X
تبلیغات
parachinar - مهدویت

خلاصہ :

 

امام مہدی کے اہلبیت میں سے ہونے ، ان کے آخری زمانے میں ظہور کرنے اوراس پر مسلمانوں کا اتفاق جان لینے کے بعد ہمیں حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کو ثابت کرنے والی دلیلوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
جب کہ امام مہدی کے نسب سے جو بحث ہم نے کی تھی اس کا نتیجہ بھی واضح ہے کہ بیشک امام مہدی اہل بیت کے بارہ اماموں میں سے بارہویں امام ہیں اورآپ کا سلسلہ نسب یوں ہے محمد بن حسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابو طالب علیھم السلام ۔
آپ باپ کی طرف سے حسینی اورماں کی طرف سے حسنی ہیں کیونکہ امام باقر کی والدہ گرامی امام حسن کی دختر اختر جناب فاطمہ سلام اللہ علیھا تھیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت امام مہدی کی ولادت اوراس کے شرعی ثبوت کے بارے میں بحث کرنا ایک غیر طبیعی بحث ہے مگر بعض تاریخی مغالطوں اورشکوک وشبہات کی وجہ سے جیسا کہ آپ کے چچا جعفر کذاب کا دعوی کرنا کہ میرے بھائی حسن کی کوئی اولاد نہیں تھی ۔

متن:

 


امام مہدی کے اہلبیت میں سے ہونے ، ان کے آخری زمانے میں ظہور کرنے اوراس پر مسلمانوں کا اتفاق جان لینے کے بعد ہمیں حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کو ثابت کرنے والی دلیلوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
جب کہ امام مہدی کے نسب سے جو بحث ہم نے کی تھی اس کا نتیجہ بھی واضح ہے کہ بیشک امام مہدی اہل بیت کے بارہ اماموں میں سے بارہویں امام ہیں اورآپ کا سلسلہ نسب یوں ہے محمد بن حسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابو طالب علیھم السلام ۔
آپ باپ کی طرف سے حسینی اورماں کی طرف سے حسنی ہیں کیونکہ امام باقر کی والدہ گرامی امام حسن کی دختر اختر جناب فاطمہ سلام اللہ علیھا تھیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت امام مہدی کی ولادت اوراس کے شرعی ثبوت کے بارے میں بحث کرنا ایک غیر طبیعی بحث ہے مگر بعض تاریخی مغالطوں اورشکوک وشبہات کی وجہ سے جیسا کہ آپ کے چچا جعفر کذاب کا دعوی کرنا کہ میرے بھائی حسن کی کوئی اولاد نہیں تھی ۔
اورحکومت وقت کا ان کے اس دعوی کو قبول کرتے ہوئے امام حسن عسکری کی وارثت ان کے حوالے کردینا جیسا کہ خود علماء شیعہ اثنی عشری نے لکھا ہے اور اگر غیر شیعہ نے لکھا ہے توانہیں کے طرق سے نقل کیا ہے۔

 

 

 

یہی چیز ایک منصف اورغور وفکر کرنے والے کیلیے کافی ہے کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ شیعہ ایک چیز کو نقل کریں اوراس کے بطلان کو ثابت کیے بغیر اس کے خلاف عقیدہ رکھیں یہ ایسا ہی ہے جیسے شیعہ ان روایات کو نقل کرتے ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ معاویہ ، حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں پیغمبر کے ہاں کسی بھی مقام ومرتبے کا قائل نہیں تھا۔
پس معاویہ کا انکار بھی ثابت ہے اورحضرت علی کا مقام ومرتبہ بھی ثابت ہے اوردونوں کا ثبوت یقین کی حدتک ہے۔
اسی طرح شیعوں کے یہاں جعفر کذاب کا انکار اورحکومت وقت کا ان کے انکار سے مطابق عمل درآمد کرنا ثابت ہے اوراس کے مقابلہ میں حضرت امام مہدی کی ولادت بھی ،اقرار ، مشاہدہ اوربرہان کے ساتھ ثابت ہے۔
لیکن مغرب کے دستر خوانوں پر پلنے والے انہیں شبہات سے استفادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اورانہیں (اصلاح )کے نئے اوررنگارنگ لباس سے سجاتے ہیں ۔
چنانچہ ہمارا دعوی ہے کہ کسی شخص کی ولادت صرف اس کے باپ اوردادا کی گواہی سے ثابت ہوجاتی ہے چاہے اسے کسی نے بھی نہ دیکھا ہومورخین نے اس کی ولادت کا اعتراف کیا ہو۔
علماء نساب نے اس کا نسب بیان کیا ہو اس کے قریبی لوگوں نے اس کے ہاتھ پر معجزات کا مشاہدہ کیا ہو اس سے وصیتیں اور تعلیمات ،نصیحتیں اورارشادات ، خطوط ، دعائیں ، درود ، منا جات منقول ہوں ، مشہور اقوال اورمنقول کلمات صادر ہوئے ہوں ، اس کے وکیل معروف ہوں ،ان کے سفیر معلوم ہوں اورہر عصر ونسل میں لاکھوں لوگ اس کے مدر گار اورپیروکار ہوں۔
مجھے اپنی عمر کی قسم!جو شخص ان شبہات کو ابھارتاہے اورحضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کا انکار کرتا ہے کیا اس سے زیادہ ثبوت چاہتا ہے یا اپنی زبان حال کے ساتھ مہدی کو وہی کہہ رہا ہے جو زبان متعال کے ساتھ مشرکین آپ کے جد امجد پیغمبر کے بارے میں کہتے تھے۔
"وقالو الن نومن لک حتی تفجرلنا من الارض ینبوعاً ، اوتکون لک جنة من نخیل وعنب فتفجر الانھارخلالھا تفجیرا،اوتسقط السماء کمازعمت علینا کسفااو تاتی باللہ والملائکة قبیلاً ، اویکون لک بیت من زخرف اوترقی فی السماء ولن نومن لرقیبک حتی تنزل علینا کتابا نقروہ! قل سبحان ربی ھل کنت الا بشرا رسولا
کفار مکہ نے کہا جب تک تم ہمارے واسطے زمین سے چشمہ جاری نہیں کروگے ہم تم پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یا کھجوروں اورانگوروں کا تمہارا کوئی باغ ہو اس میں تم بیچ بیچ میں نہریں جاری کرکے دکھاویا جیسے تم گمان رکھتے تھے ہم آسمان کو ٹکرے کرکے گراؤ یا خدا اور فرشتوں کو اپنے قول کی تصدیق میں ہمارے سامنے گواہی میں لا کھڑا کرو یا تمہارے رہنے کیلیے کوئی طلائی محل سرا ہو یا تم آسمان پر چڑھ جاو۔
اورجب تک ہم تم پر (خدا کے ہاں سے ایک )کتاب نازل نہ کرو گے ہم اسے خود پڑھ لیں اس وقت تک ہم تمہارے آسمان پر چڑھنے کے بھی قابل نہیں ہو گے (اے رسول )تم کہہ دو کہ میں ایک آدمی (خدا کے)رسول کے سوا اورکیا ہوں (جو یہ بیہودہ باتیں کرتے ہو(اسراء ۱۷:۹۴۔۹۰)
اے اللہ تعالی ! ہمیں اس کی ہدایت کی کوئی امید نہیں جو حق کو پہچان کر باطل سے تمسک کرتا ہے کیونکہ ج سورج کی روشنی میں نہیں دیکھ سکتا وہ چاند کی روشنی میں کیسے دیکھ سکتا ہے ہم توجاہل تک حق کو پہنچانا چاہتے ہیں اورکمزورایمان ک وقوی کرنا چاہتے ہیں ۔

حضرت امام حسن عسکری کا اپنے فرزند حضرت امام مہدی کی ولادت کی خبر دینا۔
اس کی دلیل وہ روایت ہے جو محمد بن یحییٰ عطار نے احمد بن اسحاق سے انہوں نے ابو ہاشم جعفری سے صحیح سند کے ساتھ نقل کی ہے
وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام حسن عسکری سے عرض کیا آپ کی عظمت مجھے آپ سے سوال کرنے سے روکتی ہے پس مجھے آپ سوال کرنے کی اجازت فرمائیں توآپ نے فرمایا:۔
پوچھو !میں نے عرض کیا اے میرے آقا کیا آپ کا کوئی فرزند ہے ؟
آپ نے فرمایا:۔ ہاں
میں نے کہا اگرآپ کو کوئی حادثہ پیش آگیا تواسے کہاں تلاش کریں ؟فرمایا مدینہ میں "(اصول کافی ۲۔۳۲۸:اباب ۷۶)
اورعلی بن محمد کی محمد بن علی بن بلال سے صحیح روایت ہے وہ کہتے ہیں مجھے امام حسن عسکری نے اپنی وفات سے دوسال قبل خط لکھ کر اپنے خلیفہ کی خبر دی پھر اپنی وفات سے تین دن پہلے خط لکھ کر مجھے یہی خبر دی(اصول کافی ۱: ۳۲۹۔۲باب ۷۶)
علی بن محمد سے مراد ثقہ اورفاضل ادیب ابن بندار ہیں اورمحمد بن علی بن بلال کی وثاقت اورعظمت زبان زد خاص وعام ہے اورعلماء رجال کے بقول ابوالقاسم حسین بن روح جیسے افراد آپ کے پاس آتے تھے۔

دایہ کی امام مہدی کی ولادت کے بارے میں گواہی
یہ پاک وپاکیزہ علوی سیدہ امام جواد کی بیٹی ، امام ہادی کی بہن اورحضرت امام عسکری علیہ السلام کی پھوپھی حکیمہ ہیں امام زمانہ کی ولادت کے وقت آپ کی والدہ نرجس خاتون کی دایہ کا کام آپ نے سر انجام دیا تھا (کمال الدین ۲۔۴۲۴،۱ وباب ۴۲شیخ کی الغیبة ۲۰۴۔۲۳۴)
اورولادت کے بعد امام زمانہ کو دیکھنے کی گواہی دی تھی (اصول کافی ۱:۳۳۰، باب ۷۷، کمال الدین ۲:۴۳۳۔۱۴باب ۴۲)اورولادت کے کام میں بعض عورتوں نے آپ کی مدد کی تھی جیسے ابوعلی خیزرانی کی لونڈی جو اس نے امام عسکری کو ہدیة کے طور پر دی تھی جیسا کہ موثق راوی محمد بن یحییٰ کی روایت میں ہے (کمال الدین ۲:۴۲۱۔۷باب ۴۲)اورامام عسکری کی خادمہ ماریہ اورنسیم (کمال الدین ۲:۴۳۰۔۵باب۴۲۔شیخ کی کتاب الغیبة ۲۱۱۔۲۴۴)
مخفی نہ رہے کہ مسلمانوں کے بچوں کی پیدائش کے وقت ماں کا مشاہدہ فقط دایہ کرتی ہے جو اس کا انکارکرتا ہے وہ ثابت کرے کہ اس کی ماں کو دایہ کے علاوہ کے علاوہ بھی کسی نے دیکھا تھا ۔اور پھر امام مہدی کی ولادت کے بعد امام عسکری نے سنت شریفہ کو جاری کرتے ہوئے عقیقہ کیا تھا جیسا کہ سنت محمدیہ کے پابند لوگ بچے کی پیدائش کے وقت کرتے ہیں۔
+ نوشته شده توسط khial hussain در Sun 25 Sep 2011 و ساعت 8:43 PM |

خلاصہ :

 

شرائط و آداب دعا کو بیان کرنے کے بعد:سب سے ضروری اور اہم ترین دعا جس کو غیبت کے زمانہ میں لوگوں کو کرنا چاہئے امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہور کے لئے دعا ہے اس لئے کہ حضرت ہمارے سید وسردار اور ہمارے زمانہ کے مالک ہیں۔.یہی نہیں بلکہ صاحب امر 'ولی اور تمام عالم کے سر پرست ہیں کیا آپ سے غافل ہوا جاسکتا ہے؟ جب کہ آنحضرت ہمارے امام ہیں اور امام سے غفلت یعنی حقیقی بھول اور اصول دین سے غفلت ہے ۔
    لہٰذا ضروری ہے کہ قبل اس کے کہ خود اپنے لئے اور اقرباء وا حباب کے لئے دعا کریں، حضرت(عج)کے لئے دعا کریں ۔

متن:

 

    شرائط و آداب دعا کو بیان کرنے کے بعد:سب سے ضروری اور اہم ترین دعا جس کو غیبت کے زمانہ میں لوگوں کو کرنا چاہئے امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہور کے لئے دعا ہے اس لئے کہ حضرت ہمارے سید وسردار اور ہمارے زمانہ کے مالک ہیں۔.یہی نہیں بلکہ صاحب امر 'ولی اور تمام عالم کے سر پرست ہیں کیا آپ سے غافل ہوا جاسکتا ہے؟ جب کہ آنحضرت ہمارے امام ہیں اور امام سے غفلت یعنی حقیقی بھول اور اصول دین سے غفلت ہے ۔
    لہٰذا ضروری ہے کہ قبل اس کے کہ خود اپنے لئے اور اقرباء وا حباب کے لئے دعا کریں، حضرت(عج)کے لئے دعا کریں ۔
    مرحوم سید بن طاؤس کتاب (جمال الاسبوع )میں تحریر فرماتے ہیں :ہم نے پہلے بیان کیا کہ ماضی میں ہمارے رہنما امام عصر صلوٰت اللہ علیہ کے لئے دعا کے متعلق خاص اہمیت کے قائل تھے اس سے پتہ چلتا ہے آنحضرت (عج) کے لئے دعا اسلام و ایمان کے اہم ترین فرائض میں سے ہے ہم نے ایک روایت نقل کی کہ امام صادق علیہ السلام نماز ظہر کی تعقیب میں کامل ترین دعا امام عصر (عج)کے حق میں کیا کرتے تھے پھر کہیں اپنے لئے کرتے تھے ہم نے گذشتہ مختلف عناوین میںایک باب حضرت بقیت اللہ الاعظم (عج)کے لئے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی دعا سے مخصوص کیا ہے واضح ہے کہ جو اسلام میں ان دو بزرگوں کی حیثیت کو پہچان لے تو ان کی پیروی میں اس کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے گا ۔ (۱)
    لہٰذا اگر مولا کے لئے دعا کے ذریعہ بار گاہ معبود اور زندہ مردہ کے مالک و مختار کے حضور میں جائیں اور دعا کریں تو امید ہے آنحضرت (عج)کی وجہ سے باب اجابت ہمارے لئے کھل جائے اور جو اپنے اور دوسروں کے لئے دعا کرتے ہیںکہ فضل پروردگارہمارے شامل حال ہو اور اس کی رحمت ،کرم اور عنایت ہماری طرف متوجہ ہو جائے، یہ اس لئے ہے کہ ہم نے اپنی دعا میں اس کی رسی کو پکڑرکھا ہے۔
     شاید کہو فلاں ، فلاں ، جو کہ تمہارے اساتذہ میں سے ہیں ان کی پیروی کرتے ہو اور وہ اس قول پر عمل نہیں کرتے۔
    اس کا جواب معلوم ہے اس لئے کہ وہ ہمارے مولا سے غافل ہیں اور ان کے متعلق کوتاہی اور سستی کرتے ہیں ۔
    اس جگہ پر سید بن طاؤوس علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: جو ہم نے تم سے کہا اس پر عمل کرو اس لئے کہ وہ کھلی ہوئی حقیقت ہے اور جو ہمارے مولا کے متعلق سہل انگاری کرے اور سستی دکھائے اور جو بیان کیا اس سے غافل ہو خدا کی قسم وہ ایسے شبہ میںمبتلا ہوا ہے کہ جو ننگ وعار کا سبب ہے ۔
    پھر آپ فرماتے ہیں ائمہ علیہم السلام کی نگاہ میں اس امر کی اہمیت کس طرح پاتے ہیں ؟کیا ابھی تک اس موضوع کے متعلق آپ کا جو رویہ رہا ہے وہ لاپرواہی نہیںتھی ؟
    اس لئے واجب نمازوں میں آنحضرت (عج)کے لئے زیادہ دعا کریں اور اس کے لئے دعا کرنے سے پرہیز نہ کریں جس کے لئے دعا کرنا جائز ہے ۔
    میں پھر عرض کرونگا جو ہم نے بیان کیا اس کی بنا پر آنحضرت (عج)کے ظہور میں تعجیل کے لئے دعا کرنے کو اہمیت نہ دینے کے لئے کوئی عذرہمارے پاس باقی نہیں بچتا ۔ (۲)
    صاحب مکیال المکارم فرماتے ہیں: جیسا کہ آیات وروایات دلالت کرتی ہیں کہ دعا عبادت کی بہت اہم قسم ہے اور اس میں شبہ نہیں ہے کہ سب سے اہم اور باعظمت دعا اس کے لئے ہے کہ جس کے حق کو پروردگار عالم نے سب پر واجب کیاہے ۔
    اور اس کے وجود کی برکت کی بنا پر تمام مخلوقات کو پروردگار عالم کی نعمت پہنچ رہی ہے ، اور جس طرح کوئی شبہ نہیں کہ خدا کے ساتھ مشغول رہنے سے مراد اس کی عبادت میں مشغول رہنا ہے اسی طرح دعا میں استمرار باعث ہوتاہے کہ پروردگارعالم اسے عبادت کی توفیق عطا فرماے اور اسے اپنے اولیاء میں قرار دے ۔
    چنانچہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے مولا حضرت حجت ارواحنا فدا کے لئے دعا میں پابندی 'آنحضرت (عج)کے ظہور میں تعجیل کے لئے پروردگار عالم سے سوال اور اس آخری امام (عج)کے غم و اندوہ کے برطرف کرنے اور نشاط پیدا کرنے کے لئے دعا اس اہم مسئلہ کے فراہم ہونے کا باعث ہے ۔
    لہٰذا اہل ایمان پر لازم ہے کہ اہتمام کریں اور ہر وقت و ہر جگہ آنحضرت (عج)کے ظہور میںتعجیل کے لئے دعا کریں ۔
    جو اس مطلب کے ساتھ مناسب ہے اور ہماری گفتگو کی تائیدکرتی ہے وہ مطلب ہے جسے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے مکاشفہ کی صورت میںیاعالم خواب میں مرحوم آیت اللہ مرزامحمد باقر فقیہ ایمانی سے فرما یا:اپنی تقریروں میں لوگوں سے کہو اور حکم دوتوبہ کریں اور حضرت (عج) کے ظہور میں تعجیل کے لئے دعا کریں آنحضرت (عج)کے آنے کے لئے دعا نماز میت کی طرح نہیں ہے جو واجب کفائی ہو اور کچھ لوگوں کے انجام دے دینے سے دوسروں سے ساقط ہوجائے بلکہ پنجگانہ نماز کی طرح ہے یعنی ہر بالغ و عاقل پر واجب ہے کہ امام زمانہ (عج) کے ظہور کے لئے دعا کرے ۔ (۳)
    جو ہم نے نقل کیا اس کے پیش نظر امام زمانہ (عج)کے لئے دعا کرنا ضروری ہے سب پر واضح ہو گیا۔   
۱)۔جمال الاسبوع ص ۳۰۷
۲)۔فلاح السائل :۴۴
۳)۔ مکیال المکارم ج ۱ص

+ نوشته شده توسط khial hussain در Sun 25 Sep 2011 و ساعت 8:42 PM |

خلاصہ :

 

علامہ شیخ عباس قمی علیہ الرحمہ نے دور ِ غیبت ِامام میں آٹھ طرح کے فرائض کا تذکرہ کیا ہے جو احساس غیبت امام اور امام کی حقیقت کے واضح کرنے کے بہترین وسائل ہیں اور جن کے بغیر نہ ایمان بالغیب مکمل ہو سکتا ہے اور نہ انسان کو منتظرین امام زمانہ میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ ان آٹھ فرائض کی مختصر تفصیل یہاں ذکر ہے

متن:

 

فرائض دور ِ غیبت


علامہ شیخ عباس قمی علیہ الرحمہ نے دور ِ غیبت ِامام میں آٹھ طرح کے فرائض کا تذکرہ کیا ہے جو احساس غیبت امام اور امام کی حقیقت کے واضح کرنے کے بہترین وسائل ہیں اور جن کے بغیر نہ ایمان بالغیب مکمل ہو سکتا ہے اور نہ انسان کو منتظرین امام زمانہ میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ ان آٹھ فرائض کی مختصر تفصیل یہ ہے:

۱۔ محزون و رنجیدہ رہنا: ۔ حقیقت امر یہ ہے کہ انسان کو غیبت ِ امام کی حقیقت اور اس سے پیدا ہونے والے نقصانات کا اندازہ ہو جائے تو اس کی زندگی سے مسرت و ابتہاج ناپید ہو جائے۔
زمانہ کے بدترین حالات، اہل زمانہ کے بے پناہ ظلم و ستم، نظام اسلامی کی بربادی، تعلیمات الٰہیہ کا استہزاء اور اس طرح کے بے شمار معاملات ہیں جن سے غیبت ِ امام کے نقصانات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے اور ان کا احساس ہی انسان کے آنسو بہانے کے لیے کافی ہے۔ پھر اگر یہ بات صحیح ہے کہ امام انسان کی زندگی کی محبوب ترین شخصیت کا نام ہے، تو کیسے ممکن ہے کہ محبوب نگاہوں سے اوجھل رہے اور عاشق کے دل میں اضطراب اور بے قراری نہ پیدا ہو اور وہ اپنے محبوب کی طرف سے اس طرح غافل ہو جائے کہ مخصوص تاریخوں اور مواقع کے علاوہ اس کے وجود اور اس کی غیبت کا احساس بھی نہ پیدا کرے۔
دعائے ندبہ میں انہیں تمام حالات کا تفصیلی تذکرہ موجود ہے اور اسی لیے اس دعا کو دعائے ندبہ کہا جاتا ہے کہ انسان اس کے مضامین کی طرف متوجہ ہو جائے اور غیبت ِ امام کی مصیبت کا صحیح اندازہ کر لے تو گریہ اور ندبہ کے بغیر نہیں رہ سکتا ہے اور شاید اسی لیے اس دعا کی تاکید ایام عید میں کی گئی ہے یعنی روز عید فطر، روز عید قربان، روز عید غدیر اور روز جمعہ جسے اسلامی احکام کے اعتبار سے عید سے تعبیر کیا گیا ہے کہ عید کا دن انسان کے لیے انتہائی مسرت کا دن ہوتا ہے اور اس دن ایک محب اور عاشق کا فرض ہے کہ اپنے محبوب حقیقی کے فراق کا احساس پیدا کرے اور اس کی فرقت پر آنسو بہائے تاکہ اسے فراق کی صحیح کیفیت کا اندازہ ہو سکے جیساکہ امام محمد باقرں نے فرمایا ہے کہ :
”جب کوئی عید کا دن آتا ہے تو ہم آل محمد کا غم تازہ ہو جاتا ہے کہ ہم اپنا حق اغیار کے ہاتھوں پامال ہوتے دیکھتے ہیں اور مصلحت ِ الٰہیہ کی بنیاد پر کوئی آواز بھی بلند نہیں کر سکتے۔“
ائمہ معصومین میں مولائے کائنات کے دور سے امام عسکریں تک ہر امام نے غیبت کے نقصانات اور مصائب کا تذکرہ کرکے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس کائنات میں خیر صرف اس وقت نمایاں ہوگا جب ہمارا قائم قیام کرے گا اور اس سے پہلے اس دنیا سے کسی واقعی خیر کی امید نہیں کی جا سکتی ہے تاکہ انسان موٴمن بدترین حالات سے بھی مایوس نہ ہو جائے اور پھر انہیں حالات سے راضی اور مطمئن بھی نہ ہو جائے کہ یہ اس کے نقص ایمان کا سب سے بڑا ذریعہ ہوگا۔
اس مقام پر سدیر صیرفی کی اس روایت کا نقل کرنا نامناسب نہ ہوگا کہ میں (سدیر) اور مفضل بن عمر اور ابو بصیر اور ابان بن تغلب امام صادقں کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ خاک پر بیٹھے ہوئے بے تحاشہ گریہ فرما رہے ہیں اور فرماتے جاتے ہیں کہ میرے سردار! تیری غیبت نے میری مصیبت کو عظیم کر دیا ہے، میری نیند کو ختم کر دیا ہے اور میری آنکھوں سے سیلاب ِ اشک جاری کر دیا ہے۔ میں نے حیرت زدہ ہوکر عرض کی کہ ”فرزند رسول! خدا آپ کو ہر بلا سے محفوظ رکھے، یہ گریہ کا کون سا انداز ہے اور خدا نخواستہ کون سی تازہ مصیبت آپ پر نازل ہوگئی ہے؟“ تو فرمایا کہ:
”میں نے کتاب ِ جفر کا مطالعہ کیا ہے جس میں قیامت تک کے حالات کا ذکر موجود ہے تو اس میں آخری وارث پیغمبر کی غیبت اور طول غیبت کے ساتھ اس دور میں پیدا ہونے والے بدترین شکوک و شبہات اور ایمان و عقیدہ کے تزلزل کے حالات اور پھر شیعوں کے مبتلائے شک و ریب ہونے اور تغافل اعمال کا مطالعہ کیا ہے اور اس امر نے مجھے اس طرح بے قرار ہوکر رونے پر مجبور کر دیا ہے کہ اس غیبت میں صاحبانِ ایمان کا کیا حشر ہوگا اور ان کا ایمان کس طرح محفوظ رہ سکے گا۔“
عزیزانِ گرامی! اگر ہمارے حالات اور ہماری بد اعمالیاں سیکڑوں سال پہلے امام صادقں کو بے قرار ہوکر رونے پر مجبور کر سکتی ہیں تو کیا ہمارا یہ فرض نہیں ہے کہ ہم اس دور ِ غیبت میں ان حالات اور آفات کا اندازہ کرکے کم از کم روز ِ جمعہ خلوص دل کے ساتھ دعائے ندبہ کی تلاوت کرکے اپنے حالات پر خود آنسو بہائیں کہ شاید اسی طرح ہمارے دل میں عشق امام زمانہ کا جذبہ پیدا ہو جائے وار ہم کسی آن ان کی یاد سے غافل نہ ہونے پائیں جس طرح کہ انہوں نے خود اپنے بارے میں فرمایا ہے کہ ہم کسی وقت بھی اپنے چاہنے والوں کی یاد سے غافل نہیں ہوتے ہیں اور نہ ان کی نگرانی کو نظر انداز کرتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ان کا اعتماد ہمارے اوپر رہے اور ان کی حفاظت و رعایت کی ذمہ داری بھی ہمارے ہی حوالے کی گئی ہے۔

۲۔ انتظار ِ حکومت و سکونِ آل محمد :۔ اس انتظار کو دور ِ غیبت میں افضل اعمال قرار دیا گیا ہے اور اس میں اس امر کا واضح اشارہ پایا جاتا ہے کہ اس دنیا میں ایک دن آل محمد کا اقتدار ضرور قائم ہونے والا ہے اور موٴمنین کرام کی ذمہ داری ہے کہ اس دن کا انتظار کریں اور اس کے لیے زمین ہموار کرنے اور فضا کو سازگار بنانے کی کوشش کرتے رہیں۔
اب یہ دور کب آئے گا اور اس کا وقت کیا ہے؟ یہ ایک راز ِ الٰہی ہے جس کو تمام مخلوقات سے مخفی رکھا گیا ہے بلکہ روایات میں یہاں تک وارد ہوا ہے کہ امیر الموٴمنینں کے زخمی ہونے کے بعد آپ کے صحابی عمرو بن الحمق نے آپ کی عیادت کرتے ہوئے عرض کی کہ مولا! ان مصائب کی انتہاء کیا ہے؟ تو فرمایا کہ ۷۰ء ھ تک۔ عرض کی کہ کیا اس کے بعد راحت و آرام ہے؟ آپ نے کوئی جواب نہیں دیا اور غش کھا گئے۔
اس کے بعد جب غش سے افاقہ ہوا تو دوبارہ سوال کیا۔ فرمایا: بے شک ہر بلا کے بعد سہولت اور آسانی ہے لیکن اس کا اختیار پروردگار کے ہاتھ میں ہے۔
اس کے بعد ابو حمزہ ثمالی نے امام باقرں سے اس روایت کے بارے میں دریافت کیا کہ ۷۰ء ھ تو گزر چکا ہے لیکن بلاؤں کا سلسلہ جاری ہے؟ تو فرمایا کہ شہادت ِ امام حسینں کے بعد جب غضب پروردگار شدید ہو تو اس نے سہولت و سکون کے دور کو آگے بڑھا دیا۔
پھر اس کے بعد ابو حمزہ نے یہی سوال امام صادقں سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ بے شک غضب ِ الٰہی نے اس مدت کو دوگنا کر دیا تھا، اس کے بعد جب لوگوں نے اس راز کو فاش کر دیا تو پروردگار نے اس دور کو مطلق راز بنا دیا اور اب کسی کو اس امر کا علم نہیں ہو سکتا ہے، اور ہر شخص کا فرض ہے کہ اس دور کا انتظار کرے کہ انتظار ظہور کرنے والا مر بھی جائے گا تو وہ قائم آل محمد کے اصحاب میں شمار کیا جائے گا۔

۳۔ امام کے وجود ِ مبارک کی حفاظت کے لیے بارگاہِ احدیت میں دست بدعا رہنا:۔
ظاہر ہے کہ دعا ہر اس مسئلہ کا علاج ہے جو انسان کے امکان سے باہر ہو اور جب دور ِ غیبت میں امام کی حفاظت کسی اعتبار سے بھی ہمارے اختیار میں نہیں ہے اور ہم خود انہیں کے رحم و کرم سے زندہ ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے وجود ِ مبارک کی حفاظت کے لیے بارگاہِ احدیت میں مسلسل دعائیں کرتے رہیں اور کسی وقت بھی اس فرض سے غافل نہ ہوں: ﴿اَللّٰھُمَّ کُنْ لِّوَلِیِّکَ الْحُجَّةِ بْنِ الْحَسَنِ﴾ جسے عام طور سے اثنائے نماز قنوت یا بعد نماز وظیفہ کے طور پر پڑھا جاتا ہے۔ امامں کے وجود کی حفاظت، ان کے ظہور کی سہولت اور ان کی عادلانہ حکومت کے بارے میں جامع ترین دعا ہے، جس سے صاحبانِ ایمان کو کسی وقت غافل نہیں ہونا چاہیے۔

۴۔ امام کی سلامتی کے لیے صدقہ نکالنا :۔ صدقہ درحقیقت خواہش سلامتی کا عملی اظہار ہے کہ انسان جس کی سلامتی کی واقعاً تمنا رکھتا ہے اس کے حق میں صرف لفظی طور پر دعا نہیں کرتا ہے بلکہ عملی طور پر بھی دفع بلا کا انتظام کرتا ہے اور یہ انتظام صدقہ سے بہتر کوئی شے نہیں ہے۔ دعا ان لوگوں کے لیے بہترین شے ہے جو صدقہ دینے کی بھی استطاعت نہیں رکھتے ہیں لیکن جن کے پاس یہ استطاعت پائی جاتی ہے وہ اگر صرف دعا پر اکتفا کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف لفظی کاروبار کرنا چاہتے ہیں اور امام کی سلامتی کے لیے چند پیسے بھی خرچ نہیں کرنا چاہتے ہیں جب کہ جو کچھ مالک کائنات سے لیا ہے وہ سب انہیں کے صدقہ میں لیا ہے اور جو کچھ آئندہ لینا ہے وہ بھی انہیں کے طفیل میں اور انہیں کے وسیلہ سے حاصل کرنا ہے۔

۵۔ امام عصر کی طرف سے حج کرنا یا دوسروں کو حج نیابت کے لیے بھیجنا :۔ جو دور قدیم سے شیعوں کے درمیان مرسوم ہے کہ لوگ اپنے امام زمانہں کی طرف سے نیابةً اعمال انجام دیا کرتے تھے اور امام عصرں ان کے ان اعمال کی قدر دانی بھی فرمایا کرتے تھے جیساکہ ابو محمد دعلجی کے حالات میں نقل کیا گیا ہے کہ انہیں کسی شخص نے امام عصرں کی طرف سے نیابةً حج کے لیے پیسہ دیے تو انہوں نے اپنے فاسق و فاجر اور شرابی فرزند کو حج نیابت ِ امام کے لیے اپنے ساتھ لے لیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میدانِ عرفات میں ایک انتہائی نوجوان شخص کو دیکھا جو یہ فرما رہے ہیں کہ تمہیں اس بات سے حیا نہیں آتی ہے کہ لوگ تمہیں حج نیابت کے لیے رقم دیتے ہیں تو تم فاسق و فاجر افراد کو یہ رقم دے دیتے ہو۔ قریب ہے کہ تمہاری آنکھ ضائع ہو جائے کہ تم نے انتہائی اندھے پن کا ثبوت دیا ہے۔ چنانچہ راوی کہتا ہے کہ حج سے واپسی کے چالیس روز کے بعد ان کی وہ آنکھ ضائع ہوگئی جس کی طرف اس مرد نوجوان نے اشارہ کیا تھا۔

۶۔ امام عصر کا اسم گرامی آنے پر قیام کرنا :۔ بالخصوص اگر آپ کا ذکر لفظ قائم سے کیا جائے کہ اس میں حضرت کے قیام کا اشارہ پایا جاتا ہے اور آپ کے قیام کے تصور کے ساتھ کھڑا ہو جانا محبت ،عقیدت اور غلامی کا بہترین مقتضی ہے جس سے کسی وقت بھی غفلت نہیں کی جا سکتی ہے۔

۷۔ دور غیبت میں حفاظت دین و ایمان کے لیے دعا کرتے رہنا :۔
امام صادقں نے زرارہ سے فرمایا تھا کہ ہمارے قائم کی غیبت میں اس قدر شبہات پیدا کیے جائیں گے کہ اچھے خاصے لوگ مشکوک ہو جائیں گے لہٰذا اس دور میں ہر شخص کا فرض ہے کہ سلامتی ایمان کی دعا کرتا رہے اور یاد امام میں مصروف رہے اور عبد الله بن سنان کی امام صادقں سے روایت کی بنا پر کم سے کم ﴿یٰا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبیْ عَلٰی دِیْنِکَ﴾ کا ورد کرتا رہے کہ سلامتی دین و ایمان کے لیے یہ بہترین اور مختصر ترین دعا ہے۔

۸۔ امام زمانہ سے مصائب و بلیات کے موقع پر استغاثہ کرنا :۔ کہ یہ بھی اعتقاد کے استحکام اور روابط و تعلقات کے دوام کے لیے بہترین طریقہ ہے اور پروردگار عالم نے ائمہ طاہرین کو یہ طاقت اور صلاحیت دی ہے کہ وہ فریاد کرنے والوں کی فریاد رسی کر سکتے ہیں جیساکہ ابو طاہر بن بلال نے امام صادقں سے نقل کیا ہے کہ پروردگار جب اہل زمین تک کوئی برکت نازل کرنا چاہتا ہے تو پیغمبر اکرم سے امام آخر تک سب کو وسیلہ قرار دیتا ہے اور ان کی بارگاہوں سے گزرنے کے بعد برکت بندوں تک پہنچتی ہے اور جب کسی عمل کو منزل قبولیت تک پہنچانا چاہتا ہے تو امام زمانہں سے رسول اکرم تک ہر ایک کے وسیلہ سے گزار کر اپنی بارگاہِ جلالت پناہ تک پہنچاتا ہے اور پھر قبولیت کا شرف عنایت کرتا ہے بلکہ خود امام عصرں نے بھی شیخ مفید کے خط میں تحریر فرمایا تھا کہ تمہارے حالات ہماری نگاہوں سے پوشیدہ نہیں ہیں اور ہم تمہارے مصائب کی مکمل اطلاع رکھتے ہیں اور برابر تمہارے حالات کی نگرانی کرتے رہتے ہیں۔
علامہ مجلسی نے تحفة الزائر میں نقل کیا ہے کہ صاحبانِ حاجت کو چاہیے کہ اپنی حاجت کو کسی کاغذ پر لکھ کر ائمہ طاہرین کی قبور مبارکہ پر پیش کر دیں یا کسی خاک میں رکھ کر دریا یا نہر وغیرہ کے حوالہ کر دیں کہ امام زمانہں اس حاجت کو پورا فرما دیں گے۔ اس عریضہ کی ترسیل میں آپ کے چاروں نواب خاص میں سے کسی کو بھی مخاطب بنایا جا سکتا ہے۔ انشاء الله وہ اسی طرح امام کی بارگاہ میں پیش کریں گے جس طرح اپنی زندگی میں اس فرض کو انجام دیا کرتے تھے اور امامں اسی طرح مقصد کو پورا کریں گے جس طرح اس دور میں کیا کرتے تھے۔      

+ نوشته شده توسط khial hussain در Sun 25 Sep 2011 و ساعت 8:36 PM |

خلاصہ :

 

انسان کی پیدائش کا آخری مقصد خداوندمتعال کے نزدیک ہونا ہے لہذا اس مقصد تک پہنچنے کے لیے وسایل کا فراہم کرنا اوررکاوٹوں کا دورکرنا ضروری ہے اوروہ صرف امام زمان عج کی حکومت ہے جس کے ذریعے ہم اللہ تعالی تک پہنچ سکتےہیں انسان دوچیزوں (جسم وروح)سے مرکب ہے اس بناپر ضروری ہے کہ کمالات تک پہنچنے کے لیے دونوں طرف سے حرکت کرے اورعدالت جو کہ الہی حکومت کے ذریعے ممکن ہے انسان کی مادی اورمعنوی سیر کی ضامن ہے
اس بنا پر امام زمانہ عج کی حکومت کے اہداف بھی دومحور کی بنیاد پر بیان کیے جاسکتےہیں

متن:

 

امام مہدی عج کی حکومت اور آپ کے انصار کی خصوصیات
امام زمانہ عج اس وقت دنیا کی حکومت کی باگ ڈورسنبھالیں گے جب دنیا میں ناامنی ،بے سروسامانی اورلاکھوں جسمانی ،روحانی اورذہنی بیماریاں پھیل چکی ہوں گی دنیا پر تباہی وبربادی چھاچکی ہوگی شہرجنگوں کی وجہ سے ویران ہوچکے ہوں گے
ایسی حکومت قائم کریں گے جو مظہر صفات وجمال پروردگار عالم ہوگی
امام مہدی کی حکومت کے اہداف
انسان کی پیدائش کا آخری مقصد خداوندمتعال کے نزدیک ہونا ہے لہذا اس مقصد تک پہنچنے کے لیے وسایل کا فراہم کرنا اوررکاوٹوں کا دورکرنا ضروری ہے اوروہ صرف امام زمان عج کی حکومت ہے جس کے ذریعے ہم اللہ تعالی تک پہنچ سکتےہیں انسان دوچیزوں (جسم وروح)سے مرکب ہے اس بناپر ضروری ہے کہ کمالات تک پہنچنے کے لیے دونوں طرف سے حرکت کرے اورعدالت جو کہ الہی حکومت کے ذریعے ممکن ہے انسان کی مادی اورمعنوی سیر کی ضامن ہے

اس بنا پر امام زمانہ عج کی حکومت کے اہداف بھی دومحور کی بنیاد پر بیان کیے جاسکتےہیں

معنوی ترقی :

انسان اپنی زندگی میں ہمیشہ معنوی اورروحانی راستے سے ہٹ کرحرکت کررہا ہے اورنفسانی خواہشات اور وسوسہ ھای شیطانی میں گھرچکا ہے اوراپنی زندگی کی اچھائیوں کو بھول بیٹھا ہے اوراپنے ہاتھ سے شہوت کے قبرستان میں دفن ہورہا ہے پاکی وطہارت، صداقت وسچائی ، باہمی تعاون ،ایثار اورفداکاری ،احسان اورنیکی کی جگہ ،شہوت رانی ،جھوٹ ،فریب ،۔خیانت ،ظلم ،مال ودولت کی ھوس میں زندگی گزاررہا ہے اورجس کے نتیجے میں معنویت اورروحانت رخت سفر باندھ کر دورہورہی ہے امام زمانہ کی حکومت انسان کے اندرمعنویت اورروحانیت کو زندہ کرنے کے لیے سب سے پہلا قدم یہی اٹھائے گی تاکہ انسان جو سجود ملائکہ ہے اپنی حقیقی  زندگی کا ذائقہ چکھ لے جس طرح قرآن مجید میں ہے یاایھاالذین امنوا استجیبواللہ وللرسول اذا دعاکم لما یحییکم   اے ایمان والو اللہ ورسول کی آوازپرلبیک کہو جب وہ تمہیں اس امر کی دعوت دیں جس میں تمہاری زندگی ہے شیعوں کے دوسرے پیشوا فرماتے ہیں خداوندعالم آخری زمانے میں ایک شخص کو مبعوث کرے گا کہ کوئی فاسد ومنحرف نہیں رہ جائے گا مگریہ کہ اس کی اصلاح ہوجائے گی حرص وطمع لوگوں کے درمیان سے ختم ہوجائے گا اوربےنیازی پیدا ہوجائے گی ۔

عدالت کا قیام

طول تاریخ بشری میں ظلم وستم کا دورچلاآرہاہے اوربشر اپنے حقوق کو حاصل کرنے میں ہمیشہ محروم رہا ہے اورکبھی بھی بنی آدم کے درمیان عادلانہ تقسیم نہیں ہوئی کچھ لوگ بھوک سے مررہے ہیں اورکچھ لوگ مرغن غذاوں سے اپنے پیٹ بھر رہے ہیں کچھ لوگ بڑے محل اورعمارتوں میں زندگی گزاررہے ہیں اورکچھ لوگ ویرانوں میں زندگیاں گزارنے پر مجبورنظرآتےہیں ظالمین اورمستکبرین نے ضعیف اورناتوان لوگوں کو اپنا غلام بنایا ہوا ہے یعنی ہمیشہ غریبوں اورفقیروں کے حقوق پایمال ہورہے ہیں لذا انسان اپنی خواہشات کو حاصل کرنے کےلیے عدالت کا منتظر ہے

اس انتظار کی انتہا امام مہدی عج کی حکومت ہے کہ جس کا بہت سی روایات میں تذکرہ کیاگیاہے

امام حسین علیہ السلام ارشاد فرماتےہیں کہ میں نے رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فرمایا اگر دنیا کے ختم ہونے میں صرف ایک دن باقی رہ جائے گا تو خداوندمتعال اس دن کو اتنا طولانی کرے گا یہاں تک کہ میری عترت سے قیام کرے گا اورزمین کو عدل سے پرکردے گا

زمین کا زندہ ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عدالت مہدوی اسی عدالت ہوگی جو پورے عالم کو گھیر لے گی اورتمام لوگ امام کی عدالت سے بہرہ مند ہوں گے

حکومت مہدوی کے پروگرام

مذکورہ بالااہداف تک پہنچنے کے لیے لازم ہے کہ حکومت کے پروگراموں کی جانچ پڑتا کی جائے تاکہ وہ لوگ جو امام کا انتظار کررہے ہیں اس سے آشنا ہوجائیں اور معاشرہ کو ایسے راستےکے لیے آمادہ کریں

ثقافتی پروگرام :

(۱)کتاب وسنت کا زندہ کرنا

قرآن غریب اورتنھا رہ گیا ہے اورہم اپنی زندگی میں قرآن کو بھول چکے ہیں لذا حجت خدا کے زمانے میں قرآن ہماری زندگی کے تمام پہلووں میں داخل ہوگا اورسنت جو قول اورفعل معصومین ہیں ان پر عمل ہوگا

حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ جب امام مہدی عج ظہورکریں گے اس وقت نفسانی خواہشات حکومت کررہی ہوں گے حضرت ہدایت اور کامیابی کی راہ پر گامزن کریں گے وہ زمانہ جب انسان اپنی رائے کو قرآن پر مقدم کرتا ہوگا (امام )افکار کو قرآن کی طرف متوجہ کرے گا اور(قرآن کو )معاشرہ پر حاکم قراردے گا

نیز فرمایا :گویا کہ میں اپنے شیعوں کو دیکھ رہا ہوں کہ مسجد کوفہ میں خیمہ لگائے ہوئےہیں اورقرآن کو جس طرح نازل ہوا ہے تعلیم دے رہے ہیں

معرفت اوراخلاق میں وسعت

قرآن کریم اور اہل بیت کی تعلیمات نے بشر کے اخلاقی اور معنوی ترقی پر بہت زوردیا ہے کیونکہ انسان کے بلند وعالی مقصد تک پہنچنے کا ذریعہ اچھااورنیک اخلاق ہے لیکن ہم قرآن اوراہل بیت علیھم السلام سے دورہونے کی وجہ سے اس مہم ہدف سے ہٹ چکے ہیں جس کی وجہ سے معاشرتی زندگی ویران ہوچکی ہے

امام باقر علیہ السلام فرماتےہیں کہ اذاقام قائمنا وضع یدہ علی رؤوس العباد فجمع بہ عقولھم واکمل بہ اخلاقھم

جب ہمارے قائم قیام کریں گے اپنا ہاتھ ان کے سروں پر رکھیں گے اور ان کے عقول کو جمع کردیں گے اوران کے اخلاق کو کمال تک پہنچا دیں گے

اس کنایہ آمیز تعبیر سے استفادہ ہوتا ہے کہ امام زمان عج کی حکومت میں عقل اور اخلاق کمال تک پہنچے گے یہ وہی وعدہ ہے جو حضرت مہدی عج کی حکومت میں پورا ہوگا جسے کسی حکومت نے انسانیت کو ایسا تحفہ پیش نہیں کیا ۔

علم اورحکمت میں ترقی

امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتےہیں  علم ودانش کے ۲۷ حروف ہیں اوراب تک جو کچھ انبیاء نے پیش کیا ہے وہ دو حرف ہیں اورجب ہمارے قائم قیام کریں گے تو باقی ۲۵حروف کو بھی ظاہرکردیں گے

پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتےہیں کہ

خداوندعالم کے ذریعے دنیا کو روشنائی سے پرکردے گا اورپورا عالم علم اوردانائی سے بہرہ مند ہوگا

امام باقر علیہ السلام ارشادفرماتے ہیں کہ امام مہدی عج کی حکومت تمہیں حکمت اوردانائی عطاکی جائے گی حتی کہ گھرمیں عورت کتاب وسنت کے مطابق فیصلہ کرے گی

بدعتوں کا خاتمہ

بدعت سنت کے مقابلے میں دین میں نئی چیز کا داخل کرنا ہے امام علیہ السلام ارشادفرماتےہیں کہ

بدعت گزاروہ ہے جو حکم خدا اورکتاب خدا اورپیغمبر کی مخالفت کرے اور اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق عمل کرے

بدعت ایک ایسا کام ہے جو سنت اورخدااورپیغمبر کی شیوہ کو ختم کرتاہے

امام علی علیہ السلام ارشادفرماتےہیں کہ ماھدم الدین مثل البدع

کوئی چیز بھی بدعت کی طرح دین کو ویران اوربرباد نہیں کرتی

اس لیے پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم  ارشاد فرماتے ہیں کہ جب بھی بدعت دین میں ظاہر ہو عالم دین پر واجب ہے کہ اپنے علم کو ظاہر کرے اورجو ایسا نہیں کرے گا اس پر خدا کی لعنت ہو

اس لے عالم اس انتظار میں ہے کہ صاحب مکتب تشریف لائے تاکہ اس کی حکومت کے سایہ میں سنتیں زندہ ہوں اوربدعتیں ختم ہوں اس لے امام زمانہ عج تشریف لائیں گے تو بدعتوں کی جڑیں اکھاڑدیں گے

اقتصادی پروگرام

طبعی منابع سے استفادہ

امام زمانہ عج کے دورمیں رحمت الہی آسمان سے برسے گی اوریہ چیز باعث بنے گی کہ زمین کے خزانے زمین سے باہر آئیں گے کوہ وصحرا سرسبز ہوجائیں گے

امام علی علیہ السلام ارشادفرماتےہیں کہ

۔۔۔۔۔جب ہمارے قائم قیام کریں گولوقد قام قائمنا لانزلت السماء القطرھا ولاخرجت الارض نباتھا ے آسمان سے بارش نازل ہوگی اورزمین نباتات اگے گی امام مہدی عج کی حکومت کے دوران زمین اپنے تمام امکان امام کے اختیار میں دے گی

مال ودولت کی عادلانہ تقسیم

اقتصاد کی کمزوری کا مہمترین عامل یہ ہے کہ خاص گروہ ذ خیرہ کرلے اوران کو ذاتی منافع کے لیے استعمال کرے امام مہدی ان سے مقابلہ کریں گے اورعدالت علوی کو سب کے سامنے برپا کریں گے

امام محمد باقر علیہ السلام ارشادفرماتےہیں کہ

اذاقام قائم اھل البیت قسم بالسویہ وعدل فی الرعیۃ ۔۔۔۔۔۔جب خاندان پیغمبر میں سے قائم قیام کریں گے تو اموال کو مساوی تقسیم کریں گے اورمخلوق کے درمیان عدالت سے پیش آئیں گے

پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشادفرماتے ہیں کہ میں آپ کو مہدی کی بشارت دیتا ہوں جو میری امت میں سے قیام کرے گا اور اموال کی صحیح تقسیم کرے گا

غربت کا خاتمہ

پیغمبرا کرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت مہدی کے ظہور کے وقت لوگ اپنے واجبات گلیوں میں ڈال دیں گے اوران کا دریافت کرنے والا نہیں ملے گا

امام باقرعلیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگ اپنے واجبات سروں پر اٹھا کر مہدی کی طرف روانہ ہوں گے خداہمارے شیعوں کو اتنا عطا کرے گا کہ وہ بی نیاز ہوجائیں گے

معاشرتی پروگرام

حکومت امام زمانہ عج میں معاشرتی پروگرام قرآنی تعلیمات اور سنت اہل بیت کے مطابق برپا ہوں گے برائیوں سے روکاجائے گا اوربدکاروں کے ساتھ قانونی طورپر نمٹا جائے گا اورمعاشرتی حقوق کی عادلانہ تقسیم ہوگی

نیکی کا حکم اور برائی سے روکنا

امام مہدی عج کی حکومت میں سب سے مہم فریضہ امربالمعروف اورنہی عن المنکر ہوگا یہ وہ واجب ہے کہ جس کی قرآن نے تائید کی ہے

یہ ایسا فریضہ ہوگا جس کی وجہ سے تمام واجبات الہی اداہوتے ہیں اوراس کو ترک کرنے سے تمام برائیاں معاشرہ میں جنم لیتی ہیں  امام باقر علیہ السلام ارشادفرماتےہیں کہ

المھدی واصحابہ ۔۔۔۔۔یامرون بالمعروف وینھون عن المنکر

مہدی ع اور اس کے اصحاب امربالمعروف اورنہی عن المنکر کرنے والے ہیں

ظلم وفساد کا خاتمہ

نہی عن المنکر الہی حکومت کا وہ مہم ترین وظیفہ ہے جو صرف زبان کے ساتھ نہیں بلکہ عمل کے ساتھ بھی ہوتا ہے اوراسی کے ذریعے معاشرہ سے برائیوں کا خاتمہ کیاجاسکتا ہے

دعا ء ندبہ میں ہے کہ این طامس آثار الزیغ والاھواء ، این قاطع حبائل الکذب والافتراء

کہاں ہے وہ جو گمراہی اور ہواوہوس کے آثار کو نابود کرے گا ؟ کہاں ہے وہ جو جھوٹ اورتہمت کی جڑوں کا کاٹے گا

الہی قوانین کا جاری کرنا

معاشرہ میں فساد کرنے والوں کے خلاف حکومت مہدی عج میں مختلف طریقے استعمال کیے جائیں گے مثلا علوم کی تعلیم ،عقاید کی تعلیم عام کریں گے تاکہ مفسد لوگ صراط مستقیم کی طرف آجائیں ان کی تمام تر ضروریات کو پورا کیا جائے گا تاکہ ان کے پاس فساد اورگناہ کا کوئی بہانہ نہ رہ جائے  اگر وہ لوگ ان کاموں کے باوجود بھی دوسروں پر ظلم کریں گے ان پر الہی قوانین جاری کیے جائیں گے امام جواد علیہ السلام پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں :

مہدی عج الہی قوانین کو جاری کریں گے

امام مہدی عج کی حکومت کی خصوصیات

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امام زمانہ عج کی حکومت عالمی حکومت ہوگی کیونکہ وہ تمام بشریت کی آرزو ہے جو بھی اچھائیاں اس کی حکومت میں ہوں گی تمام عالم کے لیے ہوں گی اوریہ ایسی حقیقت ہے کہ جس کی طرف روایات میں اشارہ کیا گیا ہے

بہت سی روایات جن کا خلاصہ یہ ہے کہ مہدی عج زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح پر کردیں گے جس طرح وہ ظلم وستم سے بھر چکی ہوگی

اوراس دنیا سے مراد تمام عالم کائنات ہے

پیغمبر اکرم ص ارشاد فرماتے ہیں کہ مہدی عج زمین کو میرے دشمنوں سے پاک کردیں گے اوروہ مشرق سے مغرب تک زمین کے حاکم ہوں گے

امام باقرعلیہ السلام  ارشاد فرماتےہیں کہ قائم ہمارے خاندان سے ہے اور وہ مشرق سے مغرب تک حاکم ہوگا اورخداوند متعال اس کے ہاتھوں سے اپنے دین کو تمام ادیان پر غلبہ دے گا

امام زمانہ عج کی حکومت کا مرکز کوفہ ہوگا امام صادق علیہ السلام ارشاد فرماتےہیں کہ اس کی حکومت کا مرکز شہرکوفہ ہوگا اور مقام قضاوت مسجد کوفہ ہوگی

حکومت کی مدت

حکومت امام مہدی عج اتنی ہونا چاہیے کہ پورے عالم میں تبدیلی آجائے اوردنیا کے کونے کونے میں عدالت قائم ہوجائے اوریہ صرف چند سالوں میں پورا نہیں ہوتا لیکن ممکن ہے کہ حضرت غیبی مدد اوررہبر الہی ہونے کے ناطے پر اوراچھے اصحاب کی وجہ سے بہت کم مدت میں اپنی ذمہ داری انجام دیں گے بہت زیادہ روایات اس موضوع کی طرف بیان ہوئی ہیں کہ جن میں سے بعض میں حضرت کی حکومت کی مدت پانچ سال ،  سات سال اوربعض دوسری روایات میں ،۸  ، ۹ ،۱۰ سال اورکچھ روایات میں ۴۰ سال بھی بیان ہوئی ہے

البتہ علماء شیعہ نے ۷سال سال کی روایت  لی ہے کیونکہ ان کی تعداد زیادہ ہے

بعض نے کہا ہے کہ امام مہدی عج کی حکومت کی مدت ۷سال ہے لیکن ہرسال ۱۰سال کے برابر ہوگا امام صادق علیہ السلام ارشادفرماتے ہیں کہ

امام مہدی عج ۷ سال حکومت کریں گے لیکن تمہارے ۷۰ سال کے برابر ہے

عالمی حکومت میں امام مہدی عج کا رویہ

جب امام مہدی عج حکومت کی باگ ڈورسنبھالیں گے تو ایک خاص طرزعمل کے ذریعے حکومت کو چلائیں گے معصومین کی روایات میں وارد ہوا ہے کہ

ان کا طرز عمل پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح ہوگا جس طرح پیغمبر اکرم ص نے جہالت کے ساتھ مقابلہ کیا اور اسلام کو فتح اورکامرانی سے ہمکنار کیا امام مہدی عج بھی جہالت سے مقابلہ کریں گے ایسی جہالت جو اس قدیم جہالت سے دردناک ہوگی

امام کے جہاد کا طرزعمل

امام مہدی عج کفروشرک کی بنیادیں ختم کردیں گے اورتمام دنیا کو اسلام کی دعوت دیں گے روایات میں وارد ہوا ہے کہ حضرت مہدی عج تورات اورانجیل واقعی کو غارانطاکیہ سےبارہ نکالیں گے اور ان کے وسیلہ سے یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ مناظرہ کریں گے ان میں سے بہت سےمسلمان ہوجائیں گے اورانبیاءکی نشانیاں جیسے حضرت موسی  علیہ السلام کا عصا ، حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی اورپیغمبر کی زرہ اورتلوار کو ساتھ لائیں گے اورجو لوگ اس کے باوجود اسلام قبول نہیں کریں گے اوراسلام کی مخالفت کریں گے تو ان کے ساتھ جہاد کریں گے

امام مہدی عج کی قضاوت کا طرزعمل

امام مہدی عج اپنے جد امجد حضرت علی علیہ السلام کی سیرت پر عمل کریں گے اور حق کو اس کے مالک  کے پاس لوٹا کررہیں گے اور روایات میں وارد ہوا ہے کہ قضاوت میں حضرت سلیمان اورحضرت داود علیھما السلام کے طرز پر عمل کریں گے امام صادق علیہ السلام ارشاد فرماتےہیں کہ جب قائم آل محمد قیام کریں گے حضرت داود اور حضرت سلیمان کے رویہ پر عمل کریں گے

امام مہدی عج کا ذاتی رویہ

امام زمانہ عج کی نظر میں حکومت ایک وسیلہ ہوگی لوگوں کی خدمت کرنے کا اور ان کوکمال تک پہنچانے کا اورجب بھی امام برحق کرسی عدالت پر بیٹھتے ہیں تو باوجود اس کے کہ تمام اموال وخزانے ان کے پاس ہوتےہیں لیکن پھر بھی کم پر اکتفاء کرتےہیں

امام علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں

امام مہدی اگرچہ اسلامی معاشرہ کے حاکم ورہبر ہوں گے لیکن رعیت کی طرح سفرکریں گے اور ان کی طرح لباس پہنیں گے اورا ن کی طرح سواری استعمال کریں گے

امام صادق علیہ السلام ارشادفرماتے ہیں کہ ان قائمنا اذا قام لبس لباس علی وسار بسیرتہ

جب ہمارے قائم قیام کریں گے تولباس علی علیہ السلام کی طرح لباس پہنیں گے اور ان کی سیرت پر چلیں گے

امام مہدی عج کے انصار اوراصحاب کی خصوصیات

زہد اورتقوی

حکومت میں کام کرنے والوں کا متقی اورپرہیزگار ہونا ضروری ہے ورنہ حکومت ظلم وستم کے روبرو ہوجائے گی اورحکومت چلانے والے اگر صالح اورپرہیزگار ہوں تو معاشرہ ترقی کرے گا امام زمانہ عج کے وزیراعظم حضرت عیسی علیہ السلام ہوں گے جن کا شمار اولوالعزم پیغمبروں میں ہوتا ہے حضرت عیسی علیہ السلام فرماتےہیں کہ

بعثت وزیرا ولم ابعث امیرا

میں وزیر مبعوث ہوا ہوں نہ امیر

امام صادق علیہ السلام ارشادفرماتےہیں کہ :جب قائم آل محمد قیام کریں گے تو ۲۷ افراد بشت کعبہ سے ظاہرہوں گے اوران میں ۲۵ افرادحضرت موسی علیہ السلام کی قوم میں سےہوں گے

پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ

اولئک ھم خیرالبریہ وہ میری امت کے بہترین افراد میں سے ہوں گے

امام علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ

فبابی وامی من عدۃ قلیلۃ اسمائھم فی الارض مجھولۃ

میرے ماں باپ قربان ہوں اس چھوٹے سے گروہ پر جن کو زمین میں کوئی نہیں جانتا

جو لوگ امام کے خاص وزراء اور کمانڈر ہوں گے وہ بہت ہی متقی اورپرہیزگار ہوں گے

امام صادق علیہ السلام امام زمانہ عج کے اصحاب کے بارے میں فرماتےہیں کہ :

وہ لوگ شب زندہ دار انسان ہیں جو راتوں کو قیام کی حالت میں عبادت کرتےہیں پاکیزہ ،نفیس اوردن کے دلاور شیر ہیں اورخوف الہی سےایک خاص کیفیت پیدا کرچکے ہیں خداوندمتعال ان کے ذریعے امام برحق کی مدد کریں گے ان کے دل محکم اور مضبوط ہوں گے ان میں سے ہرایک چالیس آدمی کی قوت کا مالک ہوگا اورکافر اورمنافق کے علاوہ کسی کو قتل نہیں کریں گے

اطاعت امام

امام باقر علیہ السلام فرماتےہیں ظہورسے دوراتیں پہلے آپ کا نزدیک ترین خادم حضرت کے دیدار کو جائے گا اورآپ سے پوچھے گاکہ آپ یہاں کتنے لوگ ہیں ؟کہیں گے چالیس آدمی تو وہ کہے گا تمہار کیاحال ہوگا جب تم اپنے پیشوا کو دیکھوگے جواب دیں گے اگر وہ پہاڑوں پر زندگی کریں تو ہم ان کے ساتھ ہوں گے اوراسی طرح زندگی گزاریں گے

امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتےہیں کہ

حضرت کے انصار اپنے ہاتھوں کو حضرت امام کی سواری کی زین میں ڈال کو برکت کےلیے کھینچیں گے اورحضرت کے حلقہ بگوش ہوں گے اوراپنے جسم وجان کو ان کی سپر بنالیں گے اورآپ جو ان سے چاہیں گے وہ کریں گے

رسول خداصل اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتےہیں خداوندجل جلالہ حضرت مہدی کے لیے گوشہ وکنار سے اہل بدر کی تعداد میں لوگوں کو ان کے اردگرد جمع کردے گا اور وہ لوگ حضرت کی فرمانبرداری کرنے میں حد سے زیادہ کوشاں ہوں گے

امام صادق علیہ السلام ارشاد فرماتےہیں کہ حضرت مہدی رکن ومقام کے درمیان کھڑے ہوں گے اور فریاد کریں گے اے میرے مخصوص اصحاب اور چنے ہوئے اے وہ جن کو میرے ظہور سے پہلے خدا نے ذخیرہ کیاہوا ہے شوق ورغبت کے ساتھ میرے پاس آو

امام کا آواز دینا ہی ہوگا کہ یہ آواز شرق وغرب میں پہنچے گی درحالانکہ بعض ان میں سے محراب عبادت میں ہوں گے اور بعض بستر پر آرام کررہے ہوں ،امام کی آواز سنتے ہی آنکھ جھپکنے میں پہنچ جائیں گے

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتےہیں کہ گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ حضرت قائم اوران کے ناصر ومددگار نجف میں مستقر ہیں اور اسی طرح ثابت قدم کہ گویا پرندہ ان کے سرپر سایہ افگن ہے

طاقتوراورجوان

حضرت امیرالمومنین علیہ السلام ارشاد فرماتےہیں کہ حضرت مہدی کے ناصر سارے کے سارےجوان ہیں اوران میں سے کوئی ضعیف اورسن رسیدہ نہیں ہے جز بہت کم افراد کے جو آنکھوں میں سرمہ یا غذا میں نمک کے مانند ہیں

امام جعفر صادق علیہ السلام ارشادفرماتے ہیں کہ کوئی طاقت مہدی موعود اور ان کے ناصروں کو قدرت کے برابر نہیں ہوگی اورہرایک آدمی کی قوت چالیس مردکے برابر ہوگی اور ان کے پاس لوہے سے زیادہ ہموار دل ہے اورجب پہاڑوں سے گذریں گے تو چٹان لرز اٹھیں اورخداوندمتعال کی رضا اورخوشنودی  کے حصول تک وہ تلوارچلاتے رہیں گے

امام باقر علیہ السلام ارشاد فرماتےہیں کہ جب ہمارے مہدی تشریف لائیں گے توہرشیعہ کی  جرات اور شجاعت  ،شیرسے زیادہ ہوگی ۔۔اورہمارے دشمنوں کو پاووں میں روندیں گے اورہاتھ کھینچیں گے

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتےہیں کہ ہمارا حکم (حضرت مہدی عج کی حکومت )آتے ہی خداوندعالم ہمارے شیعوں کے دلوں سے خوف مٹا دے گا اور ان کے دشمنوں کے دلوں میں ڈال دے گا اس وقت ہمارا ہرشیعہ شیر کی طرح دلیر ہوگا ۔۔۔

اسی طرح فرماتےہیں کہ امام مہدی عج کے چاہنے والے وہ لوگ ہیں جن کے دل فولاد کے مانند مضبوط ہیں اور کبھی ان دلوں پر ذات الہی کی راہ میں شک وشبہ نہیں آئے گا وہ لوگ پتھر سے زیادہ سخت اورمحکم ہیں اگرانہیں حکم دیا جائے کہ پہاڑوں کو ان کی جگہ سے ہٹادیں تو بااسانی اورتیزی سے ایساکردیں گے اسی طرح شہروں کی تباہی کا حکم دیاجائے گا تو فوارا  ویران کردیں گے ان کے عمل میں اتنی پختگی ہوگی جیسے عقاب گھوڑوں پر سوار ہو

پسندیدہ سپاہی

امام باقر علیہ السلام ارشاد فرماتےہیں کہ حضرت مہدی کے ناصروں کو دیکھ رہا ہوں کہ  پوری کائنات کو احاطہ کیے ہوئےہیں اوردنیا کی کوئی چیز نہیں ہے جو ان کی مطیع اورفرمانبردار نہ ہو زمین کے درندے اورشکاری پرندے بھی ان کی خوشنودی کے خواہاں ہوں گے وہ لوگ اتنی محبوبیت رکھتےہوں گے کہ ایک زمین دوسری زمین پر فخرومباحات کرے گی اور وہ زمین کہےگی کہ آج حضرت مہدی عج کے چاہنے والے نے مجھ پر قدم رکھا ہے

شہادت کے مشتاق

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتےہیں کہ حضرت مہدی کی خصوصیات میں سےایک یہ ہے کہ وہ لوگ خدا کا خوف اور شہادت کی تمنا رکھتے ہوں گے اورا ن کی خواہش یہ ہے کہ راہ خدا میں قتل ہوجائیں اور ان کا نعرہ حسین کے کون کابدلہ لینا ہے جب وہ چلیں گے تو ایک ماہ کے فاصلے سے دشمنوں کے دلوں میں خوف بیٹھ جائے گا ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ امام مہدی عج کے ساتھی میدان جنگ میں آنحضرت کے اطراف میں چکر لگارہے ہوں گے اور اپنی جان سے ان کی حفاظت کریں گے

نیز فرمایا :وہ آرزو کریں گے کہ راہ خدا میں شہادت پر فائز ہوں

صابر اوربردبار

امام علی علیہ السلام ارشاد فرماتےہیں کہ وہ ایسا گروہ ہے جو صبروبردباری کی خاطر خداوندعالم پر احسان نہیں سمجھتے  وہ جان کا نذرانہ دے کر بھی اپنے آپ پر فخر نہیں کریں گے

+ نوشته شده توسط khial hussain در Sun 25 Sep 2011 و ساعت 8:35 PM |
 

حضرت امام زمان پر ایمان فکر وامید کے نمو ورشد کا باعث ہے امام زمان کی غیبت کا عقیدہ اور یہ احتمال کہ و ہ کسی وقت بھی تشریف لاسکتے ہیں پاک دل اور شائستہ افراد پر گہرے اثرات رکھتاہے یہ لوگ اپنے کو آمادہ کرتے ہیں اور ظلم وجور سے کنارہ کشی کرتے ہیں عدل وانصاف اور برابری وبرادری کے خوگر بنتے ہیں تاکہ امام کی نصرت اور ان کی خدمت میں شرفیابی کی توفیق حاصل کرسکیں اور امام زمان کے دیدار اور زیارت سے محروم نہ رہ سکیں اور امام سے دوری اور ناخوشنودی کی آگ میں نہ جلیں،امام پر ایمان ہو کہ انہوں نے کسی فاسد حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے اور کسی بھی ستم پیشہ کو قبول نہیں کیا ہے ان کے پیروکاروں میں یہ جذبہ پیدا کرتاہے کہ کہ وہ ظالم وسرکش کی مقابلہ میں قیام کریں ،اس کی حاکمیت کو تسلیم نہ کریں ۔
 

متن:

 

غیبت کے زمانہ میں مومنین کا کردار

حضرت امام زمان پر ایمان فکر وامید کے نمو ورشد کا باعث ہے امام زمان کی غیبت کا عقیدہ اور یہ احتمال کہ و ہ کسی وقت بھی تشریف لاسکتے ہیں پاک دل اور شائستہ افراد پر گہرے اثرات رکھتاہے یہ لوگ اپنے کو آمادہ کرتے ہیں اور ظلم وجور سے کنارہ کشی کرتے ہیں عدل وانصاف اور برابری وبرادری کے خوگر بنتے ہیں تاکہ امام کی نصرت اور ان کی خدمت میں شرفیابی کی توفیق حاصل کرسکیں اور امام زمان کے دیدار اور زیارت سے محروم نہ رہ سکیں اور امام سے دوری اور ناخوشنودی کی آگ میں نہ جلیں،امام پر ایمان ہو کہ انہوں نے کسی فاسد حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے اور کسی بھی ستم پیشہ کو قبول نہیں کیا ہے ان کے پیروکاروں میں یہ جذبہ پیدا کرتاہے کہ کہ وہ ظالم وسرکش کی مقابلہ میں قیام کریں ،اس کی حاکمیت کو تسلیم نہ کریں ۔
حضرت کے ظہور کا عقیدہ اس بات کا سبب نہ ہو کہ لوگ باتوں کو آئندہ پرٹال دیں اور خود کنارہ کشی اختیار کرکے گوشہ نشین ہوجائیں اور امور کی اجام دہی میں ٹال مٹول کریں ،کفار واشرار کے تسلط کو قبول کرلیں ،علمی، صنعتی ترقیوں میں کوتاہیاں کریں اور معاشرے کی اصلاح کی فکر نہ کریں ۔
یہ نظریہ کہ امام زمان کے ظہور کا عقیدہ سستی وکاہلی لاتاہے بالکل بے بنیاد ہے ،مگر ہمارے ائمہ اور ان کے فعال شاگر دامام کے ظہور پر ایمان نہیں رکھتے تھے؟
مگر اسلام کے عظیم المرتبت علماء اس کے معتقد نہیں تھے ؟ لیکن ان لوگوں نے سعی وکوشش میں بھی کوئی کوتاہی نہیں کی اور کلمہ اسلام کی سر بلندی کیلیے کسی بھی طرح کی فدا کاری ،جانثاری سے دریغ نہیں کیا ،اپنی ذمہ داریوں میں ذرا برابر بھی کوتاہی نہیں برتی ،اپنی عظیم ذمہ داریوں کو بحسن وخوبی انجام دیا اور سماج میں اپنا مئوثر کردار یقینی امیدوں کے ساتھ نافذ کیا ۔
صدر اسلام کے مسلمانوں نے پیغمبر اسلامۖ سے سنا تھا کہ اسلام پھیلے گا اور بڑی بڑی فتوحات نصیب ہوں گی لیکن ان یقینی بشارتوں نے مسلمانوں کی قوت عمل کو کم نہیں کیا بلکہ اس میں اور اضافہ کردیا ان لوگوں نے نہایت ثابت قدم اور جواں مردی کے ساتھ اپنے مقاصد حاصل کیے ۔
آج بھی مسلمانوں پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہیں جنہیں استقامت اور ثابت قدمی کے ساتھ انجام دینا ضروری ہے لازم ہے کہ عصری تقاضوں کو پہنچانیں اور فرصت سے حتی الامکان استفادہ کریں۔
ہم حقیقتا میدان عمل میں موجود رہیں ،بری باتوں سے ایک دوسرے کو روکتے رہیں ،اچھائیوں کو پھیلا کر انہیں عملی بنائیں ،دشمن کے نفوذ پر پابندی لگائیں ،دشمنوں کی فکری ،اقتصادی ،سیاسی اور جنگی حملوں سے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کریں ،بہت جلد اور بہترین انداز سے تعمیر کردار کریں۔
تاکہ امام زمان کی نصرت اور زیارت کے لائق بن سکیں اور امام کی عنایتوں کے مستحق بن سکیں اور حضرت کے ظہور پر نور کے لیے زمین ہموار کریں ۔
امام زین العابدین فرماتے ہیں: کہ امام زمان کی غیبت طولانی ہوگی ،وہ لوگ جوان کی غیبت میں کے زامانہ میں ان کی امامت کے معتقد اور ان کے ظہور کے منتظر ہونگے وہ تمام زمانوں کے لوگوں سے بہتر ہیں ،کیونکہ خداوند عالم نے انہیں اس قدر عقل ،فہم اور معرفت عطا کی ہے کہ ان کے نزدیک غیبت کا زمانہ بالکل حضور امام کے زمانے جیسا ہے ،خدا نے ان لوگوں کواس زمانے میں ان مجاھدین کے مانند قرار دیاہے جوجنگ میں رسول خداۖ کے ہمرکاب تھے ،یہ لوگ واقعاً مخلص ہیں اور حقیقی شیعہ ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو پوشیدہ اور علانیہ طورپر لوگوں کو خد ا کی طرف بلاتے ہیں ۔
امام زمان پر پختہ ایمان رکھنا
غیبت امام زمانہ میں ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں ؟جب خدا کی آخری حجت پردہ غیبت میں ہے تو ہمیںکس طرح اس کی طرف سے عائد ہونے والی ذمہ داریوں کو انجام دینا چاہیئے؟
این باب اللہ التی منہ یوتی
کہاں ہے وہ باب اللہ کہ جس سے داخل ہواجاتاہے
حضرت امام زمان ہی وہ امام وقت ہیں ،حجت خدا ہیں ،روح بقائے کائنات ہیں کہ جن کے ذریعہ اللہ تعالی تک پہنچا جاسکتاہے ۔ خدا وند متعال کی بارگاہ میں اپنے اعمال کو قبولیت کی منزل تک پہنچایا جاسکتاہے ۔امام زمانہ کی غیبت نے ان کے چاہنے والوں کو ظاہری رسائی سے ضرور دور کردیا ہے۔ لیکن بے کس ولاچار شیدائی کسی نہ کسی طریقہ یا بہانے سے ان کی یاد کو باقی رکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں تاکہ امام بر حق کا ادنی سا حق ادا ہوجائے جن کے وجود مقدس سے یہ نظام کائنات باقی ہے اور چاروں طرف حیات جہاں میں شادابی پائی جاتی ہے ۔
امام زمان کی بے پناہ عنایتوں ،الطاف اور اکرام کو سامنے دیکھتے ہوئے ، ہم اہل بیت طاہرین کے چاہنے والوں پر اس دور غیبت کبری میں بہت سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
جن کو انجام دیتے رہنا ہمارا فرض بن جاتا ہے جس طرح سابق ائمہ معصومین کی حیات طیبہ میں ان کے صحابیوں نے اپنے زمانے کے امام کا ساتھ دیا وقت پڑا تو دفاع کیا دین پر آنچ آئی تو قربان ہوگئے ، کبھی اپنے بچوں کو نثار کردیا.......وغیرہ۔
تاریخ میں جانباز صحابیوں کی قربانیاں دیکھ کر ، آج کے دور میں بھی شیعوں اور محبوں پر امام عصر کی طرف بہت سی ذمہ داریاں اور فرائض عائد ہوتے ہیں ، انہیں فرائض کو مکیاں المکارم فی فوائد الدعاء للقائم ، (مولف آیة اللہ موسوی اصفہانی ) کی کتاب سے ترجمہ و تلخیص قارئین محترم ، منتظرین امام منتظر کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں ۔
مولف نے اپنی کتاب میں منتظرین کے کل ٨٨ فرائض بیان کئے ہیں۔ اس کتاب کے بارے میں اتنا جان لینا کافی ہے کہ امام عصر نے خواب میں ان عالم بزرگوار کو اس کا یہ نام دینے کا حکم دیا تھا ۔ آیة اللہ موسوی نے آیات کی روشنی میں ان تمام فرائض و ذمہ داریوں کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا اورہمارے بزرگ شیعہ علماء نے آیات اور روایات کی روشنی میںبعض ذمہ داریاں بیان کی ہیں جن میں سے چندذمہ داریاںآپ کی خدمت میں پیش کی جارہی ہیں۔
١۔حضرت کی غیبت میں ، ان کے اخلاق کی پیروی کریں اور ان کے نقش قدم پر چلیںجب کوئی مومن امام کو اپنا نمونہ عمل پاکر، ان کے اخلا ق و کردار پر چلنے کی کوشش کرتا ہے تو یہی وہ حقیقی ماموم ہوتا ہے یعنی وہ امام کی اطاعت کرتا ہے ۔ اس کا یہ عمل کمال ایمان ہے ، تمامیت اتباع امام ہے وہ روز قیامت ان حضرت کے ہمراہ ہوگا جنت میں بھی ان ہی کے ساتھ ہوگا۔
امیر المومنین نے فرمایا:
الا و ان لکل ماموم اماما یقتدی بہ و یستضی ء بنور علمہ۔
یادر ہے ! کہ ہر ماموم کا ایک امام ہوتا ہے کہ جس کی وہ پیروی کرتا ہے اور اس کے نور علم سے فائدہ اٹھاتا ہے (١)
روایت میں ہے کہ :
کبھی خداوند متعال کسی بندہ کو دوست رکھتا ہے لیکن اس کے کردار سے غضبناک ہوتا ہے اور کبھی کسی بندہ سے غضبناک ہوتا ہے لیکن اس کے کردار کو دوست رکھتا ہے ۔
اس شخص کی فضیلت میں جو آپ کی غیبت میں آپ پر ایمان لایا اور آپ کی محبت پر باقی رہا
اس جگہ چند حدیثیں بیان کرتے ہیں
کمال الدین ۔ احمد ب زیاد بن جعفر ھمدانی نے علی بن ابراہیم بن ہاشم سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے بسطام بن مرہ سے انہوں نے عمر و بن ثابت سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: سید العابدین ، علی بن الحسین نے فرمایا:
جو شخص ہمارے قائم کی غیبت میں ہماری محبت پر باقی و ثابت رہا ِ، خدا اس کو بدرواحد کے ہزار شہدوں کے برابر اجر عطا کرے گا۔
کمال الدین ۔ اپنی سند سے امام جعفر بن محمد سے آپ نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے جد علی بن ابی طالب سے ایک طویل حدیث میں جو کہ نبی ۖ کی وصیت سے متعلق ہے ۔ ذکر کیا ہے کہ رسول ۖ نے آپ نے فرمایا:
اے علی ! جان لو کہ ایمان کے لحاظ سے حیرت انگیز ترین انسان اور یقین کے اعتبار سے سب سے عظیم وہ لوگ ہیں جو آخری زمانہ میں ہے کہ حجت کو ان سے پوشیدہ رکھاجائے گا ۔وہ تاریکی سے رونی پر ایمان لائے ہیں۔(2)
کمال الدین ۔ محمد بن الحسن بن احمد بن الولید نے محمد بن الحسن الصفار سے انہوں نے احمد بن ابی عبداللہ البرقی سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے ابن المغیرہ سے انہوں نے مفضل بن صالح سے انہوں نے جابر سے انہوں نے ابو جعفر باقر سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ جس میں ان کے امام ان کی نظرون سے غائب ہوجائیں گے ، خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس زمانہ میں ہمارے امر پر ثابت رہیں گے۔
ان کاادنی ثواب یہ ہے کہ انہیں خداندادے گا ۔ فرمائے گا :میرے بندو! میری کنیز و !تم میرے راز پر ایمان لائے میرے غیب کی تصدیق کی ، میری طرف سے اچھے ثواب کی خوشخبری لو ، اے میرے بندو اور اے میری کنیزو ! میں تسلیم کرتاہوں کہ تمہارا حق ہے ، تم سے درگذر کرتاہوں اور تمہیں بخش دیتا ہوں اور تمہاری وجہ سے میں اپنے بندوں کو بارش سے سیراب کرتاہوں اور ان سے بلاء کو دفع کرتا ہوں، اگر تم نہ ہوتے تو ان پر ضرور اپناعذاب کرتا ۔ جابر کہتے ہیں :
میں نے عرض کی : فرزند رسول کونسی چیز افضل ہے کہ جس پر اس زمانہ میں مومن عمل کرے فرمایا: زبان پر قابورکھنا اور گھر میں رہنا۔
کمال الدین ۔ محمد ب موسی بن المتوکل نے محمد بن یحیی العطار سے انہوں نے احمد بن محمد بن عیسی سے انہوں نے عمر بن عبد العزیز سے انہوں نے ہمارے بہت سے اصحاب سے اور انہوں نے داؤد بن کثیر رقی سے انہوں نے ابو عبداللہ سے خداوند عالم کے اس قول ''الذین یومنون بالغیب'' کے بارے میں روایت کی ہے آپ نے فرمایا:
جو حضرت قائم کے قیام سے پہلے اس بات پر ایمان لایا کہ وہ حق ہیں ۔(یہی غیب پر ایمان ہے)
کمال الدین ۔ علی بن احمد الدقاق نے احمد بن ابی عبداللہ کوفی سے انہوں نے موسی بن عمران نخعی سے انہوں نے اپنے چچا حسین بن یزید سے انہوں نے علی بن ابی حمزہ نے یحیی بن ابی القاسم سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:
میں نے امام صادق سے انہوں نے یحیی بن ابی القاسم سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے امام صادق سے خدا کے اس قول ''الم ذلک الکتاب لا ریب فیہ ھدی للمتقین الذین یومنون بالغیب ''
کے بارے میں دریافت کیا تو فرمایا: متقین سے مراد شیعیان علی ہیں اور اور غیب سے مراد غائب و حاضر کیلئے حضرت حجت ہیں اور یہ خدا کا قول ہے ''و یقولون لولا انزل علیہ آیت من ربہ فقل انما الغیب للہ فانتظر و انی معکم من المنتظرین ''اس حدیث کو المحجة میں اسی اسناد کے ساتھ بس اس فرق کے ساتھ کہ اس میں احمد بن ابی عبداللہ کوفی کی بجائے محمد بن ابی عبداللہ کوفی لکھاہے اور لکھا ہے کہ غیب سے مراد حجت القائم ہیں اور یہی اس کا ثبوت ہے ۔
کمال الدین ۔مظفر علوی نے محمد ن جعفر بن مسعود اور حید بن محمد بن نعیم سمرقندی اور نہوں نے محمد بن عیسی سے انہوں نے یونس بن عبدالرحمن سے انہوں نے علی بن ابی حمزہ سے انہوں نے ابو بصیر سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:
خدا کے اس قول ''یوم یاتی بعض آیات ربک لا ینفع نفسا ایمانھا لم تکن آمنت من قبل اور کسبت فی ایمٰنھا خیرا کے بارے میں جعفر صادق بن محمد نے فرمایا:
یعنی ہم میں قائم المنتظر مراد ہیں ( یعنی جو شخص آپ کے ظہور سے پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا یا اس ایمان سے پہلے اس نے کوئی نیک کام انجام نہیں دیا ہو گا تو اس کا ایمان کوئی فائدہ نہیں پہچا سکے گا) اور فرمایا:
اے ابوبصیر خوش نصیب ہیں ہمارے قائم کے شیعہ جو کہ ان کی غیبت کے زمانہ میں ان کے ظہور کے منتظر ہیں اور ظہور کے زمانہ میں ان کے فرمانبردار ہیں۔
یہی تو اخدا کے اولیاء ہیں کہ جن پر نہ خوف طاری ہوتا ہے اور نہ وہ رنجیدہ ہوتے ہیں،۔
کمال الدین ۔ مظفر بن جعفر بن مظفر علوی سمرقندی نے جعفر بن محمد بن مسعود عیاشی سے انہوں نے جعفر بن احمد سے انہوں نے عمر کی بن بحر نوفلی سے انہوں نے حسن بن علی بن فضال سے انہوں نے مروان بن موسی سے انہوں نے مسلم سے انہوں نے ابو بصیر سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: امام جعفر صادق بن محمد نے فرمایا طوبیٰ ہے اس شخص کیلئے جس نے ہمارے قائم کی غیبت کے زمانہ میں ہمارے امر سے تمسک کیا اور ہدایت کے بعد اس کے دل میں کجی پیدا نہ ہوئی عرض کیا گیا:
میں قربان یہ طوبیٰ کیاہے؟فرمایا:جنت میں ایک درخت ہے جسکی جڑ علی بن ابی طالت کے گھر میں ہے اور ہر مومن کے گھر میں اس کی ایک شاخ ہے اور یہ خدا کا قول ہے : طوبی لھمو حسن مآب ان کیلئے طوبیٰ اور بہترین جائے بازگشت ہے ۔
کتاب المحجة سے ، اس میں یزید بن معاویہ عجلی سے اور انہوں نے امام محمد باقر سے خدا کے کے اس قول ''یا ایھا الذین آمنوا اصبروا و صابروا و رابطوا''کے بارے میں فرمایا: یعنی فرائض کی ادائیگی پر صبر اور اپنے دشمن کے اذیت پر صبر کرو اور امام مہدی منتظر سے رابطہ قائم کرو۔(3)
زمین سے چمٹ جاؤ ، بلاؤں پر صبر کرتے رہو اور اپنی زبان کی خواہشوں سے مغلوب ہو کراپنے ہاتھوں اور تلواروں کو حرکت نہ دو اور جس میں خدا نے تمہارے لئے جلدی نہیں کی ہے اس میں جلدی نہ کرو کیونکہ مین جو شخص خدا اور اس کے رسول ۖ اور ان کے اہل بیت کے حق کو پہنچانتے ہوئے اپنے بستر پر مجائے تو وہ شہید مرتاہے اور اس کا اجر خدا کے ذمہ ہے اور جس نیک عمل کی اس نے نیت کی ہے اس کے ثواب کا مستحق ہے اور اس کی یہ نیت تلوار کھینچنے کے برابر ہے بیشک ہر چیز کی ایک مدت و میعاد ہوتی ہے۔(4)
غیبت الشیخ ۔ فضل بن شاذان نے حسن بن محبوب سے انہوں نے عبداللہ بن سنان سے انہوں نے عبداللہ سے روایت کی ہے کہ آپ فرمایا:رسول ۖ کا ارشاد ہے کہ تمہارے بعد ایک قوم آئے گی کہ جس کے ایک آدمی کا اجر تمہارے پچاس آدمیوں کے اجر کے برابر ہے ۔صحابہ نے عرض کی اے اللہ کے رسول ۖ : ہم بر ، احد اور حنین میں آپ ۖ کے ساتھ تھا اور ہمارے بارے میں قرآن میں آیتین بھی نازل ہوئی ہیں۔ فرمایا: اگر تم اس مصیبت کو اٹھا تے جو وہ اٹھائیں گے تو ان جیسا صبر نہ کر پاتے ۔ خرائج میں بھی ایسی ہی حدیث نقل ہوئی ہے۔
غیبت الشیخ۔فضل بن فضال نے ثعلبہ بن میمون سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:اپنے امام کو پہچانو!جب تم انہیں پہچان گے تو تمہیں اس امر کے تقدم و تاخر سے کوئی تکلیف نہیں ہوگی اور جس نے اپنے امام کو پہچان لیا اور پھر وہ اس امر کو دیکھنے سے پہلے ہی مرگیا اور اس کے بعد حضرت قائم کا خروج ہوا تو اس کا اجر اس شخص کی مانند ہو گا جو کہ حضرت قائم کے ساتھ ان کے خیمہ میں ہوگا۔
غیبت الشیخ ۔ فضل نے ابن فضال سے انہوںنے مثنی الحناط سے انہوں نے عبداللہ بن عجلان سے انہوں نے ابو عبداللہ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: جس نے اس امر کو پہچان لی اور پھر وہ حضرت قائم کے قیام کرنے سے پہلے مرگیا تو اس کا اجر اس شخص کے برابر ہے جس نے آپ کی رکاب میں رہ کر جنگ کی۔
بحار الانوار ۔ میں صدوق کی مجالس سے اپنی سند سے عوف بن مالک سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ایک دن رسول ۖ نے فرمایا: اے کاش میں اپنے بھائیوں سے ملاقات کرلیتا۔
ابوبکر و عمر نے عرض کی : کیا ہم آپ ۖ کے بھائی نہیں ہیں کیا ہم آپ پر ایمان نہیں لائے اور آپ ۖ کے ساتھ ہجرت نہیں کی؟فرمایا تم ایمان بھی لائے ہو اور تم نے ہجرت بھی کی ہے پھر آپ ۖ نے فرمایا:
اے کاش میں اپنے بھائیوں سے ملاقت کر لیتا : پھر وہی جملہ کہا گیا : تو رسول ۖ نے فرمایا: تم میرے صحابی ہو لیکن جو لوگ تمہارے بعد آئیں گے وہ میرے بھائی ہیں وہ مجھ پر ایمان لائیں گے ، مجھ سے محبت کریں گے ، میری تصیدق کریں گے حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہے ، اے کاش میں اپنے بھائیوں سے ملاقات کرلیتا۔
المحاسن ۔(کتاب الصفوة والنور ) میں اپنی سند سے فضیل سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا میں نے ابو جعفر سے سنا کہ فرماتے ہیں : جو شخص مرگیا ور اس کا کوئی امام نہیں تھا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی کوئی عذر نہیں پیش کر سکیں گے جب تک کہ اپنے امام کو نہیں پہچان لیں گے اور جو شخص مرگیا جبکہ وہ اپنے امام کی معرفت رکھتا تھا تو اسے اس امر کا تقدم و تاخر کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا اور جو شخص امامت کی معرفت رکھتے ہوئے مرگیا تو وہ شخص کی مانند ہے جو حضرت قائم کے ساتھ آپ کے خیمہ میں ہو۔
المحاسن ۔ کتاب الصفوة و النور)میں اپنے والد سے انہوں نے علاء بن سیابہ سے روایت کی ہے کہ انہوںکہا: ابو عبداللہ نے فرمایا:
تم میں سے جو شخص ہمارے اور امر پہ مرگیا تو وہ اس شخص کی مانند ہے کہ جس نے حضرت قائم کے رواق ۔ برآمدہ ۔ میں خیمہ لگا یا ہو بلکہ اس شخص کی طرح ہے کہ جس نے آپ کے ہمراہ اپنی تلوار سے جہاد کیا ہو بلکہ اس شخص جیسا ہے کہ جس نے آپ ۖ کے ساتھ شہادت ؛پائی ہو بلکہ اس شخص کے مثل ہے جس نے رسول ۖکے حضور میں شہادت پائی ہو۔
بحار الانوار ۔ تاریخ قم میں اپنی اسناد سے صفوان بن یحیی ابیاّع السابری سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: ایک روز میں ابوالحسن کی خدمت میں حاجر تھا کہ وہاں قم کے باشندوں اور حضرت مہدی کی طرف ان کے میلان کا ذکر چھڑ گیا تو آپنے فرمایا کہ خدا ان پر رحم کرے اور فرمایا:
رضی اللہ عنہم پھر فرمایا: بیشک جنت کے آٹھ دروازے ہیں اور ان میں سے ایک قم والوں کیلئے ہے تمام شہروں میں وہ ہمارے بہترین شیعہ ہیں ، ہمارے ولایت کو خدا نے ان کی طنیت میں خمیر کردیا ہے۔
الکافی ۔ اپنی سند سے ابو الجارود سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا۔ میں نے ابو جعفر کی خدمت میں عرض کی فرزند رسول ۖ !
کیا آپ جانتے ہیں کہ مجھے آپ سے کتنی محبت ہے ؟اور میری آپ ہی پر اکتفاء ہے اورآپ سے مودت و عقیدت ہے ؟ راوی کہتا ہے کہ آپ فرمایا :
ہاں ۔ راوی کہتا ہے ۔ میں نے کہا: میں آپ سے ایک مسئلہ دریافت کرنا چاہتا ہوں جواب مرحمت فرمائیں، مجھے کم دکھائی دیتا ہے ، سست رفتار ہوں اور ہر وقت آپ کی زیارت نہیں کرسکتاہوں۔ فرمایا تمہاری کیا حاجت ہے ؟
میں نے عرض کی مجھے اپنے اس دین سے آگاہ کیجئے جس سے خدا نے آپ کو اور آپ کے اہل بیت کو نوازا ہے تا کہ اس کے ذریعہ میں بھی خدا سے قریب ہوجاؤں ، فرمایا: اگر چہ تم نے بات چھوٹی کہی ہے اور سوال بڑا کیا ہے پھر بھی خدا کی قسم میں تمہیں اپنا اور آباء کے اس دین سے ضرور آگاہ کروں گا کہ جس سے خدا نے انہیں نوازا ہے ، وہ ہے ، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہنا اور اس چیز کا اقرار کرناجو رسول لائے ہیں اور ہمارے ولی کی ولایت کو تسلیم کرنا اور ہمارے دشمن سے بیزار رہنا اور ہمارے امر کو تسلیم کرنا ، ہمارے قائم کاانتظار اور کوشش و پاکدامنی سے کام لینا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم اپنے امام زمانہ کو مانتے ہیں، ان کی امامت پر عقیدہ رکھتے ہیں لیکن کبھی کبھی ہم اپنے برے اخلاق اور خراب کردار کی وجہ سے دشمن کو طعنہ اور عیب جوئی کا موقعہ دے دیتے ہیں ، جس کی بناپر امام وقت نشانہ بن جاتے ہیں، یہی سبب ہے کہ
امام صادق نے فرمایا۔
کونوا لنا زینا و لاتکونواعلینا شینا۔
تم لوگ ہمارے لئے باعث زینت بنونہ کو باعث ذلت ۔(5)
امام جعفر صادق فرماتے ہیں:
زبان کو استعمال کئے بغیر ، لوگوں کو مذہب کی طرف دعوت دو ۔یعنی اپنے اچھے کردار کے ذریعہ سے ۔
امام صادق فرماتے ہیں:
ہم کسی کو مومن میںشمار نہیں کرتے جب تک وہ ہمارے تمام امور کی پیروی نہیں کرتا ۔
ہم اس دنیا میں دیکھتے ہیں کہ کافر کو ہر نعمتوں کی فراوانی ( نعمتوں کی آسائش ) ہے وہ دولت ریاست عزت ظاہری و غیرہ میں پوری طرح سے ڈوبا ہوا ہے ور اس کے بر عکس ہمارے یعنی مومنین کے حالات بالکل خراب ہیں ، ان باتوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد ہمیں گمراہ نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ جن نعمتوں کا اللہ نے مومنین کو دینے کا وعدہ کیا ہے وہ ان سب سے کئی گناہ زیادہ اور بہتر ہے۔
جیسا کہ آیہ قرآنی نے اس طرف اشارہ کیا ہے۔
لا یغرنک تقلب الذین کفروا فی البلاد۔متاع قلیل ثم ماوھم جھنم و بئس المھاد ۔ لکن الذین اتقوا ربھم لھم جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا نزلا من عنداللہ و ما عندہ اللہ خیر للابرار۔(6)
خبردار تمہیں کفار کا شہر شہر چکر لگانا دھو کہ میں نہ ڈال دے ۔
یہ حقیر سرمایہ اور سامان تعیش ہے اس کے بعد جہنم ہے اور وہ بدترین منزل ہے ،لیکن جن لوگوں نے تقوی الہی اختیار کیا ان کے لئے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ۔ خدا کی طرف سے یہ
سامان ضیافت ہے اور جو کچھ اس کے پاس ہے سب نیک افراد کے لئے خیری ہے ۔
امام کا مقصد دین خدا کی ترویج اور تمام مخلوقات کا اپنے پروردگار کی اطاعت کرنا ۔پس جب مومن اطاعت خدا کی کوشش کرتا ہے اور گناہ سے دوری اختیار کرتا ہے تو کیا اس نے امام کے مقصد میں مدد کی ؟
جب مومن اطاعت سے قربت اور معصیت سے دور رہنے کی کوشش کرتا ہے تو لوگ اس مومن کی پروی کرنے کے لئے راغب و متوجہ ہوتے ہیں اور اس کا کردار امام کی حقانیت کو ثابت کرتا ہے کیونکہ اس کا یہ اچھا اخلاق اس بات کی دلیل ہے کہ امام نے ان باتوں کو بتایا ہے ۔
اس طریقہ سے اس نے امام وقت کی مدد ہے اور دشمنوں سے جنگ کی ہے ۔ امام کی اطاعت و پیروی ، گناہوں سے دوری سبب ہیں امام سے جنگ میں نزدیک ہونے کا ۔ اور کردارمیں امام کی مخالفت کرنے سے مومن امام کی قربت سے دور ہوجاتا ہے جیسے امام صادق ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے والدنے فرمایا:
میرے بیٹے بیشک اگر تم میرے کردا کے خلاف کام انجام دوگے توکل روز قیامت میرے گھر( میری منزل)کے پاس نہیں ہوگے ( یعنی میرے ساتھ نہیں ہوگے۔)(7)
٢۔ امام زمانہ کو یاد کرنا
قرآن کریم کی آیات اور ائمہ معصومین کی روایتوں سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ امام ہم پر ناظر و شاہد ہیں اور ہمارے تمام حالات ، حرکات اور سکنات کی اطلاع رکھتے ہیں ، اگر ہمیں اس بات کا احساس ہوجائے تو ہم ہر حال میں ہر جگہ ہر موقع پر یہی تصور کریں گے کہ امام ہمارے سامنے ہیں، ہمیں دیکھ رہے ہیں ، پس یہ خیال آتے ہی ہم ان تمام آداب و کردار کی رعایت اور وظائف کی بجا آوری کریں گے جن کی امام سے نسبت ہے ۔
مثال : ایک نابینا شخص کا بادشاہ سے ملاقات کرنا اور اس کے سامنے تمام آداب کا انجام دینا برابر نہیں ہے اس بینا شخص کے جو بادشاہ سے ملاقات اسے سامنے دیکھ کر کرتا ہے اور ان تمام آداب کو اسی طرح انجام دیتا ہے جیسا اس کا انجام دینے کا حق ہے ۔ اسی طرح جب کوئی مومن امام زمانہ کو اپنی ایمانی آنکھوں سے دیکھتا ہے تو وہ انہیں آداب و کردار کو انجام دیگا جو امام پسند کرتے ہیں۔
جیسا کہ علی اپنے ایک خطبہ میں فرماتے ہیں:
اے اللہ لازم ہے کہ تیری زمین تیری حجت سے خالی نہ رہے جولوگوں کو تیرے دین کی طرف ہدایت کرے اور تیرے دین کی تعلیم دے تا کہ تیری حجت باطل نہ ہواور تیرے اولیاء کی اتباع کرنے والے گمراہ نہ ہوں بعد اس کے کہ انہیں ہدایت مل چکی ہو۔
چاہے یہ حجت ظاہر ہو جس کی اطاعت نہ کی جارہی ہو یا پوشیہ ہو اور دشمن اس کی تاک میں ہو کہ خود لوگوں کی نظرون سے پوشیدہ ہوجبکہ لوگ ہدایت یافتہ ہوں اور اس کا علم اور احکام مومنین کے دلوں میں ثابت ہوں جب پر وہ عمل کریں۔(8)
پس مجھے یقین رکھنا چاہیئے کہ میں اپنے امام عصر کی نظروں سے دور نہیں ہوں ، وہ میری جگہ اور میرے حال سے آگاہ اور واقف ہیں، اگرمیں ان لوگوں میں سے بن جاؤں جو امام کی نسبت ان کے آداب و اخلاق کی رعایت کرتے ہیں تو میں ان کی (امام کی ) عنایت و محبت کو اپنی طرف کھینچ سکتا ہوں ۔
اور اگر میں اہل غفلت اور ان کی باتوں سے دوری اختیار کروں تو خداوند کریم آواز دے گا:
و من اعرض عن ذکری فان لہ معیشة ضنکا و نحشرہ یوم القیمة اعمی۔ قال رب لم حشرتنی اعمی و قد کنت بصیرا ۔ قال کذلک اتتک ایتنا فنسیتھا کذلک الیوم تنسی۔
اور جو میرے ذکر سے اعراض کرے گا اس کے لئے زندگی تنگ بھی ہی اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا بھی محشور کریں گے ۔وہ کہے گا کہ پروردگار یہ تونے مجھے اندھ اکیوں محشور کیاہے جب کہ میں دار دنیا میں صاحب بصیرت تھا ارشاد ہوگا کہاسی طرح ہماری آیتیں تیرے پاس آئی تھیں اور تونے انہیں بھلا دیا تو آج تو بھی نظر انداز کردیاجائے گا۔
( 9)اور یہی نہیں بلکہ:
قیامت کے دن لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ بلا یا جائے گا۔(10)
آخرت کی بربادی سے بچنے کے لئے اور اپنے امام وقت کی عنایت و توجہ کو اپنی طرف مبذول کرانے کے لئے ، امام کو خدا کی بارگاہ میں وسیلہ اور شفی قرار دیں ،انہیں ہر امور میں ( ہر کام میں )پناہگاہ قرار دیں ، جب مشکلات و سختی آئے تو امام کی بارگاہ سے لولگا ئیں۔
٣۔ امام زمانہ کی بارگاہ میں خدمت کے سلسلے میں کوشش کرنا
ہمیں اپنی زندگی میں جتنا ممکن ہوسکے ، امام زمانہ کی بارگاہ میں خدمت کرنے کی کوشش کرنا چاہیئے اس لئے کہ یہ زندگی انہیں حضرت کے با برکت وجود سے باقی ہے ۔ تمام فرشتے ان کی خدمت کرتے ہیں ، ان کے حکم کے مطابق امور جہان کو انجام دیتے ہیں، فرشتے امام کی اجازت کے بغیر بیٹھ بھی نہیں سکتے۔ اس لئے امام صادق اپنی زندگی میں آخری امام کی خدمت کرنے کے سلسلے میں ارشاد
فرماتے ہیں:!
لو ادرکتہ لخدمتہ ایام حیاتی (1١)
اگر میں ان کے دور (امام زمانہ ) کو پالینا تو اپنی ساری زندگی ان کی خدمت و نوکری میں صرف کردیتا ۔
اس روایت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ امام قائم کی خدمت کا اہتمام کرنا سب سے بڑی و بزرگترین اطاعت ہے اور تقریب الہی کا بہترین وسیلہ ہے ۔
امام زمانہ کی خدمت کی افضل ترین عبادت اور بہترین اطاعت کی وجہ یہ ہے کہ:
١۔امام کی ولایت:
ولایت مطلقہ ہے اور خدا و رسول کی طرف سے حضرت کی جانشینی۔
٢۔ امام کا حق پدری:
امام رضا ارشاد فرماتے ہیں:الامام الایس الرفیق والوالد الشفیق ۔(1٢)
امام ایک مہربان دوست اور شفیق والدہیں۔
رسول اکرم ۖ :
انا و علی ابواھذہ الامة۔
میں اور علی اس امت کے باپ ہیں۔
اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ان کا حق ہمارے ظاہری والد سے کئی گناہ زیادہ ہے ۔ امام ہمارے روحانی والد ہیں، ہماری نگہداشت کرتے ہیں۔
حق ، ایمان و اسلام :
جو شخص مسلمان و مومن ہوتا ہے ، ان کی خدمت کرنے کا ثواب ، آخرت میں ایک خدمتگذار کو پانے کا ہے ۔
رسول نے فرمایا:
جو مسلم کسی مسلمان قوم کی خدمت کرتا ہے تو خداوند متعال اسے جنت میں خدمت کرنے والوں کے برابر اتنے ہی خادم عطا کرے گا ۔
امام عصر کی خدمت کرنے کا طریقہ
١۔ان کاموں بجالانا جس کا امام نے حکم دیاہے ۔
٢۔وہ کام جس سے ان حضرت ۖ کی عزت و توقیر میں اضافہ ہو۔
٣۔حضرت کی بارگاہ میں احسان کرنا۔
٤۔آنحضرت کی نصرت و مدد کے ذریعہ۔
٢۔آنحضرت کی یاد تذکرہ کے لئے مجلسوں ،محفلوں کا بر پاکرنا منعقد کرنا۔
٣۔ امام زمانہ کے متعلق کتابوں کی تصنیف کرنا، تالیف کرنا۔
٤۔ ان حضرت پردرود و سلام بھیجنا۔
٥۔ امام زمانہ کے دوستوں ، چاہنے والوں اور شیعوں پر بہ قصد خدمت امام ، احسان کرنا۔
روایات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ امام کے دوستوں اور شیعوں پر احسان کرنامساوی ہے (برابری ہے )امام زمانہ پر احسان کرنے کے۔
٦۔ ان حضرت کے دوستوں اور شیعوں سے نیک برتاؤ کرنا وابستگی رکھنا برابر و مساوی امام کے ساتھ نیک برتاؤ کرنے کے اور انہیں ہلکا یاذلیل سمجھنا بھی برابر ومساوی ہے امام کو ہلکا سمجھنے کے امام موسی کاظم سے روایت ہے۔
منلم یقدر ان یزورنا فلیزر صالحی موالینا یکتب لہ ثواب زیارتنا ،ومن لم یقدر علی صلتنا فلیصل صالحی موالینا یکب لہ ثواب صلتنا۔( کامل الزیارات باب ١٠٥)
جو ہمارے زیارت کی استطاعت نہیں رکھتا ہے اسے چاہئے کہ ہمارے نیک چاہنے والوں کی ملاقات کرے تو اس کے لئے ہماری زیارت کا ثواب لکھا جائے گا جو ہم سے جڑنے ( وابستگی) کی استطاعت نہیں رکھتا ہے تو اسے چاہیئے کہ ہمارے نیک چاہنے والوں سے جڑے تو اس کے لئے ہم سے جڑنے کا ثواب لکھا جائے گا ۔
٤۔ مال کے ذریعہ امام عصر سے وابستگی
ہر مومن مرد و عورت کو چاہیئے کہانے مال میں سے کچھ حصہ امام زمانہ کے لئے نکالے ۔ یہ کام ہر سال کرنا چاہیئے ، اس عمل خیر میں امیر و فقیر برابر ہیںمگر یہ کہ دولتمند اپنی توانائی کے حساب سے اور غریب اپنی استطاعت کی بناپر نکالنے کے لئے مکلف ہیں۔
روایتوں میں مال کے نکالنے کی مقدار کو معین نہیں کیا ہے یہ عمل مستحب موکدہ ہے بلکہ ائمہ کی تعبیر میں بہ عنوان فریضہ قرار دیا ہے۔
امام صادق سے روایت ہے:
جس نے گمان کیا کہ امام لوگوں کے مال کا محتاج ہے تو وہ کافر ہے بلکہ لوگ اس کے محتاج ہیں کہ امام ان کا مال قبول کرلیں۔
خداوند عالم فرماتا ہے:
خذ من اموالھم صدقة تطھر ھم و تزکیھم بھا۔(13)
ان کے اموال کولے تا کہ وہ صدقہ و گیرہ دینے کی وجہ سے پاک و صاف ہوجائیں۔(14)
راوی نے امام موسی کاظم سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا۔
من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا فیضعفہ لہ اضعافا کثیرة۔( 15)
جو اللہ کو قرض حسنہ دے وہ اس کو دو چند واپس دے گا اور اس کے لئے بہت بڑا اجر ہے ۔
امام نے فرمایاک، اس سے مراد امام تک مال پہونچاناہے۔
امام صادق نے فرمایا:
ایک درہم جو امام تک پہونچایا جائے وہ کو ہ اُحُد کے وزن سے گراں تر ہے ۔
یا دوسری روایت میں:
بہتر ہے ان لاکھوں درہم سے جو کسی امر خیر میں خرچ کیا جائے۔
تفسیر برہان میں امام صادق سے روایت ہے کہامام باقر نے فرمایا:
جو شخص اگر ایک سال میں اپنے مال امام تک کچھ نہ پہونچائے تو خداوند عالم روز قیامت اس کی طرف نظر رحمت نہیں کریگا بلکہ اس سے اپنی نظر ہٹالے گا۔
ان تمام روایت کا خلاصہ یہ ہے:
١۔امام زمانہ کی بارگاہ میں،زمانہ غیبت میں مال کے ذریعہ سے وابستگی رکھنا زمانہ ظہور کے بعد انجام دینے سے بہتر ہے ۔
٢۔زمانہ غیبت میں اپنے مال کے ذریعہ وابستگی رکھنے سے ،امام کو راضی و خوشنود کرتے ہیں ۔ چاہے
ہم امام کے متعلق کتابیں چھاپیں ، ان کی یاد کو تازہ کرنے کے لئے مجلس منعقد کریں اور لوگوں کو ان کی طرف دعوت دیں ، چاہنے والوں اور شیعوں کی مال سے مدد کریں ، وہ علماء جو ترویج دین میں مصروف ہیں ان کی مدد کریں ، وغیرہ.....۔
٣۔ اپنے مال کو امام کی بارگاہ میں پیش کرکے ہم اپنے مال کوپاکیزہ و طاہر بناتے ہیں جو ہمارے دیگر اعمال کی طہارت کی ضمانت بن جاتا ہے۔
بیان شدہ چند ذمہ داریوں میں دیگر اہم ذمہ داریاں بھی شامل ہیں:
١۔ حضرت کی غیبت کے زمانہ میں ،امام زمانہ کے اخلاق کی پیروی کرنا اور اسے اپنا نے کو کوشش کرنا۔
٢۔ امام زمانہ کو یاد کرنا۔
٣۔امام زمانہ کی بارگاہ میں خدمات کے سلسلے میں کوشش کرنا۔
٤۔مال کے ذریعہ سے ، امام عصر سے وابستگی۔
بارگاہ امام زمانہ میں ہم دعا گوہیں کہ دوبارہ ان کے چاہنے والوں کی خدمت میں بقیہ ذمہ داریاں بھی پیش کرنے کی توفیق عنایت فرمائیں گے ۔
منتظرین امام زمان کا نظام زندگی
اپنی ہر صبح کاآغاز امام کی خدمت میں سلام :
السلام علیک یا مولای یا صاحب الزمان سے کریں۔
ہر صبح و شام امام عصر کی سلامتی کی دعا کریں، آپ کی سلامتی کیلئے صدقہ دیں۔
امام کی طرف سے مستحب کام انجام دیں یا کم از کم دو رکعت نماز مستحبی پڑھ کر اس کا ثواب امام کو ہدیہ کریں۔
خداوند عالمی کی باراہ میں امام کی معرفت کیلئئے دعا کریں۔
امام کی خوشنودی کے لئے رشتہ داروں سے صلہ رحم کریں ۔ کسی ایک رشتہ دار سے ملاقات کریں یا اس کی خیریت دریات کریں۔
اہل بیت خاص کر امام سے متعلق چند صفحات کا ضرور مطالعہ کریں۔
کسی ایک فرد سے اہل بیت خاص کر امام عصر سے متعلق گفتگو کریں۔
لوگوں کو امام عصر کی طرف دعوت دیں۔
خداکی بارگاہ میں امام کے اعوان و انصار میں شامل ہونے کی دعاکریں۔
امام عصر کے دوستوں ، ان کے خدمت گذاروں کے لئے دعا کریں ۔
روزانہ نماز صبح کے بعد دعائے عہد پڑھیں ۔
توبہ و استغفار کریں، کیونکہ ہمارے گناہ ہی ان سے دوری کا سبب ہیں۔
جمعہ کے دن دعائے ندبہ اور امام زمان کی زیارت ضرورپڑھیں ، اور زیارت روز جمعہ پڑھنا نہ بھولیں۔
امام عصر کے روز ولادت (١٥ شعبان ) کی مناسبت سے اپنے گھر میں جشن کا ضرور انتظام کریں ، چاہے وہ کتنا ہی مختصر ہی کیوں نہ ہویا کسی جشن کے پرگرام میں شرکت کریں ۔
انشاء اللہ امام عصر کی دعائیں آپ کے ساتھ ہوں گی ۔
آپ کی نسبت آپ کی رعیت اور شیعوں کے بعض فرائض
١۔ غیبت النعمانی ۔ محمد بن ہمام نے جعفر ب محمد بن مالک سے انہوں نے عباد بن یعقوب سے انہوں نے یحیی بن علی سے انہوں نے زرارہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:میں نے سنا کہ ابوعبداللہ فرماتے ہیں قائم کے ظہور سے پہلے غیبت سے ، میں نے عرض کی کیوں؟ فرمایا:خوف محسوس کرتے ہیں اور اپنے ہاتھ سے اپنے شکم کی طرف اشارہ کیا پھر فرمایا:
اے زرارہ یہ وہ منتظر ہیں کہ جنکی پیدائش کے بارے میں شک کیا جائے گا چنانچہ بعض تو کہیں گے کہ ان کے والد مرگئے اور ان کوکوئی اولاد نہیں تھی ، بعض کہیں گے حمل تھا، بعض کہیں گے وہ غائب ہیں بعض کہیں گے وہ اپنے والد کی وفات سے دوسال قبل پیدا ہوئے تھے اور وہ منتظر ہیں مگر یہ خدا ۔چاہتا ہے کہ ۔شیعوں کے دلوں کا امتحان لے ، اس وقت باطل پرست شرک میں پڑجائیں گے ، زرارہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی :
میں قربان ! اگر میں اس زمانہ کو پاؤں تو کیا عمل انجام دوں ؟فرمایا اے زرارہ ! اگر تم اس زمانہ کو پاجاؤ! تو اس دعا کوپڑھو :
اللھم عرفنی نفسک فانک ان لم تعرفنی نفسک لم اعرف نبیک ( لم اعرفک نخ ) اللھم عرفنی رسولک فانک ان لم تعرفنی رسولک لم اعرف حجتک اللھم عرفنی حجتک فانک ان لم تعرفنی حجتک ظللت عن دینی۔
. تو مجھے اپنی معرفت عطا کردے کییونکہ اگر تو مجھے اپنی معرفت سے نہیں نوازے گا تومیں تیرے نبی کی معرفت حاصل نہیں کرسکوں گا اپنے رسول ۖ کی معرفت عطا کردے کیونکہ۔
اگر میں تیرے رسول ۖ کی معرفت نہیں حاصل کرسکوں گا تو تیرے حجب کو بھی نہیں پہچان سکوں گا، اے اللہ ! مجھے اپنی حجت کی معرفت عطافرما کیونکہ اگر تو مجھے اپنی حجت کی معرفت سے محروم رکھے گا تو میں اپنی دین سے بھٹک جاؤں گا۔
پھر فرمایا: اے زرارہ !مدینہ میں ایک غلام کا قتل ضروری ہے ، میں نے عرض کی : قربان جاؤں ! یہ وہی تو نہیں ہے جس کو سفیانی کا لشکر قتل کرے گا ؟ فرمایا: نہیں۔ بلکہ اس کو فلاں خاندان کا لشکر قتل کرے گا، وہ خروج کرے گا ۔
یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہوگا اور لوگ یہ بھی نہ سمجھ سکیں گے کہ وہ کس لئے آیا ہے چنانچہ وہ غلام کو پکڑکر قتل کردے گا جب وہ ظلم و جور اور سرکشی سے غلام کو قتل کردے گا تو خدا نہیں مہلت دے گا ، اس وقت فرج کی توقع کی جائیگی کافی میں اپنی سند سے اور کمال الدین میں اپنی سند سے ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔( 16)
(کتاب مکیال المکارم کے آٹھویں باب میں آپ کے بارے میں بندوں کی ایسی ذمہ داریاں اور تکالیف لکھی ہیں ان میں سے ہرایک پرسیر حاصل بحث کی ہے
١۔ آپ کے آداب و صفات ، خصائص اور آپ کے ظہور کی حتمی علامتوں کی معرفت حاصل کرنا، آپ کا ذکر ادب کے ساتھ کرنا۔یعنی صرف آپ کے القاب ، حجت ، قائم ، مہدی ، صاحب الزمان اور صاحب الامر ، ہی سے آپ کا ذکر کرنا ۔ کھلم کھلا آپ کا نام نہ لینا ، آپ کانام وہی ہے جو رسول ۖ کا نام ہے، آپ کا نام لینا کے سلسلہ میں علماء کے درمیان اختلاف ہے اس سلسلہ میں بہت سی حدیثیں نقل ہوئی ہیں۔
ان میں سے بعض کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کا نام لینا حرام ہے جو آپ کا نام لیے سمجھتے ہیں، یہاں اس سے بحث کرنے کا وقت نہیں ہے بلکہ اس سے ہم اپنی دوسری کتاب ۔ جو اس کتاب کا تتمہ کے طور پر لکھنے کا ارادہ کیا ہے ۔ میں بحث کریں گے لہذا احتیاط سے کام لیتے ہوئے اور مسلک احتیاط پر چلتے ہوئے یہی کہتے ہیں کہ عام محافل و مجالس میں صراحت کے ساتھ آپ کا نام لینا جائز نہیں ہے۔
انہیں ذمہ داریوں میں سے ایک یہ بھی ہے : خود بھی آپ سے محبت کریں اور دوسروں میں انہیں محبوب بنائیں ، آپ کے ظہور و فرج کا انتظار کریں آپ سے ملاقات کے اشتیاق کا اظہار کریں ،آپ کے
فضائل و مناقب بیان کریں ، آپ کے فراق میں مغموم و محزون رہیں ان محافل و مجالس میں شریک ہوں جن میں آپ کے فضائل و مناقب بیان ہوتے ہیں کہ آپ کے فضائل نشر کریں اور اس سلسلہ میں پیسہ خرچ کریں کہ یہ دین خدا کی ترویج اور اس کے شعائر کی تعظیم ہے ، آپ کی نیابت میں حج کریں ، آپ کی طرف سے کسی کو نائب کر حج و طواف کیلئے بھیجیں ۔
آپ کی طرف سے نیابت رسول ۖ اور ائمہ کے مشاہد مشرفہ کی زیارت کیلئے بھیجیں ، فرائض یومیہ کے ہر فریضہ یا روز جمعہ کو آپ سے تجدید بیعت کریں ، مستحب ہے کہ فریضہ کے بعد تجدید بیعت کریں۔
جیسا کہ امام صادق سے روایت کی گئی ہے ۔ اس موضوع پر امام صادق سے متصل السند احادیث نقل ہوئی ہیں ۔ فرمایا: جو ہر صبح کو چالیس روز تک پڑھے گا وہ حضرت قائم کے انصار میں ہوگا دعا کا سرنامہ یہ ہے : بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم رب النور العظیم .الخ
ان کے نیک و پرہیزگار شیعوں کی مالی مدد کرے ، مومنوں کو خوش کرے کہ یہ آپ کی مسرت کا باعث ہوتا ہے آپ کی طرف متوجہ ہو کر زیارت پڑھے ۔ سلام کرے ، آپ سے توسل کرے اور آپ کو خدا کی بارگارہ میں اپنا شفیع بنائے آپ سے استغاثہ کرے آپ سے اپنی حاجت طلب کرے آپ کی طرف لوگوں کو بلائے ان کی راہنمائی کرے۔
آپ کے حقوق کی رعایت و حفاظت کرے نفس کور ذیل صفات سے پاک کرے اور اخلاق حمیدہ کے زیور سے اسے آراستہ اور ان سے جسمانی یا روحانی نسبت رکھنے والوں ، جیسے سادات ، علماء اور مومنین کا تقرب حاصل کرے اور ان کے ٹھہرنے اور آنے جانے کی جگہوں جیسے مسجد سہلہ ، مسجد اعظم کوفہ و غیرہ کے تعظیم کرے ۔
آپ کے ظہور کا وقت مقرر کرنے سے پرہیز کرے ، اور وقت مقرر کرنے والوں کی تکذیب کرے اسی طرح نیابت خاصہ کا دعوی کرنے اور غیبت کبری میںوکالت کا دعوی کرنے والوں کو جھٹلائے اور آپ سے ملاقات کرنے میں کامیابی کے لئے کوشش کرے اور اس کیلئے خدا سے دعا کرے اور اعمال و اخلاق اور سید الشہداء اور نبی و معصومین کی زیارت میں آپ کی اقتداء کرنا کہ یہ امام زمانہ کے ساتھ تعلق ہے
۔ برادران کے حقوق ادا کرے مصباح المتہجد ۔ ایک جماعت نے بتایا ہے کہ جس نے ابو محمد ہارون بن موسی تلعکبری سے روایت کی ہے کہ ابو علی محمد بن ہمام نے انہیں اس دعا کی خبر دی اور بتایا کہ شیخ ابو عمر عمر وی قدس اللہ روحہ نے انہیں املا کرایا اور کہا کہ اس کو پڑھا کرو یہ دعا قائم آل محمد ۖکی غیبت کے بارے میں ہے:
اللھم عرفنی نفسک فانک ان لم تعرفنی نفسک لم اعرف رسولک اللھم عرفنی رسولک فانک ان لم تعرفنی رسولک لم اعرف حجتک اللھم عرفنی حجتک فانک ان لم تعرفنی حجتک ظللت عن دینی۔
اے اللہ مجھے اپنی معرفت عطا کردے کیونکہ اگر تومجھے اپنی معرفت نہیں عطا کرے گا تو میں تیرے رسول کونہیں پہچان سکوں گا۔ اے اللہ ! مجھے اپنے رسول ۖ کی معرفت عطا کردے کیونکہ اگر تو مجھے اپنے رسول ۖ کی معرفت سے نہیں نوازے گا تو مجھے اپنی حجت کی معرفت حاصل کرسکوں گا اے اللہ ! مجھے اپنی حجت کی معرفت عطا کردے کیونکہ اگر تو مجھے اپنی حجت کی معرفت سے نہیں نوازے گا تو میں اپنے دین سے دور ہی رہوں گا۔
اللھم لا تمتنی میتة جاھلیة ولاتزغ قلبی بعد اذھدیتینی اللھم فکما ھدیتنی لولایة من فرضت علی طاعة من ولایة (ولاة نخ جمال الاسبوع) بعد رسولک صلواتک علیہ و الہ حتی والیت ولاة امرک امیر المومنین و الحسن و الحسین و علیاو محمدا و جعفرا و موسی و علیا و محمدا و علیا و الحسن والحجة القائم المھدی صلواتک علیھم اجمعین۔
اے اللہ! مجھے جاہلیت کی موت نہ دینا اور ہدایت عطا کرنے کے بعد میرے دل کو کج نہ کرنا ، اے اللہ ! جس طرح تو مجھ پر واجب کی ہے یہاں تک کہ میں نے تیرے ولی امر ، امیر المومنین ، حسن و حسین ، علی ، محمد ، جعفر ، موسی ، علی ، محمد علی ، حسن و حجة القائم المہدی ، ان سب پر تیرا درود ہو ۔ سے محبت کی اور انہیں اپنا ولی مان لیا۔نے اس کی ولایت کی طرف میری ہدایت کی ہے کہ جس کی اطاعت تونے اپنے رسول ۖ کے بعد قراردی ۔
بلال حسین جعفری


١۔نہج البلاغہ خظ ٤٥ ،مستدرک الوسائل ٥٤١٢
2۔ اسی کو ینابیع المودة میں ص ٤٩٤پر نقل کیا ہے
3۔ینابیع المودة ص ٤٢١
4۔نہج البلاغہ ج٢خ١٨٥
5۔اصول کافی ج ٢ ص ٧٧
6۔ سورہ آل عمران آیت ١٩٦، ١٩٧، ١٩٨
7۔ روضہ کافی ج٨ ص ٢٥٣
8۔کمال الدین ج ١ ص ٣٠٢
9۔سورہ طہ آیت ١٢٤۔١٢٦
10 سورہ بنی اسرائیل آیت ٧١
11۔بحار الانوار ج٥١، باب ٦
12۔ اصول کافی ، جلد ١، صفحہ ٢٠
13۔سورہ توبہ آیت ١٠٣
14۔کافی ج ٣ص ١٨٢ ا
15۔سورہ بقرہ آیت ٢٤٥
16۔اصول کافی ج ٣ص ١٨٢ ا

+ نوشته شده توسط khial hussain در Sun 25 Sep 2011 و ساعت 8:32 PM |

 

 

خلاصہ :

 

 

جس نے دجال کے وجود اور خروج کو جھٹلایا وه کافر ہے اور جس نے مہدی (عج) کو جهٹلایا وہ کافر ہے۔
من انکر خروج المهدی فقد کفر ۔[5]
جس نے قیام مہدی (عج) کو جهٹلایا وہ کافر ہؤا۔
عن جابر رضی الله عنه رفعه من أنکر خروج المهدى فقد کفر بما انزل على محمد ۔[6]
جابر بن عبداللہ انصاری (رض) سے روایت مرفوعہ ہے کہ رسول اکرم صلی الله علیہ و آله وسلم نے فرمایا: جس نے قیام مہدی (عج) کا انکار کیا وه ان تمام چیزوں پر کافر ہؤا ہے جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہوئی ہیں۔
اس حوالے سے متعدد حدیثیں شیعہ اور سنی منابع و مصادر سے وارد ہوئی ہیں کہ امام مہدی (عج) کا منکر کافر ہے۔
اہل سنت ہی کی کتابوں میں تصریح ہوئی ہے که امام مہدی علیہ السلام کے قیام کے اثبات کے حوالے سے وارد ہونے والی تمام حدیثیں صحیح ہیں اور یہ حدیثیں ابوداؤد ، ترمذی و احمد و دیگر نے ابن مسعود و دیگر سےنقل کی ہیں ۔
حدیث مستند ہے اور کفر کا معیار بھی واضح ہے۔۔۔ چنانچہ کسی کے لئے بھی جائز نہیں ہے کہ کسی پر کفر کا الزام لگائے ہاں مگر وہ لوگ جو مہدی (ع) کے منکر ہیں؛ ان کو ہم نہیں رسول اللہ (ص) کافر قرادے چکے ہیں۔
یہ مہدی ہیں کون جن کی ظہور کی بشارت قرآن میں ہے۔ نبوی، علوی، فاطمی احادیث اور ائمہ علیہم السلام کی احادیث (جو درحقیقت احادیث نبوی ہیں) میں ان کے آنے کی بشارتیں ہیں۔۔۔ کچھ لوگ اس ذات با برکات کا انکار کرتے ہیں! کیسے؟ کیوں؟ وہ بات بات پر اپنی تأویلات اور اپنی ذاتی آراء و افکار کے مخالفین کو تو کافر کا لقب دیتے ہیں اور جتنی آسانی سے وہ دیگر مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں اور اسلامی تعلیمات کے برعکس اپنے نظریات کے مخالفین کا خون بہاتے ہیں اور مسلمانوں کو کافر قراردے کر ان کے قتل کے فتوے جاری کرتے ہیں – جبکہ کفار کی پیش قدمی مقدس مقامات اور مکہ و مدینہ تک جاری ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور قرآن و اسلام کی توہین آج یورپ میں ایک فیشن کی صورت اختیار کرگئی ہے اور شاتمان رسالت کو یورپ میں بنگلے اور پرامن زندگی کی ضمانتیں ملتی ہیں – اتنی ہی آسانی سے کافر کیونکر ہوجاتے ہیں اور حضرت مہدی علیہ السلام کا انکار کس طرح کرتے ہیں؟
گو کہ حدیث میں ہے کہ اگر تم نے کسی کو کافر کہا تو یا تو وہ کافر ہوگا یا اگر وہ کافر نہیں تو یقینا تم کافر ہو اور اس طرح فتووں کے کارخانے کھولنے والوں پر ویسے بھی کفر کا شبہ موجود ہے۔۔۔ قرآن میں ان کے آنے کی بشارت موجود ہے۔۔۔ احادیث رسول (ص) و معصومین (ع) میں بشارتیں موجود ہیں پھر بھی کوئی کہتا ہے مہدی (ع) پیدا ہونگے !
کچھ لوگ کہتے ہیں: پیدا نہیں ہوئے
کوئی کہتا ہے مہدی کا کوئی وجود ہی نہیں ہے ۔۔۔
البتہ محی الدین بن عربی جو اہل سنت کے جانے پہچانے امام ہیں اور عارف بھی ہیں؛ یقین سے کہتے ہیں کہ شیعوں کی بات درست ہے اور امام مہدی علیہ السلام امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ہیں اور اس وقت پردہ غیب میں ہیں؟ ۔۔۔
یہ لوگ جانتے ہیں مگر تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہیں۔۔۔ کہتے ہیں: یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص 12سو سال زندہ رہے اور یہی حضرات منبر و محراب میں فیض افشانی کرتے ہیں تو حضرت نوح کی عمر کی کہانیاں سنا سنا کر نہیں تھکتے اور حضرت عیسی علیہ السلام کی دوہزار سالہ عمر کی باتیں سناتے ہوئے انہیں بالکل حیرت نہیں ہوتی! اور مجھے ان لوگوں کی دوگانہ گوئی پر حیرت ہے! ۔۔۔ کہتے ہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اتنے سارے برسوں میں انہیں کسی نے بھی نہ دیکھا ہو؟ ۔۔۔ یقینا یہ حضرات کم از کم اپنے آپ سے تو پوچھتے ہونگے کہ حضرت عیسی کو ان دوہزار برسوں میں کس نے دیکھا ہے یا دیگر انبیاء جو بقید حیات ہیں سال میں کتنی دفعہ ان حضرات کو نظر آتے ہیں؟ یا یہ کہ اگر وہ نظر نہیں آتے تو کیا ہم ان کے وجود کا ہی انکار کربیٹھیں؟ ۔۔۔ ہمیں عقل بھی تو – نہ اپنی نہ دوسروں کی – نظر نہیں آتی پھر اس بارے میں کیا فیصلہ کریں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیث «من مات و لم یعرف امام زمانہ۔۔۔» یاد رہے۔۔۔


دوسری حديث:
حضرت رسول اللہ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا:
«من مات و لم يعرف امام زمانہ مات ميتة الجاہلية» [7] - [8]
«اگر کوئی اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر دنیا سے رخصت ہوجائے، وہ دوران جاہلیت کی موت مرا ہے۔»
یہ حدیث سنی اور شیعہ کی منابع میں متفق علیہ ہے۔ اب اگر کوئی کہے کہ یہ حدیث درست نہیں ہے تو وہ جھوٹا ہے۔
اگر کوئی کہے کہ یہ حدیث رسول اللہ کے زمانے کے لئے ہے تو وہ بھی جھوٹا ہے کیوں کہ ہر زمانے کے لوگوں کو اپنے امام کی معرفت حاصل کرنا لازم ہے۔
اور اگر کہے کہ حدیث صحیح بھی ہے اور آفاقی بھی اور ابدی بھی ہے تو یہ بتانا پڑے گا کہ اس کا امام زمانہ کون ہے؟ آپ کا امام کون ہے؟؟؟
منکرین مہدی بتائیں کہ ان کے زمانے کا امام کون ہے۔۔۔ وہ امام کون ہے جس کو اگر وہ نہ پہچانیں تو جاہلیت کی موت مریں گے؟ جاہلیت یعنی عناد و لجاج یعنی ضد اور ہٹ دھرمی اور جہل پر اصرار۔


تیسری حديث :
حضرت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:
«اگر دنیا کی عمر کا صرف ایک دن بھی باقی ہو خداوند متعال اس ایک دن کو اتنا طویل کرے گا کہ حضرت مہدی (عج) ظہور فرمائیں اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں جیسے کہ یہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی»۔[9]
یہاں ایک نکتہ قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سال ہفتہ وحدت کے ایام میں – ایک طرف سے وحدت و اتحاد بین المسلمین پر کاری ضربیں لگائی گئیں اور استعمار و استکبار کی خوب خوب خدمت کی گئی- امہ کے مختلف فرقوں، مکاتب اور مذاہب کے کثیر علماء نے ایک نہایت اہم اور عالمی اہمیت کی حامل قرارداد منظور کرلی۔ وہ یہ کہ:
«کسی بھی اسلامی فرقے کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ دوسرے اسلامی فرقوں کے پیروکاروں کی تکفیر کریں اور یہ کام غلط ناروا اور ناجائز ہے».
ہاں البتہ وہ فرقے جو غلو جیسی بیماریوں میں مبتلا ہیں یا اپنے اعمال کے ذریعے دشمن کی خدمت کررہے ہیں اور مسلمانوں اور دین مبین کو نقصان پہنچاتے ہیں یا فرقے نہیں ہیں بلکہ دشمنوں کے ہاتھوں بنے ہوئے ادارے ہیں، ان کا حساب اصلی اور حقیقی اسلامی فرقوں سے الگ ہے»۔
حضرت مہدي نے فرمایا:
1: «حوادث اور رودادوں میں ہماری حدیثوں کے راویوں سے رجوع کرو؛ کیونکہ وہ تمہارے اوپر میری حجت ہیں اور میں ان کے اوپر حجت خدا ہوں»۔
2- «انا بقية اللہ في ارضہ و المنتقم من اعدائہ»
میں روئے زمین پر «بقية اللہ» اور اس کا ذخیرہ اور اس کے دشمنوں سے انتقام لینے والا ہوں۔
3: «علامة ظہور امري كثرة الہرج و المرج و الفتن»
میرے ظہورکی نشانی ھرج و مرج اور افراتفری اور فتنوں کی کثرت سے عبارت ہے۔
4: «خدا اور کسی بھی بندے کے درمیان قرابتداری کا رشتہ قائم نہیں ہے اور «و مَن انكرني فليس مني و سبيلہ سبيل ابن نوح»؛ اور جو میرا انکار کرے وہ مجھ سے نہیں ہے اور اس کا راستہ نوح (ع) کے ناخلف و نافرمان بیٹے (کنعان) کا راستہ ہے۔
ہفتہ وحدت مبارک ہو انشاء اللہ ہمارا یہ سال سنہ 1429 سال ظہور مہدي آل محمد(عليہ و علي آبائہ السلام) ہو۔
یہاں ایک نکتہ قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سال ہفتہ وحدت کے ایام میں – ایک طرف سے وحدت و اتحاد بین المسلمین پر کاری ضربیں لگائی گئیں اور استعمار و استکبار کی خوب خوب خدمت کی گئی- امہ کے مختلف فرقوں، مکاتب اور مذاہب کے کثیر علماء نے ایک نہایت اہم اور عالمی اہمیت کی حامل قرارداد منظور کرلی۔ وہ یہ کہ:
«کسی بھی اسلامی فرقے کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ دوسرے اسلامی فرقوں کے پیروکاروں کی تکفیر کریں اور یہ کام غلط ناروا اور ناجائز ہے۔ ہاں البتہ وہ فرقے جو غلو جیسی بیماریوں میں مبتلا ہیں یا اپنے اعمال کے ذریعے دشمن کی خدمت کررہے ہیں اور مسلمانوں اور دین مبین کو نقصان پہنچاتے ہیں یا فرقے نہیں ہیں بلکہ دشمنوں کے ہاتھوں بنے ہوئے ادارے ہیں، ان کا حساب اصلی اور حقیقی اسلامی فرقوں سے الگ ہے»۔
وحدت میں تقیہ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے، تقیہ حضرت موسی نے کیا؛ حضرت زکریا نے کیا، حضرت ابراہیم نے بت توڑ کر بڑے بت کو ملزم ٹہرایا اور تقیہ کیا، تقیہ مشرکین کے نرغے میں آنے والے مسلمانوں نے کیا اور خدا نے ان کی تائید کی۔
«مَن كَفَرَ بِاللّهِ مِن بَعْدِ إيمَانِهِ إِلاَّ مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِيمَانِ وَلَـكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ» (نحل 106﴾
جس نے خدا کا انکار کیا ایمان لانے کے بعد – سوائے اس مؤمن کے جس کا دل ایمان سے مطمئن تھا اور مجبور کیا گیا – مگر جس نے دل کھول کر کفر کا راستہ اپنایا اس کے لئے عذاب عظیم ہے۔
میں آپ سے پوچھتا ہوں – اپ جس مذہب سے بھی تعلق رکھتے ہوں – کہ اگر آپ کے ارد گرد کئی مسلح افراد ہوں اور وہ آپ کی رائے جان کر آپ کی جان کے درپے ہوں تو آپ کونسا راستہ اپنائیں گے؟ ہاں یہ بالکل صحیح ہے کہ تقیہ صرف ایسے ہی حالات کے لئے ہے۔ اتحاد امت ضروریات دین میں سے ہے۔ یہ کوئی سنتی عمل نہیں ہے؛ مباح بھی نہیں ہے بلکہ فرض عین ہے اور شيعہ مسلمان وحدت و اتحاد کی دعوت تقیّے کی بنا پر نہیں بلکہ ضرورت اسلام کی بنا پر دے رہے ہیں۔
تقیہ کا مطلب جھوٹ بولنا نہیں ہے بلکہ ضرورت کی مقدار کے مطابق بولنا ہے۔ تقیہ کا مطلب یہ ہے کہ ماحول کا خیال رکھو اور ماحول کو دیکھ کر لوگوں کی عقل اور سوچ کے مطابق بات کرو۔ تقیہ کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کی رضا اور ناراضگی کا خیال رکھو تا کہ معاشرے میں امن و امان کی فضا قائم ہو۔
قرآن نے فرمایا ہے کہ لاتفرقوا۔۔۔ نہی واضح ہے۔۔۔ چنانچہ ہم شیعہ ہیں شیعہ اصولوں کے پابندہیں۔۔۔ ہم جب اتحاد کی بات کرتے ہیں اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہم اپنا مذہب چھوڑ کر کوئی دوسرا مذہب اختیار کررہے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ ہم تقیہ کررہے ہیں؛ ایسی کوئی بات نہیں ہے اور ہمارا یہ بھی مقصد نہیں ہے کہ کسی اور فرقے کے لوگ ہمارا مذہب اختیار کریں۔۔۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ بنیادی اصولوں میں ہم ایک ہیں بعض فروع میں فرق ہے۔۔۔ اور اہم بات یہ ہے کہ اس وقت عالم اسلام کو کفار کا خطرہ درپیش ہے جو سنی تعلیمات کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں اور شیعہ اصولوں کو بھی ۔۔۔ وہ ہمارے قرآن اور رسول اللہ (ص﴾ کی توہین کو شعار بنائے بیٹھے ہیں۔ ۔۔۔ یاد رکھنا کہ چالیس پاروں والا قرآن ہمارے پاس نہیں ہے لیکن ہمارے دشمن کے ذہنی اختراعات کے ریکارڈ میں دیکھ لیں تو مل ہی جائے گا۔۔۔۔ ہمارا قرآن وہی ایک ہے ۔۔۔ وہی جس کے تیس پارے ہیں اور ہم اس کی تحریف کو ناممکن سمجھتے ہیں کیوں کہ اللہ نے خود اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے۔۔۔ ہمارے قرآن پر وہ حملے کررہے ہیں۔۔۔ اسی مشترکہ قرآن پر، کیونکہ دشمن مشترک ہے؛ وہ افغانستان، عراق، پاکستان اور دیگر ممالک میں سنیوں اور شیعوں کا قتل عام کررہے ہیں اور ان کے چیلے ان کے مقاصد پورے کررہے ہیں، مذاہب اربعہ کو وہابیت نے انفعال سے دوچار کردیا ہے اور وہابیت جہاں بھی جاتی ہے وہاں سے امن و امان اور تعمیری سوچ کوچ کرجاتی ہے اور دشمن کے ورود کے لئے راستے فراہم ہوجاتے ہیں۔۔۔آئیے شیعہ شیعہ رہے اور سنی سنی رہے اور متحد ہوجائیں۔ ورنہ برے حالات آئے ہیں ساری امت پر اور یہ حالات مزید بھی برے ہونگے اور پھر اگر ہم حقیقت پسندی کی طرف لوٹنا بھی چاہیں تو یہ ممکن نہ ہوگا ۔۔۔ عراق کا حال ہمارے سامنے ہے۔۔۔ دین و قرآن پر رحم کریں اور آئیں ایک دوسرے کے بازو بنیں اور دشمن کے بازو بن کر اپنے ہی بازو نہ کاٹیں خدا را۔۔۔۔ ہمارے پاس مہدی امت کا فلسفہ ہے اور ہمارا اس پر ایمان ہے اور دشمن ان کے ظہور کا راستہ روکنے کے لئے مدینہ منورہ پر قبضہ کرنے اور کعبہ معظمہ کو نیست و نابود کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے اور یہ خواب ہماری وحدت سے ہی چور چور ہوسکتے ہیں۔
تین بار درود شریف برائے تعجیل ظہور – اتحاد امت – اور حل مشکلات امت۔


میں نے کہا: "حضرت فاطمہ حکام وقت سے ناراض و غضبناک ہوکر کیوں دنیا سے رخصت ہوئیں؟ کیا وہ امام امت اور رسول اللہ کے خلفاء برحق نہ تھے؟ یا پھر معاذاللہ حضرت فاطمہ (س) امام وقت کی معرفت حاصل کئے بغیر جاہلیت کی موت مریں!؟
حلب کے عالم حیرت میں ڈوب گئے کیونکہ اگر وہ کہتے کہ کہ حضرت زہراء کا غضب اور آپ (س) کی ناراضگی صحیح تھے تو اس کا لازمہ یہ ہوگا کہ حکومت وقت باطل تھی۔۔۔ اور اگر کہتے کہ سیدہ (س) سے غلطی سرزد ہوئی ہے اور آپ (س) معرفت امام کے بغیر ہی دنیا سے رخصت ہوئی ہیں تو یہ فاش غلطی ان کے مقام عصمت کے منافی ہوتی۔ جبکہ آپ (ص) کے مقام عصمت و طہارت کی گواہی قرآن مجید نی دی ہے۔
حلب کے قاضی القضات بحث کی سمت تبدیل کرنے کی غرض سے بولے: جناب امینی! ہماری بحث کا حکام عصر کی نسبت حضرت زہراء کے غضب و ناراضگی سے کیا تعلق ہے؟
مجلس میں حاضر افراد علم و دانش کے لحاظ سے اعلی مراتب پر فائز تھے اور انہیں معلوم ہوچکا تھا کہ علامہ امینی نے اس مختصر سی بحث میں کیا کاری ضرب ان کے عقائد پر لگائی ہے!
میں نے کہا: آپ لوگوں نے نہ صرف اپنے زمانے کے امام کو نہیں پہچانا ہے بلکہ ان افراد کی حقانیت کے حوالے سے بھی شک و تردد میں مبتلا ہیں جن کو آپ خلفاء رسول (ص) سمجھتے ہیں۔۔۔
ہمارے میزبان جو ایک طرف کھڑے تھے قاضی القضات سے کہنے لگے: «شیخنا اسکت؛ قد افتضحنا = ہمارے شیخ! خاموش ہوجاؤ کہ ہم رسوا ہوگئے؛ یعنی آپ نے ہمیں رسوا کردیا"»۔
ہماری بحث صبح تک جاری رہی اور صبح کے قریب جامعہ کے متعدد اساتذہ، قاضی اور تاجر حضرات سجدے میں گر گئے اور مذہب تشیع اختیار کرنے کا اعلان کیا اور اس کے بعد انہوں نے علامہ امینی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے انہیں کشتی نجات میں بٹھانے کا اہتمام کیا تھا۔
یہ حکایت صرف اس لئے نقل کی گئی کہ اہل سنت بھی اہل تشیع کی مانند حدیث (من مات و لم یعرف امام زمانہ مات میتة جاہلیة) کو قبول کرتے ہیں۔ اور یہ وہ حدیث ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر عصر اور ہر زمانے میں ایک امام کا ہونا ضروری ہے جس کی معرفت کا حصول واجب ہے اور مسلمانوں کو بہرحال معلوم ہونا چاہئے کہ وہ اپنی دینی تعلیمات کس سے حاصل کررہے ہیں اور ان سب کو جاننا چاہئے کہ ان کے زمانے کا امام کون ہے؟
[9] - مسند احمد حنبل ج1ص99 و سنن ابن ماجہ ج2ص929۔

+ نوشته شده توسط khial hussain در Sun 25 Sep 2011 و ساعت 8:22 PM |

خلاصہ :

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ امام مہدی علیہ السلام کا عقیدہ ایک دینی حیثیت رکھتا ہے، جس پر تمام مسلمان متفق ہیں۔ لیکن کچھ باتوں جن میں جزوی اختلاف پایا جاتا جیسے شیعہ امامیہ اثناعشریہ کا عقیدہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی ولادت ہو چکی ہے، جو ان کے گیارہویں امام حضرت حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ہیں ۔ اور اہل سنت کے ہاں اکثر کا نظریہ ہے کہ وہ قرب قیامت میں پیدا ہوں گے۔بہر حال ہمارا موضوع صرف اہل سنت کی روایات میںتصورامام مہدی علیہ السلام ہے۔ یہاں پر امام مہدی علیہ السلام کے متعلق اہل سنت کے اہم مصادر میں جو احادیث و روایات موجود ہیں ان کا مختصرا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔

متن:

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ امام مہدی علیہ السلام کا عقیدہ ایک دینی حیثیت رکھتا ہے، جس پر تمام مسلمان متفق ہیں۔ لیکن کچھ باتوں جن میں جزوی اختلاف پایا جاتا جیسے شیعہ امامیہ اثناعشریہ کا عقیدہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی ولادت ہو چکی ہے، جو ان کے گیارہویں امام حضرت حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ہیں ۔ اور اہل سنت کے ہاں اکثر کا نظریہ ہے کہ وہ قرب قیامت میں پیدا ہوں گے۔بہر حال ہمارا موضوع صرف اہل سنت کی روایات میںتصورامام مہدی علیہ السلام ہے۔ یہاں پر امام مہدی علیہ السلام کے متعلق اہل سنت کے اہم مصادر میں جو احادیث و روایات موجود ہیں ان کا مختصرا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔
حضرت ابو سعید خدری سے ایک حدیث مروی ہے کہ:۔
حدثنا عبد اللہ حدثنی أبی ثنا ابن نمیر ثنا موسی یعنی الجہنی قال سمعت زیدا العمی قال ثنا أبو الصدیق الناجی قال سمعت أبا سعید الخدری قال قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم یکون من أمتی المہدی فان طال عمرہ أو قصر عمرہ عاش سبع سنین أو ثمان سنین أو تسع سنین یملا الارض قسطا وعدلا وتخرج الارض نباتہا وتمطر السماء قطرہا۔ ١
میری امت میں سے مہدی ہوگا اس کی عمر طویل ہو یا قصیر ہو ، وہ سات سال یا آٹھ سال یا نو سال رہیں گے(حکومت کریں گے) اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ جس کی وجہ سے زمین نباتات نکالے گی اور آسمان مینہ برسا ئے گا۔

قرآن و اہل بیت
اس حدیث سے امام مہدی علیہ السلام کی طویل عمر ہونی کی گواہی موجود ہے ۔چونکہ شیعہ کا نظریہ ہے کہ امام علیہ السلام پیدا ہو چکے ہیں اور اللہ کے حکم سے پردہ غیب میں چلے گئے ہیں اور جب تک خدا چاہے گا رہیں گے۔اس کی تائید حضرت ابو سعید خدری کی ایک اور حدیث کہ:
حدثنا عبد اللہ حدثنی أبی ثنا ابن نمیر ثنا عبد الملک یعنی ابن أبی سلیمان عن عطیة عن أبی سعید الخدری قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انی قد ترکت فیکم الثقلین أحدہما أکبر من الآخر کتاب اللّٰہ عزوجل حبل ممدود من السماء لی الارض وعترتی أہل بیتی الا انہما لن یفترقا حتی یردا علی الحوض۔ ٢
میں تمہارے درمیان دو قیمتی چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ، ان میں سے ایک دوسرے سے بڑی ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ کی کتاب جو آسمان سے زمین تک (اللہ کی) رسی ہے اور دوسرے میری عترت اہل بیت ، یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر پہنچ جا ئیں ۔
اس حدیث سے واضح ہو رہا ہے کہ قرآن و اہل بیت کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے لہٰذا اس دور میں بھی اہل بیت اطہار کے افراد میں سے کوئی فرد باقی ہے جو قرآن کے ساتھ ہے، اگرچہ ہماری نظریں اس کو دیکھنے سے قاصر ہیں۔

بارہ خلفاء میں سے بارہویں مہدی علیہ السلام
ابو داؤد اپنی سنن میں کتاب مہدی میں بارہ خلفاء والی حدیث بیان کرتے ہیں:۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَةَ عَنْ ِسْمَعِیلَ یَعْنِی ابْنَ أَبِی خَالِدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ لَا یَزَالُ ہَذَا الدِّینُ قَائِمًا حَتَّی یَکُونَ عَلَیْکُمْ اثْنَا عَشَرَ خَلِیفَةً کُلُّہُمْ تَجْتَمِعُ عَلَیْہِ الْأُمَّةُ فَسَمِعْتُ کَلَامًا مِنْ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ أَفْہَمْہُ قُلْتُ لِأَبِی مَا یَقُولُ قَالَ کُلُّہُمْ مِنْ قُرَیْشٍ۔ ٣
عمروبن عثمان، مروان بن معاویہ، اسماعیل سے یعنی ابی خالدا پنے والد حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا یہاں تک کہ تم پر بارہ خلفاء ہوں گے سب کے سب ایسے ہوں گے کہ امت کا ان پر اجتماع واتفاق ہوجائے گاپس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلام سنا اور اسے سمجھ نہ سکا تو میں نے اپنے والد سے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کہہ رہے تھے؟ فرمایا کہ وہ سب خلفاء قریش میں سے ہوں گے\'\'۔
اس حدیث سے واضح ہو تا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام بارہویںخلیفہ اور امام ہیں۔
اسی طرح ابو داؤد کی ایک اور حدیث ہے :
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَةَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ حَدَّثَنَا فِطْر عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِی بَزَّةَ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ عَنْ عَلِیٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ لَمْ یَبْقَ مِنْ الدَّہْرِ ِلَّا یَوْم لَبَعَثَ اللَّہُ رَجُلًا مِنْ أَہْلِ بَیْتِی یَمْلَؤُہَا عَدْلًا کَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا ۔٤
عثمان بن ابوشیبہ،فضل ابن دکین،فطر، قاسم، ابوبکرہ، ابوطفیل، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ، رسول ۖ سے نقل کرتے ہیں کہ جب زمانہ میں سے صرف ایک دن(باعتبار آخرت) باقی رہ جائے گا تو اللہ تعالی میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی کو بھیجیں گے جو زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح بھر دیں گے جس طرح وہ پہلے ظلم سے بھر دی گئی ہو گئی۔
ان احادیث سے یہ ثابت ہو رہا ہے امام مہدی علیہ السلام کا وجود ایک یقینی امر ہے جس کی خبر اللہ کے پیارے رسول اور ہمارے نبی ۖنے دی ہے۔ چونکہ رسول اللہ ۖصادق القول ہیں لہٰذا آپۖ کی بات یقینی ہے۔

خاندانِ امامِ مہدی علیہ السلام
امام مہدی آپ ۖکے اہل بیت اطہا ر میں سے ہیں، جیسے اوپر والی حدیث میں بیان ہوا،اسی طرح ایک اور حدیث اس سے بھی زیادہ واضح ہے کہ:۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِیحِ الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ عَنْ زِیَادِ بْنِ بَیَانٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ نُفَیْلٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ الْمَہْدِیُّ مِنْ عِتْرَتِی مِنْ وَلَدِ فَاطِمَةَ ٥
احمد بن ابراہیم ،عبداللہ بن جعفر رقعی، ابوملیح حسن ابن عمر، زیادبن بیان، علی بن نفیل، سعید بن مسیب، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ (ام المومنین)فرماتی ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ، ، مہدی میرے خاندان سے اور فاطمہ کی اولاد میں سے ہوں گے۔
یعنی امام مہدی علیہ السلام اہل بیت میں سے ہی ہیں اور حضرت فاطمة الزہرا علیہا السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ شیعہ تمام روایات میں ہے کہ امام مہدی امام حسین علیہ السلام کی اولاد میں سے ہونگے ٦
لیکن سنن ابی داؤد کی حدیث کے مطابق وہ حضرت امام حسن علیہ السلام کی اولاد میں سے ہوں گے۔ ٧
اس کی تاویل یوں کی جا سکتی ہے کہ چونکہ امام زین العابدین علیہ السلام نے امام حسن علیہ السلام کی دختر حضرت فاطمہ سے شادی کی تھی جو امام محمد باقر علیہ السلام کی والدہ گرامی ہیں۔٨
اسی سے سلسلہ امامت بڑھا تھا لہٰذا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ امام مہدی، امام حسن کی بیٹی کی نسل میں پیدا ہوئے ۔اور یہ حدیثیں اس حدیث کو رد کرتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہاالمہدی عیسی ابن مریم ۔
عیسیٰ ہی مہدی ہے کیونکہ عیسی فاطمہ علیہا السلام کی اولاد میں سے نہیں ہے ۔

رسول اللہ سے مہدی علیہ السلام کی شباہت
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِیر عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ ابْنِ الْقِبْطِیَّةِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقِصَّةِ جَیْشِ الْخَسْفِ قُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَکَیْفَ بِمَنْ کَانَ کَارِہًا قَالَ یُخْسَفُ بِہِمْ وَلَکِنْ یُبْعَثُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ عَلَی نِیَّتِہِ قَالَ أَبُو دَاوُد حُدِّثْتُ عَنْ ہَارُونَ بْنِ الْمُغِیرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِی قَیْسٍ عَنْ شُعَیْبِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِی ِسْحَقَ قَالَ قَالَ عَلِیّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَنَظَرَ ِلَی ابْنِہِ الْحَسَنِ فَقَالَ ِنَّ ابْنِی ہَذَا سَیِّد کَمَا سَمَّاہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَسَیَخْرُجُ مِنْ صُلْبِہِ رَجُل یُسَمَّی بِاسْمِ نَبِیِّکُمْ یُشْبِہُہُ فِی الْخُلُقِ وَلَا یُشْبِہُہُ فِی الْخَلْقِ ثُمَّ ذَکَرَ قِصَّةً یَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدْلًا و قَالَ ہَارُونُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِی قَیْسٍ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِیفٍ عَنْ أَبِی الْحَسَنِ عَنْ ہِلَالِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْرُجُ رَجُل مِنْ وَرَائِ النَّہْرِ یُقَالُ لَہُ الْحَارِثُ بْنُ حَرَّاثٍ عَلَی مُقَدِّمَتِہِ رَجُل یُقَالُ لَہُ مَنْصُور یُوَطِّئُ أَوْ یُمَکِّنُ لِآلِ مُحَمَّدٍ کَمَا مَکَّنَتْ قُرَیْش لِرَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَبَ عَلَی کُلِّ مُؤْمِنٍ نَصْرُہُ أَوْ قَالَ ِجَابَتُہُ ۔ ١٠
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، عبدالعزیز، رفیع، عبید اللہ، ام سلمة، حضور اکرم ۖ سے روایت کرتے ہو ئے کہتی ہیں کہ حضور اکرم ۖ نے زمین میں دھنس جانے والے لشکر کا تذکرہ کیا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ۖ اس شخص کا کیا حال ہوگا جو بادل نخواستہ اس لشکر میں شامل ہوا ہو؟ فرمایا کہ سب کے سب زمین میں دھنس جائیں گے لیکن قیامت کے روز اپنی نیت کے مطابق اٹھائے جائیں گے۔ امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ مجھ سے ہارون بن مغیرہ، عمرو بن ابی قیس عن شعیب بن خالد عن اسحاق کے واسطہ سے بیان کیا گیا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے صاحبزادے سے حضرت حسن کی طرف دیکھ کر فرمایا میرا یہ بیٹا سردار ہوگا جیسے کہ نبی کریمۖ نے اس کا نام رکھا تھا اور عن قریب اس کی نسل میں ایک شخص پیدا ہوگا جس کا نام تمہارے نبی ۖکے نام کے مطابق ہوگا وہ اخلاق و کردار میں تمہارے نبی کے مشابہ ہوگا لیکن صورت وخلقت میں مشابہ نہیں ہوگا پھر طویل قصہ ذکر کر کے فرمایا کہ وہ زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا جبکہ ہارون نے بواسطہ عمرو بن ابی قیس بواسطہ مطرف بن طریف بواسطہ حسن بواسطہ ہلال بن عمرو بیان کیا کہ میں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کریمۖ نے فرمایا ماوراء النہر سے ایک آدمی نکلے گا جسے حارث بن حراث کہا جاتا ہوگا اس کے سامنے ایک اور آدمی ہوگا جسے منصور کہا جاتا ہوگا وہ محمد ۖ کی آل کو تسلط دے گا یا متمکن کرے گا۔ زمین میںجیسے قریش نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جگہ دی تھی اس کی مدد کرنا ہر مسلمان پر واجب ہوگا یا فرمایا کہ اس کی دعوت قبول کرنا واجب ہوگا۔

اوصاف امام مہدی علیہ السلام
حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ تَمَّامِ بْنِ بَزِیعٍ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِی نَضْرَةَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَہْدِیُّ مِنِّی أَجْلَی الْجَبْہَةِ أَقْنَی الْأَنْفِ یَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا کَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا یَمْلِکُ سَبْعَ سِنِینَ ۔١١
سہل بن تمام بن بزیع، عمران، قطان، قتادہ، ابونضرہ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مہدی مجھ سے ہوں گے روشن پیشانی اور بلند ناک والے ہوں گے زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح بھریں گے جس طرح وہ ظم وجور سے بھر دی گئی تھی اور سات سال تک حکومت کریں گے۔
حدثنا یعقوب بن سحاق نا عفان نا عمران حدثنی قتادة حدثنی أبو نضرة عن أبی سعید الخدری عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال یملک رجل من أہل بیتی أجلی الجبہة أقنی الانف یملا الارض قسطا وعدلا کما ملئت ظلما وجورا یعیش ہذا وبسط کفہ الیمنی وبسط لی جنبہا أصبعین وبسط کفہ الیسری ۔١٢
حضرت ابو سعید خدری رسول اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ میری اہل بیت میں سے ایک مرد حکومت کرے گا ، روشن پیشانی اور بلند ناک والے ہوں گے زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح بھریں گے جس طرح وہ ظم وجور سے بھر دی گئی تھی، وہ اتنارہیں گے ، آپ ۖ نے اپنے دایاں ہاتھ سیدھا کیا اوراس کے پہلو سے دو انگلیا ںکھولیں اور پھر بایاں ہاتھ کھولا(یعنی آپۖ نے ساتھ سال کی طرف اشارہ کیا کہ مہدی علیہ السلام سات سال حکومت کریں گے)۔

امام مہدی علیہ السلام کی مدد کی تاکید
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَةَ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَةُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ صَالِحٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ عَنْ ِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ِذْ أَقْبَلَ فِتْیَة مِنْ بَنِی ہَاشِمٍ فَلَمَّا رَآہُمْ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اغْرَوْرَقَتْ عَیْنَاہُ وَتَغَیَّرَ لَوْنُہُ قَالَ فَقُلْتُ مَا نَزَالُ نَرَی فِی وَجْہِکَ شَیْئًا نَکْرَہُہُ فَقَالَ ِنَّا أَہْلُ بَیْتٍ اخْتَارَ اللَّہُ لَنَا الْآخِرَةَ عَلَی الدُّنْیَا وَِنَّ أَہْلَ بَیْتِی سَیَلْقَوْنَ بَعْدِی بَلَائً وَتَشْرِیدًا وَتَطْرِیدًا حَتَّی یَأْتِیَ قَوْم مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَعَہُمْ رَایَات سُود فَیَسْأَلُونَ الْخَیْرَ فَلَا یُعْطَوْنَہُ فَیُقَاتِلُونَ فَیُنْصَرُونَ فَیُعْطَوْنَ مَا سَأَلُوا فَلَا یَقْبَلُونَہُ حَتَّی یَدْفَعُوہَا ِلَی رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ بَیْتِی فَیَمْلَؤُہَا قِسْطًا کَمَا مَلَئُوہَا جَوْرًا فَمَنْ أَدْرَکَ ذَلِکَ مِنْکُمْ فَلْیَأْتِہِمْ وَلَوْ حَبْوًا عَلَی الثَّلْجِ ۔١٣
عثمان بن ابی شیبہ، معاویہ بن ہشام، علی بن صالح، یزید بن ابی زیاد ابراہیم، علقمہ، عبداللہ بن ابی زیاد، ابراہیم، علقمہ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ بنو ہاشم کے چند نوجوان آئے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھا تو آپ کی آنکھیں بھر آئیں اور رنگ متغیر ہوگیا۔ میں نے عرض کیا ہم مسلسل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور میں ایسی کیفیت دیکھ رہے ہیں جو ہمیں پسند نہیں )یعنی ہمارا دل دکھتا ہے( فرمایا ہم اس گھرانے کے افراد ہیں جس کے لئے اللہ تعالی نے دنیا کی بجائے آخرت کو پسند فرمالیا ہے اور میرے اہل بیت میرے بعد عنقریب ہی آزمائش اور سختی و جلاوطنی کا سامنا کریں گے۔ یہاں تک کہ مشرق کیجانب سے ایک قوم آئے گی جس کے پاس سیاہ جھنڈے ہوں گے وہ بھلائی(مال) مانگیں گے انہیں مال نہ دیا جائے گا تو وہ قتال کریں گے انہیں مدد ملے گی اور جو (خزانہ)وہ مانگ رہے تھے حاصل ہو جائے گا لیکن وہ اسے قبول نہیں کریں گے بلکہ میرے اہل بیت میں سے ایک مرد کے حوالہ کر دیں گے وہ )زمین کو(عدل وانصاف سے بھردے گا جیسا کہ اس سے قبل لوگوں نے زمین کو جور و ستم سے بھر رکھا تھا سو تم میں سے جو شخص ان کے زمانہ میں ہو تو انکے ساتھ ضرور شامل ہو اگر برف پر گھٹنوں کے بل گھسٹ کر جانا پڑے۔
اس حدیث میں اہل بیت اطہار پر رسول اللہۖ کے بعد ہونے والے مظالم کا تذکرہ ہے ، رسول اللہ کو کتنی فکر تھی کہ آپ ۖ اپنے صحابہ کے سامنے اپنی حالت متغیر کر دیتے ہیں اور مجبورا صحابہ کو کہنا پڑا کہ ہم سے آپۖ کی یہ حالت برداشت نہیں ہوتی، کیوں ایسی حالت ہو گئی ہے اور کس نے آپۖ کو پریشان کردیا ہے۔ تاریخ نے دیکھ لیا کہ آپۖ کے بعد آپ ۖ کے اہل بیت پر ظلم کے کتنے پہاڑ نازل ڈھائے گئے، کچھ کو خون میں رنگین کیا گیا اور کچھ کو زہر قاتل سے شہید کر دیا گیااور کچھ کو جلاوطن کیا گیا۔ ان سب کی ایک ہی آس تھی وہ مہدی علیہ السلام کی آمد تھی۔ لہٰذا ان کی مدد کے لیے رسول اللہ ۖاتنی تاکید کر رہے ہیں کہ اگر برف کے اورپر گھٹنوں کے بل ہی کیوں نہ چلنا پڑے تب بھی اس کی مدد کرنا ضروری ہے۔اسی طرح ایک اور حدیث میں اس کی تاکید یوں کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی وَأَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِی قِلَابَةَ عَنْ أَبِی أَسْمَائَ الرَّحَبِیِّ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقْتَتِلُ عِنْدَ کَنْزِکُمْ ثَلَاثَة کُلُّہُمْ ابْنُ خَلِیفَةٍ ثُمَّ لَا یَصِیرُ ِلَی وَاحِدٍ مِنْہُمْ ثُمَّ تَطْلُعُ الرَّایَاتُ السُّودُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ فَیَقْتُلُونَکُمْ قَتْلًا لَمْ یُقْتَلْہُ قَوْم ثُمَّ ذَکَرَ شَیْئًا لَا أَحْفَظُہُ فَقَالَ فَِذَا رَأَیْتُمُوہُ فَبَایِعُوہُ وَلَوْ حَبْوًا عَلَی الثَّلْجِ فَِنَّہُ خَلِیفَةُ اللَّہِ الْمَہْدِیُّ ۔ ١٤
محمد بن یحییٰ ، احمد بن یوسف، عبدالرزاق، سفیان ثوری، خالد حذاء ، ابی قلابہ، ابی اسماء ، حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہارے ایک خزانہ کی خاطر تین شخص قتال کریں گے اور مارے جائیں گے تینوں حکمران کے بیٹے ہوں گے لیکن وہ خزانہ ان میں سے کسی کو بھی نہ ملے گا پھر مشرق کی جانب سے سیاہ جھنڈے نمودار ہونگے وہ تمہیں ایسا قتل کریں گے کہ اس سے قبل کسی نے ایسا قتل نہ کیا ہوگا اسکے بعد آپ نے کچھ باتیں ذکر فرمائیں جو مجھے یاد نہیں پھر فرمایا جب تم ان (مہدی)کو دیکھو تو ان سے بیعت کرو اگرچہ تمہیں گھٹنوں کے بل گھسٹ کر جانا پڑے کیونکہ وہ مہدی اللہ کے خلیفہ ہونگے۔
اس حدیث میں امام مہدی علیہ السلام کے ساتھ بیعت وفا کے تذکرہ کے ساتھ انہیں اس زمین پر اللہ کا خلیفہ ہونے کا بھی ثبوت ہے۔

امام مہدی علیہ السلام کی عادلانہ حکومت
امام مہدی علیہ قیامت کے قریب ظہور فرما ئیں گے
حدثنا موسی بن ہارون ثنا عبد اللہ بن داہر الرازی ثنا عبد اللہ بن عبد القدوس عن الأعمش عن عاصم بن أبی النجود عن زر ابن حبیش عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا تقوم الساعة حتی یملک رجل من أہل بیتی یواطء اسمہ اسمی یملأ الأرض عدلا وقسطا کما ملئت ظلما وجورا۔١٥
عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول ۖ نے فرمایا قیامت اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک میرے اہل بیت میں سے ایک مرد حکومت کرے گا جو میرا ہم نام ہوگا وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی۔
یعنی قیامت اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک مہدی علیہ السلام کا ظہور نہیں ہوتا اور وہ اس زمین پر الٰہی حکومت قائم نہیں کرتے ، اور اس زمین کو عدل و انصاف کے ساتھ بھر دیتے۔

امام کی حکومت میں برکات خدا
اخبرنی أبو العباس محمد بن احمد المحبوبی بمرو ثنا سعید بن مسعود ثنا النضر بن شمیل ثنا سلیمان بن عبید ثنا عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ قال یخرج فی آخر امتی المہدی یسقیہ اللہ الغیث وتخرج الارض نباتہا ویعطی المال صحاحا وتکثر الماشیة وتعظم الامة یعیش سبعا أو ثمانیا یعنی حججا . ہذا حدیث صحیح الاسناد ولم یخرجاہ . ١٦
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا کہ میری امت میں آخر میں مہدی قیام کریں گے، جس دور میں اللہ تعالیٰ خوب بارش برسائے گااور زمین نباتات اُگائے گی، اور وہ مال برابر عطا کریں گے، اولاد والیاں کثرت سے ہوں گی، امت کو عظمت ملے گی، سات یا آٹھ سال زندگی بسر کریں گے۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِیٍّ الْجَہْضَمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَیْلِیُّ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِی حَفْصَةَ عَنْ زَیْدٍ الْعَمِّیِّ عَنْ أَبِی صِدِّیقٍ النَّاجِیِّ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَکُونُ فِی أُمَّتِی الْمَہْدِیُّ ِنْ قُصِرَ فَسَبْع وَِلَّا فَتِسْع فَتَنْعَمُ فِیہِ أُمَّتِی نِعْمَةً لَمْ یَنْعَمُوا مِثْلَہَا قَطُّ تُؤْتَی أُکُلَہَا وَلَا تَدَّخِرُ مِنْہُمْ شَیْئًا وَالْمَالُ یَوْمَئِذٍ کُدُوس فَیَقُومُ الرَّجُلُ فَیَقُولُ یَا مَہْدِیُّ أَعْطِنِی فَیَقُولُ خُذْ ١٧
نصر بن علی جہضمی، محمد بن مروان عقیلی، عمارہ بن ابی حفصہ، زیدعمی، ابی صدیق ناجی، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایامہدی میری امت میں ہوں گے اگر وہ دنیا میں کم رہے تو بھی سات برس تک رہیں گے ورنہ نو برس تک رہیں گے۔ اس دور میں میری امت ایسی خوشحال ہوگی کہ اس جیسی خوشحال پہلے کبھی نہ ہوئی ہوگی زمین اس وقت خوب پھل دیگی اور ان سے بچا کر کچھ نہ رکھے گی اور اس وقت مال کے ڈھیر لگے ہوئے ہونگے ایک مرد کھڑا ہو کر عرض کریگا اے مہدی مجھے کچھ دیجئے؟ وہ کہیں گے( جتناجی چاہے) لے لو۔
أبو معاویة وابن نمیر عن موسی الجہنی عن زید العمی عن أبی الصدیق الناجی عن أبی سعید الخدری قال : قال رسول اللہ ( ص ) : ( یکون فی أمتی المہدی ن طال عمرہ أو قصر عمرہ یملک سبع سنین أو ثمانی سنین أو تسع سنین ، فیملاہا قسطا وعدلا کما ملئت جورا ، وتمطر السماء مطرہا وتخرج الارض برکتہا ، قال : وتعیش أمتی فی زمانہ عیشا لم تعشہ قبل ذلک۔١٨
مہدی میری امت میں ہوگا چاہے ان کی عمر طویل ہو یا قصیر ، وہ سات سال یا آٹھ یا نو سال حکومت کریں گے ، پس وہ اس زمین کو عدل و انصاف کے ساتھ بھر دیں گے جیسے وہ ظالم و جور سے بھر چکی ہوگی، آسمان بارش برسائے گا ، زمین اپنی تمام برکات باہر نکالے گی ، اور فرمایا ان کے زمانے میں میری امت ایسی زندگی گزارے گی جیسے اس سے پہلے کبھی زندگی نہ گزاری ہوگی۔
امام مہدی علیہ السلام اور عیسی علیہ السلام
سنن ابن ماجہ میں ایک طویل حدیث مزکور ہے ، جس میں سے یہ حصہ پیش کیا جا رہا ہے:۔
فَقَالَتْ أُمُّ شَرِیکٍ بِنْتُ أَبِی الْعَکَرِ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَأَیْنَ الْعَرَبُ یَوْمَئِذٍ قَالَ ہُمْ یَوْمَئِذٍ قَلِیل وَجُلُّہُمْ بِبَیْتِ الْمَقْدِسِ وَِمَامُہُمْ رَجُل صَالِح فَبَیْنَمَا ِمَامُہُمْ قَدْ تَقَدَّمَ یُصَلِّی بِہِمْ الصُّبْحَ ِذْ نَزَلَ عَلَیْہِمْ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ الصُّبْحَ فَرَجَعَ ذَلِکَ الِْمَامُ یَنْکُصُ یَمْشِی الْقَہْقَرَی لِیَتَقَدَّمَ عِیسَی یُصَلِّی بِالنَّاسِ فَیَضَعُ عِیسَی یَدَہُ بَیْنَ کَتِفَیْہِ ثُمَّ یَقُولُ لَہُ تَقَدَّمْ فَصَلِّ فَِنَّہَا لَکَ أُقِیمَتْ فَیُصَلِّی بِہِمْ ِمَامُہُمْ۔ ١٩
ام شریک بنت ابوعکر نے عرض کیا یا رسول ۖاللہ عرب کے لوگ اس دن کہاں ہوں گے؟ آپۖ نے فرمایا عرب کے لوگ )مومن مخلصین( اس دن کم ہوں گے اور دجال کے ساتھ بے شمار لوگ ہوں گے ان کو لڑنے کی طاقت نہ ہوگی
( اور ان عرب )مومنین میں سے اکثر لوگ )اس وقت(بیت المقدس میں ہوں گے انکا امام ایک نیک شخص ہوگا انکا امام آگے بڑھ کر صبح کی نماز پڑھنا چاہے گا اتنے میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام صبح کے وقت اتریں گے تو یہ امام انکو دیکھ کر الٹے پاؤں پیچھے ہٹے گا تاکہ حضرت عیسیٰ اپنا ہاتھ اس کے دونوں مونڈھوں کے درمیان رکھ دیں گے پھر اس سے کہیں گے تو ہی آگے بڑھ اور نماز پڑھا اس لئے کہ یہ نماز تیرے ہی لئے قائم ہوئی تھی )یعنی تکبیر تیری ہی امانت کی نیت سے ہوئی تھی( خیر وہ امام لوگوں کو نماز پڑھائے گا۔
اس حدیث میں صاف واضح ہے کہ امام مہدی علیہ السلام نماز کی امامت کے لیے کھڑے ہوں گے تو عین اسی وقت حضرت عیسی علیہ السلام نزول فرمائیں گے تو اس وقت امام مہدی علیہ السلام احتراماً نماز کے لیے حضرت عیسی سے درخواست کریں گے وہ نماز پڑھائیں، لیکن عیسی انکار کریں گے امام علیہ السلام کو نماز پڑھانے کا کہیں گے ۔ تو امام علیہ السلام نماز پڑھائیں گے لہٰذا حضرت عیسی علیہ السلام امام کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے۔ اس کے بعد عیسی علیہ السلام دجال کا پیچھا کریں گے اور مقام لد پر اسے قتل کر دیں گے۔ اسی طرح اس دنیا سے فتنہ و فساد ختم ہو جائے گا ، ہر طرف عدل و انصاف قائم ہو جائے گا، کوئی کسی پر ظلم نہیں کرے گا ، ہر انسان کو اس کے گھر کے اندر انصاف ملے گا۔



المراجع والمصادر
ابن ابی شیبہ حافظ عبد اللہ ابن محمد اللکوفی(٢٣٥ھ) :المصنف ابن ابی شیبہ، طبع دار الفکر بیروت لبنان١٤٠٩ ھ
ابن بابویہ قمی(متوفی٣٢٩ ھ): الامامة و التبصرة، ناشر : مدرسہ الامام المہدی قم ایران
ابن عساکر علی ابن الحسن (متوفی٥٧١ ھ):تاریخ مدینةدمشق، طبع دار الفکر بیروت لبنان، ١٤١٥ھ
ابو داؤدسلیمان ابن اشعث السجستانی (متوفی ٢٧٥ھ): سنن ابی داؤد، طبع اول ، دار الفکر بیروت لبنان ، ١٤١٠ھ
الامام احمد بن حنبل(متوفی ٢٤١ھ) : مسند احمد، طبع دار الصادر بیروت لبنان۔
البخاری محمد ابن اسماعیل (متوفی ٢٥٦ھ): صحیح البخاری،طبع دالفکر بیروت لبنان، ١٤٠٣ھ
الترمذی محمد ابن عیسی(متوفی ٢٧٩ھ)سنن الترمذی،طبع دار الفکر بیروت لبنان،١٤٠٣ھ
الحاکم محمد ابن محمد(٤٠٥ھ): مستدرک الحاکم،طبع دار المعرفة بیروت لبنان، ١٤٠٦ھ
الشیخ حسن ابن علی النمازی(١٤٠٥ھ): مستدرک سفینة البحار ، طبع ، مؤسسة النشر الاسلامی، قم۔ ایران
الطبرانی سلیمان ابن احمد: المعجم الکبیر، الطبع الثانی، دار الاحیاء التراث العربی، القاہرة المصر،
الطبرانی سلیمان ابن احمد(متوفی ٣٤٠ھ) المعجم الاوسط للطبرانی، طبع دار الحرمین، ١٤١٥ھ
مجلسی محمد باقر (متوفی ١١١١ھ): بحار الانوار، الطبع الثانی ، مؤسسة الوفاء بیروت ۔ لبنان،١٤٠٣ ھ
مسلم ابن حجاج النیسابوری(متوفی ٢٦١ھ): دار الفکر بیروت لبنان۔


١۔ الامام احمد بن حنبل : مسند احمد، ج ،٣ ص ٢٧
٢۔ الامام احمد بن حنبل : مسند احمد، ج ،٣ص ٢٦
٣۔ صحیح البخاری، ج ٨، ص١٢٧، صحیح المسلم، ج ٤،ص٣ ، سنن ابی داؤد ، ج٢،ص٣٠٩، سنن ترمذی ، ج٣ ،ص٣٤٠
٤۔ سنن ابی داؤد ، ج ٢، ص ٣١٠، المصنف ابن ابی شیبہ، ج٨ ، ص ٦٧٩۔
٥۔ سنن ابی داؤد ، ج٢،ص٣٠٩،
٦۔ الامامة و التبصرة لابن بابویہ القمی(متوفی ٣٢٩ھ)ص ١١٠،مستدرک سفینة البحار ، شیخ علی المازی، ج ١٠،ص٧٧
٧۔ سنن ابی داؤد ، ج٢،ص ٣١٠،
٨۔ بحار الانوار ، ج٤٦ ، ص ،٢١٥
٩۔ المصنف ابن ابی شیبہ، ج ٨ ، ص٦٧٩، تاریخ دمشق، ابن عساکر، ج ٤٧، ص ٥١٩
١٠۔ سنن ابی داؤد ، ج٢ ،ص٣١١،
١١۔ سنن ابی داؤد ، ج٢ ،ص ٣١٠،
١٢۔ سنن ترمذی ، ج٢ ، ص ١٣٦٦
١٣۔ المعجم الاوسط للطبرانی، ج ٩ ، ص ١٧٦
١٤۔ المستدرک الحاکم، ج ، ص ، سنن ترمذی ، ج ٤٤، ص ٤٦
١٥۔ المعجم الکبیر للطبرانی، ج١٠ ، ص ١٣٣
١٦۔ المستدرک الحاکم النیسابوری ج٤ ،ص ٥٥٧
١٧۔ سنن ترمذی ، ج ٢ ، ص ١٣٦٦
١٨۔ المصنف ابن أبی شیبة الکوفی ج٨،ص٦٧٨
١٩۔ سنن ترمذی ، ج ٢ ، ص١٣٤١

+ نوشته شده توسط khial hussain در Sun 25 Sep 2011 و ساعت 8:18 PM |

خود انسان میں مختلف پھلو پائے جاتے ھیں: ایک طرف تو نظری (تھیوری) اور عملی (پریکٹیکل) پھلو اس میں موجود ھے اور دوسری طرف اس میں ذاتی اور اجتماعی پھلو بھی پایا جاتا ھے، اور ایک دوسرے رخ سے جسمانی پھلو کے ساتھ روحی اور نفسیاتی پھلو بھی اس میں موجود ھے، جبکہ اس بات میں کوئی شک نھیں ھے کہ مذکورہ پھلوؤں کے لئے مخصوص قوانین کی ضرورت ھے، تاکہ ان کے تحت انسان کے لئے زندگی کا صحیح راستہ کھل جائے، اور منحرف اور گمراہ کن راستہ بند ھوجائے۔

امام مھدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ظھور کا انتظار، منتظر کے تمام پھلوؤں پر موثر ھے، انسان کے فکری اور نظری پھلو جو انسان کے اعمال و کردار کا بنیادی پھلو ھے ، انسانی زندگی کے بنیادی عقائد پر اپنے حصار کے ذریعہ حفاظت کرتا ھے۔ دوسرے الفاظ میں یوں عرض کیا جائے کہ صحیح انتظار اس بات کا تقاضا کرتا ھے کہ منتظر اپنی اعتقادی اور فکری بنیادوں کو مضبوط کرے تاکہ گمراہ کرنے والے مذاھب کے جال میں نہ پھنس جائے یا امام مھدی علیہ السلام کی طولانی غیبت کی وجہ سے یاس و ناامیدی کے دلدل میں نہ پھنس جائے۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ھیں:

”لوگوں پر ایک زمانہ وہ آئے گا کہ جب ان کا امام غائب ھوگا، خوش نصیب ھے وہ شخص جو اس زمانہ میں ھمارے امر (یعنی ولایت) پر ثابت قدم رھے“۔

یعنی غیبت کے زمانہ میں دشمن نے مختلف شبھات کے ذریعہ یہ کوشش کی ھے کہ شیعوں کے صحیح عقائد کو ختم کردیا جائے، لیکن ھمیں انتظار کے زمانہ میں اپنے عقائد کی حفاظت کرنا چاہئے۔

انتظار ، عملی پھلو میں انسان کے اعمال اور کردار کو راستہ دیتا ھے، ایک حقیقی منتظر کو عملی میدان میں کوشش کرنا چاہئے کہ امام مھدی علیہ السلام کی حکومت حق کا راستہ فراھم ھوجائے، لہٰذا منتظر کو اس سلسلہ میں اپنی اور معاشرہ کی اصلاح کے لئے کمرِ ھمت باندھنا چاہئے، نیز اپنی ذاتی زندگی میں اپنی روحی اور نفسیاتی حیات اور اخلاقی فضائل کو کسب کرنے کی طرف مائل ھو اور اپنے جسم و بدن کو مضبوط کرے تاکہ ایک کار آمد طاقت کے لحاظ سے نورانی مورچہ کے لئے تیار رھے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:

”جو شخص امام قائم علیہ السلام کے ناصر و مددگار میں شامل ھونا چاھتا ھے اسے انتظار کرنا چاہئے اور انتظار کی حالت میں تقویٰ و پرھیزگاری کا راستہ اپنانا چاہئے اور نیک اخلاق سے مزین ھونا چاہئے“۔

اس ”انتظار“ کی خصوصیت یہ ھے کہ یہ انسان کو اپنی ذات سے بلند کرتا ھے اور اس کو معاشرہ کے ھر شخص سے جوڑ دیتا ھے، یعنی انتظار نہ صرف انسان کی ذاتی زندگی میں موٴثر ھوتا ھے بلکھ معاشرہ میں انسان کے لئے مخصوص منصوبہ بھی پیش کرتا ھے اور معاشرہ میں مثبت قدم اٹھانے کی رغبت بھی دلاتا ھے، اور چونکہ حضرت امام مھدی علیہ السلام کی حکومت اجتماعی حیثیت رکھتی ھے، لہٰذا ھر انسان اپنے لحاظ سے معاشرہ کی اصلاح کے لئے کوشش کرے اور معاشرہ میں پھیلی برائیوں کے سامنے خاموش اور بے توجہ نہ رھے، کیونکہ عالمی اصلاح کرنے والے کے منتظر کو فکر و عمل کے لحاظ سے اصلاح اور خیر کے راستہ کو اپنانا چاہئے۔

مختصر یہ ھے کہ ”انتظار“ ایک ایسا مبارک چشمہ ھے جس کا آب حیات انسان اور معاشرہ کی رگوں میں جاری ھے، اور زندگی کے تمام پھلوؤں میں انسان کو الٰھی رنگ اور حیات عطا کرتا ھے، اور خدائی رنگ سے بھتر اور ھمیشگی رنگ اور کونسا ھو سکتا ھے؟!

قرآن کریم میں ارشاد ھوتا ھے:

”رنگ تو صرف اللہ کا رنگ ھے اور اس سے بھتر کس کا رنگ ھوسکتا ھے اور ھم سب اسی کے عبادت گزار ھیں “۔

مذکورہ مطالب کے پیش نظر "مصلح کل" حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے منتظرین کی ذمّہ داری ”الٰھی رنگ اپنانے“ کے علاوہ کچھ نھیں ھے جو انتظار کی برکت سے انسان کی ذاتی اور اجتماعی زندگی کے مختلف پھلوؤں میں جلوہ گر ھوتا ھے، جس کے پیش نظر ھماری وہ ذمّہ داریاں ھمارے لئے مشکل نھیں ھوں گی، بلکہ ایک خوشگوار واقعہ کے عنوان سے ھماری زندگی کے ھر پھلو میں ایک بھترین معنی و مفھوم عطا کرے گی۔ واقعاً اگر ملک کا مھربان حاکم اور محبوب امیر قافلہ ھمیں ایک شائستہ سپاھی کے لحاظ سے ایمان کے خیمہ میں بلائے اور حق و حقیقت کے مورچہ پر ھمارے آنے کا انتظار کرے تو پھر ھمیں کیسا لگے گا؟ کیا پھر ھمیں اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں کوئی پریشانی ھوگی کہ یہ کام کرو اور ایسا بنو، یا ھم خود چونکہ انتظار کے راستہ کو پہچان کر اپنے منتخب مقصد کی طرف قدم بڑھاتے ھوئے نظر آئیں گے۔

خود انسان میں مختلف پھلو پائے جاتے ھیں: ایک طرف تو نظری (تھیوری) اور عملی (پریکٹیکل) پھلو اس میں موجود ھے اور دوسری طرف اس میں ذاتی اور اجتماعی پھلو بھی پایا جاتا ھے، اور ایک دوسرے رخ سے جسمانی پھلو کے ساتھ روحی اور نفسیاتی پھلو بھی اس میں موجود ھے، جبکہ اس بات میں کوئی شک نھیں ھے کہ مذکورہ پھلوؤں کے لئے مخصوص قوانین کی ضرورت ھے، تاکہ ان کے تحت انسان کے لئے زندگی کا صحیح راستہ کھل جائے، اور منحرف اور گمراہ کن راستہ بند ھوجائے۔

امام مھدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ظھور کا انتظار، منتظر کے تمام پھلوؤں پر موثر ھے، انسان کے فکری اور نظری پھلو جو انسان کے اعمال و کردار کا بنیادی پھلو ھے ، انسانی زندگی کے بنیادی عقائد پر اپنے حصار کے ذریعہ حفاظت کرتا ھے۔ دوسرے الفاظ میں یوں عرض کیا جائے کہ صحیح انتظار اس بات کا تقاضا کرتا ھے کہ منتظر اپنی اعتقادی اور فکری بنیادوں کو مضبوط کرے تاکہ گمراہ کرنے والے مذاھب کے جال میں نہ پھنس جائے یا امام مھدی علیہ السلام کی طولانی غیبت کی وجہ سے یاس و ناامیدی کے دلدل میں نہ پھنس جائے۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ھیں:

”لوگوں پر ایک زمانہ وہ آئے گا کہ جب ان کا امام غائب ھوگا، خوش نصیب ھے وہ شخص جو اس زمانہ میں ھمارے امر (یعنی ولایت) پر ثابت قدم رھے“۔

یعنی غیبت کے زمانہ میں دشمن نے مختلف شبھات کے ذریعہ یہ کوشش کی ھے کہ شیعوں کے صحیح عقائد کو ختم کردیا جائے، لیکن ھمیں انتظار کے زمانہ میں اپنے عقائد کی حفاظت کرنا چاہئے۔

انتظار ، عملی پھلو میں انسان کے اعمال اور کردار کو راستہ دیتا ھے، ایک حقیقی منتظر کو عملی میدان میں کوشش کرنا چاہئے کہ امام مھدی علیہ السلام کی حکومت حق کا راستہ فراھم ھوجائے، لہٰذا منتظر کو اس سلسلہ میں اپنی اور معاشرہ کی اصلاح کے لئے کمرِ ھمت باندھنا چاہئے، نیز اپنی ذاتی زندگی میں اپنی روحی اور نفسیاتی حیات اور اخلاقی فضائل کو کسب کرنے کی طرف مائل ھو اور اپنے جسم و بدن کو مضبوط کرے تاکہ ایک کار آمد طاقت کے لحاظ سے نورانی مورچہ کے لئے تیار رھے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:

”جو شخص امام قائم علیہ السلام کے ناصر و مددگار میں شامل ھونا چاھتا ھے اسے انتظار کرنا چاہئے اور انتظار کی حالت میں تقویٰ و پرھیزگاری کا راستہ اپنانا چاہئے اور نیک اخلاق سے مزین ھونا چاہئے“۔

اس ”انتظار“ کی خصوصیت یہ ھے کہ یہ انسان کو اپنی ذات سے بلند کرتا ھے اور اس کو معاشرہ کے ھر شخص سے جوڑ دیتا ھے، یعنی انتظار نہ صرف انسان کی ذاتی زندگی میں موٴثر ھوتا ھے بلکھ معاشرہ میں انسان کے لئے مخصوص منصوبہ بھی پیش کرتا ھے اور معاشرہ میں مثبت قدم اٹھانے کی رغبت بھی دلاتا ھے، اور چونکہ حضرت امام مھدی علیہ السلام کی حکومت اجتماعی حیثیت رکھتی ھے، لہٰذا ھر انسان اپنے لحاظ سے معاشرہ کی اصلاح کے لئے کوشش کرے اور معاشرہ میں پھیلی برائیوں کے سامنے خاموش اور بے توجہ نہ رھے، کیونکہ عالمی اصلاح کرنے والے کے منتظر کو فکر و عمل کے لحاظ سے اصلاح اور خیر کے راستہ کو اپنانا چاہئے۔

مختصر یہ ھے کہ ”انتظار“ ایک ایسا مبارک چشمہ ھے جس کا آب حیات انسان اور معاشرہ کی رگوں میں جاری ھے، اور زندگی کے تمام پھلوؤں میں انسان کو الٰھی رنگ اور حیات عطا کرتا ھے، اور خدائی رنگ سے بھتر اور ھمیشگی رنگ اور کونسا ھو سکتا ھے؟!

قرآن کریم میں ارشاد ھوتا ھے:

”رنگ تو صرف اللہ کا رنگ ھے اور اس سے بھتر کس کا رنگ ھوسکتا ھے اور ھم سب اسی کے عبادت گزار ھیں “۔

مذکورہ مطالب کے پیش نظر "مصلح کل" حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے منتظرین کی ذمّہ داری ”الٰھی رنگ اپنانے“ کے علاوہ کچھ نھیں ھے جو انتظار کی برکت سے انسان کی ذاتی اور اجتماعی زندگی کے مختلف پھلوؤں میں جلوہ گر ھوتا ھے، جس کے پیش نظر ھماری وہ ذمّہ داریاں ھمارے لئے مشکل نھیں ھوں گی، بلکہ ایک خوشگوار واقعہ کے عنوان سے ھماری زندگی کے ھر پھلو میں ایک بھترین معنی و مفھوم عطا کرے گی۔ واقعاً اگر ملک کا مھربان حاکم اور محبوب امیر قافلہ ھمیں ایک شائستہ سپاھی کے لحاظ سے ایمان کے خیمہ میں بلائے اور حق و حقیقت کے مورچہ پر ھمارے آنے کا انتظار کرے تو پھر ھمیں کیسا لگے گا؟ کیا پھر ھمیں اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں کوئی پریشانی ھوگی کہ یہ کام کرو اور ایسا بنو، یا ھم خود چونکہ انتظار کے راستہ کو پہچان کر اپنے منتخب مقصد کی طرف قدم بڑھاتے ھوئے نظر آئیں گے۔

 

 

+ نوشته شده توسط khial hussain در Sat 10 Sep 2011 و ساعت 7:59 PM |

 

 

چند سال قبل كینیا (افریقہ) كے ایك باشندے بنام "ابو محمد" نے "ادارہ رابطہ عالم اسلامی" سے حضرت مہدی (ع) كے ظھور كے بارے میں سوال كیا تھا۔

اس ادارے كے جنرل سكریٹری "جناب محمد صالح اتغزاز" نے جو جواب ارسال كیا، اس میں اس بات كی با قاعدہ تصریح كی ھے كہ وھابی فرقے كے بانی "ابن تیمیہ" نے بھی ان روایات كو قبول كیا ھے جو حضرت امام مھدی علیہ السلام كے بارے میں وارد ھوئی ھیں۔ اس جواب كے ذیل میں سكریٹری موصوف نے وہ كتابچہ بھی ارسال كیا ھے جسے پانچ جید علمائے كرام نے مل كر تحریر كیا ھے۔ اس كتابچے كے اقتباسات قارئین محترم كی خدمت میں پیش كئے جاتے ھیں: ۔۔۔۔

عظیم مصلح كا اسم مبارك مھدی (ع) ھے۔ آپ كے والد كا نام "عبد اللہ" ھے اور آپ مكّہ سے ظھور فرمائیں گے۔ ظھور كے وقت ساری دنیا ظلم و جور و فساد سے بھری ھوگی۔ ھر طرف ضلالت و گمراھی كی آندھیاں چل رھی ھوں گی۔ حضرت مہدی (ع) كے ذریعہ خداوندعالم دنیا كو عدل و انصاف سے بھر دے گا، ظلم و جور و ستم كانشان تك بھی نہ ھوگا۔"

رسول گرامی اسلام (ص) كے بارہ جانشینوں میں سے وہ آخری جانشین ھوں گے، اس كی خبر خود پیغمبر اسلام (ص) دے گئے ھیں، حدیث كی معتبر كتابوں میں اس قسم كی روایات كا ذكر باقاعدہ موجود ھے۔"

حضرت مہدی (ع) كے بارے میں جو روایات وارد ھوئی ھیں خود صحابۂ كرام نے ان كو نقل فرمایا ھے ان میں سے بعض كے نام یہ ھیں:۔

(1) علی ابن ابی طالب (ع)، (2) عثمان بن عفان، (3) طلحہ بن عبیدہ، (4) عبد الرحمٰن بن عوف، (5) عبد اللہ بن عباس،(6) عمار یاسر، (7) عبد اللہ بن مسعود، (8) ابوسعید خدری، (9) ثوبان، (10) قرہ ابن اساس مزنی، (11) عبد اللہ ابن حارث، (12) ابوھریرہ، (13) حذیفہ بن یمان، (14) جابر ابن عبد اللہ (15) ابو امامہ، (16) جابر ابن ماجد، (17) عبد اللہ بن عمر (18) انس بن مالك، (19) عمران بن حصین، (20) ام سلمہ۔

پیغمبر اسلام (ص) كی روایات كے علاوہ خود صحابہ كرام كے فرمودات میں ایسی باتیں ملتی ھیں جن میں حضرت مہدی (ع) كے ظھور كو باقاعدہ ذكر كیا گیا ھے۔ یہ ایسا مسئلہ ھے جس میں اجتہاد وغیرہ كا گذر نہیں ھے جس كی بناء پر بڑے اعتماد سے یہ بات كہی جاسكتی ھے كہ یہ تمام باتیں خود پیغمبر اسلام (ص) كی روایات سے اخذ كی گئی ھیں۔ ان تمام باتوں كو علمائے حدیث نے اپنی معتبر كتابوں میں ذكر كیا ھے جیسے:۔

سنن ابی داؤد، سنن ترمذی، ابن ماجہ، سنن ابن عمر والدانی، مسند احمد، مسند ابن یعلی، مسند بزاز، صحیح حاكم، معاجم طبرانی (كبیر و متوسط)، معجم رویانی، معجم دار قطنی، ابو نعیم كی "اخبار المھدی"۔ تاریخ بغداد، تاریخ ابن عساكر، اور دوسری معتبر كتابیں۔

علمائے اسلام نے حضرت مھدی (ع) كے موضوع پر مستقل كتابیں تحریر كی ھیں جن میں سے بعض كے نام یہ ھیں:

اخبار المھدی؛ تالیف: ابو نعیم

القول المختصر فی علامات المھدی المنتظر؛ تالیف: ابن ھجر ھیثمی

التوضیح فی تواتر ماجاء فی المنتظر والد جال والمسیح؛ تالیف: شوكانی

المھدی؛ تالیف: ادریس عراقی مغربی

الوھم المكنون فی الرد علی ابن خلدون؛ تالیف: ابو العباس بن عبد المومن المغربی

مدینہ یونی یورسٹی كے وائس چانسلر نے یونی ورسٹی كے ماھنامہ میں اس موضوع پر تفصیل سے بحث كی ھے، ھر دور كے علماء نے اس بات كی باقاعدہ تصریح كی ھے كہ وہ حدیثیں جو حضرت مھدی (ع) كے بارے میں وارد ھوئی ھیں وہ متواتر ھیں جنھیں كسی بھی صورت سے جھٹلایا نہیں جاسكتا۔ جن علماء نے حدیثوں كے متواتر ھونے كا دعویٰ كیا ھے ان كے نام اور كتابوں كے نام حسب ذیل ھیں، جن میں تواتر كا ذكر كیا گیا ھے:۔

1۔ السخاوی اپنی كتاب فتح المغیث میں

2۔ محمد بن السنادینی اپنی كتاب شرح العقیدہ میں

3۔ ابو الحسن الابری اپنی كتاب مناقب الشافعی میں

4۔ ابن تیمیہ اپنے فتوؤں میں

5۔ سیوطی اپنی كتاب الحاوی میں

6۔ ادریس عراقی مغربی اپنی كتاب المھدی میں

7۔ شوكانی اپنی كتاب التوضیح فی تواتر ماجاء میں

8۔ شوكانی اپنی كتاب فی المنتظر والدجال والمسیح میں

9۔ محمد جعفر كنانی اپنی كتاب نظم المتناثر میں

10۔ ابو العباس عبد المومن المغربی اپنی كتاب الوھم المكنون میں

ھاں ابن خلدون نے ضرور اس بات كی كوشش كی ھے كہ ان متواتر اور ناقابل انكار حدیثوں كو ایك جعلی اور بے بنیاد حدیث لا مھدی الا عیسیٰ (حضرت عیسیٰ كے علاوہ اور كوئی مھدی نہیں ھے) كے ھم پلّہ قرار دے كر ان حدیثوں سے انكار كیا جائے۔ لیكن علمائے اسلام نے اس مسئلہ میں ابن خلدون كے نظریے كی باقاعدہ تردید كی ھے خصوصاً ابن عبد المومن نے تو اس موضوع پر ایك مستقل كتاب الوھم المكنون تحریر كی ھے۔ یہ كتاب تقریباً 30 برس قبل مشرق اور مغرب میں شائع ھوچكی ھے۔

حافظان حدیث اور دیگر علمائے كرام نے بھی ان حدیثوں كے متواتر ھونے كی صراحت فرمائی ھے۔

ان تمام باتوں كی بنا پر ھر مسلمان پر واجب ھے كہ وہ حضرت مھدی كے ظھور پر ایمان و عقیدہ ركھے۔ اھل سنت والجماعت كا بھی یہی عقیدہ ھے اور ان كے عقائد میں سے ایك ھے۔

ھاں وہ اشخاص تو ضرور اس عقیدے سے انكار كرسكتے ھیں جو روایات سے بے خبر ھیں، یادین میں بدعت كو رواج دینا چاھتے ھیں، (ورنہ ایك ذی علم اور دیندار كبھی بھی اس عقیدے سے انكار نہیں كرسكتا۔)"

سكریٹری انجمن فقۂ اسلامی

محمد منتصر كنانی

اس جواب كی روشنی میں یہ بات كس قدر واضح ھوجاتی ھے كہ حضرت مھدی (ع) كے ظھور كا عقیدہ صرف ایك خالص اسلامی عقیدہ ھے كسی بھی دوسرے مذھب سے یہ عقیدہ اخذ نہیں كیا گیا ھے۔

ایك بات ضرور قابل ذكر ھے وہ یہ كہ اس جواب میں حضرت امام مھدی (ع) كے والد بزرگوار كا اسمِ مبارك عبد اللہ ذكر كیا گیا ھے۔ جب كہ اھل بیت علیہم السلام سے جو روایات وارد ھوئی ھیں۔ ان میں بطور یقین حضرت كے والد بزرگوار كا اسم مبارك حضرت امام حسن عسكری علیہ السلام ھے

اس شبہ كی وجہ وہ روایت ھے جس كے الفاظ یہ ھیں "اسم ابیہ اسم ابی" (ان كے والد كا نام میرے والد كا نام ھے) جبكہ بعض دوسری روایات میں ابی (میرے والد) كے بجائے ابنی (میرا فرزند) ھے، صرف نون كا نقطہ حذف ھوجانے یا كاتب كی غلطی سے یہ اختلاف پیدا ھوگیا ھے۔ اسی بات كو "گنجی شافعی" نے اپنی كتاب "البیان فی اخبار صاحب الزمان" میں ذكر كیا ھے، اس كے علاوہ

1۔ یہ جملہ اھل سنت كی اكثر روایات میں موجود نہیں ھے

2۔ ابن ابی لیلیٰ كی روایت كے الفاظ یہ ھیں: اسمہ اسمی اسم ابیہ اسم ابنی۔ (اس كا نام میرا نام ھے، اس كے والد كا نام میرے فرزند كا نام ھے) فرزند سے مراد حضرت امام حسن علیہ السلام ھیں۔

3۔ اھل سنت كی بعض روایات میں اس بات كی تصریح كی گئی ھے كہ امام زمانہ كے والد بزرگوار كا نام حسن ھے۔

4۔ اھلبیت علیہم السلام سے جو روایات وارد ھوئی ھیں جو تواتر كی حد كو پہونچتی ھیں ان میں صراحت كے ساتھ یہ بات ذكر كی گئی ھے كہ حضرت امام مھدی علیہ السلام كے والد بزرگوار كا اسم مبارك حسن ھے

+ نوشته شده توسط khial hussain در Sat 10 Sep 2011 و ساعت 7:56 PM |
 
انسان جب سے مختلف معاشرتی اسباب کی خاطر ایک حکومت کا محتاج ہوا تو منیجمنٹ اور طاقت کو کنٹرول کرنے کے مسئلے سے ۰۰۰۰۰۰
صالحین کی حکومت کی خصوصیات
تحریر: فرشتہ صالحی
ترجمہ: عباس ہمدانی
اس مضمون میں مصنف نے اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ عالم ہستی خیر اور صلاح کی طرف گامزن ہے اور سرانجام خیر کی حکمفرمائی پر ختم ہو گی، صالح افراد کی حکومت کی کچھ خصوصیات کی طرف اشارہ کیا ہے اور حضرت ولی عصر عج کی عالمی حکومت کا زمینہ فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔
انسان، فساد اور تباہی کا ذمہ دار:
انسان جب سے مختلف معاشرتی اسباب کی خاطر ایک حکومت کا محتاج ہوا تو منیجمنٹ اور طاقت کو کنٹرول کرنے کے مسئلے سے روبرو ہوا۔ چونکہ معاشرے کے تمام افراد کسی نہ کسی طرح حکومت کی طاقت میں شریک ہیں لہذا حکومت ایک ایسی جائز طاقت کی مالک بن گئی جس کو کنٹرول کرنا کسی شخص یا گروہ کے بس کی بات نہ تھی۔ اسی وجہ سے "طاقت فساد کی جڑ ہے" کی سوچ انسانی تاریخ کے حافظے میں محفوظ ہو گئی اور جہاں بھی حکومت کے اقتدار اور طاقت کی بات کی جاتی فساد کا مفہوم بھی لوگوں کے ذہن میں آنے لگتا۔ کچھ افراد یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ صالحین کی حکومت کے بارے میں بات کرنا ایک ناممکن چیز کے بارے میں سوچنے کے مترادف ہے کیونکہ طاقت کے ہمراہ فساد کا نہ ہونا ممکن نہیں۔ طاقت ہمیشہ ڈکٹیٹرشپ اور استبداد اور اپنے ذاتی یا گروہی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے جو انسان کی طرف سے حق کو قبول کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ قرآن کریم کے اندر بہت سی باطل اور ناجائز حکومتوں کا تذکرہ ملتا ہے جو زبردستی یا مکر و فریب کے ذریعے لوگوں پر حکمرانی کرتی تھیں اور ان پر ظلم و ستم روا رکھتی تھیں۔ یا ایسی حکومتوں کا تذکرہ ملتا
کچھ افراد یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ صالحین کی حکومت کے بارے میں بات کرنا ایک ناممکن چیز کے بارے میں سوچنے کے مترادف ہے کیونکہ طاقت کے ہمراہ فساد کا نہ ہونا ممکن نہیں۔
ہے جو پہلے تو جمہوری طریقے سے لوگوں پر حاکم ہوتی تھیں لیکن بعد میں منحرف اور باطل افکار اور کردار کی وجہ سے نفسانی خواہشات کا شکار ہو جاتیں اور قوموں کی تباہی کا سبب بن جاتی تھیں۔ شاید فرعون اور نمرود قرآنی آیات میں باطل قوتوں کا بہترین نمونہ ہوں۔ متعدد آیات میں ان کا ذکر ملتا ہے جو ان کی سوچ اور نظریات کو بیان کرتی ہیں۔ ان سب چیزوں کے باوجود قرآن کریم بیان کرتا ہے کہ عالم ہستی اس طرح سے خلق کی گئی ہے کہ وہ خود بخود خیر اور صلاح کی حکمرانی کی طرف گامزن ہے۔ اگرچہ اس آخری مرحلے تک پہنچنے میں بہت سے نشیب و فراز موجود ہیں اور بعض حالات ایسے بھی ہیں جب یہ دکھائی دیتا ہے کہ شر اور فساد خیر اور صلاح پر غلبہ پا چکا ہے۔ لیکن اس وقت بھی خیر اور صلاح ہے جس کو غلبہ حاصل ہے کیونکہ شر اور فساد کے غلبے کا نتیجہ عالم ہستی کی نابودی ہے۔ انسانی معاشرے اور دنیا میں جو فراز و نشیب نظر آتے ہیں وہ انسان کے افعال و کردار کا ہی نتیجہ ہیں۔ اسی لئے قرآن کریم نے واضح الفاظ میں سمندر اور خشکی پر انجام پانے والے فساد کو انسانی افعال کی طرف نسبت دی ہے اور اس پر الزام لگایا ہے کہ وہ دنیا کی نابودی کے اسباب فراہم کر رہا ہے۔ خدا فرماتا ہے:
"ظھر الفساد فی البحر و البر بما کسبت ایدی الناس" (روم/41)
[خشکی اور سمندر میں انسانوں کے اعمال کی خاطر فساد ظاہر ہو گیا ہے]۔
انسانی معاشرہ بعض اوقات ایسی حالت اختیار کر لیتا ہے جس میں شر اور فساد خیر اور صلاح پر مکمل طور پر غالب آ جاتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو انسانی تاریخ میں مختلف انسانی معاشروں کی نابودی کا سبب بنی ہے۔ قرآن کریم میں بھی بہت سی قوموں کی تباہی کی وجہ ان میں شر اور فساد کا غلبہ بتائی گئی ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں بھی ایسا صفایا نظر آتا ہے۔ یہ صفایا دراصل زمین پر صالح افراد کی حکومت قائم کرنے کا پیش خیمہ تھا۔ چونکہ ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم اپنا وظیفہ انجام دیں اور نتیجہ حاصل کرنا ہمارے
ان سب چیزوں کے باوجود قرآن کریم بیان کرتا ہے کہ عالم ہستی اس طرح سے خلق کی گئی ہے کہ وہ خود بخود خیر اور صلاح کی حکمرانی کی طرف گامزن ہے۔
فرائض میں شامل نہیں ہے لہذا ہمیں صالحین کی حکومت کو تحقق بخشنے کیلئے منصوبہ بندی اور کام کرنا چاہیئے۔ اگر ہمیں ظاہری طور پر شکست کا سامنا ہی کیوں نہ پڑے لیکن چونکہ ہم نے اپنے وظیفے پر عمل کیا ہے لہذا یہی ہماری کامیابی ہو گی۔ خدا کا وعدہ یہ ہے کہ صالحین کی عدالت مدار حکومت ساری زمین پر محقق ہو کر رہے گی۔ "ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثھا عبادی الصالحون" (انبیاء/105)
[ہم نے ذکر )تورات( کے بعد زبور میں لکھا ہے کہ ہمارے صالح بندے زمین کے وارث ہوں گے]۔
صالح حکمرانوں کی خصوصیات:
وہ حکمران جن کی حکومت کو قرآن کریم نے صالحین کی حکومت کا نام دیا ہے ایسی خصوصیات کے حامل ہوں گے جس کی وجہ سے سب لوگ ان کا احترام کریں گے۔ حتی خدا کے بزرگ انبیاء ان کے سامنے سر تعظیم خم کریں گے اور ان کے سامنے اپنی وفاداری کا اعلان کریں گے۔ جیسا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کی حکومت کے سامنے سر تعظیم خم کیا اور باتوں اور عمل میں انکی اطاعت کو ثابت کیا۔
"و رفع ابویہ علی العرش و خروا لہ سجدا و قال یا ابت ھذا تاویل رویای من قبل قد جعلھا ربی حقا و قد احسن بی اذ اخرجنی من السجن و جاء بکم من البدو من بعد ان نزغ الشیطان بینی و بین اخوتی ان ربی لطیف لما یشاء انہ ھو العلیم الحکیم" (یوسف/100)
[یوسف نے اپنے ماں اور باپ کو تخت پر بٹھایا، سب اس کے آگے سجدہ کرنے لگے، کہا "اے والد، یہ میرے خواب کی تعبیر ہے جو میں نے دیکھی تھی۔ خدا نے اس کو سچ کر دیا۔ خدا نے مجھ پر کرم کیا جب اس نے مجھے زندان سے نکالا اور آپ کو بیابان سے یہاں لایا۔ جب شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان دشمنی ڈال چکا تھا۔ خدا صاحب لطف ہے کیونکہ وہ دانا اور حکیم ہے]۔
قرآن کریم کی رو سے انسان اور انسانی معاشرے کی ہدایت اور اصلاح کا ایک اہم ترین راستہ طاقت کے مرکز اور معاشرے میں موجود حکومت کی اصلاح
قرآن کریم میں بھی بہت سی قوموں کی تباہی کی وجہ ان میں شر اور فساد کا غلبہ بتائی گئی ہے۔
ہے اور جو انسانی معاشرے چاہتے ہیں کہ وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کو اجاگر کریں انہیں چاہیئے کہ وہ سب سے پہلے اپنی طاقت کے سرچشمے یعنی حکومت کی اصلاح کریں۔ (اعراف/103، مومنون/45،46، قصص/32، زخرف/26، اعراف/129)۔
قرآن کریم کے مطابق مفسد طاقت اور ظالم و جابر حکومت کی موجودگی ہر معاشرے اور سرزمین میں تباہی اور فساد کا باعث بنتی ہے۔ اسی طرح محترم اور باکمال افراد کی تحقیر اور انہیں ایذا رسانی ظالم اور جابر حکومتوں کا وطیرہ رہا ہے۔ ایسی حکومتیں عقل مند اور عالم افراد کے ساتھ برا سلوک کرتی ہیں اور معاشرے کا درد رکھنے والے افراد کیلئے کسی اہمیت کی قائل نہیں ہوتیں۔
"قالت ان الملوک اذا دخلوا قریۃ افسدوھا و جعلوا اعزۃ اھلھا اذلۃ و کذلک یفعلون" (نمل/34)
[ظالم و جابر حکمران جب کسی علاقے میں داخل ہوتے ہیں تو وہاں تباہی اور فساد مچاتے ہیں اور وہاں کے باعزت افراد کو ذلیل کر دیتے ہیں، ان کے افعال اسی طرح ہیں]۔
قرآن کریم کی روشنی میں صالح حکمرانوں کی خصوصیات میں سے ایک احسان اور نیکوکاری ہے۔ احسان اور نیکوکاری کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف قانون کی رو سے عدالت کی بنیاد پر لوگوں سے برتاو کرتے ہیں بلکہ کوشش کی جائے کہ عوام کے ساتھ محبت اور مہربانی سے پیش آئیں اور انکے دلوں میں اپنی جگہ بنا لیں۔ جہاں تک ہو سکے ان کی غلطیوں کو نظر انداز کر دیں اور انہیں بخش ہیں۔
"قالوا یا ایھا العزیز ان لہ ابا شیخا کبیرا فخذ احدنا مکانہ انا نراک من المحسنین" (یوسف/78)
[بھائیوں نے یوسف سے کہا "اے عزیز مصر، اسکا باپ بوڑھا ہے پس اسکی جگہ ہم میں سے کسی کو اپنے پاس رکھ لو، ہمیں لگتا ہے کہ تو احسان کرنے والا اور نیکوکار ہے]۔
قرآن کریم میں حضرت یوسف علیہ السلام کی حکومت صالحین کی حکومت کے ایک نمونے کے طور
قرآن کریم کی رو سے انسان اور انسانی معاشرے کی ہدایت اور اصلاح کا ایک اہم ترین راستہ طاقت کے مرکز اور معاشرے میں موجود حکومت کی اصلاح ہے اور جو انسانی معاشرے چاہتے ہیں کہ وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کو اجاگر کریں انہیں چاہیئے کہ وہ سب سے پہلے اپنی طاقت کے سرچشمے یعنی حکومت کی اصلاح کریں۔
پر پیش کی گئی ہے۔ اگرچہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے آپ پر ظلم و ستم روا رکھا تھا لیکن آپ نے اقتدار اور طاقت ہونے کے باوجود انہیں معاف کردیا اور انکے ساتھ عدالتی انداز میں برتاو نہیں کیا۔ یہ احسان اور نیکوکاری کی بہترین مثال ہے۔ لہذا صالح حکمرانوں کی خصوصیت ہے کہ وہ جہاں تک ہو سکے عفو و درگذر سے کام لیتے ہیں۔ یہ عفو و درگذر حکومتی معاملات میں بھی ممکن ہے اگر دوسرے افراد کا حق ضائع نہ ہو۔ یہ مطلب امام زمان عج کے ساتھ مخصوص دعا میں بھی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے جہاں فرماتے ہیں: و علی الامراء بالعدل و الشفقۃ "حکمرانوں کو چاہیئے کہ وہ اپنی قوموں سے عدالت اور محبت سے پیش آئیں"۔ لہذا ایک صالح حکومت کی بنیاد عدالت کے ساتھ ساتھ احسان اور شفقت پر ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس بات پر بھی توجہ دینا ضروری ہے کہ اگر معاشرے میں فساد حد سے بڑھ جائے اور سارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لے جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں پیش آیا تو پھر وہ سارا معاشرہ غضب الہی کا نشانہ بن جاتا ہے۔
صالحین کی حکومت کی خصوصیات:
اب یہ سوال پیش آتا ہے کہ صالح افراد کی حکومت کی کیا خصوصیات ہیں؟۔ اسکے اہداف اور فرائض کیا ہیں؟۔ اس سوال کا جواب لوگوں کے دلوں میں امید زندہ کرنے کے علاوہ صالحین کی حکومت کی پیچان بھی فراہم کرے گا۔ یہ خصوصِات بیان کرنے کا اصلی مقصد یہ ہے کہ ایسی حکومت کا انتظار کرنے والے اس حکومت کو اچھی طرح پہچانیں اور اس کی نسبت اپنے فرائض اور وظائف پر توجہ دیتے ہوئے اس سمت میں عملی قدم اٹھائیں۔ لہذا گلوبلائزیشن حکومت صالحین کا انتظار کرنے والوں کا ایک ضمنی ہدف ہے اور تمام مومنین اور ظہور کے منتظرین کو چاہیئے کہ ایک عالمی عدالت محور حکومت کے تحقق کا زمینہ فراہم کریں۔ دراصل صالحین کی حکومت کی خصوصیات کو جاننے کا مقصد اس حکومت کے منصوبوں اور اہداف سے آگاہی حاصل کرنا ہے جو حقیقی منتظرین کے وظائف اور فرائض کو تعیین کرتے ہیں۔ ہر کوئی اپنی توانائی اور قدرت کے مطابق ایسی حکومت کے تحقق کیلئے کوشش کرے۔ چونکہ صالح حکمران حکومت اور طاقت کی نسبت ایک خاص سوچ اور نظریہ رکھتے ہیں لہذا اس کو اپنی ذاتی ملکیت تصور نہیں کرتے بلکہ خدا کی طرف سے ایک امانت سمجھتے ہیں جو عارضی
احسان اور نیکوکاری کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف قانون کی رو سے عدالت کی بنیاد پر لوگوں سے برتاو کرتے ہیں بلکہ کوشش کی جائے کہ عوام کے ساتھ محبت اور مہربانی سے پیش آئیں اور انکے دلوں میں اپنی جگہ بنا لیں۔
طور پر انکو سونپی گئی ہے تاکہ اس کے ذریعے اپنے وظائف اور فرائض ادا کر سکیں۔ لہذا حکومت کرتے ہوئے وہ ہمیشہ دل میں خدا کی یاد کو زندہ رکھتے ہیں اور اس بات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں کہ حکومت اور طاقت صرف خدا کی ملکیت ہے۔ اسی وجہ سے انکے کردار اور افعال میں کسی قسم کا غرور اور تکبر دکھائی نہیں دیتا۔ وہ ہمیشہ خود کو خدا کا چھوٹا سا بندہ سمجھتے ہیں۔
"رب قد اتیتنی من الملک و علمتنی من تاویل الاحادیث فاطر السموات و الارض انت ولیی فی الدنیا و الاخرہ توفنی مسلما والحقنی باالصالحین" (یوسف/101)
[خدایا تو نے مجھے حکومت عطا کی اور تعبیر خواب کا علم سکھایا، اے زمین و آسمان کے خلق کرنے والے، تو دنیا اور آخرت میں میرا ولی اور سرپرست ہے، مجھے اسلام کی حالت میں موت عطا کر اور مجھے صالحین سے ملا دے]۔
وہ ہر کام خدا کے ارادے کے مطابق انجام دیتے ہیں اور انکا بھروسہ صرف خدا پر ہوتا ہے۔ صالحین کی حکومت کی باقی خصوصیات خودمحوری اور زور گوئی سے پرہیز، ظلم و ستم سے اجتناب، مشورے کے بعد انجام پائے فیصلوں کو عملی شکل دینے میں استقامت اور پایداری، فردی اور اجتماعی تقوا، علمی صلاحیت، امانت داری اور لوگوں کے حقوق ادا کرنا ہیں۔ اگر مستصعفین اور حقیقی مومنین چاہتے ہیں کہ خدا کا وعدہ تحقق پذیر ہو اور ایک عالمی عدالت مدار حکومت سے بہرہ ور ہو سکیں تو انہیں ایسا ماحول فراہم کرنا پڑے گا جو تیزی کے ساتھ توحید پرستی کا سبب بنے۔ قرآن کریم کی نظر میں اگرچہ عالمی اسلامی حکومت کا قیام ایک قدرتی عمل ہے لیکن قوموں کا ارادہ بھی اس میں اہم کردار کا حامل ہے۔ اسی بارے میں خدا فرماتا ہے کہ وہ ایسی قوموں کی حالت زار تبدیل نہیں کرتا جو خود اپنی حالت تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرتیں۔ صالحین کی حکومت کی ایک اور خصوصیت امن و امان اور حقیقی صلح کا قیام ہے۔ ایسی حکومت کے سایے میں دین تمام دنیا پر حاکم ہو جائے گا۔ شرک کا خاتمہ ہو جائے گا۔
یہ صالحین کی حکومت کی بعض خصوصیات ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ہم حقیقی منتظر ہونے کے ناطے ان کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ عدالت محور حکومت کے عالمی ہونے کا زمہنہ فراہم ہو سکے۔
+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 16 Aug 2011 و ساعت 11:49 AM |
 
امام زمانہ حضرت امام مہدی علیہ السلام سلسلہ عصمت محمدیہ کی چودھویں اور سلک امامت علویہ کی بارھویں کڑی ہیں۰۰۰۰۰۰۰
حضرت امام مھدی علیہ السلام کی سوانح حیات
 امام زمانہ حضرت امام مہدی علیہ السلام سلسلہ عصمت محمدیہ کی چودھویں اور سلک امامت علویہ کی بارھویں کڑی ہیں۔ آپ کے والد ماجد حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اور والدہ ماجدہ جناب نرجس خاتون تھِیں۔ آپ اپنے آباء و اجدادکی طرح امام منصوص، معصوم، اعلم زمانہ اور افضل کائنات ہیں۔ آپ بچپن ہی میں علم و حکمت کے زیور سے آراستہ تھے۔ آپ کو پانچ سال کی عمر میں ویسی ہی حکمت دے دی گئی تھی، جیسی حضرت یحیی علیہ السلام کو ملی تھی اور آپ بطن مادر میں اسی طرح امام قرار دیئے گئے تھے، جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام نبی قرار پائے تھے۔ آپ علیہ السلام کا مقام انبیاء سے بالاتر ہے۔ آپ کے بارے میں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بے شمار پیشین گوئیاں فرمائی ہیں اور وضاحت کی ہے کہ آپ حضور کی عترت اور حضرت فاطمة الزہرا کی اولاد سے ہوں گے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کا ظہور آخری زمانہ میں ہو گا اور حضرت عیسی علیہ السلام ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام میرے خلیفہ کی حیثیت سے ظہور کریں گے اور "یختم الدین بہ کما فتح بنا" جس طرح میرے ذریعہ سے دین اسلام کا آغاز ہوا اسی طرح ان کے ذریعہ سے مہر اختتام لگا دی جائے گی۔ آپ نے اس کی بھی وضاحت فرمائی ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کا اصل نام میرے نام کی طرح اور کنیت میری کنیت کی طرح ہو گی۔ وہ جب ظہور کریں گے تو ساری دنیا کو عدل و انصاف سے اسی طرح پر کر دیں گے جس طرح وہ اس وقت ظلم و جور سے بھری ہو گی۔ ظہور کے بعد سب پر واجب ہے کہ ان کی فورا بیعت کریں کیونکہ وہ خداکے خلیفہ ہوں گے۔ 
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت با سعادت:
مورخین کا اتفاق رائے ہے کہ آپ کی ولادت باسعادت ۱۵ شعبان ۲۵۵ ھجری بروز جمعہ بوقت طلوع فجر ہوئی ہے۔ جیسا کہ (وفیات الاعیان، روضة الاحباب، تاریخ ابن الوردی، ینابع المودة، تاریخ کامل طبری، کشف الغمہ، جلاءالعیون، اصول کافی، نور الا بصار، ارشاد، جامع عباسی، اعلام الوری، اور انوار الحسینیہ وغیرہ میں موجود ہے) 
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی پھوپھی جناب حکیمہ خاتون کا بیان ہے کہ ایک روز میں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے پاس گئی تو آپ نے فرمایا کہ اے پھوپھی آپ آج ہمارے ہی گھر میں رہئے کیونکہ خداوند عالم مجھے آج ایک وارث عطا فرمائے گا۔ میں نے کہا کہ یہ فرزند کس کے بطن سے ہو گا۔ آپ نے فرمایا کہ بطن نرجس سے متولد ہوگا۔ میں نے کہا :بیٹے! میں تو نرجس میں حمل کے آثار نہیں پاتی۔ امام نے فرمایا کہ اے پھوپھی، نرجس کی مثال مادر موسی جیسی ہے۔ جس طرح حضرت موسی علیہ السلام کا حمل ولادت کے وقت سے پہلے ظاہر نہیں ہوا تھا، اسی طرح میرے فرزند کا حمل بھی بر وقت ظاہر ہو گا۔ غرضکہ میں امام کے فرمانے سے اس شب وہیں رہی۔ جب آدھی رات گذر گئی تو میں اٹھی اور نماز تہجد میں مشغول ہو گئی اور نرجس بھی اٹھ کر نماز تہجد پڑھنے لگی۔ اس کے بعد میرے دل میں یہ خیال گذرا کہ صبح قریب ہے اور امام حسن عسکری علیہ السلام نے جو کہا تھا وہ ابھی تک ظاہر نہیں ہوا۔ اس خیال کے دل میں آتے ہی امام علیہ السلام نے اپنے حجرہ سے آواز دی: اے پھوپھی جلدی نہ کیجئے، حجت خدا کے ظہور کا وقت بالکل قریب ہے۔ یہ سن کر میں نرجس کے حجرہ کی طرف پلٹی۔ نرجس مجھے راستے ہی میں ملیں، مگر ان کی حالت اس وقت متغیر تھی۔ وہ لرزہ براندام تھیں اور ان کا سارا جسم کانپ رہا تھا۔ میں نے یہ دیکھ کر ان کو اپنے سینے سے لپٹا لیا اور سورہ اخلاص، قدر اور آیة الکرسی کی تلاوت کرنے لگی۔ بطن مادر سے بچے کی آواز آنے لگی، یعنی میں جو کچھ پڑھتی تھی وہ بچہ بھی بطن مادر میں اس کو دہراتا تھا۔  اس کے بعد میں نے دیکھا کہ تمام حجرہ روشن و منور ہو گیا۔ اب جو میں دیکھتی ہوں تو ایک مولود مسعود زمین پر سجدہ میں پڑا ہوا ہے۔ میں نے بچہ کو اٹھا لیا۔ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے حجرہ سے آواز دی: اے پھوپھی! میرے فرزند کو میرے پاس لائیے۔ میں لے گئی۔ آپ نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا اور اپنی زبان بچے کے منہ میں دے دی اور کہا: اے فرزند! خدا کے حکم سے کچھ بات کرو۔ بچے نے اس آیت "بسم اللہ الرحمن الرحیم ونرید ان نمن علی اللذین استضعفوا فی الارض ونجعلھم الوارثین" کی تلاوت کی جس کا ترجمہ یہ ہے کہ "ہم چاہتے ہیں کہ احسان کریں ان لوگوں پر جو زمین پر کمزور کردیئے گئے ہیں اور ان کو امام بنائیں اور انھیں زمین کاوارث قرار دیں"۔
اس کے بعد کچھ سبز طائروں نے آ کر ہمیں گھیر لیا۔ امام حسن عسکری نے ان میں سے ایک طائر کو بلایا اور بچے کو دیتے ہوئے کہا کہ اس کو لے جا کر اس کی حفاظت کرو یہاں تک کہ خدا اس کے بارے میں کوئی حکم دے، کیونکہ خدا اپنے حکم کو پورا کر کے رہے گا۔ میں نے امام حسن عسکری سے پوچھا کہ یہ طائر کون تھا اور دوسرے طائر کون تھے؟۔ آپ نے فرمایا کہ جبرئیل تھے اور دوسرے فرشتگان رحمت تھے۔ اس کے بعد اس مولود مسعود کو اس کی ماں کے پاس پہنچا دیا گیا۔ کتاب شواہد النبوت اور وفیات الاعیان و روضة الاحباب میں ہے کہ جب آپ پیدا ہوئے تو مختون اور ناف بریدہ تھے اور آپ کے داہنے بازو پر یہ آیت منقوش تھی "جاء الحق و زھق الباطل ان الباطل کان زھوقا" یعنی حق آیا اور باطل مٹ گیا اور باطل مٹنے ہی کے قابل تھا"۔ 
آپ کا نسب نامہ:
آپ کا پدری نسب نامہ یہ ہے: محمد بن حسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی۔ آپ فرزند رسول، دلبند علی اور نور نظر بتول علیھم السلام ہیں۔ آپکا سلسہ نسب ماں کی طرف سے حضرت شمعون بن حمون الصفاٴ وصی حضرت عیسی علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔ علامہ مجلسی اور علامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ آپ کی والدہ جناب نرجس خاتون تھیں ، جن کاایک نام "ملیکہ" بھی تھا۔ نرجس خاتون یشوعا کی بیٹی تھیں، جو روم کے بادشاہ "قیصر" کے فرزند تھے۔ ان کاسلسلہٴ نسب وصی حضرت عیسی علیہ السلام جناب شمعون تک منتہی ہوتا ہے۔ 
آپ کا اسم گرامی:
آپ کا نام نامی و اسم گرامی "محمد" اور مشہور لقب "مہدی" ہے۔ علماء کا کہنا ہے کہ آپ کا نام زبان پر جاری کرنے کی ممانعت ہے۔ علامہ مجلسی رہ اس کی تائید کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "حکمت آن مخفی است" یعنی اس کی وجہ پوشیدہ اور غیر معلوم ہے۔ 
آپ کی کنیت: 
سب علماء متفق ہیں کہ آپ کی کنیت "ابوالقاسم" اور "ابوعبداللہ" تھی اور اس پر بھی علماء متفق ہیں کہ "ابوالقاسم" خود سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تجویز کردہ ہے۔ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "مہدی کا نام میرا نام اور ان کی کنیت میری کنیت ہو گی"۔ 
آپ کے القاب:
آپ کے القاب مہدی، حجة اللہ، خلف الصالح، صاحب الامر، صاحب العصر  و الزمان، القائم، الباقی اور المنتظر ہیں۔ حضرت دانیال نبی نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سے ۱۴۲۰ سال پہلے آپ کا لقب منتظر قرار دیا ہے۔ 
آپ کا حلیہ مبارک:
کتاب اکمال الدین میں شیخ صدوق رہ فرماتے ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے کہ مہدی، شکل و شباہت، خلق و خلق، شمائل و خصائل، اقوال و افعال میں میرے مشابہہ ہوں گے۔ آپ کے حلیہ کے متعلق علماء نے لکھا ہے کہ آپ کا رنگ گندم گون، قد میانہ ہے۔ آپ کی پیشانی کھلی ہوئی ہے اور آپ کے ابرو گھنے اور باہم پیوستہ ہیں۔ آپ کی ناک باریک اور بلند ہے۔ آپ کی آنکھیں بڑی اور آپ کا چہر ہ نہآیت نورانی ہے۔ آپ کے داہنے رخسارہ پرایک تل ہے "کانہ کوکب دری" جو ستارہ کی مانند چمکتا ہے۔ آپ کے دانت چمکدار اور کھلے ہوئے ہیں۔ آپ کی زلفیں کندھوں پر پڑی رہتی ہیں۔ آپ کا سینہ چوڑا اور آپ کے کندھے کھلے ہوئے ہیں۔ آپ کی پشت پر اسی طرح مہر امامت ثبت ہے جس طرح پشت رسالت مآب پر مہر نبوت ثبت تھی۔ 
تین سال کی عمر میں حجت اللہ ہونے کا دعوی: 
علامہ اربلی لکھتے ہیں کہ احمد ابن اسحاق اور سعد الاشقری ایک دن حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے خیال کیا کہ آج امام علیہ السلام سے یہ دریافت کریں گے کہ آپ کے بعد حجت اللہ فی الارض کون ہوگا۔ جب سامنا ہوا تو امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا کہ اے احمد! تم جو دل میں لے کر آئے ہو میں اس کا جواب تمہیں دیئے دیتا ہوں۔ یہ فرما کر آپ اپنے مقام سے اٹھے اور اندر جا کر یوں واپس آئے کہ آپ کے کندھے پر ایک نہآیت خوب صورت بچہ تھا جس کی عمر تین سال تھی۔ آپ نے فرمایا کہ اے احمد! میرے بعد حجت خدا یہ ہو گا۔ اس کا نام محمد اور اس کی کنیت ابوالقاسم ہے۔ یہ خضر کی طرح زندہ رہے گا اور ذوالقرنین کی طرح ساری دنیا پر حکومت کرے گا۔ احمدبن اسحاق نے کہا مولا! کوئی ایسی علامت بتا دیجئے کہ جس سے دل کو اطمینان کامل ہو جائے۔ آپ نے امام مہدی علیہ السلام کی طرف متوجہ ہو کرفرمایا: بیٹا! اس کو تم جواب دو" ۔ امام مہدی علیہ السلام نے کمسنی کے باوجود بزبان فصیح فرمایا: "انا حجة اللہ و انا بقیة اللہ"۔ میں ہی خدا کی حجت اور حکم خدا سے باقی رہنے والا ہوں۔ یہ سن کر احمد خوش و مسرور اور مطمئن ہو گئے۔ 
پانچ سال کی عمرمیں خاص الخاص اصحاب سے آپ کی ملاقات:
یعقوب بن منقوش، محمد بن عثمان عمری، ابی ہاشم جعفری اور موسی بن جعفر بن وہب بغدادی کا بیان ہے کہ ہم حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی مولا! آپ کے بعد امر امامت کس کے سپرد ہو گا؟ اور کون حجت خدا قرار پائے گا؟۔ آپ نے فرمایا کہ میرا فرزند محمد میرے بعد حجت اللہ فی الارض ہو گا۔ ہم نے عرض کی مولا ہمیں ان کی زیارت کروا دیجئے۔ آپ نے فرمایا وہ پردہ جو سامنے آویختہ ہے اسے اٹھاؤ۔ ہم نے پردہ کو اٹھایا تو اس سے ایک نہآیت خوب صورت بچہ جس کی عمر پانچ سال تھی برآمد ہوا اور وہ آ کر امام حسن عسکری علیہ السلام کی آغوش میں بیٹھ گیا۔ امام نے فرمایا کہ یہی میرا فرزند میرے بعد حجت اللہ ہو گا۔ محمد بن عثمان کا کہنا ہے کہ ہم اس وقت چالیس افراد تھے اور ہم سب نے ان کی زیارت کی۔ امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے فرزند امام مہدی علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اندر واپس چلے جائیں اور ہم سے فرمایا: "تم آج کے بعد پھر اسے نہ دیکھ سکو گے"۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور غیبت صغری شروع ہو گئی۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت:
امام مہدی علیہ السلام کی عمرابھی صرف پانچ سال کی ہوئی تھی کہ خلیفہ معتمد بن متوکل عباسی نے مدتوں قید رکھنے کے بعد امام حسن عسکری علیہ السلام کو زہر دے دیا جس کی وجہ سے آپ بتاریخ ۸ ربیع الاول ۲۶۰ ہجری مطابق ۸۷۳ ء بعمر ۲۸ سال رحلت فرما گئے۔ "و خلف من الولد ابنہ محمد" اور آپ نے اولاد میں صرف امام مہدی علیہ السلام کو چھوڑا۔ علامہ شلنجبی لکھتے ہیں کہ جب آپ کی شہادت کی خبر مشہور ہوئی تو سارے شہر سامرہ میں ہلچل مچ گئی۔ فریاد و فغاں کی آوازیں بلند ہوگئیں۔ سارے شہر میں ہڑتال کر دی گئی۔ لوگوں نے اپنے کار و بار چھوڑ دیئے۔ تمام بنی ہاشم، حکام، منشی، قاضی، ارکان عدالت، اعیان حکومت اور عامہ خلائق حضرت کے جنازے کے لئے دوڑ پڑے۔ حالت یہ تھی کہ شہر سامرہ قیامت کا منظر پیش کر رہا تھا۔ تجہیز اور نماز سے فراغت کے بعد آپ کو اسی مکان میں دفن کر دیا گیا جس میں حضرت امام علی نقی علیہ السلام مدفون تھے۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی غیبت:
بادشاہ وقت خلیفہ معتمد بن متوکل عباسی جو اپنے آباء و اجداد کی طرح ظلم و ستم کا خوگر اور آل محمد کا جانی دشمن تھا کے کانوں میں مہدی کی ولادت کی بھنک پڑ چکی تھی۔ اس نے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد تکفین و تدفین سے پہلے بقول علامہ مجلسی حضرت کے گھر پر چھاپہ ڈلوایا اور چاہا کہ امام مہدی علیہ السلام کو گرفتار کر لے لیکن چونکہ وہ بحکم خدا ۲۳ رمضان المبارک ۲۵۹ ہجری کو سرداب میں جا کر غائب ہو چکے تھے اس لئے وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اس نے اس کے رد عمل میں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی تمام بیویوں کو گرفتار کر لیا اور حکم دیا کہ اس امر کی تحقیق کی جائے کہ آیا کوئی ان میں سے حاملہ تو نہیں ہے۔ اگر کوئی حاملہ ہو تو اس کا حمل ضائع کر دیا جائے۔ کیونکہ وہ حضرت سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیشین گوئی سے خائف تھا کہ آخری زمانہ میں میرا ایک فرزند جس کا نام مہدی ہو گا عالمی انقلاب کا ضامن ہو گا۔ اور اسے یہ معلوم تھا کہ وہ فرزند امام حسن عسکر ی علیہ السلام کی اولاد سے ہو گا۔ لہذا اس نے آپ کی تلاش اور قتل کی پوری کوشش کی۔ سامراء کی آبادی بہت ہی قدیمی ہے اور دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ اسے سام بن نوح نے آباد کیا تھا۔ اس کا اصلی نام "سام راہ" تھا جو بعد میں سامراء ہو گیا۔ آب و ہوا کی عمدگی کی وجہ سے خلیفہ معتصم نے فوجی کیمپ بنا کر آباد کیا تھا اور اسی کو دارالسلطنت بھی بنا دیا تھا۔ اس کی آبادی ۸ فرسخ لمبی تھی۔ اسے اس نے نہآیت خوبصورت شہر بنا دیا تھا اسی لئے اس کا نام سرمن رائے رکھ دیا تھا۔ یعنی وہ شہر جسے جو بھی دیکھے خوش ہو جائے۔ عسکری اسی کا ایک محلہ ہے جس میں امام علی نقی علیہ السلام نظر بند تھے۔ بعد میں انھوں نے دلیل بن یعقوب نصرانی سے ایک مکان خرید لیا جس میں اب بھی آپ کا مزار مقدس واقع ہے۔
حضرت حجت علیہ السلام کے غائب ہونے کا سرداب وہیں ایک مسجد کے کنارے واقع ہے جو کہ حضرت امام علی نقی علیہ السلام اور حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے مزار اقدس کے قریب واقع ہے۔
آسمانی کتابوں میں امام مہدی علیہ السلام کا ذکر:
حضرت داؤد پر نازل ہونے والی آسمانی کتاب "زبور" کی آیت ۴ مرموز ۹۷ میں ہے کہ "آخری زمانہ میں جو انصاف کا مجسمہ انسان آئے گا اس کے سر پر بادل سایہ فگن ہو گا"۔ کتاب زبور مرموز ۱۲۰ میں ہے "جو آخرالزمان آئے گا اس پر آفتاب اثرانداز نہ ہو گا"۔ صحیفہ شعیا پیغمبرکے باب ۱۱ میں ہے کہ "جب نور خدا ظہور کرے گا تو عدل و انصاف کا ڈنکا بجے گا۔ شیر اور بکری ایک جگہ رہیں گے۔ چیتا اور بزغالہ ایک ساتھ چریں گے۔ شیر اور گوسالہ ایک ساتھ رہیں گے"۔ پھر اسی کتاب کے باب ۲۷ میں ہے کہ "یہ نور خدا جب ظاہر ہو گا تو تلوار کے ذریعہ سے تمام دشمنوں سے بدلہ لے گا"۔ صحیفہ تنجاس حرف الف میں ہے کہ "ظہور کے بعد ساری دنیا کے بت مٹا دئیے جائیں گے۔ ظالم اور منافق ختم کر دئیے جائیں گے۔ یہ ظہور کرنے والا کنیز خدا (نرجس) کا بیٹا ہو گا"۔ توریت کے سفر انبیاء میں ہے کہ "مہدی ظہور کریں گے۔ عیسی آسمان سے اتریں گے۔ دجال کو قتل کریں گے"۔ انجیل میں ہے کہ "مہدی اور عیسی دجال اور شیطان کو قتل کریں گے"۔ 
امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ: 
خالق کائنات نے انسان کی ہدایت کیلئے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اور کثیر التعداد اوصیاء بھیجے۔ پیغمبروں میں سے سب سے آخر میں چونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تھے لہذا ان کے جملہ صفات و کمالات و معجزات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں جمع کر دئیے اور چونکہ آپ کو بھی اس دنیائے فانی سے جانا تھا اس لئے آپ نے اپنی زندگی ہی میں حضرت علی علیہ السلام کو ہر قسم کے کمالات سے آراستہ کر دیا تھا۔ سرور کائنات کے بعد دنیا میں صرف ایک علی علیہ السلام کی ہستی تھی جو کمالات انبیاء کی حامل تھی۔ آپ کے بعد سے یہ کمالات اوصیاء میں منتقل ہوتے ہوئے امام مہدی علیہ السلام تک پہنچے۔ خلیفہ وقت امام مہدی علیہ السلام کو قتل کرنا چاہتا تھا۔ اگر وہ قتل ہو جاتے تو دنیا سے انبیاء و اوصیاء کا نام و نشان مٹ جاتا اور سب کی یادگار ختم ہو جاتی۔ چونکہ انھیں انبیاء کے ذریعہ سے خداوند عالم متعارف ہوا تھا لہذا اس کا بھی ذکر ختم ہو جاتا۔ اس لئے ضرورت تھی کہ ایسی ہستی کو محفوظ رکھا جائے جو جملہ انبیاء اور اوصیاء کی یادگار اور سب کے کمالات کی مظہر تھی۔ دوسرا یہ کہ خداوند عالم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے "و جعلھا کلمة باقیة فی عقبہ"۔ ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں کلمہ باقیہ قرار دیا ہے۔ نسل ابراہیم علیہ السلام دو فرزندوں سے چلی ہے۔ ایک اسحاق اور دوسرے اسماعیل۔ اسحاق کی نسل سے خداوند عالم نے حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ و باقی قرار دے کر آسمان پر محفوظ کر لیا تھا۔ نسل اسماعیل سے بھی امام مہدی علیہ السلام کو باقی رکھا۔ تیسرا یہ کہ سنت الہی ہے کہ زمین حجت خدا سے خالی نہیں رہ سکتی۔ چونکہ حجت خدا اس وقت امام مہدی علیہ السلام کے سوا کوئی نہ تھا اور انھیں دشمن قتل کر دینے پر تلے ہوئے تھے اس لئے انھیں محفوظ و مستور کر دیا گیا۔ حدیث میں ہے کہ حجت خدا کی وجہ سے بارش ہوتی ہے اور انھیں کے ذریعہ سے روزی تقسیم کی جاتی ہے (بحار الانوار)۔ 
غیبت صغری اور آپ کے نائبین:
آپ کی غیبت کی دو حیثیتیں تھیں، ایک صغری اور دوسری کبری۔ غیبت صغری کی مدت 69 سال تھی۔ اس کے بعد غیبت کبری شروع ہو گئی۔ غیبت صغری کے زمانے میں آپ کا ایک نائب خاص ہوتا تھا جس کے ذریعہ ہر قسم کا نظام چلتا تھا۔ سوال و جواب، خمس و زکوة اور دیگر مراحل اسی کے واسطہ طے ہوتے تھے۔ خصوصی مقامات محروسہ میں اسی کے ذریعہ اور سفارش سے سفراٴ مقرر کئے جاتے تھے۔
سب سے پہلے نائب خاص حضرت عثمان بن سعید عمری تھے۔ آپ حضرت امام علی نقی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے معتمد خاص اور اصحاب خاص میں سے تھے۔  آپ کی وفات کے بعد بحکم امام مہدی علیہ السلام آپ کے فرزند،حضرت محمد بن عثمان بن سعید اس عظیم منزلت پر فائز ہوئے۔ آپ کی وفات جمادی الاول ۳۰۵ ہجری میں واقع ہوئی ہے۔ ان کی وفات کے بعد حضرت امام مہدی علیہ السلام کے حکم سے حضرت حسین بن روح اس منصب عظیم پر فائز ہوئے۔ حضرت حسین بن روح کی کنیت ابوقاسم تھی۔ ان کی وفات شعبان ۳۲۶ ھجری میں ہوئی۔ ان کی وفات کے بعد بحکم امام مہدی علیہ السلام حضرت علی بن محمد السمری اس عہدہ ٴجلیلہ پر فائز ہوئے۔ آپ کی کنیت ابوالحسن تھی۔جب آپ کا وقت وفات قریب آیا تو آپ سے کہا گیا کہ آپ اپنے بعد کا کیا انتظام کریں گے۔ آپ نے فرمایا کہ اب آئندہ یہ سلسہ قائم نہ رہے گا۔ ملاجامی اپنی کتاب شواہدالنبوت کے ص ۲۱۴ میں لکھتے ہیں کہ محمد السمری کے انتقال سے ۶ روز قبل امام مہدی علیہ السلام کا ایک فرمان ناحیہ مقدسہ سے برآمد ہوا جس میں ان کی وفات کا ذکر اور سلسہٴ سفارت کے ختم ہونے کا تذکرہ تھا۔ امام مہدی علیہ السلام کے خط کے الفاظ یہ ہیں:
"بسم اللہ الرحمن ا لرحیم 
اے علی بن محمد! خداوند عالم تمھارے بارے میں تمھارے بھائیوں اور تمھارے دوستوں کو اجر جزیل عطا کرے، تمہیں معلوم ہو کہ تم چھ روز میں وفات پانے والے ہو۔ تم اپنے انتظامات کر لو۔ اور آئندہ کے لئے اپنا کوئی قائم مقام تجویز نہ کرو۔ اس لئے کہ غیبت کبری واقع ہو گئی ہے اور اذن خدا کے بغیر ظہور ناممکن ہو گا۔ یہ ظہور بہت طویل عرصہ کے بعد ہو گا"۔
+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 16 Aug 2011 و ساعت 11:49 AM |
+ نوشته شده توسط khial hussain در Sun 3 Jul 2011 و ساعت 4:48 PM |

فتح كا انداز (حصّہ ششم)

حضرت مھدی سلام اللہ علیہ

عدلیہ

ظلم و جور، ستم و استبداد نا انصافی و نا برابری كا قلع قمع كرنے كے لئے جہاں ایمان و اخلاق كی سخت ضرورت ھے وھاں صحیح نظام كے لئے طاقت ور عدلیہ كی بھی ضرورت ھے۔

صنعت اور ٹكنالوجی كی ترقی كی بنا پر یہ ممكن ھوجائے گا كہ انسانوں كی حركات و سكنات پر نظر ركھی جاسكے۔ ان اقدامات پر پابندی عائد كی جاسكے جو فساد كی خاطر كئے جاتے ھیں۔ مجرموں كی آوازیں ٹیپ كرنا، ان كے خفیہ اعمال كی تصویر لینا … ان چیزوں سے مجرموں پر گرفت مضبوط ھوجائے گی۔ مجرموں كی نگرانی كامیاب حكومت كے لئے بہت ضروری ھے۔

اس میں كوئی شك نہیں كہ حضرت كے زمانے میں اخلاقی تعلیمات اتنی عام ھوجائیں گی كہ عوام كی اكثریت سعادتمند معاشرے كی تشكیل كے لئے آمادہ ھوجائے گی۔ عوام كو اخلاقی تربیت سے سماج كے كافی مسائل حل ھوجائیں گے۔

لیكن انسان آزاد پیدا كیا گیا ھے۔ اپنے اعمال میں اسے پورا اختیار حاصل ھے۔ اس لئے اس بات كا امكان ضرور ھے كہ ایك صحت مند سماج میں ایسے افراد پائے جائیں جو خواہ مخواہ فساد پھیلانا چاھتے ھوں۔

اس بنا پر سماج كی مكمل اصلاح كے لئے وسیع الاختیار عدلیہ كی ضرورت ھے تاكہ مجرموں كو ان كے جرم كا بدلہ دیا جا سكے۔

جرائم كے علل و اسباب پر غور كرنے سے معلوم ھوتا ھے كہ بہت سے جرائم كو ان طریقوں سے روكا جاسكتا ھے:

1) عادلانہ تقسیم

ضروریات زندگی كی عادلانہ تقسیم سے كافی جرائم ختم ھوجاتے ھیں۔ عادلانہ تقسیم سے طبقاتی كش مكش ختم ھوجاتی ھے۔ ذخیرہ اندوزی، چور بازاری، گراں فروشی، اور سرمایہ داروں كی ناروا سختیاں نیز سرمایہ دارون كی باھمی چپقلیش … سب كافی حد تك ختم ھوجائیں گی۔

2) صحیح تربیت

صحیح تربیت بھی مفاسد اور جرائم كی روك تھام میں كافی موثر ھے۔ اس وقت دنیا میں فساد كی گرم بازاری، جرائم كی فراوانی اس وجہ سے ھے كہ تعلیم كے لئے تو ضرور نئے نئے طریقے اختیار كئے جارھے ھیں لیكن تربیت كا كوئی معقول انتظام نہیں ھے۔ تعلیم كو صحیح راستے پر لگانے كے بجائے تعلیم سے فساد كی شاھراہ تعمیر كی جارھی ھے غیر اخلاقی فلمیں، ڈرامے، كتابیں، اخبار، رسالے سب انسان كے اخلاقیات پر حملہ آور ھیں۔

لیكن جب تعلیم كے ساتھ ساتھ تربیت كا بھی جدید ترین معقول انتظام ھوگا، عالمی حكومت انسانوں كی تربیت پر بھرپور توجہ دے گی۔ وہ مفاسد اور جرائم خود بخود ختم ھوجائیں گے جن كا سرچشمہ عدم تربیت یا ناقص تربیت ھے۔

3) طاقت ور عدلیہ

ایك ایسی عدلیہ كا وجود جس سے نہ مجرم فرار كرسكتا ھے اور نہ فیصلوں سے سرتابی اس وقت دنیا كے ھر ملك میں عدلیہ موجود ھے۔ لیكن یا تو عدلیہ كی گرفت مجرم پر مضبوط نہیں ھے یا عدلیہ میں صحیح فیصلے كی صلاحیت نہیں ھے، یا دونوں ھی نقص موجود ھیں بلكہ بعض مجرم عدلیہ كی شہ پر جرم كرتے ھیں۔

لیكن ایك ایسی عدلیہ جس كی گرفت بھی مجرم پر سخت ھو اور جو فیصلوں میں رو رعایت نہ كرتی ھو، فساد اور جرائم كے انسداد میں ایك اھم كردار ادا كرتی ھے۔

اگر یہ تینوں باتیں یكجا ھوجائیں، عادلانہ تقسیم۔ صحیح تربیت اور طاقت ور عدلیہ تو آپ خود فیصلہ كرسكتے ھیں كہ كتنے عظیم پیمانے پر جرائم كا سد باب ھوجائے گا اور سماج كی اصلاح میں كس قدر موثر اقدام ھوگا۔

روایات سے استفادہ ھوتا ھے كہ حضرت مھدی سلام اللہ علیہا كے زمانۂ حكموت میں یہ تینوں عوامل اپنے عروج پر ھوں گے۔

مدّتِ حكومت

احادیث میں حضرت كی حكومت كے سلسلے میں مختلف روایتیں ملتی ھیں۔ روایتیں 5 سال سے 309 سال (جتنے دنوں اصحاب كہف غار میں سوتے رھے) تك ھیں۔ یہ مختلف اعداد ھوسكتا ھے كہ حكومت كے مختلف مراحل كی طرف اشارہ كر رھے ھوں مرحلہ انقلاب مرحلہ استحكام اور مرحلہ حكومت ان تمام باتوں سے قطع نظر یہ ایك حقیقت ھے كہ مُدّتوں كا انتظار، یہ تیاریاں، یہ مقدمات كسی ایسی حكومت كے لئے زیب نہیں دیتے جس كی عمر مختصر ھو۔ حضرت كی حكومت كی عمر یقیناً طولانی ھوگی تاكہ ساری زحمتیں ثمر آور ھو سكیں ویسے حقائق كا علم ذاتِ احدیت كو  ھے۔

                                                                                                                                                               ختم شد.

+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 22 Mar 2011 و ساعت 11:51 AM |

فتح كا انداز (حصّہ ششم)

حضرت مھدی سلام اللہ علیہ

عدلیہ

ظلم و جور، ستم و استبداد نا انصافی و نا برابری كا قلع قمع كرنے كے لئے جہاں ایمان و اخلاق كی سخت ضرورت ھے وھاں صحیح نظام كے لئے طاقت ور عدلیہ كی بھی ضرورت ھے۔

صنعت اور ٹكنالوجی كی ترقی كی بنا پر یہ ممكن ھوجائے گا كہ انسانوں كی حركات و سكنات پر نظر ركھی جاسكے۔ ان اقدامات پر پابندی عائد كی جاسكے جو فساد كی خاطر كئے جاتے ھیں۔ مجرموں كی آوازیں ٹیپ كرنا، ان كے خفیہ اعمال كی تصویر لینا … ان چیزوں سے مجرموں پر گرفت مضبوط ھوجائے گی۔ مجرموں كی نگرانی كامیاب حكومت كے لئے بہت ضروری ھے۔

اس میں كوئی شك نہیں كہ حضرت كے زمانے میں اخلاقی تعلیمات اتنی عام ھوجائیں گی كہ عوام كی اكثریت سعادتمند معاشرے كی تشكیل كے لئے آمادہ ھوجائے گی۔ عوام كو اخلاقی تربیت سے سماج كے كافی مسائل حل ھوجائیں گے۔

لیكن انسان آزاد پیدا كیا گیا ھے۔ اپنے اعمال میں اسے پورا اختیار حاصل ھے۔ اس لئے اس بات كا امكان ضرور ھے كہ ایك صحت مند سماج میں ایسے افراد پائے جائیں جو خواہ مخواہ فساد پھیلانا چاھتے ھوں۔

اس بنا پر سماج كی مكمل اصلاح كے لئے وسیع الاختیار عدلیہ كی ضرورت ھے تاكہ مجرموں كو ان كے جرم كا بدلہ دیا جا سكے۔

جرائم كے علل و اسباب پر غور كرنے سے معلوم ھوتا ھے كہ بہت سے جرائم كو ان طریقوں سے روكا جاسكتا ھے:

1) عادلانہ تقسیم

ضروریات زندگی كی عادلانہ تقسیم سے كافی جرائم ختم ھوجاتے ھیں۔ عادلانہ تقسیم سے طبقاتی كش مكش ختم ھوجاتی ھے۔ ذخیرہ اندوزی، چور بازاری، گراں فروشی، اور سرمایہ داروں كی ناروا سختیاں نیز سرمایہ دارون كی باھمی چپقلیش … سب كافی حد تك ختم ھوجائیں گی۔

2) صحیح تربیت

صحیح تربیت بھی مفاسد اور جرائم كی روك تھام میں كافی موثر ھے۔ اس وقت دنیا میں فساد كی گرم بازاری، جرائم كی فراوانی اس وجہ سے ھے كہ تعلیم كے لئے تو ضرور نئے نئے طریقے اختیار كئے جارھے ھیں لیكن تربیت كا كوئی معقول انتظام نہیں ھے۔ تعلیم كو صحیح راستے پر لگانے كے بجائے تعلیم سے فساد كی شاھراہ تعمیر كی جارھی ھے غیر اخلاقی فلمیں، ڈرامے، كتابیں، اخبار، رسالے سب انسان كے اخلاقیات پر حملہ آور ھیں۔

لیكن جب تعلیم كے ساتھ ساتھ تربیت كا بھی جدید ترین معقول انتظام ھوگا، عالمی حكومت انسانوں كی تربیت پر بھرپور توجہ دے گی۔ وہ مفاسد اور جرائم خود بخود ختم ھوجائیں گے جن كا سرچشمہ عدم تربیت یا ناقص تربیت ھے۔

3) طاقت ور عدلیہ

ایك ایسی عدلیہ كا وجود جس سے نہ مجرم فرار كرسكتا ھے اور نہ فیصلوں سے سرتابی اس وقت دنیا كے ھر ملك میں عدلیہ موجود ھے۔ لیكن یا تو عدلیہ كی گرفت مجرم پر مضبوط نہیں ھے یا عدلیہ میں صحیح فیصلے كی صلاحیت نہیں ھے، یا دونوں ھی نقص موجود ھیں بلكہ بعض مجرم عدلیہ كی شہ پر جرم كرتے ھیں۔

لیكن ایك ایسی عدلیہ جس كی گرفت بھی مجرم پر سخت ھو اور جو فیصلوں میں رو رعایت نہ كرتی ھو، فساد اور جرائم كے انسداد میں ایك اھم كردار ادا كرتی ھے۔

اگر یہ تینوں باتیں یكجا ھوجائیں، عادلانہ تقسیم۔ صحیح تربیت اور طاقت ور عدلیہ تو آپ خود فیصلہ كرسكتے ھیں كہ كتنے عظیم پیمانے پر جرائم كا سد باب ھوجائے گا اور سماج كی اصلاح میں كس قدر موثر اقدام ھوگا۔

روایات سے استفادہ ھوتا ھے كہ حضرت مھدی سلام اللہ علیہا كے زمانۂ حكموت میں یہ تینوں عوامل اپنے عروج پر ھوں گے۔

مدّتِ حكومت

احادیث میں حضرت كی حكومت كے سلسلے میں مختلف روایتیں ملتی ھیں۔ روایتیں 5 سال سے 309 سال (جتنے دنوں اصحاب كہف غار میں سوتے رھے) تك ھیں۔ یہ مختلف اعداد ھوسكتا ھے كہ حكومت كے مختلف مراحل كی طرف اشارہ كر رھے ھوں مرحلہ انقلاب مرحلہ استحكام اور مرحلہ حكومت ان تمام باتوں سے قطع نظر یہ ایك حقیقت ھے كہ مُدّتوں كا انتظار، یہ تیاریاں، یہ مقدمات كسی ایسی حكومت كے لئے زیب نہیں دیتے جس كی عمر مختصر ھو۔ حضرت كی حكومت كی عمر یقیناً طولانی ھوگی تاكہ ساری زحمتیں ثمر آور ھو سكیں ویسے حقائق كا علم ذاتِ احدیت كو  ھے۔

                                                                                                                                                               ختم شد

+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 22 Mar 2011 و ساعت 11:48 AM |

فتح كا انداز (حصّہ پنجم)

یا قائم آل محمد

جس زمین پر ھم زندگی بسر كر رھے ھیں اس میں اتنی صلاحیت ھے كہ وہ موجودہ نسل اور آنے والی نسل كی كفالت كر سكے، لیكن بہت سے منابع كا ھمیں علم نہیں ھے اور تقسیم كا نظام بھی صحیح نہیں ھے۔  یہی وجہ ھے كہ آج غذا كی قلت كا احساس ھو رھا ھے اور ھر روز لوگ بھوك سے جان دے رھے ھیں۔ اس وقت دنیا پر جس اقتصادی نظام كی حكومت ھے وہ ایك استعماری نظام ھے جو اپنے زیر سایہ "قانونِ جنگل" كی پرورش كر رھا ھے۔ وہ لوگ جو زمین میں پوشیدہ ذخیروں كا پتہ لگاتے، انسانیت كی فلاح و بہبود كی كوشش كرتے ھیں وہ استعمار كی بارگاہ ظلم و استبداد میں "امن و امان" كی خاطر بھینٹ چڑھا دیے جاتے ھیں۔

لیكن جس وقت اس دنیا سے استعماری نظام كا خاتمہ ھوجائے گا اور اسی كے ساتھ ساتھ "قانون جنگل" بھی نابود ھوجائے گا، اس وقت زمین میں پوشیدہ خزانوں سے بھی استفادہ كیا جاسكے گا، اور نئے ذخیروں كی تلاش ھوسكے گی۔ علم و دانش بھی اقتصادیات كی بہتری میں سرگرم رھیں گے۔

حضرت مھدی سلام اللہ علیہ كے سلسلے میں جو روایات وارد ھوئی ھیں ان میں اقتصادیات كی بہتری كی طرف بھی اشارہ ملتا ھے۔ ذیل كی سطروں میں اس سلسلے كی چند حدیثیں ملاحظہ ھوں:

انہ یبلغ سلطانہ المشرق والمغرب، وتظھرلہ الكنوز ولا یبقیٰ فی الارض خراب الا یعمّرہ

آپ كی حكومت مشرق و مغرب كو احاطہ كیے ھوگی، زمین كے خزانے آپ كے لئے ظاھر ھوجائیں گے۔ زمین كا كوئی حصہ غیر آباد نہیں رھے گا"۔

غیر آباد زمینیں افراد، مال یا ذرائع كی كمی كی بنا پر نہیں ھیں بلكہ یہ زمینیں انسان كی ویران كردہ ھیں۔ ظھور كے بعد انسان تعمیر كرے گا تخریب نہیں۔

اس سلسلے كی ایك دوسری حدیث ملاحظہ ھو۔ یہ حدیث حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ھوئی ھے۔

اذا قام القائم، حكم بالعدل

وارتفع الجور فی ایامہ

وامنت بہ السبل

واخرجت الارض بركاتھا

ورد كل حق الی اھلہ

وحكم بین الناس بحكم داؤد و حكم محمد

فحینئذ تظھر الارض كنوزھا

ولا یجد الرجل منكم یومئذ موضعا لصدقتہ ولا لبرہ

لشمول الغنی جمیع المومنین

جس وقت ھمارے قائم كا ظھور ھوگا، عدل و انصاف كی بنیاد پر حكومت قائم كریں گے ان كے زمانے میں ظلم و جور نابود ھوجائیں گے۔

راستوں پر امن و امان ھوگا،

زمین اپنی بركتیں ظاھر كردے گی،

صاحبان حقوق كو ان كے حق مل جائیں گے۔

عوام كے درمیان جناب داؤد (ع) اور حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كی طرح فیصلہ كریں گے۔

اس موقع پر زمین اپنے خزانے ظاھر كردے گی۔

كسی كو صدقہ دینے یا مالی امداد كا كوئی موقع نہ ملے گا كیونكہ اس وقت تمام لوگ مستغنی ھوچكے ھوں گے۔"

زمین كا اپنی بركتوں كو اور خزانوں كو ظاھر كردینا بتا رھا ھے كہ اس وقت زراعت بھی عروج پر ھوگی، اور زمین میں پوشیدہ تمام منابع كا انكشاف ھوگا۔ عوام كی سالانہ آمدنی اتنی ھوگی كہ سماج میں كوئی فقیر نہ ھوگا، سب كے سب خود كفیل ھوچكے ھوں گے۔

جس وقت عدل و انصاف كی بنیاد پر حكومت قائم ھوگی اور ھر شخص كی استعداد سے بھرپور استفادہ كیا جائے گا جس وقت تمام انسانی طاقتیں زراعت اور منابع كے انكشاف میں لگ جائیں گی تو روزانہ نئے خزانے كا انكشاف ھوگا اور ھر روز زراعت میں ترقی ھوگی۔ غذائی اشیاء كی قلتیں، بھوك، پریشانی وغیرہ كی وجہ غیر منصفانہ طرز تقسیم ھے۔ یہ تقسیم كا نقص ھے كہ كہیں سرمایہ كی بہتات ھے اور كہیں دو لقمہ كو كوئی ترس رھا ھے۔

حضرت مھدی سلام اللہ علیہ كے دوران حكومت صرف زراعت میں ترقی اور زمین میں پوشیدہ خزانوں ھی كا انكشاف نہ ھوگا بلكہ اس دور میں شھر اس وقت سے زیادہ آباد ھوں گے، چوڑی چوڑی سڑكیں ھوں گی۔ عین سادگی كے ساتھ وسیع مسجدیں ھوں گی۔ گھروں كی تعمیر اس طرح ھوگی كہ كسی دوسرے كو اس سے كوئی تكلیف نہیں پہونچے گی۔ اس سلسلے میں چند روایتیں ملاحظہ ھوں:۔

1) حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ھے:

و یبنیٰ فی ظھر الكوفہ مسجدا لہ الف باب و یتصل بیوت الكوفہ بنھر كربلا وبالحیرة

"كوفہ كی پشت پر ایك ایسی مسجد تعمیر كریں گے جس كے ھزار دروازے ھوں گے اور كوفہ كے مكانات كربلا كی نہر اور حیرہ سے مل جائیں گے"۔

سب جانتے ھیں كہ اس وقت كوفہ سے كربلا كا فاصلہ 90 كلومیٹر ھے۔

2) حضرت امام محمد باقر علیہ السلام كا ارشاد ھے كہ:

اذا قام القائم یكون المساجد كلھا جمالا شرف فیھا كما كان علی عھد رسول اللہ (ص) و یوسع الطریق الاعظم فیصیر ستین ذراعھا ویھدم كل مسجد علی الطریق ویسد كل كوة الی الطریق وكل جناح و كنیف ومیزاب الی الطریق

"جس وقت حضرت قائم كا ظھور ھوگا اس وقت مسجدوں كی چھوٹی چھوٹی دیواریں ھوں گی، مینار نہیں ھوں گے، اس وقت مسجدوں كی وھی شكل ھوگی جو رسول اللہ كے زمانے میں تھی۔ شاھراھیں وسیع كی جائیں گی یہاں تك كہ ان كی چوڑائی ساٹھ گز ھوجائے گی۔ وہ تمام مسجدیں منھدم كردی جائیں گی جو راستوں پر ھوں گی (جس سے آنے جانے والوں كو زحمت ھوتی ھوگی)

وہ كھڑكیاں اور جنگلے بھی بند كردیے جائیں گے جو راستوں كی طرف كھلتے ھوں گے۔

وہ چھجے، پر نالے اور گھروں كا گندہ پانی جس سے راستہ چلنے والوں كو تكلیف ھوگی وہ ختم كردیے جائیں گے۔

3) حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایك طولانی حدیث میں وارد ھوا ھے كہ:

… ولیصیرن الكوفہ اربعۃ وخمسین میلا ولیجارون قصورھا كربلا ولیصیرن اللہ كربلا معقلا ومقاما ……"

"وہ كوفہ كی مسافت 54 میل كردیں گے، كوفہ كے مكانات كربلا تك پہونچ جائیں گے، اور خدا كربلا كو سرگرمیوں كا مركز قرار دے گا۔"

زراعت، تعمیرات، آبادكاری وغیرہ كے سلسلے میں كافی مقدار میں روایتیں وارد ھوئی ھیں۔ مزید روایتوں كے لئے "منتخب الاثر" كا مطالعہ كیا جا سكتا ھے۔

+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 22 Mar 2011 و ساعت 11:47 AM |

فتح كا انداز (حصّہ چهارم)

امام مھدي(عج)

صنعت كی بے مثال ترقی

"فتح كا انداز" كے عنوان كے تحت پہلی، دوسری اور تیسری حدیث جو نقل كی ھے اس میں صنعت اور ٹكنالوجی كی غیر معمولی ترقی كی طرف اشارہ كیا گیا ھے۔

مواصلات كا نظام اتنا زیادہ ترقی یافتہ ھوجائے گا كہ وسیع و عریض كائنات ہاتھ كی ہتھیلی كی مانند ھوجائے گی، ساری دنیا پر مركز كی پوری پوری نظر ھوگی تاكہ رونما ھونے والے واقعات كا فوری حل تلاش كیا جاسكے۔

روشنی اور انرجی كا مسئلہ اس حد تك حل ھوجائے گا كہ لوگ سورج كی روشنی كے محتاج نہ رھیں گے۔

اس وقت سفر كے ایسے ذرائع ایجاد ھوں گے جن كی تیز رفتاری كا آج ھم تصور بھی نہیں كرسكتے۔ ایسے ذرائع ھوں گے جس سے زمین كیا آسمان كی وسعتوں میں بھی سفر كیا جائے گا۔

صنعت و ٹكنالوجی كی برق رفتاری كے سلسلے میں ذیل كی حدیث خاص توجہ كی طالب ھے۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام كا ارشاد ھے كہ:

ان قائمنا اذا قام مدّ اللہ بشیعتنا فی اسماعھم و ابصارھم حتیٰ لایكون بینھم و بین القائم برید یكلمھم فیسمعون وینظرون الیہ وھو فی مكانہ

"بے شك جس وقت ھمارے قائم كا ظھور ھوگا، خداوند عالم ھمارے شیعوں كی سماعت اور بصارت كو اتنا تیز كردے گا كہ ان كے اور قائم كے درمیان كوئی نامہ برنہ ھوگا، وہ شیعوں سے گفتگو كریں گے اور یہ لوگ سنیں گے "اور قائم كی زیارت كریں گے جبكہ وہ اپنی جگہ پر ھوں گے۔"

اس وقت مواصلات كا نظام اتنا زیادہ ترقی یافتہ ھوجائے گا كہ ھر ایك شخص اس سے استفادہ كرسكے گا، لوگ اپنی اپنی جگہوں سے حضرت كی زیارت كریں گے اور حضرت كی آواز سنیں گے۔ اس وقت ڈاك و تار كا نظام غیر ضروری چیزوں میں شمار ھونے لگے گا۔ پیغام رسانی كے لئے ھر ایك كے پاس اپنا ذریعہ ھوگا۔!!

اس سلسلہ كی ایك دوسری حدیث بھی ملاحظہ ھو۔ یہ حدیث بھی حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ھوئی ھے:

ان المومن فی زمان قائم وھو بالمشرق سیری اخاہ الذی فی المغرب، وكذا الذی فی المغرب یریٰ اخاہ الذی بالمشرق۔

قائم كے زمانے میں مومنین كا حال یہ ھوگا كہ مشرق كے رھنے والے مغرب كے مومنین كو دیكھیں گے اور مغرب كے رھنے والے مشرق كے مومنین كو دیكھیں گے۔"

صرف حكومت كے اور عوام كے درمیان ھی براہ راست رابطہ نہ ھوگا بلكہ عوام كا بھی ایك دوسرے سے براہ راست رابطہ ھوگا۔

اور اس طرح علم و صنعت عدل و انصاف كی بنیاد پر سماج كی تشكیل نوكریں گے سماج میں ھر طرف صدق و صفا، اخوت و برادری كا چرچا ھوگا۔

+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 22 Mar 2011 و ساعت 11:45 AM |

فتح كا انداز (حصّہ سوّم)

حضرت مھدی سلام اللہ علیہ

طرز حكومت

حضرت مھدی سلام اللہ علیہ كے عالمی انقلاب كے لئے تین مراحل ضروری ھیں:

پہلا مرحلہ:

انتظار۔ آمادگی۔ علامتیں

دوسرا مرحلہ:

انقلاب۔ ظلم و ستم سے پیكار۔

تیسرا مرحلہ:

عدل و انصاف كی حكومت كا قیام۔

پہلے اور دوسرے مرحلے كے سلسلے میں گذشتہ صفحات میں بحث كی جاچكی ھے۔ اب ھم تیسرے مرحلے بارے میں بعض اھم باتیں قارئین كی نذر كررھے ھیں۔

ایك ایسی دنیا كا تصور انسان كے لئے كتنا زیادہ وجد آفریں، اطمینان بخش اور غرور آمیز ھے جہاں طبقاتی اختلافات نہ ھوں، فتنہ و فساد نہ ھو جنگ و خونریزی نہ ھو، فقر و تنگ دستی نہ ھو، غریب كے لاشے پر سامراجیوں كے مستانہ قہقہے نہ ھوں قہقہوں كے گرد ناداروں كی سسكتی آھیں نہ ھوں، نہ دریا دریا فقر ھو اور نہ كشتی كشتی ثروت ……"

ایسی دنیا كا تصور ایك افسانہ ضرور معلوم ھوتا ھے مگر دینِ اسلام نے اس كو یقینی بتایا ھے اور اس كے خطوط بھی ترسیم كیے ھیں۔

اسلامی نقطہ نظر سے عالمی حكومت كے چند اھم خطوط ملاحظہ ھوں:

 علوم كی برق رفتار ترقی

كوئی بھی انقلاب فكری اور ثقافتی انقلاب كے بغیر قائم نہیں رہ سكتا ھے۔ ھر انقلاب كی بقاء كے لئے فكری اور ثقافتی انقلاب ضروری ھے۔ فكری انقلاب كے دو پہلو ھوں، ایك طرف فكری انقلاب انسانوں كو ان علوم كے سیكھنے پر آمادہ كرے جن كی سماج كو ضرورت ھے اور دوسری طرف صحیح انسانی زندگی كے اصول سے واقف كرائے۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ایك روایت میں ارشاد فرمایا كہ:

العلم سبعۃ و عشرون حرفاً فجمیع ما جائت بہ الرسل حرفان فلم یعرف الناس حتی الیوم غیر الحرفین فاذا قام قائمنا اخرج الخمسۃ والعشرین حرفاً، فبثھا فی الناس و ضم الیھا الحرفین حتی یبثھا سبعۃ و عشرین حرفاً "علم و دانش كے ستّائیس (27) حروف ھیں (27 شعبے اور حصے ھیں) وہ تمام باتیں جو انبیاء علیہم السلام اپنی امت كے لئے لائے وہ دو حرف ھیں۔ اور آج تك تمام لوگ دو حرفوں سے زیادہ نہیں جانتے ھیں لیكن جس وقت ھمارے قائم كا ظھور ھوگا وہ بقیہ 25 حرف (25 شعبے اور حصے) بھی ظاھر فرمادیں گے اور ان كو عوام كے درمیان پھیلادیں گے اور 25 حرفوں میں پہلے كے دو حرف بھی شامل كرلیں گے اس وقت 27 حرف مكمل طور سے پھیلائے جائیں گے۔"

اس حدیث سے یہ بات واضح ھوجاتی ھے كہ حضرت كے ظھور كے بعد علم كس برق رفتاری سے ترقی كرے گا۔ اس زمانے كی علمی ترقی آج تك كی تمام ترقیوں كے مقابلے میں بارہ گُنا سے زیادہ ھوگی۔ اس وقت علوم و فنون كے تمام دروازے كُھل جائیں گے۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے ایك روایت نقل ھوئی ھے جس سے گذشتہ حدیث كی تكمیل ھوتی ھے وہ حدیث یہ ھے:

اذا قام قائمنا وضع اللہ یدہ علی رؤوس العباد فجمع بھا عقولھم وكملت بھا احلامھم

"جس وقت ھمارے قائم كا ظھور ھوگا خداوند عالم بندوں كے سروں پر ھاتھ ركھے گا جس سے ان كی عقلیں كامل اور ان كے افكار كی تكمیل ھوگی۔"

حضرت مھدی سلام اللہ علیہ كی رھبری میں اور آپ كے وجود كی بركت سے لوگوں كی عقلیں كامل ھوجائیں گی۔ افكار میں وسعت پیدا ھوجائے گی۔ تنگ نظری اور كوتاہ فكری كا خاتمہ ھوجائے گا۔ اور اس طرح وہ چیزیں بھی فنا ھوجائیں گی جو تنگ نظری اور كوتاہ فكری كی پیداوار تھیں۔

اس وقت كے لوگ وسیع نظر، بلند افكار، كشادہ دلی، اور خندہ پیشانی كے مالك ھوں گے جو سماج كی مشكلات اپنی پاكیزہ روح اور طاھر افكار سے حل كردیں گے۔

+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 22 Mar 2011 و ساعت 11:44 AM |

فتح كا انداز (حصّہ دوّم)

امام مھدي(عج)

حدیث

احادیث میں ایسی پر معنی تعبیریں ملتی ھیں جن سے گزشتہ باتوں كے جواب واضح ھوجاتے ھیں۔ ذیل كی سطروں میں صرف چند حدیثیں قارئین كی نظر كر رھے ھیں۔

1) حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا كہ:

ان قائمنا اذا قام اشرقت الارض بنور ربھا واستغنی العباد من ضوء الشمس 1

"جس وقت ھمارے قائم قیام فرمائیں گے اس وقت زمین اپنے پروردگار كے نور سے روشن ھوجائے گی اور بندگان خدا سورج كی روشنی سے بے نیاز ھوجائیں گے۔"

اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ھے كہ اس وقت روشنی اور انرجی كا مسئلہ اس قدر آسان ھوجائے گا كہ دن و رات سورج كے بجائے ایك دوسرے نور سے استفادہ كیا جاسكے گا۔ ھوسكتا ھے كہ بعض لوگ اس چیز كو معجزے كی شكل دیں۔ لیكن در حقیقت یہ اعجاز نہ ھوگا بلكہ یہ ٹكنا لوجی اور صنعت كے ترقی یافتہ دور كی طرف اشارہ كیا گیا ھے۔

اتنے زیادہ ترقی یافتہ دور كے مقابلے میں آج كے جدید ترین اسلحوں كی كیا حقیقت ھوگی۔

2) حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے جناب ابو بصیر سے ارشاد فرمایا كہ:

انہ اذا تناھت الامور الی صاحب ھذا الامر رفع اللہ تبارك وتعالیٰ لہ كل منخفض من الارض خفض لہ كل مرتفع حتی تكون الدنیا عندہ بمنزلۃ راحتہ فایكم لو كانت فی راحتہ شعرة لم یبصرھا۔ 2

"جس وقت سلسلہ امور صاحب الامر تك پہونچے گا اس وقت خداوند عالم زمین كی ھر پستی كو ان كے لئے بند كردے گا اور ھر بلندی كو ان كے لئے پست كردے گا۔ یہاں تك كہ ساری دنیا ان كے نزدیك ھاتھ كی ہتھیلی كے مانند ھوجائے گی۔ تم میں سے كون ھے جس كی ہتھیلی میں بال ھو، اور وہ اس كو نہ دیكھ رھا ھو۔"!؟

آج كی ترقی یافتہ دنیا میں بلندیوں پر جدید ترین آلات نصب كركے دنیا كے مختلف گوشوں میں آوازیں اور تصویریں بھیجی جارھی ھیں اور اس سلسلے میں مصنوعی سیاروں سے بھی استفادہ كیا جا رھا ھے۔ لیكن اس كی دوسری صورت آج كی دنیا میں ابھی تك عملی نہیں ھوسكی ھے یعنی مختلف جگہوں سے ایك مركز پر خبروں اور تصویروں كا انعكاس۔ مگر یہ كہ دنیا كے گوشے گوشے میں نشر كرنے والے اسٹیشن قائم كیے جائیں۔

اس حدیث سے ھمیں یہ پتہ چلتا ھے كہ ظھور كے بعد یہ مشكل بھی آسان ھوجائے گی اس وقت دنیا ہاتھ كی ہتھیلی كی مانند ھوجائے گی۔ دنیا كے دور ترین مقامات پر رونما ھونے والے واقعات پر حضرت كی بھرپور نظر ھوگی۔ اس وقت نزدیك و دور كا امتیاز ختم ھوجائے گا۔ دور و نزدیك ھر ایك پر حضرت كی یكساں نگاہ ھوگی۔ ظاھر ھے جی عادلانہ عالمی حكومت كے لیے وسیع ترین اطلاعات كی سخت ضرورت ھے۔ جب تك دنیا كے ھر واقعہ پر بھرپور نظر نہ ھوگی اس وقت تك عدل كا قیام اور ظلم كی فنا كیونكر ممكن ھوگی۔

3) حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا كہ:

ذخر لصاحبكم الصعب!

قلت: وما الصعب؟

قال: ما كان من سحاب فیہ رعد و صاعقۃ او برق فصاحبكم یركبہ اما انہ سیركب السحاب وبرقی فی الاسباب، اسباب السمٰوٰات والارضین! 3

تمھارے امام كے لئے سركش وسیلہ كو ذخیرہ كیا گیا ھے۔

راوی كا بیان ھے كہ میں نے دریافت كیا كہ مولا وہ سركش وسیلہ كیا ھے؟ فرمایا: وہ بادل ھے جس میں گرج چمك یا بجلی پوشیدہ ھے وہ اس بادل پر سوار ھوگا۔ آگاہ ھوجاؤ كہ عنقریب بادلوں پر سوار ھوگا، بلندیوں پر پرواز كرے گا، ساتوں آسمانوں اور زمینوں كا سفر كرے گا۔"

بادل سے یہ عام بادل مراد نہیں ھے۔ یہ تو بخارات كا مجموعہ ھیں۔ یہ اس لائق نہیں ھیں كہ ان كے ذریعہ سفر كیا جا سكے، زمین سے بادلوں كا فاصلہ كوئی زیادہ نہیں ھے بلكہ بادل سے ایك ایسے وسیلہ سفر كی طرف اشارہ ھے جس كی رفتار بے پناہ ھے۔ جس كی آواز گرج، چمك اور بجلی جیسی ھے وہ سفر كے دوران آسمانوں كو چیرتا ھوا نكل جائے گا۔

آج كی دنیا میں ھمارے سامنے كوئی ایسا وسیلہ اور ذریعۂ سفر نہیں ھے جسے مثال كے طور پر پیش كیا جاسكے۔ البتہ صرف "اڑن طشتری" كے ذریعہ اس وسیلہ سفر كا ایك ھلكا سا تصور ذھنوں میں ضرور آسكتا ھے۔

ان حدیثوں سے یہ حقیقت بالكل واضح ھوجاتی ھے كہ حضرت مھدی سلام اللہ علیہ كے ظھور كے بعد صنعت، ٹكنالوجی كس بام عروج پر ھوں گی۔ ان حدیثوں سے یہ بات واضح ھوگئی كہ ظھور كے بعد ترقی ھوگی تنزلی نہیں۔ حضرت جدید ٹكنالوجی كے ذریعہ دنیا میں عدل و انصاف كی حكومت قائم كریں گے۔ لیكن ایك بات جو ذھنوں میں بار بار كھٹكتی ھے وہ یہ ھے كہ كیا حضرت تلوار كے ذریعہ جنگ كریں گے۔؟

اس بات كا جواب یہ ھے كہ روایات میں "سیف" كا لفظ استعمال كیا گیا ھے۔

سیف" یا شمشیر یہ الفاظ جب استعمال كیے جاتے ھیں تو ان سے قدرت و طاقت مراد لی جاتی ھے جس طرح "قلم" سے ثقافت كو تعبیر كیا جاتا ھے۔

روایات میں لفظ "سیف" سے عسكری طاقت مراد ھے

یہ بات بھی واضح ھوجائے ك ھرگز یہ خیال بھی ذھنوں میں نہ آئے كہ حضرت ظھور كے بعد یكبارگی تلوار اٹھالیں گے اور ایك طرف سے لوگوں كے سرقلم كرنا شروع كردیں گے۔

سب سے پہلے دلائل كے ذریعہ حقائق بیان فرمائیں گے۔ افكار كی رھنمائی فرمائیں گے، عقل كو دعوت نظر دیں گے، مذھب كی اصطلاح میں سب سے پہلے "اتمام حجّت" كریں گے۔ جب ان باتوں سے كوئی فائدہ نہ ھوگا اس وقت تلوار اٹھائیں گے۔

پھر تو اك برق تباں جانبِ اشرار چلی

نہ چلی بات تو پھر دھوم سے تلوار چلی

اسلام كو اپنی حقانیت پر اس قدر اعتماد ھے كہ اگر اسلامی تعلیمات واضح طور سے بیان كردی جائیں تو ھر منصف مزاج فوراً تسلیم كرلے گا ھاں صرف ھٹ دھرم اور تعصّب كے اندھے قبول نہ كریں گے اور ان كا تو بس ایك علاج ھے اور وہ ھے تلوار یعنی طاقت كا مظاھرہ۔

حوالہ جات:

 1. بحار الانوار ج52 ص330

2. بحار الانوار ج52 طبع جدید ص328

3.  بحار الانوار ج52 طبع جدید ص 321

+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 22 Mar 2011 و ساعت 11:43 AM |

فتح كا انداز

حضرت مھدی سلام اللہ علیہ

جب حضرت مھدی سلام اللہ علیہ ظھور فرمائیں گے تو حضرت كی فتح كا انداز كیا ھوگا؟ اور كس طرح سے حضرت ساری دنیا كو عدل و انصاف سے بھر دیں گے؟ كیا حضرت تلوار كے ذریعہ جنگ كریں گے اور جدید اسلحوں پر كامیابی حاصل كریں گے۔؟

ان باتوں  كے دو جواب دیے جا سكتے ھیں، ایك عقل كی روشنی میں اور دوسرا حدیث كی روشنی میں۔

عقل

یہ ایك حقیقت ھے كہ گذرے زمانے كی طرف باز گشت ناممكن اور غیر منطقی ھے ظھور كے بعد ھرگز یہ نہ ھوگا كہ "عصر نور" "عصر ظلمت" كی طرف پلٹ جائے۔

جدید صنعت اور ترقی یافتہ ٹكنا لوجی نے جہاں انسان كی بہت سی مشكلات كو حل كیا ھے وھاں یہ چیزیں عادلانہ حكومت كے قیام كے بارے میں بھی معاون ثابت ھوں گی۔ كیونہ ساری كائنات پر حكمرانی، اور گوشہ گوشہ میں عدل و انصاف كا قیام بغیر ترقی یافتہ ٹكنا لوجی كے ناممكن ھے بلكہ حضرت كے طرز حكومت كو پیش نظر ركھتے ھوئے موجودہ طرقی یافتہ صنعت و ٹكنالوجی اس دور میں ناكافی ھوگی۔

جنگ كے میدان میں بھی ایسے اسلحوں كا استعمال ھوگا جن كا تصور اس دور میں ھمارے لئے آسان نہیں ھے۔ طرز جنگ كے سلسلے میں عقل كی بنیاد پر كوئی یقینی بات نہیں كہی جاسكتی۔ یہ اسلحے مادی ھوں گے یا نفسیاتی … البتہ اتنا ضرور معلوم ھے كہ وہ اسلحہ ایسے ھوں گے۔ جو نیكوكار اور گناھگار میں فرق كو ضرور قائم ركھیں گے۔

+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 22 Mar 2011 و ساعت 11:41 AM |

انتظار کے پھلو

 امام زمانہ

خود انسان میں مختلف پھلو پائے جاتے ھیں: ایک طرف تو نظری (تھیوری) اور عملی (پریکٹیکل) پھلو اس میں موجود ھے اور دوسری طرف اس میں ذاتی اور اجتماعی پھلو بھی پایا جاتا ھے، اور ایک دوسرے رخ سے جسمانی پھلو کے ساتھ روحی اور نفسیاتی پھلو بھی اس میں موجود ھے، جبکہ اس بات میں کوئی شک نھیں ھے کہ مذکورہ پھلوؤں کے لئے مخصوص قوانین کی ضرورت ھے، تاکہ ان کے تحت انسان کے لئے زندگی کا صحیح راستہ کھل جائے، اور منحرف اور گمراہ کن راستہ بند ھوجائے۔

امام مھدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ظھور کا انتظار، منتظر کے تمام پھلوؤں پر موثر ھے، انسان کے فکری اور نظری پھلو جو انسان کے اعمال و کردار کا بنیادی پھلو ھے ، انسانی زندگی کے بنیادی عقائد پر اپنے حصار کے ذریعہ حفاظت کرتا ھے۔ دوسرے الفاظ میں یوں عرض کیا جائے کہ صحیح انتظار اس بات کا تقاضا کرتا ھے کہ منتظر اپنی اعتقادی اور فکری بنیادوں کو مضبوط کرے تاکہ گمراہ کرنے والے مذاھب کے جال میں نہ پھنس جائے یا امام مھدی علیہ السلام کی طولانی غیبت کی وجہ سے یاس و ناامیدی کے دلدل میں نہ پھنس جائے۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ھیں:

”لوگوں پر ایک زمانہ وہ آئے گا کہ جب ان کا امام غائب ھوگا، خوش نصیب ھے وہ شخص جو اس زمانہ میں ھمارے امر (یعنی ولایت) پر ثابت قدم رھے“۔

یعنی غیبت کے زمانہ میں دشمن نے مختلف شبھات کے ذریعہ یہ کوشش کی ھے کہ شیعوں کے صحیح عقائد کو ختم کردیا جائے، لیکن ھمیں انتظار کے زمانہ میں اپنے عقائد کی حفاظت کرنا چاہئے۔

انتظار ، عملی پھلو میں انسان کے اعمال اور کردار کو راستہ دیتا ھے، ایک حقیقی منتظر کو عملی میدان میں کوشش کرنا چاہئے کہ امام مھدی علیہ السلام کی حکومت حق کا راستہ فراھم ھوجائے، لہٰذا منتظر کو اس سلسلہ میں اپنی اور معاشرہ کی اصلاح کے لئے کمرِ ھمت باندھنا چاہئے، نیز اپنی ذاتی زندگی میں اپنی روحی اور نفسیاتی حیات اور اخلاقی فضائل کو کسب کرنے کی طرف مائل ھو اور اپنے جسم و بدن کو مضبوط کرے تاکہ ایک کار آمد طاقت کے لحاظ سے نورانی مورچہ کے لئے تیار رھے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:

”جو شخص امام قائم علیہ السلام کے ناصر و مددگار میں شامل ھونا چاھتا ھے اسے انتظار کرنا چاہئے اور انتظار کی حالت میں تقویٰ و پرھیزگاری کا راستہ اپنانا چاہئے اور نیک اخلاق سے مزین ھونا چاہئے“۔

اس ”انتظار“ کی خصوصیت یہ ھے کہ یہ انسان کو اپنی ذات سے بلند کرتا ھے اور اس کو معاشرہ کے ھر شخص سے جوڑ دیتا ھے، یعنی انتظار نہ صرف انسان کی ذاتی زندگی میں موٴثر ھوتا ھے بلکھ معاشرہ میں انسان کے لئے مخصوص منصوبہ بھی پیش کرتا ھے اور معاشرہ میں مثبت قدم اٹھانے کی رغبت بھی دلاتا ھے، اور چونکہ حضرت امام مھدی علیہ السلام کی حکومت اجتماعی حیثیت رکھتی ھے، لہٰذا ھر انسان اپنے لحاظ سے معاشرہ کی اصلاح کے لئے کوشش کرے اور معاشرہ میں پھیلی برائیوں کے سامنے خاموش اور بے توجہ نہ رھے، کیونکہ عالمی اصلاح کرنے والے کے منتظر کو فکر و عمل کے لحاظ سے اصلاح اور خیر کے راستہ کو اپنانا چاہئے۔

مختصر یہ ھے کہ ”انتظار“ ایک ایسا مبارک چشمہ ھے جس کا آب حیات انسان اور معاشرہ کی رگوں میں جاری ھے، اور زندگی کے تمام پھلوؤں میں انسان کو الٰھی رنگ اور حیات عطا کرتا ھے، اور خدائی رنگ سے بھتر اور ھمیشگی رنگ اور کونسا ھو سکتا ھے؟!

قرآن کریم میں ارشاد ھوتا ھے:

”رنگ تو صرف اللہ کا رنگ ھے اور اس سے بھتر کس کا رنگ ھوسکتا ھے اور ھم سب اسی کے عبادت گزار ھیں “۔

مذکورہ مطالب کے پیش نظر "مصلح کل" حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے منتظرین کی ذمّہ داری ”الٰھی رنگ اپنانے“ کے علاوہ کچھ نھیں ھے جو انتظار کی برکت سے انسان کی ذاتی اور اجتماعی زندگی کے مختلف پھلوؤں میں جلوہ گر ھوتا ھے، جس کے پیش نظر ھماری وہ ذمّہ داریاں ھمارے لئے مشکل نھیں ھوں گی، بلکہ ایک خوشگوار واقعہ کے عنوان سے ھماری زندگی کے ھر پھلو میں ایک بھترین معنی و مفھوم عطا کرے گی۔ واقعاً اگر ملک کا مھربان حاکم اور محبوب امیر قافلہ ھمیں ایک شائستہ سپاھی کے لحاظ سے ایمان کے خیمہ میں بلائے اور حق و حقیقت کے مورچہ پر ھمارے آنے کا انتظار کرے تو پھر ھمیں کیسا لگے گا؟ کیا پھر ھمیں اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں کوئی پریشانی ھوگی کہ یہ کام کرو اور ایسا بنو، یا ھم خود چونکہ انتظار کے راستہ کو پہچان کر اپنے منتخب مقصد کی طرف قدم بڑھاتے ھوئے نظر آئیں گے؟!

+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 22 Mar 2011 و ساعت 11:40 AM |

عالم کی سب سے مظلوم ہستی

امام مھدي(عج)

افسوس ہے کہ آج بھی بہت سی مذہبی مجالس میں امام زمانہ (عج) کی یاد اور ان کے ظہور میں تعجیل کے لئے دعا سے غفلت ہوتی ہے اگر ہمیں معلوم ہو کہ ابھی تک کس درجہ حضرت سے غافل رہے ہیں تو احساس ہوگا کہ آنحضرت (عج) کائنات کی سب سے مظلوم ذات ہیں ۔ ذیل میں حضرت کی مظلومیت کا ایک ماجرا ملاحظہ ہو:

حجة الاسلام و المسلمین مرحوم آقای حاج سید اسماعیل شرفی نے نقل کیا ہے :

عتبات عالیہ سے مشرف ہوا تھا اور سید الشہدا ء علیہ السلام کی زیارت میں مشغول تھا․ چونکہ امام حسین علیہ السلام کی قبر کے سرہانے زائرین کی دعا مستجاب ہوتی ہے اس لئے اس جگہ پروردگار عالم سے دعا کی ہمیں حضرت مھدی (عج) کی بارگاہ میں مشرف فرمائے اور میری آنکھوں کو ان کے عدیم المثال جمال سے نور بخشے ۔

زیارت میں مشغول تھا کہ ایک مرتبہ عالم تاب خورشید کا جمال ظاہر ہو اگرچہ اس وقت آنحضرت (عج) کو ہم نے نہ پہچانا لیکن شدت سے ان کی طرف مائل ہوگیا، سلام کے بعد حضرت سے سوال کیا آپ کون ہیں؟

فرمایا: میں عالم کی مظلوم ترین ذات ہوں ۔

میں متوجہ نہ ہوا اور اپنے آپ سے کہنے لگا شاید آپ نجف کے بزرگ علماء میں سے ہیں لیکن چوں کہ لوگ ان کی طرف راغب نہیں ہوئے ہیں اس لئے اپنے آپ کو عالم کی مظلوم ترین ذات سمجھتے ہیں لیکن اسی وقت ہم نے محسوس کیا کہ کوئی ہماری بغل میں نہیں ہے ۔

اب میری سمجھ میں آیا کہ عالم میں مظلوم ترین ذات امام زمانہ (عج) کے سوا اور کون ہو سکتا ہے آنحضرت (عج) کے حضور کی نعمت کو جلدی ہاتھ سے گنوادیا ۔

توجہ کرنی چاہئے دعا سے مقصود مقام و منصب نہ ہو بلکہ امام عصر ارواحنا فداہ اور وحدہ لاشریک سے تقرب اور رضایت کو عمل کا معیار قرار دیں ۔

آپ کی توجہ ایک اہم واقعہ کی طرف مبذول کرنا چاہتا ہوں ۔

۱۔ حجة الاسلام و المسلمین جناب سید احمد موسوی حضرت امام عصر کے شیدائیوں میں سے ہیں انھوں نے حجة الاسلام و المسلمین عالم ربانی مرحوم آقا حاجی شیخ جعفر جوادی سے نقل کیا ہے کہ آپ عالم کشف یا شہود میں حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ کی خدمت میں مشرف ہوئے اور آپ کو بہت ہی غمگین پایا آپ سے آپ کا حال معلوم کیا تو حضرت نے فرمایا: میرا دل خون ہے میرا دل خون ہے۔

۲۔حضرت اما م حسین علیہ السلام نے عالم مکاشفہ میں قم کے ایک عالم دین سے فرمایا:

”…ہمارے مہدی اپنے زمانہ میں مظلوم ہیں جہاں تک ہو سکے، مہدی (حضرت مہدی علیہ السلام) کے متعلق کہو اور قلم چلاؤ، اور اس معصوم شخصیت کے متعلق اگر کچھ کہا تو گویا تمام معصوم علیہم السلام کے متعلق کہا ہے چونکہ یہ زمانہ ہمارے مہدی (عج) (حضرت مہدی (عج) ) کا زمانہ ہے لہٰذا شائستہ ہے آپ کے متعلق مطالب بیان ہوں، اور آخر میں فرمایا: میں پھر تاکید کر رہا ہوں کہ ہمارے مہدی (عج) کے متعلق زیادہ بیان کرو اور لکھو ہمارے مہدی (عج) مظلوم ہیں اور ان کے متعلق جو کچھ بیان کیا گیا اور لکھا گیا ہے اس سے زیادہ لکھنا او ر بیان کرنا چاہئے ․ (۱)

 

حوالہ جات:

1)۔ بوستان ولایت ج۲ ص۱۸

 
+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 22 Mar 2011 و ساعت 11:38 AM |

مرحوم حاجی شیخ رجب علی خیاط کی ایک نصیحت

یا ابا صالح المهدی

اس وقت جبکہ آپ آنحضرت کی مظلومیت اور غربت سے آگاہ ہوگئے تو بہتر ہے اس اہم واقعہ پر توجہ فرمائیں: مرحوم شرفی جو امام زمانہ (عج) کے ظہور کے منتظر رہنے والوں میں تھے ان کا بیان ہے جب میں تبلیغ کیلئے مشہد مقدس سے دوسرے شہر جایا کرتا تھا، تو ایک مرتبہ ماہ مبارک رمضان کی مسافرت میں اپنے ایک دوست کے ہمراہ تہران حاجی شیخ رجب علی خیاط کے یہاں مشرف ہوا اور ان سے راہنمای کی درخواست کی ۔

انھوں نے آیت کریمہ (ومن یتّق اللہ ∙∙∙ )کے ختم کا طریقہ ہمیں سکھایا (۱) اور فرمایا پہلے صدقہ دو اور چالیس روز روزہ رکھو اور اس ختم کو چالیس روز  کے درمیان انجام دو ۔

اہم نکتہ جس کو حاجی شیخ رجب علی نے بیان فرمایا یہ تھا کہ تمہارا مقصود اس ختم سے یہ ہو کہ امام رضا علیہ السلام سے آنحضرت (عج) کے تقرب کو طلب کرو اور مادی حاجت قطعی نظر میں نہ رکھو ۔

مرحوم آقای شرفی نے فرمایا :

ہم نے ختم شروع کیا لیکن اسے جاری نہ رکھ سکا لیکن میرا دوست کامیاب ہوگیا اور اس نے مکمل کر لیا اور جب ہم مشہد پہنچے تو وہ امام رضا علیہ السلام کے حرم میں مشرف ہوا، اور متوجہ ہوا کہ آنحضرت کو نور کی شکل میں دیکھ رہا ہے دھیرے دھیرے یہ حالت اس میں قوی ہو گئی اب وہ آنحضرت کو دیکھنے اور ان سے بات کرنے پر قادر تھا ۔

اس اہم واقعہ کو نقل کرنے سے ہمارا مقصود ایک مہم نکتہ ہے جو دعاؤں اور وسیلہ بنانے میں موجود ہے وہ یہ کہ نماز ادا کرنے، دعائیں پڑھنے اور وسیلہ بنانے و…میں اخلاص کی رعایت کے علاوہ انھیں انجام دینے کا ہدف خدا اور اہل بیت علیہم السلام سے تقرب ہونا چاہئے یعنی بندگی اور بندہ ہونے کے لئے انجام دے نہ مقام و منصب کے حصول لئے ۔

مشہور اور روحانی افراد میں سے ایک صاحب دعاؤں اور ختم کے ذریعے بہت سے افراد کی مشکلات کو حل کرتے تھے ایک ایسے شخص کہ جس کو صاحب بصیرت خیال کرتے تھے) سے ملاقات کے وقت اس سے سوال کیا کہ میں روحی اور باطنی لحاظ سے کیسا ہوں ؟

انھوں نے تھوڑی دیر تامل کے بعد فرمایا : تم نے خدائی کاموں میں بہت زیادہ دخالت کی ہے ۔

لہٰذا انسان کو دعاؤں، اذکار، تو صلات سے غلط استفادہ نہیں کرنا چاہئے، بلکہ اسے بندگی کے لئے وسیلہ اور بندگی کا مقصد قرار دینا چاہئے، تو انسان کو اس کے ذریعہ خدائی کاموں میں دخالت نہیں کرنی چاہئے، اور نہ ہی لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کا ذریعہ بنانا چاہئے۔

مرحوم حاج شیخ حسن علی اصفہانی سے نقل ہوا ہے آپ نے فرمایا : مجھ میں اتنی قدرت ہے کہ اگر لوگ صرف ہمارے دروازے پر دستک دیں تو ان کی مشکلات حل ہوجائیں اور انھیں کچھ کہنے کی بھی ضرورت نہ ہو لیکن چون کہ امام رضا علیہ السلام کی نسبت لوگوں کے عقیدے میں سستی پیدا ہونے کا باعث ہے اس لئے اسے انجام نہ دو ن گا ۔

حوالہ جات:

1) اس ختم کا حکم رسول خدا (ص) سے نقل ہوا ہے او رمرحوم آیت اللہ حاجی علی اکبر نہاوندی نے اس روایت کو کتاب ”گلزار اکبری “ میں نقل کیا ہے

+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 22 Mar 2011 و ساعت 11:35 AM |

طولانی غیبت

حضرت مھدی (عج)

علامات ظھور كے ذیل میں ابھی یہ تذكرہ كر چكے  ہیں كہ ظلم و استبداد كی ھمہ گیری كسی عالمی مصلح كی آمد كی خبر دے رھی  ہے۔ شب كی سیاھی سپیدۂ سحری كا مژدہ سنا رھی  ہے۔

اس صورت میں ایك سوال ذھن میں كروٹیں لیتا  ہے اور وہ یہ كہ جب ظلم اتنا پھیل چكا  ہے تو ظھور میں تاخیر كیوں ھو رھی  ہے؟ استبداد كی ھمہ گیری كے باوجود غیبت طولانی كیوں ھو رھی  ہے؟

اس سوال كے جواب كے لئے یہ باتیں قابل غور  ہیں ۔

(1) گزشتہ انبیاء اور رسولوں كے انقلاب كی طرح حضرت مھدی (عج) كا انقلاب بھی طبیعی علل و اسباب پر مبنی ھوگا۔ اس انقلاب كی كوئی اعجازی شكل و صورت نہ ھوگی۔ معجزات تو خاص خاص صورتوں سے مخصوص ہیں ۔ جس طرح پیغمبر اسلام (ص) نے اپنی 23 سالہ تبلیغی زندگی میں خاص مواقع كے علاوہ ھر جگہ عام علل و اسباب سے كام لیا  ہے۔

اسی لئے ھمیں ملتا  ہے كہ انبیاء علیہم السلام اپنے مشن كی تبلیغ و توسیع میں روزمرّہ كے وسائل سے استفادہ كرتے تهے مثلاً افراد كی تربیت، مسائل میں مشورہ، منصوبہ كی تشكیل، جنگ كے لیے نقشہ كشی خلاصہ یہ كہ ھر مادی اور معنوی وسائل سے استفادہ كرتے اور اسی سے اپنے مشن كو آگے بڑھاتے تهے۔ وہ میدان جنگ میں ھاتھ پر ھاتھ دھرے كسی معجزے كا انتظار نہیں كرتے تهے، بلكہ خدا پر بھروسہ كر كے اپنی طاقت سے جنگ لڑتے تهے اور كامیاب ھوتے تهے۔

اسی طرح حضرت مھدی (عج) اپنے عالمی انقلاب میں روز مرہ كے وسائل سے استفادہ كریں گے۔ الٰہی منصوبوں كو عملی بنائیں گے ان كا كام الٰہی پیغام كی تبلیغ ھی نہیں بلكہ وہ الٰہی احكام كو ان كی صحیح شكل میں نافذ كریں گے۔ وہ دنیا سے ھر طرح كا ظلم و جور كا خاتمہ كردیں گے اتنا بڑا كام صرف یونہی نہیں ھوجائے گا بلكہ اس كے لئے بہت سی چیزیں ضروری  ہیں ۔

(2) گذشتہ بیان سے یہ بنیادی بات واضح ھوگئی كہ انقلاب سے پہلے بعض چیزوں كا وجود ضروری ہے۔ عوام میں كئی اعتبار سے آمادگی دركار  ہے۔

ایك: قبولیت

دنیا كی نا انصافیوں كی تلخیوں كو دنیا والے باقاعدہ احساس كریں۔ انسان كے خود ساختہ قوانین كے نقائص اور اس كی كمزوریوں كو بھی سمجهیں ۔

لوگوں كو اس حقیقت كا باقاعدہ احساس ھوجائے كہ مادی قوانین كے سایہ میں حیاتِ انسانی كو سعادت نصیب نہیں ھو سكتی ہے۔ انسان كے خود ساختہ قوانین كے لئے كوئی "نفاذی ضمانت" نہیں  ہے بلكہ انسان كے خود ساختہ قوانین مشكلات میں اضافہ كرتے  ہیں كمی نہیں۔ یہ احساس بھی ھونا چاھئے كہ موجودہ افراتفری كا سبب خود ساختہ نظام ھائے حیات  ہیں ۔

لوگوں كو اس بات كا بھی احساس ھونا چاھئے كہ یہ دنیا اسی وقت سدھر سكتی  ہے جب میں ایسا نظام نافذ ھوگا جس كی بنیاد معنویت، انسانی اور اخلاقی اقدار پر ھو، جہاں معنویت اور مادیت دونوں كو جائز حقوق دیے گئے  ہوں۔ جس میں انسانی زندگی كے تمام پہلوؤں كو بہ حد اعتدال سیراب كیا گیا ھو۔

اسی كے ساتھ ساتھ یہ بھی باور ھوجائے كہ صنعت اور ٹكنالوجی كے میدانوں میں چشم گیر اور حیرت انگیز ترقیاں انسان كو سعادت عطا نہیں كر سكتی ہیں۔ البتہ شقادت ضرور تقسیم كر سكتی ہیں ۔ ھاں اس صورت میں ضرور مفید ثابت ھو سكتی ہیں جب یہ ترقیاں معنوی، انسانی اور اخلاقی اصولوں كے زیر سایہ حاصل كی جائیں۔

مختصر یہ كہ جب خوب تشنہ نہیں  ہوں گے اس وقت تك چشمہ كی تلاش میں تگ و دو نہیں كریں گے۔

یہ تشنگی كچھ تو رفتہ رفتہ وقت گذرنے سے حاصل ھوگی اور كچھ كے لیے تعلیم و تربیت دركار ھوگی، یہ دنیا كے مفكرین كا كام  ہے كہ ھر ایك میں یہ احساس بیدار كردیں كہ انسان كے خود ساختہ قوانین دنیا كی اصلاح نہیں كر سكتے ہیں بلكہ اس كے لئے ایك عالمی انقلاب دركار  ہے۔ بہر حال اس میں وقت لگے گا۔

دو۔ ثقافتی اور صنعتی ارتقاء

ساری دنیا كے لوگ ایك پرچم تلے جمع ھوجائیں، حقیقی تعلیم و تربیت كو انتا زیادہ عام كیا جائے كہ فرد فرد اس بات كا قائل ھوجائے كہ زبان، نسل، علاقائیت… ھرگز اس بات كا سبب نہیں بن سكتے كہ تمام دنیا كے باشندے ایك گھر كے افراد كی طرح زندگی بسر نہ كرسكیں۔

دنیا كی اقتصادی مشكلات اسی وقت حل ھو سكتی ہیں جب ثقافت اور افكار میں ارتقاء اور وسعت پیدا ھو۔ اسی كے ساتھ صنعت بھی اتنا ترقی یافتہ ھو كہ دنیا كا كوئی گوشہ اس كی دسترس سے دور نہ ھو۔

بعض روایتوں سے استفادہ ھوتا  ہے كہ حضرت مھدی (عج) كے ظھور كے بعد صنعت خاص طور پر ٹرانسپورٹ اتنی زیادہ ترقی یافتہ ھوجائے گی كہ یہ وسیع و عریض دنیا نزدیك شھروں كے مانند ھو جائے گی۔ مشرق و مغرب میں بسنے والے اس طرح زندگی بسر كریں گے جس طرح ایك گھر كے افراد زندگی بسر كرتے  ہیں ۔

ظھور كے بعد ھو سكتا  ہے كہ ترقیاں انقلابی صورت میں رونما  ہوں مگر اتنا ضرور  ہے كہ ظھور كے لئے علمی طور پر آمادگی ضروری  ہے۔

تین: انقلابی گروہ

ایسے افراد كی موجودگی ضروری  ہے جو انقلاب میں بنیادی كردار ادا كرسكیں، ایسے افراد كی تعداد كم ھی كیوں نہ ھو، مگر عملی اعتبار سے ھر ایك بھرپور انقلابی ھو اور انقلابی اصولوں پر جی جان سے عامل ھو، غیر معمولی شجاع، دلسوز، فداكار، جانباز اور جاں نثار ھو۔

اس دھكتی ھوئی دنیا اور خزاں رسیدہ كائنات میں ایسے پھول كھلیں جو گلستاں كا مقدمہ بن سكیں جو بہار كا پیش خیمہ ھو سكیں۔ انسانوں كے ڈھیر سے ایسے عالی صفت افراد نكلیں جو آئندہ انقلاب كی مكمل تصویر  ہوں۔

ایسے افراد كی تربیت خود معصوم رھبر كے سپرد ہے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ ایسے افراد كی تربیت كا انتظام كریں۔ چونكہ ھر كام معجزے سے نہیں ھوگا، لھٰذا یہاں بھی وقت دركار  ہے۔

بعض روایتوں میں حضرت مھدی (عج) كی غیبت كے طولانی ھونے كا سبب یہ بیان كیا گیا ہے كہ خالص ترین افراد سامنے آجائیں، جو ھر طرح كے امتحانوں میں كامیاب ھوچكے  ہوں۔

اس بات كی وضاحت كی ضرورت  ہے كہ الٰہی امتحان اور آزمائش كا مطلب ممتحن كے علم میں اضافہ كرنا نہیں ہے بلكہ امتحان دینے والوں كی پوشیدہ صلاحیتوں كا اظھار  ہے یعنی وہ استعداد جو قوت كی منزل میں ہے اسے فعلیت عطا كرنا  ہے۔

گذشتہ بیان سے یہ بات كسی حد تك ضرور واضح ھوگئی كہ حضرت مھدی (عج) كے ظھور میں تاخیر كیوں ھو رھی ہے تاخیر كا سبب ھمارے نواقص اور كمزوریاں ہیں، ورنہ اس طرف سے كوئی تاخیر نہیں ہے۔ جس وقت ھم اپنے نواقص كو ختم اور كمزوریوں كو دور كرلیں گے اس وقت ظھور ھوجائے گا۔ جس قدر جلد ھم اس مقصد میں كامیاب ھوجائیں گے اتنا ھی جلد ظھور ھوگا۔

+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 22 Mar 2011 و ساعت 11:33 AM |

ظھور كی خاص علامتیں

امام مہدی (عج)

یہ ایك حقیقت  ہے ك جب بھی كسی معاشرے میں انقلاب كے لئے زمین ھموار ھوتی  ہے تو غلط افوا  ہیں  پھیلانے والوں، فریب كاروں، حیلہ گروں اور جھوٹے دعوے داروں كی تعداد بڑھ جاتی  ہے۔ یہی لوگ ظالم اور فاسد نظام كے محافظ ھوتے  ہیں  ان كی كوشش یہ ھوتی  ہے كہ عوام كے جذبات، احساسات اور ان كے افكار سے غلط فائدہ اٹھایا جائے۔

یہ لوگ انقلاب كو بدنام كرنے كے لئے خود بھی بظاھر انقلابی بن جاتے  ہیں  اور انقلابی نعرے لگانے لگتے  ہیں  ایسے ھی لوگ انقلاب كی راہ میں سب سے بڑی ركاوٹ  ہیں ۔

یہ وہ دجال  ہیں  جن سے ھوشیار رھنے كے بارے میں ھر نبی نے اپنی امت سے نصیحت كی  ہے۔

حضرت مھدی (عج) كا انقلاب صحیح معنوں میں عالمی انقلاب ھوگا۔ اس عالمی انقلاب كے لیے عوام میں جس قدر آمادگی بڑھتی جائے گی جتنا وہ فكری طور س آمادہ ھوتے جائیں گے ویسے ویس دجّالوں كی سرگرمیاں بھی تیز ھوتی جائیں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ تاكہ انقلاب كی راہ میں روڑے اٹكا سكیں۔

ھوسكتا  ہے كہ ان تمام دجالوں كی سربراھی ایك بڑے دجّال كے ھات ہوں میں ھو، اور اس دجال كی جو صفات بیان كی گئی  ہیں  وہ علامتی صفات  ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ علامہ مجلسی (رح) نے بحار الانوار میں ایك روایت امیر المومنین علیہ السلام سے نقل فرمائی  ہے جس میں دجال كی صفات كا ذكر  ہے وہ صفات یہ  ہیں :

1) اس كے صرف ایك آنكھ  ہے، یہ آنكھ پیشانی پر ستارۂ صبح كی طرح چمك رھی  ہے۔ یہ آنكھ اس قدر خون آلود  ہے گویا خون ھی سے بنی  ہے۔

2) اس كا خچر (سواری) سفید اور تیزرو  ہے، اس كا ایك قدم ایك میل كے برابر  ہے۔ وہ بہت تیز رفتاری سے زمین كا سفر طے كرے گا۔

3) وہ خدائی كا دعویٰ كرے گا۔ جس وقت اپنے دوستوں كو آواز دے گا تو ساری دنیا میں اس كی آواز سنی جائے گی۔

4) وہ دریاؤں میں ڈوب جائے گا۔ وہ سورج كے ساتھ سفر كرے گا، اس كے سامنے دھنویں كا پہاڑ ھوگا اور اس كی پشت پر سفید پہاڑ ھوگا۔ لوگ اسے غذائیں مواد تصور كریں گے۔

5) وہ جس وقت ظاھر ھوگا اس وقت لوگ قحط میں اور غذائی مواد كی قلت میں مبتلا  ہوں گے۔ 1

یہ بات اپنی جگہ صحیح  ہے كہ ھمیں یہ حق حاصل نہیں  ہے كہ ھم قرآن اور احادیث میں بیان شدہ مطالب كو "علامتی عنوان" قرار دیں كیونكہ یہ كام ایك طرح كی تفسیر بالرائے  ہے جس كی شدّت سے مخالفت كی گئی  ہے۔ لیكن یہ بھی صحیح نہیں  ہے كہ عقلی اور نقلی قرینوں كی موجودگی میں لفظ كے ظاھری مفھوم سے چپكے ر ہیں ۔

آخری زمانے كے بارے میں جو روایتیں وارد ھوئی  ہیں  ان میں "علامتی عنوان" بكثرت موجود  ہیں ۔

مثلا ایك روایت میں  ہے كہ اس وقت مغرب سے آفتاب آئے گا۔ اگر اس حدیث كے ظاھری معنی مراد لئے جائیں تو اس كی دو صورتیں  ہیں ۔ ایك یہ كہ آفتاب ایكا ایكی مغرب سے طلوع كرے تو اس صورت میں منظومہ شمسی كی حركت بالكل معكوس ھوجائے گی جس كے نتیجہ میں نظام كائنات درھم برھم ھوجائے گا۔ دوسرے یہ كہ آفتاب رفتہ رفتہ مغرب سے طلوع كرے۔ تو اس صورت میں رات دن اس قدت طولانی ھوجائیں گے جس سے نظام زندگی میں درھمی پیدا ھوجائے گی واضح ر ہے كہ یہ دونوں ھی معنی حدیث سے مراد نہیں  ہیں ۔ كیونكہ نظام درھم برھم ھونے كا تعلق سے  ہے آخری زمانے سے نہیں، جیسا كہ صعصعہ بن صوحان كی روایت كے آخری فقرے سے استفادہ ھوتا  ہے كہ یہ حدیث ایك علامتی عنوان  ہے امام زمانہ كے بارے میں۔

نزال بن سیدہ جو اس حدیث كے راوی  ہیں ، ان ہوں نے صعصعہ بن صوحان سے دریافت كیا كہ امیر المومنین علیہ السلام نے دجال كے بارے میں بیان كرنے كے بعد یہ كیوں ارشاد فرمایا كہ مجھ سے ان واقعات كے بارے میں نہ دریافت كرو جو اس كے بعد رونما  ہوں گے۔"

صعصعہ بن صوحان نے فرمایا:۔

جس كے پیچ ہے جناب عیسیٰ (ع) نماز ادا كریں گے وہ اھل بیت علیہم السلام كی بارھویں فرد ھوگا اور امام حسین علیہ السلام كی صلب میں نواں ھوگا۔ یہ وہ آفتاب  ہے جو اپنے كو مغرب سے طلوع كرے گا۔

لہٰذا یہ بات بہت ممكن  ہے كہ دجال كی صفات "علامتی عنوان" كی حیثیت ركھتی  ہوں جن كا تعلق كسی خاص فرد سے نہ ھو بلكہ ھر وہ شخص دجال ھوسكتا  ہے جو ان صفات كا حامل ھو یہ صفات مادی دنیا كے سر برا ہوں كی طرف بھی اشارہ كر رھی  ہیں ، كیونكہ:

1) ان لوگوں كی صرف ایك آنكھ  ہے، اور وہ  ہے مادی و اقتصادی آنكھ ۔ یہ لوگ دنیا كے تمام مسائل كو صرف اسی نگاہ سے دیكھتے  ہیں ۔ مادی مقاصد كے حصول كی خاطر جائز و ناجائز كے فرق كو یكسر بھول جاتے  ہیں ۔

ان كی یہی مادی آنكھ بہت زیادہ چمكدار  ہے، كیونكہ ان لوگوں نے صنعتی میدان میں چشم گیر ترقی كی  ہے۔ زمین كی حدوں سے باھر نكل گئے  ہیں ۔

2) تیز رفتار سواریاں ان كے اختیار میں  ہیں ۔ مختصر سی مدّت میں ساری دنیا كا چكّر لگا لیتے  ہیں ۔

3) یہ لوگ خدائی كے دعوے دار  ہیں ۔ كمزور اور غیر ترقی یافتہ ممالك كی قسمت سے كھیلنا اپنا فرض سمجھتے  ہیں ۔

4) جدید ترین آبدوزوں كے ذریعہ سمندر كی تہوں میں سورج كے ساتھ سفر كرتے  ہیں ، ان كی نگا ہوں كے سامنے دیو پیكر كارخانے، دھویں كا پہاڑ، اور ان كے پیچ ہے غذائی مواد كا انبار سفید پہاڑ، (جس كی عوام غذائی اشیاء تصور كرتے  ہیں ، جب كہ وہ صرف پیٹ بھراؤ چیزیں  ہیں ، ان میں غذائیت نہیں  ہے)۔

5) قحط، خشك سالی، استعماریت، جنگ كے لئے سرمایہ گذاری، اسلحہ كے كمرشكن مصارف قتل و غارت گری … ان چیزوں كی بنا پر غذائی اشیاء میں شدید قلت پیدا ھوجاتی  ہے جس كی وجہ سے بعض لوگ بھكمری كا شكار ھوجاتے  ہیں ۔

یہ حالات دجال كے منصوبہ بند پروگرام كا نتیجہ  ہیں  جس سے وہ حسب منشاء استفادہ اٹھاتا  ہے۔ كمزوروں، غریبوں اور زحمت كشوں كی امداد كے بہانے اپنے اقتدار كو استحكام عطا كرتا  ہے۔

بعض روایتوں میں  ہے ك دجّال كی سواری كے ھر بال سے مخصوص قسم كا ساز سنائی دے گا یہ روایت آج كل كی دنیا پر كس قدر منطبق ھو رھی  ہے كہ دنیا كے گوشہ گوشہ میں موسیقی كا جال بچھا ھوا  ہے كوئی گھر سازو آواز سے خالی نہیں  ہے۔

خواہ دجال ایك مخصوص شخص كا نام ھو، خواہ دجال كی صفات "علامتی عنوان" كی حیثیت ركھتی  ہوں، بہر حال عالمی انقلاب كے منتظر افراد، اور حضرت مھدی (عج) كے جانبازوں كی ذمہ داری  ہے كہ وہ دجال صفت افراد سے مرعوب نہ  ہوں اور ان كے دام فریب میں گرفتار  ہوں۔ انقلاب كے لئے زمین ھموار كرنے كے لئے ھر ممكن كوشش كرتے ر ہیں ، اور كسی وقت بھی ناكامی اور سستی كے احساس كو اپنے قریب نہ آنے دیں۔

حوالہ جات:

1.بحار الانوار ج52 ص192 صعصعہ بن صفوان كی حدیث سے اقتباس۔

+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 22 Mar 2011 و ساعت 11:29 AM |

حضرت امام مہدی (ع) كے ظھور پر زندہ دلیلیں

امام مھدي(عج)

چند سال قبل كینیا (افریقہ) كے ایك باشندے بنام "ابو محمد" نے "ادارہ رابطہ عالم اسلامی" سے حضرت مہدی (ع) كے ظھور كے بارے میں سوال كیا تھا۔

اس ادارے كے جنرل سكریٹری "جناب محمد صالح اتغزاز" نے جو جواب ارسال كیا، اس میں اس بات كی با قاعدہ تصریح كی ھے كہ وھابی فرقے كے بانی "ابن تیمیہ" نے بھی ان روایات كو قبول كیا ھے جو حضرت امام مھدی علیہ السلام كے بارے میں وارد ھوئی ھیں۔ اس جواب كے ذیل میں سكریٹری موصوف نے وہ كتابچہ بھی ارسال كیا ھے جسے پانچ جید علمائے كرام نے مل كر تحریر كیا ھے۔ اس كتابچے كے اقتباسات قارئین محترم كی خدمت میں پیش كئے جاتے ھیں: ۔۔۔۔

عظیم مصلح كا اسم مبارك مھدی (ع) ھے۔ آپ كے والد كا نام "عبد اللہ" ھے اور آپ مكّہ سے ظھور فرمائیں گے۔ ظھور كے وقت ساری دنیا ظلم و جور و فساد سے بھری ھوگی۔ ھر طرف ضلالت و گمراھی كی آندھیاں چل رھی ھوں گی۔ حضرت مہدی (ع) كے ذریعہ خداوندعالم دنیا كو عدل و انصاف سے بھر دے گا، ظلم و جور و ستم كانشان تك بھی نہ ھوگا۔"

رسول گرامی اسلام (ص) كے بارہ جانشینوں میں سے وہ آخری جانشین ھوں گے، اس كی خبر خود پیغمبر اسلام (ص) دے گئے ھیں، حدیث كی معتبر كتابوں میں اس قسم كی روایات كا ذكر باقاعدہ موجود ھے۔"

حضرت مہدی (ع) كے بارے میں جو روایات وارد ھوئی ھیں خود صحابۂ كرام نے ان كو نقل فرمایا ھے ان میں سے بعض كے نام یہ ھیں:۔

(1) علی ابن ابی طالب (ع)، (2) عثمان بن عفان، (3) طلحہ بن عبیدہ، (4) عبد الرحمٰن بن عوف، (5) عبد اللہ بن عباس،(6) عمار یاسر، (7) عبد اللہ بن مسعود، (8) ابوسعید خدری، (9) ثوبان، (10) قرہ ابن اساس مزنی، (11) عبد اللہ ابن حارث، (12) ابوھریرہ، (13) حذیفہ بن یمان، (14) جابر ابن عبد اللہ (15) ابو امامہ، (16) جابر ابن ماجد، (17) عبد اللہ بن عمر (18) انس بن مالك، (19) عمران بن حصین، (20) ام سلمہ۔

پیغمبر اسلام (ص) كی روایات كے علاوہ خود صحابہ كرام كے فرمودات میں ایسی باتیں ملتی ھیں جن میں حضرت مہدی (ع) كے ظھور كو باقاعدہ ذكر كیا گیا ھے۔ یہ ایسا مسئلہ ھے جس میں اجتہاد وغیرہ كا گذر نہیں ھے جس كی بناء پر بڑے اعتماد سے یہ بات كہی جاسكتی ھے كہ یہ تمام باتیں خود پیغمبر اسلام (ص) كی روایات سے اخذ كی گئی ھیں۔ ان تمام باتوں كو علمائے حدیث نے اپنی معتبر كتابوں میں ذكر كیا ھے جیسے:۔

سنن ابی داؤد، سنن ترمذی، ابن ماجہ، سنن ابن عمر والدانی، مسند احمد، مسند ابن یعلی، مسند بزاز، صحیح حاكم، معاجم طبرانی (كبیر و متوسط)، معجم رویانی، معجم دار قطنی، ابو نعیم كی "اخبار المھدی"۔ تاریخ بغداد، تاریخ ابن عساكر، اور دوسری معتبر كتابیں۔

علمائے اسلام نے حضرت مھدی (ع) كے موضوع پر مستقل كتابیں تحریر كی ھیں جن میں سے بعض كے نام یہ ھیں:

اخبار المھدی؛ تالیف: ابو نعیم

القول المختصر فی علامات المھدی المنتظر؛ تالیف: ابن ھجر ھیثمی

التوضیح فی تواتر ماجاء فی المنتظر والد جال والمسیح؛ تالیف: شوكانی

المھدی؛ تالیف: ادریس عراقی مغربی

الوھم المكنون فی الرد علی ابن خلدون؛ تالیف: ابو العباس بن عبد المومن المغربی

مدینہ یونی یورسٹی كے وائس چانسلر نے یونی ورسٹی كے ماھنامہ میں اس موضوع پر تفصیل سے بحث كی ھے، ھر دور كے علماء نے اس بات كی باقاعدہ تصریح كی ھے كہ وہ حدیثیں جو حضرت مھدی (ع) كے بارے میں وارد ھوئی ھیں وہ متواتر ھیں جنھیں كسی بھی صورت سے جھٹلایا نہیں جاسكتا۔ جن علماء نے حدیثوں كے متواتر ھونے كا دعویٰ كیا ھے ان كے نام اور كتابوں كے نام حسب ذیل ھیں، جن میں تواتر كا ذكر كیا گیا ھے:۔

1۔ السخاوی اپنی كتاب فتح المغیث میں

2۔ محمد بن السنادینی اپنی كتاب شرح العقیدہ میں

3۔ ابو الحسن الابری اپنی كتاب مناقب الشافعی میں

4۔ ابن تیمیہ اپنے فتوؤں میں

5۔ سیوطی اپنی كتاب الحاوی میں

6۔ ادریس عراقی مغربی اپنی كتاب المھدی میں

7۔ شوكانی اپنی كتاب التوضیح فی تواتر ماجاء میں

8۔ شوكانی اپنی كتاب فی المنتظر والدجال والمسیح میں

9۔ محمد جعفر كنانی اپنی كتاب نظم المتناثر میں

10۔ ابو العباس عبد المومن المغربی اپنی كتاب الوھم المكنون میں

ھاں ابن خلدون نے ضرور اس بات كی كوشش كی ھے كہ ان متواتر اور ناقابل انكار حدیثوں كو ایك جعلی اور بے بنیاد حدیث لا مھدی الا عیسیٰ (حضرت عیسیٰ كے علاوہ اور كوئی مھدی نہیں ھے) كے ھم پلّہ قرار دے كر ان حدیثوں سے انكار كیا جائے۔ لیكن علمائے اسلام نے اس مسئلہ میں ابن خلدون كے نظریے كی باقاعدہ تردید كی ھے خصوصاً ابن عبد المومن نے تو اس موضوع پر ایك مستقل كتاب الوھم المكنون تحریر كی ھے۔ یہ كتاب تقریباً 30 برس قبل مشرق اور مغرب میں شائع ھوچكی ھے۔

حافظان حدیث اور دیگر علمائے كرام نے بھی ان حدیثوں كے متواتر ھونے كی صراحت فرمائی ھے۔

ان تمام باتوں كی بنا پر ھر مسلمان پر واجب ھے كہ وہ حضرت مھدی كے ظھور پر ایمان و عقیدہ ركھے۔ اھل سنت والجماعت كا بھی یہی عقیدہ ھے اور ان كے عقائد میں سے ایك ھے۔

ھاں وہ اشخاص تو ضرور اس عقیدے سے انكار كرسكتے ھیں جو روایات سے بے خبر ھیں، یادین میں بدعت كو رواج دینا چاھتے ھیں، (ورنہ ایك ذی علم اور دیندار كبھی بھی اس عقیدے سے انكار نہیں كرسكتا۔)"

سكریٹری انجمن فقۂ اسلامی

محمد منتصر كنانی

اس جواب كی روشنی میں یہ بات كس قدر واضح ھوجاتی ھے كہ حضرت مھدی (ع) كے ظھور كا عقیدہ صرف ایك خالص اسلامی عقیدہ ھے كسی بھی دوسرے مذھب سے یہ عقیدہ اخذ نہیں كیا گیا ھے۔

ایك بات ضرور قابل ذكر ھے وہ یہ كہ اس جواب میں حضرت امام مھدی (ع) كے والد بزرگوار كا اسمِ مبارك عبد اللہ ذكر كیا گیا ھے۔ جب كہ اھل بیت علیہم السلام سے جو روایات وارد ھوئی ھیں۔ ان میں بطور یقین حضرت كے والد بزرگوار كا اسم مبارك حضرت امام حسن عسكری علیہ السلام ھے

اس شبہ كی وجہ وہ روایت ھے جس كے الفاظ یہ ھیں "اسم ابیہ اسم ابی" (ان كے والد كا نام میرے والد كا نام ھے) جبكہ بعض دوسری روایات میں ابی (میرے والد) كے بجائے ابنی (میرا فرزند) ھے، صرف نون كا نقطہ حذف ھوجانے یا كاتب كی غلطی سے یہ اختلاف پیدا ھوگیا ھے۔ اسی بات كو "گنجی شافعی" نے اپنی كتاب "البیان فی اخبار صاحب الزمان" میں ذكر كیا ھے، اس كے علاوہ

1۔ یہ جملہ اھل سنت كی اكثر روایات میں موجود نہیں ھے

2۔ ابن ابی لیلیٰ كی روایت كے الفاظ یہ ھیں: اسمہ اسمی اسم ابیہ اسم ابنی۔ (اس كا نام میرا نام ھے، اس كے والد كا نام میرے فرزند كا نام ھے) فرزند سے مراد حضرت امام حسن علیہ السلام ھیں۔

3۔ اھل سنت كی بعض روایات میں اس بات كی تصریح كی گئی ھے كہ امام زمانہ كے والد بزرگوار كا نام حسن ھے۔

4۔ اھلبیت علیہم السلام سے جو روایات وارد ھوئی ھیں جو تواتر كی حد كو پہونچتی ھیں ان میں صراحت كے ساتھ یہ بات ذكر كی گئی ھے كہ حضرت امام مھدی علیہ السلام كے والد بزرگوار كا اسم مبارك حسن ھے

+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 22 Mar 2011 و ساعت 11:27 AM |
منتظِر اور منتظَر
امام مہدی علیہ السلام
امام مہدی علیہ السلام اللہ کے اذن کا انتظار کر رہے ہیں تا کہ پردہ غیبت سے باہر نکلیں اور کسی بھی حجاب و نقاب کے بغیر ظلمتوں سے بھر پور دنیا کے باسیوں کو اپنے جمال کے خورشید مہر فرما کی زیارت کرا دیں۔

ایسا ہرگز نہیں ہے کہ دنیا کی اتنی بڑی آبادی امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی منتظر اور چشم براہ اور آپ (ع) کے ہاتھوں خدا کے وعدوں کے عملی شکل اختیار کرنے کے لئے بے چین ہو لیکن امام علیہ السلام خود اتنے سارے شوق و اشتیاق سے بے خبر، ہر قسم کے اندیشوں سے آزاد کسی گوشۂ عافیت میں بیٹھے ہوں اور اپنے پیرو کاروں پر گذرنے والے دکھ درد اور آزار و اذیت سے بے اعتنا اور بے احساس ہو کر غیبت کے دور سے گذر رہے ہوں! وہ نہ صرف اپنے منتظرین کے احوال سے با خبر ہیں (1) اور ان کے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور انہیں ہرگز فراموش نہیں کرتے (2) بلکہ خود بھی انتظار کر رہے ہیں خود بھی منتظر ہیں۔

آپ (ع) اللہ کے اذن کا انتظار کر رہے ہیں (3) تا کہ پردہ غیبت سے باہر نکلیں اور کسی بھی حجاب و نقاب کے بغیر ظلمتوں سے بھر پور دنیا کے باسیوں کو اپنے جمال کے خورشید مہر فرما کی زیارت کرا دیں۔

آپ (ع) اللہ کے فرمان کے منتظر ہیں (4) تا کہ نہ صرف شمشیر و سناں بلکہ عقل، علم اور مہربانی کا ہتھیار اٹھا کر تمام دلوں کو مسخر کردیں اور دین و عدل کو تمام سرزمینوں پر حاکم کردیں۔

آپ (ع) خدا کے دوستوں کی آسائش و سکون کے منتظر ہیں (5) تا کہ وہ آپ (ع) کی توحیدی حکومت کے سائے تلی انتظار کی سختی سے آسودہ خاطر ہوجائیں اور عصر غیبت کے فتنوں سے رہائی حاصل کریں اور آپ (ع) کے علم و عدل کی مدد سے کمال و ارتقاء کی چوثیاں یکے بعد دیگرے فتح کرلیں۔

امام زمانہ علیہ السلام کے انتظارات ہی ہیں جو راتوں کی تاریکیوں میں آپ (ع) کی نیند کو غارت کرتے ہیں اور آپ کا اشک سوزاں آپ کے رخسار مبارک پر جاری کردیتے ہیں اور آپ (ع) کی آہ و نالہ اور ندبہ و دعا کا سبب بنتے ہیں۔

«اللّهمَّ طال الانتظار، و شَمُتَ بنا الفجّار، وصَعُبَ علینا الانتصار۔» (6)  «بار خدایا ! انتظار طویل ہوگیا؛ کافروں کی ملامت کا سامنا کرنا پڑا اور فتح و کامرانی دشوار ہوگئی»۔

ترجمه: ف . ح . مهدوی

حوالہ جات:

1ـ « انّا یحیط علمنا بأنبائکم ولایعزُبَ عنّا شىٌ من اخبارکم»۔ بحار، ج ۵۳، ص ۱۷۵۔ ہمارا علم تمہاری خبروں کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور تمہاری کوئی خبر ہم سے مخفی نہیں رہتی۔

2ـ وہی مأخذ۔

3ـ بارخدایا! درود بھیج مہدی (علیہ السلام) پر جو تیرے حکم پر قیام کرنے والے، تیری مخلوقات کے بیچ غائب ہونے والے اور تیرے اذن کا انتظار کرنے والے ہیں۔ بحار، ج ۹۹، ص ۱۰۲۔

4 ـ «اللّهم صلّ على ولیک المنتظر أمرَکَ» بارخدایا! درود بھیج اپنے ولی پر جو تیرے فرمان کا انتظار کررہے ہیں۔ بحار، ج۹۱، ص ۱۷۔

5- خدایا! اپنے ولی امام زمانہ (علیہ السلام) پر درود بھیج جو تیرے اولیاء اور دوستوں کی آسائش و سکون کے منتظر ہیں۔ (وہی مأخذ)۔

6 ـ بحارالأنوار، ج ۱۰۲، ص ۱۰۳۔

+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 22 Mar 2011 و ساعت 11:26 AM |

ظھور كی علامتیں (حصّہ سوّم)

امام مہدی (عج)

خاص علامتیں

1) دجّال

جب كبھی دجال كا تذكرہ ھوتا  ہے، ذھن پُرانے تصورات كی بنا پر فوراً ایك خاص شخص كی طرف متوجہ ھوجاتا  ہے جس كے صرف ایك آنكھ  ہے جس كا جسم بھی افسانوی  ہے اور سواری بھی۔ جو حضرت مھدی (عج) كے عالمی انقلاب سے پہلے ظاھر ھوگا۔

لیكن دجال كے لغوی معنی 14 اور احادیث سے یہ استفادہ ھوتا  ہے كہ دجال كسی خاص فرد سے مخصوص نہیں  ہے۔ بلكہ یہ ایك عنوان  ہے جو ھر دھوكہ باز اور حیلہ گر… پر منطبق ھوتا  ہے۔ اور ھر اس شخص پر منطبق ھوتا  ہے جو عالمی انقلاب كی راہ میں ركاوٹیں ایجاد كرتا  ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كی ایك مشھور حدیث  ہے:

انہ لہ یكن نبی بعد نوح الا انذر قومہ الدجال وانی انذر كموہ ۔1

"حضرت  نوح (ع) كے بعد ھر نبی نے اپنی قوم كو دجال كے فتنہ سے ڈرایا  ہے میں بھی تم ہیں  اس سے ھوشیار كرتا  ہوں۔"

یہ بات مسلم  ہے كہ انبیاء علیہم السلام اپنی قوم كو كسی ایسے فتنے سے نہیں ڈراتے ت ہے جو ھزاروں سال بعد آخری زمانہ میں رونما ھونے والا ھو۔

اسی حدیث كا یہ آخری جملہ خاص توجہ كا طالب  ہے كہ:

فوصفہ لنا رسول اللہ فقال لعلہ سیدركہ بعض من رأنی او سمع كلامی

رسول خدا (ص) نے ھمارے لئے اس كے صفات بیان فرمائے اور فرمایا كہ ھوسكتا  ہے وہ لوگ اس سے دوچار  ہوں جن ہوں نے مج ہے دیكھا  ہے یا میری بات سنی  ہے۔"

اس بات كا قوی احتمال  ہے كہ حدیث كا یہ آخری جملہ ان فریب كاروں، سركشوں، حیلہ گروں، مكّاروں … كی نشاندھی كر رھا ھو جو آنحضرت (ص) كے بعد بڑے بڑے عنوان كے ساتھ ظاھر ھوئے۔ جیسے بنی امیہ اور ان كے سركردہ معاویہ، جہاں "خال المومنین" اور "كاتب وحی" جیسے مقدس عناوین لگے ھوئے  ہیں  ان لوگوں نے عوام كو صراط مستقیم سے منحرف اور ان كو جاھلی رسومات كی طرف واپس لانے میں كوئی كسر اُٹھا نہیں ركھی، متقی اور ایمان دار افراد كو كنارے كردیا، اور عوام پر بدكاروں، جاھلوں اور جابروں كو مسلط كردیا۔

صحیح ترمذی كی ایك روایت یہ بھی  ہے كہ آنحضرت (ص) نے دجال كے بارے میں ارشاد فرمایا كہ:

"ما من نبی الا وقد انذر قومہ ولٰكن ساقول فیہ قولا لم یقلہ نبی لقومہ تعلمون انہ اعور۔ (وھی مآخذ)

ھر نبی نے اپنی قوم كو دجال كے فتنہ سے ڈرایا  ہے، لیكن اس كے بارے میں، میں ایك ایسی بات كہہ رھا  ہوں جو كسی نبی نے اپنی قوم سے نہیں كہا، اور وہ یہ كہ وہ كانا  ہے۔"

بعض حدیثوں میں ملتا  ہے كہ حضرت مھدی (عج) كے ظھور سے پہلے تیس دجال رونما  ہوں گے۔

انجیل میں بھی دجّال كے بارے میں ملتا  ہے كہ:

تم كو معلوم  ہے كہ دجال آنے والا  ہے۔ آج كل بھی كافی دجال ظاھر ھوتے  ہیں ۔ " 2

اس عبارت سے صاف ظاھر  ہے كہ دجال متعدد  ہیں ۔

ایك دوسری حدیث میں آنحضرت نے ارشاد فرمایا كہ:

لا تقوم الساعۃ حتی یخرج نحوستین كذا بكلھم یقولون انا نبی۔

قیامت اس وقت تك نہیں آئے گی جب تك ساٹھ (60) جھوٹے پیدا نہ ھوجائیں جن میں سے ھر ایك اپنے پیغمبر بتائے گا۔" 3

اس روایت میں گرچہ دجال كا لفظ نہیں  ہے لیكن اتنا ضرور معلوم ھوتا  ہے كہ آخری زمانہ میں جھوٹے دعوے داروں كی تعداد ایك دو پر منحصر نہیں ھوگی۔

حوالہ جات:

1. صحیح ترمذی۔ باب ماجاء فی الدجال ص42

2.رسالہ دوم یوحنا۔ باب 1 جملہ 6۔ 7

3. بحار الانوار ج52 ص209

+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 22 Mar 2011 و ساعت 11:24 AM |

ظھور كی علامتیں

حضرت مھدی (عج)  

 منتظِر اور منتظَر

صحیفہ مہدیہ

اس عالمی انقلاب كی كچھ علامتیں بھی ھیں كہ انتا عظیم انقلاب كب برپا ھوگا۔؟

ھم اس عظیم انقلاب سے نزدیك ھو رھے ھیں یا نہیں۔؟

اس عظیم انقلاب كو اور قریب كیا جاسكتا ھے؟

اگر یہ ممكن ھے تو اس كے اسباب و وسائل كیا ھیں۔

تمام سوالوں كے جواب مثبت ھیں۔

دنیا میں كوئی بھی طوفان ایكا ایكی نہیں آتا ھے۔ سماج میں انقلاب رونما ھونے سے پہلے اس كی علامتیں ظاھر ھونے لگتی ھیں۔

اسلامی روایات میں اس عظیم انقلاب كی نشانیوں كا تذكرہ ملتا ھے۔ یہ نشانیاں اور علامتیں دو طرح كی ھیں:

1) عمومی علامتیں جوھر انقلاب سے پہلے (انقلاب كے تناسب سے) ظاھر ھوتی ھیں۔

2) جزئیات جن كو معمولی و اطلاع كی بنیاد پر نہیں پركھا جاسكتا ھے بلكہ ان جزئیات كی حیثیت ایك طرح كی اعجازی ھے۔

ظلم و فساد كا رواج

سب سے پہلی وہ علامت جو عظیم انقلاب كی آمد كی خبر دیتی ھے۔ وہ ظلم و فساد كا رواج ھے۔ جس وقت ھر طرف ظلم پھیل جائے، ھر چیز كو فساد اپنی لپیٹ میں لے لے۔ دوسروں كے حقوق پامال ھونے لگیں، سماج برائیوں كا گڑھ بن جائے اس وقت عظیم انقلاب كی آھٹ محسوس ھونے لگتی ھے۔ یہ طے شدہ بات ھے كہ جب دباؤ حد سے بڑھ جائے گا تو دھماكہ ضرور ھوگا یہی صورت سماج كی بھی ھے جب سماج پر ظلم و فساد كا دباؤ حد سے بڑھ جائے گا تو اس كے نتیجہ میں ایك انقلاب ضرور رونما ھوگا۔

اس عظیم عالمی انقلاب اور حضرت مھدی (عج) كے ظھور كے بارے میں بھی بات كچھ اسی طرح كی ھے۔

منفی انداز فكر والوں كی طرح یہ نہیں سوچنا چاھیے كہ ظلم و فساد كو زیادہ سے زیادہ ھوا دی جائے تاكہ جلد از جلد انقلاب آجائے بلكہ فساد اور ظلم كی عمومیت كو دیكھتے ھوئے اپنی اور دوسروں كی اصلاح كی فكر كرنا چاھیے، تاكہ صالح افراد كی ایك ایسی جماعت تیار ھوسكے جو انقلاب كی علمبردار بن سكے۔

اسلامی روایات میں اس پہلی علامت كو ان الفاظ میں بیان كیا گیا ھے:۔

كما ملئت ظلما وجوراً …" جس طرح زمین ظلم و جور سے بھر چكی ھوگی یہاں ایك سوال یہ اٹھتا ھے كہ "ظلم و جور" مترادف الفاظ ھیں یا معانی كے اعتبار سے مختلف۔

دوسروں كے حقوق پر تجاوز دو طرح ھوتا ھے۔

ایك یہ كہ انسان دوسروں كے حقوق چھین لے اور ان كی محنت سے خود استفادہ كرے اس كو "ظلم" كہتے ھیں۔

دوسرے یہ كہ دوسروں كے حقوق چھین كر اوروں كو دے دے، اپنے اقتدار كے استحكام كے لئے اپنے دوستوں كو عوام كے جان و مال پر مسلط كردے اس كو "جور" كہتے ھیں۔

ان الفاظ كے مد مقابل جو الفاظ ھیں وہ ھیں ظلم كے مقابل "قسط" اور جور كے مقابل "عدل" ھے۔

اب تك بات عمومی سطح پر ھورھی تھی كہ ھر انقلاب سے پہلے مظالم كا وجود انقلاب كی آمد كی خبر دیتا ھے۔

قابل غور بات تو یہ ھے كہ اسلامی روایات نے سماجی برائیوں كی جزئیات كی نشاندھی كی ھے۔ یہ باتیں اگر چہ 13۔ 14 سو سال پہلے كہی گئی ھیں لیكن ان كا تعلق اس زمانے سے نہیں ھے بلكہ آج كل ھماری دنیا سے ھے۔ یہ جزئیات كچھ اس طرح بیان كیے گئے ھیں گویا بیان كرنے والا اپنی آنكھوں سے دیكھ رھا ھو، اور بیان كررھا ھو۔ یہ پیشین گوئیاں كسی معجزے سے كم نہیں ھیں۔

اس سلسلے میں ھم متعدد روایتوں میں سے صرف ایك روایت كو ذكر كرتے ھیں۔ یہ روایت حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ھوئی ھے۔ اس روایت میں سیاسی، سماجی اور اخلاقی مفاسد كا ذكر كیا گیا ھے۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے بعض اصحاب سے ارشاد فرمایا ھے:

1۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ ھر طرف ظلم و ستم پھیل رھا ھے۔

2۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ قرآن فرسودہ كردیا گیا ھے اور دین میں بدعتیں رائج كردی گئی ھیں۔

3۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ دین خدا اس طرح اپنے مفاھیم سے خالی ھوگیا ھے جس طرح برتن الٹ دیا گیا ھو۔

4۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ اھل باطل صاحبانِ حق پر مسلط ھوگئے ھیں۔

5۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ مرد مرد پر اور عورتیں عورتوں پر اكتفا كر رھی ھیں۔

6۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ صاحبانِ ایمان سے خاموشی اختیار كرلی ھے۔

7۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ چھوٹے بڑوں كا احترام نہیں كر رھے ھیں۔

8۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ رشتہ داریاں ٹوٹ گئی ھیں۔

9۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ چاپلوسی كا بازار گرم ھے۔

10۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ شراب اعلانیہ پی جارھی ھے۔

11۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ خیر كے راستے اُجاڑ اور شر كی راھیں آباد ھیں۔

12۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ حلال كو حرام اور حرام كو حلال كیا جارھا ھے۔

13۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ احكامِ دین كی حسبِ منشا تفسیر كی جارھی ھے۔

14۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ صاحبان ایمان ھے آزادی اس طرح سلب كرلی گئی ھے كہ وہ اپنے دل كے علاوہ كسی اور سے اظھار نفرت نہیں كرسكتے۔

15 جس وقت تم یہ دیكھو كہ سرمایہ كا بیشتر حصّہ گناہ میں صرف ھورھا ھے۔

16۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ حكومتی ملازمین كے درمیان رشوت عام ھوگئی ھے۔

17۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ حساس و اھم منصبوں پر نااھل قبضہ جمائے ھیں۔

18۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ (بعض مرد) اپنی عورتوں كی ناجائز كمائی پر زندگی بسر كر رھے ھیں۔

19۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ قمار آزاد ھوگیا ھے (قانونی ھوگیا ھے)

20۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ ناروا تفریحیں اتنی عام ھوگئی ھیں كہ كوئی روكنے كی ھمّت نہیں كر رھا ھے۔

21۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ قرآنی حقائق كا سننا لوگوں پر گراں گذرتا ھے۔

22۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ پڑوسی پڑوسی كی زبان كے ڈر سے اس كا احترام كر رھا ھے۔

23۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ مسجدوں كی آرائش كی جارھی ھے۔

24۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ غیر خدا كے لئے حج كیا جارھا ھے۔

25۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ عوام سنگ دل ھوگئے ھیں۔

26۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ عوام اس كے حامی ھوں جو غالب آجائے (خواہ حق پر ھو خواہ باطل پر)

27۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ حلال كے متلاشی افراد كی مذمّت كی جائے اور حرام كی جستجو كرنے والوں كی مدح۔

28۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ لہو و لعب كے آلات مكّہ مدینہ میں (بھی رائج ھوں۔

29۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ مسجد ان لوگوں سے بھری ھے جو خدا سے نہیں ڈرتے۔

30۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ لوگوں كی ساری توجہ پیٹ اور شرمگاہ پر مركوز ھے۔

31۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ مادی اور دنیاوی وسائل كی فراوانی ھے، دنیا كا رخ عوام كی طرف ھے۔

32۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ اگر كوئی امر بمعروف اور نہی از منكر كرے تو لوگ اس سے یہ كہیں كہ یہ تمھاری ذمہ داری نہیں ھے۔

33۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ عورتیں اپنے آپ كو بے دینوں كے حوالے كر رھی ھیں۔

34۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ حق پرستی كے پرچم فرسودہ ھوگئے ھیں۔

35۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ بربادی آبادی پر سبقت لے جارھی ھے۔

36۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ بعض كی روزی صرف كم فروشی پر منحصر ھے۔

37۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ ایسے افراد موجود ھیں جنھوں نے مال كی فراوانی كے باوجود اپنی زندگی میں ایك مرتبہ بھی زكات نہیں دی ھے۔

38۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ لوگ صبح و شام نشہ میں چور ھیں۔

39۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ لوگ ایك دوسرے كو دیكھتے ھیں اور بروں كی تقلید كرتے ھیں۔

40۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ ھر سال نیا فساد اور نئی بدعت ایجاد ھوتی ھے۔

41۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ عوام اپنے اجتماعات میں خود پسند سرمایہ داروں كے پیروكار ھیں۔

42۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ جانوروں كی طرح سب كے سامنے جنسی افعال انجام دے رھے ھیں

43۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ غیر خدا كے سلسلے میں زیادہ سے زیادہ خرچ كرنے میں كوئی تكلف نہیں كرتے لیكن خدا كی راہ میں معمولی رقم بھی صرف نہیں كرتے۔

44۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ ایسے افراد بھی ھیں كہ جس دن گناہ كبیرہ انجام نہ دیں اس دن غمگیں رھتے ھیں۔

45۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ حكومت عورتوں كے ھاتھوں میں چل گئی ھے۔

46۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ ھوائیں منافقوں كے حق میں چل رھی ھیں، ایمان داروں كو اس سے كچھ حاصل نہیں ھے۔

47۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ قاضی احكامِ الٰہی كے خلافِ فیصلہ دے رھا ھے۔

48۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ بندوں كو تقویٰ كی دعوت دی جارھی ھے مگر دعوت دینے والا خود اس پر عمل نہیں كر رھا ھے۔

49۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ لوگ اوقات نماز كو اھمیت نہیں دے رھے ھیں۔

50۔ جس وقت تم یہ دیكھو كہ ضرورت مندوں كی امداد بھی پارٹی كی بنیاد پر كی جارھی ھے، كوئی خدائی عنصر نہیں ھے۔

+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 22 Mar 2011 و ساعت 11:20 AM |
منتظرین کی ذمّہ داریاں

دینی رھبروں کے ذریعہ احادیث اور روایات میں ظھور کا انتظار کرنے والوں کی بھت سی ذمّہ داریاں بیان ھوئی ھیں، ھم یھاں پر ان میں سے چند اھم ذمّہ داریاں کو بیان کرتے ھیں۔

امام کی پہچان

امام علیہ السلام کی شناخت اور پہچان کے بغیر راہ انتظار کو طے کرنا ممکن نھیں ھے، انتظار کی وادی میں صبر و استقامت کرنا امام علیہ السلام کی صحیح شناخت سے وابستہ ھے، لہٰذا امام مھدی علیہ السلام کے اسم گرامی اور نسب کی شناخت کے علاوہ ان کی عظمت اور ان کے رتبہ و مقام کی کافی مقدار میں شناخت بھی ضروری ھے۔

”ابو نصر“ امام حسن عسکری علیہ السلام کےخادم،امام مھدی علیہ السلام کی غیبت سے پھلے امام عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ھوئے، امام مھدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) نے ان سے سوال کیا: کیا مجھے پہچانتے ھو؟ انھوں نے جواب دیا: جی ھاں، آپ میرے مولا و آقا اور میرے مولا و آقا کے فرزند ھیں! امام علیہ السلام نے فرمایا: میرا مقصد ایسی پہچان نھیں ھے!؟ ابو نصر نے عرض کی: آپ ھی فرمائیں کہ آپ کا مقصد کیا تھا۔

امام علیہ السلام نے فرمایا:

”میں پیغمبر اسلام (ص) کا آخری جانشین ھوں، اور خداوندعالم میری (برکت کی) وجہ سے ھمارے خاندان اور ھمارے شیعوں سے بلاؤں کو دور فرماتا ھے“۔

اگر منتظر کو امام علیہ السلام کی معرفت حاصل ھوجائے تو پھر وہ اسی وقت سے اپنے کو امام علیہ السلام کے مورچہ پر دیکھے گا اور احساس کرے گا کہ امام علیہ السلام اور ان کے خیمہ کے نزدیک ھے، لہٰذا اپنے امام کے مورچہ کو مضبوط بنانے میں پَل بھر کے لئے کوتاھی نھیں کرے گا۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ھیں:

”جو شخص اس حال میں مرے کہ اپنے امام زمانہ کو پہچانتا ھو تو ظھور کا جلد یا تاخیر سے ھونا کوئی نقصان نھیں پھونچاتا، اور جو شخص اس حال میں مرے کہ اپنے امام زمانہ کو پہچانتا ھو تو وہ اس شخص کی طرح ھے جو امام کے خیمہ اور اور امام کے ساتھ ھو“۔

قابل ذکر ھے کہ یہ معرفت اور شناخت اتنی اھم ھے کہ معصومین علیھم السلام کے کلام میں بیان ھوئی ھے اور جس کو حاصل کرنے کے لئے خداوندعالم سے مدد طلب کرنا چاہئے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

”حضرت امام مھدی علیہ السلام کی طولانی غیبت کے زمانہ میں باطل خیال کے لوگ (اپنے دین اور عقائد میں) شک و شبہ میں مبتلا ھوجائیں گے، امام علیہ السلام کے خاص شاگرد جناب زرارہ نے کھا: آقا اگر میں وہ زمانہ پائوں تو کونسا عمل انجام دوں؟

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اس دعا کو پڑھو:

”پرودگارا! مجھے تو اپنی ذات کی معرفت کرادے اور اگر تو نے مجھے اپنی ذات کی معرفت نہ کرائی تو میں تیرے نبی کو نھیں پہچان سکتا، پرودگارا! تو مجھے اپنے رسول کی معرفت کرادے اور اگر تو نے اپنے رسول کی پہچان نہ کرائی تو میں تیری حجت کو نھیں پہچان سکوں گا، پروردگارا! تو مجھے اپنی حجت کی معرفت کرادے اور اگر تو نے مجھے اپنی حجت کی پہچان نہ کرائی تو میں اپنے دین سے گمراہ ھوجاؤں گا“۔

قارئین کرام! مذکورہ دعا میں نظام کائنات کے مجموعہ میں امام علیہ السلام کی عظمت کی معرفت بیان ھوئی ھے اور وہ خداوندعالم کی طرف سے حجت اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا حقیقی جانشین اور تمام لوگوں کا ھادی و رھبر ھے جس کی اطاعت سب پر واجب ھے، کیونکہ اس کی اطاعت خداوندعالم کی اطاعت ھے۔

معرفت امام کا دوسرا پھلو امام علیہ السلام کے صفات اور ان کی سیرت کی پہچان ھے معرفت کا یہ پھلو انتظار کرنے والے کی رفتار و گفتار پر بھت زیادہ موثر ھوتا ھے، اور ظاھر سی بات ھے کہ انسان کو امام علیہ السلام کی جتنی معرفت ھوگی اس کی زندگی میں اتنے ھی آثار پیدا ھوں گے۔

 

+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 22 Mar 2011 و ساعت 11:15 AM |