ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال
ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال علامہ اقبال ادیب پیدائشی نام محمد اقبال تخلص اقبال ولادت 9 نومبر 1877ء، سیالکوٹ ابتدا سیالکوٹ وفات 21 اپریل 1938ء، لاہور اصناف ادب شاعری
نثر ذیلی اصناف نظمغزل معروف تصانیف بانگ درابال جبریلضرب کلیمپیام مشرق ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء تا 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجۂ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ "دا ریکنسٹرکشن آف ریلیجس تھاٹ ان اسلام" کے نام سے انگریزی میں ایک نثری کتاب بھی تحریر کی جس کو بعض مسلم ممالک میں متنازع سمجھا جاتا ہے جبکہ سعودی عرب میں اس پر پابندی عائد ہے۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاستدان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے جو انہوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انہوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انہیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔ عظيم بشری جاويد عظيم بشری جاويد فہرست 1 اعلیٰ تعلیم 2 سفر یورپ 3 تدریس اور وکالت 4 سیاست 5 شاعری 6 اقبال کی نظموں کا فنی فکری تجزیہ 7 تصورات و نظریات 8 حوالہ جات 9 مزید دیکھیے 10 بیرونی روابط اعلیٰ تعلیم ایف اے کرنے کے بعد آپ اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور چلے گئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پاس کیے یہاں آپ کو پرفیسرآرنلڈ جیسے فاضل شفیق استاد مل گئے جنہوں نے اپنے شاگرد کی رہنمائی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ سفر یورپ 1905 میں علامہ اقبال اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے اور کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور پروفیسر براؤن جیسے فاضل اساتذہ سے رہنمائی حاصل کی ۔ بعد میں آپ جرمنی چلے گئے جہاں میونخ یونیورسٹی سے آپ نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ تدریس اور وکالت ابتداء میں آپ نے ایم اے کرنے کے بعد اورینٹل کالج لاہور میں تدریس کے فرائض سرانجام دیئے لیکن آپ نے بیرسٹری کو مستقل طور پر اپنایا۔ وکالت کے ساتھ ساتھ آپ شعروشاعری بھی کرتے رہے اور سیاسی تحریکیوں میں بھرپور انداز میں حصہ لیا۔ 1922ء میں حکومت کی طرف سے سر کا خطاب ملا۔ سیاست 1926ء میں آپ پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی کے ممبر چنے گئے۔ آپ آزادی وطن کے علمبردار تھے اور باقاعدہ سیاسی تحریکوں میں حصہ لیتے تھے۔ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے اور آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے آپ کا الہ آباد کا مشہور صدارتی خطبہ تاریخی حیثیت رکھتا ہے اس خطبے میں آپ نے پاکستان کا تصور پیش کیا۔ 1931ء میں آپ نے گول میز کانفرنس میں شرکت کرکے مسلمانوں کی نمائندگی کی۔ آپ کی تعلیمات اور قائداعظم کی ان تھک کوششوں سے ملک آزاد ہوگیا اور پاکستان معرض وجود میں آیا۔ لیکن پاکستان کی آزادی سے پہلے ہی 21 اپریل 1938ء (بمطابق 20 صفر 1357ھ[2]) میں علامہ انتقال کر گئے تھے۔ لیکن ایک عظیم شاعر اور مفکر کے طور پر قوم ہمیشہ ان کی احسان مند رہے گی۔ جس نے پاکستان کا تصور پیش کرکے برصغیر کے مسلمانوں میں جینے کی ایک نئی آس پیدا کی۔ شاعری شاعر مشرق علامہ اقبال حساس دل و دماغ کے مالک تھے آپ کی شاعری زندہ شاعری ہے جو ہمیشہ مسلمانوں کے لیے مشعل راہ بنی رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ کلام اقبال دنیا کے ہر حصے میں پڑھا جاتا ہے اور مسلمانان عالم اسےبڑی عقیدت کے ساتھ زیر مطالعہ رکھتے اور ان کے فلسفے کو سمجھتے ہیں۔ اقبال نے نئی نسل میں انقلابی روح پھونکی اور اسلامی عظمت کو اجاگر کیا۔ ان کے کئی کتابوں کے انگریزی ، جرمنی ، فرانسیسی، چینی ، جاپانی اور دوسرے زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔ جس سے بیرون ملک بھی لوگ آپ کے متعرف ہیں۔ بلامبالغہ علامہ اقبال ایک عظیم مفکر مانے جاتے ہیں۔ اقبال کی نظموں کا فنی فکری تجزیہ شکوہ جواب شکوہ خصر راہ والدہ مرحومہ کی یاد میں تصورات و نظریات خودی عقل و عشق مرد مومن وطنیت و قومیت اقبال کا تصور تعلیم اقبال کا تصور عورت اقبال اور مغربی تہذیب اقبال کا تصور ابلیس اقبال اور عشق رسول حوالہ جات 1. ^ 1.0 1.1 Iqbal in Years - علامہ اقبال کی سرکاری ویب سائیٹ (انگریزی) 2. ^ ڈاکٹر سلیم، اختر، سیّد علی اکبر شاہ کاظمی [2003ء]۔ “مفکر و مصور پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال مرحوم تقویم کے آئینہ میں”، ڈاکٹر سلیم اختر علامہ اقبال - حیات، فکر و فن (101 مقالات)۔ لاہور: سنگ میل پبلی کیشنز، 93۔ ISBN 969-35-1434-3۔ مزید دیکھیے اقبال کا ذہنی و فکری ارتقاء اقبال کا نظریہ فن بیرونی روابط اقبال کونوبیل انعام کیوں نہ ملا ؟ علامہ محمد اقبال شاعری: اسرار خودی - رموز بیخودی - پیامِ مشرق - با نگ درا - زبورِعجم - جاوید نامہ - با ل جبر یل - ضرب کلیم - پس چہ بائد کرد اے اقوامِ شرق - ارمغان حجاز نثر: اقبال اور عشق رسول مثلِ بو قید ہے غنچے میں ، پریشاں ہو جارخت بردوش ہے ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ ، توذری سے بیاباں ہو جانغمہ موج سے ہنگامہ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم ِ محمد سے اجالا کر دے عشق وہ والہانہ جذبہ ہے جو حضرت انسان کو دوسرے اقوام سے ممتاز کرتی ہے۔ یہ جذبہ بناوٹ، عیاری، امید ( معشوق سے کچھ حاصل کرنے کی) ۔ لالچ سے ماورا ہوتی ہے۔ یہ جذبہ انسان کو ایک جست میں اس بلندی اور آفاقیت تک لے جاتی ہے۔جس کا ہم خیال بھی نہیں کر سکتے ۔ اس قوت سے یقین و ایمان میں پختگی آتی ہے۔ اور اسی جذبہ کے تحت ایمان بل غیب پر یقین آجاتا ہے۔حضرت سید محمد ذوقی شاہ اپنی کتاب ” سر ِ دلبراں “ میں لکھتے ہیں، ” عشق ایک مقناطیسی کشش ہے جو کسی کو کسی کی جانب سے ایذا پانا، وصال سے سیر ہونا ، اس کی ہستی میں اپنی ہستی کو گم کر دینا یہ سب عشق و محبت کے کرشمے ہیں۔“ عاشقی چیست؟ بگو بندہ جاناں بودندل بدست دگرے دا دن و حیراں بودن اور جب یہ تعلق یا کشش سیدنا محمد مصطفی سے ہو تو پھر کیا کہنا ۔ ان کی ہستی تو ایک بحر ذخار کے مانند ہے جس کی موجوجیں آسمان کو چھوتی ہیں۔ جس کی تعلیمات محبت ، اخوت، مساوات اور رواداری کا درس دیتی ہیں ۔ جو لوگوں کو حیات نو عطا کرتی ہیں۔ اُس کے اخلاق کے بارے میں خود اللہ فرماتے ہیں کہ، ”’ اے حبیب بے شک تو اخلاق کے بلند درجے پر ہے۔“ جن کو نبوت سے پہلے امین اور صادق کے خطاب دئیے گئے رشک کی بات ہے کہ اقبال کو اس عظیم بندے سے عشق تھا اور اس آفتاب کے نور سے اقبال کی شاعری منور ہے۔ می ندانی عشق و مستی از کجا ست؟ایں شعاع افتاب مصطفی ست مولانا عبدالسلام ندوی ”اقبال کامل “ میں لکھتے ہیں، ” ڈاکٹر صاحب کی شاعری محبت ِ وطن اور محبت قوم سے شروع ہوتی ہے اور محبت الہٰی اور محبت رسول پر اس کا خاتمہ ہوا۔“ فہرست [غائب کریں] 1 والہانہ عشق 2 سوز و گداز 3 اتباع رسول 4 عشق کا محور 5 سالار کارواں 6 حسن و جمال 7 نیکی کی علامت 8 قیام یورپ اور عشق رسول 9 نظم” حضور رسالت ماب“ 10 اللہ تک رسائی کا زینہ 11 مکارم اخلاق 12 نجات دہندہ 13 مجموعی جائزہ [ترمیم] والہانہ عشق اقبال کو حضور سے جو والہانہ عشق ہے اس کا اظہار اس کی اردو اور فارسی کے ہر دور میں ہوتا رہا ہے۔ اقبال کی انفرادیت ہے کہ انہوں نے اردو فارسی دونوں زبانوں میں مدح رسول اکرم کو ایک نئے اسلوب اور نئے آہنگ کے ساتھ اختیار کیا۔ خوشا وہ وقت کہ یثرب مقام تھا اس کاخو شا وہ دور کہ دیدار عام تھا اس کا اقبال سردار دو عالم کی سیرت پاک کا غائر مطالعہ کرنے کے اور مطالب قرانی پر عبور حاصل کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ آنحضرت کی ذات ِ بابرکات جامع الحثیات ہے ۔ تمام کما لات ظاہر و باطن کی ، اور سرچشمہ ہے تمام مظاہر حقیقت و مجاز کا۔ کلام اقبال اٹھا کر دیکھ لیں تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پیغام ِ اقبال اصل میں حُب رسول ہے۔ کیونکہ انہی کی ذات گرامی سرچشمہ دیں ہے۔ بہ مصطفی برساں خویش را کہ دین ہمہ اوستاگر بہ او نرسیدی تمام بولہبی است سوز و گداز اقبال کی طبیعت میں سوز و گداز اور حب رسول اس قدرتھا کہ جب کبھی ذکر رسول ہوتا تو آپ بے تاب ہو جاتے اور دیر تک روتے رہتے ۔ ”روزگار فقیر “ میں سید وحید الدین لکھتے ہیں۔ ” اقبال کی شاعری کا خلاصہ جو ہر اور لب لباب عشق رسول اور اطاعت رسول ہے۔ ان کا دل عشق رسول نے گداز کر رکھا تھا زندگی کے آخری زمانے میں یہ کیفیت اس انتہا کو پہنچ گئی تھی کہ ہچکی کے آخری زمانے میں تو یہ کیفیت اس انتہا کوپہنچ گئی تھی کہ ہچکی بند جاتی ۔ آواز بھرا جاتی تھی اور وہ کئی کئی منٹ سکوت اختیار کر لیتے تھے۔ تاکہ اپنے جذبات پر قابو پا سکیں۔“ اتباع رسول عشق و محبت کا یہ مرتبہ ایمان کا خلاصہ ہے ۔ اتباع رسول کے بغیر محبت رسول ناممکن ہے۔ آپ کی ذات گرامی رحمتہ اللعالمین تھی۔ اس لئے مومن کو بھی رحمت و شفقت کا آئینہ ہونا چاہیے۔ اقبال فرماتے ہیں کہ مسلمان کی سرشت ایک موتی کی طرح ہے جس کو آب و تاب بحر ِ رسول سے حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال اسوہ حسنہ کی تقلید کا سبق دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے مومن تو باغِ مصطفویٰ کی ایک کلی ہے۔ بہار مصطفویٰ کی ہوائوں سے کھل کر پھول بن جائو۔ غنچہ از شاخسار ِ مصطفیگل شو از باد بہار مصطفی اقبال کے نزدیک خالق کائنات نے جب اس دنیا میں اپنی کاریگری کا آغاز کیا اور حضرت انسان کی شکل میں اپنے چھپے ہوئے خزانے کو عیاں کیا پھر جب ارتقاءکے منازل طے ہوتے گئے اور قوائے انسانی اپنے پورے کمال پر آگئے تو رب العالمین نے محمد کو معبوث فرمایا ۔ جو سب کے لئے رحمت ، ہادی ، راہ نما ، اور مہربان تھے۔ خلق و تقدیر و ہدایت ابتداسترحمتہ للعالمینی انتہا ست عشق کا محور کلام اقبال میں عشق رسول کے اظہار میں جب شیفتگی و وارفتگی کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ وہ بزرگانِ دین کا فیضانِ نظر تھا ۔ اس میں مکتب کی کرامت کا دخل نہیں تھا۔ آپ کے کلام میں شیخ عطار ، نظام الدین اولیا ، حضرت مجدد الف ثانی ، مولانا روم، اور امام غزالی کا تذکرہ اس امر پر شاہد ہے۔ اقبال ایک جگہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی تمام تر عقل اور فلسفہ دانی کو نبی کریم کے قدموں میں ڈھیر کر دیا ہے۔ اقبال کے ذہن میں عشق و مستی کا اوّل اور آخری محور ایک ہی ہونا چاہیے اور وہ محور ہے نبی کریم کی ذات جو ذات ِ تجلیات ہے جو کہ بقول حضرت عائشہ کہ ”قرآن ہی ان کے اخلاق ہیں۔ نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخروہی قرآں وہی فرقاں وہی یٰسیں وہی طہٰ سالار کارواں اقبال حضور کو اپنے کارواں کا سالار قرار دیتے ہوئے ان کی تقلید میں لبیک کہتے ہیں اور تن ، من ، دھن ، ان کی محبت میں قربان کرنے کو اولیت دیتے ہیں اور انہی کی لیڈر شپ میں زندگی کی قربانی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس لئے اپنی مشہور نظم ”ترانہ ملی“ میں لکھتے ہیں، سالار کاروا ں ہے میر حجاز اپنااس نام سے ہے باقی آرام جاں ہمارا حسن و جمال حسن و جمال میں حضور کی خوبی و محبوبی کسی سے پوشیدہ نہیں پر وقار انداز ، شگفتہ گفتگو ، خوبصورت چہرہ، مناسب قد الغرض ہر چیز اور ہر زاویے میں لازوال تھے۔ اسی لئے علامہ نے ان کی خوبصورتی کو یوسف ، عیسیٰ اور موسیٰ پر ترجیح دی ہے۔ حسنِ یوسف دمِ عیسیٰ ید بےضا داریآنچ خوباں ہمہ دارند تو اتنہا داری نیکی کی علامت اقبال کے ذہن میں انسانی زندگی کے دو بڑے دھارے ہیں۔ نیکی اور بدی وہ نیکی کو محمد سے منسلک کرتے ہیں جبکہ بدی کو ابولہب سے وہ ابو لہب کو بدی کا خدا تصور کرتے ہیں اور نیکی کی علامت کے لئے پیکر جمیل کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عشق اور عقل کی تقسیم میں عشق کو محمد اور عقل کو عیاری کی بنا ءپر ابولہب کے حصے میں رکھتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں تازہ میر ے ضمیر میں معرکہ کہن ہواعشق تمام مصطفی عقل تمام بولہب اقبال کے خیال میں نیکی اور بدی کی قوتوں کے درمیان یہ معرکے ازل سے جاری ہیں اور بدی کی قوتوں کا انداز ابتداء سے مکارانہ اور عیارانہ ہے۔ جس کے مقابلے میں نیکی معصوم اور پاک ہوتی ہے۔ ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا اِمروزچراغِ مصطفوی سے شرار بو لہبی قیام یورپ اور عشق رسول یہ عشق نبوی کا ہی فیض ہے کہ یورپ میں ایک طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود اقبا ل دین ِ محمدی سے منحرف نہ ہوئے اور نہ ان کے اقدار میں تبدیلی ہوئی۔ اس لئے جب وہ لوٹے تھے اسی طرح عشق رسول سے سرشار تھے۔ خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوہء دانشِ فرنگسرمہ ہے مری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف نظم” حضور رسالت ماب“ جس دور میں اقبال نے شکوہ اور جواب شکوہ جیسی نظمیں تخلیق کیں وہ مسلماناں عالم کے لئے ایک عالمگیر انحطاط و انتشار کا زمانہ تھا اقبا ل مسلمانان عالم کی اس عمومی صورت حال پر ہمہ وقت بے تاب و بے قرار رہتے تھے۔ جواب شکوہ لکھنے سے کچھ عرصہ پیشتر اقبال نے طرابلس کے شہیدوں کے حوالے سے ایک نظم ” حضور رسالت مآب لکھی۔ یہ نظم بارگاہ نبوی میں شاعری کی ایک خیالی حضوری کو بیان کرتی ہے۔ فرشتے شاعر کو بزم رسالت میں حضور کے سایہ رحمت میں لے جاتے ہیں۔ بارگاہ نبوی سے شاعر سے خطاب کیا جاتا ہے۔ کہا حضور نے اے عندلیبِ باغِ حجازکلی کلی ہے تری گرمئ نوا سے گداز اللہ تک رسائی کا زینہ اقبال کا مطالعہ اسلام اور قرآن بہت ہی اچھا تھا۔ انہوں نے اپنی شاعری میں آیاتِ قرآنی کو جگہ دی ہے۔ کیونکہ اقبال کو پتہ تھا کہ اللہ کے کتابوں میں یہ آخری اور واحد کتاب ہے جس میں تبدیلی اور غلط بیانی کسی کی بس کی بات نہیں ۔ اور اس کی خالص شکل لوح محفوظ میں موجود ہے اور اسی قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ، ترجمہ:۔ اے نبی کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری تا بعداری کرو کیونکہ اللہ تک رسائی کے لئے حُب نبی ہی اصل زینہ ہے۔ جس پرصحابہ کرام نے عمل کیا۔ صدیق، عمر، عثمان نے عمل کیا۔ اقبا ل ا س لئے نصیحت کرتے ہیں اللہ سے وہی سوز طلب کرو جو انہی صحابہ نے طلب کیا تھا۔ جو ان کو عشق نبوی سے حاصل ہوا۔ سوز صدیق و علی از حق طلبذرہ عشق نبی از حق طلب مکارم اخلاق اقبال کے نزدیک اسوہ نبوی کے اتباہ کے بدولت ہی ہم مکارم الاخلاق سے آراستہ ہو سکتے ہیں اسی وجہ سے ہمارے دلوں میں کشادگی اور نور اور تجلیات خداوندی جگہ پا سکتی ہے۔ اقبال فرماتے ہیں درد دل مسلم مقام مصطفےٰ استآبروئے ماز نامِ مصطفی است اقبال فرماتے ہیں کہ اس دنیا کی تخلیق کی اصل وجہ ذات نبی ہے کیونکہ آپ ہی کی وجہ سے اس دنیا میں اصل خالق یعنی اللہ کی ذات کی پہچان ، صحیح معنوں میں ممکن ہوئی۔ آپ ہی تھے جنہوں نے خدا تعالیٰ کی حقیقت کے بار ے میں لوگوں کو آگاہ کیا اور ان کے راز آشکار کئے۔ نجات دہندہ اقبال کی شاعری کا محور اصل میں عشق رسول ہی ہے۔ اسی زینہ پر چڑھ کر وہ محرم راز درونِ مے خانہ کا دعویٰ کرتے ہیں اسی ذات کو اقبال آخرت اور دنیا دونوں میں نجات دہندہ خیال کرتے ہیں۔ اسی ذات ِ با برکات نے امت مسلمہ کی صحیح داغ بیل ڈالی ان لئے تکالیف برداشت کیں اور احسانات کا ایک انبار اپنی قوم پر ڈال دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ای خدا قیامت کے دن میرے اعمال نامہ کو تو خواجہ ( رسول) کے سامنے پیش کرکے مجھے رسوا مت کر۔ مجھے شرمندگی محسوس ہوتی ہے کہ اس عظیم ذات کے سامنے مجھ خطا کار کی خطائیں جب آشکار ہوں۔ مکُن رسوا حضورِ خواجہ ماراحساب من ز چشم ِ او نہاں گیر مجموعی جائزہ غرض اقبال کے سارے نظریات آپ کی ذات ِ گرامی میں بدرجہ اتم موجود تھے۔ وہ ایک خود دار ذات تھے۔ شاہین صفت تھے ، شفیق تھے۔ انسان کامل تھے۔ مردمومن تھے۔ صاف گو تھے۔ جمہوریت پسند تھے۔ مسلم کے قدر دان تھے اگرچہ خود اُمی تھے اسی لئے اقبال جواب شکوہ میں لکھتے ہیں کہ عقل ہے تیری سپر ، عشق ہے شمشیر تریمرے درویش! خلافت ہے جہان گیر تریماسوا اللہ کے لئے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہوتو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لو ح قلم تیرے ہیں اقبال کا تصور ابلیس رسمی مذہب اسے بدی کا مجسمہ قرار دیتا ہے وہ ہستی جس نے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کرکے خدائی احکام کی نا فرمانی کی اور ہمیشہ کے لئے ملعون و مردود قرارد ی گئی۔ اب اس کا کام صرف اتنا ہے کہ خدا کی مخلوق کو بہکانے اور اُسے خدا کے مقرر کردہ راستے سے دور لے جائے۔ قدیم ایرانی حکماء، مسلمان صوفیاءاور مغربی شعراءنے اپنے اپنے زاویہ نظر سے ابلیس اور خیر و شر پر اپنا فلسفہ پیش کیا۔ اقبال کے تصور ابلیس کو سمجھنے کے لئے دنیا میں تصور ابلیس کے ارتقاءپر نظر ڈالناضروری ہے۔ فہرست 1 ایرانی ثنویت اور تصور ابلیس 2 مسلما ن صوفیاءکے ہاں تصور ابلیس 3 مغربی ادب میں تصور ابلیس 4 دانتے 5 ملٹن 6 گوئٹے 7 علامہ اقبال کا تصور ابلیس 8 نظم” تسخیر فطرت“ میں ابلیس کے خدوخال 9 نظم جبرئیل و ابلیس 10 نظم ”تقدیر“ میں ابلیس کے نقوش 11 نظم ”ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام“ ایرانی ثنویت اور تصور ابلیس اس طرز فکر کی نمائندگی تین مفکرین کرتے ہیں زرتشت، مانی اور مزدک ان تینوں فلسفیوں کے نزدیک کائنات میں فعال قوتیں دو طرح کی ہیں۔ ایک جو یزداں کے نام سے منسوب ہے دوسری اہرمن کے نام سے یاد کی جاتی ہے۔ اہرمن شر کی قوتوں کا نمائندہ جبکہ یزداں خیر کی قوتوں کا نمائند ہ ہے۔ فطرت میں خیر وشر کی قوتوں کے مابین ایک مسلسل پیکار جاری ہے۔ اشیا ءاچھی یا بری اس لئے ہوتی ہیں کہ وہ یا تو خیر کی قوت تخلیق کی پیداوار ہیں یا شر کی۔ مسلما ن صوفیاءکے ہاں تصور ابلیس جن مسلمان صوفیا نے ابلیس کا خاص انداز میں ذکر کیا ہے۔ ان میں منصور حلاج، مولانا روم ، ابن عربی وغیرہ کے نام زیادہ اہم ہیں۔ بعض نے تو ابلیس کو اتنی اہمیت دی کہ اُسے سب سے بڑا توحید پرست اور موحد قرار دیاہے۔ ابلیس خدا کے ارادوں کی مشیت کا ایک ایسا کارندہ ہے جس کے فرائض سب سے زیادہ تلخ ، سب سے زیادہ ناگوار ، کڑے اور نازک ہیں۔ (منصور حلاج شیطان اس زیرکی کا نام ہے جو عشق سے معریٰ ہو کر ادنی مقاصد کے حصول میں حیلہ گری کرتی ہے۔(مولانا روم ابلیس ارادے میں آزاد ہے۔ ابن عربی مغربی ادب میں تصور ابلیس مغربی شعراءنے بھی اس فلسفے میں بڑی نکتہ نوازیاں کی ہیں۔ چند نمائندہ شعراءکے فلسفہ ہائے ابلیس پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ دانتے دانتے مشہور اطالوی شاعر ہیں اس نے اپنی عظیم رزمیہ داستا ن ”ڈیوائن کامیڈی “ میں شیطان کا کردار پیش کیا ہے۔ دانتے کا شیطان بالکل قدیم مذہبی نوعیت کا شیطان ہے جسکا تصویر بائیبل میں ملتاہے۔ یہ بہت ہیبت ناک اور ساکن ہے ۔ دانتے اپنے شیطان کو سینے تک برف میں دھنسا ہوا دکھاتا ہے۔ وہ جتنا کسی زمانے میں حسین تھا اتنا ہی اب بد شکل ہے دانتے نے ابلیس کو دوزخ کے ساتھ دنیاوی نمائندہ قرار دے کر زندگی کے لئے ناگزیر تسلیم کیا ہے۔ ملٹن یہ ایک مشہور شاعر ہے۔ اس کی نظم ”جنت گم گشتہ “ میں ابلیس کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ ملٹن کا شیطان ایک زبردست شخصیت کا مالک ہے۔ جو اتنا ہیبت ناک ہے کہ دوزخ اس کے قدموں تلے کانپتی ہے۔ اس نے خدا سے شکست کھائی ہے۔ لیکن ہمت نہیں ہاری ۔ وہ ناقابل تسخیر ارادے اور عزم کا مالک ہے اور ایک ایسا ذہن رکھتا ہے جسے زمان و مکان تبدیل نہیں کر سکتا ۔ گوئٹے عظیم جرمن شاعر ہے اُس نے اپنے شہر ہ آفاق ڈرامے ” فاوسٹ “ میں شیطان کا ایک خاص کردار پیش کیا ہے۔ گوئٹے شیطان کو محض گردن زدنی نہیں سمجھتا بلکہ اس میں بعض خوبیاں بھی دیکھتا ہے گوئٹے کی دنیا میں شیطان کا بہکانا بھی انسان کے لئے مفید ہے کیونکہ صدائے غیبی کے الفاظ میں ’ ’ جب تک انسان راہ طلب میں ہے اس کا بھٹکنا لازمی ہے۔ انسان کا دستِ عمل سو جاتا ہے اور اسے آرام کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے ہم خوشی سے تیرا ساتھ دے ددیتے ہیں جو اُسے اُبھارے اور شیطانی قوت کو تخلیق دے اس شیطانی قوتِ تخلیق کا گوئٹے بہت قائل ہے۔ یعنی شیطان انسان میں خفیہ تخلیقی قوتوں کو بیدار کرتاہے اور عمل پر اکساتا ہے۔ علامہ اقبال کا تصور ابلیس اقبال نے ابلیس کے بارے میں اپنا فلسفہ مرتب کرتے وقت نہ صرف قدیم فلسفیوں ، صوفیوں اور شاعروں کے خیالات سے استفادہ کیا بلکہ اس میں اسلامی تعلیمات کو بھی مدنظر رکھا ۔ ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم جو اقبال کے تصور ِ ابلیس کو ان کے فلسفہ خودی کے تابع سمجھتے ہیں، لکھتے ہیں، ” اقبال کے ہاں ابلیس کا تصور ان کے فلسفہ خودی کا ایک جزو لاینفک ہے ۔ خودی کی ماہیت میں ذات الہٰی سے فراق اور سعی ِ قرب و وصال دونوں داخل ہیں اقبال کے فلسفہ خودی کی جان اس کا نظریہ عشق ہے۔ عشق کی ماہیت ، آرزو ، جستجو اور اضطراب ہے۔ اگر زندگی میں مواقع موجود نہ ہوں تو خیر کوشی بھی ختم ہو جائے جس کی بدولت خودی میں بیداری اور اُستواری پیدا ہوتی ہے۔ اگر انسان کے اندر باطنی کشاکش نہ ہو تو زندگی جامد ہو کر رہ جائے۔“ نظم” تسخیر فطرت“ میں ابلیس کے خدوخال شیطان جو رسمی مذہب میں بد ی کا مجسمہ ہے اسے اقبال نے اس حیثیت سے پیش کیا ہے کہ وہ جبر و تحکم کے علمِ بغاوت کو بلند کرنے والا اور بندہ ئے دام کے بجائے خود آزادانہ فیصلہ کرنے والا ایک منفرد کردار بن جاتا ہے۔ وہ اپنے اس اقدام سے ایک زبردست معرکہ چھیڑدیتا ہے جو افراد کے اندرونی رجحانات اورخارجی ماحول کے درمیان ہمیشہ جاری رہے گا۔ تمام فرشتوں میں یہ ایک اسی کی ذات تھی جس نے خدا کے حکم پر آد م کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا اور خدا کے اس سوال پر کہ اس نے یہ خطرناک جرات کیوں کی ، شیطان نے یہ جواب دیا میں اس سے بہتر ہوں ۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور آدم کو مٹی سے۔ اقبال نے ”پیام مشرق“ میں اپنی نظم تسخیر فطرت میں اس قرآنی آیت کی نہایت مو ثر ترجمانی کی ہے۔ اس نظم کے پانچ حصے ہیں۔ 1. میلاد ِ آدم 2. انکار ابلیس 3. اغوائے آدم 4. آدم از بہشت بیروں آمدہ می گوید٥) صبح قیامت آدم در حضور ِ باری یہاں بھی انسانی تخلیق اور اس کی شخصیت کی تکمیل میں شیطان کا حصہ اگرچہ وہی پرانا قصہ ہے اور تمام مذہبی صحیفوں میں موجود ہے۔ لیکن یہاں اقبال نے شیطان کا ایک منفر د اور ڈرامائی انداز پیش کیا ہے۔ انسان کی آفرینش قدرت کا اعلیٰ ترین شہکار تھی ۔ انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی قدرت نے ایک تخلیقی قطعیت بھی پیدا کی جو سکون سے عمل کی طرف ، طاقت سے طاقت کے استعمال کی طرف اور خوئے تسلیم و رضا سے تجزیہ و عمل کی طرف اس کے شعور کو پھیرنا چاہتی تھی۔ یہی تجرباتی ، متحرک ، طاقت اور رجحان انکار ابلیس ہے۔ ”تسخیر فطرت“ میں ابلیس ، سجدہ آدم سے انکار کی وجہ بڑے جوش ، خروش سے خدا کے سامنے بیان کرتا ہے وہ اپنے آپ کو حرکت کا سرچشمہ بتاتا ہے۔ اور زندگی میں حرکت کی ساری برکت کواپنا کمال سمجھتا ہے۔ می تپداز سوزِ من ، خونِ رگ کائناتمن بہ دو صرصرم ، من بہ غو تندرم پروفیسر تاج محمد خیال نظم پر تبصرہ کرنے ہوئے لکھتے ہیں، ” یہاں اقبال نے شیطان کواپنے اندرونی جذبات یعنی جذبہ مسابقت، دوسروں پر فوقیت حاصل کرنے اور غلبہ پانے کی آرزو کا آزاد اظہار کرتے دکھایا ہے۔ ماحول کی قوتوں کے مقابل میں ردعمل اور انہیں متاثر کرنے جو فطری رجحان ہر جاندار مخلوق میں پایا جاتا ہے۔ تو گویا شیطان اسی رجحان کی ایک رمزیہ شکل ہے۔ یہ رجحان زندگی کا ایک جوہر ہے اور تمام آرزو ، طلب ، سعی و کامرانی کی تخلیق کا ذمہ داردراصل یہی ہے۔“ نظم جبرئیل و ابلیس بال جبریل کی نظم” جبریل و ابلیس“ بھی اقبال کے تصور ابلیس پر روشنی ڈالتی ہے۔ نظم ایک دلچسپ مکالمے کی شکل میں ہے جس میں جبرئیل اپنے ہمدم دیرینہ شیطان سے بڑے دوستانہ لہجے میں پوچھتا ہے کہ جہاں ِ رنگ و بو کا حال کیا ہے۔ ؟ ذرا ہمیں بھی بتائو شیطان اس کے جواب میں کہتا ہے کہ جہاں عبادت ہے سوز و ساز وردو جستجو ہے۔ جبریل اُسے کہتا ہے کہ آسمانوں پر ہر وقت تیرا ہی چرچا رہتا ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ تو خدا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لے اور پھر ذات باری کا قرب حاصل کرے جواب میں شیطان کہتا ہے کہ میر ے لئے اب یہ ممکن نہیں میں آسمان پر آکر کیا کروں گا۔ وہاں کی خاموشی میں میرا دم گھٹ کر رہ جائے گا۔ آسمان پر زمین کی سی گہما گہمی اور شورش کہاں ہے۔ جبریل یہ باتیں سن کر بہت ناخوش ہوتے ہےں اور دکھ بھرے لہجے میں کہتے ہیں کہ اسی انکار کی وجہ سے تو نے اپنے مقاماتِ بلند کھو دئیے ہیں ۔ اور اسی سے تو نے فرشتوں کی بے عزتی کرائی ہے تمہارے اس اقدام کے بعد فرشتوں کی خدائی نظروں میں کیا آبرو رہی؟ اس پر شیطان چمک کر جواب دیتا ہے کہ تم آبرو کا نام لیتے ہو؟ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میر ی جرات سے ہی کائنات وجود میں آئی اور میری ہی وجہ سے عقل کی ضرورت پڑی ۔ تیرا کیا ہے تو تو ساحل پر کھڑا ہو کر تماشا دیکھنے والوں میں سے ہے۔ تو خیر و شر کی جنگ کو بس دور سے دیکھتا ہے۔ میری طرف دیکھو کہ میں طوفان کے طماچے کھاتا ہوں یہ میں ہی تھا جس کی بدولت آدم کے قصے میں رنگینی پیدا ہوئی ورنہ یہ ایک بے روح داستان تھی ابلیس و جبریل خیالات کی بلندی کے اعتبار سے اردو شاعری میں ایک معرکے کی چیز ہے۔ ہے مری جرات سے مشت خاک میں ذوق نمومیرے فتنے جامہ عقل و خرد کا تارو و پُودیکھتا ہے تو فقط ساحل سے رزمِ خےر و شرکون طوفاں کے طماچے کھا رہا ہے میں کہ توحضر بھی بے دست و پا ، الیاس بھی بے دست و پامیرے طوفاں یم بہ یم ، دریا بہ دریا جُو بہ جُوگر کبھی خلوت میسر ہو تو پوچھ اللہ سےقصہ آدم کو رنگیں کر گیا کس کا لہومیں کھٹکتا ہوں دل یزادں میں کانٹے کی طرحتو فقط اللہ ہو ، اللہ ہو ، اللہ ہو اقبال کی یہ نظم پڑھتے وقت کوئی شخص شیطان کی عظمت و شکوہ سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہاں اقبال نے اُسے ”سوزِ درونِ کائنات “ قرار دیا ہے۔ نظم ”تقدیر“ میں ابلیس کے نقوش ضرب کلیم میں ”تقدیر “ کے عنوان سے ایک نظم ہے جس کا ذیلی عنوان ہے۔ ”ابلیس و یزداں “ اس نظم کا مرکزی خیال ابن ِ عربی سے ماخوذ ہے۔ یہاں بھی ابلیس اور یزداں کے درمیان گفتگو ہوئی ہے۔ ابلیس کہتا ہے کہ اے خدا مجھے آد م سے کوئی بیر تھا اور نہ تیرے سامنے تکبر کرنا میرے لئے ممکن تھا۔ بات صرف اتنی ہے کہ تیری مشیت میں ہی میرا سجدہ کرنا نہیں لکھا تھا۔ خدا پوچھتا ہے کہ تجھ پر یہ راز انکار سے پہلے کھلا یا انکار کے بعد ۔ ابلیس جو اب دیتا ہے کہ انکار کے بعد اس پر خدا طنزاً فرشتوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہتا ہے کہ دیکھو اس کی پستی فطرت نے اُسے یہ بہانہ سکھایا ہے۔ ہم نے اسے جو آزادی بخشی تھی۔ اسے یہ احمق مجبوری اور جبر کا نام دے کر اس کی اہمیت سے انکار کر رہا ہے۔ پستی فطرت نے سکھائی ہے یہ حجت اِ سےکہتا ہے تیری مشیت میں نہ تھا میرا سجوددے رہا ہے اپنی آزادی کو مجبوری کا نامظالم اپنے شعلہ سوزاں کو خود کہتا ہے دود نظم ”ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام“ اقبال کے ہاں ابلیس کی رسمی اور اپنی تصویر بھی ملتی ہے مثلاً ضربِ کلیم کی ایک نظم ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے میں شیطان کہتا ہے۔ لا کر برہمنوں کو سیاست کے بیچ میںزناریوں کو دیر کہن سے نکال دوفکر عرب کو دے کے فرنگی تخیلاتاسلام کو حجاز و یمن سے نکال دواہل حرم سے ان کی روایات چھین لوآہو کو مرغزارِ ختن سے نکال دو بقول تاج محمد خیال: ” ان کا نظریہ شیطان رسمی عقائد سے خواہ کتنا ہی مختلف کیوں نہ ہو شیطان پھر بھی شیطان ہے۔ اس کی شخصیت خواہ کتنی ہی شاندار ہو اور اس کا کردار خواہ کتنا ہی اہم ہو پھر بھی شیطان جن رجحانات کا مظہر ہے اگر انسان بالکل انہی رجحانا ت کا مطیع ہو جائے گا تو نتیجہ ابدی انتشار و کشمکش ، تباہی و بربادی کے سواءکچھ بھی نہ نکلے گا ایسی بنیادوں پر جو سماجی ڈھانچہ تعمیر کیا جائے گا وہ یکسر شیطانی ہوگا یہ قوت کا حامل تو ہوگا لیکن بصیرت سے محروم رہے گا۔“ اقبال کا تصور عقل و عشق (عقل و عشق سے رجوع مکرر) عشق عربی زبان کا لفظ ہے محبت کا بلند تر درجہ عشق کہلاتا ہے اور یہی محبت کسی درجے پر جا کر جنوں کہلاتی ہے۔ عشق کا محرک مجازی یا حقیقی ہو سکتا ہے۔ یہ عشق نا ممکن کو ممکن بنا ڈالتا ہے ۔ کہیں فرہاد سے نہر کھد واتا ہے تو کہیں سوہنی کو کچے گھڑے پر تیرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ عشق ہی کی بدولت کوئی صدیق اکبر کہلاتا ہے تو کوئی سیدنا بلال بنتا ہے۔ غرض ہر عشق کے مدارج مختلف ہیں۔ کوئی عشق مجازی میں ہی گھر کر رہ جاتا ہے۔ تو کوئی عشق ِ مجازی سے حقیقی تک رسائی حاصل کرکے حقیقی اعزازو شرف حاصل کرتا ہے۔ اقبال کے یہاں عشق اور ان کے مترادفات و لوازمات یعنی وجدان ، خود آگہی، باطنی شعور ، جذب ، جنون ، دل ، محبت ، شوق ، آرزو مندی ، درد ، سوز ، جستجو، مستی اور سرمستی کا ذکر جس تکرار، تواتر، انہماک سے ملتا ہے ۔اُس سے ثابت ہوتا ہے کہ اقبال کے تصورات میں عشق کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اقبال کے نزدیک عشق ایک عطیہ الہٰی اور نعمت ازلی ہے۔ انسانوں میں پیغمبروں کا مرتبہ دوسروں سے اس لئے بلند تر ہے کہ ان کا سینہ محبت کی روشنی سے یکسر معمور اور ان کا دل بادہ عشق سے یکسر سرشار ہے۔محبت جسے بعض نے فطرت ِ انسانی کے لطیف ترین حسی پہلو کا نام دیا ہے۔ اور بعض نے روح ِ انسانی پر الہام و وجدان کی بارش یا نورِ معرفت سے تعبیر کیا ہے۔اس کے متعلق اقبال کیا کہتے ہیں اقبال ہی کی زبان سے سنتے چلیے ، یہ ان کی نظم ”محبت “ سے ماخوذ ہے۔ تڑپ بجلی سے پائی ، حور سے پاکیزگی پائیحرارت لی نفس ہائے مسیح ِ ابن مریم سےذرا سی پھر ربو بیت سے شانِ بے نیازی لیملک سے عاجزی ، افتادگی تقدیر ِ شبنم سےپھر ان اجزاءکو گھولا چشمہ حیوان کے پانی میںمرکب نے محبت نام پایا عرشِ اعظم سے یہ ہے وہ محبت کا جذبہ عشق جو اقبال کے دائرہ فکر و فن کا مرکزی نقطہ ہے۔ یہی تخلیق کا ئنات سے لے کر ارتقائے کائنات تک رموزِ فطرت کا آشنا اور کارزارِ حیات میں انسان کا رہنما و کار کُشا ہے۔ بقول اقبال کائنات کی ساری رونق اسی کے دم سے ہے۔ ورنہ اس سے پہلے ، اس کی فضا بے جان اور بے کیف تھی۔ عشق از فریادِ ما ہنگامہ ہا تعمیر کرد!ورنہ ایں بزمِ خموشاں ہیچ غوغائے نداشت فہرست [1 عقل اور عشق 2 اقبال کے ہاں عشق سے مراد 3 عقل پر اقبال کا اعتراض 4 عشق اور خودی 5 عشق کو عقل پر ترجیح دینے کے اسباب عقل اور عشق ڈاکٹر عابد حسین اپنے مضمون ”عقل و عشق۔۔۔اقبال کی شاعری میں“ میں لکھتے ہیں کہ، ” عقل اور عشق کی کشمکش اردو اور فارسی شاعری کا پرانا مضمون ہے عشقیہ شاعری میں عقل ،مصلحت اندیشی اور احتیاط کے معانی میں آتا ہے۔ اور عشق اس والہانہ محبت کے معانی میں جو آدابِ مصلحت سے ناآشنا اور وضع احتیاط سے بیگانہ ہے ظاہر ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔“ متصوفانہ شاعری میں عقل سے مراد منطقی استدلال ہے جس کے ذریعے ظن ظاہر کا دھندلا تصور قائم ہوتا ہے۔ جبکہ عشق سے مراد جذبِ باطن جس کی بدولت طالب ِ تعینات کے پردوں کو ہٹا کر حقیقت کی بلاواسطہ معرفت حاصل کرنا ہے۔ اقبال نے عقل اور عشق کے تصورات صوفی شاعروں سے لے کر ان پر جدید فلسفہ وجدانیت کا رنگ چڑھایا۔ صوفی شعراء”ہمہ اوست“ کے قائل ہیں ان کے نزدیک کائنات کا وجود ہمارے حواس ظاہری کا فریب ہے۔ جبکہ جدید فلسفہ وجدانیت کے سب سے ممتاز فلسفی برگساں کے خیال میں انسان کے ذہن کاکام یہ ہے کہ حسی وظیفہ کو حرکتی وظیفہ میں منتقل کر دے اقبال بھی برگساں سے متاثر تھے۔ بقول اقبال عقل نے ایک دن یہ دل سے کہابھولے بھٹکے کی رہنما ہوں میںہوں مفسر کتا ب ِ ہستی کیمظہر شان کبریا ہوں میں جواب میں دل کہتا ہے کہ، علم تجھ سے تو معرفت مجھ سےتو خدا جو خدا نما ہوں میں عقل راز کو سمجھ کر اس کا ادراک کرتی ہے۔ جبکہ عشق اسے آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ یعنی حقیقت ہستی کا بلاِ واسطہ مشاہدہ کرتا ہے۔ عقل زمان و مکان کی پابند جبکہ عشق زمان و مکاں کی حدود سے نکل کر اُ س عالم نا محدود میں پہنچ جاتا ہے۔ جہاں حقیقت بے حجاب ہوتی ہے۔ اور یہ معرفت کا مقام ہے۔عقل کی منزل مقصود ہستی مطلق کی معرفت وہ خدا جو ہے لیکن اس کی جستجو ناتمام ہے عشق خدانما ہے جو راہ طلب میں عقل کی رہبری کرتا ہے۔گویا اقبال کے نزدیک عقل اور عشق میں بنیادی تضاد اتنا زیادہ نہیں بلکہ ابتدائی مراحل پر تو عقل کی ہی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ فطرت کو خر د کے روبر کرتسخیر مقامِ رنگ و بو کر؟ عقل میں بہت سی صفات موجود ہیں البتہ اس میں وہ جوش و خروش ، تڑپ ، حرکت اور وہ جرات نہیں جو عشق کا شیوہ ہے۔ عقل اگرچہ آستانِ حقیقت سے دور نہیں لیکن اکیلی اس تک پہنچ نہیں سکتی ۔ عقل گو آستا ںسے دور نہیںاس کی تقدیر میں حضور نہیںعلم میں بھی سرور ہے لیکنیہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیںدل بینا بھی کر خدا سے طلبآنکھ کا نور دل کا نور نہیں اقبال کے ہاں عشق سے مراد اقبال کے ہاں عشق سے مراد ایمان ہے ایمان کا پہلا جُز حق تعالیٰ کی الوہیت کا اقرار ہے اور اس پر شدت سے یقین ، اس شدت کو صوفیاءکرام نے عشق سے تعبیر کیا ہے۔ عقل ہمیں زندگی کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات کا حل سمجھاتی ہے لیکن جو شے عمل پر آمادہ کرتی ہے وہ ہے عشق ۔ عشق و ایمان سے زیادہ قوی کوئی جذبہ نہیں، اس کی نگاہوں سے تقدیریں بد ل جاتی ہیں۔ کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زورِ بازو کانگاہ ِ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں بقول مولانا روم، ” عقل جُزئی قبر سے آگے نہیں دیکھ سکتی ۔۔۔۔ قبر سے آگے عشق کا قدم اُٹھتا ہے اور عشق ایک جست میں زمان و مکان والی کائنات سے آگے نکل جاتا ہے۔ عشق کی ایک جست نے طے کر دیا قصہ تماماس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں اقبال کے نزدیک عقل و علم کی سب سے بڑی کوتاہی یہ ہے کہ اس کی بنیاد شک پر قائم ہے۔ اس وجہ سے عقل و علم میں وہ خواص موجود نہیں جو تربیت خودی کے لئے ضروری ہیں۔ اس کے مقابلے میں عشق بے خوفی ، جرات اور یقین و ایمان پیدا کرتی ہے۔ اس لئے وہ خدا سے صاحبِ جنوں ہونے کی آرزو کرتے ہیں۔ بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشقعقل ہے محو تماشائے لبِ بام ابھی خرد کی گتھیاں سلجھا چکا میںمرے مولا مجھے صاحب جنوں کر خرد نے کہہ بھی دیا لا الہٰ تو کیا حاصلدل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں عقل پر اقبال کا اعتراض ڈاکٹر سید عبداللہ ”عقل و خودی“ کے عنوان سے ”طیف اقبال“ میں اس امر پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں، ” اقبال کے خیال میں عقل ایک ناتمام چیز ہے یعنی عقل حقیقت کی کلیت کا ادراک نہیں کر سکتی۔۔۔۔ عقل جو حواس پر مبنی ہے حقیقت تک پہنچنے کے لئے یقینی راستہ نہیں ہے۔“ گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نورچراغِ راہ ہے منزل نہیں ہے عقل کے خلاف اقبال کا اعتراض ہے کہ عقل میں گرمی، جذب ، سرور و جنوں نہیں ۔ خودی کی تقویت کے لئے جس سرگرمی جذب و سرور کی ضرورت ہوتی ہے۔ عقل اس سے محروم ہے۔ خودی کی تسخیر کے لئے آگے بڑھنے کی جدوجہد کے لئے یقین کی ضرورت ہے مگر وہ یقین عقل کے ذریعے حاصل نہیں ہو سکتا ۔ عقل کی باتیں یقینی نہیں ہوتیں۔ عقل کی ایک بڑی کمزوری یہ بھی ہے کہ وہ شک میں گرفتار رہتی ہے اس لئے خودی میں و ہ حرکت اس سے پیدا نہیں ہوتی جو عشق یعنی یقین سے پیدا ہوتی ہے۔ بحرکیف عقل ایسی چیز نہیں جس سے نفرت ہو، اقبال نے عملی اور جزوی امور میں اس کی مخالفت نہیں کی انہوں نے عقل سے اختلاف اس لئے کیا ہے کہ کلی امور میں یہ فوراً انکار کر دیتی ہے۔ اک دانش ِنورانی ، اک دانش برہانیہے دانش ِ برہانی، حیرت کی فراوانی عشق اور خودی اقبال کے تصورِ خودی کو ان کے تصورِ عشق سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا تربیت خودی کے لئے سب سے بڑا وسیلہ اقبال کے نزدیک عشق ہے جس کے بغیر خودی نہ ترقی کر سکتی ہے اور نہ پختہ ہو سکتی ہے۔ صوفیوں کے نزدیک نصب العین تک پہنچنے کے لئے خودی کو مٹانا ضروری ہے۔ ان کے نزدیک عشق کے کمال کی علامت یہ ہے کہ مادی وجود کو خود مٹایا جائے اقبال کے نزدیک خودی کی تربیت ضروری ہے نہ کہ مٹا دینا۔ اقبا ل نے بار بار کہا ہے کہ خودی عشق سے استوار ہوتی ہے۔ اور یہ عشق نہ تو وہ صوفیانہ عشق ہے جو خود کو فنا کرکے کمال حاصل کرتا ہے اور نہ وہ مجازی عشق جو معمولی آرزوں کے لئے تڑپنا ہے۔ اقبال کے نزدیک اس کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ مرد خدا کا عمل ، عشق سے صاحب فروغعشق ہے اصل ِ حیات ، موت ہے اس پر حرامعشق دمِ جبرئیل ، عشق دل ِ مصطفیعشق خدا کا رسول ، عشق خدا کا کلامعشق کی تقویم میں، عصرِ رواں کے سوااور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام ڈاکٹر سید عبداللہ ”طیف اقبال “ میں لکھتے ہیں۔ ” اقبال کے نزدیک عشق اورخودی ایک ہی چیز کے دو نام ہیں ۔ عشق پا لینے مسخر کرنے کی صلاحیت اور آرزو رکھتا ہے اور خودی کا خاصہ بھی یہی ہے کہ وہ غیر خودی کو مسخر کرنے یا پانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ عشق کا خاصہ ہے۔۔۔۔۔ کہ اس کا یقین اٹل اور محکم ہوتا ہے اور خود ی بھی یقین محکم کے پہیوں پر چلتی ہے۔ عشق پریشانیوں ، رنگا رنگیوں اور بد نظمی میں ترتیب ِحیات کرتا ہے۔ خودی کا بھی یہ وصف ہے کہ تنظیم حیات کرتی ہے۔“ الغرض اقبال کے نزدیک خودی نہ صرف عشق سے استوار ہوئی ہے بلکہ عشق خودی کا دوسرا نام ہے مولانا عبدالسلام ندوی”اقبال ِ کامل “ میں لکھتے ہیں کہ ، ”ڈاکٹر صاحب کے نزدیک عقل و عشق دونوں خودی کا جزو ترکیبی ہیں۔“ عشق کو عقل پر ترجیح دینے کے اسباب اقبال اگرچہ عقل کے مقابلے میں عشق کی برتری کے قائل ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ عقل کے مخالف ہیں بلکہ وہ ایک حد تک اس کی اہمیت کے قائل ہیں تاہم یہ درست ہے کہ اقبال عشق کو عقل پر ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک عشق سے ہی حقائق اشیا کا مکمل علمِ بصیرت حاصل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے خیال میں زندگی کی ساری رونق عشق سے ہے علم و عقل انسان کو منزل کے قریب تو پہنچا سکتے ہیں لیکن عشق کی مدد کے بغیر منزل کو طے نہیں کر سکتے۔ عقل گو آستاں سے دور نہیںاس کی تقدیر میں حضور نہیں اگر چہ عام طور پر عقل سے رہنمائی کا کام لیا جاتا ہے لیکن عشق عقل سے زیادہ صاحبِ ادراک ہے زمانہ عقل کو سمجھا ہوا ہے مشعل راہکسے خبر کہ جنوں بھی ہے صاحب ادراک اقبال کو اپنے ہم مشربوں سے شکایت ہے کہ وہ اس جنوں سے محروم ہیں ، جو عقل کو کارسازی کی راہ و رسم سکھا سکے۔ ترے دشت و در میں مجھ کو وہ جنوں نظر نہ آیاکہ سکھا سکے خرد کو راہ و رسم کارسازی بغیر نورِ عشق کے علم و عقل کی مدد سے دین و تمدن کی جو توجیہ کی جائے گی۔ وہ حقیقت پر کبھی بھی حاوی نہیں ہو سکتی ۔ عقل تصورات کا بت کدہ بنا سکتی ہے ۔ لیکن زندگی کی صحیح رہبری نہیں کر سکتی۔ عقل و دل و نگاہ کا مرشد اولیں ہے عشقعشق نہ ہو تو شرع و دیں بُت کدہ تصورات اقبال کے نزدیک عقل کی کمزوری یہ ہے کہ اس میں جرات رندانہ کی کمی ہے۔ جب تک عشق اس کی پشت پناہ نہ ہو آگے نہیں بڑھتی ۔ عقل اسباب کی بھول بھلیوں میں گم ہو کر اصل حقیقت سے دور رہتی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ اقبال سراسر عقل کا مخالف نہیں۔ چنانچہ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ وہ تمام امور جن سے قوموں کی زندگی بدل گئی کسی نہ کسی جذبہ کے تحت انجام پاتے ہیں اسی خیال کو اقبال اس طرح ادا کرتے ہیں۔ بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشقعقل ہے محوِ تماشائے لب بام ابھی زندگی کے جس چاک کو عقل نہیں سی سکتی اس کو عشق اپنی کرامات سے بے سوزن اور بغیر تارِ رفو سی سکتا ہے۔ وہ پرانے چاک جن کو عقل سی سکتی نہیںعشق سیتا ہے انہیں بے سوزن و تارِ رفو عقل کی عیاری اور عشق کی سادگی اور اخلاص کو اس طرح ظاہر کیا ہے۔ عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہےعشق بے چارہ نہ مُلا ہے نہ زاہد نہ حکیم روحانی ترقی ، جسے اقبال حیات ِ انسانی کا اصل مقصود گردانتے ہیں۔ عشق کی رہبری کی محتاج ہے اور اس میں اقبال عقل و علم کو بے دست و پا خیال کرتے ہیں ، خود انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے۔ خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہسکھائی عشق نے مجھ کو حدیث رندانہ کبھی کبھی پاسبان ِ عقل کی موجودگی انسان کو تنگ کرنے لگتی ہے خاص طور پر جب وہ تنقید ہی کو مطمع نظر بنا لے ایسے موقعوں پر اقبال اعمال کی بنیاد عقل کے بجائے عشق پر رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ عقل کو تنقید سے فرصت نہیںعشق پر اعمال کی بنیاد رکھ کبھی کبھی اقبال کے ضمیر میں معرکہ ہونے لگتا ہے۔ اور انہیں احساس ہوتا ہے کہ عشق ہی حق ہے اور عقل اس کے مقابلے میں وہی درجہ رکھتی ہے جو رسول ِ پاک کے مقابلے میں ابولہب کا تھا۔ تازہ میر ے ضمیر پر معرکہ کہن ہواعشق تمام مصطفی، عقل تمام بولہب ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں عقل سے کسی قسم کی رہنمائی کی توقع رکھنا بے جا ہی ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اقبال عشق کو عقل سے برتر و بلند قرار دیتے ہیں ۔ اگر اقبال کے تصور عشق کے بارے میں ایک فقرے میں بات کی جائے تو حضرت علامہ کے شعر کے صرف ایک مصرعے میں ہی بات مکمل کی جاسکتی ہے۔ عشق کی ایک جست نے طے کر دیا قصہ تمام یہی وجہ ہے کہ اقبال عقل کے بجائے عشق سے کام لینے کا مشورہ دیتے ہیں جس کی ایک جست سے سارا قصہ تمام ہو جاتا ہے جس فاصلے کو انسان بیکراں سمجھتا ہے ، عشق ایک چھلانگ میں اُسے عبور کرا دیتی ہے۔ ان تفصیلات سے اقبال کے تصور عشق کا پتہ چلتا ہے۔ وہ اگر چہ عشق کو عقل پر فوقیت دیتے ہیں ، تاہم عقل کی اہمیت سے انکار نہیں ہے۔ درج بالا تفصیلات سے یہ بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اقبال کا تصور عشق اردو فارسی کے دوسرے شعرا سے کتنا مختلف ہے ۔ اقبال کے نزدیک عشق ، محض اضطراری کیفیت ، ہیجان جنسی ہوس باختہ از خود رفتگی ، فنا آمادگی ، یا محدود کو لامحدود میں گم کر دینے کا نام نہیں ہے۔ بلکہ ان کے یہاں عشق نام ہے ایک عالمگیر قوتِ حیات کا ، جذبہ عمل سے سرشاری کا۔ اقبال کا ذہنی و فکری ارتقاء فہرست 1 شاعری کی ابتداء 2 شاعری کی شہرت 3 شاعری کے مختلف ادوار 4 شاعری کا پہلا دور 4.1 روایتی غزل گوئی 4.2 نظم نگاری 4.3 مغربی اثرات 4.4 فلسفہ خودی 5 شاعری کا دوسرا دور 5.1 پیامبری 5.2 یورپی تہذیب سے بیزاری 5.3 اسلامی شاعری 5.4 فارسی شاعری کا آغاز 6 شاعری کا تیسرا دور 6.1 وطنیت و قومیت 6.2 اسلامی شاعری 6.3 فلسفہ خودی 7 شاعری کا چوتھا دور 7.1 طویل نظمیں 7.2 نئے تصورات 7.3 گزشتہ ادوار کی تکمیل 7.4 افکار و نظریات میں تغیر و تضاد شاعری کی ابتداء اقبال کی شاعری پر اظہار خیال کرنے والے مفکرین اس بات پر متفق ہیں کہ ان کی شاعری کا آغاز اسی وقت وہ گیا جب وہ ابھی سکول کے طالب علم تھے اس سلسلے میں شیخ عبدالقادر کہتے ہیں، ” جب وہ سکول میں پڑھتے تھے اس وقت سے ہی ان کی زبان سے کلام موزوں نکلنے لگا تھا۔“ عبدالقادر سہروردی کا کہنا ہے کہ، ” جب وہ سکول کی تعلیم ختم کر کے اسکاچ مشن کالج میں داخل ہوئے تو ان کی شاعری شروع ہوئی۔“ ان دونوں آراءمیں اگرچہ معمولی سا اختلاف ہے لیکن یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ علامہ اقبال کی شاعری کا آغاز انہی دنوں ہوگیا تھا جب وہ اپنے آبائی شہر سیالکوٹ کے چھوٹے موٹے مشاعروں میں بھی شرکت کیا کرتے تھے۔ لیکن ان کی اس زمانہ کی شاعری کا نمونہ دستیاب نہیں ہو سکا ہے۔ کچھ عرصہ کے بعد علامہ اقبال جب اعلیٰ تعلیم کے لئے لاہور پہنچے تو اس علمی ادبی مرکز میں ان کی شاعرانہ صلاحیتوں کو ابھرنے اور تربیت پانے کا سنہر ی موقعہ ہاتھ آیا ، یہاں جگہ جگہ شعر و شاعری کی محفلوں کا چرچا تھا۔ مرزا رشد گورگانی دہلوی اور میر ناظم لکھنوی جیسے پختہ کلام اور استادی کا مرتبہ رکھنے والے شاعر ےہاں موجود تھے اور ان اساتذہ شعر نے ایک مشاعرے کا سلسلہ شروع کیاتھا۔ جو ہر ماہ بازارِ حکیماں میں منعقد ہوتا رہا۔ اقبال بھی اپنے شاعرانہ ذوق کی تسکین کی خاطر اس مشاعر ے میں شریک ہونے لگے۔ اس طرح مرزا ارشد گورگانی سے وہ بحیثیت شاعر کے متعارف ہوئے اور رفتہ رفتہ انہوں نے مرزا صاحب سے اپنے شعروں پر اصلاح بھی لینی شروع کر دی۔ اس زمانہ میں وہ نہ صرف غزلیں کہا کرتے تھے۔ اور یہ غزلیں چھوٹی بحروں میں سادہ ، خیالات کا اظہار لئے ہوئی تھیں۔ البتہ شوخی اور بے ساختہ پن سے اقبال کی شاعرانہ صلاحیتوں کا اظہار ضرور ہو جاتا تھا۔ بازار حکیماں کے ایک مشاعرے میں انہی دنوں اقبال نے ایک غزل پڑھی جس کا ایک شعر یہ تھا۔ موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لئےقطرے جو تھے مرے عرق انفعال کے اس شعر کا سننا تھا کہ محفل مشاعرہ میں موجود سخن سنج اصحاب پھڑک اُٹھے اور مرزا ارشد گورگانی نے اسی وقت پیشن گوئی کی کہ اقبال مستقبل کے عظیم شعراءمیں سے ہوگا۔ شاعری کی شہرت اقبا ل کی شاعری کا چرچا شروع شروع میں بازار حکیماں کے مشاعروں تک محدود تھا۔ یا پھر لاہور کے کالجوں کی ادبی مجالس میں انہیں شاعر کی حیثیت سے پہچانا جاتا تھا۔ لیکن زیادہ عرصہ نہیں گذرا تھا کہ شہر کی ادبی مجالس میں انہیں ایک خوش گو اور خوش فکر نوجوان شاعر کی حیثیت سے پہنچانا جانے لگا۔ انہی دنوں انہوں نے غزل کے ساتھ ساتھ نظم پر بھی توجہ کی۔ ایک ادبی مجلس میں انہوں نے اپنی اولین نظم ”ہمالہ “ سنائی تو اسے بہت پسند کیاگیا۔ چنانچہ اقبال کی یہ پہلی تخلیق تھی جو اشاعت پذیر ہوئی۔ شیخ عبدالقادر نے اسی زمانہ میں اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے لئے اپنا پہلا مشہور رسالہ ”مخزن “ جاری کیاتھا۔ اس کے پہلے شمارے میں اپریل ١٠٩١ءمیں اقبال کی یہ نظم شائع ہوئی یہ گویا ان کی باقاعدہ شاعری کا آغاز تھا۔ ان کے پہلے مجموعہ کلام ”بانگ درا“ کی اولین نظم یہی ہے۔ اور اسی نظم کے چھپنے کے بعد ان کی شہرت روز بروز پھیلتی چلی گئی۔ شاعری کے مختلف ادوار اقبال کے ذہنی و فکری ارتقاءکی منازل کا تعین اس کی شاعری کو مختلف ادوار میں تقسیم کرکے کیا جاتا رہا ہے کیونکہ اقبال نے اپنے افکار و خیالات کے اظہار کا ذریعہ شاعری کو ہی بنایا ہے۔ یہ طریقہ سب سے پہلے شیخ عبدالقادر نے اختیار کیاتھا۔ انہوں نے ”بانگ درا“ کا دیباچہ لکھتے وقت اقبال کی شاعری پر تبصرہ کیا ہے۔ اور اسے تین ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ لیکن یہ تقسیم بعد میں اس لئے قابل قبول نہیں رہی کہ شیخ عبدالقادر کے پیش نظر اقبال کا وہ کلام تھاجو ”بانگ درا“ میں شامل ہے۔ بعد کے نقادوں کے ان کے پورے کلام کو پیش نظر رکھ کر شیخ عبدالقادر کی پیروی کرتے ہوئے اُسے مختلف ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ چنانچہ مولانا عبدالسلام ندوی اور طاہر فاروقی نے اقبال کی شاعری کے چار ادوار قائم کئے ہیں۔ ان دونوں کے ہاں ادوار کا تعین تقریباً یکساں ہے۔ طاہر فاروقی نے اپنی کتاب ”سیرت اقبال“ اور عبدالسلام ندوی نے اپنی کتاب” اقبال کامل“ میں ان ادوار کا تعین کیاہے۔ان دونوں کے نزدیک اقبال کی شاعری کے مندرجہ ذیل چار ادوار ہیں۔ 1۔ پہلا دور از ابتداء1905ءیعنی اقبال کے بغرضِ تعلیم یورپ جانے تک کی شاعری 2۔دوسرا دور 1905ءتا 1908ءیعنی اقبال کے قیامِ یورپ کے زمانہ کی شاعری 3۔ تیسرا دور 1908ءتا 1924ءیعنی یورپ سے واپس آنے کے بعد ”بانگ درا “ کی اشاعت تک کی شاعری 4۔ چوتھا دور 1924ءتا 1938ء”بانگ درا “ کی اشاعت سے اقبال کے وفات تک کی شاعری بعد میں ڈاکٹر سید عبداللہ نے اپنی کتاب ”طیف اقبال“ میں یہی طریقہ استعمال کرتے ہوئے صرف ایک دور کا اضافہ کرتے ہوئے اقبال کی شاعری کو پانچ ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ ڈاکٹر سید عبداللہ نے دراصل اقبال کی شاعری کو ان سیاسی واقعات کی روشنی میں تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے جن سے ہندوستان کے مسلمان متاثر ہوتے رہے۔ اس لئے ان کی شاعری کی تقسیم ان چار ادوار میں ہی درست ہے جو مولانا عبدالسلام ندوی اور طاہر فاروقی نے متعین کئے ہیں۔ شاعری کا پہلا دور اقبال کی شاعری کا پہلا دوران کی شاعری کی ابتداءسے ٥٠٩١ءتک یا بالفاظِ دیگر اس وقت تک شمار کیا جاسکتا ہے جب وہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کی خاطر یورپ روانہ ہوئے ۔ اس دور کی خصوصیات ذیل ہیں۔ روایتی غزل گوئی اپنی شاعری کے بالکل ابتدائی زمانہ میں اقبال کی توجہ غزل گوئی کی جانب تھی اور ان غزلوں میں رسمی اور روایتی مضامین ہی باندھے جاتے تھے۔ واپس آنے کے بعد انہوں نے مرزا ارشد گورگانی سے اصلاح لینی شروع کی تب بھی ان کی غزلوں کا روایتی مزاج برقرار رہا ۔ البتہ ان کی طبیعت کی جدت طرازی کبھی کبھی ان سے کوئی ایسا شعر ضرور کہلوا دیتی تھی جو عام ڈگر سے ہٹ کر ہوتا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب استاد داغ کی زبان دانی اور شاعری کا چرچا تمام ہندوستان میں پھیلا تھا۔ اقبال نے اصلاح ِ سخن کی خاطر داغ سے رابطہ پیدا کیا۔ وہ نہ صرف اپنی غزلوں پر داغ سے اصلاح لیتے رہے بلکہ داغ کا لب و لہجہ اور رنگ اپنانے کی کوشش بھی کی۔اور داغ کی طرز میں بہت سی غزلیں کہیں ۔ چند غزلیں جو اس دور کی یادگار کے طور پر باقی رہ گئی ہیں وہ واضح طور پر داغ کے رنگ نمایاں کرتی ہیں انہی میں سے وہ مشہور غزل بھی ہے جس کے چند اشعار یہ ہیں۔ نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھیمگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیاتھی تمہارے پیامی نے سب راز کھولاخطا اس میں بندے کی سرکار کیاتھی نظم نگاری اقبال نے جلد ہی اندازہ کر لیاتھا کہ روایتی قسم کی غزل گوئی ان کے مزاج اور طبیعت سے مناسبت نہیں رکھتی اور انہیں اپنے خیالات کے اظہار کے لئے زیادہ وسیع میدان کی ضرورت ہے چنانچہ انہوں نے نظم نگاری کی جانب توجہ کی اور اس کا آغاز” ہمالہ “ جیسی خوبصورت نظم لکھ کر کیا جسے فوراً ہی قبول عام کی سند حاصل ہوگئی۔ اس سی ان کا حوصلہ بندھا اور انہوں نے پے درپے نظمیں لکھنی شروع کر دیں ۔ انہی نظموں میں ان کی وہ مشہور نظمیں شامل ہیں جو ”نالہ یتیم “ ”ہلال عید سے خطاب“ اور ”ابر گہر بار“ کے عنوان سے انجمنِ حمایت اسلام کے جلسوں میں پڑھی گئیں۔ مغربی اثرات اقبال کو شروع ہی سے مغربی ادب کے ساتھ شغف رہاتھا چنانچہ اپنی شاعری کے ابتدائی زمانہ میں انہوں نے بہت سی انگریزی نظموں کے خوبصورت ترجمے کئے ہیں۔ ”پیام صبح “ ”عشق اور موت“اور ” رخصت اے بزم جہاں“ جیسی نظمیں ایسے تراجم کی واضح مثالیں ہیں۔ اس زمانہ میں انہوں نے بچوں کے لئے بھی بہت سی نظمیں لکھی ہیں۔ مثلاً مکڑاور مکھی، ایک پہاڑ اور گلہری، ایک گائے اور بکری ، بچے کی دعا، ماں کا خواب ، ہمدردی وغیرہ یہ تمام نظمیں مغربی شعراءکے کلام سے ماخوذ ہیں۔ فلسفہ خودی اقبال کے ابتدائی دور کی کئی نظمیں اس لحاظ سے بہت اہمیت کی حامل ہیں کہ ان میں اقبال کی فلسفہ خودی کے کئی عناصر اپنی ابتدائی اور خام شکل میں موجود ہیں۔ یہی عناصر ہیں جنہیں آگے چل کر اپنی صورت واضح کی اور مربوط و منظم ہو کر اقبال کے نظام فکر میں بنیادی حیثیت اختیار کر لی اور اس کا نام فلسفہ خودی قرار پایا۔اس فلسفہ خودی کے درج ذیل عناصر ہیں۔ 1 اقبال کے فلسفہ خودی میں انسان کی فضیلت ، استعداد اور صلاحیتو ں کابڑا زور دیا گیا ہے۔ 2 فلسفہ خودی کا دوسرا بڑا عنصر عشق اور عقل کی معرکہ آرائی میں عشق کی برتری کا اظہار ہے۔ 3 فلسفہ خودی کا ایک اور عنصر خیر و شر کی کشمکش ہے جو کائنات میں ہر آن جاری ہے۔ 4 فلسفہ خودی کا ایک بہت قوی عنصر حیاتِ جاودانی اور بقائے دوام کا تصور ہے۔ 5 اقبال کے فلسفہ خودی کا ایک اہم عنصر یہ ہے کہ زندگی کی جہد مسلسل خیال کرتے ہیں۔ اقبال کے اس ابتدائی دور کی شاعری کا مجموعی طور پر جائزہ لیا جائے تو ڈاکٹر سید عبداللہ کے بقول ، ” یہ ایک طرح کا جستجو، کوشش، اظہار اور تعمیر کا دور ہے اقبال کی آنے والی شاعری کے بیشتر رجحانات اور شاعرانہ افکار کے ابتدائی نقوش و آثار اس شاعری میں مل جاتے ہیں۔“ جبکہ ڈاکٹر عبداللہ رومانی کا کہنا ہے۔ ” اس دور کا اقبال نیچر پر ست ہے اور جو چیز اس دور کی نظموں میں نمایاں نظر آتی ہے وہ تنہائی کا احساس ہے اس بھری انجمن میں اپنے آپ کو تنہا سمجھنے کا احساس اور زادگانِ فطرت سے استعفار اور ہم کلامی اقبال کی رومانیت کی واضح دلیل ہے۔“ شاعری کا دوسرا دور اقبال کی شاعری کا دوسرا دور 1905ءمیں ان کی یورپ کے لئے روانگی سے لےکر 1908ءمیں ان کے یورپ سے واپسی تک کے عرصہ پر محیط ہے۔ گویا اس دور میں ان کا وہ کلام شامل ہے جو انہوں نے اپنے قیام یورپ کے دوران لکھا اس تمام عرصہ میں انہیں شعری مشغلہ کے لئے بہت کم وقت ملا کیونکہ ان کا زیادہ وقت اعلیٰ تعلیم کے حصول پی ۔ ایچ ۔ ڈی کے لئے تحقیقی مصرفیات اور مغربی افکار کے مطالعہ میں صرف ہوتا رہا۔ شائد ان ٹھوس علمی مصروفیات کا یہی اثر تھا کہ ایک مرحلہ پر وہ شاعری کو بیکار محض تصور کرنے لگے اور اس مشغلہ کو ترک کرنے کا ارادہ کر لیا۔ شیخ عبدالقادر جو اُن دنوں انگلستان میں تھے لکھتے ہیں کہ، ” ایک دن شیخ محمد اقبال نے مجھ سے کہا کہ ان کا مصمم ارادہ ہو گیا ہے کہ وہ شاعری کو ترک کر دیں اور قسم کھا لیں کہ شعر نہیں کہیں گے۔ میں نے ان سے کہاکہ ان کی شاعری ایسی شاعری نہیں جسے ترک کرنا چاہیے ۔ شیخ صاحب کچھ قائل ہوئے کچھ نہ ہوئے آخر یہ قرار پایا کہ آخری فیصلہ آرنلڈ صاحب کی رائے پر چھوڑا جائے ۔ آرنلڈ صاحب نے مجھ سے اتفاق رائے کیا اور فیصلہ یہی ہوا کہ اقبال کے لئے شاعری چھوڑنا جائز نہیں۔“ اس زمانہ کی شاعری کی خصوصیات درجِ ذیل ہیں، پیامبری اقبال کی اس دور کی شاعری میں یورپ کے مشاہدات کا عکس واضح نظر آتا ہے یورپ کی ترقی کے مشاہدہ نے ان پر یہ راز کھولا کہ زندگی مسلسل جدوجہد ، مسلسل حرکت ، مسلسل تگ و دو اور مسلسل آگے بڑھتے رہنے سے عبارت ہے۔ اس لئے مولانا عبدالسلام ندوی کہتے ہیں، ” اسی زمانہ میں ان کا زاویہ نگاہ تبدیل ہوگیا اور انہوں نے شاعر کی بجائے پیامبر کی حیثیت اختیار کر لی۔“ چنانچہ انہوں نے ”طلبہ علی گڑھ کالج کے نام“ کے عنوان سے جو نظم لکھی اس میں کہتے ہیں، اور روں کا ہے پیام اور ، میرا پیام اور ہےعشق کے دردمند کا طرز کلام اور ہےشمع سحر کہہ گئی، سوز ہے زندگی کا رازغمکدہ نمود میں ، شرط دوام اور ہے اس طرح چاند اور تارے اور کوشش ناتمام بھی اسی پیغام کی حامل ہیں۔ یورپی تہذیب سے بیزاری اقبال یورپ کی ترقی سے متاثر ہوئے تھے لیکن ترقی کی چکا چوند انہیں مرغوب نہیں کرسکتی ہے۔ وہ صحیح اسلامی اصول و قوانین اور قرآنی احکام پر عمل کرنے اور بری باتوں سے پرہیز کرنے کے قائل ہیں۔ مغربی تہذیب کا کھوکھلا پن ان پر ظاہر ہوتا ہے وہ اس سے بےزاری کا اظہار و اشگاف الفاظ میں کرتے ہیں۔ دیار ِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہےکھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ زر اب کم عیار ہوگا تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گیجو شاخ نازک پر بنے گا آشیانہ ناپا ئیدار ہوگا اسلامی شاعری مغربی تہذیب کے کھوکھلے پن اور ناپائیداری کا ادراک کرنے کے بعد اورجس فن افکار نے اس تہذیب کو جنم دیا تھا ان کی بے مائیگی کو سمجھ لینے کے بعد اقبال آخر کار اسلامی نظریہ فکر کی جانب راغب ہوئے۔اسی تغیر فکر نے ان کے اندر ملتِ اسلامیہ کی خدمت کا جذبہ بیدار کیا۔ اس جذبے کی عکاسی ان کی نظم ”شیخ عبدالقادر کے نام “ میں ہوتی ہے۔ جہاں وہ لکھتے ہیں۔ اُٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا افق ِ خاور پربزم میں شعلہ نوائی سے اجالا کردیںشمع کی طرح جئیں بزم گہ عالم میںخود جلیں دیدہ اغیار کو بینا کر دیں فارسی شاعری کا آغاز اس دور میں اقبال نے اردو کے ساتھ ساتھ فارسی میں طبع آزمائی شروع کی ۔ فارسی زبان کی وسعت اور اس کے پیرایہ اظہار و بیان کی ہمہ گیری کے ساتھ اقبال کو اپنی شاعری کے وسیع امکانات کی بڑی مطابقت نظر آئی۔ اس دور تک پہنچتے پہنچتے اقبال کے افکار و خیالات کسی قدر واضح اور متعین شکل اختیار کرنے لگتے ہیں۔ یورپی تہذیب کی ملمع کاری اور کھوکھلے پن کا ان پر اظہار ہوگیا ہے اور وہ ملک کی نجات مشرقی افکار و نظریات میں پانے لگے ہیں۔ اس ملت کے لئے ان کے پاس اب یہ پیغام ہے کہ وہ اسلام کے اصولوں پر سختی سے کار بند ہوں۔ شاعری کا تیسرا دور اقبال کی شاعری کا تےسرا دور 1908ءمیں یورپ سے ان کی واپسی کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ اور 1924ءمیں ”بانگ درا“ کی اشاعت تک شمار کیا جاتا ہے یہ دور ان کے افکار و خیالات کی تکمیل اور تعین کا دور ہے اس دور کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں۔ وطنیت و قومیت اقبال نے قیام یورپ کے دوران اُن اسباب کا بھی تجزیہ کیا تھا جو مغربی اقوام کی ترقی اور عروج ممدو معاون ہونے اور ان حالات کا بی گہرا مشاہدہ کیاتھا جو مشرقی اور خاص طور پر اسلامی ممالک کے زوال اور پسماندگی کا باعث بنے۔ ان کی تیز بین نظروں کے سامنے اب وہ تمام حربے بے نقاب تھے جو مغربی اقوام نے مشرق کو غلام بنائے رکھنے کے لئے وضع کر لئے تھے۔ ان سب حربوں میں زیادہ خطرناک حربہ وطنیت اور قومیت کا نظریہ تھا۔ اس تصور کو ملتِ اسلامیہ کے لئے سب سے زیادہ نقصان دہ سمجھنے لگے اِ سی لئے انہوں نے کہا کہ، ان تازہ خدائوں میں بڑا سب سے وطن ہےجو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہےاقوام میں مخلوق ِ خدا بٹتی ہے اس سےقومیت اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے اسلامی شاعری اس دور میں اقبال صرف وطنیت اور قومیت کے مغربی نظریہ کو مسترد کرکے اس کے مقابلے میں ملت کے اسلامی نظریہ کی تبلیغ ہی نہیں کرتے۔ بلکہ اب ان کی پوری شاعری کا مرکز و محور ہی اسلامی نظریات و تعلیمات بن گئے۔ اگرچہ اس زمانہ میں انہوں نے دوسرے مذہبی پیشوائوں مثلاً رام اور گورونانک وغیرہ کی تعریف میں بھی نظمیں لکھیں ہیں۔ لیکن بحیثیت مجموعی ان کی پوری توجہ اسلام اور ملت اسلامیہ کی جانب ہے۔ ”شمع و شاعر“ اور ”خضر راہ“ اس زمانے کے حالات کا بھرپور جائزہ لیتی ہوئی نظمیں ہیں۔ فلسفہ خودی اس دور میں اقبال کا فلسفہ خودی پوری طرح متشکل ہو کر سامنے آیا۔ ان کی اس دور کی شاعری تمام کی تمام اسی فلسفہ کی تشریح و توضیح ہے۔ چنانچہ اردو شاعری میں بھی اس فلسفہ کا اظہار اکثر جگہ موجود ہے اسی زمانہ میں انہوں نے کہا، تور از کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا!خودی کا راز داں ہو جا ، خدا کا ترجماں ہوجاخودی میں ڈوب جا غافل ، یہ عین زندگانی ہےنکل کر حلقہ شام و سحر سے جاوداں ہوجا شاعری کا چوتھا دور یہ دور 1924ءسے لے کران کے وفات تک ہے اس کی خصوصیات درج ذیل ہیں۔ طویل نظمیں ”بانگ درا“ میں اقبال کی کئی نظمیں شامل ہیں جن میں سے اکثر خارجی اور سیاسی محرکات کے زیر اثر ہیں۔ یہ محرکات چونکہ بہت ہیجان خیز تھے اس لئے نظموں میں جوش و جذبہ کی فضا پوری طرح قائم رہی ہے۔ مثال کے طور پر ”شکوہ“ ”جواب شکوہ“ ، ”شمع و شاعر“ ، طلوع اسلام“ وغیرہ نظموں کے نام لئے جا سکتے ہیں ۔ کئی طویل نظمیں ”بال جبریل “ میں ہیں جیسے ”ساقی نامہ“ وغیرہ۔ نئے تصورات اس دور کے کلام میں کچھ نئے تصورات سامنے آئے مثلاً شیطان کے متعلق نظم ” جبریل ابلیس“ ہے مری جرات سے مشت خاک میں ذوق نمودمیرے فتنے جامہ عقل و خرد کا تاروپوگر کبھی خلوت میسر ہو تو پوچھ اللہ سےقصہ آدم کو رنگیں کر گیا کسِ کا لہو گزشتہ ادوار کی تکمیل بیشتر اعتبار سے یہ گزشتہ ادوار کی تکمیل کرتا ہے۔ مثلاً پہلے ادوار میں وہ یورپی تہذیب سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں جبکہ اس دور میں وہ اس کے خلاف نعرہ بغاوت بلندکرتے ہیں اور اس کے کھوکھلے پن کو واشگاف کرتے ہیں۔ افکار و نظریات میں تغیر و تضاد اقبال کی شاعری کے مندرجہ بالا تفصیلی جائزہ سے یہ بات پوری عیاں ہو جاتی ہے کہ وہ فکری ارتقاءکی مختلف منازل سے ضرور گزرے ہیں۔ لیکن فکری اور نظریاتی تضاد کا شکار کبھی نہیں ہوئے ۔ ابتدائی دور میں وہ وطن پرست تھے تو آخر وقت تک محب وطن رہے ہیں لیکن وطن کی حیثیت انہوں نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جو انسان کو مختلف گروہوں میں تقسیم کرکے آپس میں برسرِ پیکار رہتی ہے۔ کچھ عرصہ بعد انہیں یہ شعور حاصل ہوکہ وہ ایسی ملت کے فرد ہیں جو جغرافیائی حدود میں سمونا نہیں جانتی اس کا نتیجہ یہ نہیں ہوا کہ انہوں نے اپنے ہم وطن دیگر مذاہب کے پیرووں کے لئے نفرت کا اظہار کیا ہو۔بلکہ صرف یہ ہوا کہ انہوں نے اپنا تشخص اس ملت کے حوالہ سے کیا جس کا وہ حصہ تھے۔ یہ ان کی فکری ارتقاءکے مختلف مراحل کے نشانات ہیں اور وہ بہت جلد وطن اور ملت کے متعلق ایک واضح نکتہ نظر کو اپنا چکے تھے ۔ اس کے بعد وہ آخر وقت تک اسی نکتہ نظر کی وضاحت اور تبلیغ میں مصروف رہے اور کسی مقام پر کوئی الجھائو محسوس نہیں کیا۔ اقبال کا نظریہ فن شاعر کی نوا ہو کہ مغنی کا نفس ہوجس سے نفس افسردہ ہو وہ باد سحر کیابے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیںجو ضرب کلیمی نہیں رکھتی و ہ ہنر کیا نظریہ فن کے بارے میں اقبال اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اوّل یہ کہ آرٹ کی غرض محض حسن کا احساس پیدا کرناہے اور دوم یہ کہ آرٹ سے انسانی زندگی کوفائدہ پہنچنا چاہیے۔ اقبال کا ذاتی خیال ہے کہ ہر وہ آرٹ جو زندگی کے لئے فائدہ مند ہے وہ اچھا اور جائز ہے۔ اور جو زندگی کے خلاف ہو وہ ناجائز ہے۔ اور جو انسانوں کی ہمت کو پست اور ان کے جذبات عالیہ کو مردہ کرنے والا ہو قابل ِ نفرت ہے۔ اور اس کی ترویج حکومت کی طرف سے ممنوع قرار دی جانی چاہیے۔آرٹ کے مضر اثرات کے متعلق فرمایا ہے کہ بعض قسم کا آرٹ قوموں کو ہمیشہ کے لئے مردہ بنا دیتا ہے۔ چنانچہ ہندو قوم کی تباہی میں ان کے فن ِ موسیقی کا بہت بڑا حصہ رہا ہے۔ گویا اقبال فن کو زندگی کا معاون سمجھتے ہیں اور اس کو افادیت کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔ اقبال ایسے فن کے شدید مخالف ہیں جس سے قوم پر مردنی چھا جائے اور جو اس کے قوائے عمل کو مضمحل کردے۔ اس لحاظ سے اقبال کے نظریہ فن میں افادیت اور مقصدیت کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اقبال افادیت کے اس حد تک قائل ہیں کہ ان کے خیال میں مردنی پیدا کرنے والے فن کی حکومت کی طرف سے جبراً روک تھام ہونی چاہیے۔ فہرست 1 فن اور زندگی 2 فن اور صداقت 3 فن اور آزادی 4 فن اور خودی 5 فن اور عشق 6 فن اور جلا ل و جمال 7 فن صبح کا پیغامبر 8 معاشرے میں جذبات پیدا کرنا 9 حیات ابدی کے حصول کی لگن 10 فطرت کی خامیوں کو دور کرنا فن اور زندگی اقبال کے نزدیک فن کا واحد مقصد یہ ہے کہ وہ اجتماعی زندگی کی نشوونما میں معاونت کرے جس فن میں نہ زندگی کی کار فرمائی نظر آئے اور نہ فن کار کی خودی وہ اقبال کے نزدیک بیکار ہے۔ اقبال سارے فنون لطیفہ کو زندگی اور خودی کے تابع قرار دیتا ہے ۔ زندگی سے اقبال کی مراد قوم کی اجتماعی زندگی ہے اقبال نے اپنی ایک نظم میں قوم کو ایک جسم قرار دیتے ہوئے افرا د کو اس کے مختلف اعضاءسے تشبیہ دی ہے۔ ان اعضاءمیں شاعر کی حیثیت قوم کے دیدہ بینا کی ہے۔ مثلاً قوم گویا جسم ہے افراد ہے اعضائے قوممنزل صنعت کے رہ پیما ہیں دست و پائے قوممحفل نظم حکومت چہرہ زیبائے قومشاعر رنگیں نو ہے دیدہ بینائے قوم اقبال کہتے ہیں جب تک شاعری میں سوز دروں کی کارفرمائی نہیں ہوگی، قوم سوز آرزو اور سوزِ حیات سے بیگانہ رہے گی۔ اگر قوم لذت آرزو سے محروم رہے گی تو اس کی شیرازہ بندی ممکن نہیں ہوگی مثلاً، شمع محفل ہوکے تو جب سوز سے خالی رہاتیرے پروانے بھی اس لذت سے بےگانے رہےرشتہ الفت میں جب ان کو پروسکتاتھا توپھر پریشاں کیوں تری تسبیح کے دانے رہے فن اور صداقت اقبال کے خیال میں آرٹ کی بنیاد سوز و گداز ، صداقت اور انقلاب انگیز قوت پر ہونی چاہیے۔ لیکن اگر حیات ِ اجتماعی کسی خاص زمانے میں کسی خاص انحطاطی اثر کا شکار ہو تو آرٹ کو اس سے متاثر نہ ہو نا چاہیے۔ اقبال کہتے ہیں کہ صداقت نقل اور تقلید سے حاصل نہیں ہو سکتی ۔ شاعر کا کام ہے کہ کائنات اور حیات کے بحر ذخار سے خود نئے موتی چنے اور زندگی کے سمندر سے صداقت کا جام پئے۔مثلاً شاعر دلنواز بھی بات اگر کہے کھریہوتی ہے اس کے فےض سے مزرع زندگی ہریشان خلیل ہوتی ہے اس کے کلام سے عیاںکرتی ہے اسکی قوم جب اپنا شعار آذریکہہ گئے ہیں شاعری جزو یست از پیغمبریہاں سنا دے محفل ملت کو پیغام سروش فن اور آزادی اقبال کہتے ہیں کہ فن کے حقیقی فروغ کے لئے آزادی بے حد ضروری ہے کیوں کہ عمرانی اور معاشی آزادی کے بغیر فن کی صحیح نشوونما ہو ہی نہیں سکتی۔ جمال کی قدر جس کو اقبال نے اپنے نظریہ فن میں حرکت سے وابستہ کر دیا ہے صرف آزادی ہی کے عالم میں پیدا ہو سکتی ہے ۔ کیوں کہ اقبال کے نزدیک جمال ، جلال کی ابتدائی کیفیت ہے۔ غلامی میں ذوق حسن باقی نہیں رہتا ۔ بصیرت جو حسن و جمال کے مشاہدے کے لئے اس قدر ضروری ہے فنا ہو جاتی ہے۔ اور دوسروں کی اقدارِ حسن کی اندھی تقلید باقی رہتی ہے اور اس اندھی تقلید سے جو آرٹ پیدا ہوتاہے وہ بھی جھوٹا اور بے اصل ہی ہوتا ہے۔ مثلاً غلامی کے ہے ذوق حسن و زیبائی سے محرومیجسے زیبا کہیں آزاد بند ے ہے وہی زیبابھروسہ کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پرکہ دنیا میں فقط مردانِ حُر کی آنکھ ہے بینافطرت کی غلامی سے کر آزاد ہنر کوصیاد ہیں مردان ِ ہنر مند کہ نخچیر فن اور خودی اقبال کے فن کا نظریہ ان کے فلسفہ خودی کے تابع ہے۔ ان کے نزدیک آرٹ اظہار خودی کا ایک وسیلہ ہے ۔ وہ فن جس میں خودی باقی نہیں رہتی ۔ اقبال کے خیال میں عضر چیز ہے۔ خودی دراصل اقبال کے نظام فکر کا مرکزی نقطہ ہے ۔ اس لئے انھوں نے تمام فنون لطیفہ کو خودی کے تابع قرار دیا ہے ۔ اس کے علاوہ فن اجتماعی زندگی کی نشوونما بھی کرتا ہے۔ خودی کا باقاعدہ تصور پیش کرنے سے پہلے اقبال نے شاعر کو اپنی حقیقت سے آشنا ہونے اور خودی کے ذریعے راز حیات معلوم کرنے کے ذرائع ڈھونڈنے کی تعلیم دی تھی۔ یہ شاعر یا فنکار کے لئے داخلیت یا وطن پرستی کا درس اپنی خودی کو دریافت کرنا اور اسے جگانا ، احتساب کائنات کے لئے شمع روشن کرنا ہے۔ مثلاً، آشنا اپنی حقیقت سے ہو اے دہقان ذرادانہ تو، کھیتی بھی تو، باراں بھی تو، حاصل بھی توآہ کس کی جستجو اوارہ رکھتی ہے تجھےراہ تو ، رہرو بھی تو ، رہبر بھی تو ، منزل بھی تواپنی اصلیت سے ہو آگاہ اے غافل کہ توقطرہ ہے لیکن مثال بحر بے پایا ں بھی ہےگر ہنر میں نہیں تعمیر خودی کا جوہروائے صورت گری و شاعری و نائے و سرور فن اور عشق اقبال کے فلسفے میں عشق کو بھی ایک نمایاں مقام حاصل ہے ۔ اقبال کے نزدیک فن کا محرک جذبہ عشق ہے۔ ان کے خیال میں کوئی فن خلوص ، سوز و گداز اور خون جگر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ فنکا ر کی ایک بڑی خصوصیت اس کا خلوص ہے جو عقلی بھی ہو سکتا ہے اور جذباتی بھی۔ اقبال کے ہاں جذباتی رنگ زیادہ غالب ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ وہ تمام معجز ہائے ہنر فانی ہیں جن کی تہہ میں خلوص و جذبہ موجود نہ اوروہ تمام فن پارے ابدی اہمیت کے حامل جن کی نمود خونِ جگر ، خلوص اور سوز دل کی مرہون ِ منت ہو مثلاً رنگ ہو یا خشت و سنگ ، چنگ ہو یا حرف و صوتمعجزہ فن کی ہے خون جگر سے نمود نقش ہیں سب ناتمام خونِ جگر کے بغیرنغمہ ہے سودائے خام خونِ جگر کے بغیر برگ گل رنگیں ز مضمون من استمصرع من ، قطرہ خونِ من است فن اور جلا ل و جمال اقبال ہر فن پارے میں دلبری کے ساتھ ساتھ قاہر ی کی صفت بھی دیکھنے کے آرزو مند ہیں۔ وہ فن میں جلا ل و جمال کے امتزاج کے قائل ہیں۔ کیونکہ وہ قوت اور جلال ہی میں زندگی کی نمو کا راز پوشیدہ دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک خالص قوت جس میں جمال کی آمیزش نہ ہو تباہی و بربادی لیکر آتی ہے۔ اور خالص جما ل جو قوت سے محروم ہو ان کے خیال میں پست درجے کے فن کی تخلیق کرتا ہے۔ اقبا ل کے خیال میں اگر کسی فن پارے میں دلبری و قاہری کا امتزاج نہ ہو تو فن پارہ نا مکمل ہے۔ اور اگر اس میں جلال اور جمال کی صفات جلوہ گر ہوں تو وہ ابدیت سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔ چنانچہ وہ دلبری سے قاہری کو جادوگری اور دلبری با قاہری کو پیغمبری قرار دیتے ہیںمثلاً۔ دلبری بے قاہری جادو گریستدلبری با قاہری پیغمبر یست مری نظر میں یہی ہے جمال و زیبائیکہ سر بہ سجدہ ہیں قوت کے سامنے افلاک نہ ہو جلال تو حسن و جما ل بے تاثیرمرا نفس ہے اگر نغمہ ہو نہ آتشناکمجھے سزا کے لئے بھی نہیں قبول وہ آگکہ جس کا شعلہ نہ ہو تند و سرکش و بے باک فن صبح کا پیغامبر اقبال کے نزدیک فن کا مقصد معاشرتی ترقی ہے۔ وہ فن کے متعلق اپنے نقطہ نظر اور معاشرے سے اس کے تعلق کو شاعری کے ذریعے مثالوں سے واضح کرتے ہیں ان کے نزدیک شاعری دیدہ بینا ئے قوم ہے۔ فن کا صحیح مقصد زندگی ، انسان اور اس کی معاشرت کو تقویت دینا ہے۔ ایک فنکار کو صبح کا پیغامبر ہونا چاہیے اور اگر وہ افسردہ اور یاس انگیز نغموں کے سوا کچھ نہ الاپ سکے تو اس کے لئے بہتر ہے کہ وہ خاموش رہے مثلاً افسرد ہ اگر اس کی نوا سے ہو گلستاںبہتر ہے کہ خاموش رہے مرغ سحر خیزشاعر کی نوا ہو کہ مغنی کا نفس ہوجس سے نفس افسردہ ہو وہ باد سحر کیا معاشرے میں جذبات پیدا کرنا اقبال کا کہنا ہے کہ شاعر سینہ ملت میں دل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اسے اپنی پیغمبرانہ قوتوں سے ملت خوابیدہ کو بیدار کردینا چاہیے۔ اور انہیں بلند سے بلند تر منازل تک لے جانا چاہیے ۔ اقبال مزید کہتے ہیں کہ وہ شاعری یا وہ شعر جو معاشرے میں جذبات کا ایک طوفان پیدا نہ کردے کسی کام کا نہیں مثلاًً جس سے دل درےا متلاطم نہیں ہوتااے قطرہ نہاں وہ صدف کیا وہ گہر کیا؟بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیںجو ضرب کلیمی نہیں رکھتی وہ ہنر کیا؟ اقبال کہتے ہیں کہ فن زندگی کے حصول کا ایک گراں قدر ذریعہ ہے اور اگر اس میں یہ خصوصیت ہوتو وہ پیغمبر ی سے صرف ایک درجہ کمتر ہے۔ فن کا ر کو لازم ہے کہ وہ کم حوصلہ لوگوں میں مردانگی اور جرات کی روح پھونک دے مثلاً نوا پیرا ہو ایک بلبل کہ ہو تیرے ترنم سےکبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیدا حیات ابدی کے حصول کی لگن اقبال فرماتے ہیں کہ فن کا کام یہ ہے کہ وہ ایسی شاعری تخلیق کرے کہ جس شاعر ی سے تمام بنی نوع انسان حیات ابدی کی طرف راغب ہو جائے اور ابدی زندگی کے حصول کے لئے کوشش شروع کر دے۔ اقبال فرماتے ہیں وہ شعر جو حیات ابدی کا پیغام لئے ہوئے ہو نغمہ جبریل کی طرح مشیت ایزدی کی تلقین کرتا ہے اور شعر کہنے والے کی آواز حشر کا سامان ہوتی ہے۔ مثلاً وہ شعر کہ پیغام حیاتِ ابدی ہےیا نغمہ جبریل ہے یا بانگ اسرفیل مقصود ہنر سوز حیات ابدی ہےیہ یک نفس یا دو نفسِ مثلِ شرر کیا فطرت کی خامیوں کو دور کرنا فن کے بارے میں بعض فطرت پرستوں کا نظریہ یہ ہے کہ حقیقی فن یہ ہے کہ فطرت جس طرح نظر آتی ہے فنکار اسے بالکل اسی طرح پیش کرے ۔ گویا فن کا راپنی ظاہر کی آنکھ سے جو کچھ دیکھتا ہے اگر اس کی ہو بہو تصویر کھینچ دے تو یہ بڑا فن ہے ورنہ نہیں۔ اقبال نے نقالی کے اس نظریے کی بھی شدید مخالفت کی ۔اقبال کا نقطہ نظر یہ ہے کہ فطرت کی نقالی کوئی کمال نہیں اصل کمال تو یہ ہے کہ جو فطرت نہیں کرسکتی اسے انسان کرے۔ انسان فطرت کے مقابلے میں بہتر ، بلند اور باشعور ہے وہ فطرت کا غلام نہیں فطرت اس کی غلام ہے ۔ فن کار کا کام یہ ہے وہ فطرت کی خامیوں کو دور کرکے اسے حسین بنا کر پیش کرے مثلاً فطرت کو خرد کے روبرو کرتسخیر مقام ِ رنگ بو کربے ذوق نہیں اگرچہ فطرتجو اس سے نہ ہو سکا وہ تو کر یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شائدکہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون بقول ایم ایم شریف ” اقبال کے نزدیک اس فن کا کوئی مطلب نہیں جس کا تعلق زندگی ، انسان اور معاشرت سے نہ ہو فن کا اوّلین مطلوب خود زندگی ہے ۔ فن کے لئے لازم ہے کہ وہ ذہن انسانی میں ایک ابد ی زندگی کے حصول کی لگن پیدا کردے۔“ وطنیت و قومیت فہرست 1 مغربی تصور قومیت سے بدظنی 2 قوم اور ملت ہم معنی 3 اقبال کا تصور قومیت 4 ملت کے لئے اخوت کی ضرورت 5 ملت اور اخوت کا پیغام 6 اتحاد اقوام اسلامی کا تصور 7 اتحاد عالم اسلام میں رکاوٹ 8 نظریہ وطنیت و قومیت 8.1 وطن پرستی کا دور 8.2 بعد کی وطن دوستی کی شاعری 8.3 وطنیت کے سیاسی تصور کی مخالفت 8.4 وطن کا بت 8.5 وطنیت اور ملوکیت کا رشتہ 9 مجموعی جائزہ مغربی تصور قومیت سے بدظنی جدید مغربی سےاسی افکار میں وطنیت اور قومیت قریب قریب ہم معنی ہیں ۔ اقبال نے وطنیت کے سیاسی تصور کو جس بناءپر رد کیا تھا وہی وجہ مغربی نظریہ قومیت سے ان کی بدظنی کی بنیاد بنی ان کا خیال تھا کہ قومیت کی ایک سیاسی نظا م کی حیثیت قطعاً غیر انسانی اقدار پر مشتمل ہے۔ اور اس کی بنیاد پر ایک انسانی گروہ دوسرے انسانی گروہ سے کٹ کر رہ جاتا ہے۔ اور بلا وجہ تنازعات کی بناءپڑتی ہے۔ جو بعض اوقات قیمتی انسانی جانوں کے اتلاف اور بلا خیز تباہی پر منتج ہوتی ہے۔ اسی نظام کو انہوں نے دنیائے اسلام کے لئے خاص طور پر ایک نہایت مہلک مغربی حربے کی حیثیت سے دیکھا اور جب ترکوں کے خلاف عرب ممالک نے انگریزوں کی مدد کی تو انہیں یقین ہوگیا کہ وطنیت اور قومیت کے مغربی تصورات مسلمانوں کے لئے زہر قاتل سے زیادہ نقصان ثابت ہو رہے ہیں ۔ چنانچہ انہوں نے قومیت کے مغربی تصور کے مقابلہ میں ملت اسلامیہ کا تصور پیش کیااور یہ ثابت کیا کہ مسلمانان ِ عالم کے لئے بنیادی نظریات اور اعتقادات کی رو سے ایک وسیع تر ملت کا تصور ہی درست ہے۔ اور قومیت کے مغربی نظریہ ہمیں بحیثیت ملت ان کی تباہی کے بے شمار امکانات پوشیدہ ہیں۔ قوم اور ملت ہم معنی اقبال قوم اور ملت کو مترادف الفاظ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور مسلمان قوم سے ان کی مراد ہمیشہ ملت اسلامیہ ہوتی ہے۔ اس بارے میں وہ اپنے مضمون میں تحریر فرماتے ہیں۔ ” میں نے لفظ ”ملت“ قوم کے معنوں مےں استعمال کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عربی میں یہ لفظ اور بالخصوص قرآن مجید میں شرع اور دین کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ لیکن حال کی عربی، فارسی اور ترکی زبان میں بکثرت سندات موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ملت قوم کے معنوں میں بھی مستعمل ہے۔ میں نے اپنی تحریروں میں ”ملت “بمعنی قوم استعمال کیا ہے۔“ آگے چل کر لکھتے ہیں۔ ” ان گزارشات سے میرا مقصد یہ ہے کہ جہاں تک میں دیکھ سکا ہوں ، قران کریم میں مسلمانوں کے لئے ”امت“ کے سوا کوئی لفظ نہیں آیا۔ ”قوم“ رجال کی جماعت کا نام ہے۔ یہ جماعت با اعتبار قبیلہ ، نسل، رنگ ،زبان ، وطن اور اخلاق ہزار جگہ اور ہزار رنگ میں پیدا ہو سکتی ہے ۔لیکن ”ملت‘ ‘ سب جماعتوں کو تراش کر ایک نیا اور مشترک گروہ بنائے گی۔ گویا”ملت“ یا ”امت“ جاذب ہے اقوام کی۔ خود ان میں جذب نہیں ہوتی۔ اقبال کا تصور قومیت اقبال قومیت کے اس تصور کے خلاف ہیں جس کی بنیاد رنگ، نسل ،زبان یا وطن پر ہو ۔ کیونکہ یہ حد بندیاں ایک وسیع انسانی برادری قائم کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ ان کی قومیت کے اجزائے ترکیبی وحدت مذہب ، وحدت تمدن و تاریخ ماضی اور پر امید مستقبل ہیں۔ جہاں تک مذہب کا تعلق ہے اسلام اسی ملت کی اساس ہے۔ اور اسلام کا سب سے بڑا اور بنیادی اصول توحید خدا ملی وحدت کا ضامن ہے۔ اس کا دوسرا رکن رسالت ہے۔ اور یہی دو نوں اساس ملت ہیں۔ نہ کہ وطن جو جنگ اور ملک گیری کی ہوس پیدا کرتاہے۔ اس سلسلہ میں اقبال نے اپنے ایک مضمون میں یوں لکھا ہے۔ ”قدیم زمانہ میں ”دین“ قومی تھا۔ جیسے مصریوں ، یونانیوں اور ہندیوں کا۔ بعد میں نسلی قرار پایا جیسے یہودیوں کا ۔ مسحیت نے یہ تعلیم دی کہ دین انفرادی اور پرائیوٹ ہے۔ جس سے انسانوں کی اجتماعی زندگی کی ضامن ”سٹیٹ “ ہے۔ یہ اسلام ہی تھا جس نے بنی نو ع انسان کو سب سے پہلے یہ پیغام دیا کہ ”دین“ نہ قومی ہے نہ نسلی ہے، نہ انفرادی اور نہ پرائیوٹ ، بلکہ خالصتاً انسانی ہے۔ اور اس کامقصد باوجود فطری امتیازات کے عالم بشریت کو متحد اور منظم کر نا ہے۔ ان باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقبال اخوت کے قائل ہیں لیکن اس کی بنیاد اسلام پر رکھتے ہیں کیونکہ اسلام ضابطہ حیات ہے جس کے پاس وسیع انسانی مسائل کا حل موجود ہے وہ قومیت کو اسلام کے دائرہ میں اس لئے رکھتے ہیں کہ ان کے نزدیک صحیح انسانی معاشرہ صرف اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہونے سے وجود میں آسکتا ہے۔ چنانچہ ان کے تصور قومیت کی بنیاد اسلامی معتقدات پر ہے۔وہ کہتے ہیں، قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں، محفل ِ انجم بھی نہیں تو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشہ قے کو تعلق نہیں پیمانے سے اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کرخاص ہے ترکیب میں قوم ِ رسولِ ہاشمی دامن دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاںاور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی ملت کے لئے اخوت کی ضرورت اسلام نے عالم ِ انسانیت میں ایک انقلابِ عظیم کو بپا کرکے انسان کو رنگ و نسل ، نام و نسب اور ملک و قوم کے ظاہری اور مصنوعی امتیازات کے محدود دائروں سے نکال کر ایک وسیع تر ہیئت اجتماعیہ میں متشکل کیا۔ اقبال کے نزدیک یہ ” ہیئت اجتماعیہ“ قائم کرنا اسلام ہی کا نصب العین تھا۔ مگر بدقسمتی سے یہ وحدت قائم نہ رہ سکی اور مسلمان مختلف فرقوں ، گرہوں اور جماعتوں میں بٹتے چلے گئے ۔ اقبال مسلمانوں کو پھر اسی اخوت اسلامی کی طرف لوٹنے کی تلقین کرتے ہیں۔ اور ایک ملت میں گم ہو جانے کا سبق سکھاتے ہیں۔ وہ ایک عالمگیر ملت کے قیام کے خواہشمند ہیں جس کا خدا ، رسول کتاب، کعبہ ، دین اور ایمان ایک ہو، منفعت ایک ہے اسی قوم کی نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی ، اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک ملت اور اخوت کا پیغام اسی جذبہ کے تحت اقبال مسلمانوں کو اخوت کا پیغام دیتے ہیں اور انہیں مشورہ دیتے ہیں کہ رنگ و خون کو توڑ کر ایک ملت کی شکل میں متحد ہوجائیں ۔ کیونکہ یہی ایک صورت ہے جس کے ذریعے ایک زندہ قوم کی حیثیت سے اپنا وجود برقرار رکھ سکتے ہیں۔ ملک قوم ، نسل اور وطن کی مصنوعی حد بندیوں نے نوع انسانی کا شیرازہ منتشر کرکے رکھ دیاہے۔ اور اس کا علاج سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اسلامی معاشرہ کے تصور کو رائج کیا جائے اور کم از کم مسلمان خود کو اسی معاشرہ کا حصہ بنا لیں۔ یہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانیاخوت کی جہانگیری ، محبت کی فراوانی بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوجانہ تورانی رہے باقی ، نہ ایرانی نہ افغانی ہوس نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے نوع انساں کواخوت کابیاں ہوجا ، محبت کی زباں ہوجایہ ہندی ، وہ خراسانی ، یہ افغانی ، وہ تورانیتو اے شرمندہ ساحل ، اچھل کر بیکراں ہوجا مگر وحدت کا یہ احساس اور اخوت کا یہ جذبہ اگر نوع انسانی کے اندر پیدا ہوسکتا ہے تو صرف اسلا م کے ذریعہ ہی پیدا ہونا ممکن ہے۔ اقبال کی نظر میں اسلام محض انسان کی اخلاقی اصلاح ہی کا داعی نہیں ، بلکہ عالم بشریت کی اجتماعی زندگی میں ایک تدریجی مگر اساسی انقلاب بھی چاہتا ہے۔ جو انسان کے قومی اور نسلی نقطہ نگاہ کو یکسر بدل کر اس میں خالص انسانی ضمیر کی تخلیق کرے۔ اسی لئے وہ کہتے ہیں۔ ربط ملت و ضبط ملت بیضا ہے مشرق کی نجاتایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبر ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئےنیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغرنسل گر مسلم کی مذہب پر مقدم ہوگئیاڑ گیا دنیا سے تو مانند خاک رہ گزر اتحاد اقوام اسلامی کا تصور اسلام بنیادی طور پر ایک عالمگیر پیغام ہے اور تما م نوع انسانی کو اخو ت کی لڑی میں پرو کر ایک وسیع تر ملت اسلامیہ کے قیام کی دعوت دیتا ہے۔ تاکہ انسان کی ہوس کا علاج ہوسکے۔ لیکن اس کے لئے پہلا قدم یہ ہے کہ دنیا کے تمام مسلمان ممالک ایک لڑی میں پرئوے جائیں ۔ اقبال کی بھی یہی تمنا ہے ان کے نزدیک اسلام ایک ازلی ، ابدی ، آفاقی اور عالمگیر نوعیت کا پیغام ہے ، یہ ہر زمانہ ، ہر قوم اور ہر ملک کے لئے راہ ہدایت ہے۔ اس لئے اس کے پیروکاروں کو رنگ و نسل اور ملک وطن کے امتیازات مٹا کر یکجاہو جانا اور دنیائے انسانیت کے لئے ایک عالمگیر برادری کی مثال پیش کرنی چاہیے۔اس سلسلہ میں ”جمعیت اقوام“کی تنظیم پر طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اصل مقصد انسانوں کے درمیان اخوت کا جذبہ پیدا ہو نا چاہیے نہ کہ قوموں کا ایک جگہ اکٹھا ہو جانا۔ اس دور میں قوموں کی محبت بھی ہوئی عامپوشیدہ نگاہوں سے رہی وحدت آدم تفریق ملل حکمت افرنگ کا مقصوداسلام کا مقصود فقط ملت آدم مکہ نے دیا خاک جینو ا کو یہ پیغامجمعیت اقوام ہے جمعیت آدم اتحاد عالم اسلام میں رکاوٹ اقبال کے نزدیک اسلامی قومیت کی بنیاد اسلام پر ہے ملک و نسب نسل وطن پر نہیں۔ اس تصور کی انہوں نے عمر بھر شدو مد سے تبلیغ کی ۔ ہر مسلمان اسی تصور کو تسلیم کرتا ہے اور اس کی سچائی سے انکار نہیں کر سکتا۔ لیکن مسلم ریاستوں کے اتحاد اور دنیا کے تمام مسلمانوں کے ایک قوم بن جانے کا حوصلہ اس وقت تک نہیں آسکتا جب تک وطنیت اور قومیت کے مغربی نظریہ کی گرفت کمزور نہیں پڑجاتی۔ قریب قریب سارا عالم اسلام کافی عرصہ تک مغربی اقوام کا محکوم رہا ہے اور جدید اسلامی ریاستوں میں سے بہت سی ایسی ہیں جن کی تشکیل ہی مغربی نظریہ قومیت کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ اس طرح انہیں مغربی نظریات کے سحر سے آزاد ہونے میں کچھ وقت عرصہ لگے گا۔ لیکن امید کی جا سکتی ہے کہ کہ اقبال کے اس خواب کی تعبیر بھی ایک نہ ایک دن ضرور پوری ہوگی اور دنیا کے تمام مسلمان ملت واحدہ کی شکل اختیار کرکے ایک عالمگیر برادری کی شکل میں ڈھل جائیں گے۔ اس تما م بحث سے پتہ چلتا ہے کہ قومیت کے متعلق نظریات کے حوالے سے اقبال ایک ارتقائی عمل سے گزرے اور آخر کا ر اس نتیجے پر پہنچے کہ نسلی ، جغرافیائی ، لسانی حوالے سے اقوام کی تقسیم مغرب کا چھوڑا ہو ا شوشہ ہے۔ جس کا مقصد صرف اور صر ف مسلمانوں کو تقسیم کرنا ہے۔ اس لئے انہو ں نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو اپنے نظریہ ملت سے ایک ہونے کا پیغام دیا ۔ تاکہ مغرب کی ان سازشوں کو ناکام بنا یا جا سکے۔ اور مسلمان اقوام عالم مےں اپنا کھویا ہوا مقا م ایک بار پھر حاصل کر سکیں۔ نظریہ وطنیت و قومیت مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھناہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستان ہمارا وطن پرستی کا دور اقبال کی ابتدائی نظموں میں وطن سے ان کی گہری محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ ہر شخص کی طرح انہیں بھی اپنے وطن سے بڑی محبت تھی۔ بلکہ یہ محبت وطن پرستی کی حدوں تک پہنچی تھی۔ چنانچہ ان کی اس دور کی نظموں میں بقول مولانا صلاح الدین احمد، ” جب ہم اقبال کی ابتدائی شاعری کا جائزہ لیتے ہیں تو قدرت اور عورت کے حسن کی پرستش کے بعد جو جذبہ سب سے پہلے نظر آتا ہے۔ وہ وطن کی پرستش ہے۔“ وطن سے ان کی گہری محبت کا جذبہ اس قدر شدید تھا کہ ان کے اولین اردو مجموعہ” بانگ درا“ کا آغاز ہی ایک ایسی نظم سے ہوتا ہے۔ جو وطن پرستی کے بلند پایہ جذبات سے بھرپور ہے اس کا شمار ان نظموں میں ہوتا ہے جو حصول تعلیم کی غرض سے ان کے یورپ جانے سے قبل لکھی گئیں۔ مثلاً اپنی نظم ” تصویر درد “ میں وہ ہندوستان کی قسمت پر آنسو بہاتے ہوئے کہتے ہیں، رلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستان مجھ کوکہ عبرت خیز ہے ترا فسانہ سب فسانوں میںوطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہےتری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میںچھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نےعنا دل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میںنہ سمجھو گے تو مٹ جائو گے اے ہندوستان والوتمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں ”ترانہ ہندی“ ان کی وہ مشہور اور مقبول عوام نظم ہے جو عرصہ تک ہندوستان کے بچے بچے کی زبان پر رہی ہے۔ اس میں انتہائی دلنشین طریقہ سے اپنے وطن کے ساتھ گہرے لگائو اور محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہماراہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہماراغربت میں ہوں اگر ہم رہتا ہے دل وطن میںسمجھو وہیں ہیں ہم بھی، دل ہو جہاں ہمارامذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھناہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستان ہمارایونان و مصر و روما ، سب مٹ گئے جہاں سےاب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا اس زمانہ کی ایک اور نظم” ہندوستانی بچوں کا گیت“ ایک ایسی نظم ہے جس کے ایک ایک لفظ سے وطن پرستانہ جذبات کا اظہار ہوتا ہے۔ وطن کے ساتھ اتنے گہرے لگائو کا اظہار کرنے والی اردو میں بہت کم نظم لکھے گئے ہیں اس میں اقبال کی وطن کے ساتھ محبت اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔ بندے کلیم جس کے ، پربت جہاں کا سینانو ح نبی کا ٹھہرا آکے جہاں سفینارفعت ہے زمین کی بام فلک کا زیناجنت کی زندگی ہے جس کی فضا میں جینامیرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے اس نظم کے آخری بند میں اقبال نے اپنے وطن کو جس والہانہ انداز میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ اس کی اردو شاعری میں شائد ہی کوئی اور مثال مل سکے ۔اسی طرح اپنی نظم ” نیا شوالہ“ میں انہوں نے یہ کہہ کر اپنی وطن پرستی کی اتنہا کر دی تھی کہ ’ ’ خاک وطن کا جھکو یہ ذرہ دیوتا ہے۔“ ظاہر ہے کہ وطن پرستی کی خاطر اس سے بڑھ کر اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ کہ شاعر اپنے وطن کے ذرے ذر ے کا پجاری ہے۔ بعد کی وطن دوستی کی شاعری بعض نقادوں کا خیال ہے کہ جوں جوں اقبال فکری ارتقاءکے مراحل طے کرتے گئے ، ان کی وطن پرستانہ جذبات دھیمے اور ملت پرستانہ جذبات گہرے ہوتے گئے۔ یہاں تک کہ وطن کی محبت کے نظریہ سے قطعاً کنارہ کش ہوگئے۔ مگر یہ اعتراض درست نہیں ہے یہ تو ٹھیک ہے کہ بعد کے ادوار میں ان کی شاعری میں وطن پرستی کا وہ والہانہ جذبہ نہیں ملتا جو ابتدائی دور کی خصوصیت ہے۔ مگر وطن دوستی کا اظہار وہ اپنی شاعری کے ہر دور میں جابجا کرتے ہیں ۔ دراصل وطن کی جغرافیائی حیثیت سے انہوں نے کبھی انکار نہیں کیا اور نہ اس کے ساتھ ان کی محبت میں کبھی کمی آئی ۔ ان کی مخالفت صرف وطنیت کے سیاسی نظریہ سے تھی۔ طاہر فاروقی ”سیرت اقبال“ میں لکھتے ہیں، ” وطنیت کا وہ نظریہ جس کی تبلیغ سیاستِ مغرب کی طرف سے ہوئی ہے آپ اس کی شدید مخالف ہیں ۔ اور اقوام و عمل کے حق میں اس کو سم قاتل خیال کرتے ہیں لیکن وطنیت کا یہ مفہوم کہ ہندی ، عراقی ، خراسانی ، افغانی، روسی ، مصری وغیرہ ہونے کے اعتبار سے ہر فرد کو اپنے وطن ولادت سے تعلق اور نسبت ہے اور اسی لئے اس کو اپنے وطن کی خدمت کرنی چاہیے اور قربانیوں سے دریغ نہ کرنا چاہیے۔ اس کے آپ قائل اور معترف ہیں۔“ گویا ان کے وطن دوستی کے جذبات میں نہ کبھی تغیر آیا اور نہ ان میں کبھی کمی ہوئی۔ ان کا ثبوت یہ ہے کہ ان کی پختگی کے دور کی تصانیف ”جاویدنامہ “۔”پس چہ باید کرد اے اقوام مشرق“ اور مثنوی مسافر میں بھی وطن پرستی کے لطیف جذبات کا اظہار جا بجا ہوا ہے ”جاوید نامہ کا وہ حصہ تو خاص طور پر قابل ذکر ہے جہاں انہوں نے ”قلزم خونیں“ کے تحت روح ہندوستان اور اس کے نامہ و فریاد کی تصویر کشی کا حق ادا کر دیا ہے۔ انہوں نے میر جعفر ، اور میر صادق جیسے وطن کے غداروں کو ننگ آدم ، ننگ دیں ، ننگ وطن ، قرار دیکر ان کی روحوں کو ایک قدر ناپاک ثابت کیا ہے کہ انہیں دوزخ بھی قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ اقبا ل نے انہیں ایک قلزم خونیں میں مبتلائے عذاب دکھایا ہے۔ کیونکہ اقبال کے نزدیک وطن سے غداری ایک ایسا خوفناک جرم ہے جسے کسی حالت میں بھی معاف نہیں کیا جا سکتا۔ وطنیت کے سیاسی تصور کی مخالفت اقبال نے مارچ 1938ءمیں ایک مضمون لکھا جس میں وطنیت کے مسئلہ پر تفصیل کے ساتھ بحث کی تھی۔ اور بتایا تھا کہ وہ کس قسم کی وطنیت کے مخالف ہیں اس مضمون میں وطنیت کے سیاسی تصور سے بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں، ” میں نظریہ وطنیت کی تردید اس زمانہ سے کر رہا ہوں جبکہ دنیائے اسلام اور ہندوستان میں اس نظریہ کا کچھ ایسا چرچا بھی نہ تھا مجھ کو یورپین مصنفوں کی تحریروں سے ابتداءہی سے یہ بات اچھی طرح معلوم ہوگئی تھی کہ یورپ کی دلی اغراض اس امر کی متقاضی ہیں کہ اسلام کی وحدت دینی کو پارہ پارہ کرنے کے لئے اس سے بہتر کوئی حربہ نہیں کہ اسلامی ممالک میں نیرنگی نظریہ وطنیت کی اشاعت کی جائے۔ چنانچہ ان لوگوں کی یہ تدبیر جنگ عظیم میں کامیاب ہوگئی۔ آگے چل کر وہ لکھتے ہیں، ” اگر بعض علما ءمسلمان اس فریب میں مبتلا ہیں کہ ”دین “ اور ”وطن“ بحیثیت ایک سےاسی تصور کے یکجا رہ سکتے ہیں تو میں مسلمانوں کو ہر وقت انتباہ کرتا ہوں کہ اس راہ سے آخری مرحلہ اول تو لادینی ہوگی اور اگر لادینی نہیں تو اسلام کو محض ایک اخلاقی نظریہ سمجھ کر اس کے اجتماعی نظام سے لاپرواہی۔“ ان اقتباسات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اقبال وطنیت کے مغربی سےاسی تصور کے مخالف ہیں اور یہ مخالفت اس وجہ سے ہے کہ نظریہ براہ راست اسلامی عقائد و تصورات سے متصادم ہوتا ہے۔ وطن کا بت انسانی فکریت اور بت پرستی کی ایسی خوگر رہی ہے کہ جب ایک بت ٹوٹ جاتا ہے تو دوسرا نیا بت تراش لیتی ہے۔ نت نئے بت تراشنے کا سلسلہ قدیم زمانہ کی طرح آج بھی جاری ہے۔ ان بتوں کی شکلیں تھوڑی بہت بدل گئی ہوں تو بد ل گئی ہوں ، ورنہ ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ آج انسانی گروہوں نے وطنیت کا نیا بت تراشا ہے۔ جس کے آگے وہ سر بسجود ہیں ۔ اس بت پر بلا تکلف و تامل انسانیت کو بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ چنانچہ اقبال کا دعویٰ ہے کہ جس طرح دوسرے بت توڑے گئے ضرور ہے کہ اس ب کو بھی توڑا جا ئے تاکہ انسانیت کی گلو خلاصی ہو۔ فکر انسان بت پرستی ، بت گریہر زماں در جستجو پیکری باز طرح آزری انداخت استتازہ تر بیروزگاری ساخت است اقبال وطن کے اس طرح بت بنا کر پوجنے کے سخت خلاف ہیں اور اسے اسلام کی عالمگیر روح کے منافی خیال کرتے ہیں اسی لئے وہ اسے نئے بت کو توڑنا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں چنانچہ ”بانگ درا“ کی ایک نظم ”وطنیت ‘ ‘ جس کا ذیلی عنوان ہے ”وطن بحیثیت ایک سیاسی تصور کے“ ہے انہوں نے بڑی خوبصورتی سے اپنے اس خیال کا اظہار کیا ہے۔ ان تازہ خدائوں میں بڑا سب سے وطن ہےجو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کاکفن ہے یہ بت کہ تراشیدہ تہذیب نوی ہےغارت گر کاشانہ دین نبوی ہے بازو تر اتوحید کی قوت سے قوی ہےاسلام ترا دیس ہے تو مصطفوی ہے خالی ہے صداقت سے سےاست تو اسی سےکمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسی سے اقوام میں مخلوقِ خدا بٹتی ہے اس سےقومیت اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے وطنیت اور ملوکیت کا رشتہ اقبال کا خیال ہے کہ جدید دور میں سامراجی ملوکیت وطنیت کے سیاسی تصور کا ہی کرشمہ ہے۔ اس لئے وہ اس تصور کے اس پہلو کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ، اس سلسلہ میں ڈاکٹر یوسف حسین اپنی کتاب”روح اقبال “ میں لکھتے ہیں، ”اقبال ملوکیت یا امپیریلزم کو جارحانہ وطنیت ہی کا ایک شاخسانہ تصور کرتا ہے۔ اور اس کو اسلام کی اخلاقی تعلےم کی رد خیال کرتاہے۔ قومیت کے علمبرداروں کا نظریہ ” میرا وطن غلط ہو تو بھی صحیح ہے“ہے ۔ یہ جھوٹی عصبیت حق و باطل میں تمیز نہیں ہونے دیتی ۔ جب آدمی سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے کے قابل نہیں رہتا تو وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ اور اپنے عمل کو حق بجانب ٹھہر ا سکتا ہے۔ مجموعی جائزہ مندرجہ بالا بحث سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اقبال اپنے وطن کی محبت میں کسی بھی شخص سے پیچھے نہیں ہیں ، اور یہ محبت تمام عمر ان کے لئے متاع عزیز رہی ہے۔ مگر وہ اس وطنیت سے بیزار ہیں جو ایک مستقل نظریہ حیات ہے۔ اور جس کی تبلیغ سب سے پہلے مغربی دنیا میں مخصوص اغراض و مقاصد کے تحت ایک منظم شکل میں ہوئی۔ یہ وطنیت عالمگیر اسلامی اخوت کے راستہ کا پتھر بنتی ہے۔ انسان اور انسان کے درمیان دیوار حائل کرتی ہے۔ اقبال نے اس مغربی تصور کے بجائے اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہونے پر زور دیا ہے۔ کیونکہ ان کے خیال میں رنگ و نسل وغیر ہ کے امتیازات اور قوم و وطن کے تعصبات کو اگر کوئی نظام ختم کر نے میں کامیاب ہوا ہے تو وہ اسلام ہے۔ اور اسی لئے انہوں نے ترانہ ہندی کے بعد ” ملی ترانہ “ لکھا۔ شکوہ یہ وہ شہر آفاق نظم ہے جو اپریل 1911ءکے جلسہ انجمن حمایت اسلام میں پڑھی گئی۔ لندن سے واپسی پر اقبال نے ریواز ہوسٹل کے صحن میں یہ نظم پڑھی ۔ اقبال نے یہ نظم خلاف معمول تحت اللفظ میں پڑھی۔ مگر انداز بڑا دلا ویز تھا ۔ اس نظم کی جو کاپی اقبال اپنے قلم سے لکھ کر لائے تھے اس کے لئے متعدد اصحاب نے مختلف رقوم پیش کیں اور نواب ذوالفقار علی خان نے ایک سوروپے کی پیشکش کی اور رقم ادا کرکے اصل انجمنِ پنجاب کو دے دی۔ ”شکوہ“ اقبال کے دل کی آواز ہے اس کا موثر ہونا یقینی تھا۔ اس سے اہل دل مسلمان تڑپ اُٹھے اور انہوں نے سوچنا شروع کیا کہ مسلمانوں کے حوصلہ شکن زوال کے اسباب کیا ہیں۔ آخر اللہ کے وہ بندے جن کی ضرب شمشیر اور نعرہ تکبیر سے بڑے بڑے قہار و جبار سلاطین کے دل لرز جاتے تھے کیوں اس ذلت و رسوائی کا شکار ہوئے؟ ۔ یہ نظم دراصل مسلمانوں کے بے عملی ، مذہب سے غفلت اور بیزاری پر طنز ہے۔ بانگ درا میں شامل کرتے وقت اقبال نے اس میں کئی مقامات پر تبدیلی کی۔ جبکہ بانگ درا میں اشاعت سے پہلے نظم مختلف رسالوں مثلاً مخزن، تمدن اور ادیب میں شائع ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ کئی زبانوں میں اس کے تراجم بھی ہو چکے ہیں۔












































































































وبلاگ حاضر مختلف اسلامی موضوعات اور پاراچنار کے مسائل کے بارے میں تیار کیا گیا ہے