شہداء اقدار میں سے ہیں،
|
جو قومیں اپنی اقدار کی قدر نہیں کرتیں ذلالت ان کا مقدر بن جاتی ہے، شہداء اقدار میں سے ہیں، علامہ جواد نقوی
اسلام ٹائمز:جامعہ عروۃ الوثقیٰ کے پرنسپل اور ممتاز عالم دین نے کہا کہ علامہ عارف حسین الحسینی نے آج سے 25 برس قبل آج کے حالات کی پیش گوئی کر دی تھی۔ استعمار آج جو کچھ ہمارے ملک میں کر رہا ہے اس کی منظر کشی علامہ شہہید کر چکے تھے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ استعمار کو ملک سے نکال دیا جائے ورنہ یہ پورے ملک پر قابض ہو جائے گا اور آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے حکمران بھی استعمار کے اوزار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ہماری ملت سو چکی ہے اور اس کو اوزار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ |
لاہور:اسلام ٹائمز۔ جو قومیں اپنی اقدار کی قدر نہیں کرتیں ذلالت ان کی قسمت میں لکھ دی جاتی ہے، ہماری قوم آج رسوا ہو رہی ہے اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم نے اپنی اقدار کو اپنی آنکھوں کے سامنے پامال ہوتے دیکھا اور خاموش رہے، جس کی سزا آ ج ہم بھگت رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار جامعہ عروۃ الوثقیٰ کے پرنسپل اور ممتاز عالم دین علامہ سید جواد نقوی نے جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی 23 ویں برسی کی مناسبت سے سیمینار بعنوان ’’شہداء۔۔۔اقدار یا اوزار‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
علامہ جواد نقوی نے کہا کہ پانچ اگست ملت تشیع پاکستان کی بیداری کا دن ہے۔ دین، خدا، ولایت، امامت اور راہ شہید سے عہد کا دن ہے۔ امام خمینی (ر) نے حکم دیا تھا کہ ملت تشیع پاکستان شہید عارف حسین کے افکار کو زندہ رکھیں مگر ہم نے امام (ر) کے اس حکم کو فراموش کر دیا۔ آغا جواد نقوی نے کہا کہ امام خمینی (ر) نے دو شخصیات کے افکار کو زندہ رکھنے کا حکم دیا، ایک شہید مطہری اور دوسرا شہید حسینی۔۔۔۔امام نے فرمایا کہ اگر دین سمجھنا ہے تو شہید مطہری کا مطالعہ کرو کیوں کہ شہید مطہری اور شہید حسینی نے اسلام کی حقیقی تفسیر بیان کی ہے۔ شہید مطہری نے اسلام کو آئیڈیالوجی کے طور پر پیش کیا۔ اور پاکستان کی سرزمین پر شہید حسینی امام خمینی (ر) کے نمائندہ تھے۔ افسوس ہم نے گزشتہ 23 برسوں میں افکار حسینی کو زندہ نہیں رکھا۔ شہید عارف حسینی سالار شہدائے پاکستان تھے۔ ان کے لئے امام خمینی (ر) نے فرمایا تھا کہ میں آج اپنے عظیم فرزند سے محروم ہو گیا۔
علامہ جواد نقوی نے کہا کہ ضرروت اس امر کی ہے کہ ہم پانچ اگست کو یوم تشیع کے طور پر منائیں۔ شہادت کی بہت زیادہ فضلیت ہے۔ قرآن میں نیکیوں کے درجے بنائے گئے ہیں کہ فلاں نیکی سے بڑی فلاں ہے اور اس سے بڑی فلاں ہے، لیکن شہادت سے بڑی کوئی نیکی نہیں، اس کے بعد تمام درجے ختم ہو جاتے ہیں اور شہید ہونا ہی اعلٰی ترین درجہ اور عبادت ہے۔ شہداء اللہ کی بارگاہ سے رزق پاتے ہیں، اللہ نے شہداء کو مردہ قرار دینے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ علامہ جواد نقوی نے کہا کہ شہداء اقدار میں سے ہیں، یہ دین کی اقدار ہیں، ان کو بعض قوتوں نے اوزار کے طور پر استعمال کر کے اپنے مفادات حاصل کئے۔ دین کو بھی اوزار کے طور پر استعمال کیا گیا، اس کی ابتدا بنوامیہ نے کی۔ انہوں نے دین اسلام کو ذاتی مفاد اور جاہ و جلال کا ذریعہ بنایا اور حکومت کی، یہ روش مسلسل چلی آ رہی ہے۔ ہر دور میں ایسے لوگ ضرور رہے ہیں جو اقدار کو اوزار کے طور پر استعمال کر کے اپنا فائدہ نکال کر سائیڈ پر ہو جاتے ہیں۔
علامہ جواد نقوی نے کہا کہ ہماری قوم کی اقدار اور ہمارے مکتب کو بھی اوزار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری قوم تنزلی کے گڑھوں میں پڑی کراہ رہی ہے۔ اگر قوم بیداری کا ثبوت دیتی اور اوزار کے طور پر استعمال کرنے والوں کا راستہ روکتی، تو آج ہماری حالت ایسی نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ علامہ عارف حسین الحسینی ایک مظلوم شہید تھے۔ ان کو بھی اوزار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ کچھ قوتوں نے انہیں اس لئے قائد بنایا کہ ایک تو پشتو بولنے والا ہے، دوسرا پاکستان کے دوردراز علاقے پارہ چنار کے گاؤں پیواڑ کا رہائشی ہے، یہ پاکستان میں نہ تو دورے کر سکیں گے اور نہ ہی زبان کی وجہ سے عوام سے ان کا رابطہ ہو گا۔ لیکن جب قیادت کی ذمہ داری شہید حسینی کو مل گئی تو آپ نے قوم کی بیداری کے لئے بھرپور کردار ادا کیا۔ ان کو قائد بنے چار برس ہو گئے تھے، سندھ میں دورہ کے موقع پر کسی نے سوال کر دیا کہ آپ نے بطور قائد ان چار برسوں میں کیا کیا؟ تو شہید نے جواب دیا کہ میں نے قوم کو یہ باور کرایا ہے کہ میں بھی شیعہ ہوں۔۔۔ شہید کی اس سے زیادہ مظلومیت اور کیا ہو گی کہ وہ شیعہ قوم کے قائد ہیں اور شیعوں کو ہی باور کروا رہے ہیں کہ میں شیعہ ہوں۔
بعد میں جب ان قوتوں نے انہیں اوزار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی تو آپ نے انکار کر دیا اور فرمایا یہ میری ذمہ داری ہے میں بہتر جانتا ہوں کہ قوم کو کس طرح بیدار کرنا ہے۔ ان قوتوں نے قائد کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔ قائد شہید نے استعفیٰ دیدیا کہ مجھے کام نہیں کرنا میں اوزار نہیں بن سکتا۔ تو علماء گئے اور شہید کے قدموں میں عمامے رکھ دیئے کہ آپ استعفیٰ واپس لیں، قوم کو آپ کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد مظلوم قائد نے استعفیٰ واپس لیا اور کام شروع کر دیا۔
آغا جواد نقوی نے کہا کہ علامہ عارف نے آج سے 25 برس قبل آج کے حالات کی پیش گوئی کر دی تھی۔ استعمار آج جو کچھ ہمارے ملک میں کر رہا ہے اس کی منظر کشی علامہ شہہید کر چکے تھے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ استعمار کو ملک سے نکال دیا جائے ورنہ یہ پورے ملک پر قابض ہو جائے گا اور آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے حکمران بھی استعمار کے اوزار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ہماری ملت سو چکی ہے اور اس کو اوزار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ چند لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہم ان کے فائدہ کے لئے اپنے بندے مروا رہے ہیں، قربانیاں دے رہے ہیں۔
علامہ جواد نقوی نے کہا کہ پانچ اگست ملت تشیع پاکستان کی بیداری کا دن ہے۔ دین، خدا، ولایت، امامت اور راہ شہید سے عہد کا دن ہے۔ امام خمینی (ر) نے حکم دیا تھا کہ ملت تشیع پاکستان شہید عارف حسین کے افکار کو زندہ رکھیں مگر ہم نے امام (ر) کے اس حکم کو فراموش کر دیا۔ آغا جواد نقوی نے کہا کہ امام خمینی (ر) نے دو شخصیات کے افکار کو زندہ رکھنے کا حکم دیا، ایک شہید مطہری اور دوسرا شہید حسینی۔۔۔۔امام نے فرمایا کہ اگر دین سمجھنا ہے تو شہید مطہری کا مطالعہ کرو کیوں کہ شہید مطہری اور شہید حسینی نے اسلام کی حقیقی تفسیر بیان کی ہے۔ شہید مطہری نے اسلام کو آئیڈیالوجی کے طور پر پیش کیا۔ اور پاکستان کی سرزمین پر شہید حسینی امام خمینی (ر) کے نمائندہ تھے۔ افسوس ہم نے گزشتہ 23 برسوں میں افکار حسینی کو زندہ نہیں رکھا۔ شہید عارف حسینی سالار شہدائے پاکستان تھے۔ ان کے لئے امام خمینی (ر) نے فرمایا تھا کہ میں آج اپنے عظیم فرزند سے محروم ہو گیا۔
علامہ جواد نقوی نے کہا کہ ضرروت اس امر کی ہے کہ ہم پانچ اگست کو یوم تشیع کے طور پر منائیں۔ شہادت کی بہت زیادہ فضلیت ہے۔ قرآن میں نیکیوں کے درجے بنائے گئے ہیں کہ فلاں نیکی سے بڑی فلاں ہے اور اس سے بڑی فلاں ہے، لیکن شہادت سے بڑی کوئی نیکی نہیں، اس کے بعد تمام درجے ختم ہو جاتے ہیں اور شہید ہونا ہی اعلٰی ترین درجہ اور عبادت ہے۔ شہداء اللہ کی بارگاہ سے رزق پاتے ہیں، اللہ نے شہداء کو مردہ قرار دینے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ علامہ جواد نقوی نے کہا کہ شہداء اقدار میں سے ہیں، یہ دین کی اقدار ہیں، ان کو بعض قوتوں نے اوزار کے طور پر استعمال کر کے اپنے مفادات حاصل کئے۔ دین کو بھی اوزار کے طور پر استعمال کیا گیا، اس کی ابتدا بنوامیہ نے کی۔ انہوں نے دین اسلام کو ذاتی مفاد اور جاہ و جلال کا ذریعہ بنایا اور حکومت کی، یہ روش مسلسل چلی آ رہی ہے۔ ہر دور میں ایسے لوگ ضرور رہے ہیں جو اقدار کو اوزار کے طور پر استعمال کر کے اپنا فائدہ نکال کر سائیڈ پر ہو جاتے ہیں۔
علامہ جواد نقوی نے کہا کہ ہماری قوم کی اقدار اور ہمارے مکتب کو بھی اوزار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری قوم تنزلی کے گڑھوں میں پڑی کراہ رہی ہے۔ اگر قوم بیداری کا ثبوت دیتی اور اوزار کے طور پر استعمال کرنے والوں کا راستہ روکتی، تو آج ہماری حالت ایسی نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ علامہ عارف حسین الحسینی ایک مظلوم شہید تھے۔ ان کو بھی اوزار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ کچھ قوتوں نے انہیں اس لئے قائد بنایا کہ ایک تو پشتو بولنے والا ہے، دوسرا پاکستان کے دوردراز علاقے پارہ چنار کے گاؤں پیواڑ کا رہائشی ہے، یہ پاکستان میں نہ تو دورے کر سکیں گے اور نہ ہی زبان کی وجہ سے عوام سے ان کا رابطہ ہو گا۔ لیکن جب قیادت کی ذمہ داری شہید حسینی کو مل گئی تو آپ نے قوم کی بیداری کے لئے بھرپور کردار ادا کیا۔ ان کو قائد بنے چار برس ہو گئے تھے، سندھ میں دورہ کے موقع پر کسی نے سوال کر دیا کہ آپ نے بطور قائد ان چار برسوں میں کیا کیا؟ تو شہید نے جواب دیا کہ میں نے قوم کو یہ باور کرایا ہے کہ میں بھی شیعہ ہوں۔۔۔ شہید کی اس سے زیادہ مظلومیت اور کیا ہو گی کہ وہ شیعہ قوم کے قائد ہیں اور شیعوں کو ہی باور کروا رہے ہیں کہ میں شیعہ ہوں۔
بعد میں جب ان قوتوں نے انہیں اوزار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی تو آپ نے انکار کر دیا اور فرمایا یہ میری ذمہ داری ہے میں بہتر جانتا ہوں کہ قوم کو کس طرح بیدار کرنا ہے۔ ان قوتوں نے قائد کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔ قائد شہید نے استعفیٰ دیدیا کہ مجھے کام نہیں کرنا میں اوزار نہیں بن سکتا۔ تو علماء گئے اور شہید کے قدموں میں عمامے رکھ دیئے کہ آپ استعفیٰ واپس لیں، قوم کو آپ کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد مظلوم قائد نے استعفیٰ واپس لیا اور کام شروع کر دیا۔
آغا جواد نقوی نے کہا کہ علامہ عارف نے آج سے 25 برس قبل آج کے حالات کی پیش گوئی کر دی تھی۔ استعمار آج جو کچھ ہمارے ملک میں کر رہا ہے اس کی منظر کشی علامہ شہہید کر چکے تھے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ استعمار کو ملک سے نکال دیا جائے ورنہ یہ پورے ملک پر قابض ہو جائے گا اور آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے حکمران بھی استعمار کے اوزار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ہماری ملت سو چکی ہے اور اس کو اوزار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ چند لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہم ان کے فائدہ کے لئے اپنے بندے مروا رہے ہیں، قربانیاں دے رہے ہیں۔

وبلاگ حاضر مختلف اسلامی موضوعات اور پاراچنار کے مسائل کے بارے میں تیار کیا گیا ہے