا۔
ان تمام روایت کا خلاصہ یہ ہے:
١۔امام زمانہ کی بارگاہ میں،زمانہ غیبت میں مال کے ذریعہ سے وابستگی رکھنا زمانہ ظہور کے بعد انجام دینے سے بہتر ہے ۔
٢۔زمانہ غیبت میں اپنے مال کے ذریعہ وابستگی رکھنے سے ،امام کو راضی و خوشنود کرتے ہیں ۔ چاہے
ہم امام کے متعلق کتابیں چھاپیں ، ان کی یاد کو تازہ کرنے کے لئے مجلس منعقد کریں اور لوگوں کو ان کی طرف دعوت دیں ، چاہنے والوں اور شیعوں کی مال سے مدد کریں ، وہ علماء جو ترویج دین میں مصروف ہیں ان کی مدد کریں ، وغیرہ.....۔
٣۔ اپنے مال کو امام کی بارگاہ میں پیش کرکے ہم اپنے مال کوپاکیزہ و طاہر بناتے ہیں جو ہمارے دیگر اعمال کی طہارت کی ضمانت بن جاتا ہے۔
بیان شدہ چند ذمہ داریوں میں دیگر اہم ذمہ داریاں بھی شامل ہیں:
١۔ حضرت کی غیبت کے زمانہ میں ،امام زمانہ کے اخلاق کی پیروی کرنا اور اسے اپنا نے کو کوشش کرنا۔
٢۔ امام زمانہ کو یاد کرنا۔
٣۔امام زمانہ کی بارگاہ میں خدمات کے سلسلے میں کوشش کرنا۔
٤۔مال کے ذریعہ سے ، امام عصر سے وابستگی۔
بارگاہ امام زمانہ میں ہم دعا گوہیں کہ دوبارہ ان کے چاہنے والوں کی خدمت میں بقیہ ذمہ داریاں بھی پیش کرنے کی توفیق عنایت فرمائیں گے ۔
منتظرین امام زمان کا نظام زندگی
اپنی ہر صبح کاآغاز امام کی خدمت میں سلام :
السلام علیک یا مولای یا صاحب الزمان سے کریں۔
ہر صبح و شام امام عصر کی سلامتی کی دعا کریں، آپ کی سلامتی کیلئے صدقہ دیں۔
امام کی طرف سے مستحب کام انجام دیں یا کم از کم دو رکعت نماز مستحبی پڑھ کر اس کا ثواب امام کو ہدیہ کریں۔
خداوند عالمی کی باراہ میں امام کی معرفت کیلئئے دعا کریں۔
امام کی خوشنودی کے لئے رشتہ داروں سے صلہ رحم کریں ۔ کسی ایک رشتہ دار سے ملاقات کریں یا اس کی خیریت دریات کریں۔
اہل بیت خاص کر امام سے متعلق چند صفحات کا ضرور مطالعہ کریں۔
کسی ایک فرد سے اہل بیت خاص کر امام عصر سے متعلق گفتگو کریں۔
لوگوں کو امام عصر کی طرف دعوت دیں۔
خداکی بارگاہ میں امام کے اعوان و انصار میں شامل ہونے کی دعاکریں۔
امام عصر کے دوستوں ، ان کے خدمت گذاروں کے لئے دعا کریں ۔
روزانہ نماز صبح کے بعد دعائے عہد پڑھیں ۔
توبہ و استغفار کریں، کیونکہ ہمارے گناہ ہی ان سے دوری کا سبب ہیں۔
جمعہ کے دن دعائے ندبہ اور امام زمان کی زیارت ضرورپڑھیں ، اور زیارت روز جمعہ پڑھنا نہ بھولیں۔
امام عصر کے روز ولادت (١٥ شعبان ) کی مناسبت سے اپنے گھر میں جشن کا ضرور انتظام کریں ، چاہے وہ کتنا ہی مختصر ہی کیوں نہ ہویا کسی جشن کے پرگرام میں شرکت کریں ۔
انشاء اللہ امام عصر کی دعائیں آپ کے ساتھ ہوں گی ۔
آپ کی نسبت آپ کی رعیت اور شیعوں کے بعض فرائض
١۔ غیبت النعمانی ۔ محمد بن ہمام نے جعفر ب محمد بن مالک سے انہوں نے عباد بن یعقوب سے انہوں نے یحیی بن علی سے انہوں نے زرارہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:میں نے سنا کہ ابوعبداللہ فرماتے ہیں قائم کے ظہور سے پہلے غیبت سے ، میں نے عرض کی کیوں؟ فرمایا:خوف محسوس کرتے ہیں اور اپنے ہاتھ سے اپنے شکم کی طرف اشارہ کیا پھر فرمایا:
اے زرارہ یہ وہ منتظر ہیں کہ جنکی پیدائش کے بارے میں شک کیا جائے گا چنانچہ بعض تو کہیں گے کہ ان کے والد مرگئے اور ان کوکوئی اولاد نہیں تھی ، بعض کہیں گے حمل تھا، بعض کہیں گے وہ غائب ہیں بعض کہیں گے وہ اپنے والد کی وفات سے دوسال قبل پیدا ہوئے تھے اور وہ منتظر ہیں مگر یہ خدا ۔چاہتا ہے کہ ۔شیعوں کے دلوں کا امتحان لے ، اس وقت باطل پرست شرک میں پڑجائیں گے ، زرارہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی :
میں قربان ! اگر میں اس زمانہ کو پاؤں تو کیا عمل انجام دوں ؟فرمایا اے زرارہ ! اگر تم اس زمانہ کو پاجاؤ! تو اس دعا کوپڑھو :
اللھم عرفنی نفسک فانک ان لم تعرفنی نفسک لم اعرف نبیک ( لم اعرفک نخ ) اللھم عرفنی رسولک فانک ان لم تعرفنی رسولک لم اعرف حجتک اللھم عرفنی حجتک فانک ان لم تعرفنی حجتک ظللت عن دینی۔
. تو مجھے اپنی معرفت عطا کردے کییونکہ اگر تو مجھے اپنی معرفت سے نہیں نوازے گا تومیں تیرے نبی کی معرفت حاصل نہیں کرسکوں گا اپنے رسول ۖ کی معرفت عطا کردے کیونکہ۔
اگر میں تیرے رسول ۖ کی معرفت نہیں حاصل کرسکوں گا تو تیرے حجب کو بھی نہیں پہچان سکوں گا، اے اللہ ! مجھے اپنی حجت کی معرفت عطافرما کیونکہ اگر تو مجھے اپنی حجت کی معرفت سے محروم رکھے گا تو میں اپنی دین سے بھٹک جاؤں گا۔
پھر فرمایا: اے زرارہ !مدینہ میں ایک غلام کا قتل ضروری ہے ، میں نے عرض کی : قربان جاؤں ! یہ وہی تو نہیں ہے جس کو سفیانی کا لشکر قتل کرے گا ؟ فرمایا: نہیں۔ بلکہ اس کو فلاں خاندان کا لشکر قتل کرے گا، وہ خروج کرے گا ۔
یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہوگا اور لوگ یہ بھی نہ سمجھ سکیں گے کہ وہ کس لئے آیا ہے چنانچہ وہ غلام کو پکڑکر قتل کردے گا جب وہ ظلم و جور اور سرکشی سے غلام کو قتل کردے گا تو خدا نہیں مہلت دے گا ، اس وقت فرج کی توقع کی جائیگی کافی میں اپنی سند سے اور کمال الدین میں اپنی سند سے ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔( 16)
(کتاب مکیال المکارم کے آٹھویں باب میں آپ کے بارے میں بندوں کی ایسی ذمہ داریاں اور تکالیف لکھی ہیں ان میں سے ہرایک پرسیر حاصل بحث کی ہے
١۔ آپ کے آداب و صفات ، خصائص اور آپ کے ظہور کی حتمی علامتوں کی معرفت حاصل کرنا، آپ کا ذکر ادب کے ساتھ کرنا۔یعنی صرف آپ کے القاب ، حجت ، قائم ، مہدی ، صاحب الزمان اور صاحب الامر ، ہی سے آپ کا ذکر کرنا ۔ کھلم کھلا آپ کا نام نہ لینا ، آپ کانام وہی ہے جو رسول ۖ کا نام ہے، آپ کا نام لینا کے سلسلہ میں علماء کے درمیان اختلاف ہے اس سلسلہ میں بہت سی حدیثیں نقل ہوئی ہیں۔
ان میں سے بعض کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کا نام لینا حرام ہے جو آپ کا نام لیے سمجھتے ہیں، یہاں اس سے بحث کرنے کا وقت نہیں ہے بلکہ اس سے ہم اپنی دوسری کتاب ۔ جو اس کتاب کا تتمہ کے طور پر لکھنے کا ارادہ کیا ہے ۔ میں بحث کریں گے لہذا احتیاط سے کام لیتے ہوئے اور مسلک احتیاط پر چلتے ہوئے یہی کہتے ہیں کہ عام محافل و مجالس میں صراحت کے ساتھ آپ کا نام لینا جائز نہیں ہے۔
انہیں ذمہ داریوں میں سے ایک یہ بھی ہے : خود بھی آپ سے محبت کریں اور دوسروں میں انہیں محبوب بنائیں ، آپ کے ظہور و فرج کا انتظار کریں آپ سے ملاقات کے اشتیاق کا اظہار کریں ،آپ کے
فضائل و مناقب بیان کریں ، آپ کے فراق میں مغموم و محزون رہیں ان محافل و مجالس میں شریک ہوں جن میں آپ کے فضائل و مناقب بیان ہوتے ہیں کہ آپ کے فضائل نشر کریں اور اس سلسلہ میں پیسہ خرچ کریں کہ یہ دین خدا کی ترویج اور اس کے شعائر کی تعظیم ہے ، آپ کی نیابت میں حج کریں ، آپ کی طرف سے کسی کو نائب کر حج و طواف کیلئے بھیجیں ۔
آپ کی طرف سے نیابت رسول ۖ اور ائمہ کے مشاہد مشرفہ کی زیارت کیلئے بھیجیں ، فرائض یومیہ کے ہر فریضہ یا روز جمعہ کو آپ سے تجدید بیعت کریں ، مستحب ہے کہ فریضہ کے بعد تجدید بیعت کریں۔
جیسا کہ امام صادق سے روایت کی گئی ہے ۔ اس موضوع پر امام صادق سے متصل السند احادیث نقل ہوئی ہیں ۔ فرمایا: جو ہر صبح کو چالیس روز تک پڑھے گا وہ حضرت قائم کے انصار میں ہوگا دعا کا سرنامہ یہ ہے : بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم رب النور العظیم .الخ
ان کے نیک و پرہیزگار شیعوں کی مالی مدد کرے ، مومنوں کو خوش کرے کہ یہ آپ کی مسرت کا باعث ہوتا ہے آپ کی طرف متوجہ ہو کر زیارت پڑھے ۔ سلام کرے ، آپ سے توسل کرے اور آپ کو خدا کی بارگارہ میں اپنا شفیع بنائے آپ سے استغاثہ کرے آپ سے اپنی حاجت طلب کرے آپ کی طرف لوگوں کو بلائے ان کی راہنمائی کرے۔
آپ کے حقوق کی رعایت و حفاظت کرے نفس کور ذیل صفات سے پاک کرے اور اخلاق حمیدہ کے زیور سے اسے آراستہ اور ان سے جسمانی یا روحانی نسبت رکھنے والوں ، جیسے سادات ، علماء اور مومنین کا تقرب حاصل کرے اور ان کے ٹھہرنے اور آنے جانے کی جگہوں جیسے مسجد سہلہ ، مسجد اعظم کوفہ و غیرہ کے تعظیم کرے ۔
آپ کے ظہور کا وقت مقرر کرنے سے پرہیز کرے ، اور وقت مقرر کرنے والوں کی تکذیب کرے اسی طرح نیابت خاصہ کا دعوی کرنے اور غیبت کبری میںوکالت کا دعوی کرنے والوں کو جھٹلائے اور آپ سے ملاقات کرنے میں کامیابی کے لئے کوشش کرے اور اس کیلئے خدا سے دعا کرے اور اعمال و اخلاق اور سید الشہداء اور نبی و معصومین کی زیارت میں آپ کی اقتداء کرنا کہ یہ امام زمانہ کے ساتھ تعلق ہے
۔ برادران کے حقوق ادا کرے مصباح المتہجد ۔ ایک جماعت نے بتایا ہے کہ جس نے ابو محمد ہارون بن موسی تلعکبری سے روایت کی ہے کہ ابو علی محمد بن ہمام نے انہیں اس دعا کی خبر دی اور بتایا کہ شیخ ابو عمر عمر وی قدس اللہ روحہ نے انہیں املا کرایا اور کہا کہ اس کو پڑھا کرو یہ دعا قائم آل محمد ۖکی غیبت کے بارے میں ہے:
اللھم عرفنی نفسک فانک ان لم تعرفنی نفسک لم اعرف رسولک اللھم عرفنی رسولک فانک ان لم تعرفنی رسولک لم اعرف حجتک اللھم عرفنی حجتک فانک ان لم تعرفنی حجتک ظللت عن دینی۔
اے اللہ مجھے اپنی معرفت عطا کردے کیونکہ اگر تومجھے اپنی معرفت نہیں عطا کرے گا تو میں تیرے رسول کونہیں پہچان سکوں گا۔ اے اللہ ! مجھے اپنے رسول ۖ کی معرفت عطا کردے کیونکہ اگر تو مجھے اپنے رسول ۖ کی معرفت سے نہیں نوازے گا تو مجھے اپنی حجت کی معرفت حاصل کرسکوں گا اے اللہ ! مجھے اپنی حجت کی معرفت عطا کردے کیونکہ اگر تو مجھے اپنی حجت کی معرفت سے نہیں نوازے گا تو میں اپنے دین سے دور ہی رہوں گا۔
اللھم لا تمتنی میتة جاھلیة ولاتزغ قلبی بعد اذھدیتینی اللھم فکما ھدیتنی لولایة من فرضت علی طاعة من ولایة (ولاة نخ جمال الاسبوع) بعد رسولک صلواتک علیہ و الہ حتی والیت ولاة امرک امیر المومنین و الحسن و الحسین و علیاو محمدا و جعفرا و موسی و علیا و محمدا و علیا و الحسن والحجة القائم المھدی صلواتک علیھم اجمعین۔
اے اللہ! مجھے جاہلیت کی موت نہ دینا اور ہدایت عطا کرنے کے بعد میرے دل کو کج نہ کرنا ، اے اللہ ! جس طرح تو مجھ پر واجب کی ہے یہاں تک کہ میں نے تیرے ولی امر ، امیر المومنین ، حسن و حسین ، علی ، محمد ، جعفر ، موسی ، علی ، محمد علی ، حسن و حجة القائم المہدی ، ان سب پر تیرا درود ہو ۔ سے محبت کی اور انہیں اپنا ولی مان لیا۔نے اس کی ولایت کی طرف میری ہدایت کی ہے کہ جس کی اطاعت تونے اپنے رسول ۖ کے بعد قراردی ۔
بلال حسین جعفری


١۔نہج البلاغہ خظ ٤٥ ،مستدرک الوسائل ٥٤١٢
2۔ اسی کو ینابیع المودة میں ص ٤٩٤پر نقل کیا ہے
3۔ینابیع المودة ص ٤٢١
4۔نہج البلاغہ ج٢خ١٨٥
5۔اصول کافی ج ٢ ص ٧٧
6۔ سورہ آل عمران آیت ١٩٦، ١٩٧، ١٩٨
7۔ روضہ کافی ج٨ ص ٢٥٣
8۔کمال الدین ج ١ ص ٣٠٢
9۔سورہ طہ آیت ١٢٤۔١٢٦
10 سورہ بنی اسرائیل آیت ٧١
11۔بحار الانوار ج٥١، باب ٦
12۔ اصول کافی ، جلد ١، صفحہ ٢٠
13۔سورہ توبہ آیت ١٠٣
14۔کافی ج ٣ص ١٨٢ ا
15۔سورہ بقرہ آیت ٢٤٥
16۔اصول کافی ج ٣ص ١٨٢ ا

انکار مہدی کفر ہے

 

 

خلاصہ :

 

 

جس نے دجال کے وجود اور خروج کو جھٹلایا وه کافر ہے اور جس نے مہدی (عج) کو جهٹلایا وہ کافر ہے۔
من انکر خروج المهدی فقد کفر ۔[5]
جس نے قیام مہدی (عج) کو جهٹلایا وہ کافر ہؤا۔
عن جابر رضی الله عنه رفعه من أنکر خروج المهدى فقد کفر بما انزل على محمد ۔[6]
جابر بن عبداللہ انصاری (رض) سے روایت مرفوعہ ہے کہ رسول اکرم صلی الله علیہ و آله وسلم نے فرمایا: جس نے قیام مہدی (عج) کا انکار کیا وه ان تمام چیزوں پر کافر ہؤا ہے جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہوئی ہیں۔
اس حوالے سے متعدد حدیثیں شیعہ اور سنی منابع و مصادر سے وارد ہوئی ہیں کہ امام مہدی (عج) کا منکر کافر ہے۔
اہل سنت ہی کی کتابوں میں تصریح ہوئی ہے که امام مہدی علیہ السلام کے قیام کے اثبات کے حوالے سے وارد ہونے والی تمام حدیثیں صحیح ہیں اور یہ حدیثیں ابوداؤد ، ترمذی و احمد و دیگر نے ابن مسعود و دیگر سےنقل کی ہیں ۔
حدیث مستند ہے اور کفر کا معیار بھی واضح ہے۔۔۔ چنانچہ کسی کے لئے بھی جائز نہیں ہے کہ کسی پر کفر کا الزام لگائے ہاں مگر وہ لوگ جو مہدی (ع) کے منکر ہیں؛ ان کو ہم نہیں رسول اللہ (ص) کافر قرادے چکے ہیں۔
یہ مہدی ہیں کون جن کی ظہور کی بشارت قرآن میں ہے۔ نبوی، علوی، فاطمی احادیث اور ائمہ علیہم السلام کی احادیث (جو درحقیقت احادیث نبوی ہیں) میں ان کے آنے کی بشارتیں ہیں۔۔۔ کچھ لوگ اس ذات با برکات کا انکار کرتے ہیں! کیسے؟ کیوں؟ وہ بات بات پر اپنی تأویلات اور اپنی ذاتی آراء و افکار کے مخالفین کو تو کافر کا لقب دیتے ہیں اور جتنی آسانی سے وہ دیگر مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں اور اسلامی تعلیمات کے برعکس اپنے نظریات کے مخالفین کا خون بہاتے ہیں اور مسلمانوں کو کافر قراردے کر ان کے قتل کے فتوے جاری کرتے ہیں – جبکہ کفار کی پیش قدمی مقدس مقامات اور مکہ و مدینہ تک جاری ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور قرآن و اسلام کی توہین آج یورپ میں ایک فیشن کی صورت اختیار کرگئی ہے اور شاتمان رسالت کو یورپ میں بنگلے اور پرامن زندگی کی ضمانتیں ملتی ہیں – اتنی ہی آسانی سے کافر کیونکر ہوجاتے ہیں اور حضرت مہدی علیہ السلام کا انکار کس طرح کرتے ہیں؟
گو کہ حدیث میں ہے کہ اگر تم نے کسی کو کافر کہا تو یا تو وہ کافر ہوگا یا اگر وہ کافر نہیں تو یقینا تم کافر ہو اور اس طرح فتووں کے کارخانے کھولنے والوں پر ویسے بھی کفر کا شبہ موجود ہے۔۔۔ قرآن میں ان کے آنے کی بشارت موجود ہے۔۔۔ احادیث رسول (ص) و معصومین (ع) میں بشارتیں موجود ہیں پھر بھی کوئی کہتا ہے مہدی (ع) پیدا ہونگے !
کچھ لوگ کہتے ہیں: پیدا نہیں ہوئے
کوئی کہتا ہے مہدی کا کوئی وجود ہی نہیں ہے ۔۔۔
البتہ محی الدین بن عربی جو اہل سنت کے جانے پہچانے امام ہیں اور عارف بھی ہیں؛ یقین سے کہتے ہیں کہ شیعوں کی بات درست ہے اور امام مہدی علیہ السلام امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ہیں اور اس وقت پردہ غیب میں ہیں؟ ۔۔۔
یہ لوگ جانتے ہیں مگر تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہیں۔۔۔ کہتے ہیں: یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص 12سو سال زندہ رہے اور یہی حضرات منبر و محراب میں فیض افشانی کرتے ہیں تو حضرت نوح کی عمر کی کہانیاں سنا سنا کر نہیں تھکتے اور حضرت عیسی علیہ السلام کی دوہزار سالہ عمر کی باتیں سناتے ہوئے انہیں بالکل حیرت نہیں ہوتی! اور مجھے ان لوگوں کی دوگانہ گوئی پر حیرت ہے! ۔۔۔ کہتے ہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اتنے سارے برسوں میں انہیں کسی نے بھی نہ دیکھا ہو؟ ۔۔۔ یقینا یہ حضرات کم از کم اپنے آپ سے تو پوچھتے ہونگے کہ حضرت عیسی کو ان دوہزار برسوں میں کس نے دیکھا ہے یا دیگر انبیاء جو بقید حیات ہیں سال میں کتنی دفعہ ان حضرات کو نظر آتے ہیں؟ یا یہ کہ اگر وہ نظر نہیں آتے تو کیا ہم ان کے وجود کا ہی انکار کربیٹھیں؟ ۔۔۔ ہمیں عقل بھی تو – نہ اپنی نہ دوسروں کی – نظر نہیں آتی پھر اس بارے میں کیا فیصلہ کریں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیث «من مات و لم یعرف امام زمانہ۔۔۔» یاد رہے۔۔۔


دوسری حديث:
حضرت رسول اللہ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا:
«من مات و لم يعرف امام زمانہ مات ميتة الجاہلية» [7] - [8]
«اگر کوئی اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر دنیا سے رخصت ہوجائے، وہ دوران جاہلیت کی موت مرا ہے۔»
یہ حدیث سنی اور شیعہ کی منابع میں متفق علیہ ہے۔ اب اگر کوئی کہے کہ یہ حدیث درست نہیں ہے تو وہ جھوٹا ہے۔
اگر کوئی کہے کہ یہ حدیث رسول اللہ کے زمانے کے لئے ہے تو وہ بھی جھوٹا ہے کیوں کہ ہر زمانے کے لوگوں کو اپنے امام کی معرفت حاصل کرنا لازم ہے۔
اور اگر کہے کہ حدیث صحیح بھی ہے اور آفاقی بھی اور ابدی بھی ہے تو یہ بتانا پڑے گا کہ اس کا امام زمانہ کون ہے؟ آپ کا امام کون ہے؟؟؟
منکرین مہدی بتائیں کہ ان کے زمانے کا امام کون ہے۔۔۔ وہ امام کون ہے جس کو اگر وہ نہ پہچانیں تو جاہلیت کی موت مریں گے؟ جاہلیت یعنی عناد و لجاج یعنی ضد اور ہٹ دھرمی اور جہل پر اصرار۔


تیسری حديث :
حضرت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:
«اگر دنیا کی عمر کا صرف ایک دن بھی باقی ہو خداوند متعال اس ایک دن کو اتنا طویل کرے گا کہ حضرت مہدی (عج) ظہور فرمائیں اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں جیسے کہ یہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی»۔[9]
یہاں ایک نکتہ قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سال ہفتہ وحدت کے ایام میں – ایک طرف سے وحدت و اتحاد بین المسلمین پر کاری ضربیں لگائی گئیں اور استعمار و استکبار کی خوب خوب خدمت کی گئی- امہ کے مختلف فرقوں، مکاتب اور مذاہب کے کثیر علماء نے ایک نہایت اہم اور عالمی اہمیت کی حامل قرارداد منظور کرلی۔ وہ یہ کہ:
«کسی بھی اسلامی فرقے کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ دوسرے اسلامی فرقوں کے پیروکاروں کی تکفیر کریں اور یہ کام غلط ناروا اور ناجائز ہے».
ہاں البتہ وہ فرقے جو غلو جیسی بیماریوں میں مبتلا ہیں یا اپنے اعمال کے ذریعے دشمن کی خدمت کررہے ہیں اور مسلمانوں اور دین مبین کو نقصان پہنچاتے ہیں یا فرقے نہیں ہیں بلکہ دشمنوں کے ہاتھوں بنے ہوئے ادارے ہیں، ان کا حساب اصلی اور حقیقی اسلامی فرقوں سے الگ ہے»۔
حضرت مہدي نے فرمایا:
1: «حوادث اور رودادوں میں ہماری حدیثوں کے راویوں سے رجوع کرو؛ کیونکہ وہ تمہارے اوپر میری حجت ہیں اور میں ان کے اوپر حجت خدا ہوں»۔
2- «انا بقية اللہ في ارضہ و المنتقم من اعدائہ»
میں روئے زمین پر «بقية اللہ» اور اس کا ذخیرہ اور اس کے دشمنوں سے انتقام لینے والا ہوں۔
3: «علامة ظہور امري كثرة الہرج و المرج و الفتن»
میرے ظہورکی نشانی ھرج و مرج اور افراتفری اور فتنوں کی کثرت سے عبارت ہے۔
4: «خدا اور کسی بھی بندے کے درمیان قرابتداری کا رشتہ قائم نہیں ہے اور «و مَن انكرني فليس مني و سبيلہ سبيل ابن نوح»؛ اور جو میرا انکار کرے وہ مجھ سے نہیں ہے اور اس کا راستہ نوح (ع) کے ناخلف و نافرمان بیٹے (کنعان) کا راستہ ہے۔
ہفتہ وحدت مبارک ہو انشاء اللہ ہمارا یہ سال سنہ 1429 سال ظہور مہدي آل محمد(عليہ و علي آبائہ السلام) ہو۔
یہاں ایک نکتہ قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سال ہفتہ وحدت کے ایام میں – ایک طرف سے وحدت و اتحاد بین المسلمین پر کاری ضربیں لگائی گئیں اور استعمار و استکبار کی خوب خوب خدمت کی گئی- امہ کے مختلف فرقوں، مکاتب اور مذاہب کے کثیر علماء نے ایک نہایت اہم اور عالمی اہمیت کی حامل قرارداد منظور کرلی۔ وہ یہ کہ:
«کسی بھی اسلامی فرقے کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ دوسرے اسلامی فرقوں کے پیروکاروں کی تکفیر کریں اور یہ کام غلط ناروا اور ناجائز ہے۔ ہاں البتہ وہ فرقے جو غلو جیسی بیماریوں میں مبتلا ہیں یا اپنے اعمال کے ذریعے دشمن کی خدمت کررہے ہیں اور مسلمانوں اور دین مبین کو نقصان پہنچاتے ہیں یا فرقے نہیں ہیں بلکہ دشمنوں کے ہاتھوں بنے ہوئے ادارے ہیں، ان کا حساب اصلی اور حقیقی اسلامی فرقوں سے الگ ہے»۔
وحدت میں تقیہ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے، تقیہ حضرت موسی نے کیا؛ حضرت زکریا نے کیا، حضرت ابراہیم نے بت توڑ کر بڑے بت کو ملزم ٹہرایا اور تقیہ کیا، تقیہ مشرکین کے نرغے میں آنے والے مسلمانوں نے کیا اور خدا نے ان کی تائید کی۔
«مَن كَفَرَ بِاللّهِ مِن بَعْدِ إيمَانِهِ إِلاَّ مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِيمَانِ وَلَـكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ» (نحل 106﴾
جس نے خدا کا انکار کیا ایمان لانے کے بعد – سوائے اس مؤمن کے جس کا دل ایمان سے مطمئن تھا اور مجبور کیا گیا – مگر جس نے دل کھول کر کفر کا راستہ اپنایا اس کے لئے عذاب عظیم ہے۔
میں آپ سے پوچھتا ہوں – اپ جس مذہب سے بھی تعلق رکھتے ہوں – کہ اگر آپ کے ارد گرد کئی مسلح افراد ہوں اور وہ آپ کی رائے جان کر آپ کی جان کے درپے ہوں تو آپ کونسا راستہ اپنائیں گے؟ ہاں یہ بالکل صحیح ہے کہ تقیہ صرف ایسے ہی حالات کے لئے ہے۔ اتحاد امت ضروریات دین میں سے ہے۔ یہ کوئی سنتی عمل نہیں ہے؛ مباح بھی نہیں ہے بلکہ فرض عین ہے اور شيعہ مسلمان وحدت و اتحاد کی دعوت تقیّے کی بنا پر نہیں بلکہ ضرورت اسلام کی بنا پر دے رہے ہیں۔
تقیہ کا مطلب جھوٹ بولنا نہیں ہے بلکہ ضرورت کی مقدار کے مطابق بولنا ہے۔ تقیہ کا مطلب یہ ہے کہ ماحول کا خیال رکھو اور ماحول کو دیکھ کر لوگوں کی عقل اور سوچ کے مطابق بات کرو۔ تقیہ کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کی رضا اور ناراضگی کا خیال رکھو تا کہ معاشرے میں امن و امان کی فضا قائم ہو۔
قرآن نے فرمایا ہے کہ لاتفرقوا۔۔۔ نہی واضح ہے۔۔۔ چنانچہ ہم شیعہ ہیں شیعہ اصولوں کے پابندہیں۔۔۔ ہم جب اتحاد کی بات کرتے ہیں اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہم اپنا مذہب چھوڑ کر کوئی دوسرا مذہب اختیار کررہے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ ہم تقیہ کررہے ہیں؛ ایسی کوئی بات نہیں ہے اور ہمارا یہ بھی مقصد نہیں ہے کہ کسی اور فرقے کے لوگ ہمارا مذہب اختیار کریں۔۔۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ بنیادی اصولوں میں ہم ایک ہیں بعض فروع میں فرق ہے۔۔۔ اور اہم بات یہ ہے کہ اس وقت عالم اسلام کو کفار کا خطرہ درپیش ہے جو سنی تعلیمات کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں اور شیعہ اصولوں کو بھی ۔۔۔ وہ ہمارے قرآن اور رسول اللہ (ص﴾ کی توہین کو شعار بنائے بیٹھے ہیں۔ ۔۔۔ یاد رکھنا کہ چالیس پاروں والا قرآن ہمارے پاس نہیں ہے لیکن ہمارے دشمن کے ذہنی اختراعات کے ریکارڈ میں دیکھ لیں تو مل ہی جائے گا۔۔۔۔ ہمارا قرآن وہی ایک ہے ۔۔۔ وہی جس کے تیس پارے ہیں اور ہم اس کی تحریف کو ناممکن سمجھتے ہیں کیوں کہ اللہ نے خود اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے۔۔۔ ہمارے قرآن پر وہ حملے کررہے ہیں۔۔۔ اسی مشترکہ قرآن پر، کیونکہ دشمن مشترک ہے؛ وہ افغانستان، عراق، پاکستان اور دیگر ممالک میں سنیوں اور شیعوں کا قتل عام کررہے ہیں اور ان کے چیلے ان کے مقاصد پورے کررہے ہیں، مذاہب اربعہ کو وہابیت نے انفعال سے دوچار کردیا ہے اور وہابیت جہاں بھی جاتی ہے وہاں سے امن و امان اور تعمیری سوچ کوچ کرجاتی ہے اور دشمن کے ورود کے لئے راستے فراہم ہوجاتے ہیں۔۔۔آئیے شیعہ شیعہ رہے اور سنی سنی رہے اور متحد ہوجائیں۔ ورنہ برے حالات آئے ہیں ساری امت پر اور یہ حالات مزید بھی برے ہونگے اور پھر اگر ہم حقیقت پسندی کی طرف لوٹنا بھی چاہیں تو یہ ممکن نہ ہوگا ۔۔۔ عراق کا حال ہمارے سامنے ہے۔۔۔ دین و قرآن پر رحم کریں اور آئیں ایک دوسرے کے بازو بنیں اور دشمن کے بازو بن کر اپنے ہی بازو نہ کاٹیں خدا را۔۔۔۔ ہمارے پاس مہدی امت کا فلسفہ ہے اور ہمارا اس پر ایمان ہے اور دشمن ان کے ظہور کا راستہ روکنے کے لئے مدینہ منورہ پر قبضہ کرنے اور کعبہ معظمہ کو نیست و نابود کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے اور یہ خواب ہماری وحدت سے ہی چور چور ہوسکتے ہیں۔
تین بار درود شریف برائے تعجیل ظہور – اتحاد امت – اور حل مشکلات امت۔


میں نے کہا: "حضرت فاطمہ حکام وقت سے ناراض و غضبناک ہوکر کیوں دنیا سے رخصت ہوئیں؟ کیا وہ امام امت اور رسول اللہ کے خلفاء برحق نہ تھے؟ یا پھر معاذاللہ حضرت فاطمہ (س) امام وقت کی معرفت حاصل کئے بغیر جاہلیت کی موت مریں!؟
حلب کے عالم حیرت میں ڈوب گئے کیونکہ اگر وہ کہتے کہ کہ حضرت زہراء کا غضب اور آپ (س) کی ناراضگی صحیح تھے تو اس کا لازمہ یہ ہوگا کہ حکومت وقت باطل تھی۔۔۔ اور اگر کہتے کہ سیدہ (س) سے غلطی سرزد ہوئی ہے اور آپ (س) معرفت امام کے بغیر ہی دنیا سے رخصت ہوئی ہیں تو یہ فاش غلطی ان کے مقام عصمت کے منافی ہوتی۔ جبکہ آپ (ص) کے مقام عصمت و طہارت کی گواہی قرآن مجید نی دی ہے۔
حلب کے قاضی القضات بحث کی سمت تبدیل کرنے کی غرض سے بولے: جناب امینی! ہماری بحث کا حکام عصر کی نسبت حضرت زہراء کے غضب و ناراضگی سے کیا تعلق ہے؟
مجلس میں حاضر افراد علم و دانش کے لحاظ سے اعلی مراتب پر فائز تھے اور انہیں معلوم ہوچکا تھا کہ علامہ امینی نے اس مختصر سی بحث میں کیا کاری ضرب ان کے عقائد پر لگائی ہے!
میں نے کہا: آپ لوگوں نے نہ صرف اپنے زمانے کے امام کو نہیں پہچانا ہے بلکہ ان افراد کی حقانیت کے حوالے سے بھی شک و تردد میں مبتلا ہیں جن کو آپ خلفاء رسول (ص) سمجھتے ہیں۔۔۔
ہمارے میزبان جو ایک طرف کھڑے تھے قاضی القضات سے کہنے لگے: «شیخنا اسکت؛ قد افتضحنا = ہمارے شیخ! خاموش ہوجاؤ کہ ہم رسوا ہوگئے؛ یعنی آپ نے ہمیں رسوا کردیا"»۔
ہماری بحث صبح تک جاری رہی اور صبح کے قریب جامعہ کے متعدد اساتذہ، قاضی اور تاجر حضرات سجدے میں گر گئے اور مذہب تشیع اختیار کرنے کا اعلان کیا اور اس کے بعد انہوں نے علامہ امینی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے انہیں کشتی نجات میں بٹھانے کا اہتمام کیا تھا۔
یہ حکایت صرف اس لئے نقل کی گئی کہ اہل سنت بھی اہل تشیع کی مانند حدیث (من مات و لم یعرف امام زمانہ مات میتة جاہلیة) کو قبول کرتے ہیں۔ اور یہ وہ حدیث ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر عصر اور ہر زمانے میں ایک امام کا ہونا ضروری ہے جس کی معرفت کا حصول واجب ہے اور مسلمانوں کو بہرحال معلوم ہونا چاہئے کہ وہ اپنی دینی تعلیمات کس سے حاصل کررہے ہیں اور ان سب کو جاننا چاہئے کہ ان کے زمانے کا امام کون ہے؟
[9] - مسند احمد حنبل ج1ص99 و سنن ابن ماجہ ج2ص929۔

خلاصہ :

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ امام مہدی علیہ السلام کا عقیدہ ایک دینی حیثیت رکھتا ہے، جس پر تمام مسلمان متفق ہیں۔ لیکن کچھ باتوں جن میں جزوی اختلاف پایا جاتا جیسے شیعہ امامیہ اثناعشریہ کا عقیدہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی ولادت ہو چکی ہے، جو ان کے گیارہویں امام حضرت حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ہیں ۔ اور اہل سنت کے ہاں اکثر کا نظریہ ہے کہ وہ قرب قیامت میں پیدا ہوں گے۔بہر حال ہمارا موضوع صرف اہل سنت کی روایات میںتصورامام مہدی علیہ السلام ہے۔ یہاں پر امام مہدی علیہ السلام کے متعلق اہل سنت کے اہم مصادر میں جو احادیث و روایات موجود ہیں ان کا مختصرا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔

متن:

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ امام مہدی علیہ السلام کا عقیدہ ایک دینی حیثیت رکھتا ہے، جس پر تمام مسلمان متفق ہیں۔ لیکن کچھ باتوں جن میں جزوی اختلاف پایا جاتا جیسے شیعہ امامیہ اثناعشریہ کا عقیدہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی ولادت ہو چکی ہے، جو ان کے گیارہویں امام حضرت حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ہیں ۔ اور اہل سنت کے ہاں اکثر کا نظریہ ہے کہ وہ قرب قیامت میں پیدا ہوں گے۔بہر حال ہمارا موضوع صرف اہل سنت کی روایات میںتصورامام مہدی علیہ السلام ہے۔ یہاں پر امام مہدی علیہ السلام کے متعلق اہل سنت کے اہم مصادر میں جو احادیث و روایات موجود ہیں ان کا مختصرا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔
حضرت ابو سعید خدری سے ایک حدیث مروی ہے کہ:۔
حدثنا عبد اللہ حدثنی أبی ثنا ابن نمیر ثنا موسی یعنی الجہنی قال سمعت زیدا العمی قال ثنا أبو الصدیق الناجی قال سمعت أبا سعید الخدری قال قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم یکون من أمتی المہدی فان طال عمرہ أو قصر عمرہ عاش سبع سنین أو ثمان سنین أو تسع سنین یملا الارض قسطا وعدلا وتخرج الارض نباتہا وتمطر السماء قطرہا۔ ١
میری امت میں سے مہدی ہوگا اس کی عمر طویل ہو یا قصیر ہو ، وہ سات سال یا آٹھ سال یا نو سال رہیں گے(حکومت کریں گے) اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ جس کی وجہ سے زمین نباتات نکالے گی اور آسمان مینہ برسا ئے گا۔

قرآن و اہل بیت
اس حدیث سے امام مہدی علیہ السلام کی طویل عمر ہونی کی گواہی موجود ہے ۔چونکہ شیعہ کا نظریہ ہے کہ امام علیہ السلام پیدا ہو چکے ہیں اور اللہ کے حکم سے پردہ غیب میں چلے گئے ہیں اور جب تک خدا چاہے گا رہیں گے۔اس کی تائید حضرت ابو سعید خدری کی ایک اور حدیث کہ:
حدثنا عبد اللہ حدثنی أبی ثنا ابن نمیر ثنا عبد الملک یعنی ابن أبی سلیمان عن عطیة عن أبی سعید الخدری قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انی قد ترکت فیکم الثقلین أحدہما أکبر من الآخر کتاب اللّٰہ عزوجل حبل ممدود من السماء لی الارض وعترتی أہل بیتی الا انہما لن یفترقا حتی یردا علی الحوض۔ ٢
میں تمہارے درمیان دو قیمتی چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ، ان میں سے ایک دوسرے سے بڑی ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ کی کتاب جو آسمان سے زمین تک (اللہ کی) رسی ہے اور دوسرے میری عترت اہل بیت ، یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر پہنچ جا ئیں ۔
اس حدیث سے واضح ہو رہا ہے کہ قرآن و اہل بیت کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے لہٰذا اس دور میں بھی اہل بیت اطہار کے افراد میں سے کوئی فرد باقی ہے جو قرآن کے ساتھ ہے، اگرچہ ہماری نظریں اس کو دیکھنے سے قاصر ہیں۔

بارہ خلفاء میں سے بارہویں مہدی علیہ السلام
ابو داؤد اپنی سنن میں کتاب مہدی میں بارہ خلفاء والی حدیث بیان کرتے ہیں:۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَةَ عَنْ ِسْمَعِیلَ یَعْنِی ابْنَ أَبِی خَالِدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ لَا یَزَالُ ہَذَا الدِّینُ قَائِمًا حَتَّی یَکُونَ عَلَیْکُمْ اثْنَا عَشَرَ خَلِیفَةً کُلُّہُمْ تَجْتَمِعُ عَلَیْہِ الْأُمَّةُ فَسَمِعْتُ کَلَامًا مِنْ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ أَفْہَمْہُ قُلْتُ لِأَبِی مَا یَقُولُ قَالَ کُلُّہُمْ مِنْ قُرَیْشٍ۔ ٣
عمروبن عثمان، مروان بن معاویہ، اسماعیل سے یعنی ابی خالدا پنے والد حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا یہاں تک کہ تم پر بارہ خلفاء ہوں گے سب کے سب ایسے ہوں گے کہ امت کا ان پر اجتماع واتفاق ہوجائے گاپس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلام سنا اور اسے سمجھ نہ سکا تو میں نے اپنے والد سے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کہہ رہے تھے؟ فرمایا کہ وہ سب خلفاء قریش میں سے ہوں گے\'\'۔
اس حدیث سے واضح ہو تا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام بارہویںخلیفہ اور امام ہیں۔
اسی طرح ابو داؤد کی ایک اور حدیث ہے :
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَةَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ حَدَّثَنَا فِطْر عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِی بَزَّةَ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ عَنْ عَلِیٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ لَمْ یَبْقَ مِنْ الدَّہْرِ ِلَّا یَوْم لَبَعَثَ اللَّہُ رَجُلًا مِنْ أَہْلِ بَیْتِی یَمْلَؤُہَا عَدْلًا کَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا ۔٤
عثمان بن ابوشیبہ،فضل ابن دکین،فطر، قاسم، ابوبکرہ، ابوطفیل، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ، رسول ۖ سے نقل کرتے ہیں کہ جب زمانہ میں سے صرف ایک دن(باعتبار آخرت) باقی رہ جائے گا تو اللہ تعالی میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی کو بھیجیں گے جو زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح بھر دیں گے جس طرح وہ پہلے ظلم سے بھر دی گئی ہو گئی۔
ان احادیث سے یہ ثابت ہو رہا ہے امام مہدی علیہ السلام کا وجود ایک یقینی امر ہے جس کی خبر اللہ کے پیارے رسول اور ہمارے نبی ۖنے دی ہے۔ چونکہ رسول اللہ ۖصادق القول ہیں لہٰذا آپۖ کی بات یقینی ہے۔

خاندانِ امامِ مہدی علیہ السلام
امام مہدی آپ ۖکے اہل بیت اطہا ر میں سے ہیں، جیسے اوپر والی حدیث میں بیان ہوا،اسی طرح ایک اور حدیث اس سے بھی زیادہ واضح ہے کہ:۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِیحِ الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ عَنْ زِیَادِ بْنِ بَیَانٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ نُفَیْلٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ الْمَہْدِیُّ مِنْ عِتْرَتِی مِنْ وَلَدِ فَاطِمَةَ ٥
احمد بن ابراہیم ،عبداللہ بن جعفر رقعی، ابوملیح حسن ابن عمر، زیادبن بیان، علی بن نفیل، سعید بن مسیب، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ (ام المومنین)فرماتی ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ، ، مہدی میرے خاندان سے اور فاطمہ کی اولاد میں سے ہوں گے۔
یعنی امام مہدی علیہ السلام اہل بیت میں سے ہی ہیں اور حضرت فاطمة الزہرا علیہا السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ شیعہ تمام روایات میں ہے کہ امام مہدی امام حسین علیہ السلام کی اولاد میں سے ہونگے ٦
لیکن سنن ابی داؤد کی حدیث کے مطابق وہ حضرت امام حسن علیہ السلام کی اولاد میں سے ہوں گے۔ ٧
اس کی تاویل یوں کی جا سکتی ہے کہ چونکہ امام زین العابدین علیہ السلام نے امام حسن علیہ السلام کی دختر حضرت فاطمہ سے شادی کی تھی جو امام محمد باقر علیہ السلام کی والدہ گرامی ہیں۔٨
اسی سے سلسلہ امامت بڑھا تھا لہٰذا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ امام مہدی، امام حسن کی بیٹی کی نسل میں پیدا ہوئے ۔اور یہ حدیثیں اس حدیث کو رد کرتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہاالمہدی عیسی ابن مریم ۔
عیسیٰ ہی مہدی ہے کیونکہ عیسی فاطمہ علیہا السلام کی اولاد میں سے نہیں ہے ۔

رسول اللہ سے مہدی علیہ السلام کی شباہت
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِیر عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ ابْنِ الْقِبْطِیَّةِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقِصَّةِ جَیْشِ الْخَسْفِ قُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَکَیْفَ بِمَنْ کَانَ کَارِہًا قَالَ یُخْسَفُ بِہِمْ وَلَکِنْ یُبْعَثُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ عَلَی نِیَّتِہِ قَالَ أَبُو دَاوُد حُدِّثْتُ عَنْ ہَارُونَ بْنِ الْمُغِیرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِی قَیْسٍ عَنْ شُعَیْبِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِی ِسْحَقَ قَالَ قَالَ عَلِیّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَنَظَرَ ِلَی ابْنِہِ الْحَسَنِ فَقَالَ ِنَّ ابْنِی ہَذَا سَیِّد کَمَا سَمَّاہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَسَیَخْرُجُ مِنْ صُلْبِہِ رَجُل یُسَمَّی بِاسْمِ نَبِیِّکُمْ یُشْبِہُہُ فِی الْخُلُقِ وَلَا یُشْبِہُہُ فِی الْخَلْقِ ثُمَّ ذَکَرَ قِصَّةً یَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدْلًا و قَالَ ہَارُونُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِی قَیْسٍ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِیفٍ عَنْ أَبِی الْحَسَنِ عَنْ ہِلَالِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْرُجُ رَجُل مِنْ وَرَائِ النَّہْرِ یُقَالُ لَہُ الْحَارِثُ بْنُ حَرَّاثٍ عَلَی مُقَدِّمَتِہِ رَجُل یُقَالُ لَہُ مَنْصُور یُوَطِّئُ أَوْ یُمَکِّنُ لِآلِ مُحَمَّدٍ کَمَا مَکَّنَتْ قُرَیْش لِرَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَبَ عَلَی کُلِّ مُؤْمِنٍ نَصْرُہُ أَوْ قَالَ ِجَابَتُہُ ۔ ١٠
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، عبدالعزیز، رفیع، عبید اللہ، ام سلمة، حضور اکرم ۖ سے روایت کرتے ہو ئے کہتی ہیں کہ حضور اکرم ۖ نے زمین میں دھنس جانے والے لشکر کا تذکرہ کیا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ۖ اس شخص کا کیا حال ہوگا جو بادل نخواستہ اس لشکر میں شامل ہوا ہو؟ فرمایا کہ سب کے سب زمین میں دھنس جائیں گے لیکن قیامت کے روز اپنی نیت کے مطابق اٹھائے جائیں گے۔ امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ مجھ سے ہارون بن مغیرہ، عمرو بن ابی قیس عن شعیب بن خالد عن اسحاق کے واسطہ سے بیان کیا گیا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے صاحبزادے سے حضرت حسن کی طرف دیکھ کر فرمایا میرا یہ بیٹا سردار ہوگا جیسے کہ نبی کریمۖ نے اس کا نام رکھا تھا اور عن قریب اس کی نسل میں ایک شخص پیدا ہوگا جس کا نام تمہارے نبی ۖکے نام کے مطابق ہوگا وہ اخلاق و کردار میں تمہارے نبی کے مشابہ ہوگا لیکن صورت وخلقت میں مشابہ نہیں ہوگا پھر طویل قصہ ذکر کر کے فرمایا کہ وہ زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا جبکہ ہارون نے بواسطہ عمرو بن ابی قیس بواسطہ مطرف بن طریف بواسطہ حسن بواسطہ ہلال بن عمرو بیان کیا کہ میں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کریمۖ نے فرمایا ماوراء النہر سے ایک آدمی نکلے گا جسے حارث بن حراث کہا جاتا ہوگا اس کے سامنے ایک اور آدمی ہوگا جسے منصور کہا جاتا ہوگا وہ محمد ۖ کی آل کو تسلط دے گا یا متمکن کرے گا۔ زمین میںجیسے قریش نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جگہ دی تھی اس کی مدد کرنا ہر مسلمان پر واجب ہوگا یا فرمایا کہ اس کی دعوت قبول کرنا واجب ہوگا۔

اوصاف امام مہدی علیہ السلام
حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ تَمَّامِ بْنِ بَزِیعٍ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِی نَضْرَةَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَہْدِیُّ مِنِّی أَجْلَی الْجَبْہَةِ أَقْنَی الْأَنْفِ یَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا کَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا یَمْلِکُ سَبْعَ سِنِینَ ۔١١
سہل بن تمام بن بزیع، عمران، قطان، قتادہ، ابونضرہ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مہدی مجھ سے ہوں گے روشن پیشانی اور بلند ناک والے ہوں گے زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح بھریں گے جس طرح وہ ظم وجور سے بھر دی گئی تھی اور سات سال تک حکومت کریں گے۔
حدثنا یعقوب بن سحاق نا عفان نا عمران حدثنی قتادة حدثنی أبو نضرة عن أبی سعید الخدری عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال یملک رجل من أہل بیتی أجلی الجبہة أقنی الانف یملا الارض قسطا وعدلا کما ملئت ظلما وجورا یعیش ہذا وبسط کفہ الیمنی وبسط لی جنبہا أصبعین وبسط کفہ الیسری ۔١٢
حضرت ابو سعید خدری رسول اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ میری اہل بیت میں سے ایک مرد حکومت کرے گا ، روشن پیشانی اور بلند ناک والے ہوں گے زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح بھریں گے جس طرح وہ ظم وجور سے بھر دی گئی تھی، وہ اتنارہیں گے ، آپ ۖ نے اپنے دایاں ہاتھ سیدھا کیا اوراس کے پہلو سے دو انگلیا ںکھولیں اور پھر بایاں ہاتھ کھولا(یعنی آپۖ نے ساتھ سال کی طرف اشارہ کیا کہ مہدی علیہ السلام سات سال حکومت کریں گے)۔

امام مہدی علیہ السلام کی مدد کی تاکید
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَةَ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَةُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ صَالِحٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ عَنْ ِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ِذْ أَقْبَلَ فِتْیَة مِنْ بَنِی ہَاشِمٍ فَلَمَّا رَآہُمْ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اغْرَوْرَقَتْ عَیْنَاہُ وَتَغَیَّرَ لَوْنُہُ قَالَ فَقُلْتُ مَا نَزَالُ نَرَی فِی وَجْہِکَ شَیْئًا نَکْرَہُہُ فَقَالَ ِنَّا أَہْلُ بَیْتٍ اخْتَارَ اللَّہُ لَنَا الْآخِرَةَ عَلَی الدُّنْیَا وَِنَّ أَہْلَ بَیْتِی سَیَلْقَوْنَ بَعْدِی بَلَائً وَتَشْرِیدًا وَتَطْرِیدًا حَتَّی یَأْتِیَ قَوْم مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَعَہُمْ رَایَات سُود فَیَسْأَلُونَ الْخَیْرَ فَلَا یُعْطَوْنَہُ فَیُقَاتِلُونَ فَیُنْصَرُونَ فَیُعْطَوْنَ مَا سَأَلُوا فَلَا یَقْبَلُونَہُ حَتَّی یَدْفَعُوہَا ِلَی رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ بَیْتِی فَیَمْلَؤُہَا قِسْطًا کَمَا مَلَئُوہَا جَوْرًا فَمَنْ أَدْرَکَ ذَلِکَ مِنْکُمْ فَلْیَأْتِہِمْ وَلَوْ حَبْوًا عَلَی الثَّلْجِ ۔١٣
عثمان بن ابی شیبہ، معاویہ بن ہشام، علی بن صالح، یزید بن ابی زیاد ابراہیم، علقمہ، عبداللہ بن ابی زیاد، ابراہیم، علقمہ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ بنو ہاشم کے چند نوجوان آئے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھا تو آپ کی آنکھیں بھر آئیں اور رنگ متغیر ہوگیا۔ میں نے عرض کیا ہم مسلسل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور میں ایسی کیفیت دیکھ رہے ہیں جو ہمیں پسند نہیں )یعنی ہمارا دل دکھتا ہے( فرمایا ہم اس گھرانے کے افراد ہیں جس کے لئے اللہ تعالی نے دنیا کی بجائے آخرت کو پسند فرمالیا ہے اور میرے اہل بیت میرے بعد عنقریب ہی آزمائش اور سختی و جلاوطنی کا سامنا کریں گے۔ یہاں تک کہ مشرق کیجانب سے ایک قوم آئے گی جس کے پاس سیاہ جھنڈے ہوں گے وہ بھلائی(مال) مانگیں گے انہیں مال نہ دیا جائے گا تو وہ قتال کریں گے انہیں مدد ملے گی اور جو (خزانہ)وہ مانگ رہے تھے حاصل ہو جائے گا لیکن وہ اسے قبول نہیں کریں گے بلکہ میرے اہل بیت میں سے ایک مرد کے حوالہ کر دیں گے وہ )زمین کو(عدل وانصاف سے بھردے گا جیسا کہ اس سے قبل لوگوں نے زمین کو جور و ستم سے بھر رکھا تھا سو تم میں سے جو شخص ان کے زمانہ میں ہو تو انکے ساتھ ضرور شامل ہو اگر برف پر گھٹنوں کے بل گھسٹ کر جانا پڑے۔
اس حدیث میں اہل بیت اطہار پر رسول اللہۖ کے بعد ہونے والے مظالم کا تذکرہ ہے ، رسول اللہ کو کتنی فکر تھی کہ آپ ۖ اپنے صحابہ کے سامنے اپنی حالت متغیر کر دیتے ہیں اور مجبورا صحابہ کو کہنا پڑا کہ ہم سے آپۖ کی یہ حالت برداشت نہیں ہوتی، کیوں ایسی حالت ہو گئی ہے اور کس نے آپۖ کو پریشان کردیا ہے۔ تاریخ نے دیکھ لیا کہ آپۖ کے بعد آپ ۖ کے اہل بیت پر ظلم کے کتنے پہاڑ نازل ڈھائے گئے، کچھ کو خون میں رنگین کیا گیا اور کچھ کو زہر قاتل سے شہید کر دیا گیااور کچھ کو جلاوطن کیا گیا۔ ان سب کی ایک ہی آس تھی وہ مہدی علیہ السلام کی آمد تھی۔ لہٰذا ان کی مدد کے لیے رسول اللہ ۖاتنی تاکید کر رہے ہیں کہ اگر برف کے اورپر گھٹنوں کے بل ہی کیوں نہ چلنا پڑے تب بھی اس کی مدد کرنا ضروری ہے۔اسی طرح ایک اور حدیث میں اس کی تاکید یوں کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی وَأَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِی قِلَابَةَ عَنْ أَبِی أَسْمَائَ الرَّحَبِیِّ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقْتَتِلُ عِنْدَ کَنْزِکُمْ ثَلَاثَة کُلُّہُمْ ابْنُ خَلِیفَةٍ ثُمَّ لَا یَصِیرُ ِلَی وَاحِدٍ مِنْہُمْ ثُمَّ تَطْلُعُ الرَّایَاتُ السُّودُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ فَیَقْتُلُونَکُمْ قَتْلًا لَمْ یُقْتَلْہُ قَوْم ثُمَّ ذَکَرَ شَیْئًا لَا أَحْفَظُہُ فَقَالَ فَِذَا رَأَیْتُمُوہُ فَبَایِعُوہُ وَلَوْ حَبْوًا عَلَی الثَّلْجِ فَِنَّہُ خَلِیفَةُ اللَّہِ الْمَہْدِیُّ ۔ ١٤
محمد بن یحییٰ ، احمد بن یوسف، عبدالرزاق، سفیان ثوری، خالد حذاء ، ابی قلابہ، ابی اسماء ، حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہارے ایک خزانہ کی خاطر تین شخص قتال کریں گے اور مارے جائیں گے تینوں حکمران کے بیٹے ہوں گے لیکن وہ خزانہ ان میں سے کسی کو بھی نہ ملے گا پھر مشرق کی جانب سے سیاہ جھنڈے نمودار ہونگے وہ تمہیں ایسا قتل کریں گے کہ اس سے قبل کسی نے ایسا قتل نہ کیا ہوگا اسکے بعد آپ نے کچھ باتیں ذکر فرمائیں جو مجھے یاد نہیں پھر فرمایا جب تم ان (مہدی)کو دیکھو تو ان سے بیعت کرو اگرچہ تمہیں گھٹنوں کے بل گھسٹ کر جانا پڑے کیونکہ وہ مہدی اللہ کے خلیفہ ہونگے۔
اس حدیث میں امام مہدی علیہ السلام کے ساتھ بیعت وفا کے تذکرہ کے ساتھ انہیں اس زمین پر اللہ کا خلیفہ ہونے کا بھی ثبوت ہے۔

امام مہدی علیہ السلام کی عادلانہ حکومت
امام مہدی علیہ قیامت کے قریب ظہور فرما ئیں گے
حدثنا موسی بن ہارون ثنا عبد اللہ بن داہر الرازی ثنا عبد اللہ بن عبد القدوس عن الأعمش عن عاصم بن أبی النجود عن زر ابن حبیش عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا تقوم الساعة حتی یملک رجل من أہل بیتی یواطء اسمہ اسمی یملأ الأرض عدلا وقسطا کما ملئت ظلما وجورا۔١٥
عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول ۖ نے فرمایا قیامت اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک میرے اہل بیت میں سے ایک مرد حکومت کرے گا جو میرا ہم نام ہوگا وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی۔
یعنی قیامت اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک مہدی علیہ السلام کا ظہور نہیں ہوتا اور وہ اس زمین پر الٰہی حکومت قائم نہیں کرتے ، اور اس زمین کو عدل و انصاف کے ساتھ بھر دیتے۔

امام کی حکومت میں برکات خدا
اخبرنی أبو العباس محمد بن احمد المحبوبی بمرو ثنا سعید بن مسعود ثنا النضر بن شمیل ثنا سلیمان بن عبید ثنا عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ قال یخرج فی آخر امتی المہدی یسقیہ اللہ الغیث وتخرج الارض نباتہا ویعطی المال صحاحا وتکثر الماشیة وتعظم الامة یعیش سبعا أو ثمانیا یعنی حججا . ہذا حدیث صحیح الاسناد ولم یخرجاہ . ١٦
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا کہ میری امت میں آخر میں مہدی قیام کریں گے، جس دور میں اللہ تعالیٰ خوب بارش برسائے گااور زمین نباتات اُگائے گی، اور وہ مال برابر عطا کریں گے، اولاد والیاں کثرت سے ہوں گی، امت کو عظمت ملے گی، سات یا آٹھ سال زندگی بسر کریں گے۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِیٍّ الْجَہْضَمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَیْلِیُّ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِی حَفْصَةَ عَنْ زَیْدٍ الْعَمِّیِّ عَنْ أَبِی صِدِّیقٍ النَّاجِیِّ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَکُونُ فِی أُمَّتِی الْمَہْدِیُّ ِنْ قُصِرَ فَسَبْع وَِلَّا فَتِسْع فَتَنْعَمُ فِیہِ أُمَّتِی نِعْمَةً لَمْ یَنْعَمُوا مِثْلَہَا قَطُّ تُؤْتَی أُکُلَہَا وَلَا تَدَّخِرُ مِنْہُمْ شَیْئًا وَالْمَالُ یَوْمَئِذٍ کُدُوس فَیَقُومُ الرَّجُلُ فَیَقُولُ یَا مَہْدِیُّ أَعْطِنِی فَیَقُولُ خُذْ ١٧
نصر بن علی جہضمی، محمد بن مروان عقیلی، عمارہ بن ابی حفصہ، زیدعمی، ابی صدیق ناجی، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایامہدی میری امت میں ہوں گے اگر وہ دنیا میں کم رہے تو بھی سات برس تک رہیں گے ورنہ نو برس تک رہیں گے۔ اس دور میں میری امت ایسی خوشحال ہوگی کہ اس جیسی خوشحال پہلے کبھی نہ ہوئی ہوگی زمین اس وقت خوب پھل دیگی اور ان سے بچا کر کچھ نہ رکھے گی اور اس وقت مال کے ڈھیر لگے ہوئے ہونگے ایک مرد کھڑا ہو کر عرض کریگا اے مہدی مجھے کچھ دیجئے؟ وہ کہیں گے( جتناجی چاہے) لے لو۔
أبو معاویة وابن نمیر عن موسی الجہنی عن زید العمی عن أبی الصدیق الناجی عن أبی سعید الخدری قال : قال رسول اللہ ( ص ) : ( یکون فی أمتی المہدی ن طال عمرہ أو قصر عمرہ یملک سبع سنین أو ثمانی سنین أو تسع سنین ، فیملاہا قسطا وعدلا کما ملئت جورا ، وتمطر السماء مطرہا وتخرج الارض برکتہا ، قال : وتعیش أمتی فی زمانہ عیشا لم تعشہ قبل ذلک۔١٨
مہدی میری امت میں ہوگا چاہے ان کی عمر طویل ہو یا قصیر ، وہ سات سال یا آٹھ یا نو سال حکومت کریں گے ، پس وہ اس زمین کو عدل و انصاف کے ساتھ بھر دیں گے جیسے وہ ظالم و جور سے بھر چکی ہوگی، آسمان بارش برسائے گا ، زمین اپنی تمام برکات باہر نکالے گی ، اور فرمایا ان کے زمانے میں میری امت ایسی زندگی گزارے گی جیسے اس سے پہلے کبھی زندگی نہ گزاری ہوگی۔
امام مہدی علیہ السلام اور عیسی علیہ السلام
سنن ابن ماجہ میں ایک طویل حدیث مزکور ہے ، جس میں سے یہ حصہ پیش کیا جا رہا ہے:۔
فَقَالَتْ أُمُّ شَرِیکٍ بِنْتُ أَبِی الْعَکَرِ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَأَیْنَ الْعَرَبُ یَوْمَئِذٍ قَالَ ہُمْ یَوْمَئِذٍ قَلِیل وَجُلُّہُمْ بِبَیْتِ الْمَقْدِسِ وَِمَامُہُمْ رَجُل صَالِح فَبَیْنَمَا ِمَامُہُمْ قَدْ تَقَدَّمَ یُصَلِّی بِہِمْ الصُّبْحَ ِذْ نَزَلَ عَلَیْہِمْ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ الصُّبْحَ فَرَجَعَ ذَلِکَ الِْمَامُ یَنْکُصُ یَمْشِی الْقَہْقَرَی لِیَتَقَدَّمَ عِیسَی یُصَلِّی بِالنَّاسِ فَیَضَعُ عِیسَی یَدَہُ بَیْنَ کَتِفَیْہِ ثُمَّ یَقُولُ لَہُ تَقَدَّمْ فَصَلِّ فَِنَّہَا لَکَ أُقِیمَتْ فَیُصَلِّی بِہِمْ ِمَامُہُمْ۔ ١٩
ام شریک بنت ابوعکر نے عرض کیا یا رسول ۖاللہ عرب کے لوگ اس دن کہاں ہوں گے؟ آپۖ نے فرمایا عرب کے لوگ )مومن مخلصین( اس دن کم ہوں گے اور دجال کے ساتھ بے شمار لوگ ہوں گے ان کو لڑنے کی طاقت نہ ہوگی
( اور ان عرب )مومنین میں سے اکثر لوگ )اس وقت(بیت المقدس میں ہوں گے انکا امام ایک نیک شخص ہوگا انکا امام آگے بڑھ کر صبح کی نماز پڑھنا چاہے گا اتنے میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام صبح کے وقت اتریں گے تو یہ امام انکو دیکھ کر الٹے پاؤں پیچھے ہٹے گا تاکہ حضرت عیسیٰ اپنا ہاتھ اس کے دونوں مونڈھوں کے درمیان رکھ دیں گے پھر اس سے کہیں گے تو ہی آگے بڑھ اور نماز پڑھا اس لئے کہ یہ نماز تیرے ہی لئے قائم ہوئی تھی )یعنی تکبیر تیری ہی امانت کی نیت سے ہوئی تھی( خیر وہ امام لوگوں کو نماز پڑھائے گا۔
اس حدیث میں صاف واضح ہے کہ امام مہدی علیہ السلام نماز کی امامت کے لیے کھڑے ہوں گے تو عین اسی وقت حضرت عیسی علیہ السلام نزول فرمائیں گے تو اس وقت امام مہدی علیہ السلام احتراماً نماز کے لیے حضرت عیسی سے درخواست کریں گے وہ نماز پڑھائیں، لیکن عیسی انکار کریں گے امام علیہ السلام کو نماز پڑھانے کا کہیں گے ۔ تو امام علیہ السلام نماز پڑھائیں گے لہٰذا حضرت عیسی علیہ السلام امام کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے۔ اس کے بعد عیسی علیہ السلام دجال کا پیچھا کریں گے اور مقام لد پر اسے قتل کر دیں گے۔ اسی طرح اس دنیا سے فتنہ و فساد ختم ہو جائے گا ، ہر طرف عدل و انصاف قائم ہو جائے گا، کوئی کسی پر ظلم نہیں کرے گا ، ہر انسان کو اس کے گھر کے اندر انصاف ملے گا۔



المراجع والمصادر
ابن ابی شیبہ حافظ عبد اللہ ابن محمد اللکوفی(٢٣٥ھ) :المصنف ابن ابی شیبہ، طبع دار الفکر بیروت لبنان١٤٠٩ ھ
ابن بابویہ قمی(متوفی٣٢٩ ھ): الامامة و التبصرة، ناشر : مدرسہ الامام المہدی قم ایران
ابن عساکر علی ابن الحسن (متوفی٥٧١ ھ):تاریخ مدینةدمشق، طبع دار الفکر بیروت لبنان، ١٤١٥ھ
ابو داؤدسلیمان ابن اشعث السجستانی (متوفی ٢٧٥ھ): سنن ابی داؤد، طبع اول ، دار الفکر بیروت لبنان ، ١٤١٠ھ
الامام احمد بن حنبل(متوفی ٢٤١ھ) : مسند احمد، طبع دار الصادر بیروت لبنان۔
البخاری محمد ابن اسماعیل (متوفی ٢٥٦ھ): صحیح البخاری،طبع دالفکر بیروت لبنان، ١٤٠٣ھ
الترمذی محمد ابن عیسی(متوفی ٢٧٩ھ)سنن الترمذی،طبع دار الفکر بیروت لبنان،١٤٠٣ھ
الحاکم محمد ابن محمد(٤٠٥ھ): مستدرک الحاکم،طبع دار المعرفة بیروت لبنان، ١٤٠٦ھ
الشیخ حسن ابن علی النمازی(١٤٠٥ھ): مستدرک سفینة البحار ، طبع ، مؤسسة النشر الاسلامی، قم۔ ایران
الطبرانی سلیمان ابن احمد: المعجم الکبیر، الطبع الثانی، دار الاحیاء التراث العربی، القاہرة المصر،
الطبرانی سلیمان ابن احمد(متوفی ٣٤٠ھ) المعجم الاوسط للطبرانی، طبع دار الحرمین، ١٤١٥ھ
مجلسی محمد باقر (متوفی ١١١١ھ): بحار الانوار، الطبع الثانی ، مؤسسة الوفاء بیروت ۔ لبنان،١٤٠٣ ھ
مسلم ابن حجاج النیسابوری(متوفی ٢٦١ھ): دار الفکر بیروت لبنان۔


١۔ الامام احمد بن حنبل : مسند احمد، ج ،٣ ص ٢٧
٢۔ الامام احمد بن حنبل : مسند احمد، ج ،٣ص ٢٦
٣۔ صحیح البخاری، ج ٨، ص١٢٧، صحیح المسلم، ج ٤،ص٣ ، سنن ابی داؤد ، ج٢،ص٣٠٩، سنن ترمذی ، ج٣ ،ص٣٤٠
٤۔ سنن ابی داؤد ، ج ٢، ص ٣١٠، المصنف ابن ابی شیبہ، ج٨ ، ص ٦٧٩۔
٥۔ سنن ابی داؤد ، ج٢،ص٣٠٩،
٦۔ الامامة و التبصرة لابن بابویہ القمی(متوفی ٣٢٩ھ)ص ١١٠،مستدرک سفینة البحار ، شیخ علی المازی، ج ١٠،ص٧٧
٧۔ سنن ابی داؤد ، ج٢،ص ٣١٠،
٨۔ بحار الانوار ، ج٤٦ ، ص ،٢١٥
٩۔ المصنف ابن ابی شیبہ، ج ٨ ، ص٦٧٩، تاریخ دمشق، ابن عساکر، ج ٤٧، ص ٥١٩
١٠۔ سنن ابی داؤد ، ج٢ ،ص٣١١،
١١۔ سنن ابی داؤد ، ج٢ ،ص ٣١٠،
١٢۔ سنن ترمذی ، ج٢ ، ص ١٣٦٦
١٣۔ المعجم الاوسط للطبرانی، ج ٩ ، ص ١٧٦
١٤۔ المستدرک الحاکم، ج ، ص ، سنن ترمذی ، ج ٤٤، ص ٤٦
١٥۔ المعجم الکبیر للطبرانی، ج١٠ ، ص ١٣٣
١٦۔ المستدرک الحاکم النیسابوری ج٤ ،ص ٥٥٧
١٧۔ سنن ترمذی ، ج ٢ ، ص ١٣٦٦
١٨۔ المصنف ابن أبی شیبة الکوفی ج٨،ص٦٧٨
١٩۔ سنن ترمذی ، ج ٢ ، ص١٣٤١

شہداء اقدار میں سے ہیں،

جو قومیں اپنی اقدار کی قدر نہیں کرتیں ذلالت ان کا مقدر بن جاتی ہے، شہداء اقدار میں سے ہیں، علامہ جواد نقوی
اسلام ٹائمز:جامعہ عروۃ الوثقیٰ کے پرنسپل اور ممتاز عالم دین نے کہا کہ علامہ عارف حسین الحسینی نے آج سے 25 برس قبل آج کے حالات کی پیش گوئی کر دی تھی۔ استعمار آج جو کچھ ہمارے ملک میں کر رہا ہے اس کی منظر کشی علامہ شہہید کر چکے تھے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ استعمار کو ملک سے نکال دیا جائے ورنہ یہ پورے ملک پر قابض ہو جائے گا اور آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے حکمران بھی استعمار کے اوزار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ہماری ملت سو چکی ہے اور اس کو اوزار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
جو قومیں اپنی اقدار کی قدر نہیں کرتیں ذلالت ان کا مقدر بن جاتی ہے، شہداء اقدار میں سے ہیں، علامہ جواد نقوی
لاہور:اسلام ٹائمز۔ جو قومیں اپنی اقدار کی قدر نہیں کرتیں ذلالت ان کی قسمت میں لکھ دی جاتی ہے، ہماری قوم آج رسوا ہو رہی ہے اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم نے اپنی اقدار کو اپنی آنکھوں کے سامنے پامال ہوتے دیکھا اور خاموش رہے، جس کی سزا آ ج ہم بھگت رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار جامعہ عروۃ الوثقیٰ کے پرنسپل اور ممتاز عالم دین علامہ سید جواد نقوی نے جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی 23 ویں برسی کی مناسبت سے سیمینار بعنوان ’’شہداء۔۔۔اقدار یا اوزار‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
علامہ جواد نقوی نے کہا کہ پانچ اگست ملت تشیع پاکستان کی بیداری کا دن ہے۔ دین، خدا، ولایت، امامت اور راہ شہید سے عہد کا دن ہے۔ امام خمینی (ر) نے حکم دیا تھا کہ ملت تشیع پاکستان شہید عارف حسین کے افکار کو زندہ رکھیں مگر ہم نے امام (ر) کے اس حکم کو فراموش کر دیا۔ آغا جواد نقوی نے کہا کہ امام خمینی (ر) نے دو شخصیات کے افکار کو زندہ رکھنے کا حکم دیا، ایک شہید مطہری اور دوسرا شہید حسینی۔۔۔۔امام نے فرمایا کہ اگر دین سمجھنا ہے تو شہید مطہری کا مطالعہ کرو کیوں کہ شہید مطہری اور شہید حسینی نے اسلام کی حقیقی تفسیر بیان کی ہے۔ شہید مطہری نے اسلام کو آئیڈیالوجی کے طور پر پیش کیا۔ اور پاکستان کی سرزمین پر شہید حسینی امام خمینی (ر) کے نمائندہ تھے۔ افسوس ہم نے گزشتہ 23 برسوں میں افکار حسینی کو زندہ نہیں رکھا۔ شہید عارف حسینی سالار شہدائے پاکستان تھے۔ ان کے لئے امام خمینی (ر) نے فرمایا تھا کہ میں آج اپنے عظیم فرزند سے محروم ہو گیا۔
علامہ جواد نقوی نے کہا کہ ضرروت اس امر کی ہے کہ ہم پانچ اگست کو یوم تشیع کے طور پر منائیں۔ شہادت کی بہت زیادہ فضلیت ہے۔ قرآن میں نیکیوں کے درجے بنائے گئے ہیں کہ فلاں نیکی سے بڑی فلاں ہے اور اس سے بڑی فلاں ہے، لیکن شہادت سے بڑی کوئی نیکی نہیں، اس کے بعد تمام درجے ختم ہو جاتے ہیں اور شہید ہونا ہی اعلٰی ترین درجہ اور عبادت ہے۔ شہداء اللہ کی بارگاہ سے رزق پاتے ہیں، اللہ نے شہداء کو مردہ قرار دینے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ علامہ جواد نقوی نے کہا کہ شہداء اقدار میں سے ہیں، یہ دین کی اقدار ہیں، ان کو بعض قوتوں نے اوزار کے طور پر استعمال کر کے اپنے مفادات حاصل کئے۔ دین کو بھی اوزار کے طور پر استعمال کیا گیا، اس کی ابتدا بنوامیہ نے کی۔ انہوں نے دین اسلام کو ذاتی مفاد اور جاہ و جلال کا ذریعہ بنایا اور حکومت کی، یہ روش مسلسل چلی آ رہی ہے۔ ہر دور میں ایسے لوگ ضرور رہے ہیں جو اقدار کو اوزار کے طور پر استعمال کر کے اپنا فائدہ نکال کر سائیڈ پر ہو جاتے ہیں۔
علامہ جواد نقوی نے کہا کہ ہماری قوم کی اقدار اور ہمارے مکتب کو بھی اوزار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری قوم تنزلی کے گڑھوں میں پڑی کراہ رہی ہے۔ اگر قوم بیداری کا ثبوت دیتی اور اوزار کے طور پر استعمال کرنے والوں کا راستہ روکتی، تو آج ہماری حالت ایسی نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ علامہ عارف حسین الحسینی ایک مظلوم شہید تھے۔ ان کو بھی اوزار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ کچھ قوتوں نے انہیں اس لئے قائد بنایا کہ ایک تو پشتو بولنے والا ہے، دوسرا پاکستان کے دوردراز علاقے پارہ چنار کے گاؤں پیواڑ کا رہائشی ہے، یہ پاکستان میں نہ تو دورے کر سکیں گے اور نہ ہی زبان کی وجہ سے عوام سے ان کا رابطہ ہو گا۔ لیکن جب قیادت کی ذمہ داری شہید حسینی کو مل گئی تو آپ نے قوم کی بیداری کے لئے بھرپور کردار ادا کیا۔ ان کو قائد بنے چار برس ہو گئے تھے، سندھ میں دورہ کے موقع پر کسی نے سوال کر دیا کہ آپ نے بطور قائد ان چار برسوں میں کیا کیا؟ تو شہید نے جواب دیا کہ میں نے قوم کو یہ باور کرایا ہے کہ میں بھی شیعہ ہوں۔۔۔ شہید کی اس سے زیادہ مظلومیت اور کیا ہو گی کہ وہ شیعہ قوم کے قائد ہیں اور شیعوں کو ہی باور کروا رہے ہیں کہ میں شیعہ ہوں۔
بعد میں جب ان قوتوں نے انہیں اوزار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی تو آپ نے انکار کر دیا اور فرمایا یہ میری ذمہ داری ہے میں بہتر جانتا ہوں کہ قوم کو کس طرح بیدار کرنا ہے۔ ان قوتوں نے قائد کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔ قائد شہید نے استعفیٰ دیدیا کہ مجھے کام نہیں کرنا میں اوزار نہیں بن سکتا۔ تو علماء گئے اور شہید کے قدموں میں عمامے رکھ دیئے کہ آپ استعفیٰ واپس لیں، قوم کو آپ کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد مظلوم قائد نے استعفیٰ واپس لیا اور کام شروع کر دیا۔
آغا جواد نقوی نے کہا کہ علامہ عارف نے آج سے 25 برس قبل آج کے حالات کی پیش گوئی کر دی تھی۔ استعمار آج جو کچھ ہمارے ملک میں کر رہا ہے اس کی منظر کشی علامہ شہہید کر چکے تھے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ استعمار کو ملک سے نکال دیا جائے ورنہ یہ پورے ملک پر قابض ہو جائے گا اور آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے حکمران بھی استعمار کے اوزار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ہماری ملت سو چکی ہے اور اس کو اوزار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ چند لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہم ان کے فائدہ کے لئے اپنے بندے مروا رہے ہیں، قربانیاں دے رہے ہیں۔

عارف حسینی!

قائد شہید سے عشق کا تقاضا یہ ہے کہ ہر سال قائد شہید کی برسی منعقد کرتے ہوئے ہمارے ذہنوں میں بھی یہ بات رہے کہ راہِ خدا میں منعقد ہونے والی ایک با مقصدبرسی، بے مقصد منعقد ہونے والی سو برسیوں سے بہتر ہے۔
کتنی صدیوں کے بعد
آج پھرآسمان سے
بارش ہوئی خون کی
آج پھرابل پڑا
پتھروں سے لہو
آج پھر گونج اُٹھی
ماتم سے فضا     
اب تو جہاں بھی
بزم عُشّاق سجے گی
اب تو جب بھی
ہدف اور حق کی بات ہو گی
اب تو جب بھی
بے مقصد اور با مقصد کا ٹکراو¿ ہو گا
اب تو جب بھی
ملک و قوم کی خاطر قربانی کی بات ہو گی
عارف حسینی! ؒ!!
تجھے پاکستان بہت یاد کرے گا
فریاد کرے گا۔۔۔

عارف حسین

ہوگئے ہیں یوں توآنکھوں سے نہاں عارف حسین
ایسالگتاہے ،ہیں اپنے درمیاں عارف حسین
ملت بیضا کی عظمت کا نشاں عارف حسین
آسمان دین حق کی کہکشاں عارف حسین
ناصردین  محمد بازوئے روح خدا
حق طلب، حق آشنا،میثم زماں عارف حسین
قلب ملت میں لہو کی طرح ہوکرموجزن
کل تھے جیسے آج بھی ہیں جاوداں عارف حسین
ظالمو ! تم نے کیاتھاایک عارف کو شہید
اب ہے اپنی قوم کاہرنوجواں عارف حسین
بھول سکتے ہیں بھلا کیسے محبان علی
لکھ گئے ہیں خون سے جو داستاں عارف حسین
پھوٹتی تھی ہرعمل سے خود عقیدہ کی مہک
علم وعرفاں کے تھے گویاگلستاں عارف حسین
دوستوں کے واسطے تھے ابرنیساں کی پھوار
دشمنوں کے حق میں تھے تیروکماں عارف حسین
ہوگئے تھے جمع جس کے زیرسایہ اہل پاک
علم کے صحرا میں تھے وہ سائباں عارف حسین
تم گئے ہو چھوڑ کر جس قافلے کو راہ میں

علامہ حسینی شہید


وہ کون تھا
جوبیکراں کائنات میں اک حباب آساوجودبن کربظاہر ابھرا
مگرمثال سحاب رحمت فضائے ملت پرچھاگیاتھا
وہ ایک ذرہ تھا
جس کے دل میں ہزارہاایٹمی جواہررواں دواں تھے
وہ ایک کوہ عظیم ترتھا
کہ جس کے سینے میں دردملت کے لاکھوں آتش فشاں کے لاوے دہک رہے تھے
وہ ایک قطرہ تھا
جس کے دل میں ہزاروں طوفاں مچل رہے تھے
وہ ایک دریاتھا
جس کی تہ میں ہزاہاسہمگیں تلاطم مچے ہوئے تھے
اوروہ تھاکہ اپنی منزل پہ پرسکوں تھاوہ ایک شے تھا بقول قرآں
جوساری اشیاء کی طرح حمدخدامیں گم تھا
وہ ایک شب تھامگردرخشاں
کہ جس کے کوثرسے دھوئے ہونٹوں پہ حق سے رازونیازکے تھے حسیں ترانے
وہ اک سحرتھا
کہ جس کی تکبیرکی صداؤں میں عصرحاضرکے لات وعزیٰ لرزرہے تھے
وہ اک سحرتھا
کہ جس کے ماتھے پہ حق رسی کاحسین تارا چمک رہاتھا
وہ اک سحرتھا
کہ جس کے سینے سے خون کااک عظیم سیلاب امڈپڑاتھا
وہ خوں نہیں تھا
وہ روشنی تھی
کہ جس نے خونخوارظلمتوں کوسحرہنگام مارڈالا
وہ عارف حق تھا
خودی کاعارف ،خداکاعارف
وہ پرتوآفتاب ایراں...
رہ خمینی  کاوہ مسافر
خط شہادت پہ اپنے محکم قدم جماکر
ہمیں بھی پیہم پکارتاہے
حسین والو،حسین والو
یہی توجادہ زندگی کا

ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال


  ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال علامہ اقبال ادیب پیدائشی نام محمد اقبال تخلص اقبال ولادت 9 نومبر 1877ء، سیالکوٹ ابتدا سیالکوٹ وفات 21 اپریل 1938ء، لاہور اصناف ادب شاعری
نثر ذیلی اصناف نظمغزل معروف تصانیف بانگ درابال جبریلضرب کلیمپیام مشرق ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء تا 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجۂ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ "دا ریکنسٹرکشن آف ریلیجس تھاٹ ان اسلام" کے نام سے انگریزی میں ایک نثری کتاب بھی تحریر کی جس کو بعض مسلم ممالک میں متنازع سمجھا جاتا ہے جبکہ سعودی عرب میں اس پر پابندی عائد ہے۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاستدان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے جو انہوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انہوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انہیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔ عظيم بشری جاويد عظيم بشری جاويد فہرست 1 اعلیٰ تعلیم 2 سفر یورپ 3 تدریس اور وکالت 4 سیاست 5 شاعری 6 اقبال کی نظموں کا فنی فکری تجزیہ 7 تصورات و نظریات 8 حوالہ جات 9 مزید دیکھیے 10 بیرونی روابط اعلیٰ تعلیم ایف اے کرنے کے بعد آپ اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور چلے گئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پاس کیے یہاں آپ کو پرفیسرآرنلڈ جیسے فاضل شفیق استاد مل گئے جنہوں نے اپنے شاگرد کی رہنمائی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ سفر یورپ 1905 میں علامہ اقبال اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے اور کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور پروفیسر براؤن جیسے فاضل اساتذہ سے رہنمائی حاصل کی ۔ بعد میں آپ جرمنی چلے گئے جہاں میونخ یونیورسٹی سے آپ نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ تدریس اور وکالت ابتداء میں آپ نے ایم اے کرنے کے بعد اورینٹل کالج لاہور میں تدریس کے فرائض سرانجام دیئے لیکن آپ نے بیرسٹری کو مستقل طور پر اپنایا۔ وکالت کے ساتھ ساتھ آپ شعروشاعری بھی کرتے رہے اور سیاسی تحریکیوں میں بھرپور انداز میں حصہ لیا۔ 1922ء میں حکومت کی طرف سے سر کا خطاب ملا۔ سیاست 1926ء میں آپ پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی کے ممبر چنے گئے۔ آپ آزادی وطن کے علمبردار تھے اور باقاعدہ سیاسی تحریکوں میں حصہ لیتے تھے۔ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے اور آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے آپ کا الہ آباد کا مشہور صدارتی خطبہ تاریخی حیثیت رکھتا ہے اس خطبے میں آپ نے پاکستان کا تصور پیش کیا۔ 1931ء میں آپ نے گول میز کانفرنس میں شرکت کرکے مسلمانوں کی نمائندگی کی۔ آپ کی تعلیمات اور قائداعظم کی ان تھک کوششوں سے ملک آزاد ہوگیا اور پاکستان معرض وجود میں آیا۔ لیکن پاکستان کی آزادی سے پہلے ہی 21 اپریل 1938ء (بمطابق 20 صفر 1357ھ[2]) میں علامہ انتقال کر گئے تھے۔ لیکن ایک عظیم شاعر اور مفکر کے طور پر قوم ہمیشہ ان کی احسان مند رہے گی۔ جس نے پاکستان کا تصور پیش کرکے برصغیر کے مسلمانوں میں جینے کی ایک نئی آس پیدا کی۔ شاعری شاعر مشرق علامہ اقبال حساس دل و دماغ کے مالک تھے آپ کی شاعری زندہ شاعری ہے جو ہمیشہ مسلمانوں کے لیے مشعل راہ بنی رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ کلام اقبال دنیا کے ہر حصے میں پڑھا جاتا ہے اور مسلمانان عالم اسےبڑی عقیدت کے ساتھ زیر مطالعہ رکھتے اور ان کے فلسفے کو سمجھتے ہیں۔ اقبال نے نئی نسل میں انقلابی روح پھونکی اور اسلامی عظمت کو اجاگر کیا۔ ان کے کئی کتابوں کے انگریزی ، جرمنی ، فرانسیسی، چینی ، جاپانی اور دوسرے زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔ جس سے بیرون ملک بھی لوگ آپ کے متعرف ہیں۔ بلامبالغہ علامہ اقبال ایک عظیم مفکر مانے جاتے ہیں۔ اقبال کی نظموں کا فنی فکری تجزیہ شکوہ جواب شکوہ خصر راہ والدہ مرحومہ کی یاد میں تصورات و نظریات خودی عقل و عشق مرد مومن وطنیت و قومیت اقبال کا تصور تعلیم اقبال کا تصور عورت اقبال اور مغربی تہذیب اقبال کا تصور ابلیس اقبال اور عشق رسول حوالہ جات 1.     ^ 1.0 1.1 Iqbal in Years - علامہ اقبال کی سرکاری ویب سائیٹ (انگریزی) 2.    ^ ڈاکٹر سلیم، اختر، سیّد علی اکبر شاہ کاظمی [2003ء]۔ “مفکر و مصور پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال مرحوم تقویم کے آئینہ میں”، ڈاکٹر سلیم اختر علامہ اقبال - حیات، فکر و فن (101 مقالات)۔ لاہور: سنگ میل پبلی کیشنز، 93۔ ISBN 969-35-1434-3۔ مزید دیکھیے اقبال کا ذہنی و فکری ارتقاء اقبال کا نظریہ فن بیرونی روابط اقبال کونوبیل انعام کیوں نہ ملا ؟ علامہ محمد اقبال شاعری: اسرار خودی - رموز بیخودی - پیامِ مشرق - با نگ درا - زبورِعجم - جاوید نامہ - با ل جبر یل - ضرب کلیم - پس چہ بائد کرد اے اقوامِ شرق - ارمغان حجاز نثر: اقبال اور عشق رسول مثلِ بو قید ہے غنچے میں ، پریشاں ہو جارخت بردوش ہے ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ ، توذری سے بیاباں ہو جانغمہ موج سے ہنگامہ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم ِ محمد سے اجالا کر دے عشق وہ والہانہ جذبہ ہے جو حضرت انسان کو دوسرے اقوام سے ممتاز کرتی ہے۔ یہ جذبہ بناوٹ، عیاری، امید ( معشوق سے کچھ حاصل کرنے کی) ۔ لالچ سے ماورا ہوتی ہے۔ یہ جذبہ انسان کو ایک جست میں اس بلندی اور آفاقیت تک لے جاتی ہے۔جس کا ہم خیال بھی نہیں کر سکتے ۔ اس قوت سے یقین و ایمان میں پختگی آتی ہے۔ اور اسی جذبہ کے تحت ایمان بل غیب پر یقین آجاتا ہے۔حضرت سید محمد ذوقی شاہ اپنی کتاب ” سر ِ دلبراں “ میں لکھتے ہیں، ” عشق ایک مقناطیسی کشش ہے جو کسی کو کسی کی جانب سے ایذا پانا، وصال سے سیر ہونا ، اس کی ہستی میں اپنی ہستی کو گم کر دینا یہ سب عشق و محبت کے کرشمے ہیں۔“ عاشقی چیست؟ بگو بندہ جاناں بودندل بدست دگرے دا دن و حیراں بودن اور جب یہ تعلق یا کشش سیدنا محمد مصطفی سے ہو تو پھر کیا کہنا ۔ ان کی ہستی تو ایک بحر ذخار کے مانند ہے جس کی موجوجیں آسمان کو چھوتی ہیں۔ جس کی تعلیمات محبت ، اخوت، مساوات اور رواداری کا درس دیتی ہیں ۔ جو لوگوں کو حیات نو عطا کرتی ہیں۔ اُس کے اخلاق کے بارے میں خود اللہ فرماتے ہیں کہ، ”’ اے حبیب بے شک تو اخلاق کے بلند درجے پر ہے۔“ جن کو نبوت سے پہلے امین اور صادق کے خطاب دئیے گئے رشک کی بات ہے کہ اقبال کو اس عظیم بندے سے عشق تھا اور اس آفتاب کے نور سے اقبال کی شاعری منور ہے۔ می ندانی عشق و مستی از کجا ست؟ایں شعاع افتاب مصطفی ست مولانا عبدالسلام ندوی ”اقبال کامل “ میں لکھتے ہیں، ” ڈاکٹر صاحب کی شاعری محبت ِ وطن اور محبت قوم سے شروع ہوتی ہے اور محبت الہٰی اور محبت رسول پر اس کا خاتمہ ہوا۔“   فہرست [غائب کریں] 1 والہانہ عشق 2 سوز و گداز 3 اتباع رسول 4 عشق کا محور 5 سالار کارواں 6 حسن و جمال 7 نیکی کی علامت 8 قیام یورپ اور عشق رسول 9 نظم” حضور رسالت ماب“ 10 اللہ تک رسائی کا زینہ 11 مکارم اخلاق 12 نجات دہندہ 13 مجموعی جائزہ [ترمیم] والہانہ عشق اقبال کو حضور سے جو والہانہ عشق ہے اس کا اظہار اس کی اردو اور فارسی کے ہر دور میں ہوتا رہا ہے۔ اقبال کی انفرادیت ہے کہ انہوں نے اردو فارسی دونوں زبانوں میں مدح رسول اکرم کو ایک نئے اسلوب اور نئے آہنگ کے ساتھ اختیار کیا۔ خوشا وہ وقت کہ یثرب مقام تھا اس کاخو شا وہ دور کہ دیدار عام تھا اس کا اقبال سردار دو عالم کی سیرت پاک کا غائر مطالعہ کرنے کے اور مطالب قرانی پر عبور حاصل کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ آنحضرت کی ذات ِ بابرکات جامع الحثیات ہے ۔ تمام کما لات ظاہر و باطن کی ، اور سرچشمہ ہے تمام مظاہر حقیقت و مجاز کا۔ کلام اقبال اٹھا کر دیکھ لیں تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پیغام ِ اقبال اصل میں حُب رسول ہے۔ کیونکہ انہی کی ذات گرامی سرچشمہ دیں ہے۔ بہ مصطفی برساں خویش را کہ دین ہمہ اوستاگر بہ او نرسیدی تمام بولہبی است سوز و گداز اقبال کی طبیعت میں سوز و گداز اور حب رسول اس قدرتھا کہ جب کبھی ذکر رسول ہوتا تو آپ بے تاب ہو جاتے اور دیر تک روتے رہتے ۔ ”روزگار فقیر “ میں سید وحید الدین لکھتے ہیں۔ ” اقبال کی شاعری کا خلاصہ جو ہر اور لب لباب عشق رسول اور اطاعت رسول ہے۔ ان کا دل عشق رسول نے گداز کر رکھا تھا زندگی کے آخری زمانے میں یہ کیفیت اس انتہا کو پہنچ گئی تھی کہ ہچکی کے آخری زمانے میں تو یہ کیفیت اس انتہا کوپہنچ گئی تھی کہ ہچکی بند جاتی ۔ آواز بھرا جاتی تھی اور وہ کئی کئی منٹ سکوت اختیار کر لیتے تھے۔ تاکہ اپنے جذبات پر قابو پا سکیں۔“ اتباع رسول عشق و محبت کا یہ مرتبہ ایمان کا خلاصہ ہے ۔ اتباع رسول کے بغیر محبت رسول ناممکن ہے۔ آپ کی ذات گرامی رحمتہ اللعالمین تھی۔ اس لئے مومن کو بھی رحمت و شفقت کا آئینہ ہونا چاہیے۔ اقبال فرماتے ہیں کہ مسلمان کی سرشت ایک موتی کی طرح ہے جس کو آب و تاب بحر ِ رسول سے حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال اسوہ حسنہ کی تقلید کا سبق دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے مومن تو باغِ مصطفویٰ کی ایک کلی ہے۔ بہار مصطفویٰ کی ہوائوں سے کھل کر پھول بن جائو۔ غنچہ از شاخسار ِ مصطفیگل شو از باد بہار مصطفی اقبال کے نزدیک خالق کائنات نے جب اس دنیا میں اپنی کاریگری کا آغاز کیا اور حضرت انسان کی شکل میں اپنے چھپے ہوئے خزانے کو عیاں کیا پھر جب ارتقاءکے منازل طے ہوتے گئے اور قوائے انسانی اپنے پورے کمال پر آگئے تو رب العالمین نے محمد کو معبوث فرمایا ۔ جو سب کے لئے رحمت ، ہادی ، راہ نما ، اور مہربان تھے۔ خلق و تقدیر و ہدایت ابتداسترحمتہ للعالمینی انتہا ست عشق کا محور کلام اقبال میں عشق رسول کے اظہار میں جب شیفتگی و وارفتگی کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ وہ بزرگانِ دین کا فیضانِ نظر تھا ۔ اس میں مکتب کی کرامت کا دخل نہیں تھا۔ آپ کے کلام میں شیخ عطار ، نظام الدین اولیا ، حضرت مجدد الف ثانی ، مولانا روم، اور امام غزالی کا تذکرہ اس امر پر شاہد ہے۔ اقبال ایک جگہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی تمام تر عقل اور فلسفہ دانی کو نبی کریم کے قدموں میں ڈھیر کر دیا ہے۔ اقبال کے ذہن میں عشق و مستی کا اوّل اور آخری محور ایک ہی ہونا چاہیے اور وہ محور ہے نبی کریم کی ذات جو ذات ِ تجلیات ہے جو کہ بقول حضرت عائشہ کہ ”قرآن ہی ان کے اخلاق ہیں۔ نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخروہی قرآں وہی فرقاں وہی یٰسیں وہی طہٰ سالار کارواں اقبال حضور کو اپنے کارواں کا سالار قرار دیتے ہوئے ان کی تقلید میں لبیک کہتے ہیں اور تن ، من ، دھن ، ان کی محبت میں قربان کرنے کو اولیت دیتے ہیں اور انہی کی لیڈر شپ میں زندگی کی قربانی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس لئے اپنی مشہور نظم ”ترانہ ملی“ میں لکھتے ہیں، سالار کاروا ں ہے میر حجاز اپنااس نام سے ہے باقی آرام جاں ہمارا حسن و جمال حسن و جمال میں حضور کی خوبی و محبوبی کسی سے پوشیدہ نہیں پر وقار انداز ، شگفتہ گفتگو ، خوبصورت چہرہ، مناسب قد الغرض ہر چیز اور ہر زاویے میں لازوال تھے۔ اسی لئے علامہ نے ان کی خوبصورتی کو یوسف ، عیسیٰ اور موسیٰ پر ترجیح دی ہے۔ حسنِ یوسف دمِ عیسیٰ ید بےضا داریآنچ خوباں ہمہ دارند تو اتنہا داری   نیکی کی علامت اقبال کے ذہن میں انسانی زندگی کے دو بڑے دھارے ہیں۔ نیکی اور بدی وہ نیکی کو محمد سے منسلک کرتے ہیں جبکہ بدی کو ابولہب سے وہ ابو لہب کو بدی کا خدا تصور کرتے ہیں اور نیکی کی علامت کے لئے پیکر جمیل کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عشق اور عقل کی تقسیم میں عشق کو محمد اور عقل کو عیاری کی بنا ءپر ابولہب کے حصے میں رکھتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں تازہ میر ے ضمیر میں معرکہ کہن ہواعشق تمام مصطفی عقل تمام بولہب اقبال کے خیال میں نیکی اور بدی کی قوتوں کے درمیان یہ معرکے ازل سے جاری ہیں اور بدی کی قوتوں کا انداز ابتداء سے مکارانہ اور عیارانہ ہے۔ جس کے مقابلے میں نیکی معصوم اور پاک ہوتی ہے۔ ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا اِمروزچراغِ مصطفوی سے شرار بو لہبی قیام یورپ اور عشق رسول یہ عشق نبوی کا ہی فیض ہے کہ یورپ میں ایک طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود اقبا ل دین ِ محمدی سے منحرف نہ ہوئے اور نہ ان کے اقدار میں تبدیلی ہوئی۔ اس لئے جب وہ لوٹے تھے اسی طرح عشق رسول سے سرشار تھے۔ خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوہء دانشِ فرنگسرمہ ہے مری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف نظم” حضور رسالت ماب“ جس دور میں اقبال نے شکوہ اور جواب شکوہ جیسی نظمیں تخلیق کیں وہ مسلماناں عالم کے لئے ایک عالمگیر انحطاط و انتشار کا زمانہ تھا اقبا ل مسلمانان عالم کی اس عمومی صورت حال پر ہمہ وقت بے تاب و بے قرار رہتے تھے۔ جواب شکوہ لکھنے سے کچھ عرصہ پیشتر اقبال نے طرابلس کے شہیدوں کے حوالے سے ایک نظم ” حضور رسالت مآب لکھی۔ یہ نظم بارگاہ نبوی میں شاعری کی ایک خیالی حضوری کو بیان کرتی ہے۔ فرشتے شاعر کو بزم رسالت میں حضور کے سایہ رحمت میں لے جاتے ہیں۔ بارگاہ نبوی سے شاعر سے خطاب کیا جاتا ہے۔ کہا حضور نے اے عندلیبِ باغِ حجازکلی کلی ہے تری گرمئ نوا سے گداز اللہ تک رسائی کا زینہ اقبال کا مطالعہ اسلام اور قرآن بہت ہی اچھا تھا۔ انہوں نے اپنی شاعری میں آیاتِ قرآنی کو جگہ دی ہے۔ کیونکہ اقبال کو پتہ تھا کہ اللہ کے کتابوں میں یہ آخری اور واحد کتاب ہے جس میں تبدیلی اور غلط بیانی کسی کی بس کی بات نہیں ۔ اور اس کی خالص شکل لوح محفوظ میں موجود ہے اور اسی قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ، ترجمہ:۔ اے نبی کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری تا بعداری کرو کیونکہ اللہ تک رسائی کے لئے حُب نبی ہی اصل زینہ ہے۔ جس پرصحابہ کرام نے عمل کیا۔ صدیق، عمر، عثمان نے عمل کیا۔ اقبا ل ا س لئے نصیحت کرتے ہیں اللہ سے وہی سوز طلب کرو جو انہی صحابہ نے طلب کیا تھا۔ جو ان کو عشق نبوی سے حاصل ہوا۔ سوز صدیق و علی از حق طلبذرہ عشق نبی از حق طلب   مکارم اخلاق اقبال کے نزدیک اسوہ نبوی کے اتباہ کے بدولت ہی ہم مکارم الاخلاق سے آراستہ ہو سکتے ہیں اسی وجہ سے ہمارے دلوں میں کشادگی اور نور اور تجلیات خداوندی جگہ پا سکتی ہے۔ اقبال فرماتے ہیں درد دل مسلم مقام مصطفےٰ استآبروئے ماز نامِ مصطفی است اقبال فرماتے ہیں کہ اس دنیا کی تخلیق کی اصل وجہ ذات نبی ہے کیونکہ آپ ہی کی وجہ سے اس دنیا میں اصل خالق یعنی اللہ کی ذات کی پہچان ، صحیح معنوں میں ممکن ہوئی۔ آپ ہی تھے جنہوں نے خدا تعالیٰ کی حقیقت کے بار ے میں لوگوں کو آگاہ کیا اور ان کے راز آشکار کئے۔   نجات دہندہ اقبال کی شاعری کا محور اصل میں عشق رسول ہی ہے۔ اسی زینہ پر چڑھ کر وہ محرم راز درونِ مے خانہ کا دعویٰ کرتے ہیں اسی ذات کو اقبال آخرت اور دنیا دونوں میں نجات دہندہ خیال کرتے ہیں۔ اسی ذات ِ با برکات نے امت مسلمہ کی صحیح داغ بیل ڈالی ان لئے تکالیف برداشت کیں اور احسانات کا ایک انبار اپنی قوم پر ڈال دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ای خدا قیامت کے دن میرے اعمال نامہ کو تو خواجہ ( رسول) کے سامنے پیش کرکے مجھے رسوا مت کر۔ مجھے شرمندگی محسوس ہوتی ہے کہ اس عظیم ذات کے سامنے مجھ خطا کار کی خطائیں جب آشکار ہوں۔ مکُن رسوا حضورِ خواجہ ماراحساب من ز چشم ِ او نہاں گیر   مجموعی جائزہ غرض اقبال کے سارے نظریات آپ کی ذات ِ گرامی میں بدرجہ اتم موجود تھے۔ وہ ایک خود دار ذات تھے۔ شاہین صفت تھے ، شفیق تھے۔ انسان کامل تھے۔ مردمومن تھے۔ صاف گو تھے۔ جمہوریت پسند تھے۔ مسلم کے قدر دان تھے اگرچہ خود اُمی تھے اسی لئے اقبال جواب شکوہ میں لکھتے ہیں کہ عقل ہے تیری سپر ، عشق ہے شمشیر تریمرے درویش! خلافت ہے جہان گیر تریماسوا اللہ کے لئے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہوتو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لو ح قلم تیرے ہیں اقبال کا تصور ابلیس رسمی مذہب اسے بدی کا مجسمہ قرار دیتا ہے وہ ہستی جس نے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کرکے خدائی احکام کی نا فرمانی کی اور ہمیشہ کے لئے ملعون و مردود قرارد ی گئی۔ اب اس کا کام صرف اتنا ہے کہ خدا کی مخلوق کو بہکانے اور اُسے خدا کے مقرر کردہ راستے سے دور لے جائے۔ قدیم ایرانی حکماء، مسلمان صوفیاءاور مغربی شعراءنے اپنے اپنے زاویہ نظر سے ابلیس اور خیر و شر پر اپنا فلسفہ پیش کیا۔ اقبال کے تصور ابلیس کو سمجھنے کے لئے دنیا میں تصور ابلیس کے ارتقاءپر نظر ڈالناضروری ہے۔   فہرست 1 ایرانی ثنویت اور تصور ابلیس 2 مسلما ن صوفیاءکے ہاں تصور ابلیس 3 مغربی ادب میں تصور ابلیس 4 دانتے 5 ملٹن 6 گوئٹے 7 علامہ اقبال کا تصور ابلیس 8 نظم” تسخیر فطرت“ میں ابلیس کے خدوخال 9 نظم جبرئیل و ابلیس 10 نظم ”تقدیر“ میں ابلیس کے نقوش 11 نظم ”ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام“ ایرانی ثنویت اور تصور ابلیس اس طرز فکر کی نمائندگی تین مفکرین کرتے ہیں زرتشت، مانی اور مزدک ان تینوں فلسفیوں کے نزدیک کائنات میں فعال قوتیں دو طرح کی ہیں۔ ایک جو یزداں کے نام سے منسوب ہے دوسری اہرمن کے نام سے یاد کی جاتی ہے۔ اہرمن شر کی قوتوں کا نمائندہ جبکہ یزداں خیر کی قوتوں کا نمائند ہ ہے۔ فطرت میں خیر وشر کی قوتوں کے مابین ایک مسلسل پیکار جاری ہے۔ اشیا ءاچھی یا بری اس لئے ہوتی ہیں کہ وہ یا تو خیر کی قوت تخلیق کی پیداوار ہیں یا شر کی۔   مسلما ن صوفیاءکے ہاں تصور ابلیس جن مسلمان صوفیا نے ابلیس کا خاص انداز میں ذکر کیا ہے۔ ان میں منصور حلاج، مولانا روم ، ابن عربی وغیرہ کے نام زیادہ اہم ہیں۔ بعض نے تو ابلیس کو اتنی اہمیت دی کہ اُسے سب سے بڑا توحید پرست اور موحد قرار دیاہے۔ ابلیس خدا کے ارادوں کی مشیت کا ایک ایسا کارندہ ہے جس کے فرائض سب سے زیادہ تلخ ، سب سے زیادہ ناگوار ، کڑے اور نازک ہیں۔ (منصور حلاج شیطان اس زیرکی کا نام ہے جو عشق سے معریٰ ہو کر ادنی مقاصد کے حصول میں حیلہ گری کرتی ہے۔(مولانا روم ابلیس ارادے میں آزاد ہے۔ ابن عربی مغربی ادب میں تصور ابلیس مغربی شعراءنے بھی اس فلسفے میں بڑی نکتہ نوازیاں کی ہیں۔ چند نمائندہ شعراءکے فلسفہ ہائے ابلیس پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔   دانتے دانتے مشہور اطالوی شاعر ہیں اس نے اپنی عظیم رزمیہ داستا ن ”ڈیوائن کامیڈی “ میں شیطان کا کردار پیش کیا ہے۔ دانتے کا شیطان بالکل قدیم مذہبی نوعیت کا شیطان ہے جسکا تصویر بائیبل میں ملتاہے۔ یہ بہت ہیبت ناک اور ساکن ہے ۔ دانتے اپنے شیطان کو سینے تک برف میں دھنسا ہوا دکھاتا ہے۔ وہ جتنا کسی زمانے میں حسین تھا اتنا ہی اب بد شکل ہے دانتے نے ابلیس کو دوزخ کے ساتھ دنیاوی نمائندہ قرار دے کر زندگی کے لئے ناگزیر تسلیم کیا ہے۔   ملٹن یہ ایک مشہور شاعر ہے۔ اس کی نظم ”جنت گم گشتہ “ میں ابلیس کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ ملٹن کا شیطان ایک زبردست شخصیت کا مالک ہے۔ جو اتنا ہیبت ناک ہے کہ دوزخ اس کے قدموں تلے کانپتی ہے۔ اس نے خدا سے شکست کھائی ہے۔ لیکن ہمت نہیں ہاری ۔ وہ ناقابل تسخیر ارادے اور عزم کا مالک ہے اور ایک ایسا ذہن رکھتا ہے جسے زمان و مکان تبدیل نہیں کر سکتا ۔ گوئٹے عظیم جرمن شاعر ہے اُس نے اپنے شہر ہ آفاق ڈرامے ” فاوسٹ “ میں شیطان کا ایک خاص کردار پیش کیا ہے۔ گوئٹے شیطان کو محض گردن زدنی نہیں سمجھتا بلکہ اس میں بعض خوبیاں بھی دیکھتا ہے گوئٹے کی دنیا میں شیطان کا بہکانا بھی انسان کے لئے مفید ہے کیونکہ صدائے غیبی کے الفاظ میں ’ ’ جب تک انسان راہ طلب میں ہے اس کا بھٹکنا لازمی ہے۔ انسان کا دستِ عمل سو جاتا ہے اور اسے آرام کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے ہم خوشی سے تیرا ساتھ دے ددیتے ہیں جو اُسے اُبھارے اور شیطانی قوت کو تخلیق دے اس شیطانی قوتِ تخلیق کا گوئٹے بہت قائل ہے۔ یعنی شیطان انسان میں خفیہ تخلیقی قوتوں کو بیدار کرتاہے اور عمل پر اکساتا ہے۔   علامہ اقبال کا تصور ابلیس اقبال نے ابلیس کے بارے میں اپنا فلسفہ مرتب کرتے وقت نہ صرف قدیم فلسفیوں ، صوفیوں اور شاعروں کے خیالات سے استفادہ کیا بلکہ اس میں اسلامی تعلیمات کو بھی مدنظر رکھا ۔ ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم جو اقبال کے تصور ِ ابلیس کو ان کے فلسفہ خودی کے تابع سمجھتے ہیں، لکھتے ہیں، ” اقبال کے ہاں ابلیس کا تصور ان کے فلسفہ خودی کا ایک جزو لاینفک ہے ۔ خودی کی ماہیت میں ذات الہٰی سے فراق اور سعی ِ قرب و وصال دونوں داخل ہیں اقبال کے فلسفہ خودی کی جان اس کا نظریہ عشق ہے۔ عشق کی ماہیت ، آرزو ، جستجو اور اضطراب ہے۔ اگر زندگی میں مواقع موجود نہ ہوں تو خیر کوشی بھی ختم ہو جائے جس کی بدولت خودی میں بیداری اور اُستواری پیدا ہوتی ہے۔ اگر انسان کے اندر باطنی کشاکش نہ ہو تو زندگی جامد ہو کر رہ جائے۔“   نظم” تسخیر فطرت“ میں ابلیس کے خدوخال شیطان جو رسمی مذہب میں بد ی کا مجسمہ ہے اسے اقبال نے اس حیثیت سے پیش کیا ہے کہ وہ جبر و تحکم کے علمِ بغاوت کو بلند کرنے والا اور بندہ ئے دام کے بجائے خود آزادانہ فیصلہ کرنے والا ایک منفرد کردار بن جاتا ہے۔ وہ اپنے اس اقدام سے ایک زبردست معرکہ چھیڑدیتا ہے جو افراد کے اندرونی رجحانات اورخارجی ماحول کے درمیان ہمیشہ جاری رہے گا۔ تمام فرشتوں میں یہ ایک اسی کی ذات تھی جس نے خدا کے حکم پر آد م کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا اور خدا کے اس سوال پر کہ اس نے یہ خطرناک جرات کیوں کی ، شیطان نے یہ جواب دیا میں اس سے بہتر ہوں ۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور آدم کو مٹی سے۔ اقبال نے ”پیام مشرق“ میں اپنی نظم تسخیر فطرت میں اس قرآنی آیت کی نہایت مو ثر ترجمانی کی ہے۔ اس نظم کے پانچ حصے ہیں۔ 1.     میلاد ِ آدم 2.    انکار ابلیس 3.   اغوائے آدم 4.   آدم از بہشت بیروں آمدہ می گوید٥) صبح قیامت آدم در حضور ِ باری یہاں بھی انسانی تخلیق اور اس کی شخصیت کی تکمیل میں شیطان کا حصہ اگرچہ وہی پرانا قصہ ہے اور تمام مذہبی صحیفوں میں موجود ہے۔ لیکن یہاں اقبال نے شیطان کا ایک منفر د اور ڈرامائی انداز پیش کیا ہے۔ انسان کی آفرینش قدرت کا اعلیٰ ترین شہکار تھی ۔ انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی قدرت نے ایک تخلیقی قطعیت بھی پیدا کی جو سکون سے عمل کی طرف ، طاقت سے طاقت کے استعمال کی طرف اور خوئے تسلیم و رضا سے تجزیہ و عمل کی طرف اس کے شعور کو پھیرنا چاہتی تھی۔ یہی تجرباتی ، متحرک ، طاقت اور رجحان انکار ابلیس ہے۔ ”تسخیر فطرت“ میں ابلیس ، سجدہ آدم سے انکار کی وجہ بڑے جوش ، خروش سے خدا کے سامنے بیان کرتا ہے وہ اپنے آپ کو حرکت کا سرچشمہ بتاتا ہے۔ اور زندگی میں حرکت کی ساری برکت کواپنا کمال سمجھتا ہے۔ می تپداز سوزِ من ، خونِ رگ کائناتمن بہ دو صرصرم ، من بہ غو تندرم پروفیسر تاج محمد خیال نظم پر تبصرہ کرنے ہوئے لکھتے ہیں، ” یہاں اقبال نے شیطان کواپنے اندرونی جذبات یعنی جذبہ مسابقت، دوسروں پر فوقیت حاصل کرنے اور غلبہ پانے کی آرزو کا آزاد اظہار کرتے دکھایا ہے۔ ماحول کی قوتوں کے مقابل میں ردعمل اور انہیں متاثر کرنے جو فطری رجحان ہر جاندار مخلوق میں پایا جاتا ہے۔ تو گویا شیطان اسی رجحان کی ایک رمزیہ شکل ہے۔ یہ رجحان زندگی کا ایک جوہر ہے اور تمام آرزو ، طلب ، سعی و کامرانی کی تخلیق کا ذمہ داردراصل یہی ہے۔“ نظم جبرئیل و ابلیس بال جبریل کی نظم” جبریل و ابلیس“ بھی اقبال کے تصور ابلیس پر روشنی ڈالتی ہے۔ نظم ایک دلچسپ مکالمے کی شکل میں ہے جس میں جبرئیل اپنے ہمدم دیرینہ شیطان سے بڑے دوستانہ لہجے میں پوچھتا ہے کہ جہاں ِ رنگ و بو کا حال کیا ہے۔ ؟ ذرا ہمیں بھی بتائو شیطان اس کے جواب میں کہتا ہے کہ جہاں عبادت ہے سوز و ساز وردو جستجو ہے۔ جبریل اُسے کہتا ہے کہ آسمانوں پر ہر وقت تیرا ہی چرچا رہتا ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ تو خدا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لے اور پھر ذات باری کا قرب حاصل کرے جواب میں شیطان کہتا ہے کہ میر ے لئے اب یہ ممکن نہیں میں آسمان پر آکر کیا کروں گا۔ وہاں کی خاموشی میں میرا دم گھٹ کر رہ جائے گا۔ آسمان پر زمین کی سی گہما گہمی اور شورش کہاں ہے۔ جبریل یہ باتیں سن کر بہت ناخوش ہوتے ہےں اور دکھ بھرے لہجے میں کہتے ہیں کہ اسی انکار کی وجہ سے تو نے اپنے مقاماتِ بلند کھو دئیے ہیں ۔ اور اسی سے تو نے فرشتوں کی بے عزتی کرائی ہے تمہارے اس اقدام کے بعد فرشتوں کی خدائی نظروں میں کیا آبرو رہی؟ اس پر شیطان چمک کر جواب دیتا ہے کہ تم آبرو کا نام لیتے ہو؟ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میر ی جرات سے ہی کائنات وجود میں آئی اور میری ہی وجہ سے عقل کی ضرورت پڑی ۔ تیرا کیا ہے تو تو ساحل پر کھڑا ہو کر تماشا دیکھنے والوں میں سے ہے۔ تو خیر و شر کی جنگ کو بس دور سے دیکھتا ہے۔ میری طرف دیکھو کہ میں طوفان کے طماچے کھاتا ہوں یہ میں ہی تھا جس کی بدولت آدم کے قصے میں رنگینی پیدا ہوئی ورنہ یہ ایک بے روح داستان تھی ابلیس و جبریل خیالات کی بلندی کے اعتبار سے اردو شاعری میں ایک معرکے کی چیز ہے۔ ہے مری جرات سے مشت خاک میں ذوق نمومیرے فتنے جامہ عقل و خرد کا تارو و پُودیکھتا ہے تو فقط ساحل سے رزمِ خےر و شرکون طوفاں کے طماچے کھا رہا ہے میں کہ توحضر بھی بے دست و پا ، الیاس بھی بے دست و پامیرے طوفاں یم بہ یم ، دریا بہ دریا جُو بہ جُوگر کبھی خلوت میسر ہو تو پوچھ اللہ سےقصہ آدم کو رنگیں کر گیا کس کا لہومیں کھٹکتا ہوں دل یزادں میں کانٹے کی طرحتو فقط اللہ ہو ، اللہ ہو ، اللہ ہو اقبال کی یہ نظم پڑھتے وقت کوئی شخص شیطان کی عظمت و شکوہ سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہاں اقبال نے اُسے ”سوزِ درونِ کائنات “ قرار دیا ہے۔   نظم ”تقدیر“ میں ابلیس کے نقوش ضرب کلیم میں ”تقدیر “ کے عنوان سے ایک نظم ہے جس کا ذیلی عنوان ہے۔ ”ابلیس و یزداں “ اس نظم کا مرکزی خیال ابن ِ عربی سے ماخوذ ہے۔ یہاں بھی ابلیس اور یزداں کے درمیان گفتگو ہوئی ہے۔ ابلیس کہتا ہے کہ اے خدا مجھے آد م سے کوئی بیر تھا اور نہ تیرے سامنے تکبر کرنا میرے لئے ممکن تھا۔ بات صرف اتنی ہے کہ تیری مشیت میں ہی میرا سجدہ کرنا نہیں لکھا تھا۔ خدا پوچھتا ہے کہ تجھ پر یہ راز انکار سے پہلے کھلا یا انکار کے بعد ۔ ابلیس جو اب دیتا ہے کہ انکار کے بعد اس پر خدا طنزاً فرشتوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہتا ہے کہ دیکھو اس کی پستی فطرت نے اُسے یہ بہانہ سکھایا ہے۔ ہم نے اسے جو آزادی بخشی تھی۔ اسے یہ احمق مجبوری اور جبر کا نام دے کر اس کی اہمیت سے انکار کر رہا ہے۔ پستی فطرت نے سکھائی ہے یہ حجت اِ سےکہتا ہے تیری مشیت میں نہ تھا میرا سجوددے رہا ہے اپنی آزادی کو مجبوری کا نامظالم اپنے شعلہ سوزاں کو خود کہتا ہے دود   نظم ”ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام“ اقبال کے ہاں ابلیس کی رسمی اور اپنی تصویر بھی ملتی ہے مثلاً ضربِ کلیم کی ایک نظم ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے میں شیطان کہتا ہے۔ لا کر برہمنوں کو سیاست کے بیچ میںزناریوں کو دیر کہن سے نکال دوفکر عرب کو دے کے فرنگی تخیلاتاسلام کو حجاز و یمن سے نکال دواہل حرم سے ان کی روایات چھین لوآہو کو مرغزارِ ختن سے نکال دو بقول تاج محمد خیال: ” ان کا نظریہ شیطان رسمی عقائد سے خواہ کتنا ہی مختلف کیوں نہ ہو شیطان پھر بھی شیطان ہے۔ اس کی شخصیت خواہ کتنی ہی شاندار ہو اور اس کا کردار خواہ کتنا ہی اہم ہو پھر بھی شیطان جن رجحانات کا مظہر ہے اگر انسان بالکل انہی رجحانا ت کا مطیع ہو جائے گا تو نتیجہ ابدی انتشار و کشمکش ، تباہی و بربادی کے سواءکچھ بھی نہ نکلے گا ایسی بنیادوں پر جو سماجی ڈھانچہ تعمیر کیا جائے گا وہ یکسر شیطانی ہوگا یہ قوت کا حامل تو ہوگا لیکن بصیرت سے محروم رہے گا۔“ اقبال کا تصور عقل و عشق  (عقل و عشق سے رجوع مکرر) عشق عربی زبان کا لفظ ہے محبت کا بلند تر درجہ عشق کہلاتا ہے اور یہی محبت کسی درجے پر جا کر جنوں کہلاتی ہے۔ عشق کا محرک مجازی یا حقیقی ہو سکتا ہے۔ یہ عشق نا ممکن کو ممکن بنا ڈالتا ہے ۔ کہیں فرہاد سے نہر کھد واتا ہے تو کہیں سوہنی کو کچے گھڑے پر تیرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ عشق ہی کی بدولت کوئی صدیق اکبر کہلاتا ہے تو کوئی سیدنا بلال بنتا ہے۔ غرض ہر عشق کے مدارج مختلف ہیں۔ کوئی عشق مجازی میں ہی گھر کر رہ جاتا ہے۔ تو کوئی عشق ِ مجازی سے حقیقی تک رسائی حاصل کرکے حقیقی اعزازو شرف حاصل کرتا ہے۔ اقبال کے یہاں عشق اور ان کے مترادفات و لوازمات یعنی وجدان ، خود آگہی، باطنی شعور ، جذب ، جنون ، دل ، محبت ، شوق ، آرزو مندی ، درد ، سوز ، جستجو، مستی اور سرمستی کا ذکر جس تکرار، تواتر، انہماک سے ملتا ہے ۔اُس سے ثابت ہوتا ہے کہ اقبال کے تصورات میں عشق کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اقبال کے نزدیک عشق ایک عطیہ الہٰی اور نعمت ازلی ہے۔ انسانوں میں پیغمبروں کا مرتبہ دوسروں سے اس لئے بلند تر ہے کہ ان کا سینہ محبت کی روشنی سے یکسر معمور اور ان کا دل بادہ عشق سے یکسر سرشار ہے۔محبت جسے بعض نے فطرت ِ انسانی کے لطیف ترین حسی پہلو کا نام دیا ہے۔ اور بعض نے روح ِ انسانی پر الہام و وجدان کی بارش یا نورِ معرفت سے تعبیر کیا ہے۔اس کے متعلق اقبال کیا کہتے ہیں اقبال ہی کی زبان سے سنتے چلیے ، یہ ان کی نظم ”محبت “ سے ماخوذ ہے۔ تڑپ بجلی سے پائی ، حور سے پاکیزگی پائیحرارت لی نفس ہائے مسیح ِ ابن مریم سےذرا سی پھر ربو بیت سے شانِ بے نیازی لیملک سے عاجزی ، افتادگی تقدیر ِ شبنم سےپھر ان اجزاءکو گھولا چشمہ حیوان کے پانی میںمرکب نے محبت نام پایا عرشِ اعظم سے یہ ہے وہ محبت کا جذبہ عشق جو اقبال کے دائرہ فکر و فن کا مرکزی نقطہ ہے۔ یہی تخلیق کا ئنات سے لے کر ارتقائے کائنات تک رموزِ فطرت کا آشنا اور کارزارِ حیات میں انسان کا رہنما و کار کُشا ہے۔ بقول اقبال کائنات کی ساری رونق اسی کے دم سے ہے۔ ورنہ اس سے پہلے ، اس کی فضا بے جان اور بے کیف تھی۔ عشق از فریادِ ما ہنگامہ ہا تعمیر کرد!ورنہ ایں بزمِ خموشاں ہیچ غوغائے نداشت   فہرست [1 عقل اور عشق 2 اقبال کے ہاں عشق سے مراد 3 عقل پر اقبال کا اعتراض 4 عشق اور خودی 5 عشق کو عقل پر ترجیح دینے کے اسباب عقل اور عشق ڈاکٹر عابد حسین اپنے مضمون ”عقل و عشق۔۔۔اقبال کی شاعری میں“ میں لکھتے ہیں کہ، ” عقل اور عشق کی کشمکش اردو اور فارسی شاعری کا پرانا مضمون ہے عشقیہ شاعری میں عقل ،مصلحت اندیشی اور احتیاط کے معانی میں آتا ہے۔ اور عشق اس والہانہ محبت کے معانی میں جو آدابِ مصلحت سے ناآشنا اور وضع احتیاط سے بیگانہ ہے ظاہر ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔“ متصوفانہ شاعری میں عقل سے مراد منطقی استدلال ہے جس کے ذریعے ظن ظاہر کا دھندلا تصور قائم ہوتا ہے۔ جبکہ عشق سے مراد جذبِ باطن جس کی بدولت طالب ِ تعینات کے پردوں کو ہٹا کر حقیقت کی بلاواسطہ معرفت حاصل کرنا ہے۔ اقبال نے عقل اور عشق کے تصورات صوفی شاعروں سے لے کر ان پر جدید فلسفہ وجدانیت کا رنگ چڑھایا۔ صوفی شعراء”ہمہ اوست“ کے قائل ہیں ان کے نزدیک کائنات کا وجود ہمارے حواس ظاہری کا فریب ہے۔ جبکہ جدید فلسفہ وجدانیت کے سب سے ممتاز فلسفی برگساں کے خیال میں انسان کے ذہن کاکام یہ ہے کہ حسی وظیفہ کو حرکتی وظیفہ میں منتقل کر دے اقبال بھی برگساں سے متاثر تھے۔ بقول اقبال عقل نے ایک دن یہ دل سے کہابھولے بھٹکے کی رہنما ہوں میںہوں مفسر کتا ب ِ ہستی کیمظہر شان کبریا ہوں میں جواب میں دل کہتا ہے کہ، علم تجھ سے تو معرفت مجھ سےتو خدا جو خدا نما ہوں میں عقل راز کو سمجھ کر اس کا ادراک کرتی ہے۔ جبکہ عشق اسے آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ یعنی حقیقت ہستی کا بلاِ واسطہ مشاہدہ کرتا ہے۔ عقل زمان و مکان کی پابند جبکہ عشق زمان و مکاں کی حدود سے نکل کر اُ س عالم نا محدود میں پہنچ جاتا ہے۔ جہاں حقیقت بے حجاب ہوتی ہے۔ اور یہ معرفت کا مقام ہے۔عقل کی منزل مقصود ہستی مطلق کی معرفت وہ خدا جو ہے لیکن اس کی جستجو ناتمام ہے عشق خدانما ہے جو راہ طلب میں عقل کی رہبری کرتا ہے۔گویا اقبال کے نزدیک عقل اور عشق میں بنیادی تضاد اتنا زیادہ نہیں بلکہ ابتدائی مراحل پر تو عقل کی ہی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ فطرت کو خر د کے روبر کرتسخیر مقامِ رنگ و بو کر؟ عقل میں بہت سی صفات موجود ہیں البتہ اس میں وہ جوش و خروش ، تڑپ ، حرکت اور وہ جرات نہیں جو عشق کا شیوہ ہے۔ عقل اگرچہ آستانِ حقیقت سے دور نہیں لیکن اکیلی اس تک پہنچ نہیں سکتی ۔ عقل گو آستا ںسے دور نہیںاس کی تقدیر میں حضور نہیںعلم میں بھی سرور ہے لیکنیہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیںدل بینا بھی کر خدا سے طلبآنکھ کا نور دل کا نور نہیں اقبال کے ہاں عشق سے مراد اقبال کے ہاں عشق سے مراد ایمان ہے ایمان کا پہلا جُز حق تعالیٰ کی الوہیت کا اقرار ہے اور اس پر شدت سے یقین ، اس شدت کو صوفیاءکرام نے عشق سے تعبیر کیا ہے۔ عقل ہمیں زندگی کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات کا حل سمجھاتی ہے لیکن جو شے عمل پر آمادہ کرتی ہے وہ ہے عشق ۔ عشق و ایمان سے زیادہ قوی کوئی جذبہ نہیں، اس کی نگاہوں سے تقدیریں بد ل جاتی ہیں۔ کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زورِ بازو کانگاہ ِ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں بقول مولانا روم، ” عقل جُزئی قبر سے آگے نہیں دیکھ سکتی ۔۔۔۔ قبر سے آگے عشق کا قدم اُٹھتا ہے اور عشق ایک جست میں زمان و مکان والی کائنات سے آگے نکل جاتا ہے۔ عشق کی ایک جست نے طے کر دیا قصہ تماماس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں اقبال کے نزدیک عقل و علم کی سب سے بڑی کوتاہی یہ ہے کہ اس کی بنیاد شک پر قائم ہے۔ اس وجہ سے عقل و علم میں وہ خواص موجود نہیں جو تربیت خودی کے لئے ضروری ہیں۔ اس کے مقابلے میں عشق بے خوفی ، جرات اور یقین و ایمان پیدا کرتی ہے۔ اس لئے وہ خدا سے صاحبِ جنوں ہونے کی آرزو کرتے ہیں۔ بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشقعقل ہے محو تماشائے لبِ بام ابھی خرد کی گتھیاں سلجھا چکا میںمرے مولا مجھے صاحب جنوں کر خرد نے کہہ بھی دیا لا الہٰ تو کیا حاصلدل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں عقل پر اقبال کا اعتراض ڈاکٹر سید عبداللہ ”عقل و خودی“ کے عنوان سے ”طیف اقبال“ میں اس امر پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں، ” اقبال کے خیال میں عقل ایک ناتمام چیز ہے یعنی عقل حقیقت کی کلیت کا ادراک نہیں کر سکتی۔۔۔۔ عقل جو حواس پر مبنی ہے حقیقت تک پہنچنے کے لئے یقینی راستہ نہیں ہے۔“ گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نورچراغِ راہ ہے منزل نہیں ہے عقل کے خلاف اقبال کا اعتراض ہے کہ عقل میں گرمی، جذب ، سرور و جنوں نہیں ۔ خودی کی تقویت کے لئے جس سرگرمی جذب و سرور کی ضرورت ہوتی ہے۔ عقل اس سے محروم ہے۔ خودی کی تسخیر کے لئے آگے بڑھنے کی جدوجہد کے لئے یقین کی ضرورت ہے مگر وہ یقین عقل کے ذریعے حاصل نہیں ہو سکتا ۔ عقل کی باتیں یقینی نہیں ہوتیں۔ عقل کی ایک بڑی کمزوری یہ بھی ہے کہ وہ شک میں گرفتار رہتی ہے اس لئے خودی میں و ہ حرکت اس سے پیدا نہیں ہوتی جو عشق یعنی یقین سے پیدا ہوتی ہے۔ بحرکیف عقل ایسی چیز نہیں جس سے نفرت ہو، اقبال نے عملی اور جزوی امور میں اس کی مخالفت نہیں کی انہوں نے عقل سے اختلاف اس لئے کیا ہے کہ کلی امور میں یہ فوراً انکار کر دیتی ہے۔ اک دانش ِنورانی ، اک دانش برہانیہے دانش ِ برہانی، حیرت کی فراوانی   عشق اور خودی اقبال کے تصورِ خودی کو ان کے تصورِ عشق سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا تربیت خودی کے لئے سب سے بڑا وسیلہ اقبال کے نزدیک عشق ہے جس کے بغیر خودی نہ ترقی کر سکتی ہے اور نہ پختہ ہو سکتی ہے۔ صوفیوں کے نزدیک نصب العین تک پہنچنے کے لئے خودی کو مٹانا ضروری ہے۔ ان کے نزدیک عشق کے کمال کی علامت یہ ہے کہ مادی وجود کو خود مٹایا جائے اقبال کے نزدیک خودی کی تربیت ضروری ہے نہ کہ مٹا دینا۔ اقبا ل نے بار بار کہا ہے کہ خودی عشق سے استوار ہوتی ہے۔ اور یہ عشق نہ تو وہ صوفیانہ عشق ہے جو خود کو فنا کرکے کمال حاصل کرتا ہے اور نہ وہ مجازی عشق جو معمولی آرزوں کے لئے تڑپنا ہے۔ اقبال کے نزدیک اس کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ مرد خدا کا عمل ، عشق سے صاحب فروغعشق ہے اصل ِ حیات ، موت ہے اس پر حرامعشق دمِ جبرئیل ، عشق دل ِ مصطفیعشق خدا کا رسول ، عشق خدا کا کلامعشق کی تقویم میں، عصرِ رواں کے سوااور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام ڈاکٹر سید عبداللہ ”طیف اقبال “ میں لکھتے ہیں۔ ” اقبال کے نزدیک عشق اورخودی ایک ہی چیز کے دو نام ہیں ۔ عشق پا لینے مسخر کرنے کی صلاحیت اور آرزو رکھتا ہے اور خودی کا خاصہ بھی یہی ہے کہ وہ غیر خودی کو مسخر کرنے یا پانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ عشق کا خاصہ ہے۔۔۔۔۔ کہ اس کا یقین اٹل اور محکم ہوتا ہے اور خود ی بھی یقین محکم کے پہیوں پر چلتی ہے۔ عشق پریشانیوں ، رنگا رنگیوں اور بد نظمی میں ترتیب ِحیات کرتا ہے۔ خودی کا بھی یہ وصف ہے کہ تنظیم حیات کرتی ہے۔“ الغرض اقبال کے نزدیک خودی نہ صرف عشق سے استوار ہوئی ہے بلکہ عشق خودی کا دوسرا نام ہے مولانا عبدالسلام ندوی”اقبال ِ کامل “ میں لکھتے ہیں کہ ، ”ڈاکٹر صاحب کے نزدیک عقل و عشق دونوں خودی کا جزو ترکیبی ہیں۔“   عشق کو عقل پر ترجیح دینے کے اسباب اقبال اگرچہ عقل کے مقابلے میں عشق کی برتری کے قائل ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ عقل کے مخالف ہیں بلکہ وہ ایک حد تک اس کی اہمیت کے قائل ہیں تاہم یہ درست ہے کہ اقبال عشق کو عقل پر ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک عشق سے ہی حقائق اشیا کا مکمل علمِ بصیرت حاصل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے خیال میں زندگی کی ساری رونق عشق سے ہے علم و عقل انسان کو منزل کے قریب تو پہنچا سکتے ہیں لیکن عشق کی مدد کے بغیر منزل کو طے نہیں کر سکتے۔ عقل گو آستاں سے دور نہیںاس کی تقدیر میں حضور نہیں اگر چہ عام طور پر عقل سے رہنمائی کا کام لیا جاتا ہے لیکن عشق عقل سے زیادہ صاحبِ ادراک ہے زمانہ عقل کو سمجھا ہوا ہے مشعل راہکسے خبر کہ جنوں بھی ہے صاحب ادراک اقبال کو اپنے ہم مشربوں سے شکایت ہے کہ وہ اس جنوں سے محروم ہیں ، جو عقل کو کارسازی کی راہ و رسم سکھا سکے۔ ترے دشت و در میں مجھ کو وہ جنوں نظر نہ آیاکہ سکھا سکے خرد کو راہ و رسم کارسازی بغیر نورِ عشق کے علم و عقل کی مدد سے دین و تمدن کی جو توجیہ کی جائے گی۔ وہ حقیقت پر کبھی بھی حاوی نہیں ہو سکتی ۔ عقل تصورات کا بت کدہ بنا سکتی ہے ۔ لیکن زندگی کی صحیح رہبری نہیں کر سکتی۔ عقل و دل و نگاہ کا مرشد اولیں ہے عشقعشق نہ ہو تو شرع و دیں بُت کدہ تصورات اقبال کے نزدیک عقل کی کمزوری یہ ہے کہ اس میں جرات رندانہ کی کمی ہے۔ جب تک عشق اس کی پشت پناہ نہ ہو آگے نہیں بڑھتی ۔ عقل اسباب کی بھول بھلیوں میں گم ہو کر اصل حقیقت سے دور رہتی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ اقبال سراسر عقل کا مخالف نہیں۔ چنانچہ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ وہ تمام امور جن سے قوموں کی زندگی بدل گئی کسی نہ کسی جذبہ کے تحت انجام پاتے ہیں اسی خیال کو اقبال اس طرح ادا کرتے ہیں۔ بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشقعقل ہے محوِ تماشائے لب بام ابھی زندگی کے جس چاک کو عقل نہیں سی سکتی اس کو عشق اپنی کرامات سے بے سوزن اور بغیر تارِ رفو سی سکتا ہے۔ وہ پرانے چاک جن کو عقل سی سکتی نہیںعشق سیتا ہے انہیں بے سوزن و تارِ رفو عقل کی عیاری اور عشق کی سادگی اور اخلاص کو اس طرح ظاہر کیا ہے۔ عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہےعشق بے چارہ نہ مُلا ہے نہ زاہد نہ حکیم روحانی ترقی ، جسے اقبال حیات ِ انسانی کا اصل مقصود گردانتے ہیں۔ عشق کی رہبری کی محتاج ہے اور اس میں اقبال عقل و علم کو بے دست و پا خیال کرتے ہیں ، خود انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے۔ خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہسکھائی عشق نے مجھ کو حدیث رندانہ کبھی کبھی پاسبان ِ عقل کی موجودگی انسان کو تنگ کرنے لگتی ہے خاص طور پر جب وہ تنقید ہی کو مطمع نظر بنا لے ایسے موقعوں پر اقبال اعمال کی بنیاد عقل کے بجائے عشق پر رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ عقل کو تنقید سے فرصت نہیںعشق پر اعمال کی بنیاد رکھ کبھی کبھی اقبال کے ضمیر میں معرکہ ہونے لگتا ہے۔ اور انہیں احساس ہوتا ہے کہ عشق ہی حق ہے اور عقل اس کے مقابلے میں وہی درجہ رکھتی ہے جو رسول ِ پاک کے مقابلے میں ابولہب کا تھا۔ تازہ میر ے ضمیر پر معرکہ کہن ہواعشق تمام مصطفی، عقل تمام بولہب ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں عقل سے کسی قسم کی رہنمائی کی توقع رکھنا بے جا ہی ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اقبال عشق کو عقل سے برتر و بلند قرار دیتے ہیں ۔ اگر اقبال کے تصور عشق کے بارے میں ایک فقرے میں بات کی جائے تو حضرت علامہ کے شعر کے صرف ایک مصرعے میں ہی بات مکمل کی جاسکتی ہے۔ عشق کی ایک جست نے طے کر دیا قصہ تمام یہی وجہ ہے کہ اقبال عقل کے بجائے عشق سے کام لینے کا مشورہ دیتے ہیں جس کی ایک جست سے سارا قصہ تمام ہو جاتا ہے جس فاصلے کو انسان بیکراں سمجھتا ہے ، عشق ایک چھلانگ میں اُسے عبور کرا دیتی ہے۔ ان تفصیلات سے اقبال کے تصور عشق کا پتہ چلتا ہے۔ وہ اگر چہ عشق کو عقل پر فوقیت دیتے ہیں ، تاہم عقل کی اہمیت سے انکار نہیں ہے۔ درج بالا تفصیلات سے یہ بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اقبال کا تصور عشق اردو فارسی کے دوسرے شعرا سے کتنا مختلف ہے ۔ اقبال کے نزدیک عشق ، محض اضطراری کیفیت ، ہیجان جنسی ہوس باختہ از خود رفتگی ، فنا آمادگی ، یا محدود کو لامحدود میں گم کر دینے کا نام نہیں ہے۔ بلکہ ان کے یہاں عشق نام ہے ایک عالمگیر قوتِ حیات کا ، جذبہ عمل سے سرشاری کا۔ اقبال کا ذہنی و فکری ارتقاء فہرست 1 شاعری کی ابتداء 2 شاعری کی شہرت 3 شاعری کے مختلف ادوار 4 شاعری کا پہلا دور 4.1 روایتی غزل گوئی 4.2 نظم نگاری 4.3 مغربی اثرات 4.4 فلسفہ خودی 5 شاعری کا دوسرا دور 5.1 پیامبری 5.2 یورپی تہذیب سے بیزاری 5.3 اسلامی شاعری 5.4 فارسی شاعری کا آغاز 6 شاعری کا تیسرا دور 6.1 وطنیت و قومیت 6.2 اسلامی شاعری 6.3 فلسفہ خودی 7 شاعری کا چوتھا دور 7.1 طویل نظمیں 7.2 نئے تصورات 7.3 گزشتہ ادوار کی تکمیل 7.4 افکار و نظریات میں تغیر و تضاد شاعری کی ابتداء اقبال کی شاعری پر اظہار خیال کرنے والے مفکرین اس بات پر متفق ہیں کہ ان کی شاعری کا آغاز اسی وقت وہ گیا جب وہ ابھی سکول کے طالب علم تھے اس سلسلے میں شیخ عبدالقادر کہتے ہیں، ” جب وہ سکول میں پڑھتے تھے اس وقت سے ہی ان کی زبان سے کلام موزوں نکلنے لگا تھا۔“ عبدالقادر سہروردی کا کہنا ہے کہ، ” جب وہ سکول کی تعلیم ختم کر کے اسکاچ مشن کالج میں داخل ہوئے تو ان کی شاعری شروع ہوئی۔“ ان دونوں آراءمیں اگرچہ معمولی سا اختلاف ہے لیکن یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ علامہ اقبال کی شاعری کا آغاز انہی دنوں ہوگیا تھا جب وہ اپنے آبائی شہر سیالکوٹ کے چھوٹے موٹے مشاعروں میں بھی شرکت کیا کرتے تھے۔ لیکن ان کی اس زمانہ کی شاعری کا نمونہ دستیاب نہیں ہو سکا ہے۔ کچھ عرصہ کے بعد علامہ اقبال جب اعلیٰ تعلیم کے لئے لاہور پہنچے تو اس علمی ادبی مرکز میں ان کی شاعرانہ صلاحیتوں کو ابھرنے اور تربیت پانے کا سنہر ی موقعہ ہاتھ آیا ، یہاں جگہ جگہ شعر و شاعری کی محفلوں کا چرچا تھا۔ مرزا رشد گورگانی دہلوی اور میر ناظم لکھنوی جیسے پختہ کلام اور استادی کا مرتبہ رکھنے والے شاعر ےہاں موجود تھے اور ان اساتذہ شعر نے ایک مشاعرے کا سلسلہ شروع کیاتھا۔ جو ہر ماہ بازارِ حکیماں میں منعقد ہوتا رہا۔ اقبال بھی اپنے شاعرانہ ذوق کی تسکین کی خاطر اس مشاعر ے میں شریک ہونے لگے۔ اس طرح مرزا ارشد گورگانی سے وہ بحیثیت شاعر کے متعارف ہوئے اور رفتہ رفتہ انہوں نے مرزا صاحب سے اپنے شعروں پر اصلاح بھی لینی شروع کر دی۔ اس زمانہ میں وہ نہ صرف غزلیں کہا کرتے تھے۔ اور یہ غزلیں چھوٹی بحروں میں سادہ ، خیالات کا اظہار لئے ہوئی تھیں۔ البتہ شوخی اور بے ساختہ پن سے اقبال کی شاعرانہ صلاحیتوں کا اظہار ضرور ہو جاتا تھا۔ بازار حکیماں کے ایک مشاعرے میں انہی دنوں اقبال نے ایک غزل پڑھی جس کا ایک شعر یہ تھا۔ موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لئےقطرے جو تھے مرے عرق انفعال کے اس شعر کا سننا تھا کہ محفل مشاعرہ میں موجود سخن سنج اصحاب پھڑک اُٹھے اور مرزا ارشد گورگانی نے اسی وقت پیشن گوئی کی کہ اقبال مستقبل کے عظیم شعراءمیں سے ہوگا۔ شاعری کی شہرت اقبا ل کی شاعری کا چرچا شروع شروع میں بازار حکیماں کے مشاعروں تک محدود تھا۔ یا پھر لاہور کے کالجوں کی ادبی مجالس میں انہیں شاعر کی حیثیت سے پہچانا جاتا تھا۔ لیکن زیادہ عرصہ نہیں گذرا تھا کہ شہر کی ادبی مجالس میں انہیں ایک خوش گو اور خوش فکر نوجوان شاعر کی حیثیت سے پہنچانا جانے لگا۔ انہی دنوں انہوں نے غزل کے ساتھ ساتھ نظم پر بھی توجہ کی۔ ایک ادبی مجلس میں انہوں نے اپنی اولین نظم ”ہمالہ “ سنائی تو اسے بہت پسند کیاگیا۔ چنانچہ اقبال کی یہ پہلی تخلیق تھی جو اشاعت پذیر ہوئی۔ شیخ عبدالقادر نے اسی زمانہ میں اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے لئے اپنا پہلا مشہور رسالہ ”مخزن “ جاری کیاتھا۔ اس کے پہلے شمارے میں اپریل ١٠٩١ءمیں اقبال کی یہ نظم شائع ہوئی یہ گویا ان کی باقاعدہ شاعری کا آغاز تھا۔ ان کے پہلے مجموعہ کلام ”بانگ درا“ کی اولین نظم یہی ہے۔ اور اسی نظم کے چھپنے کے بعد ان کی شہرت روز بروز پھیلتی چلی گئی۔   شاعری کے مختلف ادوار اقبال کے ذہنی و فکری ارتقاءکی منازل کا تعین اس کی شاعری کو مختلف ادوار میں تقسیم کرکے کیا جاتا رہا ہے کیونکہ اقبال نے اپنے افکار و خیالات کے اظہار کا ذریعہ شاعری کو ہی بنایا ہے۔ یہ طریقہ سب سے پہلے شیخ عبدالقادر نے اختیار کیاتھا۔ انہوں نے ”بانگ درا“ کا دیباچہ لکھتے وقت اقبال کی شاعری پر تبصرہ کیا ہے۔ اور اسے تین ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ لیکن یہ تقسیم بعد میں اس لئے قابل قبول نہیں رہی کہ شیخ عبدالقادر کے پیش نظر اقبال کا وہ کلام تھاجو ”بانگ درا“ میں شامل ہے۔ بعد کے نقادوں کے ان کے پورے کلام کو پیش نظر رکھ کر شیخ عبدالقادر کی پیروی کرتے ہوئے اُسے مختلف ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ چنانچہ مولانا عبدالسلام ندوی اور طاہر فاروقی نے اقبال کی شاعری کے چار ادوار قائم کئے ہیں۔ ان دونوں کے ہاں ادوار کا تعین تقریباً یکساں ہے۔ طاہر فاروقی نے اپنی کتاب ”سیرت اقبال“ اور عبدالسلام ندوی نے اپنی کتاب” اقبال کامل“ میں ان ادوار کا تعین کیاہے۔ان دونوں کے نزدیک اقبال کی شاعری کے مندرجہ ذیل چار ادوار ہیں۔ 1۔ پہلا دور از ابتداء1905ءیعنی اقبال کے بغرضِ تعلیم یورپ جانے تک کی شاعری 2۔دوسرا دور 1905ءتا 1908ءیعنی اقبال کے قیامِ یورپ کے زمانہ کی شاعری 3۔ تیسرا دور 1908ءتا 1924ءیعنی یورپ سے واپس آنے کے بعد ”بانگ درا “ کی اشاعت تک کی شاعری 4۔ چوتھا دور 1924ءتا 1938ء”بانگ درا “ کی اشاعت سے اقبال کے وفات تک کی شاعری بعد میں ڈاکٹر سید عبداللہ نے اپنی کتاب ”طیف اقبال“ میں یہی طریقہ استعمال کرتے ہوئے صرف ایک دور کا اضافہ کرتے ہوئے اقبال کی شاعری کو پانچ ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ ڈاکٹر سید عبداللہ نے دراصل اقبال کی شاعری کو ان سیاسی واقعات کی روشنی میں تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے جن سے ہندوستان کے مسلمان متاثر ہوتے رہے۔ اس لئے ان کی شاعری کی تقسیم ان چار ادوار میں ہی درست ہے جو مولانا عبدالسلام ندوی اور طاہر فاروقی نے متعین کئے ہیں۔   شاعری کا پہلا دور اقبال کی شاعری کا پہلا دوران کی شاعری کی ابتداءسے ٥٠٩١ءتک یا بالفاظِ دیگر اس وقت تک شمار کیا جاسکتا ہے جب وہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کی خاطر یورپ روانہ ہوئے ۔ اس دور کی خصوصیات ذیل ہیں۔   روایتی غزل گوئی اپنی شاعری کے بالکل ابتدائی زمانہ میں اقبال کی توجہ غزل گوئی کی جانب تھی اور ان غزلوں میں رسمی اور روایتی مضامین ہی باندھے جاتے تھے۔ واپس آنے کے بعد انہوں نے مرزا ارشد گورگانی سے اصلاح لینی شروع کی تب بھی ان کی غزلوں کا روایتی مزاج برقرار رہا ۔ البتہ ان کی طبیعت کی جدت طرازی کبھی کبھی ان سے کوئی ایسا شعر ضرور کہلوا دیتی تھی جو عام ڈگر سے ہٹ کر ہوتا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب استاد داغ کی زبان دانی اور شاعری کا چرچا تمام ہندوستان میں پھیلا تھا۔ اقبال نے اصلاح ِ سخن کی خاطر داغ سے رابطہ پیدا کیا۔ وہ نہ صرف اپنی غزلوں پر داغ سے اصلاح لیتے رہے بلکہ داغ کا لب و لہجہ اور رنگ اپنانے کی کوشش بھی کی۔اور داغ کی طرز میں بہت سی غزلیں کہیں ۔ چند غزلیں جو اس دور کی یادگار کے طور پر باقی رہ گئی ہیں وہ واضح طور پر داغ کے رنگ نمایاں کرتی ہیں انہی میں سے وہ مشہور غزل بھی ہے جس کے چند اشعار یہ ہیں۔ نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھیمگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیاتھی تمہارے پیامی نے سب راز کھولاخطا اس میں بندے کی سرکار کیاتھی   نظم نگاری اقبال نے جلد ہی اندازہ کر لیاتھا کہ روایتی قسم کی غزل گوئی ان کے مزاج اور طبیعت سے مناسبت نہیں رکھتی اور انہیں اپنے خیالات کے اظہار کے لئے زیادہ وسیع میدان کی ضرورت ہے چنانچہ انہوں نے نظم نگاری کی جانب توجہ کی اور اس کا آغاز” ہمالہ “ جیسی خوبصورت نظم لکھ کر کیا جسے فوراً ہی قبول عام کی سند حاصل ہوگئی۔ اس سی ان کا حوصلہ بندھا اور انہوں نے پے درپے نظمیں لکھنی شروع کر دیں ۔ انہی نظموں میں ان کی وہ مشہور نظمیں شامل ہیں جو ”نالہ یتیم “ ”ہلال عید سے خطاب“ اور ”ابر گہر بار“ کے عنوان سے انجمنِ حمایت اسلام کے جلسوں میں پڑھی گئیں۔   مغربی اثرات اقبال کو شروع ہی سے مغربی ادب کے ساتھ شغف رہاتھا چنانچہ اپنی شاعری کے ابتدائی زمانہ میں انہوں نے بہت سی انگریزی نظموں کے خوبصورت ترجمے کئے ہیں۔ ”پیام صبح “ ”عشق اور موت“اور ” رخصت اے بزم جہاں“ جیسی نظمیں ایسے تراجم کی واضح مثالیں ہیں۔ اس زمانہ میں انہوں نے بچوں کے لئے بھی بہت سی نظمیں لکھی ہیں۔ مثلاً مکڑاور مکھی، ایک پہاڑ اور گلہری، ایک گائے اور بکری ، بچے کی دعا، ماں کا خواب ، ہمدردی وغیرہ یہ تمام نظمیں مغربی شعراءکے کلام سے ماخوذ ہیں۔   فلسفہ خودی اقبال کے ابتدائی دور کی کئی نظمیں اس لحاظ سے بہت اہمیت کی حامل ہیں کہ ان میں اقبال کی فلسفہ خودی کے کئی عناصر اپنی ابتدائی اور خام شکل میں موجود ہیں۔ یہی عناصر ہیں جنہیں آگے چل کر اپنی صورت واضح کی اور مربوط و منظم ہو کر اقبال کے نظام فکر میں بنیادی حیثیت اختیار کر لی اور اس کا نام فلسفہ خودی قرار پایا۔اس فلسفہ خودی کے درج ذیل عناصر ہیں۔ 1 اقبال کے فلسفہ خودی میں انسان کی فضیلت ، استعداد اور صلاحیتو ں کابڑا زور دیا گیا ہے۔ 2 فلسفہ خودی کا دوسرا بڑا عنصر عشق اور عقل کی معرکہ آرائی میں عشق کی برتری کا اظہار ہے۔ 3 فلسفہ خودی کا ایک اور عنصر خیر و شر کی کشمکش ہے جو کائنات میں ہر آن جاری ہے۔ 4 فلسفہ خودی کا ایک بہت قوی عنصر حیاتِ جاودانی اور بقائے دوام کا تصور ہے۔ 5 اقبال کے فلسفہ خودی کا ایک اہم عنصر یہ ہے کہ زندگی کی جہد مسلسل خیال کرتے ہیں۔ اقبال کے اس ابتدائی دور کی شاعری کا مجموعی طور پر جائزہ لیا جائے تو ڈاکٹر سید عبداللہ کے بقول ، ” یہ ایک طرح کا جستجو، کوشش، اظہار اور تعمیر کا دور ہے اقبال کی آنے والی شاعری کے بیشتر رجحانات اور شاعرانہ افکار کے ابتدائی نقوش و آثار اس شاعری میں مل جاتے ہیں۔“ جبکہ ڈاکٹر عبداللہ رومانی کا کہنا ہے۔ ” اس دور کا اقبال نیچر پر ست ہے اور جو چیز اس دور کی نظموں میں نمایاں نظر آتی ہے وہ تنہائی کا احساس ہے اس بھری انجمن میں اپنے آپ کو تنہا سمجھنے کا احساس اور زادگانِ فطرت سے استعفار اور ہم کلامی اقبال کی رومانیت کی واضح دلیل ہے۔“ شاعری کا دوسرا دور اقبال کی شاعری کا دوسرا دور 1905ءمیں ان کی یورپ کے لئے روانگی سے لےکر 1908ءمیں ان کے یورپ سے واپسی تک کے عرصہ پر محیط ہے۔ گویا اس دور میں ان کا وہ کلام شامل ہے جو انہوں نے اپنے قیام یورپ کے دوران لکھا اس تمام عرصہ میں انہیں شعری مشغلہ کے لئے بہت کم وقت ملا کیونکہ ان کا زیادہ وقت اعلیٰ تعلیم کے حصول پی ۔ ایچ ۔ ڈی کے لئے تحقیقی مصرفیات اور مغربی افکار کے مطالعہ میں صرف ہوتا رہا۔ شائد ان ٹھوس علمی مصروفیات کا یہی اثر تھا کہ ایک مرحلہ پر وہ شاعری کو بیکار محض تصور کرنے لگے اور اس مشغلہ کو ترک کرنے کا ارادہ کر لیا۔ شیخ عبدالقادر جو اُن دنوں انگلستان میں تھے لکھتے ہیں کہ، ” ایک دن شیخ محمد اقبال نے مجھ سے کہا کہ ان کا مصمم ارادہ ہو گیا ہے کہ وہ شاعری کو ترک کر دیں اور قسم کھا لیں کہ شعر نہیں کہیں گے۔ میں نے ان سے کہاکہ ان کی شاعری ایسی شاعری نہیں جسے ترک کرنا چاہیے ۔ شیخ صاحب کچھ قائل ہوئے کچھ نہ ہوئے آخر یہ قرار پایا کہ آخری فیصلہ آرنلڈ صاحب کی رائے پر چھوڑا جائے ۔ آرنلڈ صاحب نے مجھ سے اتفاق رائے کیا اور فیصلہ یہی ہوا کہ اقبال کے لئے شاعری چھوڑنا جائز نہیں۔“ اس زمانہ کی شاعری کی خصوصیات درجِ ذیل ہیں، پیامبری اقبال کی اس دور کی شاعری میں یورپ کے مشاہدات کا عکس واضح نظر آتا ہے یورپ کی ترقی کے مشاہدہ نے ان پر یہ راز کھولا کہ زندگی مسلسل جدوجہد ، مسلسل حرکت ، مسلسل تگ و دو اور مسلسل آگے بڑھتے رہنے سے عبارت ہے۔ اس لئے مولانا عبدالسلام ندوی کہتے ہیں، ” اسی زمانہ میں ان کا زاویہ نگاہ تبدیل ہوگیا اور انہوں نے شاعر کی بجائے پیامبر کی حیثیت اختیار کر لی۔“ چنانچہ انہوں نے ”طلبہ علی گڑھ کالج کے نام“ کے عنوان سے جو نظم لکھی اس میں کہتے ہیں، اور روں کا ہے پیام اور ، میرا پیام اور ہےعشق کے دردمند کا طرز کلام اور ہےشمع سحر کہہ گئی، سوز ہے زندگی کا رازغمکدہ نمود میں ، شرط دوام اور ہے اس طرح چاند اور تارے اور کوشش ناتمام بھی اسی پیغام کی حامل ہیں۔ یورپی تہذیب سے بیزاری اقبال یورپ کی ترقی سے متاثر ہوئے تھے لیکن ترقی کی چکا چوند انہیں مرغوب نہیں کرسکتی ہے۔ وہ صحیح اسلامی اصول و قوانین اور قرآنی احکام پر عمل کرنے اور بری باتوں سے پرہیز کرنے کے قائل ہیں۔ مغربی تہذیب کا کھوکھلا پن ان پر ظاہر ہوتا ہے وہ اس سے بےزاری کا اظہار و اشگاف الفاظ میں کرتے ہیں۔ دیار ِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہےکھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ زر اب کم عیار ہوگا تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گیجو شاخ نازک پر بنے گا آشیانہ ناپا ئیدار ہوگا اسلامی شاعری مغربی تہذیب کے کھوکھلے پن اور ناپائیداری کا ادراک کرنے کے بعد اورجس فن افکار نے اس تہذیب کو جنم دیا تھا ان کی بے مائیگی کو سمجھ لینے کے بعد اقبال آخر کار اسلامی نظریہ فکر کی جانب راغب ہوئے۔اسی تغیر فکر نے ان کے اندر ملتِ اسلامیہ کی خدمت کا جذبہ بیدار کیا۔ اس جذبے کی عکاسی ان کی نظم ”شیخ عبدالقادر کے نام “ میں ہوتی ہے۔ جہاں وہ لکھتے ہیں۔ اُٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا افق ِ خاور پربزم میں شعلہ نوائی سے اجالا کردیںشمع کی طرح جئیں بزم گہ عالم میںخود جلیں دیدہ اغیار کو بینا کر دیں فارسی شاعری کا آغاز اس دور میں اقبال نے اردو کے ساتھ ساتھ فارسی میں طبع آزمائی شروع کی ۔ فارسی زبان کی وسعت اور اس کے پیرایہ اظہار و بیان کی ہمہ گیری کے ساتھ اقبال کو اپنی شاعری کے وسیع امکانات کی بڑی مطابقت نظر آئی۔ اس دور تک پہنچتے پہنچتے اقبال کے افکار و خیالات کسی قدر واضح اور متعین شکل اختیار کرنے لگتے ہیں۔ یورپی تہذیب کی ملمع کاری اور کھوکھلے پن کا ان پر اظہار ہوگیا ہے اور وہ ملک کی نجات مشرقی افکار و نظریات میں پانے لگے ہیں۔ اس ملت کے لئے ان کے پاس اب یہ پیغام ہے کہ وہ اسلام کے اصولوں پر سختی سے کار بند ہوں۔   شاعری کا تیسرا دور اقبال کی شاعری کا تےسرا دور 1908ءمیں یورپ سے ان کی واپسی کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ اور 1924ءمیں ”بانگ درا“ کی اشاعت تک شمار کیا جاتا ہے یہ دور ان کے افکار و خیالات کی تکمیل اور تعین کا دور ہے اس دور کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں۔ وطنیت و قومیت اقبال نے قیام یورپ کے دوران اُن اسباب کا بھی تجزیہ کیا تھا جو مغربی اقوام کی ترقی اور عروج ممدو معاون ہونے اور ان حالات کا بی گہرا مشاہدہ کیاتھا جو مشرقی اور خاص طور پر اسلامی ممالک کے زوال اور پسماندگی کا باعث بنے۔ ان کی تیز بین نظروں کے سامنے اب وہ تمام حربے بے نقاب تھے جو مغربی اقوام نے مشرق کو غلام بنائے رکھنے کے لئے وضع کر لئے تھے۔ ان سب حربوں میں زیادہ خطرناک حربہ وطنیت اور قومیت کا نظریہ تھا۔ اس تصور کو ملتِ اسلامیہ کے لئے سب سے زیادہ نقصان دہ سمجھنے لگے اِ سی لئے انہوں نے کہا کہ، ان تازہ خدائوں میں بڑا سب سے وطن ہےجو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہےاقوام میں مخلوق ِ خدا بٹتی ہے اس سےقومیت اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے اسلامی شاعری اس دور میں اقبال صرف وطنیت اور قومیت کے مغربی نظریہ کو مسترد کرکے اس کے مقابلے میں ملت کے اسلامی نظریہ کی تبلیغ ہی نہیں کرتے۔ بلکہ اب ان کی پوری شاعری کا مرکز و محور ہی اسلامی نظریات و تعلیمات بن گئے۔ اگرچہ اس زمانہ میں انہوں نے دوسرے مذہبی پیشوائوں مثلاً رام اور گورونانک وغیرہ کی تعریف میں بھی نظمیں لکھیں ہیں۔ لیکن بحیثیت مجموعی ان کی پوری توجہ اسلام اور ملت اسلامیہ کی جانب ہے۔ ”شمع و شاعر“ اور ”خضر راہ“ اس زمانے کے حالات کا بھرپور جائزہ لیتی ہوئی نظمیں ہیں۔   فلسفہ خودی اس دور میں اقبال کا فلسفہ خودی پوری طرح متشکل ہو کر سامنے آیا۔ ان کی اس دور کی شاعری تمام کی تمام اسی فلسفہ کی تشریح و توضیح ہے۔ چنانچہ اردو شاعری میں بھی اس فلسفہ کا اظہار اکثر جگہ موجود ہے اسی زمانہ میں انہوں نے کہا، تور از کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا!خودی کا راز داں ہو جا ، خدا کا ترجماں ہوجاخودی میں ڈوب جا غافل ، یہ عین زندگانی ہےنکل کر حلقہ شام و سحر سے جاوداں ہوجا شاعری کا چوتھا دور یہ دور 1924ءسے لے کران کے وفات تک ہے اس کی خصوصیات درج ذیل ہیں۔   طویل نظمیں ”بانگ درا“ میں اقبال کی کئی نظمیں شامل ہیں جن میں سے اکثر خارجی اور سیاسی محرکات کے زیر اثر ہیں۔ یہ محرکات چونکہ بہت ہیجان خیز تھے اس لئے نظموں میں جوش و جذبہ کی فضا پوری طرح قائم رہی ہے۔ مثال کے طور پر ”شکوہ“ ”جواب شکوہ“ ، ”شمع و شاعر“ ، طلوع اسلام“ وغیرہ نظموں کے نام لئے جا سکتے ہیں ۔ کئی طویل نظمیں ”بال جبریل “ میں ہیں جیسے ”ساقی نامہ“ وغیرہ۔   نئے تصورات اس دور کے کلام میں کچھ نئے تصورات سامنے آئے مثلاً شیطان کے متعلق نظم ” جبریل ابلیس“ ہے مری جرات سے مشت خاک میں ذوق نمودمیرے فتنے جامہ عقل و خرد کا تاروپوگر کبھی خلوت میسر ہو تو پوچھ اللہ سےقصہ آدم کو رنگیں کر گیا کسِ کا لہو   گزشتہ ادوار کی تکمیل بیشتر اعتبار سے یہ گزشتہ ادوار کی تکمیل کرتا ہے۔ مثلاً پہلے ادوار میں وہ یورپی تہذیب سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں جبکہ اس دور میں وہ اس کے خلاف نعرہ بغاوت بلندکرتے ہیں اور اس کے کھوکھلے پن کو واشگاف کرتے ہیں۔ افکار و نظریات میں تغیر و تضاد اقبال کی شاعری کے مندرجہ بالا تفصیلی جائزہ سے یہ بات پوری عیاں ہو جاتی ہے کہ وہ فکری ارتقاءکی مختلف منازل سے ضرور گزرے ہیں۔ لیکن فکری اور نظریاتی تضاد کا شکار کبھی نہیں ہوئے ۔ ابتدائی دور میں وہ وطن پرست تھے تو آخر وقت تک محب وطن رہے ہیں لیکن وطن کی حیثیت انہوں نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جو انسان کو مختلف گروہوں میں تقسیم کرکے آپس میں برسرِ پیکار رہتی ہے۔ کچھ عرصہ بعد انہیں یہ شعور حاصل ہوکہ وہ ایسی ملت کے فرد ہیں جو جغرافیائی حدود میں سمونا نہیں جانتی اس کا نتیجہ یہ نہیں ہوا کہ انہوں نے اپنے ہم وطن دیگر مذاہب کے پیرووں کے لئے نفرت کا اظہار کیا ہو۔بلکہ صرف یہ ہوا کہ انہوں نے اپنا تشخص اس ملت کے حوالہ سے کیا جس کا وہ حصہ تھے۔ یہ ان کی فکری ارتقاءکے مختلف مراحل کے نشانات ہیں اور وہ بہت جلد وطن اور ملت کے متعلق ایک واضح نکتہ نظر کو اپنا چکے تھے ۔ اس کے بعد وہ آخر وقت تک اسی نکتہ نظر کی وضاحت اور تبلیغ میں مصروف رہے اور کسی مقام پر کوئی الجھائو محسوس نہیں کیا۔ اقبال کا نظریہ فن شاعر کی نوا ہو کہ مغنی کا نفس ہوجس سے نفس افسردہ ہو وہ باد سحر کیابے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیںجو ضرب کلیمی نہیں رکھتی و ہ ہنر کیا نظریہ فن کے بارے میں اقبال اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اوّل یہ کہ آرٹ کی غرض محض حسن کا احساس پیدا کرناہے اور دوم یہ کہ آرٹ سے انسانی زندگی کوفائدہ پہنچنا چاہیے۔ اقبال کا ذاتی خیال ہے کہ ہر وہ آرٹ جو زندگی کے لئے فائدہ مند ہے وہ اچھا اور جائز ہے۔ اور جو زندگی کے خلاف ہو وہ ناجائز ہے۔ اور جو انسانوں کی ہمت کو پست اور ان کے جذبات عالیہ کو مردہ کرنے والا ہو قابل ِ نفرت ہے۔ اور اس کی ترویج حکومت کی طرف سے ممنوع قرار دی جانی چاہیے۔آرٹ کے مضر اثرات کے متعلق فرمایا ہے کہ بعض قسم کا آرٹ قوموں کو ہمیشہ کے لئے مردہ بنا دیتا ہے۔ چنانچہ ہندو قوم کی تباہی میں ان کے فن ِ موسیقی کا بہت بڑا حصہ رہا ہے۔ گویا اقبال فن کو زندگی کا معاون سمجھتے ہیں اور اس کو افادیت کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔ اقبال ایسے فن کے شدید مخالف ہیں جس سے قوم پر مردنی چھا جائے اور جو اس کے قوائے عمل کو مضمحل کردے۔ اس لحاظ سے اقبال کے نظریہ فن میں افادیت اور مقصدیت کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اقبال افادیت کے اس حد تک قائل ہیں کہ ان کے خیال میں مردنی پیدا کرنے والے فن کی حکومت کی طرف سے جبراً روک تھام ہونی چاہیے۔   فہرست 1 فن اور زندگی 2 فن اور صداقت 3 فن اور آزادی 4 فن اور خودی 5 فن اور عشق 6 فن اور جلا ل و جمال 7 فن صبح کا پیغامبر 8 معاشرے میں جذبات پیدا کرنا 9 حیات ابدی کے حصول کی لگن 10 فطرت کی خامیوں کو دور کرنا فن اور زندگی اقبال کے نزدیک فن کا واحد مقصد یہ ہے کہ وہ اجتماعی زندگی کی نشوونما میں معاونت کرے جس فن میں نہ زندگی کی کار فرمائی نظر آئے اور نہ فن کار کی خودی وہ اقبال کے نزدیک بیکار ہے۔ اقبال سارے فنون لطیفہ کو زندگی اور خودی کے تابع قرار دیتا ہے ۔ زندگی سے اقبال کی مراد قوم کی اجتماعی زندگی ہے اقبال نے اپنی ایک نظم میں قوم کو ایک جسم قرار دیتے ہوئے افرا د کو اس کے مختلف اعضاءسے تشبیہ دی ہے۔ ان اعضاءمیں شاعر کی حیثیت قوم کے دیدہ بینا کی ہے۔ مثلاً قوم گویا جسم ہے افراد ہے اعضائے قوممنزل صنعت کے رہ پیما ہیں دست و پائے قوممحفل نظم حکومت چہرہ زیبائے قومشاعر رنگیں نو ہے دیدہ بینائے قوم اقبال کہتے ہیں جب تک شاعری میں سوز دروں کی کارفرمائی نہیں ہوگی، قوم سوز آرزو اور سوزِ حیات سے بیگانہ رہے گی۔ اگر قوم لذت آرزو سے محروم رہے گی تو اس کی شیرازہ بندی ممکن نہیں ہوگی مثلاً، شمع محفل ہوکے تو جب سوز سے خالی رہاتیرے پروانے بھی اس لذت سے بےگانے رہےرشتہ الفت میں جب ان کو پروسکتاتھا توپھر پریشاں کیوں تری تسبیح کے دانے رہے فن اور صداقت اقبال کے خیال میں آرٹ کی بنیاد سوز و گداز ، صداقت اور انقلاب انگیز قوت پر ہونی چاہیے۔ لیکن اگر حیات ِ اجتماعی کسی خاص زمانے میں کسی خاص انحطاطی اثر کا شکار ہو تو آرٹ کو اس سے متاثر نہ ہو نا چاہیے۔ اقبال کہتے ہیں کہ صداقت نقل اور تقلید سے حاصل نہیں ہو سکتی ۔ شاعر کا کام ہے کہ کائنات اور حیات کے بحر ذخار سے خود نئے موتی چنے اور زندگی کے سمندر سے صداقت کا جام پئے۔مثلاً شاعر دلنواز بھی بات اگر کہے کھریہوتی ہے اس کے فےض سے مزرع زندگی ہریشان خلیل ہوتی ہے اس کے کلام سے عیاںکرتی ہے اسکی قوم جب اپنا شعار آذریکہہ گئے ہیں شاعری جزو یست از پیغمبریہاں سنا دے محفل ملت کو پیغام سروش   فن اور آزادی اقبال کہتے ہیں کہ فن کے حقیقی فروغ کے لئے آزادی بے حد ضروری ہے کیوں کہ عمرانی اور معاشی آزادی کے بغیر فن کی صحیح نشوونما ہو ہی نہیں سکتی۔ جمال کی قدر جس کو اقبال نے اپنے نظریہ فن میں حرکت سے وابستہ کر دیا ہے صرف آزادی ہی کے عالم میں پیدا ہو سکتی ہے ۔ کیوں کہ اقبال کے نزدیک جمال ، جلال کی ابتدائی کیفیت ہے۔ غلامی میں ذوق حسن باقی نہیں رہتا ۔ بصیرت جو حسن و جمال کے مشاہدے کے لئے اس قدر ضروری ہے فنا ہو جاتی ہے۔ اور دوسروں کی اقدارِ حسن کی اندھی تقلید باقی رہتی ہے اور اس اندھی تقلید سے جو آرٹ پیدا ہوتاہے وہ بھی جھوٹا اور بے اصل ہی ہوتا ہے۔ مثلاً غلامی کے ہے ذوق حسن و زیبائی سے محرومیجسے زیبا کہیں آزاد بند ے ہے وہی زیبابھروسہ کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پرکہ دنیا میں فقط مردانِ حُر کی آنکھ ہے بینافطرت کی غلامی سے کر آزاد ہنر کوصیاد ہیں مردان ِ ہنر مند کہ نخچیر فن اور خودی اقبال کے فن کا نظریہ ان کے فلسفہ خودی کے تابع ہے۔ ان کے نزدیک آرٹ اظہار خودی کا ایک وسیلہ ہے ۔ وہ فن جس میں خودی باقی نہیں رہتی ۔ اقبال کے خیال میں عضر چیز ہے۔ خودی دراصل اقبال کے نظام فکر کا مرکزی نقطہ ہے ۔ اس لئے انھوں نے تمام فنون لطیفہ کو خودی کے تابع قرار دیا ہے ۔ اس کے علاوہ فن اجتماعی زندگی کی نشوونما بھی کرتا ہے۔ خودی کا باقاعدہ تصور پیش کرنے سے پہلے اقبال نے شاعر کو اپنی حقیقت سے آشنا ہونے اور خودی کے ذریعے راز حیات معلوم کرنے کے ذرائع ڈھونڈنے کی تعلیم دی تھی۔ یہ شاعر یا فنکار کے لئے داخلیت یا وطن پرستی کا درس اپنی خودی کو دریافت کرنا اور اسے جگانا ، احتساب کائنات کے لئے شمع روشن کرنا ہے۔ مثلاً، آشنا اپنی حقیقت سے ہو اے دہقان ذرادانہ تو، کھیتی بھی تو، باراں بھی تو، حاصل بھی توآہ کس کی جستجو اوارہ رکھتی ہے تجھےراہ تو ، رہرو بھی تو ، رہبر بھی تو ، منزل بھی تواپنی اصلیت سے ہو آگاہ اے غافل کہ توقطرہ ہے لیکن مثال بحر بے پایا ں بھی ہےگر ہنر میں نہیں تعمیر خودی کا جوہروائے صورت گری و شاعری و نائے و سرور فن اور عشق اقبال کے فلسفے میں عشق کو بھی ایک نمایاں مقام حاصل ہے ۔ اقبال کے نزدیک فن کا محرک جذبہ عشق ہے۔ ان کے خیال میں کوئی فن خلوص ، سوز و گداز اور خون جگر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ فنکا ر کی ایک بڑی خصوصیت اس کا خلوص ہے جو عقلی بھی ہو سکتا ہے اور جذباتی بھی۔ اقبال کے ہاں جذباتی رنگ زیادہ غالب ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ وہ تمام معجز ہائے ہنر فانی ہیں جن کی تہہ میں خلوص و جذبہ موجود نہ اوروہ تمام فن پارے ابدی اہمیت کے حامل جن کی نمود خونِ جگر ، خلوص اور سوز دل کی مرہون ِ منت ہو مثلاً رنگ ہو یا خشت و سنگ ، چنگ ہو یا حرف و صوتمعجزہ فن کی ہے خون جگر سے نمود نقش ہیں سب ناتمام خونِ جگر کے بغیرنغمہ ہے سودائے خام خونِ جگر کے بغیر برگ گل رنگیں ز مضمون من استمصرع من ، قطرہ خونِ من است فن اور جلا ل و جمال اقبال ہر فن پارے میں دلبری کے ساتھ ساتھ قاہر ی کی صفت بھی دیکھنے کے آرزو مند ہیں۔ وہ فن میں جلا ل و جمال کے امتزاج کے قائل ہیں۔ کیونکہ وہ قوت اور جلال ہی میں زندگی کی نمو کا راز پوشیدہ دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک خالص قوت جس میں جمال کی آمیزش نہ ہو تباہی و بربادی لیکر آتی ہے۔ اور خالص جما ل جو قوت سے محروم ہو ان کے خیال میں پست درجے کے فن کی تخلیق کرتا ہے۔ اقبا ل کے خیال میں اگر کسی فن پارے میں دلبری و قاہری کا امتزاج نہ ہو تو فن پارہ نا مکمل ہے۔ اور اگر اس میں جلال اور جمال کی صفات جلوہ گر ہوں تو وہ ابدیت سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔ چنانچہ وہ دلبری سے قاہری کو جادوگری اور دلبری با قاہری کو پیغمبری قرار دیتے ہیںمثلاً۔ دلبری بے قاہری جادو گریستدلبری با قاہری پیغمبر یست مری نظر میں یہی ہے جمال و زیبائیکہ سر بہ سجدہ ہیں قوت کے سامنے افلاک نہ ہو جلال تو حسن و جما ل بے تاثیرمرا نفس ہے اگر نغمہ ہو نہ آتشناکمجھے سزا کے لئے بھی نہیں قبول وہ آگکہ جس کا شعلہ نہ ہو تند و سرکش و بے باک فن صبح کا پیغامبر اقبال کے نزدیک فن کا مقصد معاشرتی ترقی ہے۔ وہ فن کے متعلق اپنے نقطہ نظر اور معاشرے سے اس کے تعلق کو شاعری کے ذریعے مثالوں سے واضح کرتے ہیں ان کے نزدیک شاعری دیدہ بینا ئے قوم ہے۔ فن کا صحیح مقصد زندگی ، انسان اور اس کی معاشرت کو تقویت دینا ہے۔ ایک فنکار کو صبح کا پیغامبر ہونا چاہیے اور اگر وہ افسردہ اور یاس انگیز نغموں کے سوا کچھ نہ الاپ سکے تو اس کے لئے بہتر ہے کہ وہ خاموش رہے مثلاً افسرد ہ اگر اس کی نوا سے ہو گلستاںبہتر ہے کہ خاموش رہے مرغ سحر خیزشاعر کی نوا ہو کہ مغنی کا نفس ہوجس سے نفس افسردہ ہو وہ باد سحر کیا معاشرے میں جذبات پیدا کرنا اقبال کا کہنا ہے کہ شاعر سینہ ملت میں دل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اسے اپنی پیغمبرانہ قوتوں سے ملت خوابیدہ کو بیدار کردینا چاہیے۔ اور انہیں بلند سے بلند تر منازل تک لے جانا چاہیے ۔ اقبال مزید کہتے ہیں کہ وہ شاعری یا وہ شعر جو معاشرے میں جذبات کا ایک طوفان پیدا نہ کردے کسی کام کا نہیں مثلاًً جس سے دل درےا متلاطم نہیں ہوتااے قطرہ نہاں وہ صدف کیا وہ گہر کیا؟بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیںجو ضرب کلیمی نہیں رکھتی وہ ہنر کیا؟ اقبال کہتے ہیں کہ فن زندگی کے حصول کا ایک گراں قدر ذریعہ ہے اور اگر اس میں یہ خصوصیت ہوتو وہ پیغمبر ی سے صرف ایک درجہ کمتر ہے۔ فن کا ر کو لازم ہے کہ وہ کم حوصلہ لوگوں میں مردانگی اور جرات کی روح پھونک دے مثلاً نوا پیرا ہو ایک بلبل کہ ہو تیرے ترنم سےکبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیدا حیات ابدی کے حصول کی لگن اقبال فرماتے ہیں کہ فن کا کام یہ ہے کہ وہ ایسی شاعری تخلیق کرے کہ جس شاعر ی سے تمام بنی نوع انسان حیات ابدی کی طرف راغب ہو جائے اور ابدی زندگی کے حصول کے لئے کوشش شروع کر دے۔ اقبال فرماتے ہیں وہ شعر جو حیات ابدی کا پیغام لئے ہوئے ہو نغمہ جبریل کی طرح مشیت ایزدی کی تلقین کرتا ہے اور شعر کہنے والے کی آواز حشر کا سامان ہوتی ہے۔ مثلاً وہ شعر کہ پیغام حیاتِ ابدی ہےیا نغمہ جبریل ہے یا بانگ اسرفیل مقصود ہنر سوز حیات ابدی ہےیہ یک نفس یا دو نفسِ مثلِ شرر کیا فطرت کی خامیوں کو دور کرنا فن کے بارے میں بعض فطرت پرستوں کا نظریہ یہ ہے کہ حقیقی فن یہ ہے کہ فطرت جس طرح نظر آتی ہے فنکار اسے بالکل اسی طرح پیش کرے ۔ گویا فن کا راپنی ظاہر کی آنکھ سے جو کچھ دیکھتا ہے اگر اس کی ہو بہو تصویر کھینچ دے تو یہ بڑا فن ہے ورنہ نہیں۔ اقبال نے نقالی کے اس نظریے کی بھی شدید مخالفت کی ۔اقبال کا نقطہ نظر یہ ہے کہ فطرت کی نقالی کوئی کمال نہیں اصل کمال تو یہ ہے کہ جو فطرت نہیں کرسکتی اسے انسان کرے۔ انسان فطرت کے مقابلے میں بہتر ، بلند اور باشعور ہے وہ فطرت کا غلام نہیں فطرت اس کی غلام ہے ۔ فن کار کا کام یہ ہے وہ فطرت کی خامیوں کو دور کرکے اسے حسین بنا کر پیش کرے مثلاً فطرت کو خرد کے روبرو کرتسخیر مقام ِ رنگ بو کربے ذوق نہیں اگرچہ فطرتجو اس سے نہ ہو سکا وہ تو کر یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شائدکہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون بقول ایم ایم شریف ” اقبال کے نزدیک اس فن کا کوئی مطلب نہیں جس کا تعلق زندگی ، انسان اور معاشرت سے نہ ہو فن کا اوّلین مطلوب خود زندگی ہے ۔ فن کے لئے لازم ہے کہ وہ ذہن انسانی میں ایک ابد ی زندگی کے حصول کی لگن پیدا کردے۔“ وطنیت و قومیت فہرست 1 مغربی تصور قومیت سے بدظنی 2 قوم اور ملت ہم معنی 3 اقبال کا تصور قومیت 4 ملت کے لئے اخوت کی ضرورت 5 ملت اور اخوت کا پیغام 6 اتحاد اقوام اسلامی کا تصور 7 اتحاد عالم اسلام میں رکاوٹ 8 نظریہ وطنیت و قومیت 8.1 وطن پرستی کا دور 8.2 بعد کی وطن دوستی کی شاعری 8.3 وطنیت کے سیاسی تصور کی مخالفت 8.4 وطن کا بت 8.5 وطنیت اور ملوکیت کا رشتہ 9 مجموعی جائزہ مغربی تصور قومیت سے بدظنی جدید مغربی سےاسی افکار میں وطنیت اور قومیت قریب قریب ہم معنی ہیں ۔ اقبال نے وطنیت کے سیاسی تصور کو جس بناءپر رد کیا تھا وہی وجہ مغربی نظریہ قومیت سے ان کی بدظنی کی بنیاد بنی ان کا خیال تھا کہ قومیت کی ایک سیاسی نظا م کی حیثیت قطعاً غیر انسانی اقدار پر مشتمل ہے۔ اور اس کی بنیاد پر ایک انسانی گروہ دوسرے انسانی گروہ سے کٹ کر رہ جاتا ہے۔ اور بلا وجہ تنازعات کی بناءپڑتی ہے۔ جو بعض اوقات قیمتی انسانی جانوں کے اتلاف اور بلا خیز تباہی پر منتج ہوتی ہے۔ اسی نظام کو انہوں نے دنیائے اسلام کے لئے خاص طور پر ایک نہایت مہلک مغربی حربے کی حیثیت سے دیکھا اور جب ترکوں کے خلاف عرب ممالک نے انگریزوں کی مدد کی تو انہیں یقین ہوگیا کہ وطنیت اور قومیت کے مغربی تصورات مسلمانوں کے لئے زہر قاتل سے زیادہ نقصان ثابت ہو رہے ہیں ۔ چنانچہ انہوں نے قومیت کے مغربی تصور کے مقابلہ میں ملت اسلامیہ کا تصور پیش کیااور یہ ثابت کیا کہ مسلمانان ِ عالم کے لئے بنیادی نظریات اور اعتقادات کی رو سے ایک وسیع تر ملت کا تصور ہی درست ہے۔ اور قومیت کے مغربی نظریہ ہمیں بحیثیت ملت ان کی تباہی کے بے شمار امکانات پوشیدہ ہیں۔ قوم اور ملت ہم معنی اقبال قوم اور ملت کو مترادف الفاظ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور مسلمان قوم سے ان کی مراد ہمیشہ ملت اسلامیہ ہوتی ہے۔ اس بارے میں وہ اپنے مضمون میں تحریر فرماتے ہیں۔ ” میں نے لفظ ”ملت“ قوم کے معنوں مےں استعمال کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عربی میں یہ لفظ اور بالخصوص قرآن مجید میں شرع اور دین کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ لیکن حال کی عربی، فارسی اور ترکی زبان میں بکثرت سندات موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ملت قوم کے معنوں میں بھی مستعمل ہے۔ میں نے اپنی تحریروں میں ”ملت “بمعنی قوم استعمال کیا ہے۔“ آگے چل کر لکھتے ہیں۔ ” ان گزارشات سے میرا مقصد یہ ہے کہ جہاں تک میں دیکھ سکا ہوں ، قران کریم میں مسلمانوں کے لئے ”امت“ کے سوا کوئی لفظ نہیں آیا۔ ”قوم“ رجال کی جماعت کا نام ہے۔ یہ جماعت با اعتبار قبیلہ ، نسل، رنگ ،زبان ، وطن اور اخلاق ہزار جگہ اور ہزار رنگ میں پیدا ہو سکتی ہے ۔لیکن ”ملت‘ ‘ سب جماعتوں کو تراش کر ایک نیا اور مشترک گروہ بنائے گی۔ گویا”ملت“ یا ”امت“ جاذب ہے اقوام کی۔ خود ان میں جذب نہیں ہوتی۔ اقبال کا تصور قومیت اقبال قومیت کے اس تصور کے خلاف ہیں جس کی بنیاد رنگ، نسل ،زبان یا وطن پر ہو ۔ کیونکہ یہ حد بندیاں ایک وسیع انسانی برادری قائم کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ ان کی قومیت کے اجزائے ترکیبی وحدت مذہب ، وحدت تمدن و تاریخ ماضی اور پر امید مستقبل ہیں۔ جہاں تک مذہب کا تعلق ہے اسلام اسی ملت کی اساس ہے۔ اور اسلام کا سب سے بڑا اور بنیادی اصول توحید خدا ملی وحدت کا ضامن ہے۔ اس کا دوسرا رکن رسالت ہے۔ اور یہی دو نوں اساس ملت ہیں۔ نہ کہ وطن جو جنگ اور ملک گیری کی ہوس پیدا کرتاہے۔ اس سلسلہ میں اقبال نے اپنے ایک مضمون میں یوں لکھا ہے۔ ”قدیم زمانہ میں ”دین“ قومی تھا۔ جیسے مصریوں ، یونانیوں اور ہندیوں کا۔ بعد میں نسلی قرار پایا جیسے یہودیوں کا ۔ مسحیت نے یہ تعلیم دی کہ دین انفرادی اور پرائیوٹ ہے۔ جس سے انسانوں کی اجتماعی زندگی کی ضامن ”سٹیٹ “ ہے۔ یہ اسلام ہی تھا جس نے بنی نو ع انسان کو سب سے پہلے یہ پیغام دیا کہ ”دین“ نہ قومی ہے نہ نسلی ہے، نہ انفرادی اور نہ پرائیوٹ ، بلکہ خالصتاً انسانی ہے۔ اور اس کامقصد باوجود فطری امتیازات کے عالم بشریت کو متحد اور منظم کر نا ہے۔ ان باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقبال اخوت کے قائل ہیں لیکن اس کی بنیاد اسلام پر رکھتے ہیں کیونکہ اسلام ضابطہ حیات ہے جس کے پاس وسیع انسانی مسائل کا حل موجود ہے وہ قومیت کو اسلام کے دائرہ میں اس لئے رکھتے ہیں کہ ان کے نزدیک صحیح انسانی معاشرہ صرف اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہونے سے وجود میں آسکتا ہے۔ چنانچہ ان کے تصور قومیت کی بنیاد اسلامی معتقدات پر ہے۔وہ کہتے ہیں، قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں، محفل ِ انجم بھی نہیں تو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشہ قے کو تعلق نہیں پیمانے سے اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کرخاص ہے ترکیب میں قوم ِ رسولِ ہاشمی دامن دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاںاور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی ملت کے لئے اخوت کی ضرورت اسلام نے عالم ِ انسانیت میں ایک انقلابِ عظیم کو بپا کرکے انسان کو رنگ و نسل ، نام و نسب اور ملک و قوم کے ظاہری اور مصنوعی امتیازات کے محدود دائروں سے نکال کر ایک وسیع تر ہیئت اجتماعیہ میں متشکل کیا۔ اقبال کے نزدیک یہ ” ہیئت اجتماعیہ“ قائم کرنا اسلام ہی کا نصب العین تھا۔ مگر بدقسمتی سے یہ وحدت قائم نہ رہ سکی اور مسلمان مختلف فرقوں ، گرہوں اور جماعتوں میں بٹتے چلے گئے ۔ اقبال مسلمانوں کو پھر اسی اخوت اسلامی کی طرف لوٹنے کی تلقین کرتے ہیں۔ اور ایک ملت میں گم ہو جانے کا سبق سکھاتے ہیں۔ وہ ایک عالمگیر ملت کے قیام کے خواہشمند ہیں جس کا خدا ، رسول کتاب، کعبہ ، دین اور ایمان ایک ہو، منفعت ایک ہے اسی قوم کی نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی ، اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک ملت اور اخوت کا پیغام اسی جذبہ کے تحت اقبال مسلمانوں کو اخوت کا پیغام دیتے ہیں اور انہیں مشورہ دیتے ہیں کہ رنگ و خون کو توڑ کر ایک ملت کی شکل میں متحد ہوجائیں ۔ کیونکہ یہی ایک صورت ہے جس کے ذریعے ایک زندہ قوم کی حیثیت سے اپنا وجود برقرار رکھ سکتے ہیں۔ ملک قوم ، نسل اور وطن کی مصنوعی حد بندیوں نے نوع انسانی کا شیرازہ منتشر کرکے رکھ دیاہے۔ اور اس کا علاج سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اسلامی معاشرہ کے تصور کو رائج کیا جائے اور کم از کم مسلمان خود کو اسی معاشرہ کا حصہ بنا لیں۔ یہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانیاخوت کی جہانگیری ، محبت کی فراوانی بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوجانہ تورانی رہے باقی ، نہ ایرانی نہ افغانی ہوس نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے نوع انساں کواخوت کابیاں ہوجا ، محبت کی زباں ہوجایہ ہندی ، وہ خراسانی ، یہ افغانی ، وہ تورانیتو اے شرمندہ ساحل ، اچھل کر بیکراں ہوجا مگر وحدت کا یہ احساس اور اخوت کا یہ جذبہ اگر نوع انسانی کے اندر پیدا ہوسکتا ہے تو صرف اسلا م کے ذریعہ ہی پیدا ہونا ممکن ہے۔ اقبال کی نظر میں اسلام محض انسان کی اخلاقی اصلاح ہی کا داعی نہیں ، بلکہ عالم بشریت کی اجتماعی زندگی میں ایک تدریجی مگر اساسی انقلاب بھی چاہتا ہے۔ جو انسان کے قومی اور نسلی نقطہ نگاہ کو یکسر بدل کر اس میں خالص انسانی ضمیر کی تخلیق کرے۔ اسی لئے وہ کہتے ہیں۔ ربط ملت و ضبط ملت بیضا ہے مشرق کی نجاتایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبر ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئےنیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغرنسل گر مسلم کی مذہب پر مقدم ہوگئیاڑ گیا دنیا سے تو مانند خاک رہ گزر اتحاد اقوام اسلامی کا تصور اسلام بنیادی طور پر ایک عالمگیر پیغام ہے اور تما م نوع انسانی کو اخو ت کی لڑی میں پرو کر ایک وسیع تر ملت اسلامیہ کے قیام کی دعوت دیتا ہے۔ تاکہ انسان کی ہوس کا علاج ہوسکے۔ لیکن اس کے لئے پہلا قدم یہ ہے کہ دنیا کے تمام مسلمان ممالک ایک لڑی میں پرئوے جائیں ۔ اقبال کی بھی یہی تمنا ہے ان کے نزدیک اسلام ایک ازلی ، ابدی ، آفاقی اور عالمگیر نوعیت کا پیغام ہے ، یہ ہر زمانہ ، ہر قوم اور ہر ملک کے لئے راہ ہدایت ہے۔ اس لئے اس کے پیروکاروں کو رنگ و نسل اور ملک وطن کے امتیازات مٹا کر یکجاہو جانا اور دنیائے انسانیت کے لئے ایک عالمگیر برادری کی مثال پیش کرنی چاہیے۔اس سلسلہ میں ”جمعیت اقوام“کی تنظیم پر طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اصل مقصد انسانوں کے درمیان اخوت کا جذبہ پیدا ہو نا چاہیے نہ کہ قوموں کا ایک جگہ اکٹھا ہو جانا۔ اس دور میں قوموں کی محبت بھی ہوئی عامپوشیدہ نگاہوں سے رہی وحدت آدم تفریق ملل حکمت افرنگ کا مقصوداسلام کا مقصود فقط ملت آدم مکہ نے دیا خاک جینو ا کو یہ پیغامجمعیت اقوام ہے جمعیت آدم اتحاد عالم اسلام میں رکاوٹ اقبال کے نزدیک اسلامی قومیت کی بنیاد اسلام پر ہے ملک و نسب نسل وطن پر نہیں۔ اس تصور کی انہوں نے عمر بھر شدو مد سے تبلیغ کی ۔ ہر مسلمان اسی تصور کو تسلیم کرتا ہے اور اس کی سچائی سے انکار نہیں کر سکتا۔ لیکن مسلم ریاستوں کے اتحاد اور دنیا کے تمام مسلمانوں کے ایک قوم بن جانے کا حوصلہ اس وقت تک نہیں آسکتا جب تک وطنیت اور قومیت کے مغربی نظریہ کی گرفت کمزور نہیں پڑجاتی۔ قریب قریب سارا عالم اسلام کافی عرصہ تک مغربی اقوام کا محکوم رہا ہے اور جدید اسلامی ریاستوں میں سے بہت سی ایسی ہیں جن کی تشکیل ہی مغربی نظریہ قومیت کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ اس طرح انہیں مغربی نظریات کے سحر سے آزاد ہونے میں کچھ وقت عرصہ لگے گا۔ لیکن امید کی جا سکتی ہے کہ کہ اقبال کے اس خواب کی تعبیر بھی ایک نہ ایک دن ضرور پوری ہوگی اور دنیا کے تمام مسلمان ملت واحدہ کی شکل اختیار کرکے ایک عالمگیر برادری کی شکل میں ڈھل جائیں گے۔ اس تما م بحث سے پتہ چلتا ہے کہ قومیت کے متعلق نظریات کے حوالے سے اقبال ایک ارتقائی عمل سے گزرے اور آخر کا ر اس نتیجے پر پہنچے کہ نسلی ، جغرافیائی ، لسانی حوالے سے اقوام کی تقسیم مغرب کا چھوڑا ہو ا شوشہ ہے۔ جس کا مقصد صرف اور صر ف مسلمانوں کو تقسیم کرنا ہے۔ اس لئے انہو ں نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو اپنے نظریہ ملت سے ایک ہونے کا پیغام دیا ۔ تاکہ مغرب کی ان سازشوں کو ناکام بنا یا جا سکے۔ اور مسلمان اقوام عالم مےں اپنا کھویا ہوا مقا م ایک بار پھر حاصل کر سکیں۔ نظریہ وطنیت و قومیت مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھناہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستان ہمارا وطن پرستی کا دور اقبال کی ابتدائی نظموں میں وطن سے ان کی گہری محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ ہر شخص کی طرح انہیں بھی اپنے وطن سے بڑی محبت تھی۔ بلکہ یہ محبت وطن پرستی کی حدوں تک پہنچی تھی۔ چنانچہ ان کی اس دور کی نظموں میں بقول مولانا صلاح الدین احمد، ” جب ہم اقبال کی ابتدائی شاعری کا جائزہ لیتے ہیں تو قدرت اور عورت کے حسن کی پرستش کے بعد جو جذبہ سب سے پہلے نظر آتا ہے۔ وہ وطن کی پرستش ہے۔“ وطن سے ان کی گہری محبت کا جذبہ اس قدر شدید تھا کہ ان کے اولین اردو مجموعہ” بانگ درا“ کا آغاز ہی ایک ایسی نظم سے ہوتا ہے۔ جو وطن پرستی کے بلند پایہ جذبات سے بھرپور ہے اس کا شمار ان نظموں میں ہوتا ہے جو حصول تعلیم کی غرض سے ان کے یورپ جانے سے قبل لکھی گئیں۔ مثلاً اپنی نظم ” تصویر درد “ میں وہ ہندوستان کی قسمت پر آنسو بہاتے ہوئے کہتے ہیں، رلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستان مجھ کوکہ عبرت خیز ہے ترا فسانہ سب فسانوں میںوطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہےتری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میںچھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نےعنا دل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میںنہ سمجھو گے تو مٹ جائو گے اے ہندوستان والوتمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں ”ترانہ ہندی“ ان کی وہ مشہور اور مقبول عوام نظم ہے جو عرصہ تک ہندوستان کے بچے بچے کی زبان پر رہی ہے۔ اس میں انتہائی دلنشین طریقہ سے اپنے وطن کے ساتھ گہرے لگائو اور محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہماراہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہماراغربت میں ہوں اگر ہم رہتا ہے دل وطن میںسمجھو وہیں ہیں ہم بھی، دل ہو جہاں ہمارامذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھناہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستان ہمارایونان و مصر و روما ، سب مٹ گئے جہاں سےاب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا اس زمانہ کی ایک اور نظم” ہندوستانی بچوں کا گیت“ ایک ایسی نظم ہے جس کے ایک ایک لفظ سے وطن پرستانہ جذبات کا اظہار ہوتا ہے۔ وطن کے ساتھ اتنے گہرے لگائو کا اظہار کرنے والی اردو میں بہت کم نظم لکھے گئے ہیں اس میں اقبال کی وطن کے ساتھ محبت اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔ بندے کلیم جس کے ، پربت جہاں کا سینانو ح نبی کا ٹھہرا آکے جہاں سفینارفعت ہے زمین کی بام فلک کا زیناجنت کی زندگی ہے جس کی فضا میں جینامیرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے اس نظم کے آخری بند میں اقبال نے اپنے وطن کو جس والہانہ انداز میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ اس کی اردو شاعری میں شائد ہی کوئی اور مثال مل سکے ۔اسی طرح اپنی نظم ” نیا شوالہ“ میں انہوں نے یہ کہہ کر اپنی وطن پرستی کی اتنہا کر دی تھی کہ ’ ’ خاک وطن کا جھکو یہ ذرہ دیوتا ہے۔“ ظاہر ہے کہ وطن پرستی کی خاطر اس سے بڑھ کر اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ کہ شاعر اپنے وطن کے ذرے ذر ے کا پجاری ہے۔   بعد کی وطن دوستی کی شاعری بعض نقادوں کا خیال ہے کہ جوں جوں اقبال فکری ارتقاءکے مراحل طے کرتے گئے ، ان کی وطن پرستانہ جذبات دھیمے اور ملت پرستانہ جذبات گہرے ہوتے گئے۔ یہاں تک کہ وطن کی محبت کے نظریہ سے قطعاً کنارہ کش ہوگئے۔ مگر یہ اعتراض درست نہیں ہے یہ تو ٹھیک ہے کہ بعد کے ادوار میں ان کی شاعری میں وطن پرستی کا وہ والہانہ جذبہ نہیں ملتا جو ابتدائی دور کی خصوصیت ہے۔ مگر وطن دوستی کا اظہار وہ اپنی شاعری کے ہر دور میں جابجا کرتے ہیں ۔ دراصل وطن کی جغرافیائی حیثیت سے انہوں نے کبھی انکار نہیں کیا اور نہ اس کے ساتھ ان کی محبت میں کبھی کمی آئی ۔ ان کی مخالفت صرف وطنیت کے سیاسی نظریہ سے تھی۔ طاہر فاروقی ”سیرت اقبال“ میں لکھتے ہیں، ” وطنیت کا وہ نظریہ جس کی تبلیغ سیاستِ مغرب کی طرف سے ہوئی ہے آپ اس کی شدید مخالف ہیں ۔ اور اقوام و عمل کے حق میں اس کو سم قاتل خیال کرتے ہیں لیکن وطنیت کا یہ مفہوم کہ ہندی ، عراقی ، خراسانی ، افغانی، روسی ، مصری وغیرہ ہونے کے اعتبار سے ہر فرد کو اپنے وطن ولادت سے تعلق اور نسبت ہے اور اسی لئے اس کو اپنے وطن کی خدمت کرنی چاہیے اور قربانیوں سے دریغ نہ کرنا چاہیے۔ اس کے آپ قائل اور معترف ہیں۔“ گویا ان کے وطن دوستی کے جذبات میں نہ کبھی تغیر آیا اور نہ ان میں کبھی کمی ہوئی۔ ان کا ثبوت یہ ہے کہ ان کی پختگی کے دور کی تصانیف ”جاویدنامہ “۔”پس چہ باید کرد اے اقوام مشرق“ اور مثنوی مسافر میں بھی وطن پرستی کے لطیف جذبات کا اظہار جا بجا ہوا ہے ”جاوید نامہ کا وہ حصہ تو خاص طور پر قابل ذکر ہے جہاں انہوں نے ”قلزم خونیں“ کے تحت روح ہندوستان اور اس کے نامہ و فریاد کی تصویر کشی کا حق ادا کر دیا ہے۔ انہوں نے میر جعفر ، اور میر صادق جیسے وطن کے غداروں کو ننگ آدم ، ننگ دیں ، ننگ وطن ، قرار دیکر ان کی روحوں کو ایک قدر ناپاک ثابت کیا ہے کہ انہیں دوزخ بھی قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ اقبا ل نے انہیں ایک قلزم خونیں میں مبتلائے عذاب دکھایا ہے۔ کیونکہ اقبال کے نزدیک وطن سے غداری ایک ایسا خوفناک جرم ہے جسے کسی حالت میں بھی معاف نہیں کیا جا سکتا۔ وطنیت کے سیاسی تصور کی مخالفت اقبال نے مارچ 1938ءمیں ایک مضمون لکھا جس میں وطنیت کے مسئلہ پر تفصیل کے ساتھ بحث کی تھی۔ اور بتایا تھا کہ وہ کس قسم کی وطنیت کے مخالف ہیں اس مضمون میں وطنیت کے سیاسی تصور سے بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں، ” میں نظریہ وطنیت کی تردید اس زمانہ سے کر رہا ہوں جبکہ دنیائے اسلام اور ہندوستان میں اس نظریہ کا کچھ ایسا چرچا بھی نہ تھا مجھ کو یورپین مصنفوں کی تحریروں سے ابتداءہی سے یہ بات اچھی طرح معلوم ہوگئی تھی کہ یورپ کی دلی اغراض اس امر کی متقاضی ہیں کہ اسلام کی وحدت دینی کو پارہ پارہ کرنے کے لئے اس سے بہتر کوئی حربہ نہیں کہ اسلامی ممالک میں نیرنگی نظریہ وطنیت کی اشاعت کی جائے۔ چنانچہ ان لوگوں کی یہ تدبیر جنگ عظیم میں کامیاب ہوگئی۔ آگے چل کر وہ لکھتے ہیں، ” اگر بعض علما ءمسلمان اس فریب میں مبتلا ہیں کہ ”دین “ اور ”وطن“ بحیثیت ایک سےاسی تصور کے یکجا رہ سکتے ہیں تو میں مسلمانوں کو ہر وقت انتباہ کرتا ہوں کہ اس راہ سے آخری مرحلہ اول تو لادینی ہوگی اور اگر لادینی نہیں تو اسلام کو محض ایک اخلاقی نظریہ سمجھ کر اس کے اجتماعی نظام سے لاپرواہی۔“ ان اقتباسات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اقبال وطنیت کے مغربی سےاسی تصور کے مخالف ہیں اور یہ مخالفت اس وجہ سے ہے کہ نظریہ براہ راست اسلامی عقائد و تصورات سے متصادم ہوتا ہے۔ وطن کا بت انسانی فکریت اور بت پرستی کی ایسی خوگر رہی ہے کہ جب ایک بت ٹوٹ جاتا ہے تو دوسرا نیا بت تراش لیتی ہے۔ نت نئے بت تراشنے کا سلسلہ قدیم زمانہ کی طرح آج بھی جاری ہے۔ ان بتوں کی شکلیں تھوڑی بہت بدل گئی ہوں تو بد ل گئی ہوں ، ورنہ ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ آج انسانی گروہوں نے وطنیت کا نیا بت تراشا ہے۔ جس کے آگے وہ سر بسجود ہیں ۔ اس بت پر بلا تکلف و تامل انسانیت کو بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ چنانچہ اقبال کا دعویٰ ہے کہ جس طرح دوسرے بت توڑے گئے ضرور ہے کہ اس ب کو بھی توڑا جا ئے تاکہ انسانیت کی گلو خلاصی ہو۔ فکر انسان بت پرستی ، بت گریہر زماں در جستجو پیکری باز طرح آزری انداخت استتازہ تر بیروزگاری ساخت است اقبال وطن کے اس طرح بت بنا کر پوجنے کے سخت خلاف ہیں اور اسے اسلام کی عالمگیر روح کے منافی خیال کرتے ہیں اسی لئے وہ اسے نئے بت کو توڑنا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں چنانچہ ”بانگ درا“ کی ایک نظم ”وطنیت ‘ ‘ جس کا ذیلی عنوان ہے ”وطن بحیثیت ایک سیاسی تصور کے“ ہے انہوں نے بڑی خوبصورتی سے اپنے اس خیال کا اظہار کیا ہے۔ ان تازہ خدائوں میں بڑا سب سے وطن ہےجو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کاکفن ہے یہ بت کہ تراشیدہ تہذیب نوی ہےغارت گر کاشانہ دین نبوی ہے بازو تر اتوحید کی قوت سے قوی ہےاسلام ترا دیس ہے تو مصطفوی ہے خالی ہے صداقت سے سےاست تو اسی سےکمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسی سے اقوام میں مخلوقِ خدا بٹتی ہے اس سےقومیت اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے وطنیت اور ملوکیت کا رشتہ اقبال کا خیال ہے کہ جدید دور میں سامراجی ملوکیت وطنیت کے سیاسی تصور کا ہی کرشمہ ہے۔ اس لئے وہ اس تصور کے اس پہلو کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ، اس سلسلہ میں ڈاکٹر یوسف حسین اپنی کتاب”روح اقبال “ میں لکھتے ہیں، ”اقبال ملوکیت یا امپیریلزم کو جارحانہ وطنیت ہی کا ایک شاخسانہ تصور کرتا ہے۔ اور اس کو اسلام کی اخلاقی تعلےم کی رد خیال کرتاہے۔ قومیت کے علمبرداروں کا نظریہ ” میرا وطن غلط ہو تو بھی صحیح ہے“ہے ۔ یہ جھوٹی عصبیت حق و باطل میں تمیز نہیں ہونے دیتی ۔ جب آدمی سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے کے قابل نہیں رہتا تو وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ اور اپنے عمل کو حق بجانب ٹھہر ا سکتا ہے۔ مجموعی جائزہ مندرجہ بالا بحث سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اقبال اپنے وطن کی محبت میں کسی بھی شخص سے پیچھے نہیں ہیں ، اور یہ محبت تمام عمر ان کے لئے متاع عزیز رہی ہے۔ مگر وہ اس وطنیت سے بیزار ہیں جو ایک مستقل نظریہ حیات ہے۔ اور جس کی تبلیغ سب سے پہلے مغربی دنیا میں مخصوص اغراض و مقاصد کے تحت ایک منظم شکل میں ہوئی۔ یہ وطنیت عالمگیر اسلامی اخوت کے راستہ کا پتھر بنتی ہے۔ انسان اور انسان کے درمیان دیوار حائل کرتی ہے۔ اقبال نے اس مغربی تصور کے بجائے اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہونے پر زور دیا ہے۔ کیونکہ ان کے خیال میں رنگ و نسل وغیر ہ کے امتیازات اور قوم و وطن کے تعصبات کو اگر کوئی نظام ختم کر نے میں کامیاب ہوا ہے تو وہ اسلام ہے۔ اور اسی لئے انہوں نے ترانہ ہندی کے بعد ” ملی ترانہ “ لکھا۔ شکوہ یہ وہ شہر آفاق نظم ہے جو اپریل 1911ءکے جلسہ انجمن حمایت اسلام میں پڑھی گئی۔ لندن سے واپسی پر اقبال نے ریواز ہوسٹل کے صحن میں یہ نظم پڑھی ۔ اقبال نے یہ نظم خلاف معمول تحت اللفظ میں پڑھی۔ مگر انداز بڑا دلا ویز تھا ۔ اس نظم کی جو کاپی اقبال اپنے قلم سے لکھ کر لائے تھے اس کے لئے متعدد اصحاب نے مختلف رقوم پیش کیں اور نواب ذوالفقار علی خان نے ایک سوروپے کی پیشکش کی اور رقم ادا کرکے اصل انجمنِ پنجاب کو دے دی۔ ”شکوہ“ اقبال کے دل کی آواز ہے اس کا موثر ہونا یقینی تھا۔ اس سے اہل دل مسلمان تڑپ اُٹھے اور انہوں نے سوچنا شروع کیا کہ مسلمانوں کے حوصلہ شکن زوال کے اسباب کیا ہیں۔ آخر اللہ کے وہ بندے جن کی ضرب شمشیر اور نعرہ تکبیر سے بڑے بڑے قہار و جبار سلاطین کے دل لرز جاتے تھے کیوں اس ذلت و رسوائی کا شکار ہوئے؟ ۔ یہ نظم دراصل مسلمانوں کے بے عملی ، مذہب سے غفلت اور بیزاری پر طنز ہے۔ بانگ درا میں شامل کرتے وقت اقبال نے اس میں کئی مقامات پر تبدیلی کی۔ جبکہ بانگ درا میں اشاعت سے پہلے نظم مختلف رسالوں مثلاً مخزن، تمدن اور ادیب میں شائع ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ کئی زبانوں میں اس کے تراجم بھی ہو چکے ہیں۔

فکری جائزہ

جرات آموز میری تاب ِ سخن ہے مجھ کو
شــکوہ اللہ سے خـاکم بدہن ہے مــجھ کو

اے خــدا شــکوہ اربابِ وفا بھی ســن لے
خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے

اس نظم کا نام ”شکوہ“ اس لئے رکھا گیا ہے کہ موضوع کے اعتبار سے شکوہ بارگاہ الہٰی میں علامہ اقبال یا دور حاضر کے مسلمانوں کی ایک فریاد ہے۔ علامہ اقبال کہتے ہیں کہ ہم تیرے نام لیوا ہونے کے باوجود دنیا میں ذلیل و خوار ہیں ۔ حالانکہ ہم تیرے رسول کے نام لیو ا ہیں اور اس پر طرہ یہ ہے کہ تیرے انعامات اور نوازشات کے مستحق غیر مسلم ہیں ۔ گویا علامہ اقبال نے شکوہ میں عام مسلمانوں کے لاشعوری احساسات کی ترجمانی کی ہے۔ بقول سلیم احمد ،

” ایک طرف ان کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ خدا اور اس کے محبوب کی سب سے چہیتی امت ہیں اور اس لئے خدا کی ساری نعمتوں کے سزاوار اور دوسری طرف یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ان کا مکمل زوال ہو چکا ہے عقیدے اور حقیقت کے اس ٹکرائو سے مسلمانوں کا وہ مخصوص المیہ پیدا ہوتا ہے جو ”شکوہ “ کا موضوع ہے۔“

علامہ اقبال کےاپنے الفاظ میں

” وہی بات جو لوگوں کے دلوں میں تھی ظاہر کر دی گئی“

سلسلہ فکر و خیال کی ترتیب کے مطابق نظم کو ہم مندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں،

اظہار شکوہ کی توجیہ

یہ حصہ نہایت مختصر اور صرف دو بندوں پر مشتمل ہے۔ یہ دو بند جن میں شکوہ کرنے کی وجہ بیان کی گئی ہے۔ اور یہ مسلمانوں کی موجودہ بدحالی اور پستی پر اقبال کے ردعمل کا اظہار ہے۔ اقبال کے خیال میں مسلمان اب زوال و انحطاط کی اس منزل کو پہنچ چکے ہیں کہ جہاںپر خاموش رہنا نہ صرف اپنی ذات بلکہ ملت اسلامیہ کے اجتماعی مفاد سے بھی غداری کے مترادف ہے۔ اس موقع پر قصہ درد سنانا اگرچہ خلاف ادب ہے اور نالہ و فریاد کا یہ انداز گستاخانہ ہے مگر ہم ایسا کہنے پر مجبور ہیں ۔ اقبال کہتے ہیں کہ ای خدائے بزرگ و برتر ” اربابِ وفا“ کا شکوہ بھی سن لے ۔کسی لمبے چوڑے پس منظر یا غیر ضروری طویل تمہید کے بغیر اللہ تعالی سے ہم کلام ہونا اسلامی تصورات کے عین مطابق ہے۔ اسلام کو تمام مذاہب کے مقابلے میں یہ انفرادیت حاصل ہے کہ اس میں بندہ خداسے بلا واسطہ ہم کلام ہو سکتا ہے۔ جبکہ دوسرے مذاہب میں میں ایسا نہیں۔ ان کے انداز تخاطب میں شوخی اور بے ادبی نہ تھی ہاں ایک طرح کی بے تکلفی ضرور تھی جو بعض لوگوں کو کھٹکتی ہے۔

لیکن اقبال نے دانستہ طور پر یہ طرز تخاطب اختیار کیا تھا۔ دراصل اقبال ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پڑھنے والوں کو اس طرز تخاطب سے آشنا کرنا چاہتا ہے۔ گویا شکوہ کے اندازِ کلام کے لئے پڑھنے والوں کو مصنوعی طور پر تیار کر رہا ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ اقبال نے شکوہ کے پہلے دو بندوں ہی میں بات یا موضوع سخن کو اس منزل تک پہنچا دیا ہے کہ بعد کی شکوہ سرائی اور گلہ مندی بالکل موزوں اور مناسب معلوم ہوتی ہے۔

امت مسلمہ کا کارنامہ

شکوے کا دوسرا حصہ گیارہ بندوں پر مشتمل ہے۔ تیسرے بند سے نظم کے اصل موضوع پر اظہار خیال کا آغاز ہوتا ہے۔ اس حصے کا آغاز اس مصرعے سے ہوتا ہے۔ ” تھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات کریم

13ویں بند تک علامہ اقبال نے امت مسلمہ کے عظیم کارناموں کا تذکرہ کیا ہے۔ دنیا میں مسلمانوں کی حیثیت اور اہمیت کو اجاگر کر دیاہے۔ سب سے پہلے دنیا کی حالت اور تاریخ کا منظر پیش کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یوں تو خدا کی ذات ازل سے اپنی سچائیوں سمیت موجود تھی۔ اور بڑی بڑی قومیں مثلاً سلجوق، تورانی، ساسانی ، یونانی ، یہودی ، نصرانی آباد تھیں لیکن توحید کا وہ تصور جو تمام اقوام کے لئے نیا تھا اور جو اسلامی تعلیمات کا سرچشمہ تھا اس کی اشاعت و تبلیغ کے سلسلے میں جو کام امت مسلمہ نے کر کے دکھایا ہے وہ کام کسی سے بھی ممکن نہ تھا۔ یہاں اقبال مسلمان قوم کا ترجمان بن کر دعوی کرتا ہے کہ مسلمانوں نے بیمار اور جاہل امتوں اور مریض قوموں کے سامنے وہ علاج پیش کیا جو نکتہ توحید میں مضمر ہے۔

بس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تـورانی بھی
اہل چیں چین میں ، ایران میں ساسانی بھی
اس معمـورے مــیں آبــاد تھے یــونـانـی بھی
اسی دنیا میں یہودی بھی تھے ، نصرانی بھی
پـر تــرے نــام پہ تلــوار اٹھــائی کــس نے؟
بات جوبگڑی ہوئی تھی، وہ بنائی کس نے؟

اقبال بتاتے ہیں کہ ساری دنیا میں مسلمانو ں کوہی صرف یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے خدا کے پیغام کو دنیا کے دور دراز علاقوں یا کونوں تک پہنچا یا۔ روم اور ایران جیسے ملکوں کو فتح کرنا کسی حیرت انگیز کارنامے سے کم نہیں ہے۔ اُنہی کی بدولت دنیا میں حق حق کی صدا گونجی نظم کی اس حصے میں علامہ اقبال نے تاریخ اسلام کے جن ادوار اور واقعات کو مثال بنایا ہے اس کی مختصر اً وضاحت یوں ہے۔ ”دی اذانیں کبھی یورپ کے کلیسائوں میں “ کا اشارہ سلطنت عثمانیہ کی اس دور کی طرف ہے جب مسلمانوں کی سلطنت یونان ، بلغاریہ، البانیہ ، ہنگری اور آسٹریا تک پھیلی ہوئی تھی۔ سپین پر بھی مسلمانوں کی حکومت تھی۔ یورپ کے ان علاقوں میں جہاں آ ج کلیسائوں میں ناقوس بجتے ہیں کبھی مسلمانوں کی وہاں پر اذانیں گونجتی تھیں۔اس طرح افریقہ کے تپتے ہوئے صحرائوں کا علاقہ مصر، لیبیا ، تیونس ، مراکش اور الجزائر وغیرہ بھی مسلم سلطنت میں شامل تھے۔

”شان آنکھوں میں نہ ججتی تھی جہانداروں کی“ کی عملی تفسیر اس واقعے سے ملتی ہے جب حضرت عمر فاروق کے دور میں مسلم وفد کے قائد ربعی ایرانی سپہ سالار رستم سے گفت و شنید کے لئے اس کے دربار میں گئے تو اپنے نیزے سے قیمتی قالین کو چھیدتے ہوئے بے پروائی سے تخت کے قریب پہنچے ۔

تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آرائوں میں !
خشکیوں میں کبھی لڑتے ، کبھی دریائوں میں
دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیسائوں میں
کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحرائو ں میں
شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کی
کلمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی

ساتویں بند میں بت فروشی اور بت شکنی کی تلمیح اس حوالے سے ہے جب محمود غزنوی نے ہندو پجاریوں کی رشوت کو ٹھکراتے ہوئے سومنات کے بتوں کو پاش پاش کردیا تھا۔ بحر ظلمات سے مراد بحر اوقیانوس ہے۔ ”بحر ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے“ میں اشارہ ہے اس واقعے کی طرف جب ایک مسلمان مجاہد عقبہ بن نافع نے افریقہ کے آخری سرے تک پہنچ کر گھوڑا بحر اوقیانوس میں ڈال دیاتھا۔

دشت تو دشت رہے دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے!
بحــر ظلمــات مــیں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے!

مسلمانوں کی حالتِ زبوں

نظم کے اس حصے میں اقبال نے امت مسلمہ کے درخشاں ماضی کی جھلکیاں دکھاتے ہوئے نظم کا رخ مسلمانوں کی موجودہ حالت کی طرف موڑ دیا ہے۔ اقبال نے دوسری اقوام سے مسلمانوں کا موازنہ کرکے ان کی موجودہ زبوں حالی کو نمایاں کر دیا ہے۔ اقبال شکوہ کرتے ہیں کہ دنیا میں مسلمانوں جگہ جگہ غیر مسلموں کے مقابلے میں حقیر، ذلیل اور رسوا ہیں۔ جس کی وجہ سے دنیا کی دوسری اقوام ان پر خندہ زن ہیں۔ نظم کے اس حصے میں صحیح معنوں میں گلے شکوے کا رنگ پایا جاتا ہے اقبال نے مسلمانوں کی بے بسی و بے چارگی کا واسطہ دے کر خدا سے پوچھا ہے کہ توحید کے نام لیوائوں سے پہلے جیسا لطف و کرم کیوں نہیں ؟ اس کے ساتھ ہی شاعر نے ایک طرح کی تنبیہ بھی کی ہے کہ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو دنیا تو حید کے نام لیوائوں سے خالی ہو جائے گی۔ اور ڈھونڈنے سے بھی ایسے عُشاقانِ توحید کا سراغ نہیں ملے گا۔

امتیں اور بھی ہیں ، اُن میں گنہگار بھی ہیں
عجز والے بھی ہیں ، مستِ مۓ پندار بھی ہیں
ان میں کاہل بھی ہیں، غافل بھی ہشیار بھی ہیں
سینکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بیزار بھی ہیں
رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر
برق گرتی ہے تو بےچارے مسلمانوں پر

حالت زبوں کی وجہ کیاہے؟

بند20 آغاز میں اقبال اس حالت زبوں کا سبب دریافت کرتے ہیں ۔ مسلمان آج بھی خدا کے نام لیو ا ہیں اور اُس کے رسول کے پیروکار ہیں ۔ آج بھی اُن کے دلوں میں اسلام کے بارے میں ایک زبردست جوش و جذبہ اور کیفیت عشق موجود ہے۔ اقبال متاسف ہیں کہ اس کے باوجود عنایاتِ خدواندی سے محروم ہیں۔

آگے چل کر اقبال کا لہجہ ذرا تلخ ہو جاتا ہے اور محبوب حقیقی کے سامنے فریاد کی زبان کھولی ہے کیونکہ اس نے اپنے سچے عاشقوں کو فراموش کر دیا ہے اور غیروں سے راہ رسم آشنائی پیدا کر لی ہے۔

کبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہے
بات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہر جائی ہے

نظم کے اس حصے میں اقبال نے بہت سی تلمیحات استعمال کی ہیں ۔ لیلیٰ ، قیس ، دشت وجبل، شور سلاسل اور دیوانہ نظار ہ محمل کی تراکیب و تلمیحات وغیرہ۔

وادی نجد میں وہ شور ِ سلاسل نہ رہا
قیس دیوانہ نظارہ محمل نہ رہا

” سرفاراں پر کیا دین کو کامل تو نے“ سے مراد یہ ہے ای خدا تو نے دین اسلام کو فاران کی چوٹی پر مکمل کر دیا ۔ جو قرآنی آیت کی طرف ایک اشارہ ہے۔

سر فاراں پر کیا دین کو کامل کیا تو نے
اک اشارے میں ہزاروں کے لئے دل تو نے

کیفیت یا س و بیم

اس حصے میں اقبال کا روئے سخن خاص طور پر ہندی مسلمانوں کی طرف ہے اور یہی بات اِسے دوسرے حصوں سے ممتاز کرتی ہے۔ یوں تو مسلمان دنیا کے ہرگوشے میں بدحالی مایوسی اور بے چارگی کا شکار ہیں مگر برصغیر پاک و ہند میں تو اس کا انتشار گویا نقطہ عروج کو پہنچ گیا ہے چونکہ اقبال ہندوستان میں رہتے ہیں اس لئے یہیں کے مسائل سے انہیں پہلے واسطہ پڑتا ہے۔

جنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دے
ہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کردے

یہ بہت بلیغ شعر ہے کہ ہندوستان میں ہزاروں سال رہنے کے بعد ہند کے مسلمان بھی اسی طرح ہندی ثقافت اور فلسفے میں رنگے گئے ہیں۔ ان میں بت پرستوں ( ہندوئوں) کے ساتھ میل ملاپ کی وجہ سے ان ہی کی سی خصلتیں پیدا ہو گئی ہیں ۔ اس لئے ان کو ”دیر نشین “ کہنا کوئی غلط بات نہیں۔ علامہ اقبال نے ہمیشہ اپنی گفتگو میں یہی خیال ظاہر کیا ہے کہ اگر ہندوستان کے سارے مسلمان حقیقی معنوں میں مسلمان بن جائیں تو وہ ساری دنیا کو فتح کرسکتے ہیں۔

نغمے بےتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لئے
طور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لئے

دعائیہ اختتام

علامہ اقبال کی خواہش تھی کہ ہندوستان کے سارے مسلمان حقیقی معنوں میں مسلمان ہو جائیں تووہ ساری دنیا کو فتح کر سکتے ہیں۔۔ نظم کے آخری حصے میں شاعر کی یہ آرزو ایک دعا کی شکل میں ڈھل جاتی ہے۔ اور دعا کے یہ سلسلہ نظم کے آخری شعر تک چلتا ہے۔ اُمت مسلمہ کو درپیش مسائل و مشکلات کے حل کے لئے اقبا ل دعا گو ہیں ”امت مرحوم“ کی ترکیب بہت معنی خیز ہے۔ مراد یہ ہے کہ مسلمان بحیثیت ایک زندہ قوم کے ختم ہو کر مرد ہ ہو چکے ہیں اب ان کی حیثیت سلیمان کے مقابلے میں ”مور بے مایہ“ کی سی ہے۔ لیکن اقبال کی خواہش ہے کہ دور حاضر کے مسلمان پھر سے جو ش و جذبہ سے لبریز ہو جائیں اور کوہ طور پر پہلے کی طرح تجلیات نازل ہوں

مشکلیں امت ِمرحوم کی آساں کر دے
مورِ بے مایہ کو ھمدوش ِ سلیماں کردے

اقبال نے نظم کے آخری حصے میں یہ دعا ضرور کی ہے کہ مسلمانوں کا مستقبل روشن اور خوش آئند ہو اور ہو نا چاہیے مگر یہ نہیں کہا کہ ”ہوگا“ ۔کیونکہ وہ ایک ایسا پر آشوب دور تھا کہ مستقبل کے بارے میں حتمی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا تھا۔ ایک طرف تقسیم بنگال اور پھر اٹلی کا طرابلس پر حملہ جس نے اقبال پر بڑا اثر کیا اور اسی مایوسی کے پیش نظر اقبال کو خدا سے شکوہ کرنا پڑا۔ شکوہ دراصل اسے حصے میں ختم ہو جاتا ہے۔ اور باقی تین بند قوم کی پستی پر شاعر کی اپنی طبیعت کا الجھائو، جذبات ، قوم کی ناراضگی ، نفرت اور بے اعتنائی کا آئینہ ہے۔ شاعر مایوس ہے اور مضطرب ہو کر پکار اُٹھا۔ لطف مرنے میں ہے باقی نہ مزاجینے میں
کچھ مزا ہے تو یہی خون جگر پینے میں

مایوسی کا ایک اور انداز کچھ یوں ہے کہ،

اس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیں
داغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیں

آگے چل کر اقبال مایوسی کے عالم میں کہتے ہیں کہ مجھ سے دین کی جو خدمت ہو سکتی ہے اس کے بجالانے کے لئے کوشاں ہوں اگرچہ میں تنہا ہوں اور کوئی شخص میری آواز پر کان نہیں دھرتا۔

کاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کی

اس حصے میں اقبال نے صراحت سے یہ بات بیان کر دی ہے کہ میں اگرچہ عجمی طریقے پر شعر کہتا ہوں ایرانی شاعری کی روایات کا پابند ہوں ہندی الاصل ہوں لیکن ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات کی روح سے واقف ہوں اور اگر مسلمان مرے کلام کابغور مطالعہ کریں تو انہیں عجمی روایات کے پردے سے اسلام کے مطالب دقیق جھانکتے ہوئے نظر آئیں گے۔ یہ حصہ اور ”شکوہ “ اس بلیغ اور معنی افروز شعر پر ختم ہو جاتا ہے۔

عجمی خم ہے تو کیا، مے ہے حجازی ہے مری
نغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری



(تدوین— شاہد محمود عطاش)

شکوہ

کیوں زیاں کار بنوں،سُود فراموش رہوں
فکرِ فردا نہ کروں،محوِ غمِ دوش رہوں
نالے بُلبُل کے سُنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہم نوا میں بھی کوئی گُل ہوں کہ خاموش رہوں

جُرأت آموز میری تابِ سخن ہے مجھ کو
شکوہ اللہ سے،حاکمِ بدہن ہے مجھ کو

ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہم
قصّۂ درد سُناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم
ساز خاموش ہیں ،فریاد سے معمور ہیں ہم
نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم

اے خدا! شکوۂ اربابِ وفا بھی سُن لے
خوگرِ حمد سے تھوڑا سا گِلا بھی سُن لے

تھی تو ازل سے ہی تری ذاتِ قدیم
پُھول تھا زیب چمن پر نہ پریشان تھی شمیم
شرطِ اِنصاف ہے اَے صاحبِ الطافِ عمیم
بوئے گُل پھیلتی کِس طرح جو ہوتی نہ نسیم

ہم کو جمعیّتِ خاطر یہ پریشانی تھی
ورنہ اُمّت تیرے محبوبؐ کی دیوانی تھی؟

ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہان کا منظر
کہیں مسجود تھے پتّھر،کہیں معبود شجر
خُوگرِ پیکرِ محسوس تھی اِنساں کی نظر
مانتا پھر کوئی اَن دیکھے خدا کو کیونکر

تجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام ترا؟
قوّتِ بازوئے مسلم نے کیا کام ترا

بس رہے تھے یہیں سلجوق بھی ،تُورانی بھی
اہلِ چیں چین میں،ایران میں ساسانی بھی
اِس معمورے میں آباد تھے یونانی بھی
اِسی دُنیا میں یہودی بھی تھے،نصرانی بھی

پر ترے نام پہ تلوار اُٹھائی کس نے
بات جو بگڑی ہوئی تھی،وہ بنائی کس نے

تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں
خشکیوں میں کبھی لڑتے ،کبھی دریاؤں میں
دِیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں
کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں

شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہاں داروں کی
کلمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی

ہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی میصبت کے لئے
اور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لئے
تھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لئے
سر بکف پھرتے تھے کیا،کیا دہر میں دولت کے لئے؟

قوم اپنی جو زرومالِ جہاں پہ مرتی
بُت فروشی کے عِوض بُت شکنی کیوں کرتی؟

ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھے
پاؤں شیر کے بھی میداں سے اُکھڑ جاتے تھے
تجھ سے سر کش جو ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے
تیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے بھی لڑ جاتے تھے

نقش توحید کاہر دِل پہ بٹھایا ہم نے
زیرِ حنجر بھی یہ پیغام سُنایا ہم نے

تُو ہی کہہ دے کہ اُکھاڑا درِ خیبر کس نے
شہر قیصر کا جوتھا،اُسکو کیا سَر کس نے
توڑے مخلوق خداوندوں کے پیکر کس نے
کاٹ کے رکھ دیے کفّار کے لشکر کس نے

کس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کو؟
کس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کو؟

کون سی قوم فقط تیری طلبگار ہوئی
اور تیرے لئے زحمت کشِ پیکار ہوئی
کِس کی شمشیر جہاں گیر،جہاں دار ہوئی
کس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئی

کس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھے
مُنہ کے بَل گر کے "ھُوَ اللہُ اَحَد"کہتے تھے

آگیا عین لڑائی میں اگر وقتِ نماز
قبلہ رُو ہو کے زمیں بوس ہوئی قومِ حجاز
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

محفلِ کون و مکاں میں سحر و شام پھرے
مئے توحید کو لے کر صفتِ جام پھرے
کوہ میں، دشت میں لے کر ترا پیغام پھرے
اور معلوم ہے تجھ کو،کبھی ناکام پھرے

دشت تو دشت ہیں ،دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحرِ ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے

صفحۂ دۃر سے باطل سے مٹایا ہم نے
نوعِ انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نے
تیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نے
تیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نے

پھر بھی ہم سے یہ گِلا ہے کہ وفادار نہیں
ہم وفادار نہیں،تُو بھی تو دِلدار نہیں!

اُمتیں اور بھی ہیں ، اُن میں گناہگار بھی ہیں
عجز والے بھی ہیں، مست مئے پندار بھی ہیں
ان میں کاہل بھی ہیں،غافل بھی ہیں،ہشیار بھی ہیں
سینکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بیزار بھی ہیں

رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشنوں پر
برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر

بُت صنم خانوں مین کہتےہیں مسلماں گئے
ہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئے
منزلِ دہر سے اونٹوں کے حدی خواں گئ
اپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئے

خندہ زن ہے کُفر،احساس تجھے ہے کے نہیں
اپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیں

یہ شکایت نہیں، ہیں اُنکے خزانے معمور
نہیں محفل میں جنھیں بات بھی کرنے کا شعور
قہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حُور و قصور
اور بیچارے مسلماں کو فقط وعدۂ حور

اب وہ الطاف نہیں، ہم پہ عنایات نہیں
بات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیں

کیوں مسلماں میں ہے دولتِ دنیا نایاب
تیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حساب
تُو جو چاہے تو اُٹھے سینۂ صحرا سے حباب
رہروِ دشت ہو سیلی زدۂ موجِ سراب

طعنِ اغیار ہے، رسوائی ہے،ناداری ہے
کیا تیرے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہے؟


بنی اغیار کی چاہنے والی دنیا
رہ گئی اپنے لئے ایک خیالی دنیا
ہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیا
پھر نہ کہنا ہوئی توحید سے حالی دنیا

ہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں تیرا نام رہے
کہیں ممکن ہےکہ ساقی نہ رہے، جام رہے؟

تیری محفل بھی گئی، چاہنے والے بھی گئے
شب کی آہیں بھی گئیں، صبح کے نالے بھی گئے
دل تجھے دے بھی گئے، اپنی صِلا لے بھی گئے
آ کے بیٹھے بھی نہ تھے کہ نکالے بھی گئے

آئے عشّاق، گئے وعدۂ فردا لے کر
اب اُنھیں ڈھونڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر

دردِ لیلیٰ بھی وہی،قیس کا پہلو بھی وہی
نجد کے دشت و جبل میں رَمِ آہو بھہ وہی
عشق کا دل بھی وہی،خسن کا جادو بھی وہی
اُمّتِ احمدِ مرسل بھی وہی، تُو بھی وہی

پھر یہ آزردگیِ غیر سبب کا معنی
اپنے شیداؤں یہ چشمِ غضب کیا معنی

تجھ کو چھوڑا کہ رسولِ عربی کو چھوڑا؟
بُت گری پیشہ کیا، بت شکنی کو چھوڑا؟
عشق کو، عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑا؟
رسمِ سلمانؓو اویس قرنیؓ کو چھوڑا؟

آگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیں
زندگی مثلِ بلال حبشی رکھتے ہیں

عشق کی خیر وہ پہلے سی ادا بھی نہ سہی
جادہ پیمائیِ تسلیم و رضا بھی نہ سہی
مُضطِرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہی
اور پابندیِ آئینِ وفا بھی نہ سہی

کبھی ہم سے، کبھی غیروں سے شناسائی ہے
بات کہنے کی نہیں،تُو بھی تو ہرجائی ہے!

سرِ فاران کیا دین کو کامل تُو نے
اِک اشارے میں پزروں کے لئے دل تُو نے
آتش اندوز کیا عشق کا حاصل تُو نے
پُھونک دی گرمیِ رُخسار سے محفل تُو نے

آج کیوں سینے ہمارے شرر بار نہیں
ہم وہی سوختہ ساماں ہیں، تجھے یاد نہیں؟

وادی نجد میں وہ شورِ سلاسل نہ رہا
قیس دیوانۂ نظّارۂ محمل نہ رہا
حوصلے وہ نہ رہے،ہم نہ رہے، دل نہ رہا
گھر یہ اُجڑا ہے کہ تُو رونقِ محفل نہ رہا

اے خوش آں روز کہ آئی و بصد ناز آئی
بے حجابانہ سُوئے محفلِ ما باز آئی

بادہ کش غیر ہیں گلشن میں لبِ جُو بیٹھے
سُنتے ہیں جام بکف نغمۂ کُو کُو بیٹے
سور ہنگامۂ گُلزار سے یک سُو بیٹھے
تیرے دیوانے بھی ہیں مُنتظر "ھُو" بیٹھے

اپنے پروانوں کی پھر ذوقِ خُود افروزی دے
برقِ دیرینہ کو فرمانِ جگر سوزی دے

قوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سُوئے حجاز
لے اُرا بلبلِ بے پر کو مذاقِ پرواز
مضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے، بُوئے نیاز
تُو ذرا چھیڑ تو دے، تشنۂ مضراب ہے ساز

نغمے بیتاب ہیں تاروں سے نلکنے کے لئے
طُور مضطر ہے اُسی آگ میں جلنے کے لئے

مُشکلیں اُمّتِ مرحوم کی آساں کردے
مُورِ بے مایہ کو ہمدوشِ سلیماں کردے
جنس نایابِ محبّت کو پھر ارزاں کر دے
ہند کے دَیر نشینوں کو مسلماں کر دے

جُوئے خوں می چکدا از حسرتِ دیرینہ ما
می تپد نالۂ بہ نشتر کدۂ سینۂ ما

بُوئے گُل لے گئی بیرون چمن رازِ چمن
کیا قیامت ہے کہ خود کہ خود پُھول ہیں غمّازِ چمن!
عہدِ گُل ختم ہوا، ٹوٹ گیا سازِ چمن
اُڑ گئے دالیوں سے زمزمہ پرداز چمن

ایک بُلبل ہے کہ محو ترنّم ہے اب تک
اس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تک

قُمریاں شاخِ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیں
پتّیاں پُھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیں
وہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیں
ڈالیاں پیرہنِ برگ سے عُریاں بھی ہوئیں

قیدِ موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کی
کاش گُلشن سمجھتا کوئی فریاد اس کی!

لُطف مرنے میں ہے، نہ مزا جینے میں
کچھ مزا ہے تو یہی خونِ جگر پینے میں
کتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میں
کس قدر جلواے تڑپ رہے ہیں مرے سینے میں

اس گُلستان میں مگر دیکھنے والے ہی نہیں
داغ جو سینے میں رکھتا ہوں، وہ لالے ہی نہیں

چاک اس بُلبلِ تنہا کی نوا سے دل ہوں
جاگنے والے اسی بانگِ درا سے دل ہوں
یعنی پھر زندہ نئے عہدِ وفا سے دل ہوں
پھر اِسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوں

عجمی خُم ہے تو کیا،مے تو حجازی ہے مری
نغمہ ہندی ہے تو کیا،لَے تو حجازی ہے مری

(تدوین— شاہد محمود عطاش)

فنی جائزہ

شکوہ 31 بندوں پر مشتمل ہے یہ نظم مسدس کی ہیت میں لکھی گئی ہے۔ بحر کا نام ”بحر رمل مثمن مخبون مقطوع ‘ ‘ ہے۔ بحر کے ارکان یہ ہیں۔

فَاعِلَا تُن فَاعِلَا تُن فَاعِلَا تُن فِعلن

اقبال کی طویل نظم میں ”شکوہ “ فنی لحاظ سے ایک منفردمقام کی حامل ہے۔ یہی پہلی طویل نظم ہے جس میں اقبال نے اسلام کی زندہ اور فعالی قوتوں ، ماضی کے مسلمانوں کی عظمت اوج کے بعد ان کی موجودہ زبوں حالی کی داستان کو ایک ساتھ نہایت فنکارانہ انداز میں بیان کیا ہے ۔ اردو شاعری میں ایسا اندازِ بیاں کہیں نہیں ملتا۔

بقول ماہر القادری

اک نئی طر نئے باب کا آغاز کیا
شکوہ اللہ کا اللہ سے بصد ناز کیا

نظم کا آغاز بہت systimaticہے اصل موضوع پر آنے سے پہلے اقبال نے شکوہ کرنے کی توجیہ دو بندوں میں بیان کردی ہے تاکہ نیا اور اچھوتا موضوع اچانک سامنے آنے پر قار ی کو کوئی جھٹکا محسوس نہ ہو۔

 لہجے کا تنوع

کسی برگزیدہ اور برتر ہستی کے سامنے شکو ہ کرنے والا اپنی مفروضات پیش کرتے ہوئے حسب ِ ضرورت مختلف انداز اختیار کرتا ہے۔ چنانچہ اقبال کے شکو ے کا لہجہ بھی متنوع ہے اور اقبال کا شکوہ اللہ جیسی بڑی ہستی سے ہے جو تمام دنیا کا مالک ہے۔ اسی لئے اقبال کے لہجے میں کہیں عجز و نیاز مندی ہے کہیں غیرت و انا کا احساس ہے کہیں تندی و تلخی ہے اور جوش ہے کہیں تاسف و مایوسی کا لہجہ ہے اور کہیں گریہ و زاری و دعا کا انداز اختیار کیا ہے۔

  نفسیاتی حربے

اقبال کے فن کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے نظم مےں بعض مقامات پر نفسیاتی حربوں سے کام لیتے ہوئے ایک ہی بیان سے دہرا کام لیا ہے۔ 10ویں بند کے آخری شعر سے نظم کا وہ حصہ شروع ہوتا ہے۔ جہاں پر شاعر خدا سے بے اعتنائی اور بے نیازی کا گلہ شکوہ کر رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں،

خندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیں
اپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیں
پھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیا
ہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہے


اس طعن آمیز انداز سے مخاطب کی انا اور غیرت کو جھنجوڑ کر یہ احساس دلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ کہ یہ میرا مسئلہ نہیں تمہارا مسئلہ ہے۔ ایک اور جگہ نفسیاتی حربے کو استعما ل کرتے ہوئے اپنی کوتاہیوں اور اسلام سے روگردانی کا اعتراف کیا ہے ۔ مگر وہ اعتراف کا اعلانیہ اظہار نہیں کرتے۔ کیونکہ علانیہ اعتراف کرنے سے ان کا اپنا موقف کمزور ہوگا۔ لہٰذا وہ اپنی کمزوری سے توجہ دوسری طرف لی جانے کے لئے فوراً نفسیاتی حربے سے کام لیتا ہے۔ اور طعنہ دیتا ہے کہ تم غیروں سے شناسائی رکھنے والے ہرجائی ہو۔

تغزل

یوں تو اقبال کی پوری شاعری میں رنگ تغزل چھایا ہوا نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکیمانہ نکتے بیان کرنے کے باوجود ان کی شاعری میں ساحری کا عنصر ملتا ہے۔ لیکن اس رنگ تغزل کا واضح استعمال سب سے پہلے اقبال نے ”شکوہ" میں کیاہے۔ اگرچہ اقبال ہمارے دور کے سب سے بڑے انقلاب پسند شاعر ہیں۔ لیکن انہوں نے اپنی بات کہنے کے لئے نہ صرف نئے پیمانے اور نئے سانچے استعما ل کئے بلکہ روایت کا پورا احترام ملحوظ رکھا ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ پرانے اسلوب اورپرانے سانچے فرسودہ نہیں ہو گئے ۔ بلکہ انہیں نئے رنگ اور آہنگ اور نئے مفاہیم کے ساتھ برتا جا سکتا ہے۔

تیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئے
شب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئے
دل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئے
آکے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئے
آئے عشاق گئے وعدہ فردا لے کر
اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر

 ایجاز و بلاغت

”شکوہ“ کے بعض حصے ، اشعار اور مصرعے ایجاز و بلاغت کے شہکار ہیں۔ تاریخ کے طویل ادوار ، اہم واقعات اور روایات اور مختلف کرداروں کی تفصیلی خصوصیات کو بڑے بلیغ انداز میں نہایت اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیسائوں میں
کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحرائوں میں

 

چند محسنات شعر

”شکوہ “ حسن زبان و بیاں کا شا ہکارہے۔ انتخاب الفاظ، صنعت گری ، بندش تراکیب ، حسن تشبیہ و استعارہ ، مناسب بحر ، موزوں قوافی، وسعت معانی اور زبان و بیان کی خوبیوں کے سبب نظم بہت ہی دلکش اور موثر ہے۔ اقبال نے نظم شکوہ میں صنعتوں کا استعمال بہت بہترین انداز میں کیا ہے۔

صنعت مراعاة النظیر:.

نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں

صنعت ترافق :.

نقش تو حید کا ہر دل میں بٹھایا ہم نے
زیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نے

صنعت تلمیح:۔

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و آیاز
نہ کوئی بندہ رہانہ کوئی بندہ نواز

صنعت طباق ایجابی:.

آئے عشاق گئے وعدہ فردا لے کر
اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر

 

 تصویر کاری ،تشبیہ ، استعارہ

”شکوہ “کی ایک اور بڑی فنی خوبی اس کی تصویر کاری ہے شاعر نے خوبصورت الفاظ کی مدد سے اس نظم کو بہت خوبصورت تصویریں عطا کیں ہیں۔

آگیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز
قبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی قوم حجاز

کلام اقبال کی سب سے نمایاں خوبی تشبیہ ہے۔ شکوہ میں علامہ اقبال نے کئی خوبصورت تشبیہات استعمال کی ہیں ان خوبصورت اور بلیغ تشبیہات نے اشعار کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دئیے ہیں۔ مثلاً اقبال نے ایک شعر میں امت مسلمہ کو ”مور بے مایہ“ سے تشبیہ دی ہے۔ جو بہت ہی بلیغ ہے۔

مشکلیں امت ِ مرحوم کی آساں کر دے مورِ بے مایہ کو ھمدوش سلیماں کر دے

اقبال کی شاعری میں استعاروں کی بھی کمی نہیں ہے۔ ”شکوہ“ کے یہ اشعار شعری اسلوب کا نادر نمونہ ہونے کے ساتھ استعاروں پر شاعر کی زبردست جمالیاتی گرفت کا بھی ثبوت ہے۔

مضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیاز
تو ذرا چھیڑ تو دے تشنہ مضراب ہے ساز

اقبال نے ”شکوہ “ میں تشبیہ اور استعاروں کے علاوہ علامتوں کا بھی بہت خوبصورتی سے استعمال کیا ہے۔ جو کہ اقبال کی گہری فلسفیانہ اور حکیمانہ فکر کی غماز ہیں،

اس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیں
داغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیں

جبکہ اقبال نے کلام میں استفہامیہ لہجے کوبھی اپنایا ہے۔ جس سے جوش میں اضافہ ہوا ہے۔

کس نے ٹھنڈا کےا آتش کدہ ایراں کو
کس نے پھر زندہ کیا تذکرہ یزداں کو

 

ترنم اور نغمہ

اقبال نے مشرق و مغرب کے خزانہ علمی سے فائدہ اٹھایا اور صنائع لفظی کی غایت سے غرض رکھی ہے۔ یعنی ترنم اور نغمہ کی تخلیق اس سلسلے میں اس نے مغرب کے انتقادی اصول کی زیادہ پیروی کی ہے۔ ترنم اور نغمہ پیدا کرنے کے لئے اقبال نے تجنیس، ترصیح وغیرہ کی بجائے حروف کی تکرار اور سلسلہ ہائے حروف کی تکرار سے بہت کام لیا ہے۔ شکوے کے پہلے بند میں ترنم بھی ہے اور نغمہ بھی اس میں مختلف حروف ِ علت کی تکرار اور ان کے تبادلے کو بڑا دخل حاصل ہے۔

کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوں ؟
فکر فردا نہ کروں محوِ غم دوش رہوں ؟

 

 مجموعی جائزہ

علامہ اقبال نے ”شکوہ میں ایسا انداز اختیار کیا ہے جس میں مسلمانوں کے عظیم الشان ، حوصلہ افزا اور زندہ جاوید کارنامے پیش کئے گئے۔ لہٰذا اس نظم کے پڑھنے سے حوصلہ بلند ہوتا ہے قوت عمل میں تازگی آتی ہے۔ جو ش و ہمت کو تقویت پہنچتی ہے۔ عظیم الشان کارنامے اس حسن ترتیب سے جمع کر دئیے گئے ہیں کہ موجودہ پست حالی کے بجائے صرف عظمت و برتری ہی سامنے رہتی ہے۔ گویا یہ شکوہ بھی ہے اور ساتھ ہی بہترین دعوت عمل بھی۔ اس لحاظ سے اردو زبان میں یہ اپنی نوعیت کی بالکل یگانہ نظم ہے۔بقول تاثیر”شکوہ لکھا گیا تو اس انداز پر سینکڑوں نظمیں لکھی گئیں ملائوں نے تکفیر کے فتوے لگائے اور شاعروں نے شکوہ کے جواب لکھے لیکن شکوہ کا درست جواب خود اقبال ہی نے دیا۔“

جواب شکوہ

شکوہ“ کے جواب میں نظمیں دیکھ کراقبال کو خود بھی دوسری نظم ”جواب شکوہ“ لکھنی پڑی جو1913کے ایک جلسہ عام میں پڑھ کر سنائی گئی۔ انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں ”شکوہ “ پڑھی گئی تو وسیع پیمانے پر اس کی اشاعت ہوئی یہ بہت مقبول ہوئی لیکن کچھ حضرات اقبال سے بدظن ہوگئے اور ان کے نظریے سے اختلاف کیا۔ ان کا خیال تھا کہ ”شکوہ“ کا انداز گستاخانہ ہے۔ اس کی تلافی کے لئے او ریوں بھی شکوہ ایک طرح کا سوال تھا جس کا جواب اقبال ہی کے ذمے تھا۔ چنانچہ ڈیڑ ھ دو سال کے عرصے کے بعد انہوں نے ”جواب شکوہ“ لکھی۔ یہ 1913ءکے جلسے میں پڑھی گئی۔ جو نماز مغرب کے بعد بیرونی موچی دروازہ میں منعقد ہواتھا۔ اقبال نے نظم اس طرح پڑھی کہ ہر طرف سے داد کی بوچھاڑ میں ایک ایک شعر نیلام کیا گیا اور اس سے گراں قدر رقم جمع کرکے بلقان فنڈ میں دی گئی۔ شکوہ کی طرح سے ”جواب شکوہ“ کے ترجمے بھی کئی زبانوں میں ملتے ہیں

 

شکوہ میں اقبال نے انسان کی زبانی بارگاہ ربانی میں زبان شکایت کھولنے کی جرات کی تھی یہ جرات عبارت تھی اس ناز سے جو امت محمدی کے افراد کے دل میں رسول پاک سے عقیدیت کی بناءپر پیدا ہوتی ہے ۔جواب شکوہ درحقیقت شکوہ کا جواب ہے۔ شکوہ میں مسلمانوں کی زبوں حالی بیاں کی گئی تھی اور اس کی وجہ پوچھی گئی تھی پھر وہاں مایوسی اور دل شکستگی کی ایک کیفیت تھی ۔”جواب شکوہ“ اس کیفیت کی توجیہ ہے اور شکوہ میں اٹھائے جانے والے سوالات کے جواب دیے گئے ہیں ۔ جواب شکوہ میں اسلامی تاریخ کے بعض واقعات اور جنگ بلقان کی طرف بھی اشارے ملتے ہیں۔ نظم کے موضوعات و مباحث کے مطالعہ سے ہم اسے ذیل کے عنوانات میں تقسیم کرتے ہیں۔

 

شکوہ کی اثر انگیزی

پہلے پانچ بندوں میں انسان نے اللہ تعالیٰ سے جو شکوہ کیا تھا اس کا ردعمل اور اثر انگیزی کو بیان کیا گیا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ میرا نالہ یا فریاد اس قدر بھرپور اور پرُ تاثیر ہے کہ آسمانوں پر بھی اس کی بازگشت سنی گئی۔ آسمانوں اور اس کے باسیوں میں میرے اس گستاخانہ شکوے سے کھلبلی مچ گئی اور یہی ان کا موضوع سخن ٹھہرا۔ اہل آسمان حیران تھے کہ یہ کون نادان ہے جو خدا سے شوخی کا مرتکب ہو رہا ہے پیر گردوں کچھ کہتا ہے سیارے کچھ اور چاند کچھ

چاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئی
کہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئی

جب فرشتوں کو معلوم ہو ا کہ یہ شکوہ کرنے والا انسان ہے تو فرشتوں کو اس بات کا افسوس تھا کہ پستی کا یہ مکین بات کرنے کا سلیقہ بھی نہیں جانتا ہے۔

ناز ہے طاقت گفتار پر انسانوں کو
بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو

جہاں تک شوخی و گستاخی کا تعلق ہے علامہ مرحوم سے پہلے ہی صوفیا اپنی شطحیات (صوفیوں کی لاف زنی) میں اس سے زیادہ گستاخانہ انداز ِ تخاطب اختیار کر چکے ہیں ۔ بہر حال انسان کے اس انداز ِ شکوہ کا اثر یہ ہوا کہ خود خدا نے شکوہ کے حسن اد ا کو سراہا اور پھر جواب مرحمت فرمایا۔

شکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تونے
ہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تونے

 جواب شکوہ کی تمہید

چھٹے بند میں خدا کی طرف سے ”شکوہ“ کا حوالہ دے کر جواب دیا گیا ہے۔ شکوہ میں شاعر نے مسلمانوں کی بدحالی اور بے چارگی کا سبب اللہ کو مسلمانوں پر عد م لطف و کرم کو قرار دیا تھا۔ جبکہ ”جواب شکوہ“ میں اللہ اس کا جواب دیتا ہے اور فرماتے ہیں کہ ہم تو عنایت و مدارات کرنے کے لئے تیار ہیں مگر کوئی سائل ہے اور نہ ہی امید وار لطف و کرم ،ہم تو انسان کی ہر خواہش پوری کرنے کے لئے تیار ہیں اور اگر مسلمان اپنی نیت میں اخلاص اور عمل میں گہرا پن لے آئے تو خاکستر سے بھی ایک نیا جہاں پیدا ہو سکتا ہے۔

ہم تومائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے؟ رہرو منزل ہی نہیں

”شان کئی “سے مراد کیانی خاندان کے بادشاہوں کی طرف ہے۔ کیونکہ اس خاندان کے نام سے پہلے ”کے“ کا لفظ آتا ہے۔ مثلاً کیقباد ، کے خسرو

کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

آخری مصرعے میں کولمبس کی طرف اشارہ ہے کولمبس نے محض اپنی مہم جوئی کی بدولت براعظم امریکہ دریافت کیا۔

  حالتِ زار کے حقیقی اسباب

آگے چل کر اس نظم میں مسلمانوں کی حالت زبوں کے حقیقی اسباب کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ اور اقبال کے نزدیک اس کا بنیادی سبب مذہب سے بے اعتنائی ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کی صفوں میں فکری اعتبا ر سے الحاد و کفر اور لادینیت کی تحریکیں پروان چڑھ رہی ہیں۔ اور اس لئے ان اندر مذہب کی حقیقی روح ختم ہو گئی ہے۔ شکوہ میں مسلمانوں نے فریاد کی تھی کہ،

صفحہ دہر سے باطل کو مٹا یا ہم نے
نوع انسان کوغلامی سے چھڑایا ہم نے

یہاں ”جواب شکوہ“ میں اس دعویٰ کی تردید کی جا رہی ہے اور تردید کا رنگ طنز کی شکل میں بدل گیا ہے۔ درحقیقت اس نظم کے اس حصے میں اقبال نے امت مسلمہ کو فکری و اعتقادی گمراہیوں ، کجرویوں اور عملی کمزوریوں کو بڑے موثر انداز میں بے نقاب کیا ہے۔ اور جب اقبال یہ کہتے ہیں

تم سبھی کچھ ہو بتائو تو مسلمان بھی ہو

تو پڑھنے والا یہ پڑھ کر اور سننے والا سن کر تڑپ اٹھتا ہے اس حصے میں اقبال نے بہت ہی معنی خیز اشعار کہے اور مسلمانوں کو جو بت پرست کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بتوں کی پوجا کرتے ہیں ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ”امر بالمعروف اور نہی عن المنکر“ کا فریضہ انجام دینے کا وعدہ کرتے ہیں لیکن عملاً یہ ہوتا ہے کہ دنیاوی آقا کی خوشنودی کے لئے سب کچھ کیا جاتا ہے اور صوم و صلوة سے بے پروا ہو جاتے ہیں ۔ اس معنی میں ہم بت گر ہیں اور حضرت ابراہیم کی طرح بت شکن نہیں ۔ ہمارے ابا واجداد سنت ابراہیمی پر چلتے تھے اور ہم سنت آزری یا سنت بتگری پر

بت شکن اُٹھ گئے ، باقی جو رہے بت گر ہیں
تھا براہیم پدر ، اور پسر آذر ہیں

علامہ اقبال یہاں ایک ایک اہم کام کی نشاندہی کرتے ہیں اور وہ یہ کہ مسلمانوں میں سحر خیزی بالکل ختم ہوگئی ہے اور سویرے اٹھنا ان کے لئے مشکل ہے۔

کس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہے!
ہم سے کب پیار ہے؟ ہاں نےند تمہیں پیاری ہے

یہاں اقبال تقدیر کے ناقص تصور کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ جس نے مسلمانوں کو بے عمل بنا دیا اور سب کچھ تقدیر پر چھوڑ دیا اور ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھے رہتے ہیں۔

ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو

اقبال کے خیال میں مسلمان کبھی اپنی میراث سے کنا رہ کش نہیں ہوتا۔ لیکن آج کے مسلمان میں سب سے زیادہ کمزوری یہی ہے کہ وہ اپنی میراث کو بھول چکا ہے۔ کیونکہ میراث کا حقدار بننے کے لئے اپنے آبا ءکی طرح توحید کے ضابطے کی پابندی لازمی ہے اور موجودہ مسلمان تو حید کی افادیت سے نا آشنا ہو کر رہ گیا ہے۔

تھے تو آبا وہ تمہارے ہی ، مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فرد ا ہو

 

 اسلاف سے موازنہ

نظم کے اس حصے میں مسلمانوں کی بے چارگی اور زبوں حالی کے سلسلہ بیان میں ان کی انفرادی اور اجتماعی خامیوں کو اجاگر کیا ہے اور اقبال نے مسلمانوں کے اسلاف کا ذکر کیا ہے ۔ اقبال کا خیال ہے کہ ہمارے اسلاف اپنے اخلاق و کردار علم و فضل اور گفتار و کردار کے اعتبار سے اس قدر بلند مرتبت اور عظیم تھے کہ ہمارے اور ان کے درمیان زمین وآسمان کافرق ہے۔ بھلا ان کا اور ہمارا کیا مقابلہ ہو سکتا ہے۔

علامہ اقبال نے جدید تعلیم اور اس کے زیر اثر پیدا ہونے والی معاشرتی اور مجلسی خرابیوں پر تنقید کی ہے۔ یہ صورت حال منطقی ہے توجیہ یہ پیش کی ہے کہ اگر بیٹا نکھٹو ہو تو اسے باپ کی جائیدا د سے عاق کردیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ یہی کچھ ہوا۔ مسلمانوں کے بزرگوں نے اسلام کی وجہ سے دنیا میں عزت پائی اور تم قرآن چھوڑ کر ذلیل و خوار ہوئے بزرگوں سے تمہیں کیا روحانی نسبت ہے ۔

ہر کوئی مست مئے ذوقِ تن آسانی ہے
تم مسلمان ہو؟ یہ اندازِ مسلمانی ہے؟
حیدری فقر ہے ، نے دولت عثمانی ہے
تم کو اسلاف سے کیا نسبتِ روحانی ہے
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک ِ قرآں ہو کر

لیکن اس مایوسی کے باوجود اقبال مایوس نہیں وہ اپنی قوم کو پیغام دیتے ہیں کہ ، مسلمانوں کو چاہیے کہ اس آزمائش کے کڑے دور میں اپنے ایمان میں حضرت ابراہیم کی سی پختگی عزم اور یقین پیدا کر دیں تاکہ زمانے کی برق و آتش زنی ان کے لئے گل و گلزار بن جائے۔

آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

شکوہ کی طرح جواب شکوہ میں بھی مسلمانوں کی پستی اور زبوں حالی کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ جس سے مایوسی کی ایک کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ لیکن اس مایوسی کو ختم کرنے کے لئے اقبال مسلمانوں کو اطمینان دلاتے ہیں کہ ہاتھ پائوں توڑنا بھی مردانگی کے زمرے میں نہیں آتا ۔ یہاں سے امید کا پیغام شروع ہوتا ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کا ازسرنو عروج قریب آگیا ہے ۔ اس کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ مسلمان اور اسلام کبھی مٹ نہیں سکتے۔

رنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہے
یہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہے

  پر امید مستقبل

جس دور میں اقبال نے یہ نظم لکھی اس وقت عالم اسلام میں مایوس کن واقعات کی بھرمار تھی۔ 1912ءمیں بلقان نے ترکی پر حملہ کر دیا۔ بلغاریہ میں شورش بپا ہوئی۔

(ہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کا)

ایران میں روس نے پیش قدمی کی لیکن ایسی حالت میں اقبال نے مسلم قوم کو پیغام دیا کہ کہ انہیں ان باتوں سے شکستہ دل نہیں ہونا چاہیے قوموں کی تاریخ میں نشیب و فراز تو آتے رہتے ہیں۔ اسلام کو کوئی بھی مٹا نہیں سکتا کیوں کہ اس کے پس منظر میں سےنکڑوں برس کی جدوجہد اور طاقتور عوامل کارفرما ہیں

اس کے علاوہ انسان کی ظاہر ی آنکھ احوال و واقعات کی تہہ میں چھپے ہوئے حقیقی عوامل کا پتہ نہیں لگا سکتی ۔ اقبال کے نزدیک بہت ممکن ہے کہ ظاہری آفت ان کے لئے کسی وقت باعث رحمت ثابت ہو۔ جیسے کہ کہ فتنہ تاتار کے سلسلے میں ہوا۔ پہلے تو انہوں نے اسلام کو تہس نہس کیا لیکن بعد میں جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو یہی لوگ اسلام کی امین بنے اوردنیا کی کئی بڑی بڑی اسلامی سلطنتوں کی بنیاد ڈالی۔

ہے عیاں یورشِ تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

اقبال مسلمانوں کو حوصلہ دیتا ہے کہ یہ وقت ہمت ہارنے کا نہیں ہے بلکہ میدانِ عمل میں نکل کر مقابلہ کرنے کا ہے۔ اور مسلمانوں کو ان کے اہم فرائض کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

وقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے
نور توحید کا اتمام ابھی باقی ہے

 دعوت عمل

آگے چل کر علامہ اقبال مسلمانوں کو دعوت عمل دیتے ہیں ۔ یہ نظم کا آخری حصہ ہے۔اقبال کہتے ہیں کہ اے مسلمانوں ہماری قوت کا راز جذبہ عشق میں مضمر ہے اور اس کا سرچشمہ حضور کی ذات گرامی ہے۔ چونکہ اُن کا مرکزی نقطہ عشق رسول ہے اس لئے ”جواب شکوہ“ کے آخری حصے میں جذبہ عشق سے سرشار وہی والہانہ کیفیت موجود ہے جو حضور کا ذکر کرتے ہوئے اقبال پر عموماً طاری ہوتی تھی۔ موذن رسول حضرت بلال عشق رسول کا مثالی پیکر تھے اور ان کا تعلق افریقہ کی سرزمین جیش سے تھا اس لئے تذکرہ رسول کے ضمن میں بلالی دنیا (جیش ) کا ذکر بھی کیاہے۔ آخری بند میں اقبال حق کے لئے جدوجہد کی تلقین کرتے ہیں اے مسلمان ، عقل تیری ڈھال اور عشق تیری تلوار ہے۔

عقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تری
مرے درویش ! خلافت ہے جہانگیر تری

آخر ی شعر کا مفہوم یہ ہے کہ اگر مسلمان آپ کے اسوہ حسنہ کی پیروی کریں تو پھر تقدیر بھی ان کے آگے سرنگوں ہوجائے گی۔ اور کائنات ان کے تصرف میں ہوگی۔اقبال نے عمر بھر ایسے لاثانی اشعار لکھے ہیں لیکن یہ شعر اپنی جگہ منفرد ہے۔

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح قلم تیرے ہیں

 فنی تجزیہ

”جواب شکوہ “ مسدس ترکیب بند کی ہیت میں 32 بندوں پر مشتمل ہے ۔ یہ بحر رمل مثمن مخبون مقطوع میں ہے۔ بحر کے ارکان یہ ہیں۔

فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن

 

 انداز اور لہجہ

”جواب شکوہ“ چونکہ شکوہ کے جواب میں لکھی گئی اس لئے اس کا انداز دوسری طویل نظموں کے بر عکس براہ راست خطاب کا ہے۔ اللہ کی طرف سے مسلمانوں کو یا پوری امت مسلمہ کو خطاب کرتے ہوئے شکوہ کا جواب دیا گیا ہے۔ براہ راست اندازِ تخاطب کی وجہ سے نظم میں علامتی اور ایمائی رنگ بہت معمولی ہے۔اس لئے ”جواب شکوہ“ میں تغزل نہ ہونے کے برابر ہے۔ نظم کا لہجہ شروع سے آخر تک یکساں نہیں ہے کئی مقامات پر لہجہ دھیما ہے جہاں مسلمانوں کی فکری اور عملی گمراہیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔وہاں تنقیدی لہجہ ہے اس کے علاوہ طنزئیہ لب و لہجہ بھی اختیار کیا گیا ہے۔ مثلاً

تم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیں جلوہ طور تو موجود ہے موسی ہی نہیں
قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغام ِ محمد کا تمہیں پاس نہیں

بعض جگہوں پر تاسف کا لہجہ پایا جاتا ہے

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

آخر میں اقبال دعوت عمل دیتے ہیں اور مسلمانوں کو اسلام کا پیغام پھیلانے اور رسول کے نام کو زندہ و تابندہ کرنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ یہاں لہجہ پر جوش ہے۔

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسم ِ محمد سے اجالا کردے
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح قلم تیرے ہیں

 

ڈرامائی کیفیت

”جواب شکوہ“ کے پہلے چھ بندوں میں ڈرامائی کیفیت موجود ہے اس میں اہل آسمان یعنی سیاروں ، کہکشاں ، چاند اور فرشتوں کی زبانی اس ڈرامے کے مختصر مکالمے کہلوائےگئے ہیں ۔ ان مکالموں اور گفتگو کی وجہ سے نظم میں ڈرامائیت آجاتی ہے۔ ڈرامے کے کلائمیکس پر ایک آواز آتی ہے جو اہل آسمان کے سوالات کا جواب ایک طویل مکالمے کی صورت میں دیتی ہے یہ آواز اس ڈرامے کا آخری اور سب سے اہم کردار ہے

آئی آواز غم انگیز ہے افسانہ تیرا
اشک ِ بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تیرا
آسماں گیر ہوا نعرہ مستانہ تیرا
کس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تیرا
شکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تونے
ہم سخن کر دیا بندوں کوخدا سے تونے

 

تشبیہ ،استعارات ، تصویر کاری

اقبال تشبیہ و استعارہ کے بادشاہ ہیں ۔ جواب شکوہ میں اقبال نے متعدد خوبصورت تشبیہات کا استعمال کیا ہے۔

ٍ بت شکن اُٹھ گئے باقی جو رہے بتگر ہیں
تھا ابراہیم پدر اور پسر آزر ہیں

”جواب شکوہ“ کے فنی بانکپن اور عظمت کے ضامن اس کے تراشیدہ استعارات ہیں جو معنویت کے پیش نظر نہایت قابل قدر ہیں۔

قیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہے
شہر کی کھائے ہوا باد یہ پیمانہ رہے

”جواب شکوہ“ میں اقبال نے کئی اشعار کو ایسے خوبصورت الفاظ کا جامہ پہنایا ہے کہ تصویر کاری یا محاکات نگاری کی عمدہ مثالیں لگتی ہیں۔

کشتی حق کا زمانے میں سہارا تو ہے
عصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہے

 

 صنعت گری

صنعت تلمیح:۔

آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے انداز گلستاں پیدا

صنعت طباق ایجابی منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی ، دین بھی ، ایمان بھی ایک

صنعت مراعا ة لنظیر:

حرم پاک بھی ، اللہ بھی قرآن بھی ایک
کیا بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

حسن ِ تعلیل

کچھ جو سمجھا جو مرے شکوے کو رضواں تو سمجھا
مجھ کو جنت سے نکالا ہو ا انساں سمجھا

 دیگر فنی محاسن

جس سے شکوہ کیا جائے جواب میں اس کی طرف سے بالعموم معذرت پیش کی جاتی ہے مگر جواب شکوہ کا حسن بیان دیکھیے کہ اس میں شکوہ کرنے والے پر اس کا شکوہ لوٹا دیا گیا ہے۔ گویا شکوہ کرنے والے کا منہ بند کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں کچھ اشعار قابلِ ذکر ہیں جن میں بلا کا طنز اور کاٹ موجود ہے۔

یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتائو تو مسلمان بھی ہو

جواب شکوہ میں خوبصورت تراکیب بھی ملتی ہیں ۔ شاعر نے اپنے مطلب کی وضاحت کے لئے ایسی بلیغ اور عمدہ ترکیب سازی سے کام لیا ہے کہ نہایت مشکل بات دو تین لفظوں کی مدد سے بڑے خوبصورت انداز میں بیان کر دی ہے۔ مثلاً مردم چشم زمین، بانگ درا، برق طبعی، شعلہ مقالی ، قدسی الاصل ، دانائے رموز کم،وغیرہ، جبکہ مشکل پسندی اور فکر وخیال کی جدت کے اعتبار سے یہ نظم اقبال کا حسین و جمیل پیکر ہے۔ تاثرات کی شدت اور گہرائی نظم کے ہر حصے میں موجود ہے۔ اور اس کااختتام تو لا جواب ہے۔

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح قلم تیرے ہیں

پوری نظم کا نچوڑ یہ شعر ہے امت مسلمہ کے شکوے کے جواب میں یہی شعر بہت ہے۔

  مجموعی جائزہ

”جواب شکوہ“میں مسلمانوں کے مذہبی ، روحانی اور اخلاقی انحطاط کے اسباب نہایت دل کش انداز میں بیان کئے گئے ہیں اور مسلمانوں کی شیرازہ بندی کا علاج بھی تجویز کیا ہے۔ اور بتایا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے کردار سے رسول پاک کے امتی ہونا ثابت کریں اور ان کے دامن سے وابستہ رہنے کا عزم کریں۔ یہی خداوند تعالی تک رسائی کا راز ہے۔

شکوہ“ کو اگر مذہبی شاعری کی وسواخت کہا جائے تو وسواخت کا خاتمہ عام طور پر محبوب سے صلح صفائی پر ہوتا ہے اس لحاظ سے ”جواب شکوہ“ تعلقات کے ازسرنو خوشگوار ہونے اور اعتدال پر آنے کا اعلان ہے۔ بقول عبدالقادر سروری

” شکوہ“ ”جواب شکوہ“ میں سے کسی نظم کا جواب اردو میں نہیں ہے۔ شکوہ میں جس شاعرانہ انداز سے مسلمانوں کی پستی کا گلہ خدا سے کیا گیا ہے اور ”جواب شکوہ “ میں ابھرنے کی جو ترکیب بتائی گئی ہے اس میں الہام ِ ربانی کی شان نظر آتی ہے۔“

خصر راہ

تلاش”خضر راہ“نظم اقبال نے انجمن حمایت اسلام کے 37 ویں سالانہ اجلاس میں جو 12 اپریل 1922ءاسلامیہ ہائی سکول اندرون شیرانوالہ میں منعقد ہوا تھا میں ترنم سے پڑھ کر سنائی۔ بعض اشعار پر اقبال خود بھی بے اختیار روئے اور مجمع بھی اشکبار ہو گیا۔ عالم اسلام کے لئے وہ وقت بہت نازک تھا۔ قسطنطنیہ پر اتحادی قابض تھے ۔ اتحادیوں کے ایماءپر یونانیوں نے اناطولیہ میں فوجیں اتار دی تھیں۔ شریف حسین جیسے لوگ انگریزوں کے ساتھ مل کر اسلام کا بیڑہ غرق کرنے میں پیش پیش تھے۔ خود ہندوستان میں تحریک ہجرت جاری ہوئی۔ پھر خلافت اور ترک موالات کا دور شروع ہوا۔ ادھر دنیائے اسلام کے روبرو نئے نئے مسائل آگئے۔ اقبال نے انہی میں سے بعض اہم مسائل کے متعلق حضرت خضر کی زبان سے مسلمانوں کے سامنے صحیح روشنی پیش کی۔ اور نظم کا نام خضر راہ اسی وجہ سے رکھا۔ ابتداءمیں نظم میں صرف دو عنوان تھے۔ پہلے دو بندوں کا عنوان تھا ”شاعر“ یعنی شاعر کا خضر سے خطاب باقی نو بندوں کا عنوان تھا ”جواب خضر “ نظر ثانی میں اقبال نے مختلف مسائل پر الگ الگ عنوان قائم کر دئیے۔

اقبال کی یہ نظم اپنے دور میں بہت زیادہ مقبول ہوئی اس کے بارے میں پروفیسر اسلوب احمد انصار ی لکھتے ہیں،

” اس نظم کی ہر دلعزیزی کا بڑا سبب اس کے موضوع یا موضوعات کا ہنگامی اہمیت کا حامل ہوناتھا۔“

اس نظم کو فکری لحاظ سے دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک حصہ ”شاعر“ کے عنوان سے پس منظر، خضر کی آمداور شاعر کے سوالات پر مبنی ہے جب کہ دوسرا حصہ خضر کے جواب پر مشتمل ہے۔ نظم کی ابتداءیوں ہوتی ہے کہ شاعر انتہائی پریشانی اور ذہنی کشمکش کی حالت میں سکون کی تلاش میں ساحل دریا کی جانب رخ کرتا ہے۔ شاعر کو ایک نئی صبح کی تلاش ہے۔ جہاں زندگی با معنی ہو جہاں اس کاوطن عزیز فرنگی جال سے آزاد ہو۔ جہاں عالم اسلام یورپی رخنہ گردوں کے فتنہ و فساد سے محفوظ ہو۔

یہاں پہنچ کر اقبال دو حصوں میں منقسم ہو جاتا ہے ایک شاعر اقبال اور دوسرا مفکر اقبال، شاعر اقبال سوال کرتا ہے اور مفکر اقبال جواب دیتاہے۔ پہلے بند میں منظر کشی کا بہترین نمونہ ملتاہے۔ جو کہ ایک خاص کردار خضر کے ظہور کے لئے ہے۔ یہاں ایک سکوت کی فضاءملتی ہے وہ دراصل اس انسانی ماحول کے جمود کی طرف اشارہ کرتاہے۔ جس کو توڑنے کے لئے ہی شاعر کا دل ایک جہان ِ اضطراب بناہواہے۔

جیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفل شےر خوار
موج مضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مست خواب!

منظر فطرت کا یہ طلسم پانچویں ہی شعر میں ٹوٹ جاتا ہے اور نہایت ڈرامائی طور پر خواجہ خضر کی شخصیت منظر پر اُبھرتی اور جزو ِ منظر بن جاتی ہے۔ خضر شاعر کو بتاتا ہے کہ اگر چشم و دل وا ہو یعنی انسان کی روح اپنی تمام تر گہرائیوں کے ساتھ بیدار ہو جائے، دل کی آنکھ کھل جائے تو دل کے اندر وہ روشنی پیدا ہو جاتی ہے جو مظاہر حیات اور واقعات عالم کے پیچھے مضمر حقائق کے مشاہدے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔

کہہ رہا ہے مجھ سے اے جویائے اسرار ازل
چشم دل وا ہو تو ہے تقدیر عالم بے حجاب!

دوسرے بند کے پہلے دو شعروں میں قبال ”خضر “ کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں کہ کائنات کے تما م سربستہ راز آپ پر منکشف ہیں اور آپ کو مستقبل کے وہ حالات بھی معلوم ہیں جو مستقبل میں ظہور پزیر ہوں گے۔ اقبال خضر کو موسیٰ کے مقابلے میں پیش کرتے ہیں کہ موسی کا علم بھی آپ کے سامنے ہیچ ہے اسی لئے وہ اُن کے سامنے چند سوالات رکھتے ہیں اور سوال اُسی سے پوچھے جاتے ہیں جو صاحب ِ علم و صاحب اسرار ہو۔ سوالات کی تفصیل حسب ذیل ہے۔

پہلا سوال:۔ خضر کو صحرا نوردی اس قدر عزیز کیوں ہے؟
دوسرا سوال:۔ زندگی کا راز کیا ہے؟
تیسرا سوال:۔ سلطنت کیا چیز ہے؟
چوتھا سوال:۔ سرمایہ اور محنت میں جھگڑے کی وجہ کیا ہے؟
پانچواں سوال:۔ دنیائے اسلام کی زبوں حالی کی وجہ کیا ہے؟

اقبال کا انداز نظر بالکل انسانی او ر آفاقی تھا۔ وہ سماجی انصاف کی علم برداری کرنا اپنا فرض تصور کرتے تھے۔اسی طرح کمزوروں ، مظلوموں اور محروموں کی حمایت اپنا فرض جانتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی ملت دوستی کو ”ایشیاءکا خرقہ دیرینہ‘ ‘سے وابستہ کر دیا ہے یعنی وہ اپنے ملی موقف میں ایک آفاقی نقطہ نظر سے پورے مشرق کو اس لئے شامل کرتے ہیں کہ اس کے خرقہ دیرینہ کو بہت ہی جابرانہ اور ظالمانہ انداز میں چاک کرکے اس کی قیمت پر مغربی اقوام نو دولت ”نوجواں“ پیرا پو ش ہو رہے ہیں۔

یہاں اقبال کی نظر انتہائی وسیع ہو جاتی ہے ۔ وہ دنیائے اسلام کو عالم مشرق کا مترادف قرار دیتے ہیں کہ ملت اسلامیہ مشرق کی نمائندگی کرتی ہوئی ایک خطرناک امتحان میں پڑ گئی ہے۔ بادشاہت و ملوکیت سے اقبال کو نفرت ہے ۔ اقبال کے خیال میں اگرچہ سکندر مر گیا ہے۔ اُس کو دوام نہیں ملا مگر فطرت اسکندری ابھی قائم ہے ۔ حکمرا ن طبقہ ابھی تک دادِ عیش دے رہا ہے۔

گرچہ اسکندر رہا محروم آب زندگی
فطرت اسکندری اب تک ہے گرم نائو نوش

دوسری طرف مسلمان ، مسلمان کا دشمن ہو گیا ہے اور ”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو“ ۔ کے سنہرے اصول کو چھوڑ کر ذاتی غرض کی خاطر ایک دوسرے کا خون بہا رہا ہے۔ یہاں اقبا ل نے شریف مکہ کے حوالے سے عربوں کی ترکی سے غداری کو حضور کے دین کو بیچنے کے مترادف قرار دیا ہے،

بیچتا ہے ہاشمی ناموس دین مصطفی
خاک و خون میں مل رہا ہے ترکمان سخت کوش

اور ایک طرف طاغوتی قوتیں ان کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر تلی ہوئی ہیں ۔ یہ قوتیں مسلمانوں کی قوت برداشت کا امتحان لے رہی ہیں۔

آگ ہے ، اولاد ابراہیم ہے ، نمرود ہے
کیا کسی کو کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے

تیسرے بند میں خضر پہلے سوال کا جواب دیتے ہیں ۔ اقبال فطرتاً صحرائیت پسند او ر بدویت پسند ہے۔ اقبال کے نزدیک جو افراد او ر قومیں مسلسل جدوجہد کرتی ہیں وہ دوام پاتی ہیں جہاں و ہ تھک کر بیٹھ جاتی ہیں موت اُن کو دبوچ لیتی ہے۔اور صحرا نوردی مسلسل حرکت کا استعارہ ہے۔ جو اس حقیقت کو روشن کرتی ہے کہ قدرت کے کارخانے میں سکون محال ہے۔ دنیا میں ہر لمحہ حرکت و تغیر کا تماشا جارہی ہے اور اس تماشے کے کسی منظر کو قیام نہیں ہے ۔ خضر اپنی مسلسل دوڑ دھوپ اور حرکت و عمل کو اصل زندگی بتاتا ہے۔لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ صحرا سے اقبال کو اتنی انسیت کیوں ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مسلمانوں کا روحانی مرکز اور اصل مولد و منشا صحرائے عرب ہے۔ اسی بدولت سادہ زندگی کی وجہ سے مسلمان تما م دنیا پر چھا گئے ۔ اُن میں فاتحانہ اخلاق پیداہوئے صحرائیت میں تکلف و تصنع کا کوئی گزر نہیں۔ صحرا نشین آدمی میں بلا کی قوت برداشت ہوتی ہے۔ ایک متمدن انسان جوش اور ولولے سے عاری ہوتا ہے ۔ صحرا نشین کی ضروریات زندگی بھی حد درجہ محدود ہوتی ہیں۔

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہ صحرائی یا مرد ِ کہستانی

اگلے دو بندوں میں زندگی کے متعلق بحث کی گئی ہے۔ بقول اسلوب احمد انصاری ” زندگی اقبال کے نزدیک مترادف ہے ایک ایسے مظہر کے جس کی وسعتوں اور گہرائیوں کو ادراک کی گرفت میں آسانی سے نہیں لایا جا سکتا۔“

اقبال انسان کو بتاتا ہے کہ زندگی سود و زیاں ، نفع نقصان کی سوچ سے بلند تر چیز ہے۔ اس میں کبھی تواعلیٰ مقصد کے لئے جان قربان کردی جاتی ہے جس طرح حضرت امام حسین نے کربلا میں اور حضرت اسماعیل نے خدا کے حکم پر اپنی جان ِ عزیز کو قربانی کے لئے پیش کیا اور کبھی اعلیٰ مقاصد کی خاطر ہجرت کرکے جان بچائی جاتی ہے۔

برتر از اندیشہ سود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی!

انسان کو چاہیے کہ وہ آج اور کل ، ہفتوں ، مہینوں اور سالوں کے حسا ب سے زندگی کو نہ ناپے کیونکہ جاوداں ، پیہم دواں ، ہر دم جواں ہے زندگی، انسان ایک ارتقاءپذیر اکائی ہے ۔ اس میں تجدید خودی کی قوت پوشیدہ ہے۔ اسی لئے اس کا نقش مٹ مٹ کر اُبھرتا رہتا ہے۔ زندگی ہر لحظہ نئی قبا زیب تن کر لیتی ہے اور اسی تحریک میں سر آدم پنہاں ہے۔ سرِ آدم قوت تسخیر اور تعمیر کائنات ہے۔ انسان کوچاہیے کہ اپنی خدادا د صلاحیتوں سے بھر پور کام لے۔ کیونکہ اسی لئے تو انسان کو تمام مخلوقات پر فضیلت حاصل ہے۔ گو انسان کی تخلیق ایک مشتِ خاک کی سی ہے۔ لیکن قوت کے بدولت انسان اشرف المخلوقات ہے۔

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سرِ آدم ہے ضمیر کن فکاں ہے زندگی!

زندگی اور آزادی کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ انسان میں بے شک قوت کے خزانے موجود ہیں ۔ مگر اس کے اظہار کے لئے آزادی اولین شرط ہے۔ کیونکہ غلامی انسان کی قوت عمل کو شل کر دیتی ہے اور نمو کے سارے امکانات معدوم ہو جاتے ہیں ۔ غلامی کے دور میں زندگی گھٹتے گھٹتے ایک ایسی ندی بن جاتی ہے۔ جس میں پانی کم ہوتا ہے اور معمولی بند باندھنے سے رک جاتی ہے۔ لیکن آزادی کے زمانے میں زندگی ایک ایسے سمندر کا روپ دھار لیتی ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں ہوتا۔

بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اِ ک جوئے کم آب
اور آزادی میں بحر بیکراں ہے زندگی !

آگے چل کر اقبال انسان کے ذوق ِ عمل اور جدوجہد کو ابھارنے کی کوشش کر رہے ہیں اُن کے خیال میں انسان کو سچائی اور صداقت کا دلدادہ ہونا چاہیے ۔ لیکن اس کے لئے پہلے اپنے جسم میں جان پیدا کرنا ضروری ہے۔ یعنی اپنے دل میں ولولہ اور عزم و جوش پیدا کرنا چاہیے۔ جو مرتبے اور عہدے ، مال و دولت انسان کو وراثت میں ملے ہیں ۔ ان پر انحصار کرنا چھوڑ دے۔ اپنی ہمت ، اپنی محنت اور اپنے خون پسینے کی کمائی سے دولت کمائے اور جاہ و مرتبہ حاصل کرے۔ اسی سے اُن کے دلوں میں وہ حوصلہ اور جرات پیدا ہوگی جو خالد بن ولید ، طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم جیسے جری اور دلیر لوگوں میں تھی۔

ہو صداقت کے لئے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے

چھٹا بند سلطنت سے متعلق ہے اقبال فرماتاہے ، کہ

آئوں بتائوں تجھ کو رمز آبہ ان لملوک
سلطنت اقوام غالب کی ہے اک جادوگری

سلطنت و حکومت کو طاقت کی جادوگری کہنا ایک نہایت بلیغ بات ہے ۔ جادوگری کا لفظ ایک طرف طاقتورحکمرانوں کی ننگی جارحیت اور طاقت کے استعمال پر محیط تو دوسری طرف مدبرانہ مصلحتوں اور رعایا پروری کے ظاہر ی سلوک کو بھی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی محکوم نیند سے بیدار ہوتا ہے اور ملوکےت و شہنشاہیت کے خلاف آواز بلند کرتا ہے تو حکمران اُسے انوکھے ہتھکنڈوں سے پھر سلا دیتا ہے۔ اُسے ایسے سہانے سپنے دکھاتا ہے کہ وہ پھر سے غلامی کا طوق گلے میں پہن لیتا ہے۔

خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر
پھر سلا دیتی ہے اس کوحکمراں کی ساحری

پھر اقبال مسلمانوں کو آزادی کی نعمت حاصل کرنے کے لئے زور دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے مسلمان تو آزاد پیدا ہوا ہے۔ تیری مثال تو شاہین جیسی ہے تو اپنی آزاد فطرت کو غلامی کی دلدل میں پھنسا کر بدنام نہ کر اگر ایسا کرے گا تو برہمن سے بھی بڑا کافر ہوگا۔ اقبال کہتا ہے کہ جمہوریت ظالم وجود کا جن ہے جو خوبصورت لباس پہن کر ناچ رہا ہے لوگ اس کے زرق برق لباس کو دیکھ کر اس کو آزادی کی نیلم پری سمجھ لیتے ہیں۔ جبکہ حقیقت میں یہ وہی مطلق العنان ملوکیت ہے۔ اقبال مسلمانوں کو خطاب کرکے کہتا ہے کہ اے ناداں انسان تو اس رنگ و بوکے دھوکے کو باغ سمجھ رہا ہے۔ اور اپنی نادانی سے اس پنجرے کو گھونسلہ سمجھ رہا ہے جبکہ حقیقت میں یہ تجھ کو تادیر غلام رکھنے کے ہتھکنڈے ہیں،

اس سراب رنگ و بوکو گلستاں سمجھا ہے تو
آہ ! اے ناداں قفس کو آشیاں سمجھا ہے تو

ساتواں اور آٹھواں بند سرمایہ داری سے متعلق ہے ۔ اقبال خضر راہ کی زبانی مزدور کو پیغام دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کائنات کے دل سے اٹھنے والی آواز ہے ۔ یہ میرا ذاتی پیغام نہیں بلکہ قدرت اور فطرت کا ازلی پیغام ہے۔ میری آواز میں زمانے کی آواز شامل ہے۔

بندہ مزدور کو جاکر مرا پیغام دے
خضر کا پیغام کیا ، ہے یہ پیام کائنات

ان سرمایہ داروں نے تجھ کو غلام رکھنے کے لئے مختلف حربے ایجاد کئے ہیں ۔ تجھے کبھی ذات پات کے چکروں میں الجھایا گیا، کبھی قومیت کا سوال کھڑا کیا ہے۔ کبھی کلیسا کا چکر چلایا ہے ۔ کبھی تہذیب کا جال بچھا کر عوام کو بے وقوف بنایا گیا۔ کبھی کالے گورے کی تمیز رکھی گئی۔ اور اے مزدور تو ان حیلہ بازوں سے بے خبر رہا اور یہ تجھے طرح طرح کے خواب دکھا کر فریبوں میں الجھا کر تیرا خون چوستے رہے اور افسوس تو انہی کے لئے لڑتا رہا اور ان کے لئے محنت کر تا رہا۔ یہاں اقبال مزدورں کو بیدار کرتا ہے۔

اُٹھ کہ اَب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

آخری تین بند دنیائے اسلام سے متعلق ہیں ، یہاں اقبال نے اپنے جذبات کی تسکین کے لئے راہ نکالی ہے جو اُن کے قلب اور روح کی گہرائیوں میں نہ جانے کتنی مدت سے پوشیدہ تھے۔ مسلمانوں کے تمام اشعار او ر میراث کو عیسائی دنیا نے اپنا لیا مثلاً روایت پرستی کی جگہ تخلیقی انداز کو عیسائی دنیا نے اپنایا۔ اندھی تقلید کی جگہ اجتہاد سے کام لیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سرفراز اور کامران ہوگئے اور مسلمان پستی کی عمیق گہرائیوں میں ڈوب گئے ۔ عربوں نے غداری کرکے اپنے پائوں پر خود کلہاڑی ماری ہے۔ جب تک ایک تھے مضبوط تھے جدا ہوئے تو دشمن نے ان کو ایک ایک کرکے ہڑپ کر لیا۔

اور وہ ترک جو کبھی جاہ و حشمت کے مالک تھے ۔ جو بادشاہ تھے آج وہ پوری دنیا میں رسوا ہوگئے ہیں ۔ خلافت کا تاج ان کے سر سے اتر چکا ہے جس میں کچھ مغرب کی عیاری اور سیاسی چالبازی کا کمال ہے تو بہت زیادہ مسلمانوں کا ترکِ مذہب اور اسلامی شعار سے دور ی کا نتیجہ ہے۔ ایران بھی یورپ کی طرف دیکھ رہا ہے اورمغربی تہذیب بالکل کھوکھلی ہے۔ جو آئندہ نسلوں کے لئے تباہی کا پیغام لائے گی۔ اس لئے اقبال ایرانیوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ ان اثرات سے پرہیز کریں اس کے بعد اقبال خودی کا درس دیتے ہیں کہ اپنی حاجتوں کو دوسروں کے سامنے نہ لے جا۔ اپنی خودی کو قربان نہ کر اور دوسروں کے آگے ہاتھ مت پھیلا ۔اگر تو دوسروں کی محتاجی کرے گا تو اس سے تیری خودی کو ٹھیس لگے گی۔ خودی جو آئینے کی مانند نازک ہے ایسی ٹھیس سے چکنا چور ہو جاتی ہے۔

اقبال مشرق کے مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تمہارے مصائب و آلام کا حل ملت اسلامیہ کے اتحاد و اتفاق میں مضمر ہے ۔ اگر مسلمان چاہتا ہے کہ ذلت کے گھور اندھیروں سے نکل آئے تو انہیں آپس میں باہمی ربط و ضبط پیدا کرنا ہوگا۔ مگر افسوس ایشیا والے اس نکتے سے اب تک بے خبر ہیں ۔ لہٰذا جب بھی اُن پر یہ راز منکشف ہوگا تو وہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائیں گے۔

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لےکر تابخاک کاشغر

اس کے بعد اقبال اپنے کلام میں کہتا ہے کہ میری باتوں کو غور سے سن تجھے اس میں آنے والے وقت کی دھندلی سی تصویر نظر آئے گی ۔ یعنی میری باتوں میں تجھے مستقبل میں ظہور پذیر ہونے والی بہت سی باتوں کا پتہ چل سکتا ہے۔ اقبال کہتا ہے کہ آسمان کے پاس ایک سے ایک آزمایا ہوا فتنہ موجود ہے۔ اس لئے ان سے ہوشیار رہ،

  فنی جائزہ

”خضرراہ“ فنی لحاظ سے ایک مکمل نظم ہے ۔ اس بارے میں آل احمد سرور لکھتے ہیں،

” خضرراہ“ میں اقبال کا فن پہلی دفعہ اپنی بلندی پر نظر آتا ہے یہ وہ بلندی ہے جس میں مستی اندیشہ ہائے افلاکی کے ساتھ زمین کے ہنگاموں کو سہل کرنے کا حیرت انگیز عزم موجود ہے۔“

”خضرراہ“ کل گیارہ بندوں پر مشتمل ہے۔ یہ نظم ترکیب و ہیئت میں ہے۔ اس میں 85 اشعار ہیں اس نظم میں کم و بیش 1400 الفاظ ہیں ۔ یہ بحر رمل مثمن مقصور میں ہے۔ اس کے ارکان یہ ہیں۔ فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن

  نظم کے کردار

اس نظم میں دو کردار سامنے آتے ہیں ایک خود شاعر اور دوسرا خضر ، شاعر ایک بے قرار شخص ہے اُس نے اپنے آپ کو ”جویائے اسرارِ ازل“ کہا ہے۔ جو ایک ایسے انسان کو ظاہر کرتا ہے جس کے دل میں سب کچھ جاننے کی خواہش موجزن ہے۔ دوسرا کردار خضر کا ہے۔ خضر کی شخصیت کو اقبال نے اس شعر میں مکمل کر دیا ہے۔

دیکھتا کیا ہوں کہ وہ پیک ِ جہاں پیما خضر
جس کی پیری میں ہے مانند ِ سحر رنگ شباب

پہلے مصرعے میں اُن کو ”پیکِ جہاں پیما“ کہا گیا اس لئے کہ وہ جہاں گرد مشہور ہیں دوسرے مصرعے میں ” پیری میں مانند سحر رنگ ِ شباب“ کا بیان ملتا ہے۔ اس لئے ان کی طویل عمر کی روایت خاصی مشہور ہے اور جس طرح صبح ، صدیوں سے ایک ہی طرح ہر روز طلوع ہونے کے باوجود تازگی و شادابی کا مظہر ہے۔ جیسے شباب کے ساتھ وابستہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح خضر راہ بھی صدیوں پر محیط طویل عمر کے باوجود جوانوں کی طرح مستعدی سے جہاں گردی کرتے رہتے ہیں،بقول فتح محمد ملک،

” اقبال نے خضر کا کردار مشرقی روایات اور داستاں کے بجائے براہ راست قرآن سے اخذ کیا۔“

 

 ڈرامائی کیفیت

اس نظم میں ڈرامائی کیفیت پائی جاتی ہے۔ یہ ڈرامائیت خضر کے کردار کی وجہ سے پیدا ہوگئی ہے۔ اس نظم کے پہلے منظر کو اگر دیکھیں تو لگتا ہے کہ ڈرامے کا پہلا سین شروع ہو گیا ہے۔ یہ سین ساحل دریا کا ہے۔ شاعر مضطرب دل کے ساتھ محو نظارہ ہے ۔ اس کے دل میں ایک طوفان مچا ہوا ہے۔ مگر بیرونی ماحول انتہائی پر سکون ہے۔ رات کا سکون پر پھیلائے ہوئے ہے۔ قاری تجسّس کا شکار ہو کر پورے انہماک سے مطالعہ شروع کرتا ہے۔ پر سکون ماحول کے پیچھے ایک طوفان چھپا ہوا ہے۔ اس لئے قاری بھی کسی طوفان کا منتظر ہے۔ اسی اثنا ءمیں اچانک خضر سٹیج پر آکر مکالمہ شروع کرتا ہے۔

کہہ رہا ہے مجھ سے اے جویائے اسرارِ ازل
چشمِ دل وا ہو تو ہے تقدیر ِ عالم بے حجاب

پھر مکالمہ شروع ہوتا ہے۔ اسی طرح کائنات اور بین الاقوامی سیاسیات سے متعلق شاعر کو مکمل اور کافی و شافی جوا ب مل جاتا ہے۔

 

نظم کا لہجہ

پروفیسر رفیع الدین ہاشمی کے بقول،

” بحیثیت مجموعی نظم کا لہجہ نرم و ملائم اور دھیما ہے۔“

پہلے بند میں لہجہ انتہائی دھیما اور محتاط ہے۔ اسی طرح پوری نظم میں مجموعی طور پر دھیما پن اور نرمی غالب ہے۔ کہیں کہیں لہجہ پر جوش ہو جاتا ہے۔ مگر اقبال اسے دوبارہ مدہم کر دیتا ہے۔ مثلاً دوسرے بند میں شاعر انتہائی جوش سے کہتا ہے۔

بیچتا ہے ہاشمی ناموسِ دین ِ مصطفی
خاک و خوں میں مل رہا ہے ترکمانِ سخت کوش

یہاں جوش اور گرمی کا پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔ ”صحرا نوردی میں “ لہجہ دھیما ہے۔ ”زندگی“ میں پھر بلند اور قدرے پر جوش ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی شاعر کے نزدیک ”گردش پیہم“ اور پیہم دواں پر دم جواں“ ہے۔ جس میں انسان کو مختلف آزمائشوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ مگر اگلے ہی بند میں ،

سوئے گردوں نالہ شب گیر کا بھیجے سفیر
رات کے تاروں میں اپنے راز داں پیدا کرے

کہہ کر پر جوش ”Tone“ کو مدہم کر دیا ہے۔ یہ اتار چڑھائو اور مدوجزر پوری نظم کا خلاصہ ہے مگر مجموعی تاثر دھیما ہے۔ اختتام ناصحانہ ہے اور نصیحت نرم لہجے میں ہوتی ہے۔

 رنگ تغزل

تغزل اقبال کے کلام کا خاصا ہے۔”خضر راہ“ اگرچہ ایک نظم ہے جس میں حیات و کائنات کے حقائق اور ٹھوس مسائل کو موضوع سخن بنا یا گیا ہے۔ مگر چونکہ اقبال کے مزاج میں شعریت اور تغزل رچا بسا ہے اس لئے غزلوں کے علاوہ ان کے بیشتر نظموں میں تغزل کا رنگ نمایاں ہے۔ خضر راہ کے بعض حصوں اور شعروں میں ہمیں اقبال کا یہی رنگ تغزل نظر آتا ہے۔

برتر اندیشہ سود وزیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم ِ جاں ہے زندگی
جادوئے محمود کی تاثیر سے چشم ِ ایاز
دیکھتی ہے حلقہ گردن میں ساز دلبری

 

 تراکیب، تشبہات

اقبال نے خضر راہ میں بھی نادر تراکیب کااستعمال کیا ہے مثلاًقلزم ہستی، شہید جستجو، ضمیر کن فکاں ، شمشیر بے زنہار، ساز دلبری ، شاخ آہو وغیرہ

تشبیہ کسی چیز کو کسی خاص وصف کی بناءپر کسی دوسری چیز کی مانند ظاہر کیا جائے اقبال کے ہاں نادر تشبیہات ملتی ہیں۔ بقول عابد علی عابد

” اقبال ایسی ایسی خوبصورت تشبیہہں اور استعارے استعمال کرتے ہیں کہ ان دیکھی چیزیں دیکھی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔“

جیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفلِ شیر خوار
موج مضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مستِ خواب

 

 صنائع بدائع کا استعمال

اقبال کے کلام میں صنائع بدائع کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ جو اقبال کی غیر شعوری فنی مہارت کا شاہکار ہے۔

صنعت ِ تلمیح:۔

بیچتا ہے ہاشمی ناموسِ دین مصطفی
خاک و خون میں مل رہا ہے ترکمانِ سخت کوش

صنعتِ تجنیس:۔

خام ہے جب تک تو ہے مٹی کا اک انبار تو
پختہ ہو جائے تو ہے شمشیر بے زنہار تو

صنعت ملمع:۔

ملک ہاتھوں سے گیا ملت کی آنکھیں کھل گئیں
حق تیرا چشمے عطا کر دستِ غافل درنگر

صنعتِ مراعات النظیر:۔

آگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے

صنعت تضاد:۔

دیکھتا ہوں کہ وہ پیک ِ جہاں پیما خضر
جس کی پیری میں ہے مانند ِ سحر رنگ شباب

محاکات:۔

اس نظم میں محاکات یعنی تصویر کشی کا بہترین نمونے ملتے ہیں۔ بقول غلام رسول مہر کہ،

” خضر راہ کا موضوع منظر کشی نہ تھا۔ تاہم جہاں کہیں اتفاقیہ موقع مل گیا ہے وہاں اس کمال کرشمہ فرمائیاں بھی دیدنی ہیں۔“

مثلاً پہلا بند جس میں اقبال لفظی تصویر کشی کا بہترین نمونہ پیش کرتے ہیں،

شب سکوت فزاءہوا آسودہ ، دریا نرم سیر
تھی نظر حیراں کہ یہ دریا ہے یا تصویر آب!

جیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفل ِ شیر خوار
موج مضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مست خواب

 

] مجموعی جائزہ

نظم کی عظمت کے بارے میں عبادت بریلوی کی رائے ہی کافی ہے، ” خضر راہ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں موضوع کی بصیرت ، فنی سلیقہ شعاری سے گلے ملتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اور اسی صورت حال نے اس کو اس سحر سے آشنا کر دیا ہے جو شاعری کی جان اور شعر کا ایمان ہے۔“

 

والدہ مرحومہ کی یاد میں

یہ نظم اقبال نے اپنی والدماجدہ کی وفات پر ان کی یاد میں لکھی ۔ اسے مرثیہ بھی کہا جاتا ہے۔ اولین شکل میں اس کے گیارہ بنداور 89 اشعار تھے ۔ ”بانگ درا“کی میں شامل کرتے وقت اقبال نے اس میں تبدیلی کی اور موجودہ شکل میں نظم کل تیرہ بندوں اور چھیاسی اشعار پر مشتمل ہے۔ علامہ اقبال کی والدہ ماجدہ کانام امام بی بی تھا۔ وہ ایک نیک دل ، متقی اور سمجھ دار خاتون تھیں۔ گھر میں انہیں بے جی کہا جاتا تھا۔ وہ بالکل اَ ن پڑھ تھیں مگر ان کی معاملہ فہی ، ملنساری اور حسنِ سلوک کے باعث پورا محلہ ان کا گروید ہ تھا۔ اکثر عورتیں ان کے پاس اپنے زیورات بطور امانت رکھواتیں۔ برادری میں کوئی جھگڑا ہوتا تو بے جی کو سب لوگ منصف ٹھہراتے اور وہ خوش اسلوبی سے کوئی فیصلہ کر دیتیں ۔ اقبال کو اپنی والدہ سے شدید لگائو تھا۔ والدہ بھی اقبال کو بہت چاہتی تھیں زیر نظر مرثیے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب اقبال یورپ گئے تو والدہ ماجدہ ان کی بخیریت واپسی کے لئے دعائیں مانگتیں اور ان کے خط کی ہمیشہ منتظر رہتیں۔ ان کا انتقال اٹھتر سال کی عمر میں 9نومبر 1914ءکو سیالکوٹ میں ہوا۔ والدہ مرحومہ کی وفات پر اقبال کو سخت صدمہ ہوا۔ اور وہ مہینوں دل گرفتہ رہے ۔ اور انہوں نے اپنی ماں کی یاد میں یہ یادگار نظم لکھی۔

 

نظم یا ( مرثیہ )کا اصل موضوع والدہ ماجدہ کی وفات حسرت آیات پر فطری رنج و غم کا اظہار ہے ۔ اس اظہار کے دو پہلو ہیں،

1)فلسفہ حیات و ممات اور جبر و قدر 2) والدہ مرحومہ سے وابستہ یادیں اور ان کی وفات کا ردعمل

پہلے موضوع کا تعلق فکر سے ہے اور دوسرے کا جذبات و احساسات سے ”والدہ مرحومہ کی یاد میں “ اردو میں اقبال کی شاید واحد نظم ہے جس میں وہ پڑھنے والے کو فکراور جذبہ دونوں کے دام میں اسیر نظر آتے ہیں۔

 

فلسفہ جبر و قدر

موت کے تصور سے اور خاص طور پر اُس وقت جب انسان کی کسی عزیز ہستی کو موت اُچک کر لے گئی ہو ، قلب حساس پر تقدیر کی برتری اور تقدیر کے مقابلے میں انسان کی بے بسی و بے چارگی کا نقش اُبھرنا ایک قدرتی بات ہے۔ اس لئے مرثیے کا آغاز ہی فلسفہ جبر و قدر سے ہوتاہے۔

ذرہ ذرہ دہر کا زندانی تقدیر ہے
پردہ مجبوری و بےچارگی تدبیر ہے

پہلے بند میں بتایا گیا ہے کہ سورج چاند ستارے ، سبزہ و گل اور بلبل غرض دنیا کی ہر شے فطر ت کے جابرانہ قوانین میں جکڑی ہوئی ہے اور قدرت کے تکونی نظام میں ایک معمولی پرزے کی حیثیت سے اپنا فرض ادا کرنے پر مجبور ہے۔

 

انسانی ذہن پر فلسفہ جبر و قدر کا ردعمل

تقدیر کے مقابلے میں اپنی بے چارگی پر رنج و غم کا احساس اور اس پر آنسو بہانا انسان کافطری ردعمل ہے ۔ مگر دوسرے بند میں اقبال کہتے ہیں کہ چونکہ جبر و قدر مشیت ایزدی ہے اس لئے گریہ و زاری اور ماتم نا مناسب ہے۔ آلام ِ انسانی کے اس راز کو پا لینے کے بعد کہ رقص ِ عیش و غم کا یہ سلسلہ خدا کے نظام کائنات کا ایک لازمی حصہ ہے، میں زندگی میں انسان کی بے بسی و بے چارگی پر افسوس کرتا ہوں اور نہ کسی ردعمل کا اظہار کرتا ہوں ۔ لیکن والدہ کی وفات ایک ایسا سانحہ ہے کہ اس پر خود کو گریہ پیہم سے بچانا اور خاموش رہنا میر ے لئے ممکن نہیں ۔

یہاں دوسرے بند کے آخری شعر میں اقبال نے یہ حقیقت بیان کی ہے کہ انسان جس قدر صابر و شاکر کیوں نہ واقع ہوا ہو، زندگی میں کسی نہ کسی موقع پر اس کی قوت برداشت جواب دے جاتی ہے اور وہ بے اختیار آنسو بہانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ایسے عالم میں زندگی کے سارے فلسفے ، ساری حکمتیں اور محکم ضوابط ، دکھی دل کے ردعمل کو روکنے میں ناکام ثابت ہوتے ہیں اوروالدہ مرحومہ کی وفات پر مجھ پر بھی یہی بیت رہی ہے۔

یہ تری تصویر قاصد گریہ پیہم کی ہے
آہ یہ تردید میری حکمت محکم کی ہے

گریہ و زاری کا مثبت پہلو

گریہ وزاری کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اس سے زندگی کی بنیاد مضبوط اور مستحکم ہوتی ہے۔ روح کی آلودگی اور داخلی بے قراری ختم ہونے سے قلب کو ایک گونہ طمانیت اور استحکام نصیب ہوتا ہے اور انسان ایک نئے ولولے اور عزم کے ساتھ زمانے کی سختیوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ نفسیات دان بھی یہ کہتے ہیں کہ رونے سے انسان کا تزکیہ نفس ہوتا ہے۔ اقبال نے اس شعر میں جیسے کہا ہے۔

موج دو دِ آہ سے روشن ہے آئےنہ مرا
گنج آب آورد سے معمرو ہے دامن مرا

والدہ اور بچے کا باہمی تعلق

والدہ کی یاد میں بہائے جانے والے آنسوئوں نے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا ہے۔ سارا میل کچیل آنسوئوں میں تحلیل ہو کر آنکھوں کے راستے خارج ہو گیا ہے۔ اب وہ خود کو بالکل ہلکا پھلکا اور معصوم بچے کی مانند محسوس کرتا ہے۔ شفیق والدہ کی یا د شاعر کو ماضی کے دریچوں میں لے گئی ہے۔ جب وہ چھوٹا سا تھا اور ماں اس ننھی سی جان کو اپنی گودمیں لے کر پیار کرتی اور دودھ پلاتی ۔ اب وہ ایک نئی اور مختلف دنیا میں زندگی بسر کر رہا ہے علم و ادب اور شعر و سخن کی دنیا ہے۔ ایک عالم ان کی شاعری پر سر دھنتا ہے

اور اب چرچے ہیں جس کی شوخی گفتار کے
بے بہا موتی ہیں جس کی چشم گوہر بار کے
علم کی سنجیدہ گفتاری بڑھاپے کا شعور
دینوی اعزاز کی شوکت ، جوانی کا غرور

ماضی اور حال کی ان کیفیات میں زبردست تضاد کے باوجود ، اقبال کے خیال میں ایک عمر رسیدہ بزرگ یا عالم فاضل شخص بھی جب اپنی والدہ کا تصور کرتا ہے۔ تو اس کی حیثیت ایک طفل سادہ کی رہ جاتی ہے جو صحبتِ مادر کے فردوس میں بے تکلف خندہ زن ہوتا ہے۔

زندگی کی اوج گاہوں سے اتر آتے ہیں ہم
صحبت مادر میں طفل ِ سادہ رہ جاتے ہیں ہم

والدہ اور بھائی سے وابستہ یادیں

والدہ کو یاد کرتے ہوئے دور گزشتہ اور اس سے متعلق حالات و واقعات کا یا د آنا سلسلہ خیال کاحصہ ہے۔ اقبال کو وہ دور یا د آتا ہے جب وہ اعلیٰ تعلیم کے لئے یورپ میں مقیم تھے۔ اس زمانے میں امام بی بی مرحومہ ، اقبال کی سلامتی کے لئے فکر مند رہتیں ، راتوں کو اٹھ اٹھ کر ان کی بخیریت واپسی کے لئے دعائیں مانگتیں اور انھیں ہمیشہ اقبال کے خط کا انتظار رہتا۔

کس کو اب ہوگا وطن میں آہ میرا انتظار
کون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرار

یہاں اقبال اپنی والدہ کی عظمت کے اعتراف میں بتاتے ہیں کہ میری تعلیم و تربیت ، میری عظیم والد ہ کے ہاتھوں ہوئی، جن کی مثالی زندگی ہمارے لئے ایک سبق تھی۔ مگر افسوس جب مجھے والدہ کی خدمت کا موقع ملا تو وہ دنیا سے رخصت ہوگئیں ،البتہ بڑے بھائی شیخ عطا محمدنے ایک حد تک والدہ کی خدمت کی اور اب والدہ کی وفات پر وہ بھی بچوں کی طرح رو رہا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ والدہ نے اپنے پیار اور خدمت کے ذریعے اپنی محبت کا جو بیج ہمارے دلوں میں بویا تھا، غم کا پانی ملنے پر اب وہ ایک پودے کی شکل میں ظاہر ہوکر الفت کا تناور درخت بنتا جا رہا ہے۔

تخم جس کا تو ہماری کشت ِ جاں میں بو گئی
شرکتِ غم سے وہ الفت اور محکم ہو گئی

فلسفہ حیات و ممات

والدہ سے وابستہ پرانی یادوں کو یاد کرتے ہوئے شاعر کو تقدیر اور موت کی بے رحمی کا خیال آتا ہے۔ چنانچہ چھٹے بند سے سلسلہ خیال زندگی اور موت کے فلسفے کی طرف مڑجاتا ہے۔ مرثیے کے آغاز میں بھی اقبال نے فلسفہ جبر و قدر پر اظہارخیال تھا مگر یہاں موت اور تقدیر کے جبر کا احساس نسبتاً شدید اور تلخ ہے۔ کہتے ہیں دنیا میں جبر و مشیت کا پھندا اس قدر سخت ہے کہ کسی چیز کو اس سے مفر نہیں۔ قدرت نے انسانوں کی تباہی کے لئے مختلف عناصر (بجلیاں ، زلزلے ، آلام مصائب قحط وغیرہ) کو مامور رکھا ہے۔ ویرانہ ہو یا گلشن ، محل ہو یا جھونپڑی وہ اپنا کام کر جاتے ہیں بےچارہ انسان اس پر آہ بھرنے کے سوا کیا کر سکتا ہے۔

نے مجال شکوہ ہے ، نے طاقت ِ گفتار ہے
زندگانی کیا ہے، اک طوقِ گلو افشار ہے

اس کے بعد اقبال دوسرے رخ کو پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جبرو قدر کی یہ حکمرانی دائمی نہیں، بلکہ عارضی ہے۔ موت مستقلاً زندگی پر غالب نہیں آسکتی ۔ کیونکہ اگر موت کو زندگی پر برتری ہوتی تو پھر زندگی کا نام نشان بھی نظر نہ آتا اور یہ کارخانہ کائنات نہ چل سکتا۔

موت کے ہاتھوں سے مت سکتا اگر نقشِ حیات
عام یوں اس کونہ کر دیتا نظام کائنات

بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اصلاً زندگی اس قدر محبوب ہے کہ اس نے زندگی کو مغلوب نہیں غالب بنایا ہے۔ انسان کوزندگی کے مقابلے میں موت اس لئے غالب نظر آتی ہے کہ اس کی ظاہر میں نگاہیں اصل حقیقت تک پہنچنے سے قاصر رہتی ہیں۔ موت تو ایک عارضی کیفیت کا نام ہے جس طرح انسان لمحہ بھر کے لئے نیند کر کے پھر اُٹھ جاتا ہے۔

مرگ اک ماندگی کا وقفہ ہے
یعنی آگے چلیں گے دم لے کر

آٹھویں بند کے آخر میں اقبال دنیا کی بے ثباتی اور زندگی کی ناپایداری کی ایک توجیہ پیش کرتے ہیں ۔ ان کے خیال میں فطر ت ایک بااختیار خلاق کی حیثیت رکھتی ہے۔ جسے بناو اور بگاڑ پر پوری قدرت حاصل ہے۔فطرت چونکہ خوب سے خوب تر کی جستجو میں رہتی ہے۔ اس لئے اپنے بنائے ہوئے نقوش خود ہی مٹاتی رہتی ہے۔ تاکہ اس تخریب سے تعمیر کا ایک نیا اور مطلوبہ پہلو برآمد ہوسکے۔اس طرح موت اور تخریب کا جواز یہ ہے کہ اس سے حیات ِ نو کی ایک بہتر بنیاد فراہم ہوتی ہے۔

فطرت ہستی شہید آرزو رہتی نہ ہو
خوب تر پیکر کی اس کو جستجو رہتی نہ ہو

عظمت انسان

نویں بند میں اقبال نے نظام کائنات میں انسان کے مقام اور اس کی عظمت کے بارے میں اظہار خیال کیا ہے۔ آغاز ، آسمان میں چمکتے ہوئے ستاروں کے ذکر سے ہوتاہے ۔ اقبال کے خیال میں ستارے اپنی تمام تر آب و تاب ، چمک، دمک اور طوالتِ عمرکے باوجود قدرت کے تکوینی نظام کے بے بس کارندے ہیں اور نہ جانے کب سے ایک محدود دائرے میں اپنا مقررہ فرض ادا کر رہے ہیں ۔ اس کے مقابلے میں انسان کے مقاصد کہیں زیادہ پاکیزہ تر، اس کی نگاہ کہیں زیادہ دور رس اور وسیع اور اس لامحدود کائنات میں اس کا مرتبہ کہیں زیا دہ ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ کہ نظام کائنات میں انسان کا مقام ایسا ہی ہے، جیسے نظام ِ شمسی میں سورج کا مرتبہ اس لئے موت انسان کوفنا نہیں کر سکتی۔ جومثال شمع روشن محفل ِ قدرت میں ہے
آسماں اک نقطہ جس کی وسعت ِ نظر میں ہے

غم و اندوہ کا ردعمل

گیارہویں بند میں اقبال نے انسانی قلب و ذہن پر رنج وغم کے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ لوگوں کا خیال ہے کہ موت کے زہر کا کوئی تریاق نہیں ۔ البتہ زخمِ فرقت کے لئے وقت مرہم ِ شفا کی حیثیت رکھتا ہے۔ مگر اقبال کو اس سے اتفاق نہیں ہے ان کا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ جب انسان کسی شدید مصیبت سے دوچار ہوا اور مصیبت بھی ناگہاں ہو تو صبر و ضبط انسان کے اختیار میں نہیں رہتا۔البتہ ایسے عالم میں انسان کے لئے تسکین کا صرف ایک پہلو نکلتا ہے اور وہ پہلو ہے جس کی طرف اقبال نے نظم کے آغاز میں ذکر کیا ہے ، کہ موت کسی دائمی کیفیت کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عارضی حالت ہے۔ انسان مرتا ہے لیکن فنا نہیں ہوتا اور نہ ہو سکتا ہے۔

جوہر انساں عدم سے آشنا ہوتا نہیں
آنکھ سے غائب تو ہوتا ہے فنا ہوتا نہیں

اسی طرح موت کے وقفہ ماندگی کے بعد انسان پھر بیدار ہو کر اُٹھ کھڑا ہوگا۔ یہ اس کی زندگی کی نئی سحر ہوگی اور پھر وہ ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔ یہ بات بارھویں بند کے آخر تک بیان ہوئی ہے۔

والدہ کے لئے دعا

نظم کے خاتمے پر سلسلہ خیال والدہ مرحومہ کی جانب مڑ جاتا ہے ۔ ابتداءمیں شاعر نے والدہ کی رحلت پر جس بے قراری کا اظہار کیا وہ والدہ سے محبت رکھنے والے مغموم و متاسف بچے کے درد و کرب اور تڑپ کا بے تابانہ اظہارتھا۔ لیکن فلسفہ حیات و ممات پر غور و غوض کے بعد شاعر نے جو نتیجہ اخذ کیا ، وہ ایک پختہ کا مسلمان کی سوچ ہے۔ اقبال نے والدہ کی جدائی کے درد و غم کو اپنی ذات میں اس طرح سمو لیا ہے کہ اب جدائی ایک مقدس اور پاکیزہ کیفیت بن گئی ہے۔

یاد سے تیری دلِ درد آشنا معمور ہے
جیسے کعبے میں دعائوں سے فضا معمور ہے

یوں کہنا چاہیے کہ اقبال نے غم کا ترفع کر لیا ہے۔ وہ والدہ کی وفات اور جدائی پر اس لئے بھی متاسف نہیں کہ موت کے بعد آخرت بھی زندگی ہی کی ایک شکل ہے۔ آخری تین اشعار دعائیہ ہیں۔ اقبال دعا گو ہیں کہ جس طرح زندگی میں والدہ ماجدہ ایک مہتاب کی مانند تھی جن سے سب لوگ اکتساب ِ فیض کرتے تھے۔ خدا کرے ان کی قبر بھی نور سے معمور ہو۔ اور خدا ان کی لحد پر بھی اپنی رحمت کا نزول فرماتا رہے۔ سبزہ نورستہ خدا کی رحمت کی علامت ہے۔

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

فنی جائزہ

”والدہ مرحومہ کی یاد میں “ درحقیقت ایک مرثیہ ہے۔ اس کی ہیئت ترکیب بند کی ہے۔ مرثیہ بحرِ رمل مثمن مخدوف الآخر میں ہے۔ ارکان یہ ہیں

فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن

لہجے کا تنوع

”والدہ مرحومہ کی یاد میں “ ایک مرثیہ ہونے کی بنا پر اپنے موضوع کی مناسبت سے معتدل ، نرم اور دھیما لہجہ رکھتا ہے۔ جن مقامات پر انسان کی بے بسی ، قدرت کی جبریت اور زندگی کی بے ثباتی کا ذکر ہوا ہے وہاں لہجے کاسخت اور پر جوش ہونا ممکن ہی نہیں ۔ جن حصوں میں شاعر نے اپنی والدہ سے وابستہ یادِ رفتہ کو آواز دی ہے وہاں اس کے لہجے میں درد و کرب اور حسرت و حرماں نصیبی کی ایک خاموش لہر محسوس ہوتی ہے۔اس حسرت بھری خاموشی کو دھیمے پن سے بڑی مناسبت ہے۔ شاعر کے جذبات کے اتار چڑھاو نے بھی اس کے دھیمے لہجے کا ساتھ دیا ہے۔ پھر الفاظ کے انتخاب ، تراکیب کی بندش اور مصرعوں کی تراش سے بھی یہی بات آشکار ا ہے۔

زندگی کی اوج گاہوں سے اتر آتے ہیں ہم
صحبت مادر میں طفلِ سادہ رہ جاتے ہیں ہم

 

سوز و گداز

زیر مطالعہ مرثیہ اپنے تاثرکے اعتبار سے اقبال کے تمام مرثیوں میں ایک جداگانہ حیثیت رکھتا ہے۔ غلام رسول مہر کے بقول اس کے اشعار اتنے پرتاثیر ہیں کہ الفاظ میں ان کی کیفیت بیان نہیں ہو سکتی۔ غالباً یہ مرثیہ شعر و ادب کی پوری تاریخ میں بالکل یگانہ حیثیت رکھتا ہے اور شاید ہی کوئی دوسری زبان اس قسم کی نظم پیش کر سکے ۔ اس انفرادیت اور اثر انگیزی کا سبب اس کا وہ سوز و گداز ہے جس سے نظم کے کسی قاری کا غیر متاثر رہنا ممکن نہیں۔

تجھ کو مثلِ طفلکِ بے دست و پا روتا ہے وہ
صبر سے ناآشنا صبح و مسا روتا ہے وہ

علامہ اقبال نے اس کی ایک نقل اپنے والد محترم شیخ نو رمحمد کو بھیجی تھی۔ روایت ہے کہ مرثیہ پڑھتے ہوئے اس کے سو ز و گداز سے ان پر گریہ طاری ہو جاتا اور وہ دیر تک روتے رہتے۔ مرثیے میں یہ سوز و گداز اس وجہ سے پیدا ہوا کہ اقبال کے پیش نظر یہ ایک جذباتی موضوع تھا۔

 

فارسیت

یہ مرثیہ بھی اقبال کی ان نظموں میں سے ہے جن پر فارسی کا غالب اثر ہے۔ بحیثیت مجموعی پوری نظم پر ایک نظر دوڑانے سے یہی احساس ہوتا ہے ۔ مصرعوں کی تراش اور تراکیب کی بناوٹ بھی اسی پر شاہد ہے۔

خفتگانِ لالہ زار و کوہسار و رودبار
ہوتے ہیں آخر عروس زندگی سے ہمکنار

 

حسن بیان کے چند پہلو

خالص فنی اعتبار سے مرثیہ حسنِ بیان کا ایسا خوبصورت نمونہ ہے جس کی مثال اردو شاعری میں شائد ہی ملے گی۔ رشید احمد صدیقی کہتے ہیں،

” فن کا کمال ہی یہ ہے کہ فن کے سارے وسائل کام میں لائے گئے ہوں لیکن ان میں ایک بھی توجہ پر بار نہ ہو۔“

نظم میں زبان و بیان او ر صنائع بدائع کے وسائل غیر شعوری طور پر استعمال کئے گئے ہیں ۔حسن بیان کے چند پہلو ملاحظہ ہوں۔

تشبیہات:۔

یاد سے تیری دل درد آشنا معمور ہے
جیسے کعبے میں دعائوں سے فضا معمور ہے

صنعت مراعاة النظیر:۔

زلزلے ہیں ، بجلیاں ہیں ، قحظ ہیں آلام ہیں
کیسی کیسی دخترانِ مادرِ ایام ہیں

صنعت طباق ایجابی:۔ علم کی سنجیدہ گفتاری ، بڑھاپے کا شعور
دینوی اعزاز کی شوکت ، جوانی کا غرور

صنعت ترافق:۔

دفتر ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیات
تھی سراپا دین و دنیا کا سبق تیری حیات

صنعت ایہام تضاد:۔

مثل ِ ایوانِ سحر مرقد فروزاں ہو ترا
نو رسے معمور یہ خاکی شبستا ں ہو ترا

قافیوں کی تکرار:۔

دل مرا حیراں نہیں ، خنداں نہیں گریاں نہیں
خفتگانِ لالہ زار و کوہسار و رود بار

محاکات:۔

زندگی کی اوج گاہوں سے اتر آتے ہیں ہم
صحبت مادر میں طفل ِسادہ رہ جاتے ہیں ہم

مجموعی جائزہ

نظم کو پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ جدا ہونے عزیز ہستی کے بارے میں اقبال کا طرز فکر اور پیرایہ اظہار ایک سچے مومن اور راسخ العقیدہ مسلمان کا ہے۔ جو والدہ کو خدا کے سپرد کرتے ہوئے دست بہ دعا ہیں کہ باری تعالیٰ مرحومہ کی قبر کو نور سے بھر دے اور اس پر اپنی رحمت کی شبنم افشانی کرتا رہے۔

نظم کے بارے میں سید وقار عظیم لکھتے ہیں،

” اقبال کی شخصیت دو مختلف اندازوں میں جلوہ گر ہوئی۔ ایک شخصیت تو اقبال کی وہی فلسفیانہ شخصیت ہے۔ جس کی بدولت اقبال کو اردو شاعری میں ایک منفرد حیثیت ملی ہے۔ اور دوسری حیثیت اس مجبور اور مغموم انسان کی ہے جو ماں کی یاد میں آنسو بہاتے وقت یہ بھول جاتا ہے کہ وہ ایک مفکر اور فلسفی بھی ہے۔“

خودی

اقبال کا پیغام یا فلسفہ حیات کیا ہے اگر چاہیں تو اس کے جواب میں صرف ایک لفظ ”خودی“ کہہ سکتے ہیں اس لئے کہ یہی ان کی فکر و نظر کے جملہ مباحث کا محور ہے اور انہوں نے اپنے پیغام یا فلسفہ حیات کو اسی نام سے موسوم کیا ہے۔ اس محور تک اقبال کی رسائی ذات و کائنات کے بارے میں بعض سوالوں کے جوابات کی تلاش میں ہوئی ہے۔ انسان کیا ہے؟ کائنات اور اس کی اصل کیا ہے؟ آیا یہ فی الواقع کوئی وجود رکھتی ہے یا محض فریب نظر ہے؟ اگر فریب نظر ہے تو اس کے پس پردہ کیاہے؟ اس طرح کے اور جانے کتنے سوالات ہیں جن کے جوابات کی جستجو میں انسان شروع سے سرگرداں رہا ہے۔اس طرح کے سوالات جن سے انسان کے وجود کا اثبات ہوتا ہے۔ اردو شاعری میں اقبال سے پہلے غالب نے بھی اُٹھائے تھے۔

جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں
ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے

لیکن اقبا ل کے سوالات و جوابات کی نوعیت اس سلسلے میں غالب سے بہت مختلف ہے، یہ غالب نے ”عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے“ اور ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے۔“ کے عقیدے سے قطع نظر کرکے ، وجدانی طور پر ایک لمحے کے لئے محسوس کیا ہے اسے بیان کر دیا ہے اقبال نے ان سوالوں کے جواب میں دلائل و برہان سے کام لیا ہے۔ اور اسے ایک مستقل فلسفہ حیات میں ڈھال دیا ہے۔

اگر گوئی کہ من وہم و گماں است
نمودش چوں نود ایں و آں است

یہی فلسفہ حیات ہے جو بعض عناصرِخاص سے ترکیب پا کر اقبال کے یہاں مغرب و مشرق کے حکمائے جدید سے بالکل الگ ہوگیا ہے اس کا نام فلسفہ خودی ہے اور اقبال اسی کے مفسر و پیغامبر ہیں ۔ اس فلسفے میں خدابینی و خودبینی لازم و ملزوم ہیں۔ خود بینی ، خدابینی میں سے خارج نہیں بلکہ معاون ہے۔ خودی کا احساس ذات خداوند ی کا ادراک اور ذات ِ خداوندی کا ادراک خودی کے احساس کا اثبات و اقرار ہے خدا کو فاش تر دیکھنے کے لئے خود کو فاش تر دیکھنا از بس ضروری ہے۔ اگر خواہی خُدارا فاش دیدن
خودی رافاش تر دیدن بیا موز

 

اقبال کا تصور ِ خودی

تصو ر خودی کو اقبال کے فلسفہ حیات و کائنات میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اگر خودی کے تصور کو سمجھ لیا جائے تو اقبال کی شاعری کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے اقبالیات کے ہر نقاد نے خودی پر کسی نہ کسی شکل میں اظہار خیال کیا ہے۔ڈاکٹر سےد عبداللہ اس سلسلے میں لکھتے ہیں۔

”خودی خود حیات کا دوسرا نام ہے۔ خودی عشق کے مترادف ہے۔ خودی ذوق تسخیر کا نام ہے۔ خودی سے مراد خود آگاہی ہے۔ خودی ذوق طلب ہے ۔ خودی ایمان کے مترادف ہے۔ خودی سرچشمہ جدت و ندرت ہے۔ خودی یقین کی گہرائی ہے۔ خودی سوز حیات کا سرچشمہ ہے اور ذوق تخلیق کا ماخذ ہے۔“

اقبال کے ہاں خودی سے مراد

خودی فارسی زبان کا لفظ ہے جو لغوی اعتبار سے درج ذےل معانی رکھتا ہے ١) انانیت، خود پرستی ، خود مختاری ، خود سری ، خود رائی

ب) خود غرضی

ج) غرور ، نخوت ، تکبر

”خودی“ کا لفظ اقبال کے پیغا م یا فلسفہ حیات میں تکبر و غروریا اردو فارسی کے مروجہ معنوں میں استعمال نہیں ہوا۔ خودی اقبال کے نزدیک نا م ہے احساسِ غیرت مندی کا ،جذبہ خوداری کا اپنی ذات و صفات کا پاس و احساس کا، اپنی انا کو جراحت و شکست سے محفوظ رکھنے کا، حرکت و توانائی کو زندگی کا ضامن سمجھنے کا، مظاہراتِ فطرت سے برسر پیکار رہنے کا اور دوسروں کا سہارا تلاش کرنے کے بجائے اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کا۔ یوں سمجھ لیجئے کہ اقبال کے نقطہ نظر سے ”خودی“ زندگی کا آغاز ، وسط اور انجام سبھی کچھ ہے فرد وملت کی ترقی و تنزل ، خود ی کی ترقی و زوال پر منحصر ہے۔ خودی کا تحفظ ، زندگی کا تحفظ اور خودی کا استحکام ، زندگی کا استحکام ہے۔ ازل سے ابد تک خودی ہی کی کارفرمائی ہے۔ اس کی کامرانیاں اور کار کشائیاں بے شمار اور اس کی وسعتیں اور بلندیاں بے کنار ہیں۔اقبال نے ان کا ذکر اپنے کلام میں جگہ جگہ نئے انداز میں کیا ہے۔

خودی کیا ہے راز دورنِ حیات
خودی کیا ہے بیدارئی کائنات
ازل اس کے پیچھے ابد سامنے
نہ حداس کے پیچھے نہ حد سامنے
زمانے کی دھارے میں بہتی ہوئی
ستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئی
ازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیر
ہوئی خاک ِ آدم میں صورت پذیر
خودی کا نشیمن ترے دل میں ہے
فلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہے

کہیں یہ ظاہر کیا ہے کہ لاالہ الا اللہ کا اصل راز خودی ہے توحید ، خودی کی تلوارکو آب دار بناتی ہے اور خودی ، توحید کی محافظ ہے۔

خودی کا سرِ نہاں لاالہ الا اللہ
خودی ہے تیغ فساں لاالہ الا اللہ

کہیں یہ بتایا ہے کہ انسان کی ساری کامیابیوں کا انحصار خودی کی پرورش و تربیت پر ہے۔ قوت اور تربیت یافتہ خودی ہی کی بدولت انسان نے حق و باطل کی جنگ میں فتح پائی ہے۔ خودی زندہ اور پائندہ ہو تو فقر میں شہنشائی کی شان پیدا ہو جاتی ہے۔ اور کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی تصرف میں آجاتا ہے۔

خودی ہے زندہ تو ہے فقر میں شہنشاہی
ہے سنجرل و طغرل سے کم شکوہِ فقیر
خودی ہو زندہ تو دریائے بیکراں پایاب
خودی ہو زندہ تو کہسار پر نیاں و حریر

ڈاکٹر افتخار صدیقی” فروغِ اقبال “ میں اقبال کے نظریہ خودی کے بارے میں رقمطراز ہیں۔

” نظریہ خودی ، حضرت علامہ اقبال کی فکر کا موضوع بنا رہا ۔ جس کے تما م پہلوئوں پر انہوں نے بڑی شرح و بسط کے ساتھ روشنی ڈالی ہے ۔ اقبال نے ابتداءہی میں اس بات کو واضح کر دیا کہ خودی سے ان کی مراد غرور و نخوت ہر گز نہیں بلکہ اس سے عرفان ِ نفس اور خود شناسی مراد ہے۔“

چنانچہ ”اسرار خودی“ کے پہلے ایڈیشن کے دیباچے میں لکھتے ہیں،

” ہاں لفظ”خودی “ کے متعلق ناظرین کو آگاہ کردینا ضروری ہے کہ یہ لفظ اس نظم میں بمعنی ”غرور “استعمال نہیں کیا گیا جیسا کہ عام طور پر اُردو میں مستعمل ہے اس کا مفہوم محض احساس نفس یا تعینِ ذات ہے۔“ تقریباً یہی مفہوم اقبال کے اس شعر میں ادا ہوا ہے۔

خودی کی شوخی و تندی میں کبر و ناز نہیں
جو ناز ہو بھی تو بے لذت نیاز نہیں

اقبال کے تصور ِ خودی میں صوفیانہ فکر کے بیشتر عناصر ملتے ہیں لیکن صوفیوں کی خودی کا تصور روحانی ہوتا ہے ان کی روحانی انا اس درجہ محکم ہے کہ وہ مادی خودی کو وجود ِ مطلق کا جز قرار دیتے ہیں۔ جبکہ اقبال خودی کے مادی لوازم کو نظر انداز نہیں کرتے اور اس مادی خودی کو بھی بر حق اگرچہ تغیر پذیر جانتے ہیں، صوفی وجود اور خودی کو تسلیم کرلینے کے بعد فنائے خودی میں اپنی نجات سمجھتا ہے۔ اُس کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اس خودی کو بے خودی میں بد ل دے تاکہ وہ اپنی اصل سے مل جائے ۔ صوفی اسے ترکِ خود یا نفی خود کے نام سے یاد کرتے ہیں جبکہ اقبال عارضی خودی کی اہمیت تسلیم کرتے ہیں اور بے خودی تک پہنچنے کے لئے خودی کو ہی ذریعہ اور وسیلہ بناتے ہیں۔

  اقبال کے تصور خودی کے ماخذ

اقبال کے تصور خودی کا ماخذ ڈھونڈنے کے لئے نقادوں نے طرح طرح کی قیاس آرائیاں کیں ۔ اس سلسلے میں نطشے، برگساں ، ہیگل، اور لائڈ ماتھر وغیر ہ کا نام لیا گیا ۔ جبکہ خود اقبال نے اس قسم کے استفادے سے انکار کیا۔ خلیفہ عبد الحکیم کے خیال میں اقبال نطشے سے نہیں فشٹے سے متاثر تھے۔ کیونکہ نطشے تو منکر خدا ہے۔ اقبال کو نطشے کی تعلیم کا وہی پہلو پسند ہے جو اسلام کی تعلیم کا ایک امتیازی عنصر ہے۔ اگرچہ ”اسرار خودی“ کے اکثر اجزاءفلسفہ مغرب سے ماخوذ ہیں اور یہاں مسلمان فلسفیوں کے خیالات بہت کم ہیں لیکن اسلامی تصوف میں عشق کا نظریہ اقبال نے مولانا روم سے لیا ہے۔ اور اقبال کی شاعری کا انقلاب انگیز پیغام دراصل رومی کے فیض کا نتیجہ ہے۔ اس بارے میں عبدا لسلام ندوی لکھتے ہیں کہ،

” خودی کا تصور ڈاکٹر صاحب کے فلسفہ کی اساس ہے اور اسی پر ان تما م فلسفیانہ خیالات کی بنیاد ہے بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ یورپین فلسفہ بالخصوص نطشے سے ماخوذ ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس تخیل کو ڈاکٹر صاحب نے مولانا روم سے اخذ کیا ہے۔“

بقول خلیفہ عبدالحکیم ،

”رومی انفرادی بقا ءکا قائل ہے اور کہتا ہے کہ خدا میں انسان اس طرح محو نہیں ہو جاتا جس طرح کہ قطرہ سمندر میں محو ہو جاتا ہے۔ بلکہ ایسا ہوتا ہے جیسے کہ سورج کی روشنی میں چراغ جل رہا ہے جیسے لوہا آگ میں پڑ کر آگ ہو جاتا ہے لیکن اس کے باوجود اس کی انفرادیت باقی رہتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے فلسفہ خودی کے لئے بھی یہی نظریہ مناسب تھا اس لئے انہوں نے اس کو مولانا روم سے اخذ کیا ہے۔“ اس سے یہ مطلب نہیں سمجھنا چاہیے کہ ڈاکٹر صاحب کے فلسفے کی اپنی کوئی حیثیت نہیں بلکہ اُن کے فلسفہ خودی کے تمام اساسی مضامین درحقیقت قرآن سے ماخوذ ہیں۔

 خودی اور فطرت

اقبال کے نزدیک خودی اپنی تکمیل اور استحکام کے لئے غیر خودی سے ٹکراتی ہے جس نسبت سے کوئی شے خودی میں مستحکم اور غیر خو د پر غالب ہے اُسی نسبت سے اُس کا درجہ مدارج حیات میں نفیس ہوتا ہے۔مخلوقات میں انسان اس لئے برتر ہے کہ اس کی ذات میں خودی ہے ۔ اور اس خودی سے فطرت ِ انسانی مشاہدہ کی پابند ہے۔ اقبال کہتا ہے کہ خودی کی منزل زمان و مکاں کی تسخیر پر ختم نہیں ہوتی شاعر کا چشمِ تخیل انسان کی جدوجہد و عمل کے لئے نئے نئے میدان دکھاتا ہے۔

خودی کی یہ ہے منزل اولیں
مسافر یہ تیرا نشیمن نہیں
تری آگ اس خاکداں سے نہیں
جہاں تجھ سے تو جہاں سے نہیں

  خودی اور عشق

خودی کو آگے بڑھانے میں ایک چیز بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اقبال نے اسے کبھی آرزو اور کبھی عشق کا نام دیا ہے۔ ارتقائے خودی میں عشق سب سے بڑا محرک ثابت ہوتا ہے۔

عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بم
عشق سے مٹی کی تصویروں میں سوزِ دم بدم
اقبال نے عشق کے کئی مدارج بیان کئے ہیں،
عشق فقیہہ حرم ، عشق امیر جنود
عشق ہے ابن اسبیل ، اس کے ہزاروں مقام

چنانچہ کہیں عشق جمالی صورت اختیار کر لیتا ہے اور کہیں جلالی رنگ میں جھلک دکھاتا ہے۔

عشق کے مضراب سے نغمہ تارِ حیات
عشق سے نورِ حیات عشق سے نارِ حیات

ڈاکٹر عابد حسین ”خودی اور عشق کا راستہ واضح کرتے ہوئے اپنے مضمون’ ’ اقبال کا تصور خودی میں لکھتے ہیں،

” اس راہ میں ایک رہنما کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اور وہ رہنما عشق ہے عشق اُس مرد ِکامل کی محبت کو کہتے ہیں جو معرفت نفس کے مدارج سے گزر کر خودی کی معراج پر پہنچ چکا ہے۔“

مردِ خدا کاعمل ، عشق سے صاحب فرو غ
عشق ہے اصلِ حیات ، موت ہے اس پر حرام

  خودی اور فقر

طلب و ہدایت کے لئے کسی مرد ِ کامل کے آگے سرِ نیاز جھکانا توخودی کو مستحکم کرتا ہے۔ لیکن مال و دولت و منصب کے لئے دست نگر ہونا اس ضعیف بناتا ہے۔ گدائی صرف اِ سی کا نام نہیں کہ مفلس دولت مند کا طفیلی بن جائے بلکہ دولت جمع کرنے کا ہروہ طریقہ جس میں انسان محنت نہ کرے بلکہ دوسروں کی محنت سے فائدہ اُٹھائے اقبال کے نزدیک گداگری ہے۔ حتیٰ کہ بادشا ہ جو غریبوں کی کمائی پر بسر کرتا ہے سوال و گداگر ی کا مجرم ہے

میکدے میں ایک دن ایک مرد زیرک نے کہا
ہے ہمارے شہر کا سلطان گدائے بے نوا

اس کے نعمت خانے کی ہر چیز ہے مانگی ہوئی
دینے والا کون ہے مرد ِ غریب و بے نوا

گدائی اور فقر میں زمین و آسمان کا فرق ہے گدائی مال کی حاجت میں دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلا تا ہے جبکہ فقر مادی لذتوں سے بے نیاز کائنات کی تسخیر کرنا، فطرت پر حکمرانی اور مظلوموں کو ظالموں کے پنجے سے نجات دلانا ہے۔

ایک فقر سکھاتا ہے صیاد کو نخچھری
اک فقر سے کھلتے ہیں اسرارِ جہانگیری
اک فقر سے قوموں میں مسکینی و دلگیری
اک فقر سے مٹی میں خاصیت ِ اکسیری

تربیت خودی کے تین مراحل

خودی سے تعمیری کام لینے کے لئے اس کی تربیت ضروری ہے بے قید و بے ترتیب خودی کی مثال شیطان ہے۔ اقبال بھی گوئٹے کی طرح اسے تخلیق کی عظیم الشان قوت سمجھتے ہیں جو صراط ِ مستقیم سے بھٹک گئی ہے۔خودی کی منازل کے علاوہ تربیت خودی کے مراحل انتہائی اہم ہیں یہ مراحل تین ہیں ۔

1) اطاعت الہٰی:۔ اقبال کے نزدیک خودی کا پہلا درجہ اطاعت ہے یعنی کہ اللہ کے قانون ِ حیات کی پابندی کرنا

2) ضبط نفس:۔ دوسرا درجہ ضبط نفس ہے انسان نفس کو جس کی سرکشی کی کوئی حد نہیں قابو میں لائے

3) نیابت الہٰی:۔ ان دونوں مدار ج سے گزرنے کے بعد انسان اس درجے پر فائز ہو جائے گا ۔

جسے انسانیت کا اوج کمال سمجھنا چاہیے ۔ یہ نیابت الہٰی کا درجہ ارتقائے خودی کا بلند ترین نصب العین ہے۔

 خودی اور خدا کا تعلق

طالب خودی ”مرد خدا“ کی محبت اس قدر برتر اور سرشار ہوتی ہے اور کیف و سرور کی وجہ سے خدا کی اتنی محبت اس کے دل میں پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ خودی کے کل مراحل طے کرنے کے باوجود اپنے آپ کو ناتمام محسوس کرتا ہے اسی کشش کا نام عشق ِ حقیقی ہے۔

عشق بھی ہو حجاب میں ، حسن بھی ہو حجاب میں
یا تو خود آشکار ہو، یا مجھے آشکار کر
تو ہے محیطِ بیکراں ، میں ہوں ذرا سی آب جو
یا مجھے ہم کنار کر ، یا مجھے بے کنا ر کر

متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندی
مقام ِ بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی

بندگی میں انسان کو سکون ملتا ہے بحرحال یہ جدائی انسان کے لئے مبارک ہے کیونکہ یہی خودی وجہ حیات ہے۔

  بے خودی

اقبال کے فلسفہ خودی کی تفصیلات اور جزئیات کے مطالعہ سے اس قانون کا علم ہوتا ہے جس پر عمل کرکے انسان اس درجہ کو پالینے کے قابل ہو جاتا ہے جو اسے حقیقتاً خلیفتہ اللہ کے منصب کا اہل بنا دیتا ہے۔ اس قانون کی پابندی خودی کی تکمیل کے لئے لازمی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ انسان تنہائی کی زندگی نہیں گزارتا وہ لازماً کسی معاشرہ ، کسی قوم اور کسی ملت کا فرد ہوتا ہے۔ فرد اور ملت کے درمیان رابطہ کے بھی کچھ اصول اور قوانین ہوتے ہیں اسی رابطے اور قوانین و اصولوں کواقبال نے بے خودی سے تعبیر کیا ہے

اس رابطہ کو واضح کرنے کے لئے اقبال نے تصوف کی ایک مشہور اصطلاح استعمال کی ہے۔ فارسی اور اردو کے صوفی شعرا نفس انسانی کو قطرے سے اور ذات ایزدی کو دریا سے تشبیہ دیتے آئے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ ” عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا“ لیکن اقبال نے اس تمثیل کو فرد اور ملت کے درمیان ربط و تعلق ظاہر کرنے کے لئے استعما ل کیا ہے۔ فرد کی مثال ایک قطرہ کی ہے اور ملت دریا کی طرح ہے۔ مگر اقبال کی نظر میں یہ قطرہ ، دریا میں مل جانے کے بعد اپنی ہستی کو فنا نہیں کر ڈالتا بلکہ اس طریقہ سے اس کی ہستی مزید استحکام حاصل کر لیتی ہے۔ وہ بلند اور دائمی مقاصد سے آشنا ہو جاتا ہے ۔ اس کی قوتیں منظم اور منضبط ہو جاتی ہیں اور اس کی خودی پائیدار اور لازوال بن جاتی ہے۔

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

دراصل ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بے خودی سے اقبال کی مراد اجتماعی خودی ہے۔

  انفرادی خودی اور اجتماعی خودی کا تعلق

ڈاکٹر سید عبداللہ ”طیف اقبال ‘ ‘ میں اس موضوع پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں

”خودی کی ایسی صورت جو اپنے علاوہ دوسرے انسانوں کو نظر انداز کر ے وہ تخریب اور بگاڑ کی ایک شکل ہے۔ لہٰذا انسانی تجربے نے بتا یا کہ خودی کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ہم رنگ قسم کی خودی ، شعور، سے متحد ہو جاتی ہے۔ یہاں سے ایک اجتماعی خودی کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ جس طرح افراد کا شعور ایک جزو ہوتا ہے، اسی طرح اجتماعی خودی کا شعور بھی انفرادی خودی کے مانند ہم رنگ کے ساتھ شیرازہ بند ہوتا ہے۔

گویا انفرادی خودی اور اجتماعی خودی ایک دوسرے سے متضاد اور متصادم نہیں ہیں ۔ بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ فرد اپنی خودی کے ارتقاءاو ر استحکام کے بعد ملت کا ایک بیش قیمت سرمایہ بنتا ہے۔ اور ملت اپنے آئین اور قوانین کو فرد پر لاگو کرکے اُس کی خودی کو تعمیری اور تخلیقی حدود کی پابند رکھتی ہے۔ یہی وہ حقیقی ربط ہے جو فرد اور ملت کے درمیان لازماً موجود ہونا چاہیے۔یعنی اقبال کی بے خودی دراصل ملت اسلامیہ یا اسلامی ریاست کا قیام ہے۔ جس کے قانون کے اندر رہتے ہوئے خودی کے مکمل اور بہترین تربیت ہو سکتی ہے۔

  تکمیل خودی کے لئے ملت اسلامیہ کی ضرورت

مندرجہ بالا بحث سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ خالص فلسفیانہ نظریے کی حد تک انسانیت کا ایک عالمگیر تصور ممکن ہے۔ لیکن جب اس تصور کو ایک معین اور زندہ نصب العین کی صورت دی جائے تو وسیع سے وسیع نظر رکھنے والا شخص بھی اس بات پر مجبور ہو جاتا ہے کہ انسانیت کی تکمیل کا معیار کسی خاص ملت کو بنائے۔ اقبال کے نزدیک ملت بیضائے اسلام اس معیار پر پوری اترتی ہے۔ ان کی نظر میں انسان کی خودی کی حقیقی تکمیل اور فرد و ملت کا متوازن ربط صرف اسلام ہی کی ذریعہ ممکن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فرد ملت کا متوازن ربط صرف اسلام ہی کے ذریعہ ممکن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام میں فرد اور ملت کا رشتہ نسل یا وطن کے روابط کی بنیاد پر استوار نہیں ہوتا بلکہ توحید اور رسالت کا وسیع اور ہمہ گیر عقیدہ اس کی بنیاد بنتا ہے۔

جہاں تک فرد کا تعلق ہے اسے حقیقی آزادی ملت اسلامیہ کے اندر ہی حاصل ہوئی کیونکہ اسی ملت نے نوع انسان کو حقیقی معنوں میں حریت، مساوات، اور اخوات کا نمونہ دکھایا ۔ توحید کے عقیدہ نے نسل و انسب کے امتیاز کو مٹا دیا ۔ غریبوں کو امیروں اور زیر دستوں کو زبردستوں کے تسلط سے آزاد کرکے عدل و انصاف کے اعلیٰ ترین معیار کو قائم کئے اور اسلام کے رشتوں سے انسانوں کو ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا ۔ دوسری جانب جماعت کے بارے میں بھی یہی ملت اعلیٰ ترین معیار قائم کرتی ہے۔ڈاکٹر سید عبداللہ اس سلسلہ میں فرماتے ہیں

”ملت محمد کوانسانی اجتماعی خودی کے لئے ایک مثالی جماعت کہا جاسکتا ہے۔

 بے خودی سے خودی کا استحکام

آخر ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ فرد کے لئے جس طرح اپنی خودی کی تربیت ، ارتقاءاور استحکام ضروری ہے اسی طرح اس خودی کو ایک آئین اور قانون کی حدود میں لانا بھی ضروری ہے۔ یہ آئین اور قانون وہ ملت مہیا کرتی ہے۔ جس میں وہ فرد رکن ہوتا ہے۔ اس آئین کی حدود میں آنے کے بعد وہ تمام افراد جن کی انفرادی خودی تربیت کے مراحل سے گزر چکی ہے، ایک اجتماعی خودی کو تشکیل دیتے ہیں۔ یہ اجتماعی خودی مربوط ہو جانے کے بعد ایک جگہ پھر افراد کی انفرادی خودی کے تحفظ اور استحکام کے وسائل پیدا کرتی ہے۔

لیکن ایسی ملت جو انفرادی اور اجتماعی طور پر خودی کی تربیت اور استحکام کے وسائل پیدا کر سکے اور دنیا میں منشائے خداوندی کو پورا کرنے کا باعث بن سکے۔ وہ صرف ملتِ اسلامیہ ہی ہو سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ اور کسی قوم میں وہ خصوصیات موجود نہیں جو ایک عالمگیر انسانی برادری کی تشکیل کرنے کے لئے ضروری ہیں۔ صرف ملت اسلامیہ ہی وہ قوم ہے جو رنگ ، نسل ، زبان ، ملک ، علاقہ اور قبیلہ جیسے محدود امتیازات کو ختم کرکے ایک وسیع انسانی برادری کا تصور دیتی ہے۔ ایسا ہمہ گیر اور وسیع تصور دنیا کی اور کسی قوم کے پاس موجود نہیں ہے۔

 احساسِ خودی کی توسیع

بے خودی یا اجتماعی خودی کی تشکیل کے بعد ملت کے احساس خودی کی تو سیع کے لئے جن ذرائع کی ضرورت ہے وہ علم ِ کائنات اور تسخیر کائنات ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی لازمی ہے کہ ملت اپنی تاریخ اور روایات کی حفاظت کرے ۔ تاریخ اقوام کی زندگی کے لئے قوتِ حافظہ کا درجہ رکھتی ہے۔ اور حافظہ ہی وہ چیز ہے جس سے مختلف ادراکات کے درمیان ربط اور تسلسل پیداہوتا ہے۔ خارجی حیات کے ہجوم میں ”میں “ یا ”ان “ کا مرکز حافظہ کے ذریعے ہی ہاتھ آٹا ہے ۔ گویا حافظہ کے ذریعے فرد اپنے احساس ِ خودی کی حفاظت کرتا ہے اس طرح تاریخ کے ذریعہ ملت کی زندگی کے مختلف ادوار میں ربط اور تسلسل پیدا ہوتا ہے۔ یہی شیرازہ بندی ہے اس کے شعورِ خودی کی کفیل اور اس کے بقائے دوام کی ضامن بنتی ہے۔ دنیا میں وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو اپنے حال کا رشتہ ایک طرف ماضی سے اور دوسری طرف مستقبل سے استوار رکھتی ہے۔

تمام بحث سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ اقبال بے خودی یا اجتماعی خودی کی صورت میں ایک ایسی ملت یا ریاست کا تصور پیش کرتے ہیں جس کے زیر اثر رہتے ہوئے انفرادی خودی کو استحکام اور دوام حاصل ہو سکے۔

  مجموعی جائزہ

الغرض خودی کا تصور اقبال کی شاعری کا بنیادی تصور ہے جس کے بغیر ہم اقبال کی شاعری کا تصور بھی نہیں کرسکتے یہ اقبال کے فلسفہ حیات کی بنیادی اینٹ ہے خودی کا لفظ اقبال نے غرور کے معنی میں استعمال نہیں کیا بلکہ اس کا مفہوم احساسِ نفس یا اپنی ذات کا تعین ہے یہ ایک چیز ہے ، جس کے بارے میں احادیث میں بھی موجود ہے۔

ترجمہ:۔ ”یعنی جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا“

یوں سمجھ لیجئے کہ اقبال ہمیں اپنی ذات کے عرفان کا جو درس دے رہے ہیں وہ دراصل اپنے رب کو پہچاننے کی تلقین کا دوسرا نام ہے۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

اقبال اور مغربی تہذیب

مغربی تہذیب سے مراد وہ تہذیب ہے جو گذشتہ چا ر سو سالوں کے دوران یورپ میں اُبھری اس کا آغاز سولہویں صدی عیسوی میں اُس وقت سے ہوتا ہے جب مشرقی یورپ پر ترکوں نے قبضہ کیا ۔ یونانی اور لاطینی علوم کے ماہر وہاں سے نکل بھاگے اور مغربی یورپ میں پھیل گئے یورپ جو اس سے قبل جہالت کی تاریکی میں بھٹک رہا تھا ان علماءکے اثر سے اور ہسپانےہ پر عیسائیوں کے قبضہ کے بعد مسلمانوں کے علوم کے باعث ایک نئی قوت سے جاگ اُٹھا ۔ یہی زمانہ ہے جب یورپ میں سائنسی ترقی کا آغاز ہوا۔ نئی نئی ایجادات ہوئیں اُن کے باعث نہ صرف یورپ کی پسماندگی اور جہالت کا علاج ہوگیا۔ بلکہ یورپی اقوام نئی منڈیاں تلاش کرنے کے لئے نکل کھڑی ہوئیں ان کی حریصانہ نظریں ایشیاءاور افریقہ کے ممالک پر تھیں۔ انگلستان ، فرانس ، پرُ تگال اور ہالینڈ سے پیش قدمی کی اور نت نئے ممالک کو پہلے معاشی اور پھر سےاسی گرفت میں لیتا شروع کر دیااس طرح تھوڑے عرصہ میں ان اقوام نے ایشیاءاور افریقہ کے بیشتر ممالک پر قبضہ کرکے وہاں اپنی تہذیب کو رواج دیا اس رواج کی ابتداءیونانی علوم کی لائی ہوئی آزاد خیالی اور عقلی تفکر سے ہوئی۔ جس نے سائنسی ایجادات کی گود میں آنکھ کھولی تھی۔ سائنسی ایجادات اور مشینوں کی ترقی نے اس تہذیب کو اتنی طاقت بخش دی تھی کہ محکوم ممالک کا اس نے حتیٰ المقدور گلا گھونٹنے کی کوشش کی۔ وہاں کے عوام کی نظروں کو اپنی چکاچوند سے خیرہ کر دیا اور وہ صدیوں تک اس کے حلقہ اثر سے باہر نہ آسکے ۔ مسلمان ممالک خاص طور پر اس کا ہدف بنے ۔ ترکی ، ایران، مصر ، حجاز ، فلسطین ، مراکش ، تیونس، لیبیا، سوڈان ، عراق ، شام غرض تمام ممالک کو یورپ نے اپنا غلام بنا لیا اور ہندوستان پر قبضہ کر کے یہاں کے مسلمانوں کو ان کی شاندار تہذیب سے بدظن کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔

نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب مغرب کی
یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

اقبال کو شک اس کی شرافت میں نہیں ہے
ہر ملک میں مظلوم کا یورپ ہے خریدار

اقبال نے اپنے کلام میں جابجا مغربی تہذیب و تمدن کی خامیوں پر نکتہ چینی کی ہے اور مسلم معاشرے کو ان کے مضر اثرات سے بچنے کی تلقین کی ہے ۔ بعض نقادوں کے خیال میں اقبال نے مغربی تہذیب پر اعتراضات کرکے انصاف سے کام نہیں لیا۔ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم اس بارے میں لکھتے ہیں۔

” اقبال کے ہاں مغربی تہذیب کے متعلق زیادہ تر مخالفانہ تنقید ملتی ہے۔ اور یہ مخالفت اس کے رگ و پے میں اس قدر رچی ہوئی ہے کہ اکثر نظموں میں جا و بے جا ضرور اس پر ایک ضرب رسید کر دیتا ہے۔“

یہ کہنا کہ اقبال کو مغربی تہذیب میں خوبی کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا کلام اقبال سے سطحی واقفیت کا نتیجہ ہے۔ اقبال نے تہذیب ِ مغرب کے صرف انہی پہلو ئوں پر تنقید کی ہے جنہیں وہ مسلم معاشرے کے لئے مضر سمجھتے تھے۔ ورنہ جہاں تک اچھے پہلوئوں کا تعلق ہے اقبال اس سے کبھی منکر نہیں ہوئے۔

اپنی ایک لیکچر میں انہوں نے اسلامی تہذیب و تمدن کی اہمیت جتانے کے بعد کھل کر کہا ہے۔ ” میری ان باتوں سے یہ خیال نہ کیا جائے کہ میں مغربی تہذیب کا مخالف ہوں ۔ اسلامی تاریخ کے ہر مبصر کو لامحالہ اس امر کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ ہمارے عقلی و ادراکی گہوارے کو جھلانے کی خدمت مغرب نے ہی انجام دی ہے۔“

اسی طرح ایک اور جگہ وہ صاف صاف کہتے ہیں،

مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حذر کر
فطرت کا ہے ارشاد کہ ہر شب کو سحر کر

اقبال نے مغربی تہذیب کی جو مخالفت کی ہے اس کی وجہ سیاسی ہے اقبال کے زمانے میں ہندوستان میں دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک وہ جو مغربی معاشرے کی ہر بات کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ یہ قدامت پرستوں کا طبقہ تھا جسے اپنی تہذیب پر فخر تھا چاہے وہ اچھی ہو یا بری ، دوسرا طبقہ اپنے آپ کو روشن خیال سمجھتے ہوئے مغرب کی تقلید کو اپنی زندگی کی معراج سمجھتا تھا۔ خصوصاً جو لوگ یورپ سے ہو کر آئے تھے ان کی آنکھیں وہاں کی چکاچوند سے چندھیا جاتی تھیں۔ ہاں ان میں اقبال جیسے لوگ بھی تھے جو مغرب جاکر وہاں سے مرعوب ہو کر نہیں آئے تھے۔ بلکہ اُس کی خوبیوں اور خامیوں کے بارے میں واضح نقطہ نظر کے حامل ہو کر وطن واپس لوٹے تھے۔ لیکن ایسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ مغرب سے مرعوب حضرات جب وطن واپس آئے تو انہیں مغرب کا ہر گوشہ فردوس کی مانند نظر آتا ہے۔ اقبال کو صرف یہ دکھ نہیں تھا کہ ہندوستان انگریزوں کی غلامی قبول کر چکا ہے بلکہ اُسے اس بات کا رنج تھا کہ تمام عالم اسلام یورپی اقوام کی ہوس گیری کا شکار ہوگیا ہے۔ اس بات نے اقبال کے دل میں مغربی تہذیب کے خلاف نفرت کے جذبات بھر دئیے ورنہ اقبال نے اُس کے روشن پہلوئوں کی جابجا تعریف کی ہے۔

 اقبال کے نزدیک مغربی تہذیب کی خامیاں

مغربی تہذیب سے مراد وہ تہذیب ہے جو گذشتہ تین سو سال سے یورپ میں پیدا ہوئی اور جن کی بنیاد عقلیت ، مادیت اور سائنسی ترقی پر ہے اقبال نے یورپی تہذیب کی خامیوں کو کھل کر آشکارہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی نظر میں اس تہذیب کی بڑی بڑی خامیاں حسبِ ذیل ہیں۔

وہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندانِ مغرب کو
ہوس کی پنجہ خونیں میں تیغ کار زاری ہے
تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا
جہاں میں جس تمدن کی بناءسرمایہ داری ہے

یہ پیر کلیسا کے کرامات ہیں آج
بجلی کے چراغوں سے منور کئے افکار
جلتا ہے مگر شام و فلسطیں پر مرادل
تدبیر سے کھلتا نہیں یہ عقدہ دشوار

 مادیت

اقبال کے نزدیک اس تہذیب کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ مادی ترقی اور کسبِ زر کو زندگی کی معراج سمجھتی ہے انسانی اخلاق اور روحانی اقدار کی ان کی نظر میں کوئی قیمت نہیں۔ چنانچہ انسانی زندگی میں توازن ، اعتدال اور ہم آہنگی قائم نہ رہ سکی۔

یورپ میں بہت ، روشنی علم و ہنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمہ حیواں ہے یہ ظلمات
یہ علم ، یہ حکمت ، یہ تدبر ، یہ حکومت
پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساوات

اقبال فرماتے ہیں کہ میں مشرق و مغرب کے مےخانوں سے خوب واقف ہوں مشرق میں ساقی نہیں اور مغرب کی صبا بے مزہ ہے ۔ جب تک ساقی کی حوصلہ مندیاں اور ذوق صبا ایک جگہ جمع نہ ہو جائیں ۔ اس وقت تک مےخانہ حیات آباد و بارونق نہیں ہو سکتا ۔ مشرق اور مغرب کی موجودہ ذہنیت کا نقشہ وہ ان الفاظ میں کھینچتا ہے۔

بہت دیکھے ہیں میں نے مشرق و مغرب کے مےخانے
یہاں ساقی نہیں پیدا وہاں بے ذوق ہے صبا

اقبال کے خیال میں تہذےب حاضر نے جھوٹے معبودوں کا خاتمہ کیا ہے لیکن اس کے بعد اثبات حقیقت کی طرف اس کا قدم نہیں اُٹھ سکا ۔ اس لئے اس کی فطرت میں ایک واویلا پیدا ہو رہا ہے۔

دبا رکھا ہے اس کو زخمہ ور کی تیز دستی نے
بہت نیچے سروں میں ہے ابھی یورپ کا واویلا

اس مادہ پرستی نے یورپ کو اخلاقی انحطاط سے دوچار کیا ہے۔ اسے خبر نہیں کہ حقیقی راحت مادی اسباب میں نہیں روحانی بلندی میں ہے۔

ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش ِ جہاں کا دوام
وائے تمنائے خام ، وائے تمنائے خام

سائنسی ترقی نے مغرب کی مادی حیثیت سے غیر معمولی طاقت بخش دی ہے اور اُسے ظاہری شان و شوکت سے مالا مال کیا لیکن انسانیت کے اصلی جوہر کو نقصان پہنچایا یہ علوم و فنون انسان کو حقیقی راحت اور آسودگی پہنچانے کے بجائے اُس کی موت کا پروانہ بن گئے۔ انہی آثار کو دیکھ کر اقبال نے پیشن گوئی کی کہ،

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخ ِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

اقبال کو مغربی تہذیب سے یہی شکایت ہے کہ وہ ظاہری اور خارجی فلاح و بہبود پر نظر رکھتی ہے اور روح کی پاکیزگی اور بلندی کا کوئی دھیان نہیں کرتی۔ حالانکہ یہی انسانی افکار و اعمال کا سرچشمہ ہے یورپ نے عناصر ِ فطرت کوتو تسخیر کر لیا لیکن روحانی نشوو نما اور صفائی قلب کی طرف توجہ نہ دے سکا۔

ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
اپنی حکمت کے خم و پیچ میں الجھا ایسا
آج تک فیصلہ نفع و ضرر کر نہ سکا
جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شب تاریک سحر کر نہ سکا

مغرب میں اخلاقی اور روحانی اقدار سے روگردانی کا سبب یہ بنا کہ سائنس کے انکشافات قدم قدم پر ان کے جامد دینی عقائد سے ٹکراتے تھے ۔ علم کی روشنی نے ان جامد عقائد کو متزلزل کیا تو و ہ مذہب اور مذہب کی پیش کردہ روحانی اقدار سے ہی منکر ہوگئے مادی اسباب کی فراوانی نے تعیش اور خود غرضی کو فروغ دیا۔ عورت کو بے محابا آزادی مل گئی اور معاشرہ میں فساد برپا ہوگیا۔ روحانی اور اخلاقی اقدار کی غیرموجودگی میں مےخواری ، عریانی ، سود خوری ، اور اخلاقی پستی نے جنم لیا اور ان امراض نے یورپی تہذیب کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا۔ اقبال کو اسی لئے ایوان ِ فرنگ سست بنیاد نظر آیا تھا اور وہ اسے ایک سیل بے پناہ کی زد میں سمجھتے تھے۔

پیر مےخانہ یہ کہتا ہے کہ ایوانِ فرنگ
سست بنیاد بھی ہے آئےنہ دیوار بھی ہے
خبر ملی ہے خدایان ِ بحر و بر سے مجھے
فرنگ رہگزر سیلِ بے پناہ میں ہے

خود بخود گرنے کو ہے پکے ہوئے پھل کی طرح
دیکھے پڑتا ہے آخر کس کی جھولی میں فرنگ

اس کا یہ مطلب نہیں کہ اقبال مادی ترقی کے سرے سے مخالف ہیں ،شیخ محمد اکرام ”موج کوثر“ میں لکھتے ہیں، ”اقبال پنڈت جواہر لال نہرو کے جواب میں کہتا ہے ”اسلا م کی روح مادے کے قریب سے نہیں ڈرتی ، قرآن کا ارشاد ہے کہ تمہارا دنیا میں جو حصہ ہے اس کو نہ بھولو۔“

  عقلیت پرستی

اقبال کے نزدیک مغربی تہذیب کی ایک خامی یہ بھی ہے کہ اس کی بنیاد عقلیت پرستی پر ہے یہ عجیب بات ہے کہ جدید ترین تمدن انسانی افعال و افکار کو عقل کے علاہ کسی اور کسوٹی پر پرکھنے کے لئے تیار نہیں۔ اقبال کے نزدیک عقل حقیقت تک پہنچنے کا کوئی موزوں پیمانہ نہیں اس ناموزوں پیمانے سے حاصل شدہ نتائج ہمارے لئے حتمی درجہ نہیں رکھتے ۔ اگرچہ مغرب کے سارے فلسفی عقل پرستی کا شکار ہیں لیکن اقبال اس کے مخالف ہیں۔

عذاب دانش حاضر سے باخبر ہوں میں
کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثلِ خلیل

نئی تہذیب کی بد قسمتی ہے کہ اس نے عقل کو بے لگام چھوڑ دیا ہے۔ کہ وہ قافلہ انسانی کو جس طرف چاہے لے جائے عقل یقینا زندگی کا بیش بہا جوہر ہے لیکن اس جوہر کی باگیں عشق کے ہاتھ میں ہونی چاہیں عقل و عشق کی معاونت سے اچھے نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔

 سائنس کی ہلاکت آفرینی

اقبال کے نزدیک مغربی تہذیب کی ایک خامی یہ بھی ہے کہ اس کے فرزندوں نے مظاہر فطرت کو تسخیر کرکے اپنے فائدے کو پیش نظر رکھا لیکن بحیثیت مجموعی انسانیت کے لئے ہلاکت آفرینی کے اسباب پیدا کئے ۔ مغربی ممالک بے پناہ قوت حاصل کرنے کے بعد کمزور ممالک کو اپنی ہوس کا شکار بنانے پر تل گئے مغرب والوں نے کارخانے بنائے جو سرمایہ داروں کے ہاتھ آگئے اور مزدور ایک دوسری قسم کی غلامی میں آزادی سے محرو م ہوگئے۔نئی تہذیب کے پرور دہ تاجرانِ فرنگ کے اسی رویے کے خلاف اقبال یہ کہہ کر احتجاج کیا۔

جسے کساد سمجھتے ہیں تاجرانِ فرنگ
وہ شے متاعِ ہنر کے سوا کچھ اور نہیں


مشرق کے خداوند سفیرانِ فرنگی
مغرب کے خداوند درخشندہ فلذات
ظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جوا ہے
سود ایک کا لاکھوں کے مرگ مفاجات
ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

اقبال سائنسی ترقی کے خلاف نہیں وہ خود تسخیر کائنات کے مبلغ ہیں انہیں شکایت ہے کہ مغرب نے فطرت کو تو اپنے بس میں کر لیا ہے لیکن اس سے صحیح معنوں میں کام نہیں لیا۔ اور وہ کام ہے انسانیت کی خدمت۔

 

 مغربی تہذیب کی خوبیاں

بعض نقادوں کے نزدیک اقبال کا نقطہ نظر مغربی تہذیب کی نسبت یکسر مختلف ہے۔ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کا یہ کہنا درست نہیں کہ ” کہ اقبال کو مغربی تہذیب میں خوبی کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا۔“ یہ رائے اقبال کے حق میں منصفانہ نہیں ہے اقبال نے تو مغربی تہذیب کی خامیوں کے ساتھ ساتھ اس کی خوبیوں کا بھی اعتراف کیا ہے۔مثلاً

اہل مغرب کی سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کے وہ بے حد معترف تھے اور چاہتے تھے کہ مسلمان بھی اس میدان میں ان کی تقلید کریں ان کے نزدیک سائنس پر اہل فرنگ کی اجارہ داری نہیں ہے بلکہ ایک لحاظ سے یہ مسلمانوں کی گم شدہ متا ع ہے۔ جسے حاصل کرنا ان کا فرض ہے تسخیر کائنات کے لئے کی جانے والی سائنسی ایجادات کو وہ بہت تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں چنانچہ اقبال سائنس کوفرنگی زاد نہیں مسلمان زاد بتاتے ہیں۔

حکمت اشیاءفرنگی زاد نیست
اصل اور جز لذتِ ایجاد نیست
نیک اگر بینی مسلماں زادہ است
ایں گلے از دست ما افتادہ است

اقبال نے مغرب کی عقل پرستی اور مادہ پرستی کی غلامی پر سخت تنقید کی ہے۔ کیونکہ زندگی کو صرف عقل اور مادہ تک محدود کر لیاجائے تو انسانیت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا ۔ وہ اس افادی نقطہ نظر کے مخالف ہیں جو ہر قیمت پر صرف اپنا فائدہ دیکھتا ہے اور دوسروں کے نقصان کی پرواہ نہیں کرتا۔ مگر اس بات کے وہ قائل ہیں کہ عملی زندگی کے لئے مادی ترقی کی بھی ضرورت ہے اور عقل بھی بڑا قیمتی جوہر ہے وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ عقل اور مادہ کی ترقی اور کار گزاریوں پر روحانی اور اخلاقی پابندیاں عائد ہوں ورنہ مادی ترقیوں اور عقل کے کارناموں کے وہ معترف ہیں اور ان کی تحسین کرتے ہیں۔

یورپی علم و ہنر نے اہل فرنگ کی تمدنی زندگی کو جو ظاہری صفائی اور سلیقہ مدنی عطا کی اسے بھی اقبال قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہیں افرنگ کا ہر وہ قریہ فردوس کی مانند نظر آتا ہے۔ اور ان کا جی چاہتا ہے کہ ہمارے شہر بھی اسی طرح جنت منظر بن جائیں۔

اقبال اہل یورپ کی سود خوری ، میخواری ، عریانی ، بے حیائی اور مادر پدر آزادی کے تو سخت مخالف ہیں لیکن وہاں کی بہت سی اخلاقی خوبیوں کی تعریف بھی کرتے ہیں۔ اہل یورپ کی محنت کی عادت ، ایفائے عہد، پابندی وقت ، کاروباری دیانت اور اسی قسم کی اخلاقی خوبیوں کے باعث انہیں یورپ کے کفار اپنے ہاں کے مسلمانوں کی نسبت اسلام کے زیادہ پابند نظر آتے ہیں یورپ نے زندگی کی جو نعمتیں حاصل کی ہیں ان کے نزدیک وہ انہی اسلامی اُصولوں پر کاربند رہنے کا نتیجہ ہیں اور یہی اسلامی خوبیاں ہیں جو یورپ میں پائی جاتی ہیں مگر ہم مسلمان ان سے محروم ہیں۔

 

اندھی تقلید کی مذمت

اقبال نے مغربی تہذیب اور علوم کا گہری نظر سے مطالعہ کیا تھاوہ مغربی معاشرہ کی خامیو ں اور خوبیوں سے اچھی طرح آگاہ تھے۔ چنانچہ انہوں نے مغربی تہذیب کی خامیوں پر نکتہ چینی کرنے کے ساتھ ساتھ ان مشرقی رہنمائوں کی بھی مذمت کی ہے جو مغرب کی اندھی تقلید کو شعار بنا کر ترقی یافتہ قوموں کے زمرہ میں شامل ہونے کی خوش فہمی میں مبتلا تھے۔ انہوں نے مغرب کی حقیقی خوبیوں کو چھوڑ کر صرف ظاہری باتوں کو اپنا لیا ، اور ضروری اور غیر ضروری میں کوئی تمیز روا نہیں رکھی۔

اس قسم کے تجدید اور ترقی کی کوششیں مصر ، ترکی، ایران اور افغانستان میں ہوئیں، مصطفی کمال پاشا نے ترکی میں خلافت کو ختم کر دیا۔ فقہی امور میں قران کو بالائے طاق رکھ دیا ۔ علماءکو یہ تیغ کرا دیا۔ عربی رسم الخط ترک کر کے لاطینی رسم الخط اختیا ر کر لیا اور بذعم خود اپنے ملک کو ترقی یافتہ بنا دیا۔ امیر امان اللہ خان نے افغانستان اور رضاشاہ نے ایران کو بھی اسی طرح جدید طرز کا ملک بنا نا چاہا۔ ان سب رہنمائوں نے ظاہری اُمور کو کافی سمجھا اور یہ کوشش نہ کی کہ اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کی اچھائیوں کی اساس پر ایک نئی تہذیب کی بنیاد رکھے۔ اقبال نے اسی رویہ کی مذمت کی ہے۔

نہ مصطفےٰ نہ رضا شاہ میں ہے اس کی نمود
کہ روح شرق بد ن کی تلاش میں ہے ابھی

اقبال کو اس بات کو بہت رنج ہے کہ مشرقی ممالک اپنی نا سمجھی کے باعث تہذیب ِ مغرب کی اندھی تقلید کے پھندے میں پھنستے چلے جا رہے ہیں اس غفلت پر وہ اس طرح نوحہ کرتے ہیں۔

پختہ افکار کہاں ڈھونڈنے جائے کوئی
اس زمانے کی ہوا رکھتی ہے ہر چیز کو خام

اقبال کو اپنے ہم وطنوں سے بھی یہی شکوہ ہے وہ مغرب کی تقلید کو ترقی کا زینہ سمجھتے ہیں حالانکہ ترقی کے لئے لباس کی خاص وضع قطع اور اپنی زبان چھوڑ کر بدیسی زبان اختیار کر لینا۔ اور عورتوں کو بے پردہ کر دینا اور شراب و چنگ کا سہارا لینا ضروری نہیں بلکہ یہ تو وہ راستہ تھا جو ہمیں تہذیبی اور فکری اعتبار سے مفلس بنا رہا تھا۔ اوراسی ذریعہ سے مغربی اقوام سےاسی غلامی کے ساتھ ساتھ ہم پر اپنی ذہنی غلامی بھی مسلط کر رہے تھے۔

قوت مغرب نہ از چنگ و رباب
نے زرقص دخترانِ بے حجاب

  اقبال کی پسندیدہ تہذیب

اقبال کو مغربی تہذیب میں اگر کچھ خامیاں نظر آتی ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ملتِ اسلامیہ اور اسکی مروجہ تہذیب سے خوش ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انھیں اپنی قوم میں بہت سی خامیاں نظرآتی ہیں وہ دیکھتے ہیں کہ اس قوم کے آگے کوئی مقصد یا نصب العین نہیں، ان کے دل گرمی ، تڑپ اور حرارت سے محروم ہیں۔دین کا نام لینے والے تو بہت ہیں لیکن دین کے اصولوں پر چلنے والے بہت کم ہیں۔ اسے نہ راستے کا پتہ ہے اور نہ منزل کا چنانچہ حال یہ ہے کہ،

تیرے محیط میں کہیں گوہر زندگی نہیں
ڈھونڈ چکا میں موج موج ، دیکھ چکا صدف صدف

اگرچہ اقبال مشرق و مغرب دونوں کی موجودہ حالت سے مایوس ہیں لیکن اُسے ایک امید ہے کہ مسلمان قوم کے پاس دین اسلام کی شکل میں ایک ایسا لائحہ عمل ہے جس کی مدد سے وہ زندگی کی دوڑ میں مغربی اقوام سے آگے بھی بڑھ سکتے ہیں۔ اور اپنی اصلاح بھی کر سکتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ وہ جدید مغربی علوم و فنون سے بھی واقف ہوں اور اپنے ورثے سے بھی بیگانہ نہ ہوں۔

  مجموعی جائزہ

مختصر یہ کہ یہی وہ تہذیب ِاسلامی ہے جس کے اقبال آرزو مند ہیں ۔ اس تہذیب کے عناصر میں اخوت ، مساوات، جمہوریت ، آزادی ، انصاف پسندی ، علم دوستی ، احترام انسانی، شائستگی ، روحانی بلندی اور اخلاقی پاکیزگی شامل ہیں اور ان کی بنیاد پر یقینا ایک صحت منداور متوازن معاشرہ کا خواب دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ صالح عناصر ظاہر ہے کہ موجودہ مغربی تہذیب میں موجود نہیں اس لئے اقبال اس کی مخالفت زیادہ اور تعریف کم کرتے ہیں۔

وہ آنکھ کہ ہے سرمہ افرنگ سے روشن
پرکار سخن ساز ہے! نمناک نہیں ہے

حیات تازہ اپنے ساتھ لائی لذتیں کیا کیا
رقابت خود فروشی ، ناشکیبائی ، ہوسناکی

اقبال کا تصور تعلیم

اردو میں تعلیم کا لفظ، دو خاص معنوں میں مستعمل ہے ایک اصطلاحی دوسر ے غیر اصطلاحی ، غیر اصطلاحی مفہوم میں تعلیم کا لفظ واحد اور جمع دونوں صورتوں میں استعمال ہو سکتا ہے اور آدرش ، پیغام ، درسِ حیات، ارشادات، ہدایات اور نصائح کے معنی دیتا ہے۔ جیسے آنحضرت کی تعلیم یا تعلیمات ، حضرت عیسیٰ کی تعلیم یا تعلیمات اور شری کرشن کی تعلیمات، کے فقروں میں ، لیکن اصطلاحی معنوں میں تعلیم یا ایجوکیشن سے وہ شعبہ مراد لیا جاتا ہے جس میں خاص عمر کے بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما، تخیلی و تخلیقی قوتوں کی تربیت و تہذیب ، سماجی عوامل و محرکات ، نظم و نسق مدرسہ، اساتذہ ، طریقہ تدریس ، نصاب ، معیار تعلیم ، تاریخ تعلیم ، اساتذہ کی تربیت اور اس طرح کے دوسرے موضوعات زیر بحث آتے ہیں۔

علامہ اقبال کے تعلیمی تصورات یا فلسفہ تعلیم کے متعلق کتب و مقالات کی شکل میں اب تک جو کچھ لکھا گیا ہے اس میں تعلیم کے اصطلاحی مفہوم سے کہیں زیادہ تعلیم کے عام مفہوم کوسامنے رکھاگیا ہے۔ یعنی جو کچھ لکھا گیا ہے اس میں درس و تدریس ، تعلیم یا طلبہ و مدارس کے توسط سے پیدا ہونے والے مسائل سے بحث کرنے کے بجائے عام طور پر وہی باتیں کہی گئی ہیں جواقبال کے فکرو فن یا فلسفہ خودی و بےخودی یا تصور فرد و جماعت کے حوالے سے ، ان کو ایک بزرگ مفکر یا عظیم شاعر ثابت کرنے کے لئے کہی جاتی ہیں ، حالانکہ ان باتوں کا تعلق ، تعلیم کے اصطلاحی مفہوم سے نہیں بلکہ تعلیم کے اس عام مفہوم سے ہے جس کے دائرے میں ہر بزرگ اور صاحبِ نظر فلسفی یا شاعر کا پیغام درس حیات آ جاتا ہے۔

مانا کہ اقبال کے تصور ِ تعلیم کے ضمن میں ایسا کرنا بعض وجوہ سے ناگزیر ہے اور اقبال کے مقاصد ِتعلیم کے تعین کے سلسلے میں ان کے فلسفہ خودی و بےخودی یا فلسفہ حیات کو بحرحال سامنے رکھنا پرتا ہے۔ لیکن اقبال کے عام فلسفہ حیات کو اصطلاحی معنوں میں تعلیم یا فلسفہ تعلیم سے تعبیر کرنا یا محض ان دلائل کی بنیاد پر انہیں ایک عظیم مفکر تعلیم یا ماہر تعلیم کہنا مناسب نہیں معلوم ہوتا ۔ اس لئے کہ بقول قاضی احمد میاں اختر جو نا گڑھی،

” اقبال نہ تو فن ِ تعلیم کے ماہر تھے نہ انہوں نے اس فن کی تحصیل کی تھی، نہ اس موضوع پر انہوں نے کوئی کتاب لکھی بجز اس کے کہ کچھ مدت تک بحیثیت پروفیسر کالج میں درس دیتے رہے کوئی مستقل تعلیمی فلسفہ انہوں نے نہیں پیش کیا۔“

با ایں ہمہ ، اقبال کے تعلیمی افکا ر سے کلیتاً صرف نظر نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نے تعلیم کی فنی اور عملی صورتوں پر غور کیا ہے مسائل تعلیم کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا ہے۔ اپنے فلسفہ حیات میں مناسب جگہ دی ہے۔ تعلیم کے عام معنی و اثرات پر روشنی ڈالی ہے اس کے ڈھانچے اغراض اور معیار کو موضوع گفتگو بنایا ہے اور اپنے عہد کے نظام ِ تعلیم پر تنقیدی نگاہ ڈالی ہے۔ مدرسہ ، طلبہ ، اساتذہ اور نصاب ، سب پر اظہار خیال کیا ہے صرف مشرق نہیں ، مغرب کے فلسفہ تعلیم اور نظام ِ کار کو بھی سامنے رکھا ہے۔ دونوں کا ایک دوسرے سے مقابلہ کیا ہے ان کے درمیان حد ِ فاضل کھینچی ہے۔ خرابیوں اور خوبیوں کا جائزہ لیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ زندگی کو کامیاب طریقے سے برتنے اور اس کی مزاحمتوں پر قابو پالینے کے لئے کس قسم کی تعلیم اور نظام تعلیم کی ضرورت ہے۔

افراد اور اقوام کی زندگی میں تعلیم و تربیت کو وہ بنیادی اہمیت حاصل ہے کہ افراد کی ساری زندگی کی عمارت اسی بنیاد پر تعمیر ہوتی ہے اور اقوام اپنے تعلیمی فلسفہ کے ذریعہ ہی اپنے نصب العین ، مقاصد ِ حیات، تہذیب و تمدن اور اخلاق و معاشرت کا اظہار کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال نے قومی زندگی کے اسی اہم پہلو پر گہرا غور و خوص کیا ہے۔ اور اپنے افکار کے ذریعہ ایسی راہ متعین کرنے کی کوشش کی ہے جو ایک زندہ اور جاندار قوم کی تخلیق کا باعث بن سکے۔

ابتداءمیں تو اقبال نے قوم کے تعلیمی پہلو پر کوئی خاص توجہ نہیں دی ۔ خاص طور پر اپنی شاعری کے پہلے اور دوسرے دور میں اس موضوع پر انہوں نے کچھ نہیں لکھا البتہ آخر میں انہوں نے اس قومی پہلو کو بھر پور اہمیت دی۔ اور ” ضرب کلیم‘ میں تو ”تعلیم و تربیت“ کا ایک مستقل عنوان قائم کیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی جابجا ایسے اشعار ملتے ہیں ۔جن میں صحیح تعلیم اور اس کے مقاصد کی نشاندہی کی گئی ہے۔بقول ڈاکٹر سید عبداللہ،

” اقبال نے تعلیم کے عملی پہلوئوں پر کچھ زیاد ہ نہیں لکھا مگر ان کے افکار سے ایک تصور تعلیم ضرور پیدا ہوتا ہے۔ جس کو اگر مرتب کر لیاجائے تو اس پر ایک مدرسہ تعلیم کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔“

 

 مروج نظام ہائے تعلیم

اقبال نے زمانے میں دو نظام تعلیم ملک میں پہلو بہ پہلو رائج تھے ایک تو قدیم دینی نظام ِ تعلیم تھا جو مذہبی مدارس میں رائج تھا۔ یہ صدیوں سے ایک ہی ڈگر پر چلا آرہا تھا۔ وقت کے تقاضوں نے اس میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی تھی اور اس کے باوجود اسے اپنی جگہ مکمل سمجھا جاتا تھا۔ دوسرا نظام حکمران انگریز قوم کا رائج کردہ تھا جو لارڈ میکالے کے فکر کی پیداوار تھا اس کا مقصد نوجوانوں کو حصول ِ علم میں مدد دینے ۔ انتظامی مشینر ی کے کل پرزے ڈھانچے کے علاوہ ایسی نسل تیار کرنا تھا جو ذہناً اپنے ملک و قوم کے بجائے حکمران قوم سے وابستہ ہو۔

ان دو نوں نظاموں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو ملک اور قوم کی امنگوں اور مقاصد کی ترجمانی کرنے کی اہمیت رکھتا ہو۔ چنانچہ اقبال نے ان پر بھر پور تنقید کی ہے

 

قدیم دینی مدارس کی جامد تعلیم

اقبال نے دیکھا تھا کہ قدیم دینی مدارس میں قرآن و حدیث کی تعلیم جس طریقہ سے دی جاتی ہے۔ وہ طلباءکو ارکانِ اسلام اور فقہی مسائل سے تو آگا ہ کر دیتی ہے لیکن وہ دین کی روح سے آشنا نہیں ہوتے ، مشاہدہ کائنات اور تسخیر کائنات کے مضامین کا ان کے نصاب سے کوئی تعلق نہیں ہے ان مدارس کے فارغ التحصیل طلباءزندگی کے گوناگوں مسائل کو سمجھنے اور انہیں حل کرنے کی صلاحیت سے عاری رہتے ہیں۔ اور بدلتے ہوئے زمانہ کے تقاضوں کا جواب نہیں دے سکتے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نظام تعلیم نے کئی بڑے علما ءبھی پیدا کئے جنہوں نے دینِ حق کو زندہ رکھنے کی خدمت انجام دی لیکن ان مدرسوں کے تربیت یافتہ زیادہ تر لوگ وہی تھے جنہیں ”ملا“ کہا جاتا ہے۔ اور جن کی خصوصیات میں تنگ نظری ، تعصب، جہالت اور رجعت پسندی نمایاں رہی ہیں۔ اقبال نے”بال جبریل “ میں ایک نظم ”مُلا“ انہی کو پیش نظر رکھ کر لکھی ہے۔

میں بھی حاضر تھا وہاں ضبط سخن کر نہ سکا
حق سے جب حضر ت مُلا کو ملا حکم ِ بہشت
عرض کی میں نے الہٰی میری تقصیر معاف
خوش نہ آئیں گے اسے حور و شراب و لب کشت

مُلا سے اقبال اس لئے بیزار ہیں کہ اس کے پاس دین ہے دین کی حرارت نہیں ، وہ دین کی روح سے بےگانہ ہوگیا ہے۔ اس کی نماز ، روزہ ، سب رسمی بن گئے ہیں اور حیات کے ان اعلیٰ مقاصد تک اس کی پہنچ نہیں رہی جو دین کا نصب العین ہیں ،

اُٹھا میں مدرسہ و خانقا ہ سے غمناک
نہ زندگی ، نہ محبت، نہ معرفت نہ نگاہ

تیری نماز میں باقی جلال ہے نہ جمال
تیری اذان میں نہیں ہے مری سحر کا پیام

قوم کیا چیز ہے ، قوموں کی امامت کیاہے
اس کو کیا سمجھیں یہ بےچار ے دو رکعت کے امام

اقبال کو دینی عالموں سے جو توقع ہے اور ان کے علم کا جو تقاضا ہے وہ اپنی قوم کے نوجوانوں کی اصلاح اور صحیح تعلیم و تربیت ہے اسی لئے وہ تما م تر مایوسی کے باوجود دعوت دیتے ہیں،

اللہ رکھے تیرے جوانوں کو سلامت
دی ان کو سبق خود شکنی خود نگر ی کا

 

 جدید انگریزی مدارس کی گمراہ تعلیم

قدیم دینی مدارس کی جامد ، بے روح اور زمانہ کے تقاضوں سے نا آشنا تعلیم کے ساتھ اقبال جدید انگریز ی تعلیم سے بھی نالاں تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ تعلیم سراسر مادیت پر مبنی تھی اور دین و مذہب سے اس کا کوئی واسطہ نہیں تھا۔ ان کی نظر میں یہ نظام ِ تعلیم دین کے خلاف ایک بہت بڑی سازش تھی جوانوں کو اعلیٰ اسلامی اقدار سے محروم کر رہی تھی۔ یہ تعلیم ضرورت سے زیادہ تعقل زدہ تھی اس نے الحاد اور بے دینی پھیلانے کی بھر پور کوشش کی ہے جسے اقبال نفر ت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر
لب خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ

اور یہ اہلِ کلیسا کا نظام ِ تعلیم
ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف

اقبال رسمی اور جامد تعلیم سے اس قدر نالاں نہیں جتنے جدید مغربی تعلیم سے ہیں مغربی تعلیم کے بارے میں وہ بہت تلخ ہیں اس کی کئی وجوہ ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔

 

 مذہب سے بیزاری

مغربی تعلیم کی بنیاد ہی مادیت پر ستی ہے وہ عقل پرستی ، تن پروری ، تعیش و آرام کی دلدادگی کا سبق دیتی ہے اس سے مسلمان نوجوانوں کے عقائد متزلزل ہو جاتے ہیں مغربی تہذیب کی اندھی تقلید ان سے ان کا نصب العین چھین لیتی ہے اور انہیں اندھیروں میں بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیتی ہے یہ بے دینی اور الحاد انہیں احساس ِ کمتری میں مبتلا کر دیتی ہے اور ان شاہیں بچوں کو خاکبازی کا سبق دے کر انہیں توحید کے نظریہ سے دور لے جاتی ہے۔

گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا
کہاں سے آئے صدا لاالہ الا اللہ

شکایت ہے مجھے یا رب خُداوندانِ مکتب سے
سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا

ترے صوفے ہیں افرنگی ، ترے قالین ایرانی
لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی

 

بے مقصدیت

مغربی تعلیم کی روح بلند مقاصد سے خالی ہے اس کا نصب االعین صرف معاش کا حصول ہے اور یہ نوجوانوں کو پیٹ کا غلام بنا کر اسے دنیاوی لذتوں میں اُلجھا دیتی ہے اس طر ح بلند مقاصد سے وہ بالکل عاری ہو جاتے ہیں۔

وہ علم نہیں زہر ہے احرار کے حق میں
جس علم کا حاصل ہو جہاں ِ میں دو کفِ جو

عصر حاضر ملک الموت ہے تیرا جس نے
قبض کی روح تری، دے کے تجھے فکر معاش
فیض فطر ت نے تجھے دیدہ شاہیں بخشا
جس میں رکھ دی ہے غلامی نے نگاہِ خفاش

 احساس کمتری

مغربی تعلیم نوجوانوں کو اپنی قومی تاریخ و روایات سے بیگانہ کرکے مغربی طرز معاشرت رفتار و گرفتا ر اور طرزِ حیات کا دلدادہ بنا دیتی ہے۔ اور مغرب کے جھوٹے میعار ، جھوٹے نظریات اور جھوٹی اقدار کی چمک دمک ان کی نگاہوں کو خیر ہ کر دیتی ہے اس طرح وہ اپنی فطری حریت ، دلیری ، شجاعت اور بلند پروازی کو چھوڑ کر ایک احساس ِ کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ مغرب کی بھونڈی تقلید کی کوشش میں وہ مغرب کی خرابیوں کو اپنا لیتے ہیں اور خوبیوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔

یہ بتانِ عصر ِ حاضر کہ بنے ہیں مدرسے میں
نہ ادائے کافرانہ ، نہ تراش ِ آزرانہ

  امومیت کی موت

مغربی تعلیم کا ایک بہت بڑا لمیہ یہ ہے اس نے عورت کو جذبہ امومیت سے بیگانہ کر دیا ہے۔ عورت اس فرض سے جان چرانے لگی ہے جونئی نسل کی تخلیق اور تعلیم و تربیت کی صورت میں قدرت نے اس کے سپرد کیا تھا یہ گویا قومی خود کشی کے مترادف ہے۔

جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن
کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت
بیگانہ رہے دیں سے اگر مدرسہ زن
ہے عشق و محبت کے لئے علم و ہنر موت

 

 استادوں کی گمراہی

مغربی تعلیم نے تدریس کی ذمہ داری جن لوگوں کے سپرد کی ہے وہ خود بے راہ ہیں ۔ وہ نہ ان علوم پر گہری نظر رکھتے ہیں جو وہ پڑھاتے ہیں اور نہ تعلیم کے حقیقی مقاصد سے آشنا ہیں اور جسے خود راہ کی خبر نہ ہوگی وہ دوسرے کی رہنمائی کیونکر کر سکتا ہے اقبال نے ”ضرب کلیم “ میں اساتذہ کے عنوان سے لکھا ہے۔

مقصد ہو اگر تربیت لعل و بدخشاں
بے سودہے بھٹکے ہوئے خورشید کا پرتو
دنیا ہے روایات کے پھندوں میں گرفتار
کیا مدرسہ ، کیا مدرسہ والوں کی تگ و دو
کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت
وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو

مختصر یہ کہ مغربی نظام تعلیم اقبال کی نظر میں سرتاپا بے مقصد اور لغو ہے اور قوم کے لئے زہر ِ ہلاہل کا اثر رکھتی ہے اس سے نوجوانوں کی تما م تر صلاحیتیں مفلوج ہو جاتی ہیں ۔ اور قوم اپنی راہ سے یکسر بھٹک جاتی ہے۔

  اقبال کا فلسفہ تعلیم

مروجہ دینی اور مغربی نظامہائے تعلیم کو ردکرنے کے بعد اقبال اپنی قوم کے نوجوانوں کے لئے ایک ایسے نظامِ تعلیم کے خواہاں ہوتے ہیں جو ان کی خودی کی تربیت کر سکے ان کا فلسفہ تعلیم ان کے فلسفہ خودی کے تابع ہے۔ڈاکٹر سید عبداللہ نے ”طیف اقبال “ نے اس سلسلہ میں کہا ہے،

” اقبال نے اپنے نظریہ تعلیم میں طریق کار کا سلسلہ تربیت خودی پر مبنی کیا ہے خودی کی تربیت کے لئے ایک ایسانظام درکار ہے جس میں کلیت پائی جائے جس میں حواس کی تربیت ، وجدان اور جذبے کی تربیت کا پہلو بھی ہو اور ان روحانی رشتوں کا احساس بھی جو نفس ِ انسانی میں قدرت کی طرف سے پائے جاتے ہیں تربیت خودی کے اس نظام کو اقبال نے ”اسرار خودی“ اور ”رموزبےخودی“ میں اچھی طرح بیان کیا ہے۔“

اس طرح اقبال ایسی تعلیم کے حق میں ہیں جو خودی کی تربیت کرے اور اسے استحکام بخشے اور جو تعلیم ایسا نہ کر سکے وہ ان کے نزدیک نہ صرف بیکار ہے بلکہ نقصان دہ

تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو
ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے اُسے پھیر

خودی ہو علم سے محکم تو غیر ت جبریل
خودی ہو عشق سے محکم تو صور اسرافیل

ایسی تعلیم جو اقبال کے اس معیار پر پوری اُترنے والی ہو وہ کیا ہو سکتی ہے اس سلسلہ میں اقبال نے خواجہ غلام حسین کے نام اپنے ایک ”خط“ میں وضاحت کی ہے۔

” علم سے میری مراد وہ علم ہے جس کا دارومدار حواس پر ہے عام طورپر میں نے علم کا لفظ انہی معنوں میں استعمال کیا ہے اس علم سے ایک طبعی قوت ہاتھ آتی ہے جس کو دین کے ماتحت رہنا چاہیے اگر دین کے ماتحت نہ رہے تو محض شیطانیت ہے ۔“

  علم کے دورذریعے

علم کے حصول کے دوذریعے ہیں ایک علم وہ ہے جو عقل اور حواس کے ذریعہ سے حاصل ہوتا ہے اور دوسرا وہ جس کی بنیاد ایمان اور وجدان پر ہے۔ اقبال کے نزدیک یہ دونوں باہم متصادم نہیں ہیں۔ بلکہ ان دونوں کا ارتباط ضروری ہے۔

جوہر میں ہو لاالہ تو کیا خوف
تعلیم ہو گو فرنگیانہ

 

 تعلیم کا مقصد

اقبال کے نزدیک دینی تعلیم بھی اتنی ہی ضروری ہے جس قدر دنیاوی تعلیم ، اور پھر دونوں کے درمیان گہرا ربط اور تعلق بھی لازمی ہے محض دینی یا صرف دنیاوی تعلیم اپنی جگہ کافی نہیں ، اور نہ انہیں علیحدہ رکھ کر بہتر نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اُن کے نزدیک تعلیم کا بنیادی مقصد تو یہی ہے کہ وہ انسان کی قلب ماہیت اور روحانی اصلاح کرکے اس کے اندر حفظِ خودی کی خوبیاں پیدا کردے ۔ اسے توحید ، علم ، عشق ، بلند ہمتی ، سخت کوشی ، پاک دامنی ، فقر ، رواداری ، اور درویشی قناعت جیسی صفات سے آراستہ کرکے ایک مثالی انسان بنا دے۔

علم از سامان حفظ زندگی است
علم از اسبابِ تقویم خودی است

 فیضانِ نظر

انسانیت کے بلند منصب کے لئے ضروری ،کتابی علوم کے علاوہ بزرگوں اور ان کے فیضانِ نظر کی تاثیر ہی وہ چیز ہے جو انسان کے قلب و نظر کی پرورش اور روشنی کے لئے لازمی چیز ہے اس کے بغیر مکتب کی تعلیم عموماً نا مکمل اور بے فائدہ رہتی ہے۔ او ر صاحب ِ قلب و نظر بزرگوں کی ایک نگاہ بعض اوقات ایسا کام کر جاتی ہے جو مدتوں کی مکتبی تعلیم بھی نہیں کر سکتی۔

یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی!

 

اقبال تعلیمی مضامین کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں اور اس کے نظام تعلیم کے خصوصیات یہ ہے کہ اس میں کلیت پائی جاتی ہے۔ مادے کو بھی روحانیت کو بھی ، خدا کو بھی ، انسان کو بھی اور نیچر کو بھی وہ سب چیزوں کو اپنی جگہ اہمیت دیتے ہیں۔

 

 دینی علوم اور سائنسی علوم

اقبال کے نزدیک دین اور سائنس دو الگ الگ مضمون نہیں بلکہ ایک ہی مضمون کے دو حصے ہیں کیوں کہ قران نے بار بار مسلمانوں کو مطالعہ کائنات اور تسخیر فطرت کی دعوت دی ہے اقبال کے خیا ل میںدینی علوم ، خدا، کائنات اور انسان تینوں کے مجموعی تشخص پر مشتمل ہیں اور انہیں الگ الگ نہیں کیا جا سکتا اسی تصور کے زیر اثر اقبال نے ایک ایسے نظام ِ تعلیم کاخاکہ پیش کیا ہے جس میں دین، سائنس اور حکمت کو ایک واحد مضمون کی حیثیت سے دیکھا گیا ہے۔

 

 فلسفیانہ علوم

اقبال حکمت و فلسفہ کے باب میں ایک طرف سائنسی فلسفیوں کے ہم خیال ہیں جو فلسفے کے تصورات کو سائنس کے تجربات و انکشافات سے ہم آہنگ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور دوسری طرف عینی ( آئیڈیا لسٹ ) فلسفیوں کے ہم رائے ہیں جو علم کے مقابلہ میں محض تعقل کو کافی نہیں سمجھتے اور ایک برتر سر چشمہ علم کی ضروت کو ناگزیر خیال کرتے ہیں یہی نقطہ نظر خالص سائنسی طریق کار کے متعلق ہے۔

 

 تاریخ و روایات

اقبال نے تاریخ و روایت یا روایات کو اپنے تصور ِ تعلیم میں خاص جگہ دی ہے۔ تاریخ انسانی کردار کی تعمیر ، ملت کی تنظیم اور حقائق کے انکشاف کا بہت بڑا ذریعہ ہے ۔ا قبال کی نظر میں جو قومیں اپنی تاریخ و روایات سے بیگانہ رہتی ہیں۔ وہ اپنی ہستی گو گم کر بیٹھتی ہیں۔اس کے علاوہ اقبال نے ادبیات و فنونِ لطیفہ پر ”ضرب کلیم “ میں ایک علیحدہ عنوان قائم کرکے کھل کر اظہار ِ خیال کیا ہے۔ وہ ان تمام فنون کو اپنے فلسفہ خود ی کے تابع گردانتے ہیں ان کے نزدیک وہی فن درست ہے جو قوتِ حیات کی ترجمانی کرے اور خودی کی نشوونما میں ممدو معاون ثابت ہو۔

 

 حاصل کلام

آخر تمام بحث کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اقبال کی نظر میں تعلیم کا حقیقی مقصد انسانی سیرت و کردار کی تعمیر کرکے اس کی تسخیر ِ حیات کی صلاحیت کو تقویت پہنچانا ہے اور اس کے ساتھ ہی خدا ، کائنات ، اور انسان کو ایک کلی نظام کی حیثیت سے دیکھنا ہے۔ چنانچہ محض مادی یا محض روحانی تعلیم کو مقصود ٹھہرا لینا درست نہیں ، روح اور مادہ کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا اور تعلیم کا فرض ہے کہ تن اور من دونوں کی ضروریات کو پیش نظر رکھے اور جسمانی اور روحانی تقاضوں کو یکساں اہمیت دے اس کے ساتھ ہی تعلیم کا مقصد انسان کو تسخیر کائنات کے لئے تیار کرنا بھی ہے اور اسے ایسے سانچے میں ڈھالنا بھی کہ وہ خود کو مفید شہری بنا کر صالح معاشرے کو وجود میں لانے میں مدد دے اور تعلیم کا آخری اور بڑا مقصد خودی کی تقویت اور استحکام ہے۔

جوانوں کو میری آہ سحر دے
پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر دے

سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کا م دنیا کی امامت کا

اقبال کا مرد مومن

اقبال کے افکار میں ”مرد مومن“ یا ”انسان کامل“کا ذکر جا بجا ملتا ہے۔ اس کے لئے وہ ” مرد حق“ ”بندہ آفاقی“ ”بندہ مومن“ ”مرد خدا“ اور اس قسم کی بہت سی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں حقیقتاً یہ ایک ہی ہستی کے مختلف نام ہیں جو اقبال کے تصور خودی کا مثالی پیکر ہے۔

نقطہ پرکار حق مرد خدا کا یقیں
اور عالم تم ، وہم و طلسم و مجاز

عالم ہے فقط مومن جانباز کی میراث
مومن نہیں جو صاحب ادراک نہیں ہے

ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ
غالب وکار آفریں ، کار کشا ، کارساز

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہےں تقدیریں

غرض یہ مثالی ہستی اقبال کو اتنی محبوب ہے کہ باربار اس کا ذکر کرتے ہیں اس سلسلہ میں جو سوالات اٹھائے گئے ہیں ان میں سے اہم یہ ہیں کہ اقبال نے مرد مومن ک تصور کو کہاں سے اخذ کیا ہے؟ ان کے مرد مومن کی صفات کیا ہیں؟ ان کا یہ تصور محض تخیلی ہے یا کوئی حقیقی شخصیت ان کے لئے مثال بنی ہے۔ ان سوالات کا جوابات ان کے کلام کے گہر ے مطالعے کے بعد دیا جا سکتا ہے۔

اس بارے میں مختلف آرا ءملتی ہیں کہ اقبال نے مرد مومن کا تصور کہاں سے اخذ کیاہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کی اساس خالصتاً اسلامی تعلیمات پر ہے اور اس سلسلہ میں اقبال نے ابن مشکویہ اور عبدالکریم الجیلی جیسے اسلامی مفکرین سے بھی استفادہ کیا ہے۔ ایک گروہ اس تصور کو مغربی فلسفی نیٹشے کے فوق البشر کا عکس بتاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اقبال نے خیال قدیم یونانی فلاسفرز سے حاصل کیا ہے۔ اور کچھ اسے مولانا روم کی دین قرار دیتے ہیں۔ اس لئے ان تمام مختلف اور متضاد آراءکے پیش نظر ضروری ہے کہ مرد مومن کے متعلق بات کرنے سے قبل ان افکار کا جائزہ لیا جائے جو مشرق اور مغرب میں اقبال سے قبل اس سلسلہ میں موجود تھے۔ اور اقبال نے ان سے کس حد تک استفادہ کیا اس کا انداز ہ بھی ہم بخوبی لگا سکیں گے۔