|
فہرست
|
اقبال نے مغربی تہذیب کی جو مخالفت کی ہے اس کی وجہ سیاسی ہے اقبال کے زمانے میں ہندوستان میں دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک وہ جو مغربی معاشرے کی ہر بات کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ یہ قدامت پرستوں کا طبقہ تھا جسے اپنی تہذیب پر فخر تھا چاہے وہ اچھی ہو یا بری ، دوسرا طبقہ اپنے آپ کو روشن خیال سمجھتے ہوئے مغرب کی تقلید کو اپنی زندگی کی معراج سمجھتا تھا۔ خصوصاً جو لوگ یورپ سے ہو کر آئے تھے ان کی آنکھیں وہاں کی چکاچوند سے چندھیا جاتی تھیں۔ ہاں ان میں اقبال جیسے لوگ بھی تھے جو مغرب جاکر وہاں سے مرعوب ہو کر نہیں آئے تھے۔ بلکہ اُس کی خوبیوں اور خامیوں کے بارے میں واضح نقطہ نظر کے حامل ہو کر وطن واپس لوٹے تھے۔ لیکن ایسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ مغرب سے مرعوب حضرات جب وطن واپس آئے تو انہیں مغرب کا ہر گوشہ فردوس کی مانند نظر آتا ہے۔ اقبال کو صرف یہ دکھ نہیں تھا کہ ہندوستان انگریزوں کی غلامی قبول کر چکا ہے بلکہ اُسے اس بات کا رنج تھا کہ تمام عالم اسلام یورپی اقوام کی ہوس گیری کا شکار ہوگیا ہے۔ اس بات نے اقبال کے دل میں مغربی تہذیب کے خلاف نفرت کے جذبات بھر دئیے ورنہ اقبال نے اُس کے روشن پہلوئوں کی جابجا تعریف کی ہے۔
اقبال کے نزدیک مغربی تہذیب کی خامیاں
مغربی تہذیب سے مراد وہ تہذیب ہے جو گذشتہ تین سو سال سے یورپ میں پیدا ہوئی اور جن کی بنیاد عقلیت ، مادیت اور سائنسی ترقی پر ہے اقبال نے یورپی تہذیب کی خامیوں کو کھل کر آشکارہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی نظر میں اس تہذیب کی بڑی بڑی خامیاں حسبِ ذیل ہیں۔
وہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندانِ مغرب کو
ہوس کی پنجہ خونیں میں تیغ کار زاری ہے
تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا
جہاں میں جس تمدن کی بناءسرمایہ داری ہے
یہ پیر کلیسا کے کرامات ہیں آج
بجلی کے چراغوں سے منور کئے افکار
جلتا ہے مگر شام و فلسطیں پر مرادل
تدبیر سے کھلتا نہیں یہ عقدہ دشوار
مادیت
اقبال کے نزدیک اس تہذیب کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ مادی ترقی اور کسبِ زر کو زندگی کی معراج سمجھتی ہے انسانی اخلاق اور روحانی اقدار کی ان کی نظر میں کوئی قیمت نہیں۔ چنانچہ انسانی زندگی میں توازن ، اعتدال اور ہم آہنگی قائم نہ رہ سکی۔
یورپ میں بہت ، روشنی علم و ہنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمہ حیواں ہے یہ ظلمات
یہ علم ، یہ حکمت ، یہ تدبر ، یہ حکومت
پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساوات
اقبال فرماتے ہیں کہ میں مشرق و مغرب کے مےخانوں سے خوب واقف ہوں مشرق میں ساقی نہیں اور مغرب کی صبا بے مزہ ہے ۔ جب تک ساقی کی حوصلہ مندیاں اور ذوق صبا ایک جگہ جمع نہ ہو جائیں ۔ اس وقت تک مےخانہ حیات آباد و بارونق نہیں ہو سکتا ۔ مشرق اور مغرب کی موجودہ ذہنیت کا نقشہ وہ ان الفاظ میں کھینچتا ہے۔
بہت دیکھے ہیں میں نے مشرق و مغرب کے مےخانے
یہاں ساقی نہیں پیدا وہاں بے ذوق ہے صبا
اقبال کے خیال میں تہذےب حاضر نے جھوٹے معبودوں کا خاتمہ کیا ہے لیکن اس کے بعد اثبات حقیقت کی طرف اس کا قدم نہیں اُٹھ سکا ۔ اس لئے اس کی فطرت میں ایک واویلا پیدا ہو رہا ہے۔
دبا رکھا ہے اس کو زخمہ ور کی تیز دستی نے
بہت نیچے سروں میں ہے ابھی یورپ کا واویلا
اس مادہ پرستی نے یورپ کو اخلاقی انحطاط سے دوچار کیا ہے۔ اسے خبر نہیں کہ حقیقی راحت مادی اسباب میں نہیں روحانی بلندی میں ہے۔
ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش ِ جہاں کا دوام
وائے تمنائے خام ، وائے تمنائے خام
سائنسی ترقی نے مغرب کی مادی حیثیت سے غیر معمولی طاقت بخش دی ہے اور اُسے ظاہری شان و شوکت سے مالا مال کیا لیکن انسانیت کے اصلی جوہر کو نقصان پہنچایا یہ علوم و فنون انسان کو حقیقی راحت اور آسودگی پہنچانے کے بجائے اُس کی موت کا پروانہ بن گئے۔ انہی آثار کو دیکھ کر اقبال نے پیشن گوئی کی کہ،
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخ ِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا
اقبال کو مغربی تہذیب سے یہی شکایت ہے کہ وہ ظاہری اور خارجی فلاح و بہبود پر نظر رکھتی ہے اور روح کی پاکیزگی اور بلندی کا کوئی دھیان نہیں کرتی۔ حالانکہ یہی انسانی افکار و اعمال کا سرچشمہ ہے یورپ نے عناصر ِ فطرت کوتو تسخیر کر لیا لیکن روحانی نشوو نما اور صفائی قلب کی طرف توجہ نہ دے سکا۔
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
اپنی حکمت کے خم و پیچ میں الجھا ایسا
آج تک فیصلہ نفع و ضرر کر نہ سکا
جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شب تاریک سحر کر نہ سکا
مغرب میں اخلاقی اور روحانی اقدار سے روگردانی کا سبب یہ بنا کہ سائنس کے انکشافات قدم قدم پر ان کے جامد دینی عقائد سے ٹکراتے تھے ۔ علم کی روشنی نے ان جامد عقائد کو متزلزل کیا تو و ہ مذہب اور مذہب کی پیش کردہ روحانی اقدار سے ہی منکر ہوگئے مادی اسباب کی فراوانی نے تعیش اور خود غرضی کو فروغ دیا۔ عورت کو بے محابا آزادی مل گئی اور معاشرہ میں فساد برپا ہوگیا۔ روحانی اور اخلاقی اقدار کی غیرموجودگی میں مےخواری ، عریانی ، سود خوری ، اور اخلاقی پستی نے جنم لیا اور ان امراض نے یورپی تہذیب کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا۔ اقبال کو اسی لئے ایوان ِ فرنگ سست بنیاد نظر آیا تھا اور وہ اسے ایک سیل بے پناہ کی زد میں سمجھتے تھے۔
پیر مےخانہ یہ کہتا ہے کہ ایوانِ فرنگ
سست بنیاد بھی ہے آئےنہ دیوار بھی ہے
خبر ملی ہے خدایان ِ بحر و بر سے مجھے
فرنگ رہگزر سیلِ بے پناہ میں ہے
خود بخود گرنے کو ہے پکے ہوئے پھل کی طرح
دیکھے پڑتا ہے آخر کس کی جھولی میں فرنگ
اس کا یہ مطلب نہیں کہ اقبال مادی ترقی کے سرے سے مخالف ہیں ،شیخ محمد اکرام ”موج کوثر“ میں لکھتے ہیں، ”اقبال پنڈت جواہر لال نہرو کے جواب میں کہتا ہے ”اسلا م کی روح مادے کے قریب سے نہیں ڈرتی ، قرآن کا ارشاد ہے کہ تمہارا دنیا میں جو حصہ ہے اس کو نہ بھولو۔“
عقلیت پرستی
اقبال کے نزدیک مغربی تہذیب کی ایک خامی یہ بھی ہے کہ اس کی بنیاد عقلیت پرستی پر ہے یہ عجیب بات ہے کہ جدید ترین تمدن انسانی افعال و افکار کو عقل کے علاہ کسی اور کسوٹی پر پرکھنے کے لئے تیار نہیں۔ اقبال کے نزدیک عقل حقیقت تک پہنچنے کا کوئی موزوں پیمانہ نہیں اس ناموزوں پیمانے سے حاصل شدہ نتائج ہمارے لئے حتمی درجہ نہیں رکھتے ۔ اگرچہ مغرب کے سارے فلسفی عقل پرستی کا شکار ہیں لیکن اقبال اس کے مخالف ہیں۔
عذاب دانش حاضر سے باخبر ہوں میں
کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثلِ خلیل
نئی تہذیب کی بد قسمتی ہے کہ اس نے عقل کو بے لگام چھوڑ دیا ہے۔ کہ وہ قافلہ انسانی کو جس طرف چاہے لے جائے عقل یقینا زندگی کا بیش بہا جوہر ہے لیکن اس جوہر کی باگیں عشق کے ہاتھ میں ہونی چاہیں عقل و عشق کی معاونت سے اچھے نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔
سائنس کی ہلاکت آفرینی
اقبال کے نزدیک مغربی تہذیب کی ایک خامی یہ بھی ہے کہ اس کے فرزندوں نے مظاہر فطرت کو تسخیر کرکے اپنے فائدے کو پیش نظر رکھا لیکن بحیثیت مجموعی انسانیت کے لئے ہلاکت آفرینی کے اسباب پیدا کئے ۔ مغربی ممالک بے پناہ قوت حاصل کرنے کے بعد کمزور ممالک کو اپنی ہوس کا شکار بنانے پر تل گئے مغرب والوں نے کارخانے بنائے جو سرمایہ داروں کے ہاتھ آگئے اور مزدور ایک دوسری قسم کی غلامی میں آزادی سے محرو م ہوگئے۔نئی تہذیب کے پرور دہ تاجرانِ فرنگ کے اسی رویے کے خلاف اقبال یہ کہہ کر احتجاج کیا۔
جسے کساد سمجھتے ہیں تاجرانِ فرنگ
وہ شے متاعِ ہنر کے سوا کچھ اور نہیں
مشرق کے خداوند سفیرانِ فرنگی
مغرب کے خداوند درخشندہ فلذات
ظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جوا ہے
سود ایک کا لاکھوں کے مرگ مفاجات
ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
اقبال سائنسی ترقی کے خلاف نہیں وہ خود تسخیر کائنات کے مبلغ ہیں انہیں شکایت ہے کہ مغرب نے فطرت کو تو اپنے بس میں کر لیا ہے لیکن اس سے صحیح معنوں میں کام نہیں لیا۔ اور وہ کام ہے انسانیت کی خدمت۔
مغربی تہذیب کی خوبیاں
بعض نقادوں کے نزدیک اقبال کا نقطہ نظر مغربی تہذیب کی نسبت یکسر مختلف ہے۔ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کا یہ کہنا درست نہیں کہ ” کہ اقبال کو مغربی تہذیب میں خوبی کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا۔“ یہ رائے اقبال کے حق میں منصفانہ نہیں ہے اقبال نے تو مغربی تہذیب کی خامیوں کے ساتھ ساتھ اس کی خوبیوں کا بھی اعتراف کیا ہے۔مثلاً
اہل مغرب کی سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کے وہ بے حد معترف تھے اور چاہتے تھے کہ مسلمان بھی اس میدان میں ان کی تقلید کریں ان کے نزدیک سائنس پر اہل فرنگ کی اجارہ داری نہیں ہے بلکہ ایک لحاظ سے یہ مسلمانوں کی گم شدہ متا ع ہے۔ جسے حاصل کرنا ان کا فرض ہے تسخیر کائنات کے لئے کی جانے والی سائنسی ایجادات کو وہ بہت تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں چنانچہ اقبال سائنس کوفرنگی زاد نہیں مسلمان زاد بتاتے ہیں۔
حکمت اشیاءفرنگی زاد نیست
اصل اور جز لذتِ ایجاد نیست
نیک اگر بینی مسلماں زادہ است
ایں گلے از دست ما افتادہ است
اقبال نے مغرب کی عقل پرستی اور مادہ پرستی کی غلامی پر سخت تنقید کی ہے۔ کیونکہ زندگی کو صرف عقل اور مادہ تک محدود کر لیاجائے تو انسانیت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا ۔ وہ اس افادی نقطہ نظر کے مخالف ہیں جو ہر قیمت پر صرف اپنا فائدہ دیکھتا ہے اور دوسروں کے نقصان کی پرواہ نہیں کرتا۔ مگر اس بات کے وہ قائل ہیں کہ عملی زندگی کے لئے مادی ترقی کی بھی ضرورت ہے اور عقل بھی بڑا قیمتی جوہر ہے وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ عقل اور مادہ کی ترقی اور کار گزاریوں پر روحانی اور اخلاقی پابندیاں عائد ہوں ورنہ مادی ترقیوں اور عقل کے کارناموں کے وہ معترف ہیں اور ان کی تحسین کرتے ہیں۔
یورپی علم و ہنر نے اہل فرنگ کی تمدنی زندگی کو جو ظاہری صفائی اور سلیقہ مدنی عطا کی اسے بھی اقبال قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہیں افرنگ کا ہر وہ قریہ فردوس کی مانند نظر آتا ہے۔ اور ان کا جی چاہتا ہے کہ ہمارے شہر بھی اسی طرح جنت منظر بن جائیں۔
اقبال اہل یورپ کی سود خوری ، میخواری ، عریانی ، بے حیائی اور مادر پدر آزادی کے تو سخت مخالف ہیں لیکن وہاں کی بہت سی اخلاقی خوبیوں کی تعریف بھی کرتے ہیں۔ اہل یورپ کی محنت کی عادت ، ایفائے عہد، پابندی وقت ، کاروباری دیانت اور اسی قسم کی اخلاقی خوبیوں کے باعث انہیں یورپ کے کفار اپنے ہاں کے مسلمانوں کی نسبت اسلام کے زیادہ پابند نظر آتے ہیں یورپ نے زندگی کی جو نعمتیں حاصل کی ہیں ان کے نزدیک وہ انہی اسلامی اُصولوں پر کاربند رہنے کا نتیجہ ہیں اور یہی اسلامی خوبیاں ہیں جو یورپ میں پائی جاتی ہیں مگر ہم مسلمان ان سے محروم ہیں۔
اندھی تقلید کی مذمت
اقبال نے مغربی تہذیب اور علوم کا گہری نظر سے مطالعہ کیا تھاوہ مغربی معاشرہ کی خامیو ں اور خوبیوں سے اچھی طرح آگاہ تھے۔ چنانچہ انہوں نے مغربی تہذیب کی خامیوں پر نکتہ چینی کرنے کے ساتھ ساتھ ان مشرقی رہنمائوں کی بھی مذمت کی ہے جو مغرب کی اندھی تقلید کو شعار بنا کر ترقی یافتہ قوموں کے زمرہ میں شامل ہونے کی خوش فہمی میں مبتلا تھے۔ انہوں نے مغرب کی حقیقی خوبیوں کو چھوڑ کر صرف ظاہری باتوں کو اپنا لیا ، اور ضروری اور غیر ضروری میں کوئی تمیز روا نہیں رکھی۔
اس قسم کے تجدید اور ترقی کی کوششیں مصر ، ترکی، ایران اور افغانستان میں ہوئیں، مصطفی کمال پاشا نے ترکی میں خلافت کو ختم کر دیا۔ فقہی امور میں قران کو بالائے طاق رکھ دیا ۔ علماءکو یہ تیغ کرا دیا۔ عربی رسم الخط ترک کر کے لاطینی رسم الخط اختیا ر کر لیا اور بذعم خود اپنے ملک کو ترقی یافتہ بنا دیا۔ امیر امان اللہ خان نے افغانستان اور رضاشاہ نے ایران کو بھی اسی طرح جدید طرز کا ملک بنا نا چاہا۔ ان سب رہنمائوں نے ظاہری اُمور کو کافی سمجھا اور یہ کوشش نہ کی کہ اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کی اچھائیوں کی اساس پر ایک نئی تہذیب کی بنیاد رکھے۔ اقبال نے اسی رویہ کی مذمت کی ہے۔
نہ مصطفےٰ نہ رضا شاہ میں ہے اس کی نمود
کہ روح شرق بد ن کی تلاش میں ہے ابھی
اقبال کو اس بات کو بہت رنج ہے کہ مشرقی ممالک اپنی نا سمجھی کے باعث تہذیب ِ مغرب کی اندھی تقلید کے پھندے میں پھنستے چلے جا رہے ہیں اس غفلت پر وہ اس طرح نوحہ کرتے ہیں۔
پختہ افکار کہاں ڈھونڈنے جائے کوئی
اس زمانے کی ہوا رکھتی ہے ہر چیز کو خام
اقبال کو اپنے ہم وطنوں سے بھی یہی شکوہ ہے وہ مغرب کی تقلید کو ترقی کا زینہ سمجھتے ہیں حالانکہ ترقی کے لئے لباس کی خاص وضع قطع اور اپنی زبان چھوڑ کر بدیسی زبان اختیار کر لینا۔ اور عورتوں کو بے پردہ کر دینا اور شراب و چنگ کا سہارا لینا ضروری نہیں بلکہ یہ تو وہ راستہ تھا جو ہمیں تہذیبی اور فکری اعتبار سے مفلس بنا رہا تھا۔ اوراسی ذریعہ سے مغربی اقوام سےاسی غلامی کے ساتھ ساتھ ہم پر اپنی ذہنی غلامی بھی مسلط کر رہے تھے۔
قوت مغرب نہ از چنگ و رباب
نے زرقص دخترانِ بے حجاب
اقبال کی پسندیدہ تہذیب
اقبال کو مغربی تہذیب میں اگر کچھ خامیاں نظر آتی ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ملتِ اسلامیہ اور اسکی مروجہ تہذیب سے خوش ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انھیں اپنی قوم میں بہت سی خامیاں نظرآتی ہیں وہ دیکھتے ہیں کہ اس قوم کے آگے کوئی مقصد یا نصب العین نہیں، ان کے دل گرمی ، تڑپ اور حرارت سے محروم ہیں۔دین کا نام لینے والے تو بہت ہیں لیکن دین کے اصولوں پر چلنے والے بہت کم ہیں۔ اسے نہ راستے کا پتہ ہے اور نہ منزل کا چنانچہ حال یہ ہے کہ،
تیرے محیط میں کہیں گوہر زندگی نہیں
ڈھونڈ چکا میں موج موج ، دیکھ چکا صدف صدف
اگرچہ اقبال مشرق و مغرب دونوں کی موجودہ حالت سے مایوس ہیں لیکن اُسے ایک امید ہے کہ مسلمان قوم کے پاس دین اسلام کی شکل میں ایک ایسا لائحہ عمل ہے جس کی مدد سے وہ زندگی کی دوڑ میں مغربی اقوام سے آگے بھی بڑھ سکتے ہیں۔ اور اپنی اصلاح بھی کر سکتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ وہ جدید مغربی علوم و فنون سے بھی واقف ہوں اور اپنے ورثے سے بھی بیگانہ نہ ہوں۔
مجموعی جائزہ
مختصر یہ کہ یہی وہ تہذیب ِاسلامی ہے جس کے اقبال آرزو مند ہیں ۔ اس تہذیب کے عناصر میں اخوت ، مساوات، جمہوریت ، آزادی ، انصاف پسندی ، علم دوستی ، احترام انسانی، شائستگی ، روحانی بلندی اور اخلاقی پاکیزگی شامل ہیں اور ان کی بنیاد پر یقینا ایک صحت منداور متوازن معاشرہ کا خواب دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ صالح عناصر ظاہر ہے کہ موجودہ مغربی تہذیب میں موجود نہیں اس لئے اقبال اس کی مخالفت زیادہ اور تعریف کم کرتے ہیں۔
وہ آنکھ کہ ہے سرمہ افرنگ سے روشن
پرکار سخن ساز ہے! نمناک نہیں ہے
حیات تازہ اپنے ساتھ لائی لذتیں کیا کیا
رقابت خود فروشی ، ناشکیبائی ، ہوسناکی
اقبال کا تصور تعلیم
اردو میں تعلیم کا لفظ، دو خاص معنوں میں مستعمل ہے ایک اصطلاحی دوسر ے غیر اصطلاحی ، غیر اصطلاحی مفہوم میں تعلیم کا لفظ واحد اور جمع دونوں صورتوں میں استعمال ہو سکتا ہے اور آدرش ، پیغام ، درسِ حیات، ارشادات، ہدایات اور نصائح کے معنی دیتا ہے۔ جیسے آنحضرت کی تعلیم یا تعلیمات ، حضرت عیسیٰ کی تعلیم یا تعلیمات اور شری کرشن کی تعلیمات، کے فقروں میں ، لیکن اصطلاحی معنوں میں تعلیم یا ایجوکیشن سے وہ شعبہ مراد لیا جاتا ہے جس میں خاص عمر کے بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما، تخیلی و تخلیقی قوتوں کی تربیت و تہذیب ، سماجی عوامل و محرکات ، نظم و نسق مدرسہ، اساتذہ ، طریقہ تدریس ، نصاب ، معیار تعلیم ، تاریخ تعلیم ، اساتذہ کی تربیت اور اس طرح کے دوسرے موضوعات زیر بحث آتے ہیں۔
علامہ اقبال کے تعلیمی تصورات یا فلسفہ تعلیم کے متعلق کتب و مقالات کی شکل میں اب تک جو کچھ لکھا گیا ہے اس میں تعلیم کے اصطلاحی مفہوم سے کہیں زیادہ تعلیم کے عام مفہوم کوسامنے رکھاگیا ہے۔ یعنی جو کچھ لکھا گیا ہے اس میں درس و تدریس ، تعلیم یا طلبہ و مدارس کے توسط سے پیدا ہونے والے مسائل سے بحث کرنے کے بجائے عام طور پر وہی باتیں کہی گئی ہیں جواقبال کے فکرو فن یا فلسفہ خودی و بےخودی یا تصور فرد و جماعت کے حوالے سے ، ان کو ایک بزرگ مفکر یا عظیم شاعر ثابت کرنے کے لئے کہی جاتی ہیں ، حالانکہ ان باتوں کا تعلق ، تعلیم کے اصطلاحی مفہوم سے نہیں بلکہ تعلیم کے اس عام مفہوم سے ہے جس کے دائرے میں ہر بزرگ اور صاحبِ نظر فلسفی یا شاعر کا پیغام درس حیات آ جاتا ہے۔
مانا کہ اقبال کے تصور ِ تعلیم کے ضمن میں ایسا کرنا بعض وجوہ سے ناگزیر ہے اور اقبال کے مقاصد ِتعلیم کے تعین کے سلسلے میں ان کے فلسفہ خودی و بےخودی یا فلسفہ حیات کو بحرحال سامنے رکھنا پرتا ہے۔ لیکن اقبال کے عام فلسفہ حیات کو اصطلاحی معنوں میں تعلیم یا فلسفہ تعلیم سے تعبیر کرنا یا محض ان دلائل کی بنیاد پر انہیں ایک عظیم مفکر تعلیم یا ماہر تعلیم کہنا مناسب نہیں معلوم ہوتا ۔ اس لئے کہ بقول قاضی احمد میاں اختر جو نا گڑھی،
” اقبال نہ تو فن ِ تعلیم کے ماہر تھے نہ انہوں نے اس فن کی تحصیل کی تھی، نہ اس موضوع پر انہوں نے کوئی کتاب لکھی بجز اس کے کہ کچھ مدت تک بحیثیت پروفیسر کالج میں درس دیتے رہے کوئی مستقل تعلیمی فلسفہ انہوں نے نہیں پیش کیا۔“
با ایں ہمہ ، اقبال کے تعلیمی افکا ر سے کلیتاً صرف نظر نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نے تعلیم کی فنی اور عملی صورتوں پر غور کیا ہے مسائل تعلیم کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا ہے۔ اپنے فلسفہ حیات میں مناسب جگہ دی ہے۔ تعلیم کے عام معنی و اثرات پر روشنی ڈالی ہے اس کے ڈھانچے اغراض اور معیار کو موضوع گفتگو بنایا ہے اور اپنے عہد کے نظام ِ تعلیم پر تنقیدی نگاہ ڈالی ہے۔ مدرسہ ، طلبہ ، اساتذہ اور نصاب ، سب پر اظہار خیال کیا ہے صرف مشرق نہیں ، مغرب کے فلسفہ تعلیم اور نظام ِ کار کو بھی سامنے رکھا ہے۔ دونوں کا ایک دوسرے سے مقابلہ کیا ہے ان کے درمیان حد ِ فاضل کھینچی ہے۔ خرابیوں اور خوبیوں کا جائزہ لیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ زندگی کو کامیاب طریقے سے برتنے اور اس کی مزاحمتوں پر قابو پالینے کے لئے کس قسم کی تعلیم اور نظام تعلیم کی ضرورت ہے۔
افراد اور اقوام کی زندگی میں تعلیم و تربیت کو وہ بنیادی اہمیت حاصل ہے کہ افراد کی ساری زندگی کی عمارت اسی بنیاد پر تعمیر ہوتی ہے اور اقوام اپنے تعلیمی فلسفہ کے ذریعہ ہی اپنے نصب العین ، مقاصد ِ حیات، تہذیب و تمدن اور اخلاق و معاشرت کا اظہار کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال نے قومی زندگی کے اسی اہم پہلو پر گہرا غور و خوص کیا ہے۔ اور اپنے افکار کے ذریعہ ایسی راہ متعین کرنے کی کوشش کی ہے جو ایک زندہ اور جاندار قوم کی تخلیق کا باعث بن سکے۔
ابتداءمیں تو اقبال نے قوم کے تعلیمی پہلو پر کوئی خاص توجہ نہیں دی ۔ خاص طور پر اپنی شاعری کے پہلے اور دوسرے دور میں اس موضوع پر انہوں نے کچھ نہیں لکھا البتہ آخر میں انہوں نے اس قومی پہلو کو بھر پور اہمیت دی۔ اور ” ضرب کلیم‘ میں تو ”تعلیم و تربیت“ کا ایک مستقل عنوان قائم کیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی جابجا ایسے اشعار ملتے ہیں ۔جن میں صحیح تعلیم اور اس کے مقاصد کی نشاندہی کی گئی ہے۔بقول ڈاکٹر سید عبداللہ،
” اقبال نے تعلیم کے عملی پہلوئوں پر کچھ زیاد ہ نہیں لکھا مگر ان کے افکار سے ایک تصور تعلیم ضرور پیدا ہوتا ہے۔ جس کو اگر مرتب کر لیاجائے تو اس پر ایک مدرسہ تعلیم کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔“
مروج نظام ہائے تعلیم
اقبال نے زمانے میں دو نظام تعلیم ملک میں پہلو بہ پہلو رائج تھے ایک تو قدیم دینی نظام ِ تعلیم تھا جو مذہبی مدارس میں رائج تھا۔ یہ صدیوں سے ایک ہی ڈگر پر چلا آرہا تھا۔ وقت کے تقاضوں نے اس میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی تھی اور اس کے باوجود اسے اپنی جگہ مکمل سمجھا جاتا تھا۔ دوسرا نظام حکمران انگریز قوم کا رائج کردہ تھا جو لارڈ میکالے کے فکر کی پیداوار تھا اس کا مقصد نوجوانوں کو حصول ِ علم میں مدد دینے ۔ انتظامی مشینر ی کے کل پرزے ڈھانچے کے علاوہ ایسی نسل تیار کرنا تھا جو ذہناً اپنے ملک و قوم کے بجائے حکمران قوم سے وابستہ ہو۔
ان دو نوں نظاموں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو ملک اور قوم کی امنگوں اور مقاصد کی ترجمانی کرنے کی اہمیت رکھتا ہو۔ چنانچہ اقبال نے ان پر بھر پور تنقید کی ہے
قدیم دینی مدارس کی جامد تعلیم
اقبال نے دیکھا تھا کہ قدیم دینی مدارس میں قرآن و حدیث کی تعلیم جس طریقہ سے دی جاتی ہے۔ وہ طلباءکو ارکانِ اسلام اور فقہی مسائل سے تو آگا ہ کر دیتی ہے لیکن وہ دین کی روح سے آشنا نہیں ہوتے ، مشاہدہ کائنات اور تسخیر کائنات کے مضامین کا ان کے نصاب سے کوئی تعلق نہیں ہے ان مدارس کے فارغ التحصیل طلباءزندگی کے گوناگوں مسائل کو سمجھنے اور انہیں حل کرنے کی صلاحیت سے عاری رہتے ہیں۔ اور بدلتے ہوئے زمانہ کے تقاضوں کا جواب نہیں دے سکتے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نظام تعلیم نے کئی بڑے علما ءبھی پیدا کئے جنہوں نے دینِ حق کو زندہ رکھنے کی خدمت انجام دی لیکن ان مدرسوں کے تربیت یافتہ زیادہ تر لوگ وہی تھے جنہیں ”ملا“ کہا جاتا ہے۔ اور جن کی خصوصیات میں تنگ نظری ، تعصب، جہالت اور رجعت پسندی نمایاں رہی ہیں۔ اقبال نے”بال جبریل “ میں ایک نظم ”مُلا“ انہی کو پیش نظر رکھ کر لکھی ہے۔
میں بھی حاضر تھا وہاں ضبط سخن کر نہ سکا
حق سے جب حضر ت مُلا کو ملا حکم ِ بہشت
عرض کی میں نے الہٰی میری تقصیر معاف
خوش نہ آئیں گے اسے حور و شراب و لب کشت
مُلا سے اقبال اس لئے بیزار ہیں کہ اس کے پاس دین ہے دین کی حرارت نہیں ، وہ دین کی روح سے بےگانہ ہوگیا ہے۔ اس کی نماز ، روزہ ، سب رسمی بن گئے ہیں اور حیات کے ان اعلیٰ مقاصد تک اس کی پہنچ نہیں رہی جو دین کا نصب العین ہیں ،
اُٹھا میں مدرسہ و خانقا ہ سے غمناک
نہ زندگی ، نہ محبت، نہ معرفت نہ نگاہ
تیری نماز میں باقی جلال ہے نہ جمال
تیری اذان میں نہیں ہے مری سحر کا پیام
قوم کیا چیز ہے ، قوموں کی امامت کیاہے
اس کو کیا سمجھیں یہ بےچار ے دو رکعت کے امام
اقبال کو دینی عالموں سے جو توقع ہے اور ان کے علم کا جو تقاضا ہے وہ اپنی قوم کے نوجوانوں کی اصلاح اور صحیح تعلیم و تربیت ہے اسی لئے وہ تما م تر مایوسی کے باوجود دعوت دیتے ہیں،
اللہ رکھے تیرے جوانوں کو سلامت
دی ان کو سبق خود شکنی خود نگر ی کا
جدید انگریزی مدارس کی گمراہ تعلیم
قدیم دینی مدارس کی جامد ، بے روح اور زمانہ کے تقاضوں سے نا آشنا تعلیم کے ساتھ اقبال جدید انگریز ی تعلیم سے بھی نالاں تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ تعلیم سراسر مادیت پر مبنی تھی اور دین و مذہب سے اس کا کوئی واسطہ نہیں تھا۔ ان کی نظر میں یہ نظام ِ تعلیم دین کے خلاف ایک بہت بڑی سازش تھی جوانوں کو اعلیٰ اسلامی اقدار سے محروم کر رہی تھی۔ یہ تعلیم ضرورت سے زیادہ تعقل زدہ تھی اس نے الحاد اور بے دینی پھیلانے کی بھر پور کوشش کی ہے جسے اقبال نفر ت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر
لب خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ
اور یہ اہلِ کلیسا کا نظام ِ تعلیم
ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف
اقبال رسمی اور جامد تعلیم سے اس قدر نالاں نہیں جتنے جدید مغربی تعلیم سے ہیں مغربی تعلیم کے بارے میں وہ بہت تلخ ہیں اس کی کئی وجوہ ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔
مذہب سے بیزاری
مغربی تعلیم کی بنیاد ہی مادیت پر ستی ہے وہ عقل پرستی ، تن پروری ، تعیش و آرام کی دلدادگی کا سبق دیتی ہے اس سے مسلمان نوجوانوں کے عقائد متزلزل ہو جاتے ہیں مغربی تہذیب کی اندھی تقلید ان سے ان کا نصب العین چھین لیتی ہے اور انہیں اندھیروں میں بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیتی ہے یہ بے دینی اور الحاد انہیں احساس ِ کمتری میں مبتلا کر دیتی ہے اور ان شاہیں بچوں کو خاکبازی کا سبق دے کر انہیں توحید کے نظریہ سے دور لے جاتی ہے۔
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا
کہاں سے آئے صدا لاالہ الا اللہ
شکایت ہے مجھے یا رب خُداوندانِ مکتب سے
سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا
ترے صوفے ہیں افرنگی ، ترے قالین ایرانی
لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی
مغربی تعلیم کی روح بلند مقاصد سے خالی ہے اس کا نصب االعین صرف معاش کا حصول ہے اور یہ نوجوانوں کو پیٹ کا غلام بنا کر اسے دنیاوی لذتوں میں اُلجھا دیتی ہے اس طر ح بلند مقاصد سے وہ بالکل عاری ہو جاتے ہیں۔
وہ علم نہیں زہر ہے احرار کے حق میں
جس علم کا حاصل ہو جہاں ِ میں دو کفِ جو
عصر حاضر ملک الموت ہے تیرا جس نے
قبض کی روح تری، دے کے تجھے فکر معاش
فیض فطر ت نے تجھے دیدہ شاہیں بخشا
جس میں رکھ دی ہے غلامی نے نگاہِ خفاش
مغربی تعلیم نوجوانوں کو اپنی قومی تاریخ و روایات سے بیگانہ کرکے مغربی طرز معاشرت رفتار و گرفتا ر اور طرزِ حیات کا دلدادہ بنا دیتی ہے۔ اور مغرب کے جھوٹے میعار ، جھوٹے نظریات اور جھوٹی اقدار کی چمک دمک ان کی نگاہوں کو خیر ہ کر دیتی ہے اس طرح وہ اپنی فطری حریت ، دلیری ، شجاعت اور بلند پروازی کو چھوڑ کر ایک احساس ِ کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ مغرب کی بھونڈی تقلید کی کوشش میں وہ مغرب کی خرابیوں کو اپنا لیتے ہیں اور خوبیوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔
یہ بتانِ عصر ِ حاضر کہ بنے ہیں مدرسے میں
نہ ادائے کافرانہ ، نہ تراش ِ آزرانہ
امومیت کی موت
مغربی تعلیم کا ایک بہت بڑا لمیہ یہ ہے اس نے عورت کو جذبہ امومیت سے بیگانہ کر دیا ہے۔ عورت اس فرض سے جان چرانے لگی ہے جونئی نسل کی تخلیق اور تعلیم و تربیت کی صورت میں قدرت نے اس کے سپرد کیا تھا یہ گویا قومی خود کشی کے مترادف ہے۔
جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن
کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت
بیگانہ رہے دیں سے اگر مدرسہ زن
ہے عشق و محبت کے لئے علم و ہنر موت
مغربی تعلیم نے تدریس کی ذمہ داری جن لوگوں کے سپرد کی ہے وہ خود بے راہ ہیں ۔ وہ نہ ان علوم پر گہری نظر رکھتے ہیں جو وہ پڑھاتے ہیں اور نہ تعلیم کے حقیقی مقاصد سے آشنا ہیں اور جسے خود راہ کی خبر نہ ہوگی وہ دوسرے کی رہنمائی کیونکر کر سکتا ہے اقبال نے ”ضرب کلیم “ میں اساتذہ کے عنوان سے لکھا ہے۔
مقصد ہو اگر تربیت لعل و بدخشاں
بے سودہے بھٹکے ہوئے خورشید کا پرتو
دنیا ہے روایات کے پھندوں میں گرفتار
کیا مدرسہ ، کیا مدرسہ والوں کی تگ و دو
کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت
وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو
مختصر یہ کہ مغربی نظام تعلیم اقبال کی نظر میں سرتاپا بے مقصد اور لغو ہے اور قوم کے لئے زہر ِ ہلاہل کا اثر رکھتی ہے اس سے نوجوانوں کی تما م تر صلاحیتیں مفلوج ہو جاتی ہیں ۔ اور قوم اپنی راہ سے یکسر بھٹک جاتی ہے۔
اقبال کا فلسفہ تعلیم
مروجہ دینی اور مغربی نظامہائے تعلیم کو ردکرنے کے بعد اقبال اپنی قوم کے نوجوانوں کے لئے ایک ایسے نظامِ تعلیم کے خواہاں ہوتے ہیں جو ان کی خودی کی تربیت کر سکے ان کا فلسفہ تعلیم ان کے فلسفہ خودی کے تابع ہے۔ڈاکٹر سید عبداللہ نے ”طیف اقبال “ نے اس سلسلہ میں کہا ہے،
” اقبال نے اپنے نظریہ تعلیم میں طریق کار کا سلسلہ تربیت خودی پر مبنی کیا ہے خودی کی تربیت کے لئے ایک ایسانظام درکار ہے جس میں کلیت پائی جائے جس میں حواس کی تربیت ، وجدان اور جذبے کی تربیت کا پہلو بھی ہو اور ان روحانی رشتوں کا احساس بھی جو نفس ِ انسانی میں قدرت کی طرف سے پائے جاتے ہیں تربیت خودی کے اس نظام کو اقبال نے ”اسرار خودی“ اور ”رموزبےخودی“ میں اچھی طرح بیان کیا ہے۔“
اس طرح اقبال ایسی تعلیم کے حق میں ہیں جو خودی کی تربیت کرے اور اسے استحکام بخشے اور جو تعلیم ایسا نہ کر سکے وہ ان کے نزدیک نہ صرف بیکار ہے بلکہ نقصان دہ
تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو
ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے اُسے پھیر
خودی ہو علم سے محکم تو غیر ت جبریل
خودی ہو عشق سے محکم تو صور اسرافیل
ایسی تعلیم جو اقبال کے اس معیار پر پوری اُترنے والی ہو وہ کیا ہو سکتی ہے اس سلسلہ میں اقبال نے خواجہ غلام حسین کے نام اپنے ایک ”خط“ میں وضاحت کی ہے۔
” علم سے میری مراد وہ علم ہے جس کا دارومدار حواس پر ہے عام طورپر میں نے علم کا لفظ انہی معنوں میں استعمال کیا ہے اس علم سے ایک طبعی قوت ہاتھ آتی ہے جس کو دین کے ماتحت رہنا چاہیے اگر دین کے ماتحت نہ رہے تو محض شیطانیت ہے ۔“
علم کے دورذریعے
علم کے حصول کے دوذریعے ہیں ایک علم وہ ہے جو عقل اور حواس کے ذریعہ سے حاصل ہوتا ہے اور دوسرا وہ جس کی بنیاد ایمان اور وجدان پر ہے۔ اقبال کے نزدیک یہ دونوں باہم متصادم نہیں ہیں۔ بلکہ ان دونوں کا ارتباط ضروری ہے۔
جوہر میں ہو لاالہ تو کیا خوف
تعلیم ہو گو فرنگیانہ
اقبال کے نزدیک دینی تعلیم بھی اتنی ہی ضروری ہے جس قدر دنیاوی تعلیم ، اور پھر دونوں کے درمیان گہرا ربط اور تعلق بھی لازمی ہے محض دینی یا صرف دنیاوی تعلیم اپنی جگہ کافی نہیں ، اور نہ انہیں علیحدہ رکھ کر بہتر نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اُن کے نزدیک تعلیم کا بنیادی مقصد تو یہی ہے کہ وہ انسان کی قلب ماہیت اور روحانی اصلاح کرکے اس کے اندر حفظِ خودی کی خوبیاں پیدا کردے ۔ اسے توحید ، علم ، عشق ، بلند ہمتی ، سخت کوشی ، پاک دامنی ، فقر ، رواداری ، اور درویشی قناعت جیسی صفات سے آراستہ کرکے ایک مثالی انسان بنا دے۔
علم از سامان حفظ زندگی است
علم از اسبابِ تقویم خودی است
انسانیت کے بلند منصب کے لئے ضروری ،کتابی علوم کے علاوہ بزرگوں اور ان کے فیضانِ نظر کی تاثیر ہی وہ چیز ہے جو انسان کے قلب و نظر کی پرورش اور روشنی کے لئے لازمی چیز ہے اس کے بغیر مکتب کی تعلیم عموماً نا مکمل اور بے فائدہ رہتی ہے۔ او ر صاحب ِ قلب و نظر بزرگوں کی ایک نگاہ بعض اوقات ایسا کام کر جاتی ہے جو مدتوں کی مکتبی تعلیم بھی نہیں کر سکتی۔
یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی!
اقبال تعلیمی مضامین کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں اور اس کے نظام تعلیم کے خصوصیات یہ ہے کہ اس میں کلیت پائی جاتی ہے۔ مادے کو بھی روحانیت کو بھی ، خدا کو بھی ، انسان کو بھی اور نیچر کو بھی وہ سب چیزوں کو اپنی جگہ اہمیت دیتے ہیں۔
اقبال کے نزدیک دین اور سائنس دو الگ الگ مضمون نہیں بلکہ ایک ہی مضمون کے دو حصے ہیں کیوں کہ قران نے بار بار مسلمانوں کو مطالعہ کائنات اور تسخیر فطرت کی دعوت دی ہے اقبال کے خیا ل میںدینی علوم ، خدا، کائنات اور انسان تینوں کے مجموعی تشخص پر مشتمل ہیں اور انہیں الگ الگ نہیں کیا جا سکتا اسی تصور کے زیر اثر اقبال نے ایک ایسے نظام ِ تعلیم کاخاکہ پیش کیا ہے جس میں دین، سائنس اور حکمت کو ایک واحد مضمون کی حیثیت سے دیکھا گیا ہے۔
اقبال حکمت و فلسفہ کے باب میں ایک طرف سائنسی فلسفیوں کے ہم خیال ہیں جو فلسفے کے تصورات کو سائنس کے تجربات و انکشافات سے ہم آہنگ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور دوسری طرف عینی ( آئیڈیا لسٹ ) فلسفیوں کے ہم رائے ہیں جو علم کے مقابلہ میں محض تعقل کو کافی نہیں سمجھتے اور ایک برتر سر چشمہ علم کی ضروت کو ناگزیر خیال کرتے ہیں یہی نقطہ نظر خالص سائنسی طریق کار کے متعلق ہے۔
تاریخ و روایات
اقبال نے تاریخ و روایت یا روایات کو اپنے تصور ِ تعلیم میں خاص جگہ دی ہے۔ تاریخ انسانی کردار کی تعمیر ، ملت کی تنظیم اور حقائق کے انکشاف کا بہت بڑا ذریعہ ہے ۔ا قبال کی نظر میں جو قومیں اپنی تاریخ و روایات سے بیگانہ رہتی ہیں۔ وہ اپنی ہستی گو گم کر بیٹھتی ہیں۔اس کے علاوہ اقبال نے ادبیات و فنونِ لطیفہ پر ”ضرب کلیم “ میں ایک علیحدہ عنوان قائم کرکے کھل کر اظہار ِ خیال کیا ہے۔ وہ ان تمام فنون کو اپنے فلسفہ خود ی کے تابع گردانتے ہیں ان کے نزدیک وہی فن درست ہے جو قوتِ حیات کی ترجمانی کرے اور خودی کی نشوونما میں ممدو معاون ثابت ہو۔
حاصل کلام
آخر تمام بحث کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اقبال کی نظر میں تعلیم کا حقیقی مقصد انسانی سیرت و کردار کی تعمیر کرکے اس کی تسخیر ِ حیات کی صلاحیت کو تقویت پہنچانا ہے اور اس کے ساتھ ہی خدا ، کائنات ، اور انسان کو ایک کلی نظام کی حیثیت سے دیکھنا ہے۔ چنانچہ محض مادی یا محض روحانی تعلیم کو مقصود ٹھہرا لینا درست نہیں ، روح اور مادہ کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا اور تعلیم کا فرض ہے کہ تن اور من دونوں کی ضروریات کو پیش نظر رکھے اور جسمانی اور روحانی تقاضوں کو یکساں اہمیت دے اس کے ساتھ ہی تعلیم کا مقصد انسان کو تسخیر کائنات کے لئے تیار کرنا بھی ہے اور اسے ایسے سانچے میں ڈھالنا بھی کہ وہ خود کو مفید شہری بنا کر صالح معاشرے کو وجود میں لانے میں مدد دے اور تعلیم کا آخری اور بڑا مقصد خودی کی تقویت اور استحکام ہے۔
جوانوں کو میری آہ سحر دے
پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر دے
سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کا م دنیا کی امامت کا
اقبال کا مرد مومن
اقبال کے افکار میں ”مرد مومن“ یا ”انسان کامل“کا ذکر جا بجا ملتا ہے۔ اس کے لئے وہ ” مرد حق“ ”بندہ آفاقی“ ”بندہ مومن“ ”مرد خدا“ اور اس قسم کی بہت سی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں حقیقتاً یہ ایک ہی ہستی کے مختلف نام ہیں جو اقبال کے تصور خودی کا مثالی پیکر ہے۔
نقطہ پرکار حق مرد خدا کا یقیں
اور عالم تم ، وہم و طلسم و مجاز
عالم ہے فقط مومن جانباز کی میراث
مومن نہیں جو صاحب ادراک نہیں ہے
ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ
غالب وکار آفریں ، کار کشا ، کارساز
کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہےں تقدیریں
غرض یہ مثالی ہستی اقبال کو اتنی محبوب ہے کہ باربار اس کا ذکر کرتے ہیں اس سلسلہ میں جو سوالات اٹھائے گئے ہیں ان میں سے اہم یہ ہیں کہ اقبال نے مرد مومن ک تصور کو کہاں سے اخذ کیا ہے؟ ان کے مرد مومن کی صفات کیا ہیں؟ ان کا یہ تصور محض تخیلی ہے یا کوئی حقیقی شخصیت ان کے لئے مثال بنی ہے۔ ان سوالات کا جوابات ان کے کلام کے گہر ے مطالعے کے بعد دیا جا سکتا ہے۔
اس بارے میں مختلف آرا ءملتی ہیں کہ اقبال نے مرد مومن کا تصور کہاں سے اخذ کیاہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کی اساس خالصتاً اسلامی تعلیمات پر ہے اور اس سلسلہ میں اقبال نے ابن مشکویہ اور عبدالکریم الجیلی جیسے اسلامی مفکرین سے بھی استفادہ کیا ہے۔ ایک گروہ اس تصور کو مغربی فلسفی نیٹشے کے فوق البشر کا عکس بتاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اقبال نے خیال قدیم یونانی فلاسفرز سے حاصل کیا ہے۔ اور کچھ اسے مولانا روم کی دین قرار دیتے ہیں۔ اس لئے ان تمام مختلف اور متضاد آراءکے پیش نظر ضروری ہے کہ مرد مومن کے متعلق بات کرنے سے قبل ان افکار کا جائزہ لیا جائے جو مشرق اور مغرب میں اقبال سے قبل اس سلسلہ میں موجود تھے۔ اور اقبال نے ان سے کس حد تک استفادہ کیا اس کا انداز ہ بھی ہم بخوبی لگا سکیں گے۔
وبلاگ حاضر مختلف اسلامی موضوعات اور پاراچنار کے مسائل کے بارے میں تیار کیا گیا ہے