عارف حسین
ہوگئے ہیں یوں توآنکھوں سے نہاں عارف حسین
ایسالگتاہے ،ہیں اپنے درمیاں عارف حسین
ملت بیضا کی عظمت کا نشاں عارف حسین
آسمان دین حق کی کہکشاں عارف حسین
ناصردین محمد بازوئے روح خدا
حق طلب، حق آشنا،میثم زماں عارف حسین
قلب ملت میں لہو کی طرح ہوکرموجزن
کل تھے جیسے آج بھی ہیں جاوداں عارف حسین
ظالمو ! تم نے کیاتھاایک عارف کو شہید
اب ہے اپنی قوم کاہرنوجواں عارف حسین
بھول سکتے ہیں بھلا کیسے محبان علی
لکھ گئے ہیں خون سے جو داستاں عارف حسین
پھوٹتی تھی ہرعمل سے خود عقیدہ کی مہک
علم وعرفاں کے تھے گویاگلستاں عارف حسین
دوستوں کے واسطے تھے ابرنیساں کی پھوار
دشمنوں کے حق میں تھے تیروکماں عارف حسین
ہوگئے تھے جمع جس کے زیرسایہ اہل پاک
علم کے صحرا میں تھے وہ سائباں عارف حسین
تم گئے ہو چھوڑ کر جس قافلے کو راہ میں
ایسالگتاہے ،ہیں اپنے درمیاں عارف حسین
ملت بیضا کی عظمت کا نشاں عارف حسین
آسمان دین حق کی کہکشاں عارف حسین
ناصردین محمد بازوئے روح خدا
حق طلب، حق آشنا،میثم زماں عارف حسین
قلب ملت میں لہو کی طرح ہوکرموجزن
کل تھے جیسے آج بھی ہیں جاوداں عارف حسین
ظالمو ! تم نے کیاتھاایک عارف کو شہید
اب ہے اپنی قوم کاہرنوجواں عارف حسین
بھول سکتے ہیں بھلا کیسے محبان علی
لکھ گئے ہیں خون سے جو داستاں عارف حسین
پھوٹتی تھی ہرعمل سے خود عقیدہ کی مہک
علم وعرفاں کے تھے گویاگلستاں عارف حسین
دوستوں کے واسطے تھے ابرنیساں کی پھوار
دشمنوں کے حق میں تھے تیروکماں عارف حسین
ہوگئے تھے جمع جس کے زیرسایہ اہل پاک
علم کے صحرا میں تھے وہ سائباں عارف حسین
تم گئے ہو چھوڑ کر جس قافلے کو راہ میں
وبلاگ حاضر مختلف اسلامی موضوعات اور پاراچنار کے مسائل کے بارے میں تیار کیا گیا ہے