وہ کون تھا
جوبیکراں کائنات میں اک حباب آساوجودبن کربظاہر ابھرا
مگرمثال سحاب رحمت فضائے ملت پرچھاگیاتھا
وہ ایک ذرہ تھا
جس کے دل میں ہزارہاایٹمی جواہررواں دواں تھے
وہ ایک کوہ عظیم ترتھا
کہ جس کے سینے میں دردملت کے لاکھوں آتش فشاں کے لاوے دہک رہے تھے
وہ ایک قطرہ تھا
جس کے دل میں ہزاروں طوفاں مچل رہے تھے
وہ ایک دریاتھا
جس کی تہ میں ہزاہاسہمگیں تلاطم مچے ہوئے تھے
اوروہ تھاکہ اپنی منزل پہ پرسکوں تھاوہ ایک شے تھا بقول قرآں
جوساری اشیاء کی طرح حمدخدامیں گم تھا
وہ ایک شب تھامگردرخشاں
کہ جس کے کوثرسے دھوئے ہونٹوں پہ حق سے رازونیازکے تھے حسیں ترانے
وہ اک سحرتھا
کہ جس کی تکبیرکی صداؤں میں عصرحاضرکے لات وعزیٰ لرزرہے تھے
وہ اک سحرتھا
کہ جس کے ماتھے پہ حق رسی کاحسین تارا چمک رہاتھا
وہ اک سحرتھا
کہ جس کے سینے سے خون کااک عظیم سیلاب امڈپڑاتھا
وہ خوں نہیں تھا
وہ روشنی تھی
کہ جس نے خونخوارظلمتوں کوسحرہنگام مارڈالا
وہ عارف حق تھا
خودی کاعارف ،خداکاعارف
وہ پرتوآفتاب ایراں...
رہ خمینی  کاوہ مسافر
خط شہادت پہ اپنے محکم قدم جماکر
ہمیں بھی پیہم پکارتاہے
حسین والو،حسین والو
یہی توجادہ زندگی کا