|
جس نے دجال کے وجود اور خروج کو جھٹلایا وه کافر ہے اور جس نے مہدی (عج) کو جهٹلایا وہ کافر ہے۔ من انکر خروج المهدی فقد کفر ۔[5] جس نے قیام مہدی (عج) کو جهٹلایا وہ کافر ہؤا۔ عن جابر رضی الله عنه رفعه من أنکر خروج المهدى فقد کفر بما انزل على محمد ۔[6] جابر بن عبداللہ انصاری (رض) سے روایت مرفوعہ ہے کہ رسول اکرم صلی الله علیہ و آله وسلم نے فرمایا: جس نے قیام مہدی (عج) کا انکار کیا وه ان تمام چیزوں پر کافر ہؤا ہے جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہوئی ہیں۔ اس حوالے سے متعدد حدیثیں شیعہ اور سنی منابع و مصادر سے وارد ہوئی ہیں کہ امام مہدی (عج) کا منکر کافر ہے۔ اہل سنت ہی کی کتابوں میں تصریح ہوئی ہے که امام مہدی علیہ السلام کے قیام کے اثبات کے حوالے سے وارد ہونے والی تمام حدیثیں صحیح ہیں اور یہ حدیثیں ابوداؤد ، ترمذی و احمد و دیگر نے ابن مسعود و دیگر سےنقل کی ہیں ۔ حدیث مستند ہے اور کفر کا معیار بھی واضح ہے۔۔۔ چنانچہ کسی کے لئے بھی جائز نہیں ہے کہ کسی پر کفر کا الزام لگائے ہاں مگر وہ لوگ جو مہدی (ع) کے منکر ہیں؛ ان کو ہم نہیں رسول اللہ (ص) کافر قرادے چکے ہیں۔ یہ مہدی ہیں کون جن کی ظہور کی بشارت قرآن میں ہے۔ نبوی، علوی، فاطمی احادیث اور ائمہ علیہم السلام کی احادیث (جو درحقیقت احادیث نبوی ہیں) میں ان کے آنے کی بشارتیں ہیں۔۔۔ کچھ لوگ اس ذات با برکات کا انکار کرتے ہیں! کیسے؟ کیوں؟ وہ بات بات پر اپنی تأویلات اور اپنی ذاتی آراء و افکار کے مخالفین کو تو کافر کا لقب دیتے ہیں اور جتنی آسانی سے وہ دیگر مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں اور اسلامی تعلیمات کے برعکس اپنے نظریات کے مخالفین کا خون بہاتے ہیں اور مسلمانوں کو کافر قراردے کر ان کے قتل کے فتوے جاری کرتے ہیں – جبکہ کفار کی پیش قدمی مقدس مقامات اور مکہ و مدینہ تک جاری ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور قرآن و اسلام کی توہین آج یورپ میں ایک فیشن کی صورت اختیار کرگئی ہے اور شاتمان رسالت کو یورپ میں بنگلے اور پرامن زندگی کی ضمانتیں ملتی ہیں – اتنی ہی آسانی سے کافر کیونکر ہوجاتے ہیں اور حضرت مہدی علیہ السلام کا انکار کس طرح کرتے ہیں؟ گو کہ حدیث میں ہے کہ اگر تم نے کسی کو کافر کہا تو یا تو وہ کافر ہوگا یا اگر وہ کافر نہیں تو یقینا تم کافر ہو اور اس طرح فتووں کے کارخانے کھولنے والوں پر ویسے بھی کفر کا شبہ موجود ہے۔۔۔ قرآن میں ان کے آنے کی بشارت موجود ہے۔۔۔ احادیث رسول (ص) و معصومین (ع) میں بشارتیں موجود ہیں پھر بھی کوئی کہتا ہے مہدی (ع) پیدا ہونگے ! کچھ لوگ کہتے ہیں: پیدا نہیں ہوئے کوئی کہتا ہے مہدی کا کوئی وجود ہی نہیں ہے ۔۔۔ البتہ محی الدین بن عربی جو اہل سنت کے جانے پہچانے امام ہیں اور عارف بھی ہیں؛ یقین سے کہتے ہیں کہ شیعوں کی بات درست ہے اور امام مہدی علیہ السلام امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ہیں اور اس وقت پردہ غیب میں ہیں؟ ۔۔۔ یہ لوگ جانتے ہیں مگر تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہیں۔۔۔ کہتے ہیں: یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص 12سو سال زندہ رہے اور یہی حضرات منبر و محراب میں فیض افشانی کرتے ہیں تو حضرت نوح کی عمر کی کہانیاں سنا سنا کر نہیں تھکتے اور حضرت عیسی علیہ السلام کی دوہزار سالہ عمر کی باتیں سناتے ہوئے انہیں بالکل حیرت نہیں ہوتی! اور مجھے ان لوگوں کی دوگانہ گوئی پر حیرت ہے! ۔۔۔ کہتے ہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اتنے سارے برسوں میں انہیں کسی نے بھی نہ دیکھا ہو؟ ۔۔۔ یقینا یہ حضرات کم از کم اپنے آپ سے تو پوچھتے ہونگے کہ حضرت عیسی کو ان دوہزار برسوں میں کس نے دیکھا ہے یا دیگر انبیاء جو بقید حیات ہیں سال میں کتنی دفعہ ان حضرات کو نظر آتے ہیں؟ یا یہ کہ اگر وہ نظر نہیں آتے تو کیا ہم ان کے وجود کا ہی انکار کربیٹھیں؟ ۔۔۔ ہمیں عقل بھی تو – نہ اپنی نہ دوسروں کی – نظر نہیں آتی پھر اس بارے میں کیا فیصلہ کریں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیث «من مات و لم یعرف امام زمانہ۔۔۔» یاد رہے۔۔۔
دوسری حديث: حضرت رسول اللہ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا: «من مات و لم يعرف امام زمانہ مات ميتة الجاہلية» [7] - [8] «اگر کوئی اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر دنیا سے رخصت ہوجائے، وہ دوران جاہلیت کی موت مرا ہے۔» یہ حدیث سنی اور شیعہ کی منابع میں متفق علیہ ہے۔ اب اگر کوئی کہے کہ یہ حدیث درست نہیں ہے تو وہ جھوٹا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ یہ حدیث رسول اللہ کے زمانے کے لئے ہے تو وہ بھی جھوٹا ہے کیوں کہ ہر زمانے کے لوگوں کو اپنے امام کی معرفت حاصل کرنا لازم ہے۔ اور اگر کہے کہ حدیث صحیح بھی ہے اور آفاقی بھی اور ابدی بھی ہے تو یہ بتانا پڑے گا کہ اس کا امام زمانہ کون ہے؟ آپ کا امام کون ہے؟؟؟ منکرین مہدی بتائیں کہ ان کے زمانے کا امام کون ہے۔۔۔ وہ امام کون ہے جس کو اگر وہ نہ پہچانیں تو جاہلیت کی موت مریں گے؟ جاہلیت یعنی عناد و لجاج یعنی ضد اور ہٹ دھرمی اور جہل پر اصرار۔
تیسری حديث : حضرت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں: «اگر دنیا کی عمر کا صرف ایک دن بھی باقی ہو خداوند متعال اس ایک دن کو اتنا طویل کرے گا کہ حضرت مہدی (عج) ظہور فرمائیں اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں جیسے کہ یہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی»۔[9] یہاں ایک نکتہ قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سال ہفتہ وحدت کے ایام میں – ایک طرف سے وحدت و اتحاد بین المسلمین پر کاری ضربیں لگائی گئیں اور استعمار و استکبار کی خوب خوب خدمت کی گئی- امہ کے مختلف فرقوں، مکاتب اور مذاہب کے کثیر علماء نے ایک نہایت اہم اور عالمی اہمیت کی حامل قرارداد منظور کرلی۔ وہ یہ کہ: «کسی بھی اسلامی فرقے کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ دوسرے اسلامی فرقوں کے پیروکاروں کی تکفیر کریں اور یہ کام غلط ناروا اور ناجائز ہے». ہاں البتہ وہ فرقے جو غلو جیسی بیماریوں میں مبتلا ہیں یا اپنے اعمال کے ذریعے دشمن کی خدمت کررہے ہیں اور مسلمانوں اور دین مبین کو نقصان پہنچاتے ہیں یا فرقے نہیں ہیں بلکہ دشمنوں کے ہاتھوں بنے ہوئے ادارے ہیں، ان کا حساب اصلی اور حقیقی اسلامی فرقوں سے الگ ہے»۔ حضرت مہدي نے فرمایا: 1: «حوادث اور رودادوں میں ہماری حدیثوں کے راویوں سے رجوع کرو؛ کیونکہ وہ تمہارے اوپر میری حجت ہیں اور میں ان کے اوپر حجت خدا ہوں»۔ 2- «انا بقية اللہ في ارضہ و المنتقم من اعدائہ» میں روئے زمین پر «بقية اللہ» اور اس کا ذخیرہ اور اس کے دشمنوں سے انتقام لینے والا ہوں۔ 3: «علامة ظہور امري كثرة الہرج و المرج و الفتن» میرے ظہورکی نشانی ھرج و مرج اور افراتفری اور فتنوں کی کثرت سے عبارت ہے۔ 4: «خدا اور کسی بھی بندے کے درمیان قرابتداری کا رشتہ قائم نہیں ہے اور «و مَن انكرني فليس مني و سبيلہ سبيل ابن نوح»؛ اور جو میرا انکار کرے وہ مجھ سے نہیں ہے اور اس کا راستہ نوح (ع) کے ناخلف و نافرمان بیٹے (کنعان) کا راستہ ہے۔ ہفتہ وحدت مبارک ہو انشاء اللہ ہمارا یہ سال سنہ 1429 سال ظہور مہدي آل محمد(عليہ و علي آبائہ السلام) ہو۔ یہاں ایک نکتہ قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سال ہفتہ وحدت کے ایام میں – ایک طرف سے وحدت و اتحاد بین المسلمین پر کاری ضربیں لگائی گئیں اور استعمار و استکبار کی خوب خوب خدمت کی گئی- امہ کے مختلف فرقوں، مکاتب اور مذاہب کے کثیر علماء نے ایک نہایت اہم اور عالمی اہمیت کی حامل قرارداد منظور کرلی۔ وہ یہ کہ: «کسی بھی اسلامی فرقے کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ دوسرے اسلامی فرقوں کے پیروکاروں کی تکفیر کریں اور یہ کام غلط ناروا اور ناجائز ہے۔ ہاں البتہ وہ فرقے جو غلو جیسی بیماریوں میں مبتلا ہیں یا اپنے اعمال کے ذریعے دشمن کی خدمت کررہے ہیں اور مسلمانوں اور دین مبین کو نقصان پہنچاتے ہیں یا فرقے نہیں ہیں بلکہ دشمنوں کے ہاتھوں بنے ہوئے ادارے ہیں، ان کا حساب اصلی اور حقیقی اسلامی فرقوں سے الگ ہے»۔ وحدت میں تقیہ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے، تقیہ حضرت موسی نے کیا؛ حضرت زکریا نے کیا، حضرت ابراہیم نے بت توڑ کر بڑے بت کو ملزم ٹہرایا اور تقیہ کیا، تقیہ مشرکین کے نرغے میں آنے والے مسلمانوں نے کیا اور خدا نے ان کی تائید کی۔ «مَن كَفَرَ بِاللّهِ مِن بَعْدِ إيمَانِهِ إِلاَّ مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِيمَانِ وَلَـكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ» (نحل 106﴾ جس نے خدا کا انکار کیا ایمان لانے کے بعد – سوائے اس مؤمن کے جس کا دل ایمان سے مطمئن تھا اور مجبور کیا گیا – مگر جس نے دل کھول کر کفر کا راستہ اپنایا اس کے لئے عذاب عظیم ہے۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں – اپ جس مذہب سے بھی تعلق رکھتے ہوں – کہ اگر آپ کے ارد گرد کئی مسلح افراد ہوں اور وہ آپ کی رائے جان کر آپ کی جان کے درپے ہوں تو آپ کونسا راستہ اپنائیں گے؟ ہاں یہ بالکل صحیح ہے کہ تقیہ صرف ایسے ہی حالات کے لئے ہے۔ اتحاد امت ضروریات دین میں سے ہے۔ یہ کوئی سنتی عمل نہیں ہے؛ مباح بھی نہیں ہے بلکہ فرض عین ہے اور شيعہ مسلمان وحدت و اتحاد کی دعوت تقیّے کی بنا پر نہیں بلکہ ضرورت اسلام کی بنا پر دے رہے ہیں۔ تقیہ کا مطلب جھوٹ بولنا نہیں ہے بلکہ ضرورت کی مقدار کے مطابق بولنا ہے۔ تقیہ کا مطلب یہ ہے کہ ماحول کا خیال رکھو اور ماحول کو دیکھ کر لوگوں کی عقل اور سوچ کے مطابق بات کرو۔ تقیہ کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کی رضا اور ناراضگی کا خیال رکھو تا کہ معاشرے میں امن و امان کی فضا قائم ہو۔ قرآن نے فرمایا ہے کہ لاتفرقوا۔۔۔ نہی واضح ہے۔۔۔ چنانچہ ہم شیعہ ہیں شیعہ اصولوں کے پابندہیں۔۔۔ ہم جب اتحاد کی بات کرتے ہیں اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہم اپنا مذہب چھوڑ کر کوئی دوسرا مذہب اختیار کررہے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ ہم تقیہ کررہے ہیں؛ ایسی کوئی بات نہیں ہے اور ہمارا یہ بھی مقصد نہیں ہے کہ کسی اور فرقے کے لوگ ہمارا مذہب اختیار کریں۔۔۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ بنیادی اصولوں میں ہم ایک ہیں بعض فروع میں فرق ہے۔۔۔ اور اہم بات یہ ہے کہ اس وقت عالم اسلام کو کفار کا خطرہ درپیش ہے جو سنی تعلیمات کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں اور شیعہ اصولوں کو بھی ۔۔۔ وہ ہمارے قرآن اور رسول اللہ (ص﴾ کی توہین کو شعار بنائے بیٹھے ہیں۔ ۔۔۔ یاد رکھنا کہ چالیس پاروں والا قرآن ہمارے پاس نہیں ہے لیکن ہمارے دشمن کے ذہنی اختراعات کے ریکارڈ میں دیکھ لیں تو مل ہی جائے گا۔۔۔۔ ہمارا قرآن وہی ایک ہے ۔۔۔ وہی جس کے تیس پارے ہیں اور ہم اس کی تحریف کو ناممکن سمجھتے ہیں کیوں کہ اللہ نے خود اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے۔۔۔ ہمارے قرآن پر وہ حملے کررہے ہیں۔۔۔ اسی مشترکہ قرآن پر، کیونکہ دشمن مشترک ہے؛ وہ افغانستان، عراق، پاکستان اور دیگر ممالک میں سنیوں اور شیعوں کا قتل عام کررہے ہیں اور ان کے چیلے ان کے مقاصد پورے کررہے ہیں، مذاہب اربعہ کو وہابیت نے انفعال سے دوچار کردیا ہے اور وہابیت جہاں بھی جاتی ہے وہاں سے امن و امان اور تعمیری سوچ کوچ کرجاتی ہے اور دشمن کے ورود کے لئے راستے فراہم ہوجاتے ہیں۔۔۔آئیے شیعہ شیعہ رہے اور سنی سنی رہے اور متحد ہوجائیں۔ ورنہ برے حالات آئے ہیں ساری امت پر اور یہ حالات مزید بھی برے ہونگے اور پھر اگر ہم حقیقت پسندی کی طرف لوٹنا بھی چاہیں تو یہ ممکن نہ ہوگا ۔۔۔ عراق کا حال ہمارے سامنے ہے۔۔۔ دین و قرآن پر رحم کریں اور آئیں ایک دوسرے کے بازو بنیں اور دشمن کے بازو بن کر اپنے ہی بازو نہ کاٹیں خدا را۔۔۔۔ ہمارے پاس مہدی امت کا فلسفہ ہے اور ہمارا اس پر ایمان ہے اور دشمن ان کے ظہور کا راستہ روکنے کے لئے مدینہ منورہ پر قبضہ کرنے اور کعبہ معظمہ کو نیست و نابود کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے اور یہ خواب ہماری وحدت سے ہی چور چور ہوسکتے ہیں۔ تین بار درود شریف برائے تعجیل ظہور – اتحاد امت – اور حل مشکلات امت۔
میں نے کہا: "حضرت فاطمہ حکام وقت سے ناراض و غضبناک ہوکر کیوں دنیا سے رخصت ہوئیں؟ کیا وہ امام امت اور رسول اللہ کے خلفاء برحق نہ تھے؟ یا پھر معاذاللہ حضرت فاطمہ (س) امام وقت کی معرفت حاصل کئے بغیر جاہلیت کی موت مریں!؟ حلب کے عالم حیرت میں ڈوب گئے کیونکہ اگر وہ کہتے کہ کہ حضرت زہراء کا غضب اور آپ (س) کی ناراضگی صحیح تھے تو اس کا لازمہ یہ ہوگا کہ حکومت وقت باطل تھی۔۔۔ اور اگر کہتے کہ سیدہ (س) سے غلطی سرزد ہوئی ہے اور آپ (س) معرفت امام کے بغیر ہی دنیا سے رخصت ہوئی ہیں تو یہ فاش غلطی ان کے مقام عصمت کے منافی ہوتی۔ جبکہ آپ (ص) کے مقام عصمت و طہارت کی گواہی قرآن مجید نی دی ہے۔ حلب کے قاضی القضات بحث کی سمت تبدیل کرنے کی غرض سے بولے: جناب امینی! ہماری بحث کا حکام عصر کی نسبت حضرت زہراء کے غضب و ناراضگی سے کیا تعلق ہے؟ مجلس میں حاضر افراد علم و دانش کے لحاظ سے اعلی مراتب پر فائز تھے اور انہیں معلوم ہوچکا تھا کہ علامہ امینی نے اس مختصر سی بحث میں کیا کاری ضرب ان کے عقائد پر لگائی ہے! میں نے کہا: آپ لوگوں نے نہ صرف اپنے زمانے کے امام کو نہیں پہچانا ہے بلکہ ان افراد کی حقانیت کے حوالے سے بھی شک و تردد میں مبتلا ہیں جن کو آپ خلفاء رسول (ص) سمجھتے ہیں۔۔۔ ہمارے میزبان جو ایک طرف کھڑے تھے قاضی القضات سے کہنے لگے: «شیخنا اسکت؛ قد افتضحنا = ہمارے شیخ! خاموش ہوجاؤ کہ ہم رسوا ہوگئے؛ یعنی آپ نے ہمیں رسوا کردیا"»۔ ہماری بحث صبح تک جاری رہی اور صبح کے قریب جامعہ کے متعدد اساتذہ، قاضی اور تاجر حضرات سجدے میں گر گئے اور مذہب تشیع اختیار کرنے کا اعلان کیا اور اس کے بعد انہوں نے علامہ امینی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے انہیں کشتی نجات میں بٹھانے کا اہتمام کیا تھا۔ یہ حکایت صرف اس لئے نقل کی گئی کہ اہل سنت بھی اہل تشیع کی مانند حدیث (من مات و لم یعرف امام زمانہ مات میتة جاہلیة) کو قبول کرتے ہیں۔ اور یہ وہ حدیث ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر عصر اور ہر زمانے میں ایک امام کا ہونا ضروری ہے جس کی معرفت کا حصول واجب ہے اور مسلمانوں کو بہرحال معلوم ہونا چاہئے کہ وہ اپنی دینی تعلیمات کس سے حاصل کررہے ہیں اور ان سب کو جاننا چاہئے کہ ان کے زمانے کا امام کون ہے؟ [9] - مسند احمد حنبل ج1ص99 و سنن ابن ماجہ ج2ص929۔ |