|
خلاصہ : | |
|
توحيد کا عقيدہ صرف ايک مسلمان کے ذہن اور فکر پر ہي اثر انداز نہيں ہوتا بلکہ يہ عقيدہ اس کے تمام حالات شرائط اور تمام پہلوؤں پر اثر ڈالتا ہے۔ خدا کون ہے؟ کيسا ہے؟ اور اس کي معرفت و شناخت ايک مسلمان کي فردي اور اجتماعي اور زندگي ميں اس کے موقف اختيار کرنے پر کيا اثر ڈالتي ہے؟ ان تمام عقائد کا اثر اور نقش مسلمان کي عملي زندگي ميں مشاہدہ کيا جاسکتا ہے۔توحيد کا مطلب صرف ايک نظريہ اور تصور نہيں ہے بلکہ عملي ميدان ميں” اطاعت ميں توحيد “ اور” عبادت ميں توحيد“ بھي اسي کے جلوہ اور آثار شمار ہوتے ہيں۔ امام حسين عليہ السلام پہلے ہي سے اپني شہادت کا علم رکھتے تھے اور اس کے جزئيات تک کو جانتے تھے۔ پيغمبر نے بھي شہادت حسين عليہ السلام کي پيشينگوئي کي تھي۔ ليکن اس علم اور پيشين گوئي نے امام کے انقلابي قدم ميں کوئي معمولي سا اثر بھي نہيں ڈالا اور ميدان جہادو شہادت ميں قدم رکھنے سے آپ کے قدموں ميں ذرا بھي سستي اور شک و ترديد ايجاد نہيں کيا بلکہ اس کي وجہ سے امام کے شوق شہادت ميں اضافہ کيا | |
|
متن: |
|
|
توحيد کا عقيدہ صرف ايک مسلمان کے ذہن اور فکر پر ہي اثر انداز نہيں ہوتا بلکہ يہ عقيدہ اس کے تمام حالات شرائط اور تمام پہلوؤں پر اثر ڈالتا ہے۔ خدا کون ہے؟ کيسا ہے؟ اور اس کي معرفت و شناخت ايک مسلمان کي فردي اور اجتماعي اور زندگي ميں اس کے موقف اختيار کرنے پر کيا اثر ڈالتي ہے؟ ان تمام عقائد کا اثر اور نقش مسلمان کي عملي زندگي ميں مشاہدہ کيا جاسکتا ہے۔ | |
وبلاگ حاضر مختلف اسلامی موضوعات اور پاراچنار کے مسائل کے بارے میں تیار کیا گیا ہے