X
تبلیغات
parachinar - وطن عزیز پاکستان
اسلامی جمہوریۂ پاکستان

جنوبی ايشياء ميں واقع ہے۔ پاکستان کے مشرق ميں بھارت، شمال مشرق ميں چین اور مغرب ميں افغانستان اور ايران اور جنوب ميں بحيرہ عرب واقع ہيں۔ پاکستان کا مطلب ہے پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ اور يہ نام چودھری رحمت علی نے 1933ء کو تجويز کيا تھا۔


فہرست

تاريخ

711 میں اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور میں محمد بن قاسم برصغیر (موجودہ پاکستان و ہندوستان) کے خاصے حصے کو فتح کرتا ہے اور یوں برصغیر (موجودہ پاکستان) دنیا کی سب سے بڑی عرب ریاست کا ایک حصہ بن جاتا ہے جس کا دارالحکومت دمشق، زبان عربی اور مذہب اسلام تھا۔ یہ علاقہ سیاسی، مذہبی اور ثقافتی طور پر عرب دنیا سے جڑ جاتا ہے۔ اس واقعہ نے برصغیر اور جنوبی ایشیاء کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

سن 1947 سے پہلے بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش برطانوی کالونی تھے اور برصغیر کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کی آزادی (انگریزوں سے) کی تحریک کے دوران ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنے لیے ایک علیحدہ ملک کا مطالبہ کیا۔ "پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ" اس تحریک کا مقبول عام نعرہ تھا۔ اس مطالبے کے تحت تحریک پاکستان وجود میں آئی۔ اس تحریک کی قیادت محمد علی جناح نے کی۔ 14 اگست 1947 کو پاکستان وجود میں آیا۔ تقسیم برصغیر پاک و ہند میں انگریزوں نے کچھ ایسے سقم چھوڑے جو پاکستان اور انڈیا کے درمیان 1948اور 1965 میں کشمیر کے مسئلہ پر دو جنگوں کا سبب بن گئے۔ اس کے علاوہ چونکہ پاکستانی پنجاب میں بہنے والے تمام دریا انڈیا کے زیر قبضہ کشمیر سے ہوکر آتے تھے لہذا پاکستان کو 1960 میں انڈیا کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کرنا پڑا جس کے تحت پاکستان کومشرقی دریاؤں ستلج، بیاس اور راوی سے دستبردار ہونا پڑا۔ جبکہ دریائے سندہ، چناب اور جہلم پر پاکستان کا حق تسلیم کر لیا گیا۔

1947 سے لے کر 1948 تک پاکستان کو بڑی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ بھارت نے پاکستان کے حصہ میں آنے والی رقم پاکستان کو ادا نہ کی۔ اس کے علاوہ صنعتی ڈھانچے کے نام پر پاکستان کے حصے میں گنتی کے چند کارخانے آئے اور مزید برآں کئی اندرونی و بیرونی مشکلات نے بھی پاکستان کو گھیرے رکھا۔ 1948ء میں جناح صاحب کی اچانک وفات ہو گئیی۔ ان کے بعد حکومت لیاقت علی خان کے ہاتھ میں آئی۔ 1951 میں لیاقت علی خان کو شہید کر دیا گیا۔ 1951ء سے 1958ء تک کئی حکومتیں آئییں اور ختم ہو گئییں۔ 1956ء میں پاکستان میں پہلا آئیین نافذ ہوا۔ اس کے با وجود سیاسی بحران کا نتیجہ یہ ہوا کہ 1958ء میں پاکستان میں مارشل لاء لگ گیا۔

پاکستان میں موجود تمام بڑے آبی ڈیم جنرل ایوب کے دور آمریت میں بنائیے گئیے۔ ایوب دور میں پاکستان میں ترقی تو ہوئی لیکن مشرقی پاکستان دور ہوتا گیا۔ 1963 میں پاکستان کے دوسرے آئیین کا نفاذ ہوا۔ مگر مشرقی پاکستان کے حالات آہستہ آہستہ بگڑتے گئے۔ ایوب خان عوامی احتجاج کی وجہ سے حکومت سے علیحدہ تو ہو گئے لیکن جاتے جاتے انہوں نے حکومت اپنے فوجی پیش رو جنرل ہحیٰی خان کے حوالے کر دی جو کہ اس کے بالکل بھی اہل نہ تھے۔ 1971 کے عام انتخابات میں مشرقی پاکستان سے عوامی لیگ کی واضح کامیابی کے باوجود فوجی حکمران یحیٰی خان نے اقتدار کی منتقلی کی بجائیے مشرقی پاکستان میں فوجی اپریشن کو ترجیح دی۔ ہندوستان نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے علیحدگی پسندوں کو بھرپور مالی اور عسکری مدد فراہم کی جس کے نتیجے میں آخرکار دسمبر 1971ء میں سقوط ڈھاکہ ہوگیا اور مشرقی پاکستان ایک علیحدہ ملک بنگلہ دیش کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا۔

1972 سے لے کر 1977 تک پاکستان میں پی پی پی کی حکومت تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے صدر اور بعد ازاں وزیر اعظم رہے۔ اس دور میں وطن عزیز کی تمام سیاسی جماعتوں کی رضامندی سے آئین پاکستان مرتب اور نافذ العمل کیا گیا۔ اس دور میں سوشلسٹ اور پین اسلامک عنصر بڑھا۔ اس دور میں پاکستان میں صنعتوں اور اداروں کو قومیا لیا گیا۔ اس دور کے آخر میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی اور اس کے نتیجے میں 1977 میں دوبارہ مارشل لاء لگ گیا۔

اگلا دور 1977 تا 1988 مارشل لاء کا تھا۔ اس دور میں پاکستان کے حکمران جنرل ضیا الحق تھے۔ افغانستان میں جنگ کی وجہ سے پاکستان کو بہت امداد ملی۔ اسی دور میں 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات ہوئے اور جونیجو حکومت بنی جسے 1988 میں ضیاء الحق نے برطرف کر دیا- 1988ء میں صدر مملکت کا طیارہ گر گیا اور ضیاء الحق کے ساتھ ساتھ پاکستان کی اعلٰی عسکری قیادت کی اکثریت زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ پاکستان میں پھر سے جمہوریت کا آغاز ہو گیا۔

اس کے بعد 1988 میں انتخابات ہوئے اور بينظير بھٹو کی قیادت میں پی پی پی اور اس کی حلیف جماعتیں اقتدار میں آئیں۔ کچھ عرصہ بعد صدر غلام اسحاق خان نے حکومت کو برطرف کر دیا۔ 1990 میں نواز شریف کی قیادت میں آئی جے آئی اور اس کی حلیف جماعتیں اقتدار میں آئیں۔ 1993 میں یہ حکومت بھی برطرف ہو گئی۔

اس کے بعد پاکستان کے نئے صدر فاروق لغاری تھے۔ اگلے انتخابات 1993 میں ہوئے اور ان میں دوبارہ پی پی پی اور اس کی حلیف جماعتیں اقتدار میں آئیں۔ صدر فاروق احمد لغاری کے حکم پر یہ حکومت بھی بر طرف ہو گئی۔ 1997 میں انتخابات کے بعد دوبارہ نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ ن اور اس کی حلیف جماعتیں اقتدار میں آئیں۔ اس حکومت کے آخری وقت میں سیاسی اور فوجی حلقوں میں کشیدگی بڑھ گئی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1999 میں دوبارہ فوجی حکومت آ گئی۔ صدر مملکت پرويز مشرف بنے اور 2001 میں ہونے والے انتخابات کے بعد وزیر اعظم ظفر اللہ خان جمالی بنے۔

2004میں وقت کے جنرل مشرف نے شوکت عزیز کو وزیر اعظم بنانے کا فيصله کیا . مختصر عرصہ کے لیے چوہدرى شجاعت حسين نے وزیراعظم کی ذمہ داریاں سرانجام دیں اور شوکت عزیز کے قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہونے کے بعد وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہو گئے۔ شوکت عزیز صاحب قومی اسمبلی کی مدت 15 نومبر 2007ء کو ختم ہونے کے بعد مستعفی ہو گئے۔ 16 نومبر 2007ء کو سینٹ کے چیرمین جناب میاں محمد سومرو نے عبوری وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔ فروری 2008ء میں الیکشن کے بعد پی پی پی پی نے جناب یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم نامزد کیا جنہوں نے مسلم لیگ (ن)، اے این پی کی حمایت سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔

سياست

پاکستان ايک وفاقی جمہوريہ ہے۔

علاقائی تقسیم

پاکستان کا نقشہ

پاکستان ميں 4 صوبے، 2 وفاقی علاقے اور پاکستانی کشمير کے 2 حصے ہيں۔ حال ہی میں پاکستانی پارلیمنٹ نے گلگت بلتستان کو بھی پاکستان کے پانچویں صوبے کی حیثیت دے دی ہے۔

صوبہ جات

وفاقی علاقے


پاکستانی کشمير


جغرافيہ

پاکستان جنوبی ایشیا کے شمال مغربی حصے میں واقع ہے۔

پاکستان کے مشرقی علاقے میدانی ہیں جبکہ مغربی اور شمالی علاقے پہاڑی ہیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا دریا دریائے سندھ ہے۔ یہ دریا پاکستان کے شمال سے شروع ہوتا ہے اور صوبے خیبر پختونخواہ، پنجاب اور سندھ سے گزر کر سمندر میں گرتا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخواہ کے مشرقی علاقے، صوبہ سندھ کے وسطی علاقے اور پنجاب کے شمالی، وسطی اور وسطی جنوبی علاقے میدانی ہیں۔ یہ علاقے نہری ہیں اور زیر کاشت ہیں۔ صوبہ سندھ کے مشرقی اور صوبہ پنجاب کے جنوب مشرقی علاقے صحرائی ہیں۔ زیادہ تر بلوچستان پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہے لیکن سبی کا علاقہ میدانی اور صحرائی ہے۔ سرحد کے مغربی علاقوں میں نیچے پہاڑ ہیں جبکہ شمالی سرحد اور شمالی علاقہ جات میں دنیا کا سب سے اونچا پہاڑی سلسلہ واقع ہے۔

معيشت

پاکستان دوسری دنيا کا ايک ترفی پزير ملک ہے۔ پاکستان کے اندرونی معاملات ميں فوج كى بيجا مداخلت، کثیر اراضی پر قابض افراد (وڈیرے ، جاگیردار اور چوہدری وغیرہ) کی عام انسان کو تعلیم سے محروم رکھنے کی نفسیاتی اور خود غرضانہ فطرت (تاکہ بیگار اور سستے پڑاؤ (labor camp) قائم رکھے جاسکیں)، اعلٰی عہدوں پر فائز افراد کا اپنے مفاد میں بنایا ہوا دوغلا تعلیمی نظام (تاکہ کثیر اراضی پر قابض افراد کو خوش رکھا جاسکے اور ساتھ ساتھ اپنی اولاد کی [عموماً انگریزی اور/ یا ولایت میں تعلیم کے بعد] اجارہ داری کيليے راہ کو کھلا رکھا جاسکے)، مذہبی علماؤں کا کم نظر اور اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کا رویہ اور بيرونی کشيدگی کی وجہ سے ملک کی معيشت زيادہ ترقی نہيں کر سکی۔ پہلے پاکستان کی معيشت کا زيادہ انحصار زراعت پر تھا۔ مگر اب پاکستان کی معيشت (جو کہ کافی کمزور سمجھی جاتی ہے) نے گیارہ ستمبر کے امریکی تجارتی مرکز پر حملے، عالمی معاشی پستی، افغانستان جنگ، پانک کی کمی اور بھارت کے ساتھ شديد کشيدگی کے با وجود کچھ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کيا  ابھی پاکستان کی معيشت مستحکم ہے اور تيزی سے بڑھنا شروع ہو گئی ہے  کراچی سٹاک ایکسچینج کے کے ايس سی انڈکس گزستہ دو سالوں سے دنيا بھر ميں سب سے بہترين کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے

اعداد و شمار

پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنيا کا چھٹا سب سے بڑا ملک ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی آبادی بہت تيزی سے بڑھ رہی ہے۔

پاکستان کے 96.7 فيصد شہری مسلمان ہيں جن ميں سے تقريباً 20 فيصد اہل تشیع 77 فيصد اہل سنت اور تقریباً 3 فيصد ديگر مذاہب سے تعلق رکھتے ہيں۔ تقريباً ايكـ فيصد پاکستانی ہندو اور اتنے ہی پاکستانی عیسائی ہيں۔ ان کے علاوہ کراچی ميں پارسی، پنجاب و‌سرحد ميں سکھ اور شمالی علاقوں ميں قبائلی مذاہب کے پيرو کار بھی موجود ہيں۔

پاکستان کی قومی زبان اردو ہے۔ ليکن زيادہ تر دفتری کام انگريزی ميں کیے جاتے ہيں۔ پاکستان کے خواص بھی بنيادی طور پر انگريزی کا استعمال کرتے ہيں۔ پاکستان ميں تمام تر اعلیٰ تعليم بھی انگريزی ميں ہی دی جاتی ہے۔ با وجود اس کے اردو پاکستان کی عوامی و قومی زبان ہے۔ اردو کے علاوہ پاکستان ميں کئ اور زبانيں بولی جاتی ہيں، ان ميں پنجابی، سرائکی، سندھی، گجراتی، بلوچی، براہوی، پشتو اور ہندکو زبانیں قابلِ ذکر ہيں۔

پاکستان ميں مختلف قوموں سے تعلّق رکھنے والے لوگ آباد ہيں، ان ميں زيادہ نماياں پنجابی، سندھی، پٹھان، بلوچی اور مہاجر ہيں۔ ليکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کے درميان فرق کم ہوتا جا رہا ہے۔

شہر بلحاظ آبادی (تخمینہ 2010ء)[1]
درجہ شہر صوبہ آبادی درجہ شہر صوبہ آبادی

Karachi downtown.jpg
کراچی, سندھ
Minar-e-Pakistan.jpg
لاہور, پنجاب

1 کراچی سندھ 13,205,339 11 سرگودھا پنجاب 600,501
2 لاہور پنجاب 7,129,609 12 بہاولپور پنجاب 543,929
3 فیصل آباد پنجاب 2,880,675 13 سیالکوٹ پنجاب 510,863
4 راولپنڈی پنجاب 1,991,656 14 سکھر سندھ 493,438
5 ملتان پنجاب 1,606,481 15 لاڑکانہ سندھ 456,544
6 حیدرآباد سندھ 1,578,367 16 شیخوپورہ پنجاب 426,980
7 گوجرانوالہ پنجاب 1,569,090 17 جھنگ پنجاب 372,645
8 پشاور خیبر پختونخوا 1,439,205 19 رحیم یار خان پنجاب 353,112
9 کوئٹہ بلوچستان 896,090 18 مردان خیبر پختونخوا 352,135
10 اسلام آباد وفاقی دارالحکومت 689,249 20 گجرات پنجاب 336,727

تہذیب

پاکستان کی بہت قديم اور رنگارنگ تہذيب ہے۔ پاکستان کا علاقہ ماضی ميں دراوڑ، آريا، ہن، ايرانی، يونانی، عرب، ترک اور منگول لوگوں کی رياستوں ميں شامل رہا ہے۔ ان تمام تہذيبون نے پاکستان کی موجودہ تہذيب پر بہت گہرا اثر چھوڑا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف صوبوں ميں لباس، کھانے، زبان اور تمدن کا فرق پايا جاتا ہے۔ اس ميں اس علاقوں کی تاريخی عليحدگی کے ساتھ ساتھ موسم اور آب و ہوا کا بھی بہت اثر ہے۔ ليکن ايک اسلامی تہذيب کا حصہ ہونے کی وجہ سے اس ميں کافی تہذيبی ہم آہنگی بھی موجود ہے۔


پاکستان ميں بہت مختلف قسم کی موسيقی ملتی ہے۔ کلاسيکی موسيقی، نيم کلاسيکی موسيقی، لوک موسيقی اور اس کے ساتھ ساتھ جديد پاپولر ميوزک سب ہی کے پاکستان ميں بلند پايہ موسيقار موجود ہيں۔ پاکستان دنيا بھر ميں قوالی کا مرکز ہے۔

پاکستانی تہذيب ميں مغربی عناصر بڑھتے جا رہے ہيں۔ يہ امراء اور روساء ميں اور بڑے شہروں ميں زيادہ نماياں ہے کيونکہ مغربی اشياء، ميڈيا اور تہذيب تک ان کی زيادہ رسائ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ايک بڑھتی ہوئی تحريک ہے جو کہ مغربی اثرات کو کم ديکھنا چاہتی ہے۔ کچھ جکہوں ميں اس تحريک کا زيادہ جھکا‏ؤ اسلام اور کچھ ميں روايات کی طرف ہے۔

پاکستانيوں کی بڑی تعداد امريکہ، برطانيہ، آسٹريليا، کنيڈا اور مشرق وسطی ميں مقيم ہے- ان بيرون ملک پاکستانيوں کا پاکستان پر اور پاکستان کی بين الاقوامی تصوير پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ ان لوگوں نے ماضی ميں پاکستان ميں بہپ سرمايہ کاری بھی کی ہے۔

پاکستان کا سب سے پسندينہ کھيل کرکٹ ہے۔ پاکستان کی کرکٹ ٹيم دنيا کی اچھی ٹيموں ميں شمار ہوتی ہے۔ کرکٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان ميں ہاکی بھی بہت شوق سے کھيلی جاتی ہے۔ ہاکی جو كہ پاكستان كا قومى كھيل بھى ہےـ چوگان (پولو) پاکستان کے شمالی علاقہ جات كے لوگوں كا كھيل ہے اور اس كھيل كى پيدايش بھى يہيں ہوئى اور آج تک ان علاقوں ميں بہت شوق سے کھيلی جاتی ہے۔

صحت عامہ

دیگر انسانی بنیادی ضروریات کی ناپیدی اور انحطاط کے ساتھ ساتھ صحت عامہ کا شعبہ بھی پاکستان میں انتہائی تنزل کا شکار ہے۔ جہاں دنیا ڈی این اے ویکسین اور وراثی معالجات کی جانب سفر کر رہی ہے وہاں پاکستان میں بڑے ہی نہیں بچے تک ناقص غذا اور صفائی ستھرائی کی عدم دستیابی و غلاظت سے جنم لینے والے امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اچھا اور مناسب علاج صرف اعلٰی طبقے اور پیسے والے امیر افراد کے ليے مخصوص ہے جبکہ غریب سرکاری شفاخانوں میں طبیبوں اور ممرضات ہی کی نہیں چپراسیوں اور بھنگیوں تک کی باتیں اور دھتکار سے گذر دوا حاصل کر پاتے ہیں۔ سرکاری شفاخانے دنیا بھر کی تہذیب یافتہ اقوام میں اپنا ایک معیار رکھتے ہیں مگر پاکستان میں انکی حالت ایسی ہے کہ جسے دیکھنے کے بعد اس قوم کی تہذیبی اقدار کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔

تعطيلات

تعطيل نام وجہ
12 ربیع الاول جشن عید میلاد النبی ولادت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
9 اور 10 محرم یوم عاشورہ حضرت حسین بن علی کی شہادت کا دن
10 ذوالحجۃ عيد الاضحى حضرت ابراہيم علیہ السلام کی قربانی کی ياد ميں
1 شوال عيد الفطر رمضان کے اختتام پر اللہ كى نعمتوں كى شكرگزارى كا دن
1 مئی يوم مزدور مزدوروں کا عالمی دن
14 اگست يوم آزادی اس دن 1947ء میں پاکستان وجود میں آیا ہوا
25 دسمبر ولادت قائد قائد اعظم کی ولادت کا دن
23 مارچ يوم پاکستان 1940میں اس روز منٹو پارک (موجودہ اقبال پارک) میں قراردادِ پاکستان منظور ہوئی

قومی چیزیں

پاکستان کے قومی نشانات
جھنڈا ہلالی پرچم
نغمہ "پاک سر زمین"
گیت ("دل دل پاکستان")
جانور مارخور
پرندہ چکور
پھول یاسمین
درخت دیودار'
پھل آم
کھیل ہاکی
کیلنڈر عیسوی
گہرا سبز رنگ جس پر ہلال اور پانچ کونوں والا ستارہ بنا ہوا ہے۔ جھنڈے میں شامل سبز رنگ مسلمانوں کی، سفید رنگ کی بٹی پاکستان میں آباد مختلف مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ قومی پرچم گیارہ اگست 1947 کو دستور ساز اسمبلی نے دی تھی۔ اس پرچم کو لیاقت علی خان نے دستور ساز اسمبلی میں پیش کیا۔
  • قومی لباس - شلوار قمیض، جناح کیپ، شیروانی (سردیوں میں)
  • قومی پرندہ - پاکستان کا قومی پرندہ چکور ہے۔
  • قومی مشروب - گنے کا رس
  • قومی نعرہ - پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا للہ
یہ نعرہ مشہور شاعر اصغر سودائی نے 1944ء میں لگایا جو تحریک پاکستان کے دوران بہت جلد زبان زدوعام ہو گیا۔ ان کا تعلق سیالکوٹ سے ہے۔

ریاستی نشان

پاکستان کا ریاستی نشان

ریاستی نشان درج ذیل نشانات پر مشتمل ہے۔

چاند اور ستارہ جو کہ روایتی طور پر اسلام سے ریاست کی عقیدت اور محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ چوکور شیلڈ جس میں ملک کی چار اہم صنعتوں کی علامت کندہ ہے۔ شیلڈ کے ارد گرد پھول اور پتیاں بنی ہوئی ہیں جو وطن عزیز کے بھر پور ثقافتی ماحول کی عکاسی کرتی ہیں۔ علامت کے چاروں طرف بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کا قول۔۔۔ اتحاد، ایمان، نظم تحریر ہے۔

زبانیں

زبان بیان
اردو قومی زبان
انگریزی سرکاری زبان
پنجابی 45٪
سندھی 15٪
سرائیکی (پنجابی سے ملتی جلتی) 10٪
اردو
پشتو 12٪
بلوچی
ہندکو، کھوار، براہوی، برشاشکی، چترالی اور دیگر زبانیں

اہم شہر

 
شہر بلحاظ آبادی (تخمینہ 2010ء)[1]
درجہ شہر صوبہ آبادی درجہ شہر صوبہ آبادی

Karachi downtown.jpg
کراچی, سندھ
Minar-e-Pakistan.jpg
لاہور, پنجاب

1 کراچی سندھ 13,205,339 11 سرگودھا پنجاب 600,501
2 لاہور پنجاب 7,129,609 12 بہاولپور پنجاب 543,929
3 فیصل آباد پنجاب 2,880,675 13 سیالکوٹ پنجاب 510,863
4 راولپنڈی پنجاب 1,991,656 14 سکھر سندھ 493,438
5 ملتان پنجاب 1,606,481 15 لاڑکانہ سندھ 456,544
6 حیدرآباد سندھ 1,578,367 16 شیخوپورہ پنجاب 426,980
7 گوجرانوالہ پنجاب 1,569,090 17 جھنگ پنجاب 372,645
8 پشاور خیبر پختونخوا 1,439,205 19 رحیم یار خان پنجاب 353,112
9 کوئٹہ بلوچستان 896,090 18 مردان خیبر پختونخوا 352,135
10 اسلام آباد وفاقی دارالحکومت 689,249 20 گجرات پنجاب 336,727

کراچی، لاہور، سا ہیوال، فیصل آباد، ملتان، حیدر آباد، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ، ڈیرہ اسماعیل خان، بہاولپور، سرگودھا، جھنگ، سکھر، ڈیرہ غازی خان، جہلم, سیالکوٹ، گجرات، گوادر، چترال، سوات، مری، شیخوپورہ، گوجرانوالہ،چترال وغیرہ

+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 5 Apr 2011 و ساعت 5:30 PM |

مینار پاکستان

مینار پاکستان

پس منظر

مینار پاکستان لاہور میں عین اسی جگہ تعمیر کیا گیا ہے جہاں مارچ 1940ء میں قائد اعظم محمد علی جناح کی صدارت میں منعقدہ آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں تاریخی قراردار پاکستان منظور ہوئی۔ اس کو یادگار پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ اس جگہ کو اس وقت منٹو پارک کہتے تھے جو کہ سلنطت برطانیہ کا حصہ تھی۔ آج کل اس پارک کو اقبال پارک کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔

 

سفارشاتی کمیٹی

اس کی تعمیر کے سلسلہ میں 1960ء میں اس وقت کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اور اسی کمیٹی کی منظور شدہ شفارشات اور ڈیزائن پر اس مینار کی تشکیل ہوئی تھی۔ مختار مسعود بھی اس کمیٹی کے سرکردہ رکن تھے۔

 

تعمیر

اس کا ڈیزائن ترک ماہر تعمیرات مرات خان نے تیار کیا۔ تعمیر کا کام میاں عبدالخالق اینڈ کمپنی نے 23 مارچ 1960ء میں شروع کیا۔ اور 21 اکتوبر 1968ء میں اس کی تعمیر مکمل ہوئی۔ اس کی تعمیر کی کل لاگت 75 لاکھ روپے تھی۔

 

مینار کا ڈھانچہ

یہ 18 ایکڑ رقبے پر محیط ہے۔ مینار کی بلندی 196 فٹ ہے اور مینار کے اوپر جانے کے لیے 324 سیڑھیاں ہیں جبکہ اس کے علاوہ جدید لفٹ بھی نصب کی گئی ہے۔

مینار کا نچلا حصہ پھول کی پتیوں سے مشہابہت رکھتا ہے۔ اس کی سنگ مرمر کی دیواروں پر قرآن کی آیات، محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کے اقوال اور مسلمانوں کی آزادی کی مختصر تاریخ کندہ ہے۔ اس کے علاوہ قرارداد پاکستان کا مکمل متن بھی اردو اور بنگالی دونوں زبانوں میں اس کی دیواروں پر کندہ کیا گیا ہے۔

مینار پر جو خطاطی کی گئی ہے وہ حافظ محمد یوسف سدیدی، صوفی خورشید عالم، محمد صدیق الماس رقم، ابن پروین رقم اور محمد اقبال کی مرہونِ منت ہے -

 

مینار کا احاطہ

مینار پاکستان کے احاطے میں پاکستان کے قوامی قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری کا مزار بھی ہے۔

مینار پاکستان کے اردگرد خوبصورت سبزہ زار، فوارے، راہداریاں اور ایک جھیل بھی موجود ہے۔

جون 1984ء میں ایل ڈی اے نے مینار پاکستان کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 4:41 PM |

یوم آزادی کے روز

یوم آزادی کے روز

   بات سیدھی سی ہے کہ مجھے ظالم لوگ درندوں کی طرح نوچ رہے تھے، میرے گھر میں آگ لگی ہوئی تھی، میری دینی روایات پامال ہو رہی تھیں، میری عزت سرعام نیلام ہو رہی تھی، میرے گلے میں جرائم کا طوق اور کاندھوں پر الزامات کا بوجھ تھا، میں دربدر مارا مارا پھر رہا تھا، میرا کوئی وطن اور کوئی ٹھکانا نہ تھا، میرے خون سے زیادہ گائے کا خون محترم تھا، میری جان سے زیادہ مال مویشی قیمتی تھے۔ میرا جرم میرا قصور یہ تھا کہ میں اِسلام کا نام لیتا تھا اور مسلمان کہلواتا تھا، لوگ میرے دین کا مذاق اڑاتے تھے، میری عبادت گاہوں کا تقدس پامال کرتے تھے ایسے میں نظیر اکبر آبادی اقبال، حالی اور محمد علی جناح جیسے لوگ میری مدد کو اُٹھے اُنہوں نے میرے زخم سہلائے، مجھے میری منزل کا پتا بتایا، میرے حوصلوں کو بلند کیا، اُنہوں نے مجھے یقین دلایا کہ میں ہی فرزند ِ اسلام ہوں ، میں ہی معمارِ بشریت ہوں اور میں ہی اللہ کے آخری دین کا حقیقی وارث ہوں۔

 چنانچہ میں اُٹھ کھڑا ہوا، میں نے ظالموں اور غاصبوں کے خلاف اعلان بغاوت کردیا، سامراجی طاقتوں کے سامنے سینہ سپر ہو گیا، میں نے اسلام کیلئے ایک آزاد اور خودمختار ریاست کا مطالبہ کردیا، میں ایک ایسے ملک کے خواب دیکھنے لگا جہاں اسلام ہی اسلام ہو گا، جہاں مواخاتِ مدینہ جیسی مواخات ہوگی، جہاں بزمِ رسالت جیسی مساوات ہوگی، جہاں مسندِ اقتدار پر دیندار لوگ جلوہ افروز ہوں گے، جہاں عدل و انصاف کا پرچم لہرائے گا، جہاں کالے اور گورے کی تمیز نہیں ہوگی، جہاں امیر اور غریب کا فرق نہیں ہوگا، جہاں مذہب کی مذہب سے دشمنی نہیں ہوگی، جہاں انسان کا انسان سے بیر نہیں ہوگا، جہاں جیلوں میں کوئی بے گناہ نہیں ہو گا، جہاں دیہاتوں میں کوئی جاہل نہیں ہو گا، جہاں شہروں میں کوئی فتنہ نہیں ہو گا، جہاں اداروں میں کوئی کرپشن نہیں ہوگی، جہاں پولیس رشوت نہیں لے گی، جہاں فوج عوام کو گولیاں نہیں مارے گی، جہاں عزّت و شرف کا معیار تقویٰ ہو گا، جہاں مارکیٹوں میں ذخیرہ اندوزی نہیں ہوگی اور جہاں دودھ میں پانی نہیں ملایا جائے گا ۔

پاکستان کا پرچم

میرا یہ خواب ہر غاصب کو ناگوار گزرا، میرا آزادی کا نعرہ ہر ظالم کو برا لگا، چنانچہ مجھے سامراجی شکنجوں میں کسا گیا، مجھے ٹارچر سیلوں میں زد و کوب کیا گیا، مجھے گلیوں اور بازاروں میں رسواء کیا گیا، مجھے مقدس عبادت گاہوں کے اندر خون میں نہلایا گیا، مجھے عزّت کی ضربیں لگائی گئیں، مجھے غیرت کے زخم لگائے گئے لیکن میں مسلسل اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہی رہا، میری زبان پر صرف ایک ہی نعرہ تھا،

 ”لے کے رہیں گے پاکستان ۔ بن کے رہے گا پاکستان“

 اور میرے دل میں صرف ایک ہی عشق موجزن تھا کہ

”پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ“

   میرے شہر جلے، میری عزّت و ناموس داغدار ہوئی، میری جائیدادیں تباہ ہوئیں، مجھے ہجرتیں کرنی پڑیں، میں نے آگ اور خون کا دریا پار کیا اور تب جا کر مجھے میرا پیارا وطن پاکستان نصیب ہوا، تب جا کر  14 اگست1947ء کا وہ حسین سورج طلوع  ہوا کہ جس نے میری سسکیوں کو مسرتوں میں بدل دیا، جس نے میری آہوں کو خوشیوں میں تبدیل کردیا، جس نے میرے اشکوں کو نغموں میں ڈھال دیا، جس نے میرے خوابوں کو حقیقت میں اتار دیا، جس نے میرے جذبوں کو سچ کر دکھایا، جس نے میرے دعووں کو عملی کر دکھایا اب میں بہت خوش تھا اب میں اپنے زخموں کو بھول چکا تھا، اب میں ایک آزاد ملک کا آزاد شہری تھا، اب میں ایک باوقار قوم کا عزت مند فرت تھا، اب میں فخر اور اعتماد کے ساتھ سر اُٹھا کر چلتا تھا، لیکن لیکن مجھے یہ کیا معلوم تھا کہ اتنے دکھ سہنے کے بعد ملنے والی یہ خوشی بھی عارضی ہوگی مجھے کیا معلوم تھا کہ سامراجی پٹّھو اِس آزاد ملک پر بھی حکومت کریں گے، مجھے کہاں خبر تھی کہ اب مجھے غیر نہیں اپنے لوٹیں گے، اب مجھے دشمن نہیں دوست زخم لگائیں گے ، اب میری عبادت گاہوں کے تقدّس کو سکھ نہیں ”نام نہاد مذھب کے ٹھیکیدار“ پامال کریں گے، اب میرے قتل کے حکم نامے پر انگریز سرکار نہیں، اپنے لوگ دستخط کیا کرے گے، اب میں  ہندوستان کے ٹارچر سیلوں میں نہیں آزاد پاکستان کے اذیّت کدوں میں کچلا جاوں گا، اب مجھے ہندو سینا نہیں بلکہ مسلمان  اغواء کریں گے۔  

   آئیے! اس مرتبہ پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر ہم سب مل کر بیٹھیں مل کر سوچیں کہ وہ ”دو قومی نظریہ“ کہاں گیا جو ہماری اساس اور بنیاد تھا؟! وہ مائیں کہاں مر گئیں جو اقبال اور محمد علی جناح جیسے بیٹوں کو جنم دیتی تھیں؟! وہ سیاست دان کہاں کھو گئے جو پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کا نعرہ لگاتے تھے؟! وہ ادیب کہاں چلے گئے جو اکبر الہ آبادی کی طرح قوم کا درد رکھتے تھے؟! اسکولوں ، کالجز، یونیورسٹیز اور دینی مدارس کے وہ طالب علم اور استاد کہاں چلے گئے جنہوں نے پاکستان کی آزادی، خود مختاری اورنظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنی تھی؟! 

   اس سال یوم آزادی کے روز میں بھی سوچتا ہوں اور آپ بھی سوچئے! ہم سب مل کر اسلام کے نام پر دہشت گردی، ہدیے کے نام پر رشوت، تفریح کے نام پر فحاشی، امن کے نام پر قتل و غارت، تعلیم کے نام پر جہالت اور جمہوریت کے نام پر آمریت کو کیسے روک سکتے ہیں آئیے مل کر دودھ میں پانی ملانے والوں کو روکیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔

تحریر: نذر حافی  ( شیعہ نیوز سینٹر )

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 4:38 PM |

مطالبہ پاکستان اور عظیم رہبران

علامه اقبال

اِس اَمر پر ضرور غور و فکر کرنا چاہئیے کہ اُن کی اِس جسارت کے باعث ہماری نئی نسل کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت کس حد تک متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ ہمارا ازلی دشمن نہ تو مسئلہ کشمیر حل کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی ابھی تک خطے میں پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر عملدرامد کیلئے تیار ہوا ہے بلکہ بدستور اکھنڈ بھارت کے منصوبوں کو آگے بڑھانے میں مصروف ہے ۔ سول سوسائیٹی میں یہی سوالات گردش کر رہے ہیں کہ کیا سیاق و سباق کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے محض مفروضوں اور چند بھارتی و مغربی تھنک ٹینکس کی ڈِس انفارمیشن کی بنیاد پر بانیانِ پاکستان کی تمام تر well documented جدوجہد پر پانی پھیر کر نئے تاریخی نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں؟ مجھے یقین ہے کہ جب تک ڈاکٹر صفدر محمود جیسے محب وطن موجود ہیں ایسا نہیں ہو سکتا ۔

 

حقیقت یہی ہے کہ مخصوص سیاسی مفادات کے حامل افراد کی جانب سے سقوط ڈھاکہ کے بعد بانیانِ پاکستان کے خلاف ناقابل فہم نظریات کو ہوا دینے کے باوجود اسلامی جمہوریہ پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی اُمنگوں کے ترجمان کے طور پر زندہ و پائندہ ہے بلکہ اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے لہذا محض جدید تحقیق کے نام پر بانیانِ پاکستان کی بے مثال خدمات کو نہ تو پس پشت ڈالا جا سکتا ہے اور نہ ہی اُن کے مقام کو کم تر کیا جا سکتا ہے ۔

جواهر لعل نهرو

یہاں میں اپنوں کی توجہ ہندوستان کے سابق وزیراعظم اور کانگریس پارٹی کے سابق صدر مرحوم جواہر لال نہرو کے ایک سیاسی تجزیہ پر مبذول کرانا چاہوں گا جسے تشریح کی ضرورت نہیں ہے ۔ اُنہوں نے اپنی کتاب " تلاشِ ہندوستان " میں جو علامہ اقبال کی وفات کے کافی عرصہ بعد 1944-45 میں احمد آباد قلعہ میں قید کے دوران لکھی گئی ،میں لکھا " مسلمان عوام اور متوسط طبقے کی ذہنیت کی تشکیل واقعات نے کی تھی لیکن موخر الذکر طبقے خصوصاً نوجوانوں کو متاثر کرنے میں سر محمد اقبال کا اہم حصہ ہے ۔ ابتدا میں اقبال نے اُردو میں پُرزور قومی نظمیں لکھیں جو بہت مقبول ہوئیں ۔

 جنگ بلقان کے دوران اُنہوں نے اسلامی موضوع اختیار کئے ۔ وہ اپنے زمانے کے حالات اور مسلمانوں کے جذبات سے متاثر ہوئے اور خود اُنہوں نے اُن کے جذبات پر اثر ڈالا اور اُنہیں اور شدید تر کر دیا لیکن وہ عوام کی قیادت نہیں کر سکتے تھے کیونکہ وہ ایک عالم شاعر اور فلسفی تھے ۔ اُنہوں نے اپنی اُردو اور فارسی شاعری کے ذریعے تعلیم یافتہ مسلمانوں کیلئے ایک فلسفیانہ نظریہ مہیا کر دیا اور اُن میں تفریقی رجحان پیدا کر دیا ۔ یوں تو اُن کی ہردلعزیزی اُن کے کمال شاعری کی وجہ سے تھی لیکن اُس کا ایک بڑا سبب یہ بھی تھا کہ وہ مسلم ذہن کی اُس ضرورت کو پورا کر رہے تھے کہ اُسے اپنے لئے ایک لنگر مل جائے ۔ آزادی کی جدوجہد میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے اہم حصہ لیا تھا لیکن ہندوستان کی اِس قومی تحریک میں ہندوئوں کا غلبہ تھا اور اِس پر اُن کا ہی رنگ چھایا ہوا تھا ، اِس لئے مسلم ذہن میں ایک کشمکش پیدا ہوئی اور بہتوں نے تفریق کا راستہ اختیار کیا جس کی طرف اقبال کے فلسفے اور شاعری نے اُن کی رہنمائی کی تھی " ۔ علامہ اقبال کی وفات سے چند ماہ قبل جواہر لال اقبال کی بیماری پر عیادت کیلئے اقبال سے ملاقات کیلئے آئے جس کا تذکرہ اپنی کتاب میں کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں " میرے رخصت ہونے سے ذرا دیر پہلے اُنہوں نے مجھ سے فرمایا کہ تم میں اور جناح میں کیا چیز مشترک ہے ؟

محمد علی جناح

 وہ (جناح) ایک سیاست دان ہیں اور تم (نہرو) ایک محب وطن ! مجھے اُمید ہے کہ مجھ میں اور جناح میں اب بھی بہت کچھ مشترک ہو گا لیکن محب وطن ہونا اب کوئی قابل تعریف چیز نہیں سمجھی جاتی ... ہاں اقبال کا یہ خیال یقینا درست تھا کہ میں کچھ زیادہ سیاست دان نہیں ہوں" ۔ جواہر لال کے تجزیہ کے بعد اِس اَمر کو اچھی طرح جان لینا چاہئیے کہ علامہ اقبال بیماری کے باوجود قائداعظم کی سیاسی بصیرت کو محسوس کرتے ہوئے اپنے تاریخی خطوط کے ذریعے آخری دم تک مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ وطن کی جدوجہد میں دامے درمے سخنے شامل رہے۔ اُنہوں نے اپنی وفات سے دس ماہ قبل 21 جون 1937 میں قائداعظم کے نام جو خط لکھا ، اُس کے مندرجات سے ہی علامہ اقبال کی حصول پاکستان کی تحریک سے دلی وابستگی کی دلیل مل جاتی ہے ۔

 

اُنہوں نے قائداعظم کو اپنے مکتوب میں لکھا " مسلم صوبہ جات کی علیحدہ فیڈریشن ، واحد ذریعہ ہے ، ہندوستان میں امن و امان کے استحکام کا اور مسلمانوں کو غیر مسلموں کے غلبہ سے بچانے کا ، شمال مغربی اوربنگالی مسلمانوں کو کیوں نہ حقِ استصواب رائے کا مستحق جانا جائے جس طرح ہندوستان کے اندر (ہندوئوں) یا باہر دوسری قوموں کو دئیے جانے کا کہا جاتا ہے" ۔ یہی وجہ ہے کہ قائداعظم نے لاہور میں 23 مارچ 1940 کی قرارداد پاکستان کی منظوری کے بعد یہ کہنے سے گریز نہیں کیا کہ آج علامہ اقبال کا خواب پورا ہوا ہے کیونکہ اگر اقبال آج زندہ ہوتے تو بہت خوش ہوتے کہ آج ہم نے وہی کچھ کیا ہے جو وہ چاہتے تھے ۔ تو پھر علامہ اقبال کے مطالبہ پاکستان سے دستبرداری کا مفہوم کس کے مفادات کو پورا کرنے کیلئے نکالا جاتا ہے ؟

 

اندریں حالات نظریہء پاکستان اور تحریک پاکستان کے حوالے سے قائداعظم اور علامہ اقبال کی ہرزہ سرائی کرنے والے اکا بر ین سے میری یہی درخواست ہے کہ وہ بانیان پاکستان کی سیاسی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے ا پنی غلطیوں کا احساس کریں اور بانیان پاکستان کی قبروں پر جا کر فاتحہ خوانی کریں۔ مجلس احرار نے قائداعظم کے اصولی موقف کی ہمیشہ ہی مخالفت کی تھی لیکن امیر شریعت سید عطا شاہ بخاری نے پاکستان بننے کے بعد لاہور میں مجلس احرار کے ایک جلسہ عام میں یہ کہہ کر اپنی جماعت کو توڑنے کا اعلان کیا کہ متحدہ ہندوستان کی حمایت اُن کی غلطی تھی ۔ قائداعظم کی وفات پر اُنہوں نے کہا کہ قائداعظم ایک عہد آفریں شخصیت تھے، اسلامی تاریخ میں اُنہوں نے بیش بہا اضافہ کیا ہے جو پاکستان کے نام سے رہتی دنیا تک یادگار رہے گا ۔ یقینا قائداعظم کا پاکستان آج ایک ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے اُن کے خوابوں کی تعبیر ہے ۔ میں اسٹینلے والپرٹ Stanley Wolpert کے اِن خوبصورت جملوں کیساتھ اپنے مضمون کو ختم کرتا ہو ں " Few individuals significantly alter the course of history. Fewer still modify the map of the world. Hardly anyone can be credited with creating a nation state. Mohammad Ali Jinnah did all three."

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 4:37 PM |

پاکستان قدرت کا ایک انمول عطیہ

یوم آزادی پاکستان

دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت پاکستان، 14 اگست 1947 کو معرض وجود میں آیا ۔ پاکستان کا قیام چودہویں صدی ہجری کا سب سے اہم واقعہ ہے جو علامہ محمد اقبال کے خوابوں کی تعبیر،قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت کا ثمراور لاکھوں مسلمانوں کی بارگاہِ شہادت ہے پاکستان کی بنیاد لاالہ الااللہ پر رکھی گئی تھی. انگریز اور ہندو دونوں کی یہ انتہائی کوشش تھی کہ مسلمانوں کے لئے ایک آزاد ریاست معرض وجود میں نہ آئے کیونکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر ایسا ہو گیا تو پھر اسلام کو بحیثیت دین متعارف کرانے کے لئے تجربہ گاہ میسر آ جائے گی اور یہ صورت حال غیر مسلم اقوام کو کسی صورت بھی پسند نہ تھی .یہ قائد اعظم محمد علی جناح کی خداداد بصیرت،قوت فیصلہ اور عزمِ بلند کی کرشمہ سازی تھی کہ مختصر سے وقت میں مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر تمام مسلمان جمع ہو گئے ۔

یوم آزادی پاکستان

 مسلمانانِ ہند کے اجتماعی مطالبہ کے سامنے سارے دشمنانِ اسلام کی مردہ تدبیریں ناکام ہو گئیں اور ایک حسین و جمیل اسلامی مملکت (اسلامی جمہوریہ پاکستان) نقشہ عالم پر نمودار ہو گئی۔ غلامی کی بھیانک زنجیروں کو توڑنا کوئی آسان کام نہیں اس کے لئے بڑے مضبوط ہاتھوں اور فولاد جیسے ارادے کی ضرورت ہوتی ہے آزادی کی جن معطر ہواؤں سے آج ہماری سانسیں مہک رہی ہیں ان ہواؤں میں ان شہیدوں کی خوشبو مکمل طور پر رچی ہوئی ہے جو آزادی کی راہوں پر اپنے خون کے چراغ جلا کر اجالے بکھیرتے رہے۔ یہ ملک صرف اورصرف دو قومی نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا اور اس الگ خطے کا مطالبہ محض اس لئے کیا گیا تھا کہ یہاں اسلامی آئین اور قانون کو پورے وقار کے ساتھ نافذ کیا جائے اور پھر تجربہ گاہ کی بنیاد پر اسلام کے پیغامِ امن وسلامتی کو پوری دنیا تک پہنچانے کا اہتمام کیا جائے گا اسی نظریہ کی بنیاد پر یہ ملک آج تک قائم ہے اور انشاء اللہ قیامت تک قائم رہے گا .

بشکریہ آن لائن اردو انٹرنیشنل

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 4:35 PM |

پاکستان کے شہر " پشاور "  میں واقع اہم مقامات ( حصّہ دوّم )

پشاور میوزیم

پشاور میوزیم 

پشاور میوزیم  کا پرانا نام وکٹوریہ میموریل ہال تھا ۔ یہ میوزیم  پرانے شہر کے درمیان جیل برج اور ریلوے اسٹیشن سے پانچ منٹ کی مسافت  پر واقع ہے ۔ اس میوزیم کو 1905 ء میں بنایا گیا ۔ میوزیم ایک بڑے ہال پر مشتمل ہے جس کے دونوں اطراف گیلریاں ہیں ۔  میوزیم میں قدیم گندھارا تہذیب کے بارے میں  فن پارے، مہاتما بدھ کے مجسمے موجود ہیں۔  اس میوزیم میں ایک مسلم گیلری بھی قائم ہے جس میں اسلامی  تاریخی چیزیں رکھی گئی ہیں ۔

صدر بازار

یہ بازار بہت ہی صاف ستھرا ہے جس میں لمبے تاڑ کے درخت  لگاۓ گۓ ہیں ۔ یہاں پر موجود مکانات کے سامنے لان موجود ہیں جن میں گھاس اگائي گئی ہے ۔  اس علاقے میں گورنر ہاؤس، جدید ہوٹلز، اولڈ مشنری ایڈورڈ کالج، اسٹک میوزیم اور عالی شان شاپنگ سنٹر  کے ساتھ ساتھ سیاحوں کے لیۓ معلوماتی مرکز بناۓ گۓ ہیں ۔

خالد بن ولید  باغ

یہ  باغ صدر کا دل ہے ۔ یہ ایک بہت ہی قدیم باغ  ہے جسے مغلیہ دور حکومت میں تعمیر کیا گیا تھا ۔ درخت اس باغ کی خوبصورت اور عظمت کو اور بھی زیادہ کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔

پشاور کلب

اس کا پرانا نام کنٹونمنٹ کلب تھا اور یہ سرسید روڈ  پر واقع ہے ۔

درہ خیبر

کوہ سلیمان پر واقع یہ خوبصورت درہ ہے جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمد و رفت کے لیۓ بےحد مشہور ہے ۔  یہ درہ افغانستان کے علاقے جمرود  سے طورخم  تک پھیلا ہوا ہے ۔ اس ارد گرد افغان مہاجرین کے لیۓ کیمپ تعمیر کیۓ گۓ ہیں ۔

قلعہ جمرود

یہ پشاور سے 18 کلومیٹر کے فاصلے پر خیبر پاس کے قریب واقع ہے جسے 1823 ء میں سکھوں نے تعمیر کیا تھا ۔ مشہور سکھ جنرل ہری سنگھ کی موت اسی مقام پر ہوئی تھی اور انہیں اسی جگہ پر دفن کیا گیا ۔

درہ آدم خیل

یہ درہ پشاور  کے جنوب میں کوہاٹ جانے والی شاہراہ سے 42 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔   یہاں پر دیسی ساخت کا اسلحہ تعمیر کیا جاتا ہے ۔ اس کا اصل نام  " زرغون خیل  " ہے ۔

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 4:14 PM |

پاکستان کے شہر " پشاور "  میں واقع اہم مقامات

مسجد مہابت خان

مسجد مہابت خان

 یہ پشاور کی سب سے مشہور مسجد ہے جس کو 1670 ء میں مغلیہ بادشاہوں کے دور حکومت میں تعمیر کروایا گیا ۔  اس کا فن تعمیر مغل طرز کا ہے ۔  اس کے نام کو ایک مقامی گورنر کے نام سے منسوب کیا گیا جس نے مغلیہ بادشاہوں کے دور حکمرانی میں مختلف خدمات انجام دیں تھیں ۔  مسجد کے وسط میں وضو خانہ اور مغرب میں نماز خانہ ہے ۔ اس مسجد کے دو مینار اور تین گںبد ہیں جن پر نقاشی کی گئی ہے ۔ یہ  بہت ہی خوبصورت مسجد ہے اور جب بھی سیاح پشاور کا رخ کرتے ہیں تو مسجد مہابت خان کو دیکھنے کی تمنا ضرور ان کے دل میں ہوتی ہے ۔

قلعہ بالاسر

پشاور کا قدیم شہر چونکہ قلعہ نما تھا جس کے 16 داخلی دروازے ہوا کرتے تھے ۔  اس قلعہ کو " بالا سر " کا نام دیا گیا ۔ یہ بہت ہی وسیع و عریض قلعہ  تھا ۔  اس کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ  راولپنڈی سے پشاور کی طرف آتے ہوۓ دور سے ہی یہ قلعہ دکھائی دیتا  تھا ۔  پاکستان اور افغانستان کے بارڈر پر واقع درہ خیبر سے بھی اس قلعہ کا نظارہ کیا جا سکتا تھا ۔ سب سے پہلے اس قلعہ کو  مغلیہ سلطنت کے پہلے حکمران ظہیرالدین محمد بابر نے 1526 ء میں تعیمر کروایا  تھا ۔  1830 ء میں  پشاور کے گورنر ہری سنگھ  نلوا نے  فرانسیسی ماہرین کی زیر نگرانی اس قلعہ کو ایک بار پھر تعمیر کروایا جو آج بھی  موجود ہے اور اسے دیکھنے کے لیۓ سیاح اس قلعہ کا رخ کر رہے ہیں ۔

چوک یادگار

 یہ چوک قدیم  شہر کا مرکز ہوا کرتا  تھا اور اس چوک کو سیاسی لحاظ سے بےحد اہمیت حاصل تھی ۔  یہاں سے بہت سی سیاسی تحریکوں نے جنم لیا ۔  آج یہ چوک ایک تجارتی مرکز کی صورت میں دکھائی دیتا ہے جس میں قماش قماش کی دکانیں ، زیورات کی دکانیں ، زرمبادلہ کی تبدیلی ، قالین فروشی اور الیکٹرونکس کا سامان دستیاب ہے ۔   زلزلے سے محفوظ رہنے کے لیۓ چوک کے اردگرد کی عمارات لکڑی  اور کچی اینٹوں سے بنائی گئی ہیں ۔ لکڑی سے بنی ہوئی یہ عمارات خوبصورتی کا  عمدہ نمونہ ہیں ۔ بالکونیوں  پر دھاتی کشیدہ کاری بھی کی گئی ہے ۔ آج اس چوک کو بیشتر تجارتی مرکز کی حیثیت سے ہی جانا جاتا ہے ۔

پشاور چھاؤنی

پشاور کا یہ علاقہ جدید طرز پر تعمیر کیا گیا ہے جس میں پارک کثرت سے موجود ہیں ۔

 

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 4:12 PM |