X
تبلیغات
parachinar

  ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال علامہ اقبال ادیب پیدائشی نام محمد اقبال تخلص اقبال ولادت 9 نومبر 1877ء، سیالکوٹ ابتدا سیالکوٹ وفات 21 اپریل 1938ء، لاہور اصناف ادب شاعری
نثر ذیلی اصناف نظمغزل معروف تصانیف بانگ درابال جبریلضرب کلیمپیام مشرق ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء تا 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجۂ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ "دا ریکنسٹرکشن آف ریلیجس تھاٹ ان اسلام" کے نام سے انگریزی میں ایک نثری کتاب بھی تحریر کی جس کو بعض مسلم ممالک میں متنازع سمجھا جاتا ہے جبکہ سعودی عرب میں اس پر پابندی عائد ہے۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاستدان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے جو انہوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انہوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انہیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔ عظيم بشری جاويد عظيم بشری جاويد فہرست 1 اعلیٰ تعلیم 2 سفر یورپ 3 تدریس اور وکالت 4 سیاست 5 شاعری 6 اقبال کی نظموں کا فنی فکری تجزیہ 7 تصورات و نظریات 8 حوالہ جات 9 مزید دیکھیے 10 بیرونی روابط اعلیٰ تعلیم ایف اے کرنے کے بعد آپ اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور چلے گئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پاس کیے یہاں آپ کو پرفیسرآرنلڈ جیسے فاضل شفیق استاد مل گئے جنہوں نے اپنے شاگرد کی رہنمائی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ سفر یورپ 1905 میں علامہ اقبال اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے اور کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور پروفیسر براؤن جیسے فاضل اساتذہ سے رہنمائی حاصل کی ۔ بعد میں آپ جرمنی چلے گئے جہاں میونخ یونیورسٹی سے آپ نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ تدریس اور وکالت ابتداء میں آپ نے ایم اے کرنے کے بعد اورینٹل کالج لاہور میں تدریس کے فرائض سرانجام دیئے لیکن آپ نے بیرسٹری کو مستقل طور پر اپنایا۔ وکالت کے ساتھ ساتھ آپ شعروشاعری بھی کرتے رہے اور سیاسی تحریکیوں میں بھرپور انداز میں حصہ لیا۔ 1922ء میں حکومت کی طرف سے سر کا خطاب ملا۔ سیاست 1926ء میں آپ پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی کے ممبر چنے گئے۔ آپ آزادی وطن کے علمبردار تھے اور باقاعدہ سیاسی تحریکوں میں حصہ لیتے تھے۔ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے اور آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے آپ کا الہ آباد کا مشہور صدارتی خطبہ تاریخی حیثیت رکھتا ہے اس خطبے میں آپ نے پاکستان کا تصور پیش کیا۔ 1931ء میں آپ نے گول میز کانفرنس میں شرکت کرکے مسلمانوں کی نمائندگی کی۔ آپ کی تعلیمات اور قائداعظم کی ان تھک کوششوں سے ملک آزاد ہوگیا اور پاکستان معرض وجود میں آیا۔ لیکن پاکستان کی آزادی سے پہلے ہی 21 اپریل 1938ء (بمطابق 20 صفر 1357ھ[2]) میں علامہ انتقال کر گئے تھے۔ لیکن ایک عظیم شاعر اور مفکر کے طور پر قوم ہمیشہ ان کی احسان مند رہے گی۔ جس نے پاکستان کا تصور پیش کرکے برصغیر کے مسلمانوں میں جینے کی ایک نئی آس پیدا کی۔ شاعری شاعر مشرق علامہ اقبال حساس دل و دماغ کے مالک تھے آپ کی شاعری زندہ شاعری ہے جو ہمیشہ مسلمانوں کے لیے مشعل راہ بنی رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ کلام اقبال دنیا کے ہر حصے میں پڑھا جاتا ہے اور مسلمانان عالم اسےبڑی عقیدت کے ساتھ زیر مطالعہ رکھتے اور ان کے فلسفے کو سمجھتے ہیں۔ اقبال نے نئی نسل میں انقلابی روح پھونکی اور اسلامی عظمت کو اجاگر کیا۔ ان کے کئی کتابوں کے انگریزی ، جرمنی ، فرانسیسی، چینی ، جاپانی اور دوسرے زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔ جس سے بیرون ملک بھی لوگ آپ کے متعرف ہیں۔ بلامبالغہ علامہ اقبال ایک عظیم مفکر مانے جاتے ہیں۔ اقبال کی نظموں کا فنی فکری تجزیہ شکوہ جواب شکوہ خصر راہ والدہ مرحومہ کی یاد میں تصورات و نظریات خودی عقل و عشق مرد مومن وطنیت و قومیت اقبال کا تصور تعلیم اقبال کا تصور عورت اقبال اور مغربی تہذیب اقبال کا تصور ابلیس اقبال اور عشق رسول حوالہ جات 1.     ^ 1.0 1.1 Iqbal in Years - علامہ اقبال کی سرکاری ویب سائیٹ (انگریزی) 2.    ^ ڈاکٹر سلیم، اختر، سیّد علی اکبر شاہ کاظمی [2003ء]۔ “مفکر و مصور پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال مرحوم تقویم کے آئینہ میں”، ڈاکٹر سلیم اختر علامہ اقبال - حیات، فکر و فن (101 مقالات)۔ لاہور: سنگ میل پبلی کیشنز، 93۔ ISBN 969-35-1434-3۔ مزید دیکھیے اقبال کا ذہنی و فکری ارتقاء اقبال کا نظریہ فن بیرونی روابط اقبال کونوبیل انعام کیوں نہ ملا ؟ علامہ محمد اقبال شاعری: اسرار خودی - رموز بیخودی - پیامِ مشرق - با نگ درا - زبورِعجم - جاوید نامہ - با ل جبر یل - ضرب کلیم - پس چہ بائد کرد اے اقوامِ شرق - ارمغان حجاز نثر: اقبال اور عشق رسول مثلِ بو قید ہے غنچے میں ، پریشاں ہو جارخت بردوش ہے ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ ، توذری سے بیاباں ہو جانغمہ موج سے ہنگامہ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم ِ محمد سے اجالا کر دے عشق وہ والہانہ جذبہ ہے جو حضرت انسان کو دوسرے اقوام سے ممتاز کرتی ہے۔ یہ جذبہ بناوٹ، عیاری، امید ( معشوق سے کچھ حاصل کرنے کی) ۔ لالچ سے ماورا ہوتی ہے۔ یہ جذبہ انسان کو ایک جست میں اس بلندی اور آفاقیت تک لے جاتی ہے۔جس کا ہم خیال بھی نہیں کر سکتے ۔ اس قوت سے یقین و ایمان میں پختگی آتی ہے۔ اور اسی جذبہ کے تحت ایمان بل غیب پر یقین آجاتا ہے۔حضرت سید محمد ذوقی شاہ اپنی کتاب ” سر ِ دلبراں “ میں لکھتے ہیں، ” عشق ایک مقناطیسی کشش ہے جو کسی کو کسی کی جانب سے ایذا پانا، وصال سے سیر ہونا ، اس کی ہستی میں اپنی ہستی کو گم کر دینا یہ سب عشق و محبت کے کرشمے ہیں۔“ عاشقی چیست؟ بگو بندہ جاناں بودندل بدست دگرے دا دن و حیراں بودن اور جب یہ تعلق یا کشش سیدنا محمد مصطفی سے ہو تو پھر کیا کہنا ۔ ان کی ہستی تو ایک بحر ذخار کے مانند ہے جس کی موجوجیں آسمان کو چھوتی ہیں۔ جس کی تعلیمات محبت ، اخوت، مساوات اور رواداری کا درس دیتی ہیں ۔ جو لوگوں کو حیات نو عطا کرتی ہیں۔ اُس کے اخلاق کے بارے میں خود اللہ فرماتے ہیں کہ، ”’ اے حبیب بے شک تو اخلاق کے بلند درجے پر ہے۔“ جن کو نبوت سے پہلے امین اور صادق کے خطاب دئیے گئے رشک کی بات ہے کہ اقبال کو اس عظیم بندے سے عشق تھا اور اس آفتاب کے نور سے اقبال کی شاعری منور ہے۔ می ندانی عشق و مستی از کجا ست؟ایں شعاع افتاب مصطفی ست مولانا عبدالسلام ندوی ”اقبال کامل “ میں لکھتے ہیں، ” ڈاکٹر صاحب کی شاعری محبت ِ وطن اور محبت قوم سے شروع ہوتی ہے اور محبت الہٰی اور محبت رسول پر اس کا خاتمہ ہوا۔“   فہرست [غائب کریں] 1 والہانہ عشق 2 سوز و گداز 3 اتباع رسول 4 عشق کا محور 5 سالار کارواں 6 حسن و جمال 7 نیکی کی علامت 8 قیام یورپ اور عشق رسول 9 نظم” حضور رسالت ماب“ 10 اللہ تک رسائی کا زینہ 11 مکارم اخلاق 12 نجات دہندہ 13 مجموعی جائزہ [ترمیم] والہانہ عشق اقبال کو حضور سے جو والہانہ عشق ہے اس کا اظہار اس کی اردو اور فارسی کے ہر دور میں ہوتا رہا ہے۔ اقبال کی انفرادیت ہے کہ انہوں نے اردو فارسی دونوں زبانوں میں مدح رسول اکرم کو ایک نئے اسلوب اور نئے آہنگ کے ساتھ اختیار کیا۔ خوشا وہ وقت کہ یثرب مقام تھا اس کاخو شا وہ دور کہ دیدار عام تھا اس کا اقبال سردار دو عالم کی سیرت پاک کا غائر مطالعہ کرنے کے اور مطالب قرانی پر عبور حاصل کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ آنحضرت کی ذات ِ بابرکات جامع الحثیات ہے ۔ تمام کما لات ظاہر و باطن کی ، اور سرچشمہ ہے تمام مظاہر حقیقت و مجاز کا۔ کلام اقبال اٹھا کر دیکھ لیں تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پیغام ِ اقبال اصل میں حُب رسول ہے۔ کیونکہ انہی کی ذات گرامی سرچشمہ دیں ہے۔ بہ مصطفی برساں خویش را کہ دین ہمہ اوستاگر بہ او نرسیدی تمام بولہبی است سوز و گداز اقبال کی طبیعت میں سوز و گداز اور حب رسول اس قدرتھا کہ جب کبھی ذکر رسول ہوتا تو آپ بے تاب ہو جاتے اور دیر تک روتے رہتے ۔ ”روزگار فقیر “ میں سید وحید الدین لکھتے ہیں۔ ” اقبال کی شاعری کا خلاصہ جو ہر اور لب لباب عشق رسول اور اطاعت رسول ہے۔ ان کا دل عشق رسول نے گداز کر رکھا تھا زندگی کے آخری زمانے میں یہ کیفیت اس انتہا کو پہنچ گئی تھی کہ ہچکی کے آخری زمانے میں تو یہ کیفیت اس انتہا کوپہنچ گئی تھی کہ ہچکی بند جاتی ۔ آواز بھرا جاتی تھی اور وہ کئی کئی منٹ سکوت اختیار کر لیتے تھے۔ تاکہ اپنے جذبات پر قابو پا سکیں۔“ اتباع رسول عشق و محبت کا یہ مرتبہ ایمان کا خلاصہ ہے ۔ اتباع رسول کے بغیر محبت رسول ناممکن ہے۔ آپ کی ذات گرامی رحمتہ اللعالمین تھی۔ اس لئے مومن کو بھی رحمت و شفقت کا آئینہ ہونا چاہیے۔ اقبال فرماتے ہیں کہ مسلمان کی سرشت ایک موتی کی طرح ہے جس کو آب و تاب بحر ِ رسول سے حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال اسوہ حسنہ کی تقلید کا سبق دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے مومن تو باغِ مصطفویٰ کی ایک کلی ہے۔ بہار مصطفویٰ کی ہوائوں سے کھل کر پھول بن جائو۔ غنچہ از شاخسار ِ مصطفیگل شو از باد بہار مصطفی اقبال کے نزدیک خالق کائنات نے جب اس دنیا میں اپنی کاریگری کا آغاز کیا اور حضرت انسان کی شکل میں اپنے چھپے ہوئے خزانے کو عیاں کیا پھر جب ارتقاءکے منازل طے ہوتے گئے اور قوائے انسانی اپنے پورے کمال پر آگئے تو رب العالمین نے محمد کو معبوث فرمایا ۔ جو سب کے لئے رحمت ، ہادی ، راہ نما ، اور مہربان تھے۔ خلق و تقدیر و ہدایت ابتداسترحمتہ للعالمینی انتہا ست عشق کا محور کلام اقبال میں عشق رسول کے اظہار میں جب شیفتگی و وارفتگی کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ وہ بزرگانِ دین کا فیضانِ نظر تھا ۔ اس میں مکتب کی کرامت کا دخل نہیں تھا۔ آپ کے کلام میں شیخ عطار ، نظام الدین اولیا ، حضرت مجدد الف ثانی ، مولانا روم، اور امام غزالی کا تذکرہ اس امر پر شاہد ہے۔ اقبال ایک جگہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی تمام تر عقل اور فلسفہ دانی کو نبی کریم کے قدموں میں ڈھیر کر دیا ہے۔ اقبال کے ذہن میں عشق و مستی کا اوّل اور آخری محور ایک ہی ہونا چاہیے اور وہ محور ہے نبی کریم کی ذات جو ذات ِ تجلیات ہے جو کہ بقول حضرت عائشہ کہ ”قرآن ہی ان کے اخلاق ہیں۔ نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخروہی قرآں وہی فرقاں وہی یٰسیں وہی طہٰ سالار کارواں اقبال حضور کو اپنے کارواں کا سالار قرار دیتے ہوئے ان کی تقلید میں لبیک کہتے ہیں اور تن ، من ، دھن ، ان کی محبت میں قربان کرنے کو اولیت دیتے ہیں اور انہی کی لیڈر شپ میں زندگی کی قربانی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس لئے اپنی مشہور نظم ”ترانہ ملی“ میں لکھتے ہیں، سالار کاروا ں ہے میر حجاز اپنااس نام سے ہے باقی آرام جاں ہمارا حسن و جمال حسن و جمال میں حضور کی خوبی و محبوبی کسی سے پوشیدہ نہیں پر وقار انداز ، شگفتہ گفتگو ، خوبصورت چہرہ، مناسب قد الغرض ہر چیز اور ہر زاویے میں لازوال تھے۔ اسی لئے علامہ نے ان کی خوبصورتی کو یوسف ، عیسیٰ اور موسیٰ پر ترجیح دی ہے۔ حسنِ یوسف دمِ عیسیٰ ید بےضا داریآنچ خوباں ہمہ دارند تو اتنہا داری   نیکی کی علامت اقبال کے ذہن میں انسانی زندگی کے دو بڑے دھارے ہیں۔ نیکی اور بدی وہ نیکی کو محمد سے منسلک کرتے ہیں جبکہ بدی کو ابولہب سے وہ ابو لہب کو بدی کا خدا تصور کرتے ہیں اور نیکی کی علامت کے لئے پیکر جمیل کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عشق اور عقل کی تقسیم میں عشق کو محمد اور عقل کو عیاری کی بنا ءپر ابولہب کے حصے میں رکھتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں تازہ میر ے ضمیر میں معرکہ کہن ہواعشق تمام مصطفی عقل تمام بولہب اقبال کے خیال میں نیکی اور بدی کی قوتوں کے درمیان یہ معرکے ازل سے جاری ہیں اور بدی کی قوتوں کا انداز ابتداء سے مکارانہ اور عیارانہ ہے۔ جس کے مقابلے میں نیکی معصوم اور پاک ہوتی ہے۔ ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا اِمروزچراغِ مصطفوی سے شرار بو لہبی قیام یورپ اور عشق رسول یہ عشق نبوی کا ہی فیض ہے کہ یورپ میں ایک طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود اقبا ل دین ِ محمدی سے منحرف نہ ہوئے اور نہ ان کے اقدار میں تبدیلی ہوئی۔ اس لئے جب وہ لوٹے تھے اسی طرح عشق رسول سے سرشار تھے۔ خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوہء دانشِ فرنگسرمہ ہے مری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف نظم” حضور رسالت ماب“ جس دور میں اقبال نے شکوہ اور جواب شکوہ جیسی نظمیں تخلیق کیں وہ مسلماناں عالم کے لئے ایک عالمگیر انحطاط و انتشار کا زمانہ تھا اقبا ل مسلمانان عالم کی اس عمومی صورت حال پر ہمہ وقت بے تاب و بے قرار رہتے تھے۔ جواب شکوہ لکھنے سے کچھ عرصہ پیشتر اقبال نے طرابلس کے شہیدوں کے حوالے سے ایک نظم ” حضور رسالت مآب لکھی۔ یہ نظم بارگاہ نبوی میں شاعری کی ایک خیالی حضوری کو بیان کرتی ہے۔ فرشتے شاعر کو بزم رسالت میں حضور کے سایہ رحمت میں لے جاتے ہیں۔ بارگاہ نبوی سے شاعر سے خطاب کیا جاتا ہے۔ کہا حضور نے اے عندلیبِ باغِ حجازکلی کلی ہے تری گرمئ نوا سے گداز اللہ تک رسائی کا زینہ اقبال کا مطالعہ اسلام اور قرآن بہت ہی اچھا تھا۔ انہوں نے اپنی شاعری میں آیاتِ قرآنی کو جگہ دی ہے۔ کیونکہ اقبال کو پتہ تھا کہ اللہ کے کتابوں میں یہ آخری اور واحد کتاب ہے جس میں تبدیلی اور غلط بیانی کسی کی بس کی بات نہیں ۔ اور اس کی خالص شکل لوح محفوظ میں موجود ہے اور اسی قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ، ترجمہ:۔ اے نبی کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری تا بعداری کرو کیونکہ اللہ تک رسائی کے لئے حُب نبی ہی اصل زینہ ہے۔ جس پرصحابہ کرام نے عمل کیا۔ صدیق، عمر، عثمان نے عمل کیا۔ اقبا ل ا س لئے نصیحت کرتے ہیں اللہ سے وہی سوز طلب کرو جو انہی صحابہ نے طلب کیا تھا۔ جو ان کو عشق نبوی سے حاصل ہوا۔ سوز صدیق و علی از حق طلبذرہ عشق نبی از حق طلب   مکارم اخلاق اقبال کے نزدیک اسوہ نبوی کے اتباہ کے بدولت ہی ہم مکارم الاخلاق سے آراستہ ہو سکتے ہیں اسی وجہ سے ہمارے دلوں میں کشادگی اور نور اور تجلیات خداوندی جگہ پا سکتی ہے۔ اقبال فرماتے ہیں درد دل مسلم مقام مصطفےٰ استآبروئے ماز نامِ مصطفی است اقبال فرماتے ہیں کہ اس دنیا کی تخلیق کی اصل وجہ ذات نبی ہے کیونکہ آپ ہی کی وجہ سے اس دنیا میں اصل خالق یعنی اللہ کی ذات کی پہچان ، صحیح معنوں میں ممکن ہوئی۔ آپ ہی تھے جنہوں نے خدا تعالیٰ کی حقیقت کے بار ے میں لوگوں کو آگاہ کیا اور ان کے راز آشکار کئے۔   نجات دہندہ اقبال کی شاعری کا محور اصل میں عشق رسول ہی ہے۔ اسی زینہ پر چڑھ کر وہ محرم راز درونِ مے خانہ کا دعویٰ کرتے ہیں اسی ذات کو اقبال آخرت اور دنیا دونوں میں نجات دہندہ خیال کرتے ہیں۔ اسی ذات ِ با برکات نے امت مسلمہ کی صحیح داغ بیل ڈالی ان لئے تکالیف برداشت کیں اور احسانات کا ایک انبار اپنی قوم پر ڈال دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ای خدا قیامت کے دن میرے اعمال نامہ کو تو خواجہ ( رسول) کے سامنے پیش کرکے مجھے رسوا مت کر۔ مجھے شرمندگی محسوس ہوتی ہے کہ اس عظیم ذات کے سامنے مجھ خطا کار کی خطائیں جب آشکار ہوں۔ مکُن رسوا حضورِ خواجہ ماراحساب من ز چشم ِ او نہاں گیر   مجموعی جائزہ غرض اقبال کے سارے نظریات آپ کی ذات ِ گرامی میں بدرجہ اتم موجود تھے۔ وہ ایک خود دار ذات تھے۔ شاہین صفت تھے ، شفیق تھے۔ انسان کامل تھے۔ مردمومن تھے۔ صاف گو تھے۔ جمہوریت پسند تھے۔ مسلم کے قدر دان تھے اگرچہ خود اُمی تھے اسی لئے اقبال جواب شکوہ میں لکھتے ہیں کہ عقل ہے تیری سپر ، عشق ہے شمشیر تریمرے درویش! خلافت ہے جہان گیر تریماسوا اللہ کے لئے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہوتو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لو ح قلم تیرے ہیں اقبال کا تصور ابلیس رسمی مذہب اسے بدی کا مجسمہ قرار دیتا ہے وہ ہستی جس نے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کرکے خدائی احکام کی نا فرمانی کی اور ہمیشہ کے لئے ملعون و مردود قرارد ی گئی۔ اب اس کا کام صرف اتنا ہے کہ خدا کی مخلوق کو بہکانے اور اُسے خدا کے مقرر کردہ راستے سے دور لے جائے۔ قدیم ایرانی حکماء، مسلمان صوفیاءاور مغربی شعراءنے اپنے اپنے زاویہ نظر سے ابلیس اور خیر و شر پر اپنا فلسفہ پیش کیا۔ اقبال کے تصور ابلیس کو سمجھنے کے لئے دنیا میں تصور ابلیس کے ارتقاءپر نظر ڈالناضروری ہے۔   فہرست 1 ایرانی ثنویت اور تصور ابلیس 2 مسلما ن صوفیاءکے ہاں تصور ابلیس 3 مغربی ادب میں تصور ابلیس 4 دانتے 5 ملٹن 6 گوئٹے 7 علامہ اقبال کا تصور ابلیس 8 نظم” تسخیر فطرت“ میں ابلیس کے خدوخال 9 نظم جبرئیل و ابلیس 10 نظم ”تقدیر“ میں ابلیس کے نقوش 11 نظم ”ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام“ ایرانی ثنویت اور تصور ابلیس اس طرز فکر کی نمائندگی تین مفکرین کرتے ہیں زرتشت، مانی اور مزدک ان تینوں فلسفیوں کے نزدیک کائنات میں فعال قوتیں دو طرح کی ہیں۔ ایک جو یزداں کے نام سے منسوب ہے دوسری اہرمن کے نام سے یاد کی جاتی ہے۔ اہرمن شر کی قوتوں کا نمائندہ جبکہ یزداں خیر کی قوتوں کا نمائند ہ ہے۔ فطرت میں خیر وشر کی قوتوں کے مابین ایک مسلسل پیکار جاری ہے۔ اشیا ءاچھی یا بری اس لئے ہوتی ہیں کہ وہ یا تو خیر کی قوت تخلیق کی پیداوار ہیں یا شر کی۔   مسلما ن صوفیاءکے ہاں تصور ابلیس جن مسلمان صوفیا نے ابلیس کا خاص انداز میں ذکر کیا ہے۔ ان میں منصور حلاج، مولانا روم ، ابن عربی وغیرہ کے نام زیادہ اہم ہیں۔ بعض نے تو ابلیس کو اتنی اہمیت دی کہ اُسے سب سے بڑا توحید پرست اور موحد قرار دیاہے۔ ابلیس خدا کے ارادوں کی مشیت کا ایک ایسا کارندہ ہے جس کے فرائض سب سے زیادہ تلخ ، سب سے زیادہ ناگوار ، کڑے اور نازک ہیں۔ (منصور حلاج شیطان اس زیرکی کا نام ہے جو عشق سے معریٰ ہو کر ادنی مقاصد کے حصول میں حیلہ گری کرتی ہے۔(مولانا روم ابلیس ارادے میں آزاد ہے۔ ابن عربی مغربی ادب میں تصور ابلیس مغربی شعراءنے بھی اس فلسفے میں بڑی نکتہ نوازیاں کی ہیں۔ چند نمائندہ شعراءکے فلسفہ ہائے ابلیس پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔   دانتے دانتے مشہور اطالوی شاعر ہیں اس نے اپنی عظیم رزمیہ داستا ن ”ڈیوائن کامیڈی “ میں شیطان کا کردار پیش کیا ہے۔ دانتے کا شیطان بالکل قدیم مذہبی نوعیت کا شیطان ہے جسکا تصویر بائیبل میں ملتاہے۔ یہ بہت ہیبت ناک اور ساکن ہے ۔ دانتے اپنے شیطان کو سینے تک برف میں دھنسا ہوا دکھاتا ہے۔ وہ جتنا کسی زمانے میں حسین تھا اتنا ہی اب بد شکل ہے دانتے نے ابلیس کو دوزخ کے ساتھ دنیاوی نمائندہ قرار دے کر زندگی کے لئے ناگزیر تسلیم کیا ہے۔   ملٹن یہ ایک مشہور شاعر ہے۔ اس کی نظم ”جنت گم گشتہ “ میں ابلیس کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ ملٹن کا شیطان ایک زبردست شخصیت کا مالک ہے۔ جو اتنا ہیبت ناک ہے کہ دوزخ اس کے قدموں تلے کانپتی ہے۔ اس نے خدا سے شکست کھائی ہے۔ لیکن ہمت نہیں ہاری ۔ وہ ناقابل تسخیر ارادے اور عزم کا مالک ہے اور ایک ایسا ذہن رکھتا ہے جسے زمان و مکان تبدیل نہیں کر سکتا ۔ گوئٹے عظیم جرمن شاعر ہے اُس نے اپنے شہر ہ آفاق ڈرامے ” فاوسٹ “ میں شیطان کا ایک خاص کردار پیش کیا ہے۔ گوئٹے شیطان کو محض گردن زدنی نہیں سمجھتا بلکہ اس میں بعض خوبیاں بھی دیکھتا ہے گوئٹے کی دنیا میں شیطان کا بہکانا بھی انسان کے لئے مفید ہے کیونکہ صدائے غیبی کے الفاظ میں ’ ’ جب تک انسان راہ طلب میں ہے اس کا بھٹکنا لازمی ہے۔ انسان کا دستِ عمل سو جاتا ہے اور اسے آرام کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے ہم خوشی سے تیرا ساتھ دے ددیتے ہیں جو اُسے اُبھارے اور شیطانی قوت کو تخلیق دے اس شیطانی قوتِ تخلیق کا گوئٹے بہت قائل ہے۔ یعنی شیطان انسان میں خفیہ تخلیقی قوتوں کو بیدار کرتاہے اور عمل پر اکساتا ہے۔   علامہ اقبال کا تصور ابلیس اقبال نے ابلیس کے بارے میں اپنا فلسفہ مرتب کرتے وقت نہ صرف قدیم فلسفیوں ، صوفیوں اور شاعروں کے خیالات سے استفادہ کیا بلکہ اس میں اسلامی تعلیمات کو بھی مدنظر رکھا ۔ ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم جو اقبال کے تصور ِ ابلیس کو ان کے فلسفہ خودی کے تابع سمجھتے ہیں، لکھتے ہیں، ” اقبال کے ہاں ابلیس کا تصور ان کے فلسفہ خودی کا ایک جزو لاینفک ہے ۔ خودی کی ماہیت میں ذات الہٰی سے فراق اور سعی ِ قرب و وصال دونوں داخل ہیں اقبال کے فلسفہ خودی کی جان اس کا نظریہ عشق ہے۔ عشق کی ماہیت ، آرزو ، جستجو اور اضطراب ہے۔ اگر زندگی میں مواقع موجود نہ ہوں تو خیر کوشی بھی ختم ہو جائے جس کی بدولت خودی میں بیداری اور اُستواری پیدا ہوتی ہے۔ اگر انسان کے اندر باطنی کشاکش نہ ہو تو زندگی جامد ہو کر رہ جائے۔“   نظم” تسخیر فطرت“ میں ابلیس کے خدوخال شیطان جو رسمی مذہب میں بد ی کا مجسمہ ہے اسے اقبال نے اس حیثیت سے پیش کیا ہے کہ وہ جبر و تحکم کے علمِ بغاوت کو بلند کرنے والا اور بندہ ئے دام کے بجائے خود آزادانہ فیصلہ کرنے والا ایک منفرد کردار بن جاتا ہے۔ وہ اپنے اس اقدام سے ایک زبردست معرکہ چھیڑدیتا ہے جو افراد کے اندرونی رجحانات اورخارجی ماحول کے درمیان ہمیشہ جاری رہے گا۔ تمام فرشتوں میں یہ ایک اسی کی ذات تھی جس نے خدا کے حکم پر آد م کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا اور خدا کے اس سوال پر کہ اس نے یہ خطرناک جرات کیوں کی ، شیطان نے یہ جواب دیا میں اس سے بہتر ہوں ۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور آدم کو مٹی سے۔ اقبال نے ”پیام مشرق“ میں اپنی نظم تسخیر فطرت میں اس قرآنی آیت کی نہایت مو ثر ترجمانی کی ہے۔ اس نظم کے پانچ حصے ہیں۔ 1.     میلاد ِ آدم 2.    انکار ابلیس 3.   اغوائے آدم 4.   آدم از بہشت بیروں آمدہ می گوید٥) صبح قیامت آدم در حضور ِ باری یہاں بھی انسانی تخلیق اور اس کی شخصیت کی تکمیل میں شیطان کا حصہ اگرچہ وہی پرانا قصہ ہے اور تمام مذہبی صحیفوں میں موجود ہے۔ لیکن یہاں اقبال نے شیطان کا ایک منفر د اور ڈرامائی انداز پیش کیا ہے۔ انسان کی آفرینش قدرت کا اعلیٰ ترین شہکار تھی ۔ انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی قدرت نے ایک تخلیقی قطعیت بھی پیدا کی جو سکون سے عمل کی طرف ، طاقت سے طاقت کے استعمال کی طرف اور خوئے تسلیم و رضا سے تجزیہ و عمل کی طرف اس کے شعور کو پھیرنا چاہتی تھی۔ یہی تجرباتی ، متحرک ، طاقت اور رجحان انکار ابلیس ہے۔ ”تسخیر فطرت“ میں ابلیس ، سجدہ آدم سے انکار کی وجہ بڑے جوش ، خروش سے خدا کے سامنے بیان کرتا ہے وہ اپنے آپ کو حرکت کا سرچشمہ بتاتا ہے۔ اور زندگی میں حرکت کی ساری برکت کواپنا کمال سمجھتا ہے۔ می تپداز سوزِ من ، خونِ رگ کائناتمن بہ دو صرصرم ، من بہ غو تندرم پروفیسر تاج محمد خیال نظم پر تبصرہ کرنے ہوئے لکھتے ہیں، ” یہاں اقبال نے شیطان کواپنے اندرونی جذبات یعنی جذبہ مسابقت، دوسروں پر فوقیت حاصل کرنے اور غلبہ پانے کی آرزو کا آزاد اظہار کرتے دکھایا ہے۔ ماحول کی قوتوں کے مقابل میں ردعمل اور انہیں متاثر کرنے جو فطری رجحان ہر جاندار مخلوق میں پایا جاتا ہے۔ تو گویا شیطان اسی رجحان کی ایک رمزیہ شکل ہے۔ یہ رجحان زندگی کا ایک جوہر ہے اور تمام آرزو ، طلب ، سعی و کامرانی کی تخلیق کا ذمہ داردراصل یہی ہے۔“ نظم جبرئیل و ابلیس بال جبریل کی نظم” جبریل و ابلیس“ بھی اقبال کے تصور ابلیس پر روشنی ڈالتی ہے۔ نظم ایک دلچسپ مکالمے کی شکل میں ہے جس میں جبرئیل اپنے ہمدم دیرینہ شیطان سے بڑے دوستانہ لہجے میں پوچھتا ہے کہ جہاں ِ رنگ و بو کا حال کیا ہے۔ ؟ ذرا ہمیں بھی بتائو شیطان اس کے جواب میں کہتا ہے کہ جہاں عبادت ہے سوز و ساز وردو جستجو ہے۔ جبریل اُسے کہتا ہے کہ آسمانوں پر ہر وقت تیرا ہی چرچا رہتا ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ تو خدا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لے اور پھر ذات باری کا قرب حاصل کرے جواب میں شیطان کہتا ہے کہ میر ے لئے اب یہ ممکن نہیں میں آسمان پر آکر کیا کروں گا۔ وہاں کی خاموشی میں میرا دم گھٹ کر رہ جائے گا۔ آسمان پر زمین کی سی گہما گہمی اور شورش کہاں ہے۔ جبریل یہ باتیں سن کر بہت ناخوش ہوتے ہےں اور دکھ بھرے لہجے میں کہتے ہیں کہ اسی انکار کی وجہ سے تو نے اپنے مقاماتِ بلند کھو دئیے ہیں ۔ اور اسی سے تو نے فرشتوں کی بے عزتی کرائی ہے تمہارے اس اقدام کے بعد فرشتوں کی خدائی نظروں میں کیا آبرو رہی؟ اس پر شیطان چمک کر جواب دیتا ہے کہ تم آبرو کا نام لیتے ہو؟ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میر ی جرات سے ہی کائنات وجود میں آئی اور میری ہی وجہ سے عقل کی ضرورت پڑی ۔ تیرا کیا ہے تو تو ساحل پر کھڑا ہو کر تماشا دیکھنے والوں میں سے ہے۔ تو خیر و شر کی جنگ کو بس دور سے دیکھتا ہے۔ میری طرف دیکھو کہ میں طوفان کے طماچے کھاتا ہوں یہ میں ہی تھا جس کی بدولت آدم کے قصے میں رنگینی پیدا ہوئی ورنہ یہ ایک بے روح داستان تھی ابلیس و جبریل خیالات کی بلندی کے اعتبار سے اردو شاعری میں ایک معرکے کی چیز ہے۔ ہے مری جرات سے مشت خاک میں ذوق نمومیرے فتنے جامہ عقل و خرد کا تارو و پُودیکھتا ہے تو فقط ساحل سے رزمِ خےر و شرکون طوفاں کے طماچے کھا رہا ہے میں کہ توحضر بھی بے دست و پا ، الیاس بھی بے دست و پامیرے طوفاں یم بہ یم ، دریا بہ دریا جُو بہ جُوگر کبھی خلوت میسر ہو تو پوچھ اللہ سےقصہ آدم کو رنگیں کر گیا کس کا لہومیں کھٹکتا ہوں دل یزادں میں کانٹے کی طرحتو فقط اللہ ہو ، اللہ ہو ، اللہ ہو اقبال کی یہ نظم پڑھتے وقت کوئی شخص شیطان کی عظمت و شکوہ سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہاں اقبال نے اُسے ”سوزِ درونِ کائنات “ قرار دیا ہے۔   نظم ”تقدیر“ میں ابلیس کے نقوش ضرب کلیم میں ”تقدیر “ کے عنوان سے ایک نظم ہے جس کا ذیلی عنوان ہے۔ ”ابلیس و یزداں “ اس نظم کا مرکزی خیال ابن ِ عربی سے ماخوذ ہے۔ یہاں بھی ابلیس اور یزداں کے درمیان گفتگو ہوئی ہے۔ ابلیس کہتا ہے کہ اے خدا مجھے آد م سے کوئی بیر تھا اور نہ تیرے سامنے تکبر کرنا میرے لئے ممکن تھا۔ بات صرف اتنی ہے کہ تیری مشیت میں ہی میرا سجدہ کرنا نہیں لکھا تھا۔ خدا پوچھتا ہے کہ تجھ پر یہ راز انکار سے پہلے کھلا یا انکار کے بعد ۔ ابلیس جو اب دیتا ہے کہ انکار کے بعد اس پر خدا طنزاً فرشتوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہتا ہے کہ دیکھو اس کی پستی فطرت نے اُسے یہ بہانہ سکھایا ہے۔ ہم نے اسے جو آزادی بخشی تھی۔ اسے یہ احمق مجبوری اور جبر کا نام دے کر اس کی اہمیت سے انکار کر رہا ہے۔ پستی فطرت نے سکھائی ہے یہ حجت اِ سےکہتا ہے تیری مشیت میں نہ تھا میرا سجوددے رہا ہے اپنی آزادی کو مجبوری کا نامظالم اپنے شعلہ سوزاں کو خود کہتا ہے دود   نظم ”ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام“ اقبال کے ہاں ابلیس کی رسمی اور اپنی تصویر بھی ملتی ہے مثلاً ضربِ کلیم کی ایک نظم ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے میں شیطان کہتا ہے۔ لا کر برہمنوں کو سیاست کے بیچ میںزناریوں کو دیر کہن سے نکال دوفکر عرب کو دے کے فرنگی تخیلاتاسلام کو حجاز و یمن سے نکال دواہل حرم سے ان کی روایات چھین لوآہو کو مرغزارِ ختن سے نکال دو بقول تاج محمد خیال: ” ان کا نظریہ شیطان رسمی عقائد سے خواہ کتنا ہی مختلف کیوں نہ ہو شیطان پھر بھی شیطان ہے۔ اس کی شخصیت خواہ کتنی ہی شاندار ہو اور اس کا کردار خواہ کتنا ہی اہم ہو پھر بھی شیطان جن رجحانات کا مظہر ہے اگر انسان بالکل انہی رجحانا ت کا مطیع ہو جائے گا تو نتیجہ ابدی انتشار و کشمکش ، تباہی و بربادی کے سواءکچھ بھی نہ نکلے گا ایسی بنیادوں پر جو سماجی ڈھانچہ تعمیر کیا جائے گا وہ یکسر شیطانی ہوگا یہ قوت کا حامل تو ہوگا لیکن بصیرت سے محروم رہے گا۔“ اقبال کا تصور عقل و عشق  (عقل و عشق سے رجوع مکرر) عشق عربی زبان کا لفظ ہے محبت کا بلند تر درجہ عشق کہلاتا ہے اور یہی محبت کسی درجے پر جا کر جنوں کہلاتی ہے۔ عشق کا محرک مجازی یا حقیقی ہو سکتا ہے۔ یہ عشق نا ممکن کو ممکن بنا ڈالتا ہے ۔ کہیں فرہاد سے نہر کھد واتا ہے تو کہیں سوہنی کو کچے گھڑے پر تیرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ عشق ہی کی بدولت کوئی صدیق اکبر کہلاتا ہے تو کوئی سیدنا بلال بنتا ہے۔ غرض ہر عشق کے مدارج مختلف ہیں۔ کوئی عشق مجازی میں ہی گھر کر رہ جاتا ہے۔ تو کوئی عشق ِ مجازی سے حقیقی تک رسائی حاصل کرکے حقیقی اعزازو شرف حاصل کرتا ہے۔ اقبال کے یہاں عشق اور ان کے مترادفات و لوازمات یعنی وجدان ، خود آگہی، باطنی شعور ، جذب ، جنون ، دل ، محبت ، شوق ، آرزو مندی ، درد ، سوز ، جستجو، مستی اور سرمستی کا ذکر جس تکرار، تواتر، انہماک سے ملتا ہے ۔اُس سے ثابت ہوتا ہے کہ اقبال کے تصورات میں عشق کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اقبال کے نزدیک عشق ایک عطیہ الہٰی اور نعمت ازلی ہے۔ انسانوں میں پیغمبروں کا مرتبہ دوسروں سے اس لئے بلند تر ہے کہ ان کا سینہ محبت کی روشنی سے یکسر معمور اور ان کا دل بادہ عشق سے یکسر سرشار ہے۔محبت جسے بعض نے فطرت ِ انسانی کے لطیف ترین حسی پہلو کا نام دیا ہے۔ اور بعض نے روح ِ انسانی پر الہام و وجدان کی بارش یا نورِ معرفت سے تعبیر کیا ہے۔اس کے متعلق اقبال کیا کہتے ہیں اقبال ہی کی زبان سے سنتے چلیے ، یہ ان کی نظم ”محبت “ سے ماخوذ ہے۔ تڑپ بجلی سے پائی ، حور سے پاکیزگی پائیحرارت لی نفس ہائے مسیح ِ ابن مریم سےذرا سی پھر ربو بیت سے شانِ بے نیازی لیملک سے عاجزی ، افتادگی تقدیر ِ شبنم سےپھر ان اجزاءکو گھولا چشمہ حیوان کے پانی میںمرکب نے محبت نام پایا عرشِ اعظم سے یہ ہے وہ محبت کا جذبہ عشق جو اقبال کے دائرہ فکر و فن کا مرکزی نقطہ ہے۔ یہی تخلیق کا ئنات سے لے کر ارتقائے کائنات تک رموزِ فطرت کا آشنا اور کارزارِ حیات میں انسان کا رہنما و کار کُشا ہے۔ بقول اقبال کائنات کی ساری رونق اسی کے دم سے ہے۔ ورنہ اس سے پہلے ، اس کی فضا بے جان اور بے کیف تھی۔ عشق از فریادِ ما ہنگامہ ہا تعمیر کرد!ورنہ ایں بزمِ خموشاں ہیچ غوغائے نداشت   فہرست [1 عقل اور عشق 2 اقبال کے ہاں عشق سے مراد 3 عقل پر اقبال کا اعتراض 4 عشق اور خودی 5 عشق کو عقل پر ترجیح دینے کے اسباب عقل اور عشق ڈاکٹر عابد حسین اپنے مضمون ”عقل و عشق۔۔۔اقبال کی شاعری میں“ میں لکھتے ہیں کہ، ” عقل اور عشق کی کشمکش اردو اور فارسی شاعری کا پرانا مضمون ہے عشقیہ شاعری میں عقل ،مصلحت اندیشی اور احتیاط کے معانی میں آتا ہے۔ اور عشق اس والہانہ محبت کے معانی میں جو آدابِ مصلحت سے ناآشنا اور وضع احتیاط سے بیگانہ ہے ظاہر ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔“ متصوفانہ شاعری میں عقل سے مراد منطقی استدلال ہے جس کے ذریعے ظن ظاہر کا دھندلا تصور قائم ہوتا ہے۔ جبکہ عشق سے مراد جذبِ باطن جس کی بدولت طالب ِ تعینات کے پردوں کو ہٹا کر حقیقت کی بلاواسطہ معرفت حاصل کرنا ہے۔ اقبال نے عقل اور عشق کے تصورات صوفی شاعروں سے لے کر ان پر جدید فلسفہ وجدانیت کا رنگ چڑھایا۔ صوفی شعراء”ہمہ اوست“ کے قائل ہیں ان کے نزدیک کائنات کا وجود ہمارے حواس ظاہری کا فریب ہے۔ جبکہ جدید فلسفہ وجدانیت کے سب سے ممتاز فلسفی برگساں کے خیال میں انسان کے ذہن کاکام یہ ہے کہ حسی وظیفہ کو حرکتی وظیفہ میں منتقل کر دے اقبال بھی برگساں سے متاثر تھے۔ بقول اقبال عقل نے ایک دن یہ دل سے کہابھولے بھٹکے کی رہنما ہوں میںہوں مفسر کتا ب ِ ہستی کیمظہر شان کبریا ہوں میں جواب میں دل کہتا ہے کہ، علم تجھ سے تو معرفت مجھ سےتو خدا جو خدا نما ہوں میں عقل راز کو سمجھ کر اس کا ادراک کرتی ہے۔ جبکہ عشق اسے آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ یعنی حقیقت ہستی کا بلاِ واسطہ مشاہدہ کرتا ہے۔ عقل زمان و مکان کی پابند جبکہ عشق زمان و مکاں کی حدود سے نکل کر اُ س عالم نا محدود میں پہنچ جاتا ہے۔ جہاں حقیقت بے حجاب ہوتی ہے۔ اور یہ معرفت کا مقام ہے۔عقل کی منزل مقصود ہستی مطلق کی معرفت وہ خدا جو ہے لیکن اس کی جستجو ناتمام ہے عشق خدانما ہے جو راہ طلب میں عقل کی رہبری کرتا ہے۔گویا اقبال کے نزدیک عقل اور عشق میں بنیادی تضاد اتنا زیادہ نہیں بلکہ ابتدائی مراحل پر تو عقل کی ہی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ فطرت کو خر د کے روبر کرتسخیر مقامِ رنگ و بو کر؟ عقل میں بہت سی صفات موجود ہیں البتہ اس میں وہ جوش و خروش ، تڑپ ، حرکت اور وہ جرات نہیں جو عشق کا شیوہ ہے۔ عقل اگرچہ آستانِ حقیقت سے دور نہیں لیکن اکیلی اس تک پہنچ نہیں سکتی ۔ عقل گو آستا ںسے دور نہیںاس کی تقدیر میں حضور نہیںعلم میں بھی سرور ہے لیکنیہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیںدل بینا بھی کر خدا سے طلبآنکھ کا نور دل کا نور نہیں اقبال کے ہاں عشق سے مراد اقبال کے ہاں عشق سے مراد ایمان ہے ایمان کا پہلا جُز حق تعالیٰ کی الوہیت کا اقرار ہے اور اس پر شدت سے یقین ، اس شدت کو صوفیاءکرام نے عشق سے تعبیر کیا ہے۔ عقل ہمیں زندگی کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات کا حل سمجھاتی ہے لیکن جو شے عمل پر آمادہ کرتی ہے وہ ہے عشق ۔ عشق و ایمان سے زیادہ قوی کوئی جذبہ نہیں، اس کی نگاہوں سے تقدیریں بد ل جاتی ہیں۔ کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زورِ بازو کانگاہ ِ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں بقول مولانا روم، ” عقل جُزئی قبر سے آگے نہیں دیکھ سکتی ۔۔۔۔ قبر سے آگے عشق کا قدم اُٹھتا ہے اور عشق ایک جست میں زمان و مکان والی کائنات سے آگے نکل جاتا ہے۔ عشق کی ایک جست نے طے کر دیا قصہ تماماس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں اقبال کے نزدیک عقل و علم کی سب سے بڑی کوتاہی یہ ہے کہ اس کی بنیاد شک پر قائم ہے۔ اس وجہ سے عقل و علم میں وہ خواص موجود نہیں جو تربیت خودی کے لئے ضروری ہیں۔ اس کے مقابلے میں عشق بے خوفی ، جرات اور یقین و ایمان پیدا کرتی ہے۔ اس لئے وہ خدا سے صاحبِ جنوں ہونے کی آرزو کرتے ہیں۔ بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشقعقل ہے محو تماشائے لبِ بام ابھی خرد کی گتھیاں سلجھا چکا میںمرے مولا مجھے صاحب جنوں کر خرد نے کہہ بھی دیا لا الہٰ تو کیا حاصلدل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں عقل پر اقبال کا اعتراض ڈاکٹر سید عبداللہ ”عقل و خودی“ کے عنوان سے ”طیف اقبال“ میں اس امر پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں، ” اقبال کے خیال میں عقل ایک ناتمام چیز ہے یعنی عقل حقیقت کی کلیت کا ادراک نہیں کر سکتی۔۔۔۔ عقل جو حواس پر مبنی ہے حقیقت تک پہنچنے کے لئے یقینی راستہ نہیں ہے۔“ گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نورچراغِ راہ ہے منزل نہیں ہے عقل کے خلاف اقبال کا اعتراض ہے کہ عقل میں گرمی، جذب ، سرور و جنوں نہیں ۔ خودی کی تقویت کے لئے جس سرگرمی جذب و سرور کی ضرورت ہوتی ہے۔ عقل اس سے محروم ہے۔ خودی کی تسخیر کے لئے آگے بڑھنے کی جدوجہد کے لئے یقین کی ضرورت ہے مگر وہ یقین عقل کے ذریعے حاصل نہیں ہو سکتا ۔ عقل کی باتیں یقینی نہیں ہوتیں۔ عقل کی ایک بڑی کمزوری یہ بھی ہے کہ وہ شک میں گرفتار رہتی ہے اس لئے خودی میں و ہ حرکت اس سے پیدا نہیں ہوتی جو عشق یعنی یقین سے پیدا ہوتی ہے۔ بحرکیف عقل ایسی چیز نہیں جس سے نفرت ہو، اقبال نے عملی اور جزوی امور میں اس کی مخالفت نہیں کی انہوں نے عقل سے اختلاف اس لئے کیا ہے کہ کلی امور میں یہ فوراً انکار کر دیتی ہے۔ اک دانش ِنورانی ، اک دانش برہانیہے دانش ِ برہانی، حیرت کی فراوانی   عشق اور خودی اقبال کے تصورِ خودی کو ان کے تصورِ عشق سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا تربیت خودی کے لئے سب سے بڑا وسیلہ اقبال کے نزدیک عشق ہے جس کے بغیر خودی نہ ترقی کر سکتی ہے اور نہ پختہ ہو سکتی ہے۔ صوفیوں کے نزدیک نصب العین تک پہنچنے کے لئے خودی کو مٹانا ضروری ہے۔ ان کے نزدیک عشق کے کمال کی علامت یہ ہے کہ مادی وجود کو خود مٹایا جائے اقبال کے نزدیک خودی کی تربیت ضروری ہے نہ کہ مٹا دینا۔ اقبا ل نے بار بار کہا ہے کہ خودی عشق سے استوار ہوتی ہے۔ اور یہ عشق نہ تو وہ صوفیانہ عشق ہے جو خود کو فنا کرکے کمال حاصل کرتا ہے اور نہ وہ مجازی عشق جو معمولی آرزوں کے لئے تڑپنا ہے۔ اقبال کے نزدیک اس کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ مرد خدا کا عمل ، عشق سے صاحب فروغعشق ہے اصل ِ حیات ، موت ہے اس پر حرامعشق دمِ جبرئیل ، عشق دل ِ مصطفیعشق خدا کا رسول ، عشق خدا کا کلامعشق کی تقویم میں، عصرِ رواں کے سوااور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام ڈاکٹر سید عبداللہ ”طیف اقبال “ میں لکھتے ہیں۔ ” اقبال کے نزدیک عشق اورخودی ایک ہی چیز کے دو نام ہیں ۔ عشق پا لینے مسخر کرنے کی صلاحیت اور آرزو رکھتا ہے اور خودی کا خاصہ بھی یہی ہے کہ وہ غیر خودی کو مسخر کرنے یا پانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ عشق کا خاصہ ہے۔۔۔۔۔ کہ اس کا یقین اٹل اور محکم ہوتا ہے اور خود ی بھی یقین محکم کے پہیوں پر چلتی ہے۔ عشق پریشانیوں ، رنگا رنگیوں اور بد نظمی میں ترتیب ِحیات کرتا ہے۔ خودی کا بھی یہ وصف ہے کہ تنظیم حیات کرتی ہے۔“ الغرض اقبال کے نزدیک خودی نہ صرف عشق سے استوار ہوئی ہے بلکہ عشق خودی کا دوسرا نام ہے مولانا عبدالسلام ندوی”اقبال ِ کامل “ میں لکھتے ہیں کہ ، ”ڈاکٹر صاحب کے نزدیک عقل و عشق دونوں خودی کا جزو ترکیبی ہیں۔“   عشق کو عقل پر ترجیح دینے کے اسباب اقبال اگرچہ عقل کے مقابلے میں عشق کی برتری کے قائل ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ عقل کے مخالف ہیں بلکہ وہ ایک حد تک اس کی اہمیت کے قائل ہیں تاہم یہ درست ہے کہ اقبال عشق کو عقل پر ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک عشق سے ہی حقائق اشیا کا مکمل علمِ بصیرت حاصل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے خیال میں زندگی کی ساری رونق عشق سے ہے علم و عقل انسان کو منزل کے قریب تو پہنچا سکتے ہیں لیکن عشق کی مدد کے بغیر منزل کو طے نہیں کر سکتے۔ عقل گو آستاں سے دور نہیںاس کی تقدیر میں حضور نہیں اگر چہ عام طور پر عقل سے رہنمائی کا کام لیا جاتا ہے لیکن عشق عقل سے زیادہ صاحبِ ادراک ہے زمانہ عقل کو سمجھا ہوا ہے مشعل راہکسے خبر کہ جنوں بھی ہے صاحب ادراک اقبال کو اپنے ہم مشربوں سے شکایت ہے کہ وہ اس جنوں سے محروم ہیں ، جو عقل کو کارسازی کی راہ و رسم سکھا سکے۔ ترے دشت و در میں مجھ کو وہ جنوں نظر نہ آیاکہ سکھا سکے خرد کو راہ و رسم کارسازی بغیر نورِ عشق کے علم و عقل کی مدد سے دین و تمدن کی جو توجیہ کی جائے گی۔ وہ حقیقت پر کبھی بھی حاوی نہیں ہو سکتی ۔ عقل تصورات کا بت کدہ بنا سکتی ہے ۔ لیکن زندگی کی صحیح رہبری نہیں کر سکتی۔ عقل و دل و نگاہ کا مرشد اولیں ہے عشقعشق نہ ہو تو شرع و دیں بُت کدہ تصورات اقبال کے نزدیک عقل کی کمزوری یہ ہے کہ اس میں جرات رندانہ کی کمی ہے۔ جب تک عشق اس کی پشت پناہ نہ ہو آگے نہیں بڑھتی ۔ عقل اسباب کی بھول بھلیوں میں گم ہو کر اصل حقیقت سے دور رہتی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ اقبال سراسر عقل کا مخالف نہیں۔ چنانچہ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ وہ تمام امور جن سے قوموں کی زندگی بدل گئی کسی نہ کسی جذبہ کے تحت انجام پاتے ہیں اسی خیال کو اقبال اس طرح ادا کرتے ہیں۔ بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشقعقل ہے محوِ تماشائے لب بام ابھی زندگی کے جس چاک کو عقل نہیں سی سکتی اس کو عشق اپنی کرامات سے بے سوزن اور بغیر تارِ رفو سی سکتا ہے۔ وہ پرانے چاک جن کو عقل سی سکتی نہیںعشق سیتا ہے انہیں بے سوزن و تارِ رفو عقل کی عیاری اور عشق کی سادگی اور اخلاص کو اس طرح ظاہر کیا ہے۔ عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہےعشق بے چارہ نہ مُلا ہے نہ زاہد نہ حکیم روحانی ترقی ، جسے اقبال حیات ِ انسانی کا اصل مقصود گردانتے ہیں۔ عشق کی رہبری کی محتاج ہے اور اس میں اقبال عقل و علم کو بے دست و پا خیال کرتے ہیں ، خود انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے۔ خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہسکھائی عشق نے مجھ کو حدیث رندانہ کبھی کبھی پاسبان ِ عقل کی موجودگی انسان کو تنگ کرنے لگتی ہے خاص طور پر جب وہ تنقید ہی کو مطمع نظر بنا لے ایسے موقعوں پر اقبال اعمال کی بنیاد عقل کے بجائے عشق پر رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ عقل کو تنقید سے فرصت نہیںعشق پر اعمال کی بنیاد رکھ کبھی کبھی اقبال کے ضمیر میں معرکہ ہونے لگتا ہے۔ اور انہیں احساس ہوتا ہے کہ عشق ہی حق ہے اور عقل اس کے مقابلے میں وہی درجہ رکھتی ہے جو رسول ِ پاک کے مقابلے میں ابولہب کا تھا۔ تازہ میر ے ضمیر پر معرکہ کہن ہواعشق تمام مصطفی، عقل تمام بولہب ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں عقل سے کسی قسم کی رہنمائی کی توقع رکھنا بے جا ہی ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اقبال عشق کو عقل سے برتر و بلند قرار دیتے ہیں ۔ اگر اقبال کے تصور عشق کے بارے میں ایک فقرے میں بات کی جائے تو حضرت علامہ کے شعر کے صرف ایک مصرعے میں ہی بات مکمل کی جاسکتی ہے۔ عشق کی ایک جست نے طے کر دیا قصہ تمام یہی وجہ ہے کہ اقبال عقل کے بجائے عشق سے کام لینے کا مشورہ دیتے ہیں جس کی ایک جست سے سارا قصہ تمام ہو جاتا ہے جس فاصلے کو انسان بیکراں سمجھتا ہے ، عشق ایک چھلانگ میں اُسے عبور کرا دیتی ہے۔ ان تفصیلات سے اقبال کے تصور عشق کا پتہ چلتا ہے۔ وہ اگر چہ عشق کو عقل پر فوقیت دیتے ہیں ، تاہم عقل کی اہمیت سے انکار نہیں ہے۔ درج بالا تفصیلات سے یہ بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اقبال کا تصور عشق اردو فارسی کے دوسرے شعرا سے کتنا مختلف ہے ۔ اقبال کے نزدیک عشق ، محض اضطراری کیفیت ، ہیجان جنسی ہوس باختہ از خود رفتگی ، فنا آمادگی ، یا محدود کو لامحدود میں گم کر دینے کا نام نہیں ہے۔ بلکہ ان کے یہاں عشق نام ہے ایک عالمگیر قوتِ حیات کا ، جذبہ عمل سے سرشاری کا۔ اقبال کا ذہنی و فکری ارتقاء فہرست 1 شاعری کی ابتداء 2 شاعری کی شہرت 3 شاعری کے مختلف ادوار 4 شاعری کا پہلا دور 4.1 روایتی غزل گوئی 4.2 نظم نگاری 4.3 مغربی اثرات 4.4 فلسفہ خودی 5 شاعری کا دوسرا دور 5.1 پیامبری 5.2 یورپی تہذیب سے بیزاری 5.3 اسلامی شاعری 5.4 فارسی شاعری کا آغاز 6 شاعری کا تیسرا دور 6.1 وطنیت و قومیت 6.2 اسلامی شاعری 6.3 فلسفہ خودی 7 شاعری کا چوتھا دور 7.1 طویل نظمیں 7.2 نئے تصورات 7.3 گزشتہ ادوار کی تکمیل 7.4 افکار و نظریات میں تغیر و تضاد شاعری کی ابتداء اقبال کی شاعری پر اظہار خیال کرنے والے مفکرین اس بات پر متفق ہیں کہ ان کی شاعری کا آغاز اسی وقت وہ گیا جب وہ ابھی سکول کے طالب علم تھے اس سلسلے میں شیخ عبدالقادر کہتے ہیں، ” جب وہ سکول میں پڑھتے تھے اس وقت سے ہی ان کی زبان سے کلام موزوں نکلنے لگا تھا۔“ عبدالقادر سہروردی کا کہنا ہے کہ، ” جب وہ سکول کی تعلیم ختم کر کے اسکاچ مشن کالج میں داخل ہوئے تو ان کی شاعری شروع ہوئی۔“ ان دونوں آراءمیں اگرچہ معمولی سا اختلاف ہے لیکن یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ علامہ اقبال کی شاعری کا آغاز انہی دنوں ہوگیا تھا جب وہ اپنے آبائی شہر سیالکوٹ کے چھوٹے موٹے مشاعروں میں بھی شرکت کیا کرتے تھے۔ لیکن ان کی اس زمانہ کی شاعری کا نمونہ دستیاب نہیں ہو سکا ہے۔ کچھ عرصہ کے بعد علامہ اقبال جب اعلیٰ تعلیم کے لئے لاہور پہنچے تو اس علمی ادبی مرکز میں ان کی شاعرانہ صلاحیتوں کو ابھرنے اور تربیت پانے کا سنہر ی موقعہ ہاتھ آیا ، یہاں جگہ جگہ شعر و شاعری کی محفلوں کا چرچا تھا۔ مرزا رشد گورگانی دہلوی اور میر ناظم لکھنوی جیسے پختہ کلام اور استادی کا مرتبہ رکھنے والے شاعر ےہاں موجود تھے اور ان اساتذہ شعر نے ایک مشاعرے کا سلسلہ شروع کیاتھا۔ جو ہر ماہ بازارِ حکیماں میں منعقد ہوتا رہا۔ اقبال بھی اپنے شاعرانہ ذوق کی تسکین کی خاطر اس مشاعر ے میں شریک ہونے لگے۔ اس طرح مرزا ارشد گورگانی سے وہ بحیثیت شاعر کے متعارف ہوئے اور رفتہ رفتہ انہوں نے مرزا صاحب سے اپنے شعروں پر اصلاح بھی لینی شروع کر دی۔ اس زمانہ میں وہ نہ صرف غزلیں کہا کرتے تھے۔ اور یہ غزلیں چھوٹی بحروں میں سادہ ، خیالات کا اظہار لئے ہوئی تھیں۔ البتہ شوخی اور بے ساختہ پن سے اقبال کی شاعرانہ صلاحیتوں کا اظہار ضرور ہو جاتا تھا۔ بازار حکیماں کے ایک مشاعرے میں انہی دنوں اقبال نے ایک غزل پڑھی جس کا ایک شعر یہ تھا۔ موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لئےقطرے جو تھے مرے عرق انفعال کے اس شعر کا سننا تھا کہ محفل مشاعرہ میں موجود سخن سنج اصحاب پھڑک اُٹھے اور مرزا ارشد گورگانی نے اسی وقت پیشن گوئی کی کہ اقبال مستقبل کے عظیم شعراءمیں سے ہوگا۔ شاعری کی شہرت اقبا ل کی شاعری کا چرچا شروع شروع میں بازار حکیماں کے مشاعروں تک محدود تھا۔ یا پھر لاہور کے کالجوں کی ادبی مجالس میں انہیں شاعر کی حیثیت سے پہچانا جاتا تھا۔ لیکن زیادہ عرصہ نہیں گذرا تھا کہ شہر کی ادبی مجالس میں انہیں ایک خوش گو اور خوش فکر نوجوان شاعر کی حیثیت سے پہنچانا جانے لگا۔ انہی دنوں انہوں نے غزل کے ساتھ ساتھ نظم پر بھی توجہ کی۔ ایک ادبی مجلس میں انہوں نے اپنی اولین نظم ”ہمالہ “ سنائی تو اسے بہت پسند کیاگیا۔ چنانچہ اقبال کی یہ پہلی تخلیق تھی جو اشاعت پذیر ہوئی۔ شیخ عبدالقادر نے اسی زمانہ میں اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے لئے اپنا پہلا مشہور رسالہ ”مخزن “ جاری کیاتھا۔ اس کے پہلے شمارے میں اپریل ١٠٩١ءمیں اقبال کی یہ نظم شائع ہوئی یہ گویا ان کی باقاعدہ شاعری کا آغاز تھا۔ ان کے پہلے مجموعہ کلام ”بانگ درا“ کی اولین نظم یہی ہے۔ اور اسی نظم کے چھپنے کے بعد ان کی شہرت روز بروز پھیلتی چلی گئی۔   شاعری کے مختلف ادوار اقبال کے ذہنی و فکری ارتقاءکی منازل کا تعین اس کی شاعری کو مختلف ادوار میں تقسیم کرکے کیا جاتا رہا ہے کیونکہ اقبال نے اپنے افکار و خیالات کے اظہار کا ذریعہ شاعری کو ہی بنایا ہے۔ یہ طریقہ سب سے پہلے شیخ عبدالقادر نے اختیار کیاتھا۔ انہوں نے ”بانگ درا“ کا دیباچہ لکھتے وقت اقبال کی شاعری پر تبصرہ کیا ہے۔ اور اسے تین ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ لیکن یہ تقسیم بعد میں اس لئے قابل قبول نہیں رہی کہ شیخ عبدالقادر کے پیش نظر اقبال کا وہ کلام تھاجو ”بانگ درا“ میں شامل ہے۔ بعد کے نقادوں کے ان کے پورے کلام کو پیش نظر رکھ کر شیخ عبدالقادر کی پیروی کرتے ہوئے اُسے مختلف ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ چنانچہ مولانا عبدالسلام ندوی اور طاہر فاروقی نے اقبال کی شاعری کے چار ادوار قائم کئے ہیں۔ ان دونوں کے ہاں ادوار کا تعین تقریباً یکساں ہے۔ طاہر فاروقی نے اپنی کتاب ”سیرت اقبال“ اور عبدالسلام ندوی نے اپنی کتاب” اقبال کامل“ میں ان ادوار کا تعین کیاہے۔ان دونوں کے نزدیک اقبال کی شاعری کے مندرجہ ذیل چار ادوار ہیں۔ 1۔ پہلا دور از ابتداء1905ءیعنی اقبال کے بغرضِ تعلیم یورپ جانے تک کی شاعری 2۔دوسرا دور 1905ءتا 1908ءیعنی اقبال کے قیامِ یورپ کے زمانہ کی شاعری 3۔ تیسرا دور 1908ءتا 1924ءیعنی یورپ سے واپس آنے کے بعد ”بانگ درا “ کی اشاعت تک کی شاعری 4۔ چوتھا دور 1924ءتا 1938ء”بانگ درا “ کی اشاعت سے اقبال کے وفات تک کی شاعری بعد میں ڈاکٹر سید عبداللہ نے اپنی کتاب ”طیف اقبال“ میں یہی طریقہ استعمال کرتے ہوئے صرف ایک دور کا اضافہ کرتے ہوئے اقبال کی شاعری کو پانچ ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ ڈاکٹر سید عبداللہ نے دراصل اقبال کی شاعری کو ان سیاسی واقعات کی روشنی میں تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے جن سے ہندوستان کے مسلمان متاثر ہوتے رہے۔ اس لئے ان کی شاعری کی تقسیم ان چار ادوار میں ہی درست ہے جو مولانا عبدالسلام ندوی اور طاہر فاروقی نے متعین کئے ہیں۔   شاعری کا پہلا دور اقبال کی شاعری کا پہلا دوران کی شاعری کی ابتداءسے ٥٠٩١ءتک یا بالفاظِ دیگر اس وقت تک شمار کیا جاسکتا ہے جب وہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کی خاطر یورپ روانہ ہوئے ۔ اس دور کی خصوصیات ذیل ہیں۔   روایتی غزل گوئی اپنی شاعری کے بالکل ابتدائی زمانہ میں اقبال کی توجہ غزل گوئی کی جانب تھی اور ان غزلوں میں رسمی اور روایتی مضامین ہی باندھے جاتے تھے۔ واپس آنے کے بعد انہوں نے مرزا ارشد گورگانی سے اصلاح لینی شروع کی تب بھی ان کی غزلوں کا روایتی مزاج برقرار رہا ۔ البتہ ان کی طبیعت کی جدت طرازی کبھی کبھی ان سے کوئی ایسا شعر ضرور کہلوا دیتی تھی جو عام ڈگر سے ہٹ کر ہوتا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب استاد داغ کی زبان دانی اور شاعری کا چرچا تمام ہندوستان میں پھیلا تھا۔ اقبال نے اصلاح ِ سخن کی خاطر داغ سے رابطہ پیدا کیا۔ وہ نہ صرف اپنی غزلوں پر داغ سے اصلاح لیتے رہے بلکہ داغ کا لب و لہجہ اور رنگ اپنانے کی کوشش بھی کی۔اور داغ کی طرز میں بہت سی غزلیں کہیں ۔ چند غزلیں جو اس دور کی یادگار کے طور پر باقی رہ گئی ہیں وہ واضح طور پر داغ کے رنگ نمایاں کرتی ہیں انہی میں سے وہ مشہور غزل بھی ہے جس کے چند اشعار یہ ہیں۔ نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھیمگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیاتھی تمہارے پیامی نے سب راز کھولاخطا اس میں بندے کی سرکار کیاتھی   نظم نگاری اقبال نے جلد ہی اندازہ کر لیاتھا کہ روایتی قسم کی غزل گوئی ان کے مزاج اور طبیعت سے مناسبت نہیں رکھتی اور انہیں اپنے خیالات کے اظہار کے لئے زیادہ وسیع میدان کی ضرورت ہے چنانچہ انہوں نے نظم نگاری کی جانب توجہ کی اور اس کا آغاز” ہمالہ “ جیسی خوبصورت نظم لکھ کر کیا جسے فوراً ہی قبول عام کی سند حاصل ہوگئی۔ اس سی ان کا حوصلہ بندھا اور انہوں نے پے درپے نظمیں لکھنی شروع کر دیں ۔ انہی نظموں میں ان کی وہ مشہور نظمیں شامل ہیں جو ”نالہ یتیم “ ”ہلال عید سے خطاب“ اور ”ابر گہر بار“ کے عنوان سے انجمنِ حمایت اسلام کے جلسوں میں پڑھی گئیں۔   مغربی اثرات اقبال کو شروع ہی سے مغربی ادب کے ساتھ شغف رہاتھا چنانچہ اپنی شاعری کے ابتدائی زمانہ میں انہوں نے بہت سی انگریزی نظموں کے خوبصورت ترجمے کئے ہیں۔ ”پیام صبح “ ”عشق اور موت“اور ” رخصت اے بزم جہاں“ جیسی نظمیں ایسے تراجم کی واضح مثالیں ہیں۔ اس زمانہ میں انہوں نے بچوں کے لئے بھی بہت سی نظمیں لکھی ہیں۔ مثلاً مکڑاور مکھی، ایک پہاڑ اور گلہری، ایک گائے اور بکری ، بچے کی دعا، ماں کا خواب ، ہمدردی وغیرہ یہ تمام نظمیں مغربی شعراءکے کلام سے ماخوذ ہیں۔   فلسفہ خودی اقبال کے ابتدائی دور کی کئی نظمیں اس لحاظ سے بہت اہمیت کی حامل ہیں کہ ان میں اقبال کی فلسفہ خودی کے کئی عناصر اپنی ابتدائی اور خام شکل میں موجود ہیں۔ یہی عناصر ہیں جنہیں آگے چل کر اپنی صورت واضح کی اور مربوط و منظم ہو کر اقبال کے نظام فکر میں بنیادی حیثیت اختیار کر لی اور اس کا نام فلسفہ خودی قرار پایا۔اس فلسفہ خودی کے درج ذیل عناصر ہیں۔ 1 اقبال کے فلسفہ خودی میں انسان کی فضیلت ، استعداد اور صلاحیتو ں کابڑا زور دیا گیا ہے۔ 2 فلسفہ خودی کا دوسرا بڑا عنصر عشق اور عقل کی معرکہ آرائی میں عشق کی برتری کا اظہار ہے۔ 3 فلسفہ خودی کا ایک اور عنصر خیر و شر کی کشمکش ہے جو کائنات میں ہر آن جاری ہے۔ 4 فلسفہ خودی کا ایک بہت قوی عنصر حیاتِ جاودانی اور بقائے دوام کا تصور ہے۔ 5 اقبال کے فلسفہ خودی کا ایک اہم عنصر یہ ہے کہ زندگی کی جہد مسلسل خیال کرتے ہیں۔ اقبال کے اس ابتدائی دور کی شاعری کا مجموعی طور پر جائزہ لیا جائے تو ڈاکٹر سید عبداللہ کے بقول ، ” یہ ایک طرح کا جستجو، کوشش، اظہار اور تعمیر کا دور ہے اقبال کی آنے والی شاعری کے بیشتر رجحانات اور شاعرانہ افکار کے ابتدائی نقوش و آثار اس شاعری میں مل جاتے ہیں۔“ جبکہ ڈاکٹر عبداللہ رومانی کا کہنا ہے۔ ” اس دور کا اقبال نیچر پر ست ہے اور جو چیز اس دور کی نظموں میں نمایاں نظر آتی ہے وہ تنہائی کا احساس ہے اس بھری انجمن میں اپنے آپ کو تنہا سمجھنے کا احساس اور زادگانِ فطرت سے استعفار اور ہم کلامی اقبال کی رومانیت کی واضح دلیل ہے۔“ شاعری کا دوسرا دور اقبال کی شاعری کا دوسرا دور 1905ءمیں ان کی یورپ کے لئے روانگی سے لےکر 1908ءمیں ان کے یورپ سے واپسی تک کے عرصہ پر محیط ہے۔ گویا اس دور میں ان کا وہ کلام شامل ہے جو انہوں نے اپنے قیام یورپ کے دوران لکھا اس تمام عرصہ میں انہیں شعری مشغلہ کے لئے بہت کم وقت ملا کیونکہ ان کا زیادہ وقت اعلیٰ تعلیم کے حصول پی ۔ ایچ ۔ ڈی کے لئے تحقیقی مصرفیات اور مغربی افکار کے مطالعہ میں صرف ہوتا رہا۔ شائد ان ٹھوس علمی مصروفیات کا یہی اثر تھا کہ ایک مرحلہ پر وہ شاعری کو بیکار محض تصور کرنے لگے اور اس مشغلہ کو ترک کرنے کا ارادہ کر لیا۔ شیخ عبدالقادر جو اُن دنوں انگلستان میں تھے لکھتے ہیں کہ، ” ایک دن شیخ محمد اقبال نے مجھ سے کہا کہ ان کا مصمم ارادہ ہو گیا ہے کہ وہ شاعری کو ترک کر دیں اور قسم کھا لیں کہ شعر نہیں کہیں گے۔ میں نے ان سے کہاکہ ان کی شاعری ایسی شاعری نہیں جسے ترک کرنا چاہیے ۔ شیخ صاحب کچھ قائل ہوئے کچھ نہ ہوئے آخر یہ قرار پایا کہ آخری فیصلہ آرنلڈ صاحب کی رائے پر چھوڑا جائے ۔ آرنلڈ صاحب نے مجھ سے اتفاق رائے کیا اور فیصلہ یہی ہوا کہ اقبال کے لئے شاعری چھوڑنا جائز نہیں۔“ اس زمانہ کی شاعری کی خصوصیات درجِ ذیل ہیں، پیامبری اقبال کی اس دور کی شاعری میں یورپ کے مشاہدات کا عکس واضح نظر آتا ہے یورپ کی ترقی کے مشاہدہ نے ان پر یہ راز کھولا کہ زندگی مسلسل جدوجہد ، مسلسل حرکت ، مسلسل تگ و دو اور مسلسل آگے بڑھتے رہنے سے عبارت ہے۔ اس لئے مولانا عبدالسلام ندوی کہتے ہیں، ” اسی زمانہ میں ان کا زاویہ نگاہ تبدیل ہوگیا اور انہوں نے شاعر کی بجائے پیامبر کی حیثیت اختیار کر لی۔“ چنانچہ انہوں نے ”طلبہ علی گڑھ کالج کے نام“ کے عنوان سے جو نظم لکھی اس میں کہتے ہیں، اور روں کا ہے پیام اور ، میرا پیام اور ہےعشق کے دردمند کا طرز کلام اور ہےشمع سحر کہہ گئی، سوز ہے زندگی کا رازغمکدہ نمود میں ، شرط دوام اور ہے اس طرح چاند اور تارے اور کوشش ناتمام بھی اسی پیغام کی حامل ہیں۔ یورپی تہذیب سے بیزاری اقبال یورپ کی ترقی سے متاثر ہوئے تھے لیکن ترقی کی چکا چوند انہیں مرغوب نہیں کرسکتی ہے۔ وہ صحیح اسلامی اصول و قوانین اور قرآنی احکام پر عمل کرنے اور بری باتوں سے پرہیز کرنے کے قائل ہیں۔ مغربی تہذیب کا کھوکھلا پن ان پر ظاہر ہوتا ہے وہ اس سے بےزاری کا اظہار و اشگاف الفاظ میں کرتے ہیں۔ دیار ِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہےکھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ زر اب کم عیار ہوگا تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گیجو شاخ نازک پر بنے گا آشیانہ ناپا ئیدار ہوگا اسلامی شاعری مغربی تہذیب کے کھوکھلے پن اور ناپائیداری کا ادراک کرنے کے بعد اورجس فن افکار نے اس تہذیب کو جنم دیا تھا ان کی بے مائیگی کو سمجھ لینے کے بعد اقبال آخر کار اسلامی نظریہ فکر کی جانب راغب ہوئے۔اسی تغیر فکر نے ان کے اندر ملتِ اسلامیہ کی خدمت کا جذبہ بیدار کیا۔ اس جذبے کی عکاسی ان کی نظم ”شیخ عبدالقادر کے نام “ میں ہوتی ہے۔ جہاں وہ لکھتے ہیں۔ اُٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا افق ِ خاور پربزم میں شعلہ نوائی سے اجالا کردیںشمع کی طرح جئیں بزم گہ عالم میںخود جلیں دیدہ اغیار کو بینا کر دیں فارسی شاعری کا آغاز اس دور میں اقبال نے اردو کے ساتھ ساتھ فارسی میں طبع آزمائی شروع کی ۔ فارسی زبان کی وسعت اور اس کے پیرایہ اظہار و بیان کی ہمہ گیری کے ساتھ اقبال کو اپنی شاعری کے وسیع امکانات کی بڑی مطابقت نظر آئی۔ اس دور تک پہنچتے پہنچتے اقبال کے افکار و خیالات کسی قدر واضح اور متعین شکل اختیار کرنے لگتے ہیں۔ یورپی تہذیب کی ملمع کاری اور کھوکھلے پن کا ان پر اظہار ہوگیا ہے اور وہ ملک کی نجات مشرقی افکار و نظریات میں پانے لگے ہیں۔ اس ملت کے لئے ان کے پاس اب یہ پیغام ہے کہ وہ اسلام کے اصولوں پر سختی سے کار بند ہوں۔   شاعری کا تیسرا دور اقبال کی شاعری کا تےسرا دور 1908ءمیں یورپ سے ان کی واپسی کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ اور 1924ءمیں ”بانگ درا“ کی اشاعت تک شمار کیا جاتا ہے یہ دور ان کے افکار و خیالات کی تکمیل اور تعین کا دور ہے اس دور کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں۔ وطنیت و قومیت اقبال نے قیام یورپ کے دوران اُن اسباب کا بھی تجزیہ کیا تھا جو مغربی اقوام کی ترقی اور عروج ممدو معاون ہونے اور ان حالات کا بی گہرا مشاہدہ کیاتھا جو مشرقی اور خاص طور پر اسلامی ممالک کے زوال اور پسماندگی کا باعث بنے۔ ان کی تیز بین نظروں کے سامنے اب وہ تمام حربے بے نقاب تھے جو مغربی اقوام نے مشرق کو غلام بنائے رکھنے کے لئے وضع کر لئے تھے۔ ان سب حربوں میں زیادہ خطرناک حربہ وطنیت اور قومیت کا نظریہ تھا۔ اس تصور کو ملتِ اسلامیہ کے لئے سب سے زیادہ نقصان دہ سمجھنے لگے اِ سی لئے انہوں نے کہا کہ، ان تازہ خدائوں میں بڑا سب سے وطن ہےجو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہےاقوام میں مخلوق ِ خدا بٹتی ہے اس سےقومیت اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے اسلامی شاعری اس دور میں اقبال صرف وطنیت اور قومیت کے مغربی نظریہ کو مسترد کرکے اس کے مقابلے میں ملت کے اسلامی نظریہ کی تبلیغ ہی نہیں کرتے۔ بلکہ اب ان کی پوری شاعری کا مرکز و محور ہی اسلامی نظریات و تعلیمات بن گئے۔ اگرچہ اس زمانہ میں انہوں نے دوسرے مذہبی پیشوائوں مثلاً رام اور گورونانک وغیرہ کی تعریف میں بھی نظمیں لکھیں ہیں۔ لیکن بحیثیت مجموعی ان کی پوری توجہ اسلام اور ملت اسلامیہ کی جانب ہے۔ ”شمع و شاعر“ اور ”خضر راہ“ اس زمانے کے حالات کا بھرپور جائزہ لیتی ہوئی نظمیں ہیں۔   فلسفہ خودی اس دور میں اقبال کا فلسفہ خودی پوری طرح متشکل ہو کر سامنے آیا۔ ان کی اس دور کی شاعری تمام کی تمام اسی فلسفہ کی تشریح و توضیح ہے۔ چنانچہ اردو شاعری میں بھی اس فلسفہ کا اظہار اکثر جگہ موجود ہے اسی زمانہ میں انہوں نے کہا، تور از کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا!خودی کا راز داں ہو جا ، خدا کا ترجماں ہوجاخودی میں ڈوب جا غافل ، یہ عین زندگانی ہےنکل کر حلقہ شام و سحر سے جاوداں ہوجا شاعری کا چوتھا دور یہ دور 1924ءسے لے کران کے وفات تک ہے اس کی خصوصیات درج ذیل ہیں۔   طویل نظمیں ”بانگ درا“ میں اقبال کی کئی نظمیں شامل ہیں جن میں سے اکثر خارجی اور سیاسی محرکات کے زیر اثر ہیں۔ یہ محرکات چونکہ بہت ہیجان خیز تھے اس لئے نظموں میں جوش و جذبہ کی فضا پوری طرح قائم رہی ہے۔ مثال کے طور پر ”شکوہ“ ”جواب شکوہ“ ، ”شمع و شاعر“ ، طلوع اسلام“ وغیرہ نظموں کے نام لئے جا سکتے ہیں ۔ کئی طویل نظمیں ”بال جبریل “ میں ہیں جیسے ”ساقی نامہ“ وغیرہ۔   نئے تصورات اس دور کے کلام میں کچھ نئے تصورات سامنے آئے مثلاً شیطان کے متعلق نظم ” جبریل ابلیس“ ہے مری جرات سے مشت خاک میں ذوق نمودمیرے فتنے جامہ عقل و خرد کا تاروپوگر کبھی خلوت میسر ہو تو پوچھ اللہ سےقصہ آدم کو رنگیں کر گیا کسِ کا لہو   گزشتہ ادوار کی تکمیل بیشتر اعتبار سے یہ گزشتہ ادوار کی تکمیل کرتا ہے۔ مثلاً پہلے ادوار میں وہ یورپی تہذیب سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں جبکہ اس دور میں وہ اس کے خلاف نعرہ بغاوت بلندکرتے ہیں اور اس کے کھوکھلے پن کو واشگاف کرتے ہیں۔ افکار و نظریات میں تغیر و تضاد اقبال کی شاعری کے مندرجہ بالا تفصیلی جائزہ سے یہ بات پوری عیاں ہو جاتی ہے کہ وہ فکری ارتقاءکی مختلف منازل سے ضرور گزرے ہیں۔ لیکن فکری اور نظریاتی تضاد کا شکار کبھی نہیں ہوئے ۔ ابتدائی دور میں وہ وطن پرست تھے تو آخر وقت تک محب وطن رہے ہیں لیکن وطن کی حیثیت انہوں نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جو انسان کو مختلف گروہوں میں تقسیم کرکے آپس میں برسرِ پیکار رہتی ہے۔ کچھ عرصہ بعد انہیں یہ شعور حاصل ہوکہ وہ ایسی ملت کے فرد ہیں جو جغرافیائی حدود میں سمونا نہیں جانتی اس کا نتیجہ یہ نہیں ہوا کہ انہوں نے اپنے ہم وطن دیگر مذاہب کے پیرووں کے لئے نفرت کا اظہار کیا ہو۔بلکہ صرف یہ ہوا کہ انہوں نے اپنا تشخص اس ملت کے حوالہ سے کیا جس کا وہ حصہ تھے۔ یہ ان کی فکری ارتقاءکے مختلف مراحل کے نشانات ہیں اور وہ بہت جلد وطن اور ملت کے متعلق ایک واضح نکتہ نظر کو اپنا چکے تھے ۔ اس کے بعد وہ آخر وقت تک اسی نکتہ نظر کی وضاحت اور تبلیغ میں مصروف رہے اور کسی مقام پر کوئی الجھائو محسوس نہیں کیا۔ اقبال کا نظریہ فن شاعر کی نوا ہو کہ مغنی کا نفس ہوجس سے نفس افسردہ ہو وہ باد سحر کیابے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیںجو ضرب کلیمی نہیں رکھتی و ہ ہنر کیا نظریہ فن کے بارے میں اقبال اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اوّل یہ کہ آرٹ کی غرض محض حسن کا احساس پیدا کرناہے اور دوم یہ کہ آرٹ سے انسانی زندگی کوفائدہ پہنچنا چاہیے۔ اقبال کا ذاتی خیال ہے کہ ہر وہ آرٹ جو زندگی کے لئے فائدہ مند ہے وہ اچھا اور جائز ہے۔ اور جو زندگی کے خلاف ہو وہ ناجائز ہے۔ اور جو انسانوں کی ہمت کو پست اور ان کے جذبات عالیہ کو مردہ کرنے والا ہو قابل ِ نفرت ہے۔ اور اس کی ترویج حکومت کی طرف سے ممنوع قرار دی جانی چاہیے۔آرٹ کے مضر اثرات کے متعلق فرمایا ہے کہ بعض قسم کا آرٹ قوموں کو ہمیشہ کے لئے مردہ بنا دیتا ہے۔ چنانچہ ہندو قوم کی تباہی میں ان کے فن ِ موسیقی کا بہت بڑا حصہ رہا ہے۔ گویا اقبال فن کو زندگی کا معاون سمجھتے ہیں اور اس کو افادیت کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔ اقبال ایسے فن کے شدید مخالف ہیں جس سے قوم پر مردنی چھا جائے اور جو اس کے قوائے عمل کو مضمحل کردے۔ اس لحاظ سے اقبال کے نظریہ فن میں افادیت اور مقصدیت کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اقبال افادیت کے اس حد تک قائل ہیں کہ ان کے خیال میں مردنی پیدا کرنے والے فن کی حکومت کی طرف سے جبراً روک تھام ہونی چاہیے۔   فہرست 1 فن اور زندگی 2 فن اور صداقت 3 فن اور آزادی 4 فن اور خودی 5 فن اور عشق 6 فن اور جلا ل و جمال 7 فن صبح کا پیغامبر 8 معاشرے میں جذبات پیدا کرنا 9 حیات ابدی کے حصول کی لگن 10 فطرت کی خامیوں کو دور کرنا فن اور زندگی اقبال کے نزدیک فن کا واحد مقصد یہ ہے کہ وہ اجتماعی زندگی کی نشوونما میں معاونت کرے جس فن میں نہ زندگی کی کار فرمائی نظر آئے اور نہ فن کار کی خودی وہ اقبال کے نزدیک بیکار ہے۔ اقبال سارے فنون لطیفہ کو زندگی اور خودی کے تابع قرار دیتا ہے ۔ زندگی سے اقبال کی مراد قوم کی اجتماعی زندگی ہے اقبال نے اپنی ایک نظم میں قوم کو ایک جسم قرار دیتے ہوئے افرا د کو اس کے مختلف اعضاءسے تشبیہ دی ہے۔ ان اعضاءمیں شاعر کی حیثیت قوم کے دیدہ بینا کی ہے۔ مثلاً قوم گویا جسم ہے افراد ہے اعضائے قوممنزل صنعت کے رہ پیما ہیں دست و پائے قوممحفل نظم حکومت چہرہ زیبائے قومشاعر رنگیں نو ہے دیدہ بینائے قوم اقبال کہتے ہیں جب تک شاعری میں سوز دروں کی کارفرمائی نہیں ہوگی، قوم سوز آرزو اور سوزِ حیات سے بیگانہ رہے گی۔ اگر قوم لذت آرزو سے محروم رہے گی تو اس کی شیرازہ بندی ممکن نہیں ہوگی مثلاً، شمع محفل ہوکے تو جب سوز سے خالی رہاتیرے پروانے بھی اس لذت سے بےگانے رہےرشتہ الفت میں جب ان کو پروسکتاتھا توپھر پریشاں کیوں تری تسبیح کے دانے رہے فن اور صداقت اقبال کے خیال میں آرٹ کی بنیاد سوز و گداز ، صداقت اور انقلاب انگیز قوت پر ہونی چاہیے۔ لیکن اگر حیات ِ اجتماعی کسی خاص زمانے میں کسی خاص انحطاطی اثر کا شکار ہو تو آرٹ کو اس سے متاثر نہ ہو نا چاہیے۔ اقبال کہتے ہیں کہ صداقت نقل اور تقلید سے حاصل نہیں ہو سکتی ۔ شاعر کا کام ہے کہ کائنات اور حیات کے بحر ذخار سے خود نئے موتی چنے اور زندگی کے سمندر سے صداقت کا جام پئے۔مثلاً شاعر دلنواز بھی بات اگر کہے کھریہوتی ہے اس کے فےض سے مزرع زندگی ہریشان خلیل ہوتی ہے اس کے کلام سے عیاںکرتی ہے اسکی قوم جب اپنا شعار آذریکہہ گئے ہیں شاعری جزو یست از پیغمبریہاں سنا دے محفل ملت کو پیغام سروش   فن اور آزادی اقبال کہتے ہیں کہ فن کے حقیقی فروغ کے لئے آزادی بے حد ضروری ہے کیوں کہ عمرانی اور معاشی آزادی کے بغیر فن کی صحیح نشوونما ہو ہی نہیں سکتی۔ جمال کی قدر جس کو اقبال نے اپنے نظریہ فن میں حرکت سے وابستہ کر دیا ہے صرف آزادی ہی کے عالم میں پیدا ہو سکتی ہے ۔ کیوں کہ اقبال کے نزدیک جمال ، جلال کی ابتدائی کیفیت ہے۔ غلامی میں ذوق حسن باقی نہیں رہتا ۔ بصیرت جو حسن و جمال کے مشاہدے کے لئے اس قدر ضروری ہے فنا ہو جاتی ہے۔ اور دوسروں کی اقدارِ حسن کی اندھی تقلید باقی رہتی ہے اور اس اندھی تقلید سے جو آرٹ پیدا ہوتاہے وہ بھی جھوٹا اور بے اصل ہی ہوتا ہے۔ مثلاً غلامی کے ہے ذوق حسن و زیبائی سے محرومیجسے زیبا کہیں آزاد بند ے ہے وہی زیبابھروسہ کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پرکہ دنیا میں فقط مردانِ حُر کی آنکھ ہے بینافطرت کی غلامی سے کر آزاد ہنر کوصیاد ہیں مردان ِ ہنر مند کہ نخچیر فن اور خودی اقبال کے فن کا نظریہ ان کے فلسفہ خودی کے تابع ہے۔ ان کے نزدیک آرٹ اظہار خودی کا ایک وسیلہ ہے ۔ وہ فن جس میں خودی باقی نہیں رہتی ۔ اقبال کے خیال میں عضر چیز ہے۔ خودی دراصل اقبال کے نظام فکر کا مرکزی نقطہ ہے ۔ اس لئے انھوں نے تمام فنون لطیفہ کو خودی کے تابع قرار دیا ہے ۔ اس کے علاوہ فن اجتماعی زندگی کی نشوونما بھی کرتا ہے۔ خودی کا باقاعدہ تصور پیش کرنے سے پہلے اقبال نے شاعر کو اپنی حقیقت سے آشنا ہونے اور خودی کے ذریعے راز حیات معلوم کرنے کے ذرائع ڈھونڈنے کی تعلیم دی تھی۔ یہ شاعر یا فنکار کے لئے داخلیت یا وطن پرستی کا درس اپنی خودی کو دریافت کرنا اور اسے جگانا ، احتساب کائنات کے لئے شمع روشن کرنا ہے۔ مثلاً، آشنا اپنی حقیقت سے ہو اے دہقان ذرادانہ تو، کھیتی بھی تو، باراں بھی تو، حاصل بھی توآہ کس کی جستجو اوارہ رکھتی ہے تجھےراہ تو ، رہرو بھی تو ، رہبر بھی تو ، منزل بھی تواپنی اصلیت سے ہو آگاہ اے غافل کہ توقطرہ ہے لیکن مثال بحر بے پایا ں بھی ہےگر ہنر میں نہیں تعمیر خودی کا جوہروائے صورت گری و شاعری و نائے و سرور فن اور عشق اقبال کے فلسفے میں عشق کو بھی ایک نمایاں مقام حاصل ہے ۔ اقبال کے نزدیک فن کا محرک جذبہ عشق ہے۔ ان کے خیال میں کوئی فن خلوص ، سوز و گداز اور خون جگر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ فنکا ر کی ایک بڑی خصوصیت اس کا خلوص ہے جو عقلی بھی ہو سکتا ہے اور جذباتی بھی۔ اقبال کے ہاں جذباتی رنگ زیادہ غالب ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ وہ تمام معجز ہائے ہنر فانی ہیں جن کی تہہ میں خلوص و جذبہ موجود نہ اوروہ تمام فن پارے ابدی اہمیت کے حامل جن کی نمود خونِ جگر ، خلوص اور سوز دل کی مرہون ِ منت ہو مثلاً رنگ ہو یا خشت و سنگ ، چنگ ہو یا حرف و صوتمعجزہ فن کی ہے خون جگر سے نمود نقش ہیں سب ناتمام خونِ جگر کے بغیرنغمہ ہے سودائے خام خونِ جگر کے بغیر برگ گل رنگیں ز مضمون من استمصرع من ، قطرہ خونِ من است فن اور جلا ل و جمال اقبال ہر فن پارے میں دلبری کے ساتھ ساتھ قاہر ی کی صفت بھی دیکھنے کے آرزو مند ہیں۔ وہ فن میں جلا ل و جمال کے امتزاج کے قائل ہیں۔ کیونکہ وہ قوت اور جلال ہی میں زندگی کی نمو کا راز پوشیدہ دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک خالص قوت جس میں جمال کی آمیزش نہ ہو تباہی و بربادی لیکر آتی ہے۔ اور خالص جما ل جو قوت سے محروم ہو ان کے خیال میں پست درجے کے فن کی تخلیق کرتا ہے۔ اقبا ل کے خیال میں اگر کسی فن پارے میں دلبری و قاہری کا امتزاج نہ ہو تو فن پارہ نا مکمل ہے۔ اور اگر اس میں جلال اور جمال کی صفات جلوہ گر ہوں تو وہ ابدیت سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔ چنانچہ وہ دلبری سے قاہری کو جادوگری اور دلبری با قاہری کو پیغمبری قرار دیتے ہیںمثلاً۔ دلبری بے قاہری جادو گریستدلبری با قاہری پیغمبر یست مری نظر میں یہی ہے جمال و زیبائیکہ سر بہ سجدہ ہیں قوت کے سامنے افلاک نہ ہو جلال تو حسن و جما ل بے تاثیرمرا نفس ہے اگر نغمہ ہو نہ آتشناکمجھے سزا کے لئے بھی نہیں قبول وہ آگکہ جس کا شعلہ نہ ہو تند و سرکش و بے باک فن صبح کا پیغامبر اقبال کے نزدیک فن کا مقصد معاشرتی ترقی ہے۔ وہ فن کے متعلق اپنے نقطہ نظر اور معاشرے سے اس کے تعلق کو شاعری کے ذریعے مثالوں سے واضح کرتے ہیں ان کے نزدیک شاعری دیدہ بینا ئے قوم ہے۔ فن کا صحیح مقصد زندگی ، انسان اور اس کی معاشرت کو تقویت دینا ہے۔ ایک فنکار کو صبح کا پیغامبر ہونا چاہیے اور اگر وہ افسردہ اور یاس انگیز نغموں کے سوا کچھ نہ الاپ سکے تو اس کے لئے بہتر ہے کہ وہ خاموش رہے مثلاً افسرد ہ اگر اس کی نوا سے ہو گلستاںبہتر ہے کہ خاموش رہے مرغ سحر خیزشاعر کی نوا ہو کہ مغنی کا نفس ہوجس سے نفس افسردہ ہو وہ باد سحر کیا معاشرے میں جذبات پیدا کرنا اقبال کا کہنا ہے کہ شاعر سینہ ملت میں دل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اسے اپنی پیغمبرانہ قوتوں سے ملت خوابیدہ کو بیدار کردینا چاہیے۔ اور انہیں بلند سے بلند تر منازل تک لے جانا چاہیے ۔ اقبال مزید کہتے ہیں کہ وہ شاعری یا وہ شعر جو معاشرے میں جذبات کا ایک طوفان پیدا نہ کردے کسی کام کا نہیں مثلاًً جس سے دل درےا متلاطم نہیں ہوتااے قطرہ نہاں وہ صدف کیا وہ گہر کیا؟بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیںجو ضرب کلیمی نہیں رکھتی وہ ہنر کیا؟ اقبال کہتے ہیں کہ فن زندگی کے حصول کا ایک گراں قدر ذریعہ ہے اور اگر اس میں یہ خصوصیت ہوتو وہ پیغمبر ی سے صرف ایک درجہ کمتر ہے۔ فن کا ر کو لازم ہے کہ وہ کم حوصلہ لوگوں میں مردانگی اور جرات کی روح پھونک دے مثلاً نوا پیرا ہو ایک بلبل کہ ہو تیرے ترنم سےکبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیدا حیات ابدی کے حصول کی لگن اقبال فرماتے ہیں کہ فن کا کام یہ ہے کہ وہ ایسی شاعری تخلیق کرے کہ جس شاعر ی سے تمام بنی نوع انسان حیات ابدی کی طرف راغب ہو جائے اور ابدی زندگی کے حصول کے لئے کوشش شروع کر دے۔ اقبال فرماتے ہیں وہ شعر جو حیات ابدی کا پیغام لئے ہوئے ہو نغمہ جبریل کی طرح مشیت ایزدی کی تلقین کرتا ہے اور شعر کہنے والے کی آواز حشر کا سامان ہوتی ہے۔ مثلاً وہ شعر کہ پیغام حیاتِ ابدی ہےیا نغمہ جبریل ہے یا بانگ اسرفیل مقصود ہنر سوز حیات ابدی ہےیہ یک نفس یا دو نفسِ مثلِ شرر کیا فطرت کی خامیوں کو دور کرنا فن کے بارے میں بعض فطرت پرستوں کا نظریہ یہ ہے کہ حقیقی فن یہ ہے کہ فطرت جس طرح نظر آتی ہے فنکار اسے بالکل اسی طرح پیش کرے ۔ گویا فن کا راپنی ظاہر کی آنکھ سے جو کچھ دیکھتا ہے اگر اس کی ہو بہو تصویر کھینچ دے تو یہ بڑا فن ہے ورنہ نہیں۔ اقبال نے نقالی کے اس نظریے کی بھی شدید مخالفت کی ۔اقبال کا نقطہ نظر یہ ہے کہ فطرت کی نقالی کوئی کمال نہیں اصل کمال تو یہ ہے کہ جو فطرت نہیں کرسکتی اسے انسان کرے۔ انسان فطرت کے مقابلے میں بہتر ، بلند اور باشعور ہے وہ فطرت کا غلام نہیں فطرت اس کی غلام ہے ۔ فن کار کا کام یہ ہے وہ فطرت کی خامیوں کو دور کرکے اسے حسین بنا کر پیش کرے مثلاً فطرت کو خرد کے روبرو کرتسخیر مقام ِ رنگ بو کربے ذوق نہیں اگرچہ فطرتجو اس سے نہ ہو سکا وہ تو کر یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شائدکہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون بقول ایم ایم شریف ” اقبال کے نزدیک اس فن کا کوئی مطلب نہیں جس کا تعلق زندگی ، انسان اور معاشرت سے نہ ہو فن کا اوّلین مطلوب خود زندگی ہے ۔ فن کے لئے لازم ہے کہ وہ ذہن انسانی میں ایک ابد ی زندگی کے حصول کی لگن پیدا کردے۔“ وطنیت و قومیت فہرست 1 مغربی تصور قومیت سے بدظنی 2 قوم اور ملت ہم معنی 3 اقبال کا تصور قومیت 4 ملت کے لئے اخوت کی ضرورت 5 ملت اور اخوت کا پیغام 6 اتحاد اقوام اسلامی کا تصور 7 اتحاد عالم اسلام میں رکاوٹ 8 نظریہ وطنیت و قومیت 8.1 وطن پرستی کا دور 8.2 بعد کی وطن دوستی کی شاعری 8.3 وطنیت کے سیاسی تصور کی مخالفت 8.4 وطن کا بت 8.5 وطنیت اور ملوکیت کا رشتہ 9 مجموعی جائزہ مغربی تصور قومیت سے بدظنی جدید مغربی سےاسی افکار میں وطنیت اور قومیت قریب قریب ہم معنی ہیں ۔ اقبال نے وطنیت کے سیاسی تصور کو جس بناءپر رد کیا تھا وہی وجہ مغربی نظریہ قومیت سے ان کی بدظنی کی بنیاد بنی ان کا خیال تھا کہ قومیت کی ایک سیاسی نظا م کی حیثیت قطعاً غیر انسانی اقدار پر مشتمل ہے۔ اور اس کی بنیاد پر ایک انسانی گروہ دوسرے انسانی گروہ سے کٹ کر رہ جاتا ہے۔ اور بلا وجہ تنازعات کی بناءپڑتی ہے۔ جو بعض اوقات قیمتی انسانی جانوں کے اتلاف اور بلا خیز تباہی پر منتج ہوتی ہے۔ اسی نظام کو انہوں نے دنیائے اسلام کے لئے خاص طور پر ایک نہایت مہلک مغربی حربے کی حیثیت سے دیکھا اور جب ترکوں کے خلاف عرب ممالک نے انگریزوں کی مدد کی تو انہیں یقین ہوگیا کہ وطنیت اور قومیت کے مغربی تصورات مسلمانوں کے لئے زہر قاتل سے زیادہ نقصان ثابت ہو رہے ہیں ۔ چنانچہ انہوں نے قومیت کے مغربی تصور کے مقابلہ میں ملت اسلامیہ کا تصور پیش کیااور یہ ثابت کیا کہ مسلمانان ِ عالم کے لئے بنیادی نظریات اور اعتقادات کی رو سے ایک وسیع تر ملت کا تصور ہی درست ہے۔ اور قومیت کے مغربی نظریہ ہمیں بحیثیت ملت ان کی تباہی کے بے شمار امکانات پوشیدہ ہیں۔ قوم اور ملت ہم معنی اقبال قوم اور ملت کو مترادف الفاظ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور مسلمان قوم سے ان کی مراد ہمیشہ ملت اسلامیہ ہوتی ہے۔ اس بارے میں وہ اپنے مضمون میں تحریر فرماتے ہیں۔ ” میں نے لفظ ”ملت“ قوم کے معنوں مےں استعمال کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عربی میں یہ لفظ اور بالخصوص قرآن مجید میں شرع اور دین کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ لیکن حال کی عربی، فارسی اور ترکی زبان میں بکثرت سندات موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ملت قوم کے معنوں میں بھی مستعمل ہے۔ میں نے اپنی تحریروں میں ”ملت “بمعنی قوم استعمال کیا ہے۔“ آگے چل کر لکھتے ہیں۔ ” ان گزارشات سے میرا مقصد یہ ہے کہ جہاں تک میں دیکھ سکا ہوں ، قران کریم میں مسلمانوں کے لئے ”امت“ کے سوا کوئی لفظ نہیں آیا۔ ”قوم“ رجال کی جماعت کا نام ہے۔ یہ جماعت با اعتبار قبیلہ ، نسل، رنگ ،زبان ، وطن اور اخلاق ہزار جگہ اور ہزار رنگ میں پیدا ہو سکتی ہے ۔لیکن ”ملت‘ ‘ سب جماعتوں کو تراش کر ایک نیا اور مشترک گروہ بنائے گی۔ گویا”ملت“ یا ”امت“ جاذب ہے اقوام کی۔ خود ان میں جذب نہیں ہوتی۔ اقبال کا تصور قومیت اقبال قومیت کے اس تصور کے خلاف ہیں جس کی بنیاد رنگ، نسل ،زبان یا وطن پر ہو ۔ کیونکہ یہ حد بندیاں ایک وسیع انسانی برادری قائم کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ ان کی قومیت کے اجزائے ترکیبی وحدت مذہب ، وحدت تمدن و تاریخ ماضی اور پر امید مستقبل ہیں۔ جہاں تک مذہب کا تعلق ہے اسلام اسی ملت کی اساس ہے۔ اور اسلام کا سب سے بڑا اور بنیادی اصول توحید خدا ملی وحدت کا ضامن ہے۔ اس کا دوسرا رکن رسالت ہے۔ اور یہی دو نوں اساس ملت ہیں۔ نہ کہ وطن جو جنگ اور ملک گیری کی ہوس پیدا کرتاہے۔ اس سلسلہ میں اقبال نے اپنے ایک مضمون میں یوں لکھا ہے۔ ”قدیم زمانہ میں ”دین“ قومی تھا۔ جیسے مصریوں ، یونانیوں اور ہندیوں کا۔ بعد میں نسلی قرار پایا جیسے یہودیوں کا ۔ مسحیت نے یہ تعلیم دی کہ دین انفرادی اور پرائیوٹ ہے۔ جس سے انسانوں کی اجتماعی زندگی کی ضامن ”سٹیٹ “ ہے۔ یہ اسلام ہی تھا جس نے بنی نو ع انسان کو سب سے پہلے یہ پیغام دیا کہ ”دین“ نہ قومی ہے نہ نسلی ہے، نہ انفرادی اور نہ پرائیوٹ ، بلکہ خالصتاً انسانی ہے۔ اور اس کامقصد باوجود فطری امتیازات کے عالم بشریت کو متحد اور منظم کر نا ہے۔ ان باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقبال اخوت کے قائل ہیں لیکن اس کی بنیاد اسلام پر رکھتے ہیں کیونکہ اسلام ضابطہ حیات ہے جس کے پاس وسیع انسانی مسائل کا حل موجود ہے وہ قومیت کو اسلام کے دائرہ میں اس لئے رکھتے ہیں کہ ان کے نزدیک صحیح انسانی معاشرہ صرف اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہونے سے وجود میں آسکتا ہے۔ چنانچہ ان کے تصور قومیت کی بنیاد اسلامی معتقدات پر ہے۔وہ کہتے ہیں، قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں، محفل ِ انجم بھی نہیں تو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشہ قے کو تعلق نہیں پیمانے سے اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کرخاص ہے ترکیب میں قوم ِ رسولِ ہاشمی دامن دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاںاور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی ملت کے لئے اخوت کی ضرورت اسلام نے عالم ِ انسانیت میں ایک انقلابِ عظیم کو بپا کرکے انسان کو رنگ و نسل ، نام و نسب اور ملک و قوم کے ظاہری اور مصنوعی امتیازات کے محدود دائروں سے نکال کر ایک وسیع تر ہیئت اجتماعیہ میں متشکل کیا۔ اقبال کے نزدیک یہ ” ہیئت اجتماعیہ“ قائم کرنا اسلام ہی کا نصب العین تھا۔ مگر بدقسمتی سے یہ وحدت قائم نہ رہ سکی اور مسلمان مختلف فرقوں ، گرہوں اور جماعتوں میں بٹتے چلے گئے ۔ اقبال مسلمانوں کو پھر اسی اخوت اسلامی کی طرف لوٹنے کی تلقین کرتے ہیں۔ اور ایک ملت میں گم ہو جانے کا سبق سکھاتے ہیں۔ وہ ایک عالمگیر ملت کے قیام کے خواہشمند ہیں جس کا خدا ، رسول کتاب، کعبہ ، دین اور ایمان ایک ہو، منفعت ایک ہے اسی قوم کی نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی ، اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک ملت اور اخوت کا پیغام اسی جذبہ کے تحت اقبال مسلمانوں کو اخوت کا پیغام دیتے ہیں اور انہیں مشورہ دیتے ہیں کہ رنگ و خون کو توڑ کر ایک ملت کی شکل میں متحد ہوجائیں ۔ کیونکہ یہی ایک صورت ہے جس کے ذریعے ایک زندہ قوم کی حیثیت سے اپنا وجود برقرار رکھ سکتے ہیں۔ ملک قوم ، نسل اور وطن کی مصنوعی حد بندیوں نے نوع انسانی کا شیرازہ منتشر کرکے رکھ دیاہے۔ اور اس کا علاج سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اسلامی معاشرہ کے تصور کو رائج کیا جائے اور کم از کم مسلمان خود کو اسی معاشرہ کا حصہ بنا لیں۔ یہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانیاخوت کی جہانگیری ، محبت کی فراوانی بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوجانہ تورانی رہے باقی ، نہ ایرانی نہ افغانی ہوس نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے نوع انساں کواخوت کابیاں ہوجا ، محبت کی زباں ہوجایہ ہندی ، وہ خراسانی ، یہ افغانی ، وہ تورانیتو اے شرمندہ ساحل ، اچھل کر بیکراں ہوجا مگر وحدت کا یہ احساس اور اخوت کا یہ جذبہ اگر نوع انسانی کے اندر پیدا ہوسکتا ہے تو صرف اسلا م کے ذریعہ ہی پیدا ہونا ممکن ہے۔ اقبال کی نظر میں اسلام محض انسان کی اخلاقی اصلاح ہی کا داعی نہیں ، بلکہ عالم بشریت کی اجتماعی زندگی میں ایک تدریجی مگر اساسی انقلاب بھی چاہتا ہے۔ جو انسان کے قومی اور نسلی نقطہ نگاہ کو یکسر بدل کر اس میں خالص انسانی ضمیر کی تخلیق کرے۔ اسی لئے وہ کہتے ہیں۔ ربط ملت و ضبط ملت بیضا ہے مشرق کی نجاتایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبر ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئےنیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغرنسل گر مسلم کی مذہب پر مقدم ہوگئیاڑ گیا دنیا سے تو مانند خاک رہ گزر اتحاد اقوام اسلامی کا تصور اسلام بنیادی طور پر ایک عالمگیر پیغام ہے اور تما م نوع انسانی کو اخو ت کی لڑی میں پرو کر ایک وسیع تر ملت اسلامیہ کے قیام کی دعوت دیتا ہے۔ تاکہ انسان کی ہوس کا علاج ہوسکے۔ لیکن اس کے لئے پہلا قدم یہ ہے کہ دنیا کے تمام مسلمان ممالک ایک لڑی میں پرئوے جائیں ۔ اقبال کی بھی یہی تمنا ہے ان کے نزدیک اسلام ایک ازلی ، ابدی ، آفاقی اور عالمگیر نوعیت کا پیغام ہے ، یہ ہر زمانہ ، ہر قوم اور ہر ملک کے لئے راہ ہدایت ہے۔ اس لئے اس کے پیروکاروں کو رنگ و نسل اور ملک وطن کے امتیازات مٹا کر یکجاہو جانا اور دنیائے انسانیت کے لئے ایک عالمگیر برادری کی مثال پیش کرنی چاہیے۔اس سلسلہ میں ”جمعیت اقوام“کی تنظیم پر طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اصل مقصد انسانوں کے درمیان اخوت کا جذبہ پیدا ہو نا چاہیے نہ کہ قوموں کا ایک جگہ اکٹھا ہو جانا۔ اس دور میں قوموں کی محبت بھی ہوئی عامپوشیدہ نگاہوں سے رہی وحدت آدم تفریق ملل حکمت افرنگ کا مقصوداسلام کا مقصود فقط ملت آدم مکہ نے دیا خاک جینو ا کو یہ پیغامجمعیت اقوام ہے جمعیت آدم اتحاد عالم اسلام میں رکاوٹ اقبال کے نزدیک اسلامی قومیت کی بنیاد اسلام پر ہے ملک و نسب نسل وطن پر نہیں۔ اس تصور کی انہوں نے عمر بھر شدو مد سے تبلیغ کی ۔ ہر مسلمان اسی تصور کو تسلیم کرتا ہے اور اس کی سچائی سے انکار نہیں کر سکتا۔ لیکن مسلم ریاستوں کے اتحاد اور دنیا کے تمام مسلمانوں کے ایک قوم بن جانے کا حوصلہ اس وقت تک نہیں آسکتا جب تک وطنیت اور قومیت کے مغربی نظریہ کی گرفت کمزور نہیں پڑجاتی۔ قریب قریب سارا عالم اسلام کافی عرصہ تک مغربی اقوام کا محکوم رہا ہے اور جدید اسلامی ریاستوں میں سے بہت سی ایسی ہیں جن کی تشکیل ہی مغربی نظریہ قومیت کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ اس طرح انہیں مغربی نظریات کے سحر سے آزاد ہونے میں کچھ وقت عرصہ لگے گا۔ لیکن امید کی جا سکتی ہے کہ کہ اقبال کے اس خواب کی تعبیر بھی ایک نہ ایک دن ضرور پوری ہوگی اور دنیا کے تمام مسلمان ملت واحدہ کی شکل اختیار کرکے ایک عالمگیر برادری کی شکل میں ڈھل جائیں گے۔ اس تما م بحث سے پتہ چلتا ہے کہ قومیت کے متعلق نظریات کے حوالے سے اقبال ایک ارتقائی عمل سے گزرے اور آخر کا ر اس نتیجے پر پہنچے کہ نسلی ، جغرافیائی ، لسانی حوالے سے اقوام کی تقسیم مغرب کا چھوڑا ہو ا شوشہ ہے۔ جس کا مقصد صرف اور صر ف مسلمانوں کو تقسیم کرنا ہے۔ اس لئے انہو ں نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو اپنے نظریہ ملت سے ایک ہونے کا پیغام دیا ۔ تاکہ مغرب کی ان سازشوں کو ناکام بنا یا جا سکے۔ اور مسلمان اقوام عالم مےں اپنا کھویا ہوا مقا م ایک بار پھر حاصل کر سکیں۔ نظریہ وطنیت و قومیت مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھناہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستان ہمارا وطن پرستی کا دور اقبال کی ابتدائی نظموں میں وطن سے ان کی گہری محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ ہر شخص کی طرح انہیں بھی اپنے وطن سے بڑی محبت تھی۔ بلکہ یہ محبت وطن پرستی کی حدوں تک پہنچی تھی۔ چنانچہ ان کی اس دور کی نظموں میں بقول مولانا صلاح الدین احمد، ” جب ہم اقبال کی ابتدائی شاعری کا جائزہ لیتے ہیں تو قدرت اور عورت کے حسن کی پرستش کے بعد جو جذبہ سب سے پہلے نظر آتا ہے۔ وہ وطن کی پرستش ہے۔“ وطن سے ان کی گہری محبت کا جذبہ اس قدر شدید تھا کہ ان کے اولین اردو مجموعہ” بانگ درا“ کا آغاز ہی ایک ایسی نظم سے ہوتا ہے۔ جو وطن پرستی کے بلند پایہ جذبات سے بھرپور ہے اس کا شمار ان نظموں میں ہوتا ہے جو حصول تعلیم کی غرض سے ان کے یورپ جانے سے قبل لکھی گئیں۔ مثلاً اپنی نظم ” تصویر درد “ میں وہ ہندوستان کی قسمت پر آنسو بہاتے ہوئے کہتے ہیں، رلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستان مجھ کوکہ عبرت خیز ہے ترا فسانہ سب فسانوں میںوطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہےتری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میںچھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نےعنا دل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میںنہ سمجھو گے تو مٹ جائو گے اے ہندوستان والوتمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں ”ترانہ ہندی“ ان کی وہ مشہور اور مقبول عوام نظم ہے جو عرصہ تک ہندوستان کے بچے بچے کی زبان پر رہی ہے۔ اس میں انتہائی دلنشین طریقہ سے اپنے وطن کے ساتھ گہرے لگائو اور محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہماراہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہماراغربت میں ہوں اگر ہم رہتا ہے دل وطن میںسمجھو وہیں ہیں ہم بھی، دل ہو جہاں ہمارامذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھناہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستان ہمارایونان و مصر و روما ، سب مٹ گئے جہاں سےاب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا اس زمانہ کی ایک اور نظم” ہندوستانی بچوں کا گیت“ ایک ایسی نظم ہے جس کے ایک ایک لفظ سے وطن پرستانہ جذبات کا اظہار ہوتا ہے۔ وطن کے ساتھ اتنے گہرے لگائو کا اظہار کرنے والی اردو میں بہت کم نظم لکھے گئے ہیں اس میں اقبال کی وطن کے ساتھ محبت اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔ بندے کلیم جس کے ، پربت جہاں کا سینانو ح نبی کا ٹھہرا آکے جہاں سفینارفعت ہے زمین کی بام فلک کا زیناجنت کی زندگی ہے جس کی فضا میں جینامیرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے اس نظم کے آخری بند میں اقبال نے اپنے وطن کو جس والہانہ انداز میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ اس کی اردو شاعری میں شائد ہی کوئی اور مثال مل سکے ۔اسی طرح اپنی نظم ” نیا شوالہ“ میں انہوں نے یہ کہہ کر اپنی وطن پرستی کی اتنہا کر دی تھی کہ ’ ’ خاک وطن کا جھکو یہ ذرہ دیوتا ہے۔“ ظاہر ہے کہ وطن پرستی کی خاطر اس سے بڑھ کر اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ کہ شاعر اپنے وطن کے ذرے ذر ے کا پجاری ہے۔   بعد کی وطن دوستی کی شاعری بعض نقادوں کا خیال ہے کہ جوں جوں اقبال فکری ارتقاءکے مراحل طے کرتے گئے ، ان کی وطن پرستانہ جذبات دھیمے اور ملت پرستانہ جذبات گہرے ہوتے گئے۔ یہاں تک کہ وطن کی محبت کے نظریہ سے قطعاً کنارہ کش ہوگئے۔ مگر یہ اعتراض درست نہیں ہے یہ تو ٹھیک ہے کہ بعد کے ادوار میں ان کی شاعری میں وطن پرستی کا وہ والہانہ جذبہ نہیں ملتا جو ابتدائی دور کی خصوصیت ہے۔ مگر وطن دوستی کا اظہار وہ اپنی شاعری کے ہر دور میں جابجا کرتے ہیں ۔ دراصل وطن کی جغرافیائی حیثیت سے انہوں نے کبھی انکار نہیں کیا اور نہ اس کے ساتھ ان کی محبت میں کبھی کمی آئی ۔ ان کی مخالفت صرف وطنیت کے سیاسی نظریہ سے تھی۔ طاہر فاروقی ”سیرت اقبال“ میں لکھتے ہیں، ” وطنیت کا وہ نظریہ جس کی تبلیغ سیاستِ مغرب کی طرف سے ہوئی ہے آپ اس کی شدید مخالف ہیں ۔ اور اقوام و عمل کے حق میں اس کو سم قاتل خیال کرتے ہیں لیکن وطنیت کا یہ مفہوم کہ ہندی ، عراقی ، خراسانی ، افغانی، روسی ، مصری وغیرہ ہونے کے اعتبار سے ہر فرد کو اپنے وطن ولادت سے تعلق اور نسبت ہے اور اسی لئے اس کو اپنے وطن کی خدمت کرنی چاہیے اور قربانیوں سے دریغ نہ کرنا چاہیے۔ اس کے آپ قائل اور معترف ہیں۔“ گویا ان کے وطن دوستی کے جذبات میں نہ کبھی تغیر آیا اور نہ ان میں کبھی کمی ہوئی۔ ان کا ثبوت یہ ہے کہ ان کی پختگی کے دور کی تصانیف ”جاویدنامہ “۔”پس چہ باید کرد اے اقوام مشرق“ اور مثنوی مسافر میں بھی وطن پرستی کے لطیف جذبات کا اظہار جا بجا ہوا ہے ”جاوید نامہ کا وہ حصہ تو خاص طور پر قابل ذکر ہے جہاں انہوں نے ”قلزم خونیں“ کے تحت روح ہندوستان اور اس کے نامہ و فریاد کی تصویر کشی کا حق ادا کر دیا ہے۔ انہوں نے میر جعفر ، اور میر صادق جیسے وطن کے غداروں کو ننگ آدم ، ننگ دیں ، ننگ وطن ، قرار دیکر ان کی روحوں کو ایک قدر ناپاک ثابت کیا ہے کہ انہیں دوزخ بھی قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ اقبا ل نے انہیں ایک قلزم خونیں میں مبتلائے عذاب دکھایا ہے۔ کیونکہ اقبال کے نزدیک وطن سے غداری ایک ایسا خوفناک جرم ہے جسے کسی حالت میں بھی معاف نہیں کیا جا سکتا۔ وطنیت کے سیاسی تصور کی مخالفت اقبال نے مارچ 1938ءمیں ایک مضمون لکھا جس میں وطنیت کے مسئلہ پر تفصیل کے ساتھ بحث کی تھی۔ اور بتایا تھا کہ وہ کس قسم کی وطنیت کے مخالف ہیں اس مضمون میں وطنیت کے سیاسی تصور سے بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں، ” میں نظریہ وطنیت کی تردید اس زمانہ سے کر رہا ہوں جبکہ دنیائے اسلام اور ہندوستان میں اس نظریہ کا کچھ ایسا چرچا بھی نہ تھا مجھ کو یورپین مصنفوں کی تحریروں سے ابتداءہی سے یہ بات اچھی طرح معلوم ہوگئی تھی کہ یورپ کی دلی اغراض اس امر کی متقاضی ہیں کہ اسلام کی وحدت دینی کو پارہ پارہ کرنے کے لئے اس سے بہتر کوئی حربہ نہیں کہ اسلامی ممالک میں نیرنگی نظریہ وطنیت کی اشاعت کی جائے۔ چنانچہ ان لوگوں کی یہ تدبیر جنگ عظیم میں کامیاب ہوگئی۔ آگے چل کر وہ لکھتے ہیں، ” اگر بعض علما ءمسلمان اس فریب میں مبتلا ہیں کہ ”دین “ اور ”وطن“ بحیثیت ایک سےاسی تصور کے یکجا رہ سکتے ہیں تو میں مسلمانوں کو ہر وقت انتباہ کرتا ہوں کہ اس راہ سے آخری مرحلہ اول تو لادینی ہوگی اور اگر لادینی نہیں تو اسلام کو محض ایک اخلاقی نظریہ سمجھ کر اس کے اجتماعی نظام سے لاپرواہی۔“ ان اقتباسات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اقبال وطنیت کے مغربی سےاسی تصور کے مخالف ہیں اور یہ مخالفت اس وجہ سے ہے کہ نظریہ براہ راست اسلامی عقائد و تصورات سے متصادم ہوتا ہے۔ وطن کا بت انسانی فکریت اور بت پرستی کی ایسی خوگر رہی ہے کہ جب ایک بت ٹوٹ جاتا ہے تو دوسرا نیا بت تراش لیتی ہے۔ نت نئے بت تراشنے کا سلسلہ قدیم زمانہ کی طرح آج بھی جاری ہے۔ ان بتوں کی شکلیں تھوڑی بہت بدل گئی ہوں تو بد ل گئی ہوں ، ورنہ ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ آج انسانی گروہوں نے وطنیت کا نیا بت تراشا ہے۔ جس کے آگے وہ سر بسجود ہیں ۔ اس بت پر بلا تکلف و تامل انسانیت کو بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ چنانچہ اقبال کا دعویٰ ہے کہ جس طرح دوسرے بت توڑے گئے ضرور ہے کہ اس ب کو بھی توڑا جا ئے تاکہ انسانیت کی گلو خلاصی ہو۔ فکر انسان بت پرستی ، بت گریہر زماں در جستجو پیکری باز طرح آزری انداخت استتازہ تر بیروزگاری ساخت است اقبال وطن کے اس طرح بت بنا کر پوجنے کے سخت خلاف ہیں اور اسے اسلام کی عالمگیر روح کے منافی خیال کرتے ہیں اسی لئے وہ اسے نئے بت کو توڑنا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں چنانچہ ”بانگ درا“ کی ایک نظم ”وطنیت ‘ ‘ جس کا ذیلی عنوان ہے ”وطن بحیثیت ایک سیاسی تصور کے“ ہے انہوں نے بڑی خوبصورتی سے اپنے اس خیال کا اظہار کیا ہے۔ ان تازہ خدائوں میں بڑا سب سے وطن ہےجو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کاکفن ہے یہ بت کہ تراشیدہ تہذیب نوی ہےغارت گر کاشانہ دین نبوی ہے بازو تر اتوحید کی قوت سے قوی ہےاسلام ترا دیس ہے تو مصطفوی ہے خالی ہے صداقت سے سےاست تو اسی سےکمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسی سے اقوام میں مخلوقِ خدا بٹتی ہے اس سےقومیت اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے وطنیت اور ملوکیت کا رشتہ اقبال کا خیال ہے کہ جدید دور میں سامراجی ملوکیت وطنیت کے سیاسی تصور کا ہی کرشمہ ہے۔ اس لئے وہ اس تصور کے اس پہلو کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ، اس سلسلہ میں ڈاکٹر یوسف حسین اپنی کتاب”روح اقبال “ میں لکھتے ہیں، ”اقبال ملوکیت یا امپیریلزم کو جارحانہ وطنیت ہی کا ایک شاخسانہ تصور کرتا ہے۔ اور اس کو اسلام کی اخلاقی تعلےم کی رد خیال کرتاہے۔ قومیت کے علمبرداروں کا نظریہ ” میرا وطن غلط ہو تو بھی صحیح ہے“ہے ۔ یہ جھوٹی عصبیت حق و باطل میں تمیز نہیں ہونے دیتی ۔ جب آدمی سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے کے قابل نہیں رہتا تو وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ اور اپنے عمل کو حق بجانب ٹھہر ا سکتا ہے۔ مجموعی جائزہ مندرجہ بالا بحث سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اقبال اپنے وطن کی محبت میں کسی بھی شخص سے پیچھے نہیں ہیں ، اور یہ محبت تمام عمر ان کے لئے متاع عزیز رہی ہے۔ مگر وہ اس وطنیت سے بیزار ہیں جو ایک مستقل نظریہ حیات ہے۔ اور جس کی تبلیغ سب سے پہلے مغربی دنیا میں مخصوص اغراض و مقاصد کے تحت ایک منظم شکل میں ہوئی۔ یہ وطنیت عالمگیر اسلامی اخوت کے راستہ کا پتھر بنتی ہے۔ انسان اور انسان کے درمیان دیوار حائل کرتی ہے۔ اقبال نے اس مغربی تصور کے بجائے اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہونے پر زور دیا ہے۔ کیونکہ ان کے خیال میں رنگ و نسل وغیر ہ کے امتیازات اور قوم و وطن کے تعصبات کو اگر کوئی نظام ختم کر نے میں کامیاب ہوا ہے تو وہ اسلام ہے۔ اور اسی لئے انہوں نے ترانہ ہندی کے بعد ” ملی ترانہ “ لکھا۔ شکوہ یہ وہ شہر آفاق نظم ہے جو اپریل 1911ءکے جلسہ انجمن حمایت اسلام میں پڑھی گئی۔ لندن سے واپسی پر اقبال نے ریواز ہوسٹل کے صحن میں یہ نظم پڑھی ۔ اقبال نے یہ نظم خلاف معمول تحت اللفظ میں پڑھی۔ مگر انداز بڑا دلا ویز تھا ۔ اس نظم کی جو کاپی اقبال اپنے قلم سے لکھ کر لائے تھے اس کے لئے متعدد اصحاب نے مختلف رقوم پیش کیں اور نواب ذوالفقار علی خان نے ایک سوروپے کی پیشکش کی اور رقم ادا کرکے اصل انجمنِ پنجاب کو دے دی۔ ”شکوہ“ اقبال کے دل کی آواز ہے اس کا موثر ہونا یقینی تھا۔ اس سے اہل دل مسلمان تڑپ اُٹھے اور انہوں نے سوچنا شروع کیا کہ مسلمانوں کے حوصلہ شکن زوال کے اسباب کیا ہیں۔ آخر اللہ کے وہ بندے جن کی ضرب شمشیر اور نعرہ تکبیر سے بڑے بڑے قہار و جبار سلاطین کے دل لرز جاتے تھے کیوں اس ذلت و رسوائی کا شکار ہوئے؟ ۔ یہ نظم دراصل مسلمانوں کے بے عملی ، مذہب سے غفلت اور بیزاری پر طنز ہے۔ بانگ درا میں شامل کرتے وقت اقبال نے اس میں کئی مقامات پر تبدیلی کی۔ جبکہ بانگ درا میں اشاعت سے پہلے نظم مختلف رسالوں مثلاً مخزن، تمدن اور ادیب میں شائع ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ کئی زبانوں میں اس کے تراجم بھی ہو چکے ہیں۔
+ نوشته شده توسط khial hussain در Sat 17 Sep 2011 و ساعت 7:44 AM |

فکری جائزہ

جرات آموز میری تاب ِ سخن ہے مجھ کو
شــکوہ اللہ سے خـاکم بدہن ہے مــجھ کو

اے خــدا شــکوہ اربابِ وفا بھی ســن لے
خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے

اس نظم کا نام ”شکوہ“ اس لئے رکھا گیا ہے کہ موضوع کے اعتبار سے شکوہ بارگاہ الہٰی میں علامہ اقبال یا دور حاضر کے مسلمانوں کی ایک فریاد ہے۔ علامہ اقبال کہتے ہیں کہ ہم تیرے نام لیوا ہونے کے باوجود دنیا میں ذلیل و خوار ہیں ۔ حالانکہ ہم تیرے رسول کے نام لیو ا ہیں اور اس پر طرہ یہ ہے کہ تیرے انعامات اور نوازشات کے مستحق غیر مسلم ہیں ۔ گویا علامہ اقبال نے شکوہ میں عام مسلمانوں کے لاشعوری احساسات کی ترجمانی کی ہے۔ بقول سلیم احمد ،

” ایک طرف ان کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ خدا اور اس کے محبوب کی سب سے چہیتی امت ہیں اور اس لئے خدا کی ساری نعمتوں کے سزاوار اور دوسری طرف یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ان کا مکمل زوال ہو چکا ہے عقیدے اور حقیقت کے اس ٹکرائو سے مسلمانوں کا وہ مخصوص المیہ پیدا ہوتا ہے جو ”شکوہ “ کا موضوع ہے۔“

علامہ اقبال کےاپنے الفاظ میں

” وہی بات جو لوگوں کے دلوں میں تھی ظاہر کر دی گئی“

سلسلہ فکر و خیال کی ترتیب کے مطابق نظم کو ہم مندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں،

اظہار شکوہ کی توجیہ

یہ حصہ نہایت مختصر اور صرف دو بندوں پر مشتمل ہے۔ یہ دو بند جن میں شکوہ کرنے کی وجہ بیان کی گئی ہے۔ اور یہ مسلمانوں کی موجودہ بدحالی اور پستی پر اقبال کے ردعمل کا اظہار ہے۔ اقبال کے خیال میں مسلمان اب زوال و انحطاط کی اس منزل کو پہنچ چکے ہیں کہ جہاںپر خاموش رہنا نہ صرف اپنی ذات بلکہ ملت اسلامیہ کے اجتماعی مفاد سے بھی غداری کے مترادف ہے۔ اس موقع پر قصہ درد سنانا اگرچہ خلاف ادب ہے اور نالہ و فریاد کا یہ انداز گستاخانہ ہے مگر ہم ایسا کہنے پر مجبور ہیں ۔ اقبال کہتے ہیں کہ ای خدائے بزرگ و برتر ” اربابِ وفا“ کا شکوہ بھی سن لے ۔کسی لمبے چوڑے پس منظر یا غیر ضروری طویل تمہید کے بغیر اللہ تعالی سے ہم کلام ہونا اسلامی تصورات کے عین مطابق ہے۔ اسلام کو تمام مذاہب کے مقابلے میں یہ انفرادیت حاصل ہے کہ اس میں بندہ خداسے بلا واسطہ ہم کلام ہو سکتا ہے۔ جبکہ دوسرے مذاہب میں میں ایسا نہیں۔ ان کے انداز تخاطب میں شوخی اور بے ادبی نہ تھی ہاں ایک طرح کی بے تکلفی ضرور تھی جو بعض لوگوں کو کھٹکتی ہے۔

لیکن اقبال نے دانستہ طور پر یہ طرز تخاطب اختیار کیا تھا۔ دراصل اقبال ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پڑھنے والوں کو اس طرز تخاطب سے آشنا کرنا چاہتا ہے۔ گویا شکوہ کے اندازِ کلام کے لئے پڑھنے والوں کو مصنوعی طور پر تیار کر رہا ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ اقبال نے شکوہ کے پہلے دو بندوں ہی میں بات یا موضوع سخن کو اس منزل تک پہنچا دیا ہے کہ بعد کی شکوہ سرائی اور گلہ مندی بالکل موزوں اور مناسب معلوم ہوتی ہے۔

امت مسلمہ کا کارنامہ

شکوے کا دوسرا حصہ گیارہ بندوں پر مشتمل ہے۔ تیسرے بند سے نظم کے اصل موضوع پر اظہار خیال کا آغاز ہوتا ہے۔ اس حصے کا آغاز اس مصرعے سے ہوتا ہے۔ ” تھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات کریم

13ویں بند تک علامہ اقبال نے امت مسلمہ کے عظیم کارناموں کا تذکرہ کیا ہے۔ دنیا میں مسلمانوں کی حیثیت اور اہمیت کو اجاگر کر دیاہے۔ سب سے پہلے دنیا کی حالت اور تاریخ کا منظر پیش کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یوں تو خدا کی ذات ازل سے اپنی سچائیوں سمیت موجود تھی۔ اور بڑی بڑی قومیں مثلاً سلجوق، تورانی، ساسانی ، یونانی ، یہودی ، نصرانی آباد تھیں لیکن توحید کا وہ تصور جو تمام اقوام کے لئے نیا تھا اور جو اسلامی تعلیمات کا سرچشمہ تھا اس کی اشاعت و تبلیغ کے سلسلے میں جو کام امت مسلمہ نے کر کے دکھایا ہے وہ کام کسی سے بھی ممکن نہ تھا۔ یہاں اقبال مسلمان قوم کا ترجمان بن کر دعوی کرتا ہے کہ مسلمانوں نے بیمار اور جاہل امتوں اور مریض قوموں کے سامنے وہ علاج پیش کیا جو نکتہ توحید میں مضمر ہے۔

بس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تـورانی بھی
اہل چیں چین میں ، ایران میں ساسانی بھی
اس معمـورے مــیں آبــاد تھے یــونـانـی بھی
اسی دنیا میں یہودی بھی تھے ، نصرانی بھی
پـر تــرے نــام پہ تلــوار اٹھــائی کــس نے؟
بات جوبگڑی ہوئی تھی، وہ بنائی کس نے؟

اقبال بتاتے ہیں کہ ساری دنیا میں مسلمانو ں کوہی صرف یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے خدا کے پیغام کو دنیا کے دور دراز علاقوں یا کونوں تک پہنچا یا۔ روم اور ایران جیسے ملکوں کو فتح کرنا کسی حیرت انگیز کارنامے سے کم نہیں ہے۔ اُنہی کی بدولت دنیا میں حق حق کی صدا گونجی نظم کی اس حصے میں علامہ اقبال نے تاریخ اسلام کے جن ادوار اور واقعات کو مثال بنایا ہے اس کی مختصر اً وضاحت یوں ہے۔ ”دی اذانیں کبھی یورپ کے کلیسائوں میں “ کا اشارہ سلطنت عثمانیہ کی اس دور کی طرف ہے جب مسلمانوں کی سلطنت یونان ، بلغاریہ، البانیہ ، ہنگری اور آسٹریا تک پھیلی ہوئی تھی۔ سپین پر بھی مسلمانوں کی حکومت تھی۔ یورپ کے ان علاقوں میں جہاں آ ج کلیسائوں میں ناقوس بجتے ہیں کبھی مسلمانوں کی وہاں پر اذانیں گونجتی تھیں۔اس طرح افریقہ کے تپتے ہوئے صحرائوں کا علاقہ مصر، لیبیا ، تیونس ، مراکش اور الجزائر وغیرہ بھی مسلم سلطنت میں شامل تھے۔

”شان آنکھوں میں نہ ججتی تھی جہانداروں کی“ کی عملی تفسیر اس واقعے سے ملتی ہے جب حضرت عمر فاروق کے دور میں مسلم وفد کے قائد ربعی ایرانی سپہ سالار رستم سے گفت و شنید کے لئے اس کے دربار میں گئے تو اپنے نیزے سے قیمتی قالین کو چھیدتے ہوئے بے پروائی سے تخت کے قریب پہنچے ۔

تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آرائوں میں !
خشکیوں میں کبھی لڑتے ، کبھی دریائوں میں
دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیسائوں میں
کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحرائو ں میں
شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کی
کلمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی

ساتویں بند میں بت فروشی اور بت شکنی کی تلمیح اس حوالے سے ہے جب محمود غزنوی نے ہندو پجاریوں کی رشوت کو ٹھکراتے ہوئے سومنات کے بتوں کو پاش پاش کردیا تھا۔ بحر ظلمات سے مراد بحر اوقیانوس ہے۔ ”بحر ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے“ میں اشارہ ہے اس واقعے کی طرف جب ایک مسلمان مجاہد عقبہ بن نافع نے افریقہ کے آخری سرے تک پہنچ کر گھوڑا بحر اوقیانوس میں ڈال دیاتھا۔

دشت تو دشت رہے دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے!
بحــر ظلمــات مــیں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے!

مسلمانوں کی حالتِ زبوں

نظم کے اس حصے میں اقبال نے امت مسلمہ کے درخشاں ماضی کی جھلکیاں دکھاتے ہوئے نظم کا رخ مسلمانوں کی موجودہ حالت کی طرف موڑ دیا ہے۔ اقبال نے دوسری اقوام سے مسلمانوں کا موازنہ کرکے ان کی موجودہ زبوں حالی کو نمایاں کر دیا ہے۔ اقبال شکوہ کرتے ہیں کہ دنیا میں مسلمانوں جگہ جگہ غیر مسلموں کے مقابلے میں حقیر، ذلیل اور رسوا ہیں۔ جس کی وجہ سے دنیا کی دوسری اقوام ان پر خندہ زن ہیں۔ نظم کے اس حصے میں صحیح معنوں میں گلے شکوے کا رنگ پایا جاتا ہے اقبال نے مسلمانوں کی بے بسی و بے چارگی کا واسطہ دے کر خدا سے پوچھا ہے کہ توحید کے نام لیوائوں سے پہلے جیسا لطف و کرم کیوں نہیں ؟ اس کے ساتھ ہی شاعر نے ایک طرح کی تنبیہ بھی کی ہے کہ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو دنیا تو حید کے نام لیوائوں سے خالی ہو جائے گی۔ اور ڈھونڈنے سے بھی ایسے عُشاقانِ توحید کا سراغ نہیں ملے گا۔

امتیں اور بھی ہیں ، اُن میں گنہگار بھی ہیں
عجز والے بھی ہیں ، مستِ مۓ پندار بھی ہیں
ان میں کاہل بھی ہیں، غافل بھی ہشیار بھی ہیں
سینکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بیزار بھی ہیں
رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر
برق گرتی ہے تو بےچارے مسلمانوں پر

حالت زبوں کی وجہ کیاہے؟

بند20 آغاز میں اقبال اس حالت زبوں کا سبب دریافت کرتے ہیں ۔ مسلمان آج بھی خدا کے نام لیو ا ہیں اور اُس کے رسول کے پیروکار ہیں ۔ آج بھی اُن کے دلوں میں اسلام کے بارے میں ایک زبردست جوش و جذبہ اور کیفیت عشق موجود ہے۔ اقبال متاسف ہیں کہ اس کے باوجود عنایاتِ خدواندی سے محروم ہیں۔

آگے چل کر اقبال کا لہجہ ذرا تلخ ہو جاتا ہے اور محبوب حقیقی کے سامنے فریاد کی زبان کھولی ہے کیونکہ اس نے اپنے سچے عاشقوں کو فراموش کر دیا ہے اور غیروں سے راہ رسم آشنائی پیدا کر لی ہے۔

کبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہے
بات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہر جائی ہے

نظم کے اس حصے میں اقبال نے بہت سی تلمیحات استعمال کی ہیں ۔ لیلیٰ ، قیس ، دشت وجبل، شور سلاسل اور دیوانہ نظار ہ محمل کی تراکیب و تلمیحات وغیرہ۔

وادی نجد میں وہ شور ِ سلاسل نہ رہا
قیس دیوانہ نظارہ محمل نہ رہا

” سرفاراں پر کیا دین کو کامل تو نے“ سے مراد یہ ہے ای خدا تو نے دین اسلام کو فاران کی چوٹی پر مکمل کر دیا ۔ جو قرآنی آیت کی طرف ایک اشارہ ہے۔

سر فاراں پر کیا دین کو کامل کیا تو نے
اک اشارے میں ہزاروں کے لئے دل تو نے

کیفیت یا س و بیم

اس حصے میں اقبال کا روئے سخن خاص طور پر ہندی مسلمانوں کی طرف ہے اور یہی بات اِسے دوسرے حصوں سے ممتاز کرتی ہے۔ یوں تو مسلمان دنیا کے ہرگوشے میں بدحالی مایوسی اور بے چارگی کا شکار ہیں مگر برصغیر پاک و ہند میں تو اس کا انتشار گویا نقطہ عروج کو پہنچ گیا ہے چونکہ اقبال ہندوستان میں رہتے ہیں اس لئے یہیں کے مسائل سے انہیں پہلے واسطہ پڑتا ہے۔

جنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دے
ہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کردے

یہ بہت بلیغ شعر ہے کہ ہندوستان میں ہزاروں سال رہنے کے بعد ہند کے مسلمان بھی اسی طرح ہندی ثقافت اور فلسفے میں رنگے گئے ہیں۔ ان میں بت پرستوں ( ہندوئوں) کے ساتھ میل ملاپ کی وجہ سے ان ہی کی سی خصلتیں پیدا ہو گئی ہیں ۔ اس لئے ان کو ”دیر نشین “ کہنا کوئی غلط بات نہیں۔ علامہ اقبال نے ہمیشہ اپنی گفتگو میں یہی خیال ظاہر کیا ہے کہ اگر ہندوستان کے سارے مسلمان حقیقی معنوں میں مسلمان بن جائیں تو وہ ساری دنیا کو فتح کرسکتے ہیں۔

نغمے بےتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لئے
طور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لئے

دعائیہ اختتام

علامہ اقبال کی خواہش تھی کہ ہندوستان کے سارے مسلمان حقیقی معنوں میں مسلمان ہو جائیں تووہ ساری دنیا کو فتح کر سکتے ہیں۔۔ نظم کے آخری حصے میں شاعر کی یہ آرزو ایک دعا کی شکل میں ڈھل جاتی ہے۔ اور دعا کے یہ سلسلہ نظم کے آخری شعر تک چلتا ہے۔ اُمت مسلمہ کو درپیش مسائل و مشکلات کے حل کے لئے اقبا ل دعا گو ہیں ”امت مرحوم“ کی ترکیب بہت معنی خیز ہے۔ مراد یہ ہے کہ مسلمان بحیثیت ایک زندہ قوم کے ختم ہو کر مرد ہ ہو چکے ہیں اب ان کی حیثیت سلیمان کے مقابلے میں ”مور بے مایہ“ کی سی ہے۔ لیکن اقبال کی خواہش ہے کہ دور حاضر کے مسلمان پھر سے جو ش و جذبہ سے لبریز ہو جائیں اور کوہ طور پر پہلے کی طرح تجلیات نازل ہوں

مشکلیں امت ِمرحوم کی آساں کر دے
مورِ بے مایہ کو ھمدوش ِ سلیماں کردے

اقبال نے نظم کے آخری حصے میں یہ دعا ضرور کی ہے کہ مسلمانوں کا مستقبل روشن اور خوش آئند ہو اور ہو نا چاہیے مگر یہ نہیں کہا کہ ”ہوگا“ ۔کیونکہ وہ ایک ایسا پر آشوب دور تھا کہ مستقبل کے بارے میں حتمی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا تھا۔ ایک طرف تقسیم بنگال اور پھر اٹلی کا طرابلس پر حملہ جس نے اقبال پر بڑا اثر کیا اور اسی مایوسی کے پیش نظر اقبال کو خدا سے شکوہ کرنا پڑا۔ شکوہ دراصل اسے حصے میں ختم ہو جاتا ہے۔ اور باقی تین بند قوم کی پستی پر شاعر کی اپنی طبیعت کا الجھائو، جذبات ، قوم کی ناراضگی ، نفرت اور بے اعتنائی کا آئینہ ہے۔ شاعر مایوس ہے اور مضطرب ہو کر پکار اُٹھا۔ لطف مرنے میں ہے باقی نہ مزاجینے میں
کچھ مزا ہے تو یہی خون جگر پینے میں

مایوسی کا ایک اور انداز کچھ یوں ہے کہ،

اس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیں
داغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیں

آگے چل کر اقبال مایوسی کے عالم میں کہتے ہیں کہ مجھ سے دین کی جو خدمت ہو سکتی ہے اس کے بجالانے کے لئے کوشاں ہوں اگرچہ میں تنہا ہوں اور کوئی شخص میری آواز پر کان نہیں دھرتا۔

کاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کی

اس حصے میں اقبال نے صراحت سے یہ بات بیان کر دی ہے کہ میں اگرچہ عجمی طریقے پر شعر کہتا ہوں ایرانی شاعری کی روایات کا پابند ہوں ہندی الاصل ہوں لیکن ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات کی روح سے واقف ہوں اور اگر مسلمان مرے کلام کابغور مطالعہ کریں تو انہیں عجمی روایات کے پردے سے اسلام کے مطالب دقیق جھانکتے ہوئے نظر آئیں گے۔ یہ حصہ اور ”شکوہ “ اس بلیغ اور معنی افروز شعر پر ختم ہو جاتا ہے۔

عجمی خم ہے تو کیا، مے ہے حجازی ہے مری
نغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری



(تدوین— شاہد محمود عطاش)

شکوہ

کیوں زیاں کار بنوں،سُود فراموش رہوں
فکرِ فردا نہ کروں،محوِ غمِ دوش رہوں
نالے بُلبُل کے سُنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہم نوا میں بھی کوئی گُل ہوں کہ خاموش رہوں

جُرأت آموز میری تابِ سخن ہے مجھ کو
شکوہ اللہ سے،حاکمِ بدہن ہے مجھ کو

ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہم
قصّۂ درد سُناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم
ساز خاموش ہیں ،فریاد سے معمور ہیں ہم
نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم

اے خدا! شکوۂ اربابِ وفا بھی سُن لے
خوگرِ حمد سے تھوڑا سا گِلا بھی سُن لے

تھی تو ازل سے ہی تری ذاتِ قدیم
پُھول تھا زیب چمن پر نہ پریشان تھی شمیم
شرطِ اِنصاف ہے اَے صاحبِ الطافِ عمیم
بوئے گُل پھیلتی کِس طرح جو ہوتی نہ نسیم

ہم کو جمعیّتِ خاطر یہ پریشانی تھی
ورنہ اُمّت تیرے محبوبؐ کی دیوانی تھی؟

ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہان کا منظر
کہیں مسجود تھے پتّھر،کہیں معبود شجر
خُوگرِ پیکرِ محسوس تھی اِنساں کی نظر
مانتا پھر کوئی اَن دیکھے خدا کو کیونکر

تجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام ترا؟
قوّتِ بازوئے مسلم نے کیا کام ترا

بس رہے تھے یہیں سلجوق بھی ،تُورانی بھی
اہلِ چیں چین میں،ایران میں ساسانی بھی
اِس معمورے میں آباد تھے یونانی بھی
اِسی دُنیا میں یہودی بھی تھے،نصرانی بھی

پر ترے نام پہ تلوار اُٹھائی کس نے
بات جو بگڑی ہوئی تھی،وہ بنائی کس نے

تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں
خشکیوں میں کبھی لڑتے ،کبھی دریاؤں میں
دِیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں
کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں

شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہاں داروں کی
کلمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی

ہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی میصبت کے لئے
اور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لئے
تھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لئے
سر بکف پھرتے تھے کیا،کیا دہر میں دولت کے لئے؟

قوم اپنی جو زرومالِ جہاں پہ مرتی
بُت فروشی کے عِوض بُت شکنی کیوں کرتی؟

ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھے
پاؤں شیر کے بھی میداں سے اُکھڑ جاتے تھے
تجھ سے سر کش جو ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے
تیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے بھی لڑ جاتے تھے

نقش توحید کاہر دِل پہ بٹھایا ہم نے
زیرِ حنجر بھی یہ پیغام سُنایا ہم نے

تُو ہی کہہ دے کہ اُکھاڑا درِ خیبر کس نے
شہر قیصر کا جوتھا،اُسکو کیا سَر کس نے
توڑے مخلوق خداوندوں کے پیکر کس نے
کاٹ کے رکھ دیے کفّار کے لشکر کس نے

کس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کو؟
کس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کو؟

کون سی قوم فقط تیری طلبگار ہوئی
اور تیرے لئے زحمت کشِ پیکار ہوئی
کِس کی شمشیر جہاں گیر،جہاں دار ہوئی
کس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئی

کس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھے
مُنہ کے بَل گر کے "ھُوَ اللہُ اَحَد"کہتے تھے

آگیا عین لڑائی میں اگر وقتِ نماز
قبلہ رُو ہو کے زمیں بوس ہوئی قومِ حجاز
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

محفلِ کون و مکاں میں سحر و شام پھرے
مئے توحید کو لے کر صفتِ جام پھرے
کوہ میں، دشت میں لے کر ترا پیغام پھرے
اور معلوم ہے تجھ کو،کبھی ناکام پھرے

دشت تو دشت ہیں ،دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحرِ ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے

صفحۂ دۃر سے باطل سے مٹایا ہم نے
نوعِ انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نے
تیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نے
تیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نے

پھر بھی ہم سے یہ گِلا ہے کہ وفادار نہیں
ہم وفادار نہیں،تُو بھی تو دِلدار نہیں!

اُمتیں اور بھی ہیں ، اُن میں گناہگار بھی ہیں
عجز والے بھی ہیں، مست مئے پندار بھی ہیں
ان میں کاہل بھی ہیں،غافل بھی ہیں،ہشیار بھی ہیں
سینکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بیزار بھی ہیں

رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشنوں پر
برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر

بُت صنم خانوں مین کہتےہیں مسلماں گئے
ہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئے
منزلِ دہر سے اونٹوں کے حدی خواں گئ
اپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئے

خندہ زن ہے کُفر،احساس تجھے ہے کے نہیں
اپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیں

یہ شکایت نہیں، ہیں اُنکے خزانے معمور
نہیں محفل میں جنھیں بات بھی کرنے کا شعور
قہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حُور و قصور
اور بیچارے مسلماں کو فقط وعدۂ حور

اب وہ الطاف نہیں، ہم پہ عنایات نہیں
بات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیں

کیوں مسلماں میں ہے دولتِ دنیا نایاب
تیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حساب
تُو جو چاہے تو اُٹھے سینۂ صحرا سے حباب
رہروِ دشت ہو سیلی زدۂ موجِ سراب

طعنِ اغیار ہے، رسوائی ہے،ناداری ہے
کیا تیرے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہے؟


بنی اغیار کی چاہنے والی دنیا
رہ گئی اپنے لئے ایک خیالی دنیا
ہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیا
پھر نہ کہنا ہوئی توحید سے حالی دنیا

ہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں تیرا نام رہے
کہیں ممکن ہےکہ ساقی نہ رہے، جام رہے؟

تیری محفل بھی گئی، چاہنے والے بھی گئے
شب کی آہیں بھی گئیں، صبح کے نالے بھی گئے
دل تجھے دے بھی گئے، اپنی صِلا لے بھی گئے
آ کے بیٹھے بھی نہ تھے کہ نکالے بھی گئے

آئے عشّاق، گئے وعدۂ فردا لے کر
اب اُنھیں ڈھونڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر

دردِ لیلیٰ بھی وہی،قیس کا پہلو بھی وہی
نجد کے دشت و جبل میں رَمِ آہو بھہ وہی
عشق کا دل بھی وہی،خسن کا جادو بھی وہی
اُمّتِ احمدِ مرسل بھی وہی، تُو بھی وہی

پھر یہ آزردگیِ غیر سبب کا معنی
اپنے شیداؤں یہ چشمِ غضب کیا معنی

تجھ کو چھوڑا کہ رسولِ عربی کو چھوڑا؟
بُت گری پیشہ کیا، بت شکنی کو چھوڑا؟
عشق کو، عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑا؟
رسمِ سلمانؓو اویس قرنیؓ کو چھوڑا؟

آگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیں
زندگی مثلِ بلال حبشی رکھتے ہیں

عشق کی خیر وہ پہلے سی ادا بھی نہ سہی
جادہ پیمائیِ تسلیم و رضا بھی نہ سہی
مُضطِرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہی
اور پابندیِ آئینِ وفا بھی نہ سہی

کبھی ہم سے، کبھی غیروں سے شناسائی ہے
بات کہنے کی نہیں،تُو بھی تو ہرجائی ہے!

سرِ فاران کیا دین کو کامل تُو نے
اِک اشارے میں پزروں کے لئے دل تُو نے
آتش اندوز کیا عشق کا حاصل تُو نے
پُھونک دی گرمیِ رُخسار سے محفل تُو نے

آج کیوں سینے ہمارے شرر بار نہیں
ہم وہی سوختہ ساماں ہیں، تجھے یاد نہیں؟

وادی نجد میں وہ شورِ سلاسل نہ رہا
قیس دیوانۂ نظّارۂ محمل نہ رہا
حوصلے وہ نہ رہے،ہم نہ رہے، دل نہ رہا
گھر یہ اُجڑا ہے کہ تُو رونقِ محفل نہ رہا

اے خوش آں روز کہ آئی و بصد ناز آئی
بے حجابانہ سُوئے محفلِ ما باز آئی

بادہ کش غیر ہیں گلشن میں لبِ جُو بیٹھے
سُنتے ہیں جام بکف نغمۂ کُو کُو بیٹے
سور ہنگامۂ گُلزار سے یک سُو بیٹھے
تیرے دیوانے بھی ہیں مُنتظر "ھُو" بیٹھے

اپنے پروانوں کی پھر ذوقِ خُود افروزی دے
برقِ دیرینہ کو فرمانِ جگر سوزی دے

قوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سُوئے حجاز
لے اُرا بلبلِ بے پر کو مذاقِ پرواز
مضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے، بُوئے نیاز
تُو ذرا چھیڑ تو دے، تشنۂ مضراب ہے ساز

نغمے بیتاب ہیں تاروں سے نلکنے کے لئے
طُور مضطر ہے اُسی آگ میں جلنے کے لئے

مُشکلیں اُمّتِ مرحوم کی آساں کردے
مُورِ بے مایہ کو ہمدوشِ سلیماں کردے
جنس نایابِ محبّت کو پھر ارزاں کر دے
ہند کے دَیر نشینوں کو مسلماں کر دے

جُوئے خوں می چکدا از حسرتِ دیرینہ ما
می تپد نالۂ بہ نشتر کدۂ سینۂ ما

بُوئے گُل لے گئی بیرون چمن رازِ چمن
کیا قیامت ہے کہ خود کہ خود پُھول ہیں غمّازِ چمن!
عہدِ گُل ختم ہوا، ٹوٹ گیا سازِ چمن
اُڑ گئے دالیوں سے زمزمہ پرداز چمن

ایک بُلبل ہے کہ محو ترنّم ہے اب تک
اس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تک

قُمریاں شاخِ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیں
پتّیاں پُھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیں
وہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیں
ڈالیاں پیرہنِ برگ سے عُریاں بھی ہوئیں

قیدِ موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کی
کاش گُلشن سمجھتا کوئی فریاد اس کی!

لُطف مرنے میں ہے، نہ مزا جینے میں
کچھ مزا ہے تو یہی خونِ جگر پینے میں
کتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میں
کس قدر جلواے تڑپ رہے ہیں مرے سینے میں

اس گُلستان میں مگر دیکھنے والے ہی نہیں
داغ جو سینے میں رکھتا ہوں، وہ لالے ہی نہیں

چاک اس بُلبلِ تنہا کی نوا سے دل ہوں
جاگنے والے اسی بانگِ درا سے دل ہوں
یعنی پھر زندہ نئے عہدِ وفا سے دل ہوں
پھر اِسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوں

عجمی خُم ہے تو کیا،مے تو حجازی ہے مری
نغمہ ہندی ہے تو کیا،لَے تو حجازی ہے مری

(تدوین— شاہد محمود عطاش)

فنی جائزہ

شکوہ 31 بندوں پر مشتمل ہے یہ نظم مسدس کی ہیت میں لکھی گئی ہے۔ بحر کا نام ”بحر رمل مثمن مخبون مقطوع ‘ ‘ ہے۔ بحر کے ارکان یہ ہیں۔

فَاعِلَا تُن فَاعِلَا تُن فَاعِلَا تُن فِعلن

اقبال کی طویل نظم میں ”شکوہ “ فنی لحاظ سے ایک منفردمقام کی حامل ہے۔ یہی پہلی طویل نظم ہے جس میں اقبال نے اسلام کی زندہ اور فعالی قوتوں ، ماضی کے مسلمانوں کی عظمت اوج کے بعد ان کی موجودہ زبوں حالی کی داستان کو ایک ساتھ نہایت فنکارانہ انداز میں بیان کیا ہے ۔ اردو شاعری میں ایسا اندازِ بیاں کہیں نہیں ملتا۔

بقول ماہر القادری

اک نئی طر نئے باب کا آغاز کیا
شکوہ اللہ کا اللہ سے بصد ناز کیا

نظم کا آغاز بہت systimaticہے اصل موضوع پر آنے سے پہلے اقبال نے شکوہ کرنے کی توجیہ دو بندوں میں بیان کردی ہے تاکہ نیا اور اچھوتا موضوع اچانک سامنے آنے پر قار ی کو کوئی جھٹکا محسوس نہ ہو۔

 لہجے کا تنوع

کسی برگزیدہ اور برتر ہستی کے سامنے شکو ہ کرنے والا اپنی مفروضات پیش کرتے ہوئے حسب ِ ضرورت مختلف انداز اختیار کرتا ہے۔ چنانچہ اقبال کے شکو ے کا لہجہ بھی متنوع ہے اور اقبال کا شکوہ اللہ جیسی بڑی ہستی سے ہے جو تمام دنیا کا مالک ہے۔ اسی لئے اقبال کے لہجے میں کہیں عجز و نیاز مندی ہے کہیں غیرت و انا کا احساس ہے کہیں تندی و تلخی ہے اور جوش ہے کہیں تاسف و مایوسی کا لہجہ ہے اور کہیں گریہ و زاری و دعا کا انداز اختیار کیا ہے۔

  نفسیاتی حربے

اقبال کے فن کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے نظم مےں بعض مقامات پر نفسیاتی حربوں سے کام لیتے ہوئے ایک ہی بیان سے دہرا کام لیا ہے۔ 10ویں بند کے آخری شعر سے نظم کا وہ حصہ شروع ہوتا ہے۔ جہاں پر شاعر خدا سے بے اعتنائی اور بے نیازی کا گلہ شکوہ کر رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں،

خندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیں
اپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیں
پھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیا
ہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہے


اس طعن آمیز انداز سے مخاطب کی انا اور غیرت کو جھنجوڑ کر یہ احساس دلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ کہ یہ میرا مسئلہ نہیں تمہارا مسئلہ ہے۔ ایک اور جگہ نفسیاتی حربے کو استعما ل کرتے ہوئے اپنی کوتاہیوں اور اسلام سے روگردانی کا اعتراف کیا ہے ۔ مگر وہ اعتراف کا اعلانیہ اظہار نہیں کرتے۔ کیونکہ علانیہ اعتراف کرنے سے ان کا اپنا موقف کمزور ہوگا۔ لہٰذا وہ اپنی کمزوری سے توجہ دوسری طرف لی جانے کے لئے فوراً نفسیاتی حربے سے کام لیتا ہے۔ اور طعنہ دیتا ہے کہ تم غیروں سے شناسائی رکھنے والے ہرجائی ہو۔

تغزل

یوں تو اقبال کی پوری شاعری میں رنگ تغزل چھایا ہوا نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکیمانہ نکتے بیان کرنے کے باوجود ان کی شاعری میں ساحری کا عنصر ملتا ہے۔ لیکن اس رنگ تغزل کا واضح استعمال سب سے پہلے اقبال نے ”شکوہ" میں کیاہے۔ اگرچہ اقبال ہمارے دور کے سب سے بڑے انقلاب پسند شاعر ہیں۔ لیکن انہوں نے اپنی بات کہنے کے لئے نہ صرف نئے پیمانے اور نئے سانچے استعما ل کئے بلکہ روایت کا پورا احترام ملحوظ رکھا ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ پرانے اسلوب اورپرانے سانچے فرسودہ نہیں ہو گئے ۔ بلکہ انہیں نئے رنگ اور آہنگ اور نئے مفاہیم کے ساتھ برتا جا سکتا ہے۔

تیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئے
شب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئے
دل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئے
آکے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئے
آئے عشاق گئے وعدہ فردا لے کر
اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر

 ایجاز و بلاغت

”شکوہ“ کے بعض حصے ، اشعار اور مصرعے ایجاز و بلاغت کے شہکار ہیں۔ تاریخ کے طویل ادوار ، اہم واقعات اور روایات اور مختلف کرداروں کی تفصیلی خصوصیات کو بڑے بلیغ انداز میں نہایت اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیسائوں میں
کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحرائوں میں

 

چند محسنات شعر

”شکوہ “ حسن زبان و بیاں کا شا ہکارہے۔ انتخاب الفاظ، صنعت گری ، بندش تراکیب ، حسن تشبیہ و استعارہ ، مناسب بحر ، موزوں قوافی، وسعت معانی اور زبان و بیان کی خوبیوں کے سبب نظم بہت ہی دلکش اور موثر ہے۔ اقبال نے نظم شکوہ میں صنعتوں کا استعمال بہت بہترین انداز میں کیا ہے۔

صنعت مراعاة النظیر:.

نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں

صنعت ترافق :.

نقش تو حید کا ہر دل میں بٹھایا ہم نے
زیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نے

صنعت تلمیح:۔

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و آیاز
نہ کوئی بندہ رہانہ کوئی بندہ نواز

صنعت طباق ایجابی:.

آئے عشاق گئے وعدہ فردا لے کر
اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر

 

 تصویر کاری ،تشبیہ ، استعارہ

”شکوہ “کی ایک اور بڑی فنی خوبی اس کی تصویر کاری ہے شاعر نے خوبصورت الفاظ کی مدد سے اس نظم کو بہت خوبصورت تصویریں عطا کیں ہیں۔

آگیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز
قبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی قوم حجاز

کلام اقبال کی سب سے نمایاں خوبی تشبیہ ہے۔ شکوہ میں علامہ اقبال نے کئی خوبصورت تشبیہات استعمال کی ہیں ان خوبصورت اور بلیغ تشبیہات نے اشعار کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دئیے ہیں۔ مثلاً اقبال نے ایک شعر میں امت مسلمہ کو ”مور بے مایہ“ سے تشبیہ دی ہے۔ جو بہت ہی بلیغ ہے۔

مشکلیں امت ِ مرحوم کی آساں کر دے مورِ بے مایہ کو ھمدوش سلیماں کر دے

اقبال کی شاعری میں استعاروں کی بھی کمی نہیں ہے۔ ”شکوہ“ کے یہ اشعار شعری اسلوب کا نادر نمونہ ہونے کے ساتھ استعاروں پر شاعر کی زبردست جمالیاتی گرفت کا بھی ثبوت ہے۔

مضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیاز
تو ذرا چھیڑ تو دے تشنہ مضراب ہے ساز

اقبال نے ”شکوہ “ میں تشبیہ اور استعاروں کے علاوہ علامتوں کا بھی بہت خوبصورتی سے استعمال کیا ہے۔ جو کہ اقبال کی گہری فلسفیانہ اور حکیمانہ فکر کی غماز ہیں،

اس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیں
داغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیں

جبکہ اقبال نے کلام میں استفہامیہ لہجے کوبھی اپنایا ہے۔ جس سے جوش میں اضافہ ہوا ہے۔

کس نے ٹھنڈا کےا آتش کدہ ایراں کو
کس نے پھر زندہ کیا تذکرہ یزداں کو

 

ترنم اور نغمہ

اقبال نے مشرق و مغرب کے خزانہ علمی سے فائدہ اٹھایا اور صنائع لفظی کی غایت سے غرض رکھی ہے۔ یعنی ترنم اور نغمہ کی تخلیق اس سلسلے میں اس نے مغرب کے انتقادی اصول کی زیادہ پیروی کی ہے۔ ترنم اور نغمہ پیدا کرنے کے لئے اقبال نے تجنیس، ترصیح وغیرہ کی بجائے حروف کی تکرار اور سلسلہ ہائے حروف کی تکرار سے بہت کام لیا ہے۔ شکوے کے پہلے بند میں ترنم بھی ہے اور نغمہ بھی اس میں مختلف حروف ِ علت کی تکرار اور ان کے تبادلے کو بڑا دخل حاصل ہے۔

کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوں ؟
فکر فردا نہ کروں محوِ غم دوش رہوں ؟

 

 مجموعی جائزہ

علامہ اقبال نے ”شکوہ میں ایسا انداز اختیار کیا ہے جس میں مسلمانوں کے عظیم الشان ، حوصلہ افزا اور زندہ جاوید کارنامے پیش کئے گئے۔ لہٰذا اس نظم کے پڑھنے سے حوصلہ بلند ہوتا ہے قوت عمل میں تازگی آتی ہے۔ جو ش و ہمت کو تقویت پہنچتی ہے۔ عظیم الشان کارنامے اس حسن ترتیب سے جمع کر دئیے گئے ہیں کہ موجودہ پست حالی کے بجائے صرف عظمت و برتری ہی سامنے رہتی ہے۔ گویا یہ شکوہ بھی ہے اور ساتھ ہی بہترین دعوت عمل بھی۔ اس لحاظ سے اردو زبان میں یہ اپنی نوعیت کی بالکل یگانہ نظم ہے۔بقول تاثیر”شکوہ لکھا گیا تو اس انداز پر سینکڑوں نظمیں لکھی گئیں ملائوں نے تکفیر کے فتوے لگائے اور شاعروں نے شکوہ کے جواب لکھے لیکن شکوہ کا درست جواب خود اقبال ہی نے دیا۔“

جواب شکوہ

شکوہ“ کے جواب میں نظمیں دیکھ کراقبال کو خود بھی دوسری نظم ”جواب شکوہ“ لکھنی پڑی جو1913کے ایک جلسہ عام میں پڑھ کر سنائی گئی۔ انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں ”شکوہ “ پڑھی گئی تو وسیع پیمانے پر اس کی اشاعت ہوئی یہ بہت مقبول ہوئی لیکن کچھ حضرات اقبال سے بدظن ہوگئے اور ان کے نظریے سے اختلاف کیا۔ ان کا خیال تھا کہ ”شکوہ“ کا انداز گستاخانہ ہے۔ اس کی تلافی کے لئے او ریوں بھی شکوہ ایک طرح کا سوال تھا جس کا جواب اقبال ہی کے ذمے تھا۔ چنانچہ ڈیڑ ھ دو سال کے عرصے کے بعد انہوں نے ”جواب شکوہ“ لکھی۔ یہ 1913ءکے جلسے میں پڑھی گئی۔ جو نماز مغرب کے بعد بیرونی موچی دروازہ میں منعقد ہواتھا۔ اقبال نے نظم اس طرح پڑھی کہ ہر طرف سے داد کی بوچھاڑ میں ایک ایک شعر نیلام کیا گیا اور اس سے گراں قدر رقم جمع کرکے بلقان فنڈ میں دی گئی۔ شکوہ کی طرح سے ”جواب شکوہ“ کے ترجمے بھی کئی زبانوں میں ملتے ہیں

 

شکوہ میں اقبال نے انسان کی زبانی بارگاہ ربانی میں زبان شکایت کھولنے کی جرات کی تھی یہ جرات عبارت تھی اس ناز سے جو امت محمدی کے افراد کے دل میں رسول پاک سے عقیدیت کی بناءپر پیدا ہوتی ہے ۔جواب شکوہ درحقیقت شکوہ کا جواب ہے۔ شکوہ میں مسلمانوں کی زبوں حالی بیاں کی گئی تھی اور اس کی وجہ پوچھی گئی تھی پھر وہاں مایوسی اور دل شکستگی کی ایک کیفیت تھی ۔”جواب شکوہ“ اس کیفیت کی توجیہ ہے اور شکوہ میں اٹھائے جانے والے سوالات کے جواب دیے گئے ہیں ۔ جواب شکوہ میں اسلامی تاریخ کے بعض واقعات اور جنگ بلقان کی طرف بھی اشارے ملتے ہیں۔ نظم کے موضوعات و مباحث کے مطالعہ سے ہم اسے ذیل کے عنوانات میں تقسیم کرتے ہیں۔

 

شکوہ کی اثر انگیزی

پہلے پانچ بندوں میں انسان نے اللہ تعالیٰ سے جو شکوہ کیا تھا اس کا ردعمل اور اثر انگیزی کو بیان کیا گیا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ میرا نالہ یا فریاد اس قدر بھرپور اور پرُ تاثیر ہے کہ آسمانوں پر بھی اس کی بازگشت سنی گئی۔ آسمانوں اور اس کے باسیوں میں میرے اس گستاخانہ شکوے سے کھلبلی مچ گئی اور یہی ان کا موضوع سخن ٹھہرا۔ اہل آسمان حیران تھے کہ یہ کون نادان ہے جو خدا سے شوخی کا مرتکب ہو رہا ہے پیر گردوں کچھ کہتا ہے سیارے کچھ اور چاند کچھ

چاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئی
کہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئی

جب فرشتوں کو معلوم ہو ا کہ یہ شکوہ کرنے والا انسان ہے تو فرشتوں کو اس بات کا افسوس تھا کہ پستی کا یہ مکین بات کرنے کا سلیقہ بھی نہیں جانتا ہے۔

ناز ہے طاقت گفتار پر انسانوں کو
بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو

جہاں تک شوخی و گستاخی کا تعلق ہے علامہ مرحوم سے پہلے ہی صوفیا اپنی شطحیات (صوفیوں کی لاف زنی) میں اس سے زیادہ گستاخانہ انداز ِ تخاطب اختیار کر چکے ہیں ۔ بہر حال انسان کے اس انداز ِ شکوہ کا اثر یہ ہوا کہ خود خدا نے شکوہ کے حسن اد ا کو سراہا اور پھر جواب مرحمت فرمایا۔

شکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تونے
ہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تونے

 جواب شکوہ کی تمہید

چھٹے بند میں خدا کی طرف سے ”شکوہ“ کا حوالہ دے کر جواب دیا گیا ہے۔ شکوہ میں شاعر نے مسلمانوں کی بدحالی اور بے چارگی کا سبب اللہ کو مسلمانوں پر عد م لطف و کرم کو قرار دیا تھا۔ جبکہ ”جواب شکوہ“ میں اللہ اس کا جواب دیتا ہے اور فرماتے ہیں کہ ہم تو عنایت و مدارات کرنے کے لئے تیار ہیں مگر کوئی سائل ہے اور نہ ہی امید وار لطف و کرم ،ہم تو انسان کی ہر خواہش پوری کرنے کے لئے تیار ہیں اور اگر مسلمان اپنی نیت میں اخلاص اور عمل میں گہرا پن لے آئے تو خاکستر سے بھی ایک نیا جہاں پیدا ہو سکتا ہے۔

ہم تومائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے؟ رہرو منزل ہی نہیں

”شان کئی “سے مراد کیانی خاندان کے بادشاہوں کی طرف ہے۔ کیونکہ اس خاندان کے نام سے پہلے ”کے“ کا لفظ آتا ہے۔ مثلاً کیقباد ، کے خسرو

کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

آخری مصرعے میں کولمبس کی طرف اشارہ ہے کولمبس نے محض اپنی مہم جوئی کی بدولت براعظم امریکہ دریافت کیا۔

  حالتِ زار کے حقیقی اسباب

آگے چل کر اس نظم میں مسلمانوں کی حالت زبوں کے حقیقی اسباب کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ اور اقبال کے نزدیک اس کا بنیادی سبب مذہب سے بے اعتنائی ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کی صفوں میں فکری اعتبا ر سے الحاد و کفر اور لادینیت کی تحریکیں پروان چڑھ رہی ہیں۔ اور اس لئے ان اندر مذہب کی حقیقی روح ختم ہو گئی ہے۔ شکوہ میں مسلمانوں نے فریاد کی تھی کہ،

صفحہ دہر سے باطل کو مٹا یا ہم نے
نوع انسان کوغلامی سے چھڑایا ہم نے

یہاں ”جواب شکوہ“ میں اس دعویٰ کی تردید کی جا رہی ہے اور تردید کا رنگ طنز کی شکل میں بدل گیا ہے۔ درحقیقت اس نظم کے اس حصے میں اقبال نے امت مسلمہ کو فکری و اعتقادی گمراہیوں ، کجرویوں اور عملی کمزوریوں کو بڑے موثر انداز میں بے نقاب کیا ہے۔ اور جب اقبال یہ کہتے ہیں

تم سبھی کچھ ہو بتائو تو مسلمان بھی ہو

تو پڑھنے والا یہ پڑھ کر اور سننے والا سن کر تڑپ اٹھتا ہے اس حصے میں اقبال نے بہت ہی معنی خیز اشعار کہے اور مسلمانوں کو جو بت پرست کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بتوں کی پوجا کرتے ہیں ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ”امر بالمعروف اور نہی عن المنکر“ کا فریضہ انجام دینے کا وعدہ کرتے ہیں لیکن عملاً یہ ہوتا ہے کہ دنیاوی آقا کی خوشنودی کے لئے سب کچھ کیا جاتا ہے اور صوم و صلوة سے بے پروا ہو جاتے ہیں ۔ اس معنی میں ہم بت گر ہیں اور حضرت ابراہیم کی طرح بت شکن نہیں ۔ ہمارے ابا واجداد سنت ابراہیمی پر چلتے تھے اور ہم سنت آزری یا سنت بتگری پر

بت شکن اُٹھ گئے ، باقی جو رہے بت گر ہیں
تھا براہیم پدر ، اور پسر آذر ہیں

علامہ اقبال یہاں ایک ایک اہم کام کی نشاندہی کرتے ہیں اور وہ یہ کہ مسلمانوں میں سحر خیزی بالکل ختم ہوگئی ہے اور سویرے اٹھنا ان کے لئے مشکل ہے۔

کس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہے!
ہم سے کب پیار ہے؟ ہاں نےند تمہیں پیاری ہے

یہاں اقبال تقدیر کے ناقص تصور کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ جس نے مسلمانوں کو بے عمل بنا دیا اور سب کچھ تقدیر پر چھوڑ دیا اور ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھے رہتے ہیں۔

ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو

اقبال کے خیال میں مسلمان کبھی اپنی میراث سے کنا رہ کش نہیں ہوتا۔ لیکن آج کے مسلمان میں سب سے زیادہ کمزوری یہی ہے کہ وہ اپنی میراث کو بھول چکا ہے۔ کیونکہ میراث کا حقدار بننے کے لئے اپنے آبا ءکی طرح توحید کے ضابطے کی پابندی لازمی ہے اور موجودہ مسلمان تو حید کی افادیت سے نا آشنا ہو کر رہ گیا ہے۔

تھے تو آبا وہ تمہارے ہی ، مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فرد ا ہو

 

 اسلاف سے موازنہ

نظم کے اس حصے میں مسلمانوں کی بے چارگی اور زبوں حالی کے سلسلہ بیان میں ان کی انفرادی اور اجتماعی خامیوں کو اجاگر کیا ہے اور اقبال نے مسلمانوں کے اسلاف کا ذکر کیا ہے ۔ اقبال کا خیال ہے کہ ہمارے اسلاف اپنے اخلاق و کردار علم و فضل اور گفتار و کردار کے اعتبار سے اس قدر بلند مرتبت اور عظیم تھے کہ ہمارے اور ان کے درمیان زمین وآسمان کافرق ہے۔ بھلا ان کا اور ہمارا کیا مقابلہ ہو سکتا ہے۔

علامہ اقبال نے جدید تعلیم اور اس کے زیر اثر پیدا ہونے والی معاشرتی اور مجلسی خرابیوں پر تنقید کی ہے۔ یہ صورت حال منطقی ہے توجیہ یہ پیش کی ہے کہ اگر بیٹا نکھٹو ہو تو اسے باپ کی جائیدا د سے عاق کردیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ یہی کچھ ہوا۔ مسلمانوں کے بزرگوں نے اسلام کی وجہ سے دنیا میں عزت پائی اور تم قرآن چھوڑ کر ذلیل و خوار ہوئے بزرگوں سے تمہیں کیا روحانی نسبت ہے ۔

ہر کوئی مست مئے ذوقِ تن آسانی ہے
تم مسلمان ہو؟ یہ اندازِ مسلمانی ہے؟
حیدری فقر ہے ، نے دولت عثمانی ہے
تم کو اسلاف سے کیا نسبتِ روحانی ہے
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک ِ قرآں ہو کر

لیکن اس مایوسی کے باوجود اقبال مایوس نہیں وہ اپنی قوم کو پیغام دیتے ہیں کہ ، مسلمانوں کو چاہیے کہ اس آزمائش کے کڑے دور میں اپنے ایمان میں حضرت ابراہیم کی سی پختگی عزم اور یقین پیدا کر دیں تاکہ زمانے کی برق و آتش زنی ان کے لئے گل و گلزار بن جائے۔

آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

شکوہ کی طرح جواب شکوہ میں بھی مسلمانوں کی پستی اور زبوں حالی کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ جس سے مایوسی کی ایک کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ لیکن اس مایوسی کو ختم کرنے کے لئے اقبال مسلمانوں کو اطمینان دلاتے ہیں کہ ہاتھ پائوں توڑنا بھی مردانگی کے زمرے میں نہیں آتا ۔ یہاں سے امید کا پیغام شروع ہوتا ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کا ازسرنو عروج قریب آگیا ہے ۔ اس کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ مسلمان اور اسلام کبھی مٹ نہیں سکتے۔

رنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہے
یہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہے

  پر امید مستقبل

جس دور میں اقبال نے یہ نظم لکھی اس وقت عالم اسلام میں مایوس کن واقعات کی بھرمار تھی۔ 1912ءمیں بلقان نے ترکی پر حملہ کر دیا۔ بلغاریہ میں شورش بپا ہوئی۔

(ہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کا)

ایران میں روس نے پیش قدمی کی لیکن ایسی حالت میں اقبال نے مسلم قوم کو پیغام دیا کہ کہ انہیں ان باتوں سے شکستہ دل نہیں ہونا چاہیے قوموں کی تاریخ میں نشیب و فراز تو آتے رہتے ہیں۔ اسلام کو کوئی بھی مٹا نہیں سکتا کیوں کہ اس کے پس منظر میں سےنکڑوں برس کی جدوجہد اور طاقتور عوامل کارفرما ہیں

اس کے علاوہ انسان کی ظاہر ی آنکھ احوال و واقعات کی تہہ میں چھپے ہوئے حقیقی عوامل کا پتہ نہیں لگا سکتی ۔ اقبال کے نزدیک بہت ممکن ہے کہ ظاہری آفت ان کے لئے کسی وقت باعث رحمت ثابت ہو۔ جیسے کہ کہ فتنہ تاتار کے سلسلے میں ہوا۔ پہلے تو انہوں نے اسلام کو تہس نہس کیا لیکن بعد میں جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو یہی لوگ اسلام کی امین بنے اوردنیا کی کئی بڑی بڑی اسلامی سلطنتوں کی بنیاد ڈالی۔

ہے عیاں یورشِ تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

اقبال مسلمانوں کو حوصلہ دیتا ہے کہ یہ وقت ہمت ہارنے کا نہیں ہے بلکہ میدانِ عمل میں نکل کر مقابلہ کرنے کا ہے۔ اور مسلمانوں کو ان کے اہم فرائض کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

وقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے
نور توحید کا اتمام ابھی باقی ہے

 دعوت عمل

آگے چل کر علامہ اقبال مسلمانوں کو دعوت عمل دیتے ہیں ۔ یہ نظم کا آخری حصہ ہے۔اقبال کہتے ہیں کہ اے مسلمانوں ہماری قوت کا راز جذبہ عشق میں مضمر ہے اور اس کا سرچشمہ حضور کی ذات گرامی ہے۔ چونکہ اُن کا مرکزی نقطہ عشق رسول ہے اس لئے ”جواب شکوہ“ کے آخری حصے میں جذبہ عشق سے سرشار وہی والہانہ کیفیت موجود ہے جو حضور کا ذکر کرتے ہوئے اقبال پر عموماً طاری ہوتی تھی۔ موذن رسول حضرت بلال عشق رسول کا مثالی پیکر تھے اور ان کا تعلق افریقہ کی سرزمین جیش سے تھا اس لئے تذکرہ رسول کے ضمن میں بلالی دنیا (جیش ) کا ذکر بھی کیاہے۔ آخری بند میں اقبال حق کے لئے جدوجہد کی تلقین کرتے ہیں اے مسلمان ، عقل تیری ڈھال اور عشق تیری تلوار ہے۔

عقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تری
مرے درویش ! خلافت ہے جہانگیر تری

آخر ی شعر کا مفہوم یہ ہے کہ اگر مسلمان آپ کے اسوہ حسنہ کی پیروی کریں تو پھر تقدیر بھی ان کے آگے سرنگوں ہوجائے گی۔ اور کائنات ان کے تصرف میں ہوگی۔اقبال نے عمر بھر ایسے لاثانی اشعار لکھے ہیں لیکن یہ شعر اپنی جگہ منفرد ہے۔

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح قلم تیرے ہیں

 فنی تجزیہ

”جواب شکوہ “ مسدس ترکیب بند کی ہیت میں 32 بندوں پر مشتمل ہے ۔ یہ بحر رمل مثمن مخبون مقطوع میں ہے۔ بحر کے ارکان یہ ہیں۔

فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن

 

 انداز اور لہجہ

”جواب شکوہ“ چونکہ شکوہ کے جواب میں لکھی گئی اس لئے اس کا انداز دوسری طویل نظموں کے بر عکس براہ راست خطاب کا ہے۔ اللہ کی طرف سے مسلمانوں کو یا پوری امت مسلمہ کو خطاب کرتے ہوئے شکوہ کا جواب دیا گیا ہے۔ براہ راست اندازِ تخاطب کی وجہ سے نظم میں علامتی اور ایمائی رنگ بہت معمولی ہے۔اس لئے ”جواب شکوہ“ میں تغزل نہ ہونے کے برابر ہے۔ نظم کا لہجہ شروع سے آخر تک یکساں نہیں ہے کئی مقامات پر لہجہ دھیما ہے جہاں مسلمانوں کی فکری اور عملی گمراہیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔وہاں تنقیدی لہجہ ہے اس کے علاوہ طنزئیہ لب و لہجہ بھی اختیار کیا گیا ہے۔ مثلاً

تم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیں جلوہ طور تو موجود ہے موسی ہی نہیں
قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغام ِ محمد کا تمہیں پاس نہیں

بعض جگہوں پر تاسف کا لہجہ پایا جاتا ہے

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

آخر میں اقبال دعوت عمل دیتے ہیں اور مسلمانوں کو اسلام کا پیغام پھیلانے اور رسول کے نام کو زندہ و تابندہ کرنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ یہاں لہجہ پر جوش ہے۔

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسم ِ محمد سے اجالا کردے
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح قلم تیرے ہیں

 

ڈرامائی کیفیت

”جواب شکوہ“ کے پہلے چھ بندوں میں ڈرامائی کیفیت موجود ہے اس میں اہل آسمان یعنی سیاروں ، کہکشاں ، چاند اور فرشتوں کی زبانی اس ڈرامے کے مختصر مکالمے کہلوائےگئے ہیں ۔ ان مکالموں اور گفتگو کی وجہ سے نظم میں ڈرامائیت آجاتی ہے۔ ڈرامے کے کلائمیکس پر ایک آواز آتی ہے جو اہل آسمان کے سوالات کا جواب ایک طویل مکالمے کی صورت میں دیتی ہے یہ آواز اس ڈرامے کا آخری اور سب سے اہم کردار ہے

آئی آواز غم انگیز ہے افسانہ تیرا
اشک ِ بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تیرا
آسماں گیر ہوا نعرہ مستانہ تیرا
کس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تیرا
شکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تونے
ہم سخن کر دیا بندوں کوخدا سے تونے

 

تشبیہ ،استعارات ، تصویر کاری

اقبال تشبیہ و استعارہ کے بادشاہ ہیں ۔ جواب شکوہ میں اقبال نے متعدد خوبصورت تشبیہات کا استعمال کیا ہے۔

ٍ بت شکن اُٹھ گئے باقی جو رہے بتگر ہیں
تھا ابراہیم پدر اور پسر آزر ہیں

”جواب شکوہ“ کے فنی بانکپن اور عظمت کے ضامن اس کے تراشیدہ استعارات ہیں جو معنویت کے پیش نظر نہایت قابل قدر ہیں۔

قیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہے
شہر کی کھائے ہوا باد یہ پیمانہ رہے

”جواب شکوہ“ میں اقبال نے کئی اشعار کو ایسے خوبصورت الفاظ کا جامہ پہنایا ہے کہ تصویر کاری یا محاکات نگاری کی عمدہ مثالیں لگتی ہیں۔

کشتی حق کا زمانے میں سہارا تو ہے
عصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہے

 

 صنعت گری

صنعت تلمیح:۔

آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے انداز گلستاں پیدا

صنعت طباق ایجابی منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی ، دین بھی ، ایمان بھی ایک

صنعت مراعا ة لنظیر:

حرم پاک بھی ، اللہ بھی قرآن بھی ایک
کیا بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

حسن ِ تعلیل

کچھ جو سمجھا جو مرے شکوے کو رضواں تو سمجھا
مجھ کو جنت سے نکالا ہو ا انساں سمجھا

 دیگر فنی محاسن

جس سے شکوہ کیا جائے جواب میں اس کی طرف سے بالعموم معذرت پیش کی جاتی ہے مگر جواب شکوہ کا حسن بیان دیکھیے کہ اس میں شکوہ کرنے والے پر اس کا شکوہ لوٹا دیا گیا ہے۔ گویا شکوہ کرنے والے کا منہ بند کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں کچھ اشعار قابلِ ذکر ہیں جن میں بلا کا طنز اور کاٹ موجود ہے۔

یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتائو تو مسلمان بھی ہو

جواب شکوہ میں خوبصورت تراکیب بھی ملتی ہیں ۔ شاعر نے اپنے مطلب کی وضاحت کے لئے ایسی بلیغ اور عمدہ ترکیب سازی سے کام لیا ہے کہ نہایت مشکل بات دو تین لفظوں کی مدد سے بڑے خوبصورت انداز میں بیان کر دی ہے۔ مثلاً مردم چشم زمین، بانگ درا، برق طبعی، شعلہ مقالی ، قدسی الاصل ، دانائے رموز کم،وغیرہ، جبکہ مشکل پسندی اور فکر وخیال کی جدت کے اعتبار سے یہ نظم اقبال کا حسین و جمیل پیکر ہے۔ تاثرات کی شدت اور گہرائی نظم کے ہر حصے میں موجود ہے۔ اور اس کااختتام تو لا جواب ہے۔

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح قلم تیرے ہیں

پوری نظم کا نچوڑ یہ شعر ہے امت مسلمہ کے شکوے کے جواب میں یہی شعر بہت ہے۔

  مجموعی جائزہ

”جواب شکوہ“میں مسلمانوں کے مذہبی ، روحانی اور اخلاقی انحطاط کے اسباب نہایت دل کش انداز میں بیان کئے گئے ہیں اور مسلمانوں کی شیرازہ بندی کا علاج بھی تجویز کیا ہے۔ اور بتایا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے کردار سے رسول پاک کے امتی ہونا ثابت کریں اور ان کے دامن سے وابستہ رہنے کا عزم کریں۔ یہی خداوند تعالی تک رسائی کا راز ہے۔

شکوہ“ کو اگر مذہبی شاعری کی وسواخت کہا جائے تو وسواخت کا خاتمہ عام طور پر محبوب سے صلح صفائی پر ہوتا ہے اس لحاظ سے ”جواب شکوہ“ تعلقات کے ازسرنو خوشگوار ہونے اور اعتدال پر آنے کا اعلان ہے۔ بقول عبدالقادر سروری

” شکوہ“ ”جواب شکوہ“ میں سے کسی نظم کا جواب اردو میں نہیں ہے۔ شکوہ میں جس شاعرانہ انداز سے مسلمانوں کی پستی کا گلہ خدا سے کیا گیا ہے اور ”جواب شکوہ “ میں ابھرنے کی جو ترکیب بتائی گئی ہے اس میں الہام ِ ربانی کی شان نظر آتی ہے۔“

خصر راہ

تلاش”خضر راہ“نظم اقبال نے انجمن حمایت اسلام کے 37 ویں سالانہ اجلاس میں جو 12 اپریل 1922ءاسلامیہ ہائی سکول اندرون شیرانوالہ میں منعقد ہوا تھا میں ترنم سے پڑھ کر سنائی۔ بعض اشعار پر اقبال خود بھی بے اختیار روئے اور مجمع بھی اشکبار ہو گیا۔ عالم اسلام کے لئے وہ وقت بہت نازک تھا۔ قسطنطنیہ پر اتحادی قابض تھے ۔ اتحادیوں کے ایماءپر یونانیوں نے اناطولیہ میں فوجیں اتار دی تھیں۔ شریف حسین جیسے لوگ انگریزوں کے ساتھ مل کر اسلام کا بیڑہ غرق کرنے میں پیش پیش تھے۔ خود ہندوستان میں تحریک ہجرت جاری ہوئی۔ پھر خلافت اور ترک موالات کا دور شروع ہوا۔ ادھر دنیائے اسلام کے روبرو نئے نئے مسائل آگئے۔ اقبال نے انہی میں سے بعض اہم مسائل کے متعلق حضرت خضر کی زبان سے مسلمانوں کے سامنے صحیح روشنی پیش کی۔ اور نظم کا نام خضر راہ اسی وجہ سے رکھا۔ ابتداءمیں نظم میں صرف دو عنوان تھے۔ پہلے دو بندوں کا عنوان تھا ”شاعر“ یعنی شاعر کا خضر سے خطاب باقی نو بندوں کا عنوان تھا ”جواب خضر “ نظر ثانی میں اقبال نے مختلف مسائل پر الگ الگ عنوان قائم کر دئیے۔

+ نوشته شده توسط khial hussain در Sat 17 Sep 2011 و ساعت 7:38 AM |

اقبال کی یہ نظم اپنے دور میں بہت زیادہ مقبول ہوئی اس کے بارے میں پروفیسر اسلوب احمد انصار ی لکھتے ہیں،

” اس نظم کی ہر دلعزیزی کا بڑا سبب اس کے موضوع یا موضوعات کا ہنگامی اہمیت کا حامل ہوناتھا۔“

اس نظم کو فکری لحاظ سے دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک حصہ ”شاعر“ کے عنوان سے پس منظر، خضر کی آمداور شاعر کے سوالات پر مبنی ہے جب کہ دوسرا حصہ خضر کے جواب پر مشتمل ہے۔ نظم کی ابتداءیوں ہوتی ہے کہ شاعر انتہائی پریشانی اور ذہنی کشمکش کی حالت میں سکون کی تلاش میں ساحل دریا کی جانب رخ کرتا ہے۔ شاعر کو ایک نئی صبح کی تلاش ہے۔ جہاں زندگی با معنی ہو جہاں اس کاوطن عزیز فرنگی جال سے آزاد ہو۔ جہاں عالم اسلام یورپی رخنہ گردوں کے فتنہ و فساد سے محفوظ ہو۔

یہاں پہنچ کر اقبال دو حصوں میں منقسم ہو جاتا ہے ایک شاعر اقبال اور دوسرا مفکر اقبال، شاعر اقبال سوال کرتا ہے اور مفکر اقبال جواب دیتاہے۔ پہلے بند میں منظر کشی کا بہترین نمونہ ملتاہے۔ جو کہ ایک خاص کردار خضر کے ظہور کے لئے ہے۔ یہاں ایک سکوت کی فضاءملتی ہے وہ دراصل اس انسانی ماحول کے جمود کی طرف اشارہ کرتاہے۔ جس کو توڑنے کے لئے ہی شاعر کا دل ایک جہان ِ اضطراب بناہواہے۔

جیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفل شےر خوار
موج مضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مست خواب!

منظر فطرت کا یہ طلسم پانچویں ہی شعر میں ٹوٹ جاتا ہے اور نہایت ڈرامائی طور پر خواجہ خضر کی شخصیت منظر پر اُبھرتی اور جزو ِ منظر بن جاتی ہے۔ خضر شاعر کو بتاتا ہے کہ اگر چشم و دل وا ہو یعنی انسان کی روح اپنی تمام تر گہرائیوں کے ساتھ بیدار ہو جائے، دل کی آنکھ کھل جائے تو دل کے اندر وہ روشنی پیدا ہو جاتی ہے جو مظاہر حیات اور واقعات عالم کے پیچھے مضمر حقائق کے مشاہدے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔

کہہ رہا ہے مجھ سے اے جویائے اسرار ازل
چشم دل وا ہو تو ہے تقدیر عالم بے حجاب!

دوسرے بند کے پہلے دو شعروں میں قبال ”خضر “ کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں کہ کائنات کے تما م سربستہ راز آپ پر منکشف ہیں اور آپ کو مستقبل کے وہ حالات بھی معلوم ہیں جو مستقبل میں ظہور پزیر ہوں گے۔ اقبال خضر کو موسیٰ کے مقابلے میں پیش کرتے ہیں کہ موسی کا علم بھی آپ کے سامنے ہیچ ہے اسی لئے وہ اُن کے سامنے چند سوالات رکھتے ہیں اور سوال اُسی سے پوچھے جاتے ہیں جو صاحب ِ علم و صاحب اسرار ہو۔ سوالات کی تفصیل حسب ذیل ہے۔

پہلا سوال:۔ خضر کو صحرا نوردی اس قدر عزیز کیوں ہے؟
دوسرا سوال:۔ زندگی کا راز کیا ہے؟
تیسرا سوال:۔ سلطنت کیا چیز ہے؟
چوتھا سوال:۔ سرمایہ اور محنت میں جھگڑے کی وجہ کیا ہے؟
پانچواں سوال:۔ دنیائے اسلام کی زبوں حالی کی وجہ کیا ہے؟

اقبال کا انداز نظر بالکل انسانی او ر آفاقی تھا۔ وہ سماجی انصاف کی علم برداری کرنا اپنا فرض تصور کرتے تھے۔اسی طرح کمزوروں ، مظلوموں اور محروموں کی حمایت اپنا فرض جانتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی ملت دوستی کو ”ایشیاءکا خرقہ دیرینہ‘ ‘سے وابستہ کر دیا ہے یعنی وہ اپنے ملی موقف میں ایک آفاقی نقطہ نظر سے پورے مشرق کو اس لئے شامل کرتے ہیں کہ اس کے خرقہ دیرینہ کو بہت ہی جابرانہ اور ظالمانہ انداز میں چاک کرکے اس کی قیمت پر مغربی اقوام نو دولت ”نوجواں“ پیرا پو ش ہو رہے ہیں۔

یہاں اقبال کی نظر انتہائی وسیع ہو جاتی ہے ۔ وہ دنیائے اسلام کو عالم مشرق کا مترادف قرار دیتے ہیں کہ ملت اسلامیہ مشرق کی نمائندگی کرتی ہوئی ایک خطرناک امتحان میں پڑ گئی ہے۔ بادشاہت و ملوکیت سے اقبال کو نفرت ہے ۔ اقبال کے خیال میں اگرچہ سکندر مر گیا ہے۔ اُس کو دوام نہیں ملا مگر فطرت اسکندری ابھی قائم ہے ۔ حکمرا ن طبقہ ابھی تک دادِ عیش دے رہا ہے۔

گرچہ اسکندر رہا محروم آب زندگی
فطرت اسکندری اب تک ہے گرم نائو نوش

دوسری طرف مسلمان ، مسلمان کا دشمن ہو گیا ہے اور ”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو“ ۔ کے سنہرے اصول کو چھوڑ کر ذاتی غرض کی خاطر ایک دوسرے کا خون بہا رہا ہے۔ یہاں اقبا ل نے شریف مکہ کے حوالے سے عربوں کی ترکی سے غداری کو حضور کے دین کو بیچنے کے مترادف قرار دیا ہے،

بیچتا ہے ہاشمی ناموس دین مصطفی
خاک و خون میں مل رہا ہے ترکمان سخت کوش

اور ایک طرف طاغوتی قوتیں ان کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر تلی ہوئی ہیں ۔ یہ قوتیں مسلمانوں کی قوت برداشت کا امتحان لے رہی ہیں۔

آگ ہے ، اولاد ابراہیم ہے ، نمرود ہے
کیا کسی کو کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے

تیسرے بند میں خضر پہلے سوال کا جواب دیتے ہیں ۔ اقبال فطرتاً صحرائیت پسند او ر بدویت پسند ہے۔ اقبال کے نزدیک جو افراد او ر قومیں مسلسل جدوجہد کرتی ہیں وہ دوام پاتی ہیں جہاں و ہ تھک کر بیٹھ جاتی ہیں موت اُن کو دبوچ لیتی ہے۔اور صحرا نوردی مسلسل حرکت کا استعارہ ہے۔ جو اس حقیقت کو روشن کرتی ہے کہ قدرت کے کارخانے میں سکون محال ہے۔ دنیا میں ہر لمحہ حرکت و تغیر کا تماشا جارہی ہے اور اس تماشے کے کسی منظر کو قیام نہیں ہے ۔ خضر اپنی مسلسل دوڑ دھوپ اور حرکت و عمل کو اصل زندگی بتاتا ہے۔لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ صحرا سے اقبال کو اتنی انسیت کیوں ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مسلمانوں کا روحانی مرکز اور اصل مولد و منشا صحرائے عرب ہے۔ اسی بدولت سادہ زندگی کی وجہ سے مسلمان تما م دنیا پر چھا گئے ۔ اُن میں فاتحانہ اخلاق پیداہوئے صحرائیت میں تکلف و تصنع کا کوئی گزر نہیں۔ صحرا نشین آدمی میں بلا کی قوت برداشت ہوتی ہے۔ ایک متمدن انسان جوش اور ولولے سے عاری ہوتا ہے ۔ صحرا نشین کی ضروریات زندگی بھی حد درجہ محدود ہوتی ہیں۔

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہ صحرائی یا مرد ِ کہستانی

اگلے دو بندوں میں زندگی کے متعلق بحث کی گئی ہے۔ بقول اسلوب احمد انصاری ” زندگی اقبال کے نزدیک مترادف ہے ایک ایسے مظہر کے جس کی وسعتوں اور گہرائیوں کو ادراک کی گرفت میں آسانی سے نہیں لایا جا سکتا۔“

اقبال انسان کو بتاتا ہے کہ زندگی سود و زیاں ، نفع نقصان کی سوچ سے بلند تر چیز ہے۔ اس میں کبھی تواعلیٰ مقصد کے لئے جان قربان کردی جاتی ہے جس طرح حضرت امام حسین نے کربلا میں اور حضرت اسماعیل نے خدا کے حکم پر اپنی جان ِ عزیز کو قربانی کے لئے پیش کیا اور کبھی اعلیٰ مقاصد کی خاطر ہجرت کرکے جان بچائی جاتی ہے۔

برتر از اندیشہ سود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی!

انسان کو چاہیے کہ وہ آج اور کل ، ہفتوں ، مہینوں اور سالوں کے حسا ب سے زندگی کو نہ ناپے کیونکہ جاوداں ، پیہم دواں ، ہر دم جواں ہے زندگی، انسان ایک ارتقاءپذیر اکائی ہے ۔ اس میں تجدید خودی کی قوت پوشیدہ ہے۔ اسی لئے اس کا نقش مٹ مٹ کر اُبھرتا رہتا ہے۔ زندگی ہر لحظہ نئی قبا زیب تن کر لیتی ہے اور اسی تحریک میں سر آدم پنہاں ہے۔ سرِ آدم قوت تسخیر اور تعمیر کائنات ہے۔ انسان کوچاہیے کہ اپنی خدادا د صلاحیتوں سے بھر پور کام لے۔ کیونکہ اسی لئے تو انسان کو تمام مخلوقات پر فضیلت حاصل ہے۔ گو انسان کی تخلیق ایک مشتِ خاک کی سی ہے۔ لیکن قوت کے بدولت انسان اشرف المخلوقات ہے۔

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سرِ آدم ہے ضمیر کن فکاں ہے زندگی!

زندگی اور آزادی کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ انسان میں بے شک قوت کے خزانے موجود ہیں ۔ مگر اس کے اظہار کے لئے آزادی اولین شرط ہے۔ کیونکہ غلامی انسان کی قوت عمل کو شل کر دیتی ہے اور نمو کے سارے امکانات معدوم ہو جاتے ہیں ۔ غلامی کے دور میں زندگی گھٹتے گھٹتے ایک ایسی ندی بن جاتی ہے۔ جس میں پانی کم ہوتا ہے اور معمولی بند باندھنے سے رک جاتی ہے۔ لیکن آزادی کے زمانے میں زندگی ایک ایسے سمندر کا روپ دھار لیتی ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں ہوتا۔

بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اِ ک جوئے کم آب
اور آزادی میں بحر بیکراں ہے زندگی !

آگے چل کر اقبال انسان کے ذوق ِ عمل اور جدوجہد کو ابھارنے کی کوشش کر رہے ہیں اُن کے خیال میں انسان کو سچائی اور صداقت کا دلدادہ ہونا چاہیے ۔ لیکن اس کے لئے پہلے اپنے جسم میں جان پیدا کرنا ضروری ہے۔ یعنی اپنے دل میں ولولہ اور عزم و جوش پیدا کرنا چاہیے۔ جو مرتبے اور عہدے ، مال و دولت انسان کو وراثت میں ملے ہیں ۔ ان پر انحصار کرنا چھوڑ دے۔ اپنی ہمت ، اپنی محنت اور اپنے خون پسینے کی کمائی سے دولت کمائے اور جاہ و مرتبہ حاصل کرے۔ اسی سے اُن کے دلوں میں وہ حوصلہ اور جرات پیدا ہوگی جو خالد بن ولید ، طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم جیسے جری اور دلیر لوگوں میں تھی۔

ہو صداقت کے لئے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے

چھٹا بند سلطنت سے متعلق ہے اقبال فرماتاہے ، کہ

آئوں بتائوں تجھ کو رمز آبہ ان لملوک
سلطنت اقوام غالب کی ہے اک جادوگری

سلطنت و حکومت کو طاقت کی جادوگری کہنا ایک نہایت بلیغ بات ہے ۔ جادوگری کا لفظ ایک طرف طاقتورحکمرانوں کی ننگی جارحیت اور طاقت کے استعمال پر محیط تو دوسری طرف مدبرانہ مصلحتوں اور رعایا پروری کے ظاہر ی سلوک کو بھی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ جب کوئی محکوم نیند سے بیدار ہوتا ہے اور ملوکےت و شہنشاہیت کے خلاف آواز بلند کرتا ہے تو حکمران اُسے انوکھے ہتھکنڈوں سے پھر سلا دیتا ہے۔ اُسے ایسے سہانے سپنے دکھاتا ہے کہ وہ پھر سے غلامی کا طوق گلے میں پہن لیتا ہے۔

خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر
پھر سلا دیتی ہے اس کوحکمراں کی ساحری

پھر اقبال مسلمانوں کو آزادی کی نعمت حاصل کرنے کے لئے زور دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے مسلمان تو آزاد پیدا ہوا ہے۔ تیری مثال تو شاہین جیسی ہے تو اپنی آزاد فطرت کو غلامی کی دلدل میں پھنسا کر بدنام نہ کر اگر ایسا کرے گا تو برہمن سے بھی بڑا کافر ہوگا۔ اقبال کہتا ہے کہ جمہوریت ظالم وجود کا جن ہے جو خوبصورت لباس پہن کر ناچ رہا ہے لوگ اس کے زرق برق لباس کو دیکھ کر اس کو آزادی کی نیلم پری سمجھ لیتے ہیں۔ جبکہ حقیقت میں یہ وہی مطلق العنان ملوکیت ہے۔ اقبال مسلمانوں کو خطاب کرکے کہتا ہے کہ اے ناداں انسان تو اس رنگ و بوکے دھوکے کو باغ سمجھ رہا ہے۔ اور اپنی نادانی سے اس پنجرے کو گھونسلہ سمجھ رہا ہے جبکہ حقیقت میں یہ تجھ کو تادیر غلام رکھنے کے ہتھکنڈے ہیں،

اس سراب رنگ و بوکو گلستاں سمجھا ہے تو
آہ ! اے ناداں قفس کو آشیاں سمجھا ہے تو

ساتواں اور آٹھواں بند سرمایہ داری سے متعلق ہے ۔ اقبال خضر راہ کی زبانی مزدور کو پیغام دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کائنات کے دل سے اٹھنے والی آواز ہے ۔ یہ میرا ذاتی پیغام نہیں بلکہ قدرت اور فطرت کا ازلی پیغام ہے۔ میری آواز میں زمانے کی آواز شامل ہے۔

بندہ مزدور کو جاکر مرا پیغام دے
خضر کا پیغام کیا ، ہے یہ پیام کائنات

ان سرمایہ داروں نے تجھ کو غلام رکھنے کے لئے مختلف حربے ایجاد کئے ہیں ۔ تجھے کبھی ذات پات کے چکروں میں الجھایا گیا، کبھی قومیت کا سوال کھڑا کیا ہے۔ کبھی کلیسا کا چکر چلایا ہے ۔ کبھی تہذیب کا جال بچھا کر عوام کو بے وقوف بنایا گیا۔ کبھی کالے گورے کی تمیز رکھی گئی۔ اور اے مزدور تو ان حیلہ بازوں سے بے خبر رہا اور یہ تجھے طرح طرح کے خواب دکھا کر فریبوں میں الجھا کر تیرا خون چوستے رہے اور افسوس تو انہی کے لئے لڑتا رہا اور ان کے لئے محنت کر تا رہا۔ یہاں اقبال مزدورں کو بیدار کرتا ہے۔

اُٹھ کہ اَب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

آخری تین بند دنیائے اسلام سے متعلق ہیں ، یہاں اقبال نے اپنے جذبات کی تسکین کے لئے راہ نکالی ہے جو اُن کے قلب اور روح کی گہرائیوں میں نہ جانے کتنی مدت سے پوشیدہ تھے۔ مسلمانوں کے تمام اشعار او ر میراث کو عیسائی دنیا نے اپنا لیا مثلاً روایت پرستی کی جگہ تخلیقی انداز کو عیسائی دنیا نے اپنایا۔ اندھی تقلید کی جگہ اجتہاد سے کام لیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سرفراز اور کامران ہوگئے اور مسلمان پستی کی عمیق گہرائیوں میں ڈوب گئے ۔ عربوں نے غداری کرکے اپنے پائوں پر خود کلہاڑی ماری ہے۔ جب تک ایک تھے مضبوط تھے جدا ہوئے تو دشمن نے ان کو ایک ایک کرکے ہڑپ کر لیا۔

اور وہ ترک جو کبھی جاہ و حشمت کے مالک تھے ۔ جو بادشاہ تھے آج وہ پوری دنیا میں رسوا ہوگئے ہیں ۔ خلافت کا تاج ان کے سر سے اتر چکا ہے جس میں کچھ مغرب کی عیاری اور سیاسی چالبازی کا کمال ہے تو بہت زیادہ مسلمانوں کا ترکِ مذہب اور اسلامی شعار سے دور ی کا نتیجہ ہے۔ ایران بھی یورپ کی طرف دیکھ رہا ہے اورمغربی تہذیب بالکل کھوکھلی ہے۔ جو آئندہ نسلوں کے لئے تباہی کا پیغام لائے گی۔ اس لئے اقبال ایرانیوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ ان اثرات سے پرہیز کریں اس کے بعد اقبال خودی کا درس دیتے ہیں کہ اپنی حاجتوں کو دوسروں کے سامنے نہ لے جا۔ اپنی خودی کو قربان نہ کر اور دوسروں کے آگے ہاتھ مت پھیلا ۔اگر تو دوسروں کی محتاجی کرے گا تو اس سے تیری خودی کو ٹھیس لگے گی۔ خودی جو آئینے کی مانند نازک ہے ایسی ٹھیس سے چکنا چور ہو جاتی ہے۔

اقبال مشرق کے مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تمہارے مصائب و آلام کا حل ملت اسلامیہ کے اتحاد و اتفاق میں مضمر ہے ۔ اگر مسلمان چاہتا ہے کہ ذلت کے گھور اندھیروں سے نکل آئے تو انہیں آپس میں باہمی ربط و ضبط پیدا کرنا ہوگا۔ مگر افسوس ایشیا والے اس نکتے سے اب تک بے خبر ہیں ۔ لہٰذا جب بھی اُن پر یہ راز منکشف ہوگا تو وہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائیں گے۔

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لےکر تابخاک کاشغر

اس کے بعد اقبال اپنے کلام میں کہتا ہے کہ میری باتوں کو غور سے سن تجھے اس میں آنے والے وقت کی دھندلی سی تصویر نظر آئے گی ۔ یعنی میری باتوں میں تجھے مستقبل میں ظہور پذیر ہونے والی بہت سی باتوں کا پتہ چل سکتا ہے۔ اقبال کہتا ہے کہ آسمان کے پاس ایک سے ایک آزمایا ہوا فتنہ موجود ہے۔ اس لئے ان سے ہوشیار رہ،

  فنی جائزہ

”خضرراہ“ فنی لحاظ سے ایک مکمل نظم ہے ۔ اس بارے میں آل احمد سرور لکھتے ہیں،

” خضرراہ“ میں اقبال کا فن پہلی دفعہ اپنی بلندی پر نظر آتا ہے یہ وہ بلندی ہے جس میں مستی اندیشہ ہائے افلاکی کے ساتھ زمین کے ہنگاموں کو سہل کرنے کا حیرت انگیز عزم موجود ہے۔“

”خضرراہ“ کل گیارہ بندوں پر مشتمل ہے۔ یہ نظم ترکیب و ہیئت میں ہے۔ اس میں 85 اشعار ہیں اس نظم میں کم و بیش 1400 الفاظ ہیں ۔ یہ بحر رمل مثمن مقصور میں ہے۔ اس کے ارکان یہ ہیں۔ فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن

  نظم کے کردار

اس نظم میں دو کردار سامنے آتے ہیں ایک خود شاعر اور دوسرا خضر ، شاعر ایک بے قرار شخص ہے اُس نے اپنے آپ کو ”جویائے اسرارِ ازل“ کہا ہے۔ جو ایک ایسے انسان کو ظاہر کرتا ہے جس کے دل میں سب کچھ جاننے کی خواہش موجزن ہے۔ دوسرا کردار خضر کا ہے۔ خضر کی شخصیت کو اقبال نے اس شعر میں مکمل کر دیا ہے۔

دیکھتا کیا ہوں کہ وہ پیک ِ جہاں پیما خضر
جس کی پیری میں ہے مانند ِ سحر رنگ شباب

پہلے مصرعے میں اُن کو ”پیکِ جہاں پیما“ کہا گیا اس لئے کہ وہ جہاں گرد مشہور ہیں دوسرے مصرعے میں ” پیری میں مانند سحر رنگ ِ شباب“ کا بیان ملتا ہے۔ اس لئے ان کی طویل عمر کی روایت خاصی مشہور ہے اور جس طرح صبح ، صدیوں سے ایک ہی طرح ہر روز طلوع ہونے کے باوجود تازگی و شادابی کا مظہر ہے۔ جیسے شباب کے ساتھ وابستہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح خضر راہ بھی صدیوں پر محیط طویل عمر کے باوجود جوانوں کی طرح مستعدی سے جہاں گردی کرتے رہتے ہیں،بقول فتح محمد ملک،

” اقبال نے خضر کا کردار مشرقی روایات اور داستاں کے بجائے براہ راست قرآن سے اخذ کیا۔“

 

 ڈرامائی کیفیت

اس نظم میں ڈرامائی کیفیت پائی جاتی ہے۔ یہ ڈرامائیت خضر کے کردار کی وجہ سے پیدا ہوگئی ہے۔ اس نظم کے پہلے منظر کو اگر دیکھیں تو لگتا ہے کہ ڈرامے کا پہلا سین شروع ہو گیا ہے۔ یہ سین ساحل دریا کا ہے۔ شاعر مضطرب دل کے ساتھ محو نظارہ ہے ۔ اس کے دل میں ایک طوفان مچا ہوا ہے۔ مگر بیرونی ماحول انتہائی پر سکون ہے۔ رات کا سکون پر پھیلائے ہوئے ہے۔ قاری تجسّس کا شکار ہو کر پورے انہماک سے مطالعہ شروع کرتا ہے۔ پر سکون ماحول کے پیچھے ایک طوفان چھپا ہوا ہے۔ اس لئے قاری بھی کسی طوفان کا منتظر ہے۔ اسی اثنا ءمیں اچانک خضر سٹیج پر آکر مکالمہ شروع کرتا ہے۔

کہہ رہا ہے مجھ سے اے جویائے اسرارِ ازل
چشمِ دل وا ہو تو ہے تقدیر ِ عالم بے حجاب

پھر مکالمہ شروع ہوتا ہے۔ اسی طرح کائنات اور بین الاقوامی سیاسیات سے متعلق شاعر کو مکمل اور کافی و شافی جوا ب مل جاتا ہے۔

 

نظم کا لہجہ

پروفیسر رفیع الدین ہاشمی کے بقول،

” بحیثیت مجموعی نظم کا لہجہ نرم و ملائم اور دھیما ہے۔“

پہلے بند میں لہجہ انتہائی دھیما اور محتاط ہے۔ اسی طرح پوری نظم میں مجموعی طور پر دھیما پن اور نرمی غالب ہے۔ کہیں کہیں لہجہ پر جوش ہو جاتا ہے۔ مگر اقبال اسے دوبارہ مدہم کر دیتا ہے۔ مثلاً دوسرے بند میں شاعر انتہائی جوش سے کہتا ہے۔

بیچتا ہے ہاشمی ناموسِ دین ِ مصطفی
خاک و خوں میں مل رہا ہے ترکمانِ سخت کوش

یہاں جوش اور گرمی کا پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔ ”صحرا نوردی میں “ لہجہ دھیما ہے۔ ”زندگی“ میں پھر بلند اور قدرے پر جوش ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی شاعر کے نزدیک ”گردش پیہم“ اور پیہم دواں پر دم جواں“ ہے۔ جس میں انسان کو مختلف آزمائشوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ مگر اگلے ہی بند میں ،

سوئے گردوں نالہ شب گیر کا بھیجے سفیر
رات کے تاروں میں اپنے راز داں پیدا کرے

کہہ کر پر جوش ”Tone“ کو مدہم کر دیا ہے۔ یہ اتار چڑھائو اور مدوجزر پوری نظم کا خلاصہ ہے مگر مجموعی تاثر دھیما ہے۔ اختتام ناصحانہ ہے اور نصیحت نرم لہجے میں ہوتی ہے۔

 رنگ تغزل

تغزل اقبال کے کلام کا خاصا ہے۔”خضر راہ“ اگرچہ ایک نظم ہے جس میں حیات و کائنات کے حقائق اور ٹھوس مسائل کو موضوع سخن بنا یا گیا ہے۔ مگر چونکہ اقبال کے مزاج میں شعریت اور تغزل رچا بسا ہے اس لئے غزلوں کے علاوہ ان کے بیشتر نظموں میں تغزل کا رنگ نمایاں ہے۔ خضر راہ کے بعض حصوں اور شعروں میں ہمیں اقبال کا یہی رنگ تغزل نظر آتا ہے۔

برتر اندیشہ سود وزیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم ِ جاں ہے زندگی
جادوئے محمود کی تاثیر سے چشم ِ ایاز
دیکھتی ہے حلقہ گردن میں ساز دلبری

 

 تراکیب، تشبہات

اقبال نے خضر راہ میں بھی نادر تراکیب کااستعمال کیا ہے مثلاًقلزم ہستی، شہید جستجو، ضمیر کن فکاں ، شمشیر بے زنہار، ساز دلبری ، شاخ آہو وغیرہ

تشبیہ کسی چیز کو کسی خاص وصف کی بناءپر کسی دوسری چیز کی مانند ظاہر کیا جائے اقبال کے ہاں نادر تشبیہات ملتی ہیں۔ بقول عابد علی عابد

” اقبال ایسی ایسی خوبصورت تشبیہہں اور استعارے استعمال کرتے ہیں کہ ان دیکھی چیزیں دیکھی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔“

جیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفلِ شیر خوار
موج مضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مستِ خواب

 

 صنائع بدائع کا استعمال

اقبال کے کلام میں صنائع بدائع کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ جو اقبال کی غیر شعوری فنی مہارت کا شاہکار ہے۔

صنعت ِ تلمیح:۔

بیچتا ہے ہاشمی ناموسِ دین مصطفی
خاک و خون میں مل رہا ہے ترکمانِ سخت کوش

صنعتِ تجنیس:۔

خام ہے جب تک تو ہے مٹی کا اک انبار تو
پختہ ہو جائے تو ہے شمشیر بے زنہار تو

صنعت ملمع:۔

ملک ہاتھوں سے گیا ملت کی آنکھیں کھل گئیں
حق تیرا چشمے عطا کر دستِ غافل درنگر

صنعتِ مراعات النظیر:۔

آگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے

صنعت تضاد:۔

دیکھتا ہوں کہ وہ پیک ِ جہاں پیما خضر
جس کی پیری میں ہے مانند ِ سحر رنگ شباب

محاکات:۔

اس نظم میں محاکات یعنی تصویر کشی کا بہترین نمونے ملتے ہیں۔ بقول غلام رسول مہر کہ،

” خضر راہ کا موضوع منظر کشی نہ تھا۔ تاہم جہاں کہیں اتفاقیہ موقع مل گیا ہے وہاں اس کمال کرشمہ فرمائیاں بھی دیدنی ہیں۔“

مثلاً پہلا بند جس میں اقبال لفظی تصویر کشی کا بہترین نمونہ پیش کرتے ہیں،

شب سکوت فزاءہوا آسودہ ، دریا نرم سیر
تھی نظر حیراں کہ یہ دریا ہے یا تصویر آب!

جیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفل ِ شیر خوار
موج مضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مست خواب

 

] مجموعی جائزہ

نظم کی عظمت کے بارے میں عبادت بریلوی کی رائے ہی کافی ہے، ” خضر راہ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں موضوع کی بصیرت ، فنی سلیقہ شعاری سے گلے ملتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اور اسی صورت حال نے اس کو اس سحر سے آشنا کر دیا ہے جو شاعری کی جان اور شعر کا ایمان ہے۔“

 

والدہ مرحومہ کی یاد میں

یہ نظم اقبال نے اپنی والدماجدہ کی وفات پر ان کی یاد میں لکھی ۔ اسے مرثیہ بھی کہا جاتا ہے۔ اولین شکل میں اس کے گیارہ بنداور 89 اشعار تھے ۔ ”بانگ درا“کی میں شامل کرتے وقت اقبال نے اس میں تبدیلی کی اور موجودہ شکل میں نظم کل تیرہ بندوں اور چھیاسی اشعار پر مشتمل ہے۔ علامہ اقبال کی والدہ ماجدہ کانام امام بی بی تھا۔ وہ ایک نیک دل ، متقی اور سمجھ دار خاتون تھیں۔ گھر میں انہیں بے جی کہا جاتا تھا۔ وہ بالکل اَ ن پڑھ تھیں مگر ان کی معاملہ فہی ، ملنساری اور حسنِ سلوک کے باعث پورا محلہ ان کا گروید ہ تھا۔ اکثر عورتیں ان کے پاس اپنے زیورات بطور امانت رکھواتیں۔ برادری میں کوئی جھگڑا ہوتا تو بے جی کو سب لوگ منصف ٹھہراتے اور وہ خوش اسلوبی سے کوئی فیصلہ کر دیتیں ۔ اقبال کو اپنی والدہ سے شدید لگائو تھا۔ والدہ بھی اقبال کو بہت چاہتی تھیں زیر نظر مرثیے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب اقبال یورپ گئے تو والدہ ماجدہ ان کی بخیریت واپسی کے لئے دعائیں مانگتیں اور ان کے خط کی ہمیشہ منتظر رہتیں۔ ان کا انتقال اٹھتر سال کی عمر میں 9نومبر 1914ءکو سیالکوٹ میں ہوا۔ والدہ مرحومہ کی وفات پر اقبال کو سخت صدمہ ہوا۔ اور وہ مہینوں دل گرفتہ رہے ۔ اور انہوں نے اپنی ماں کی یاد میں یہ یادگار نظم لکھی۔

 

نظم یا ( مرثیہ )کا اصل موضوع والدہ ماجدہ کی وفات حسرت آیات پر فطری رنج و غم کا اظہار ہے ۔ اس اظہار کے دو پہلو ہیں،

1)فلسفہ حیات و ممات اور جبر و قدر 2) والدہ مرحومہ سے وابستہ یادیں اور ان کی وفات کا ردعمل

پہلے موضوع کا تعلق فکر سے ہے اور دوسرے کا جذبات و احساسات سے ”والدہ مرحومہ کی یاد میں “ اردو میں اقبال کی شاید واحد نظم ہے جس میں وہ پڑھنے والے کو فکراور جذبہ دونوں کے دام میں اسیر نظر آتے ہیں۔

 

فلسفہ جبر و قدر

موت کے تصور سے اور خاص طور پر اُس وقت جب انسان کی کسی عزیز ہستی کو موت اُچک کر لے گئی ہو ، قلب حساس پر تقدیر کی برتری اور تقدیر کے مقابلے میں انسان کی بے بسی و بے چارگی کا نقش اُبھرنا ایک قدرتی بات ہے۔ اس لئے مرثیے کا آغاز ہی فلسفہ جبر و قدر سے ہوتاہے۔

ذرہ ذرہ دہر کا زندانی تقدیر ہے
پردہ مجبوری و بےچارگی تدبیر ہے

پہلے بند میں بتایا گیا ہے کہ سورج چاند ستارے ، سبزہ و گل اور بلبل غرض دنیا کی ہر شے فطر ت کے جابرانہ قوانین میں جکڑی ہوئی ہے اور قدرت کے تکونی نظام میں ایک معمولی پرزے کی حیثیت سے اپنا فرض ادا کرنے پر مجبور ہے۔

 

انسانی ذہن پر فلسفہ جبر و قدر کا ردعمل

تقدیر کے مقابلے میں اپنی بے چارگی پر رنج و غم کا احساس اور اس پر آنسو بہانا انسان کافطری ردعمل ہے ۔ مگر دوسرے بند میں اقبال کہتے ہیں کہ چونکہ جبر و قدر مشیت ایزدی ہے اس لئے گریہ و زاری اور ماتم نا مناسب ہے۔ آلام ِ انسانی کے اس راز کو پا لینے کے بعد کہ رقص ِ عیش و غم کا یہ سلسلہ خدا کے نظام کائنات کا ایک لازمی حصہ ہے، میں زندگی میں انسان کی بے بسی و بے چارگی پر افسوس کرتا ہوں اور نہ کسی ردعمل کا اظہار کرتا ہوں ۔ لیکن والدہ کی وفات ایک ایسا سانحہ ہے کہ اس پر خود کو گریہ پیہم سے بچانا اور خاموش رہنا میر ے لئے ممکن نہیں ۔

یہاں دوسرے بند کے آخری شعر میں اقبال نے یہ حقیقت بیان کی ہے کہ انسان جس قدر صابر و شاکر کیوں نہ واقع ہوا ہو، زندگی میں کسی نہ کسی موقع پر اس کی قوت برداشت جواب دے جاتی ہے اور وہ بے اختیار آنسو بہانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ایسے عالم میں زندگی کے سارے فلسفے ، ساری حکمتیں اور محکم ضوابط ، دکھی دل کے ردعمل کو روکنے میں ناکام ثابت ہوتے ہیں اوروالدہ مرحومہ کی وفات پر مجھ پر بھی یہی بیت رہی ہے۔

یہ تری تصویر قاصد گریہ پیہم کی ہے
آہ یہ تردید میری حکمت محکم کی ہے

گریہ و زاری کا مثبت پہلو

گریہ وزاری کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اس سے زندگی کی بنیاد مضبوط اور مستحکم ہوتی ہے۔ روح کی آلودگی اور داخلی بے قراری ختم ہونے سے قلب کو ایک گونہ طمانیت اور استحکام نصیب ہوتا ہے اور انسان ایک نئے ولولے اور عزم کے ساتھ زمانے کی سختیوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ نفسیات دان بھی یہ کہتے ہیں کہ رونے سے انسان کا تزکیہ نفس ہوتا ہے۔ اقبال نے اس شعر میں جیسے کہا ہے۔

موج دو دِ آہ سے روشن ہے آئےنہ مرا
گنج آب آورد سے معمرو ہے دامن مرا

والدہ اور بچے کا باہمی تعلق

والدہ کی یاد میں بہائے جانے والے آنسوئوں نے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا ہے۔ سارا میل کچیل آنسوئوں میں تحلیل ہو کر آنکھوں کے راستے خارج ہو گیا ہے۔ اب وہ خود کو بالکل ہلکا پھلکا اور معصوم بچے کی مانند محسوس کرتا ہے۔ شفیق والدہ کی یا د شاعر کو ماضی کے دریچوں میں لے گئی ہے۔ جب وہ چھوٹا سا تھا اور ماں اس ننھی سی جان کو اپنی گودمیں لے کر پیار کرتی اور دودھ پلاتی ۔ اب وہ ایک نئی اور مختلف دنیا میں زندگی بسر کر رہا ہے علم و ادب اور شعر و سخن کی دنیا ہے۔ ایک عالم ان کی شاعری پر سر دھنتا ہے

اور اب چرچے ہیں جس کی شوخی گفتار کے
بے بہا موتی ہیں جس کی چشم گوہر بار کے
علم کی سنجیدہ گفتاری بڑھاپے کا شعور
دینوی اعزاز کی شوکت ، جوانی کا غرور

ماضی اور حال کی ان کیفیات میں زبردست تضاد کے باوجود ، اقبال کے خیال میں ایک عمر رسیدہ بزرگ یا عالم فاضل شخص بھی جب اپنی والدہ کا تصور کرتا ہے۔ تو اس کی حیثیت ایک طفل سادہ کی رہ جاتی ہے جو صحبتِ مادر کے فردوس میں بے تکلف خندہ زن ہوتا ہے۔

زندگی کی اوج گاہوں سے اتر آتے ہیں ہم
صحبت مادر میں طفل ِ سادہ رہ جاتے ہیں ہم

والدہ اور بھائی سے وابستہ یادیں

والدہ کو یاد کرتے ہوئے دور گزشتہ اور اس سے متعلق حالات و واقعات کا یا د آنا سلسلہ خیال کاحصہ ہے۔ اقبال کو وہ دور یا د آتا ہے جب وہ اعلیٰ تعلیم کے لئے یورپ میں مقیم تھے۔ اس زمانے میں امام بی بی مرحومہ ، اقبال کی سلامتی کے لئے فکر مند رہتیں ، راتوں کو اٹھ اٹھ کر ان کی بخیریت واپسی کے لئے دعائیں مانگتیں اور انھیں ہمیشہ اقبال کے خط کا انتظار رہتا۔

کس کو اب ہوگا وطن میں آہ میرا انتظار
کون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرار

یہاں اقبال اپنی والدہ کی عظمت کے اعتراف میں بتاتے ہیں کہ میری تعلیم و تربیت ، میری عظیم والد ہ کے ہاتھوں ہوئی، جن کی مثالی زندگی ہمارے لئے ایک سبق تھی۔ مگر افسوس جب مجھے والدہ کی خدمت کا موقع ملا تو وہ دنیا سے رخصت ہوگئیں ،البتہ بڑے بھائی شیخ عطا محمدنے ایک حد تک والدہ کی خدمت کی اور اب والدہ کی وفات پر وہ بھی بچوں کی طرح رو رہا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ والدہ نے اپنے پیار اور خدمت کے ذریعے اپنی محبت کا جو بیج ہمارے دلوں میں بویا تھا، غم کا پانی ملنے پر اب وہ ایک پودے کی شکل میں ظاہر ہوکر الفت کا تناور درخت بنتا جا رہا ہے۔

تخم جس کا تو ہماری کشت ِ جاں میں بو گئی
شرکتِ غم سے وہ الفت اور محکم ہو گئی

فلسفہ حیات و ممات

والدہ سے وابستہ پرانی یادوں کو یاد کرتے ہوئے شاعر کو تقدیر اور موت کی بے رحمی کا خیال آتا ہے۔ چنانچہ چھٹے بند سے سلسلہ خیال زندگی اور موت کے فلسفے کی طرف مڑجاتا ہے۔ مرثیے کے آغاز میں بھی اقبال نے فلسفہ جبر و قدر پر اظہارخیال تھا مگر یہاں موت اور تقدیر کے جبر کا احساس نسبتاً شدید اور تلخ ہے۔ کہتے ہیں دنیا میں جبر و مشیت کا پھندا اس قدر سخت ہے کہ کسی چیز کو اس سے مفر نہیں۔ قدرت نے انسانوں کی تباہی کے لئے مختلف عناصر (بجلیاں ، زلزلے ، آلام مصائب قحط وغیرہ) کو مامور رکھا ہے۔ ویرانہ ہو یا گلشن ، محل ہو یا جھونپڑی وہ اپنا کام کر جاتے ہیں بےچارہ انسان اس پر آہ بھرنے کے سوا کیا کر سکتا ہے۔

نے مجال شکوہ ہے ، نے طاقت ِ گفتار ہے
زندگانی کیا ہے، اک طوقِ گلو افشار ہے

اس کے بعد اقبال دوسرے رخ کو پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جبرو قدر کی یہ حکمرانی دائمی نہیں، بلکہ عارضی ہے۔ موت مستقلاً زندگی پر غالب نہیں آسکتی ۔ کیونکہ اگر موت کو زندگی پر برتری ہوتی تو پھر زندگی کا نام نشان بھی نظر نہ آتا اور یہ کارخانہ کائنات نہ چل سکتا۔

موت کے ہاتھوں سے مت سکتا اگر نقشِ حیات
عام یوں اس کونہ کر دیتا نظام کائنات

بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اصلاً زندگی اس قدر محبوب ہے کہ اس نے زندگی کو مغلوب نہیں غالب بنایا ہے۔ انسان کوزندگی کے مقابلے میں موت اس لئے غالب نظر آتی ہے کہ اس کی ظاہر میں نگاہیں اصل حقیقت تک پہنچنے سے قاصر رہتی ہیں۔ موت تو ایک عارضی کیفیت کا نام ہے جس طرح انسان لمحہ بھر کے لئے نیند کر کے پھر اُٹھ جاتا ہے۔

مرگ اک ماندگی کا وقفہ ہے
یعنی آگے چلیں گے دم لے کر

آٹھویں بند کے آخر میں اقبال دنیا کی بے ثباتی اور زندگی کی ناپایداری کی ایک توجیہ پیش کرتے ہیں ۔ ان کے خیال میں فطر ت ایک بااختیار خلاق کی حیثیت رکھتی ہے۔ جسے بناو اور بگاڑ پر پوری قدرت حاصل ہے۔فطرت چونکہ خوب سے خوب تر کی جستجو میں رہتی ہے۔ اس لئے اپنے بنائے ہوئے نقوش خود ہی مٹاتی رہتی ہے۔ تاکہ اس تخریب سے تعمیر کا ایک نیا اور مطلوبہ پہلو برآمد ہوسکے۔اس طرح موت اور تخریب کا جواز یہ ہے کہ اس سے حیات ِ نو کی ایک بہتر بنیاد فراہم ہوتی ہے۔

فطرت ہستی شہید آرزو رہتی نہ ہو
خوب تر پیکر کی اس کو جستجو رہتی نہ ہو

عظمت انسان

نویں بند میں اقبال نے نظام کائنات میں انسان کے مقام اور اس کی عظمت کے بارے میں اظہار خیال کیا ہے۔ آغاز ، آسمان میں چمکتے ہوئے ستاروں کے ذکر سے ہوتاہے ۔ اقبال کے خیال میں ستارے اپنی تمام تر آب و تاب ، چمک، دمک اور طوالتِ عمرکے باوجود قدرت کے تکوینی نظام کے بے بس کارندے ہیں اور نہ جانے کب سے ایک محدود دائرے میں اپنا مقررہ فرض ادا کر رہے ہیں ۔ اس کے مقابلے میں انسان کے مقاصد کہیں زیادہ پاکیزہ تر، اس کی نگاہ کہیں زیادہ دور رس اور وسیع اور اس لامحدود کائنات میں اس کا مرتبہ کہیں زیا دہ ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ کہ نظام کائنات میں انسان کا مقام ایسا ہی ہے، جیسے نظام ِ شمسی میں سورج کا مرتبہ اس لئے موت انسان کوفنا نہیں کر سکتی۔ جومثال شمع روشن محفل ِ قدرت میں ہے
آسماں اک نقطہ جس کی وسعت ِ نظر میں ہے

غم و اندوہ کا ردعمل

گیارہویں بند میں اقبال نے انسانی قلب و ذہن پر رنج وغم کے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ لوگوں کا خیال ہے کہ موت کے زہر کا کوئی تریاق نہیں ۔ البتہ زخمِ فرقت کے لئے وقت مرہم ِ شفا کی حیثیت رکھتا ہے۔ مگر اقبال کو اس سے اتفاق نہیں ہے ان کا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ جب انسان کسی شدید مصیبت سے دوچار ہوا اور مصیبت بھی ناگہاں ہو تو صبر و ضبط انسان کے اختیار میں نہیں رہتا۔البتہ ایسے عالم میں انسان کے لئے تسکین کا صرف ایک پہلو نکلتا ہے اور وہ پہلو ہے جس کی طرف اقبال نے نظم کے آغاز میں ذکر کیا ہے ، کہ موت کسی دائمی کیفیت کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عارضی حالت ہے۔ انسان مرتا ہے لیکن فنا نہیں ہوتا اور نہ ہو سکتا ہے۔

جوہر انساں عدم سے آشنا ہوتا نہیں
آنکھ سے غائب تو ہوتا ہے فنا ہوتا نہیں

اسی طرح موت کے وقفہ ماندگی کے بعد انسان پھر بیدار ہو کر اُٹھ کھڑا ہوگا۔ یہ اس کی زندگی کی نئی سحر ہوگی اور پھر وہ ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔ یہ بات بارھویں بند کے آخر تک بیان ہوئی ہے۔

والدہ کے لئے دعا

نظم کے خاتمے پر سلسلہ خیال والدہ مرحومہ کی جانب مڑ جاتا ہے ۔ ابتداءمیں شاعر نے والدہ کی رحلت پر جس بے قراری کا اظہار کیا وہ والدہ سے محبت رکھنے والے مغموم و متاسف بچے کے درد و کرب اور تڑپ کا بے تابانہ اظہارتھا۔ لیکن فلسفہ حیات و ممات پر غور و غوض کے بعد شاعر نے جو نتیجہ اخذ کیا ، وہ ایک پختہ کا مسلمان کی سوچ ہے۔ اقبال نے والدہ کی جدائی کے درد و غم کو اپنی ذات میں اس طرح سمو لیا ہے کہ اب جدائی ایک مقدس اور پاکیزہ کیفیت بن گئی ہے۔

یاد سے تیری دلِ درد آشنا معمور ہے
جیسے کعبے میں دعائوں سے فضا معمور ہے

یوں کہنا چاہیے کہ اقبال نے غم کا ترفع کر لیا ہے۔ وہ والدہ کی وفات اور جدائی پر اس لئے بھی متاسف نہیں کہ موت کے بعد آخرت بھی زندگی ہی کی ایک شکل ہے۔ آخری تین اشعار دعائیہ ہیں۔ اقبال دعا گو ہیں کہ جس طرح زندگی میں والدہ ماجدہ ایک مہتاب کی مانند تھی جن سے سب لوگ اکتساب ِ فیض کرتے تھے۔ خدا کرے ان کی قبر بھی نور سے معمور ہو۔ اور خدا ان کی لحد پر بھی اپنی رحمت کا نزول فرماتا رہے۔ سبزہ نورستہ خدا کی رحمت کی علامت ہے۔

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

فنی جائزہ

”والدہ مرحومہ کی یاد میں “ درحقیقت ایک مرثیہ ہے۔ اس کی ہیئت ترکیب بند کی ہے۔ مرثیہ بحرِ رمل مثمن مخدوف الآخر میں ہے۔ ارکان یہ ہیں

فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن

لہجے کا تنوع

”والدہ مرحومہ کی یاد میں “ ایک مرثیہ ہونے کی بنا پر اپنے موضوع کی مناسبت سے معتدل ، نرم اور دھیما لہجہ رکھتا ہے۔ جن مقامات پر انسان کی بے بسی ، قدرت کی جبریت اور زندگی کی بے ثباتی کا ذکر ہوا ہے وہاں لہجے کاسخت اور پر جوش ہونا ممکن ہی نہیں ۔ جن حصوں میں شاعر نے اپنی والدہ سے وابستہ یادِ رفتہ کو آواز دی ہے وہاں اس کے لہجے میں درد و کرب اور حسرت و حرماں نصیبی کی ایک خاموش لہر محسوس ہوتی ہے۔اس حسرت بھری خاموشی کو دھیمے پن سے بڑی مناسبت ہے۔ شاعر کے جذبات کے اتار چڑھاو نے بھی اس کے دھیمے لہجے کا ساتھ دیا ہے۔ پھر الفاظ کے انتخاب ، تراکیب کی بندش اور مصرعوں کی تراش سے بھی یہی بات آشکار ا ہے۔

زندگی کی اوج گاہوں سے اتر آتے ہیں ہم
صحبت مادر میں طفلِ سادہ رہ جاتے ہیں ہم

 

سوز و گداز

زیر مطالعہ مرثیہ اپنے تاثرکے اعتبار سے اقبال کے تمام مرثیوں میں ایک جداگانہ حیثیت رکھتا ہے۔ غلام رسول مہر کے بقول اس کے اشعار اتنے پرتاثیر ہیں کہ الفاظ میں ان کی کیفیت بیان نہیں ہو سکتی۔ غالباً یہ مرثیہ شعر و ادب کی پوری تاریخ میں بالکل یگانہ حیثیت رکھتا ہے اور شاید ہی کوئی دوسری زبان اس قسم کی نظم پیش کر سکے ۔ اس انفرادیت اور اثر انگیزی کا سبب اس کا وہ سوز و گداز ہے جس سے نظم کے کسی قاری کا غیر متاثر رہنا ممکن نہیں۔

تجھ کو مثلِ طفلکِ بے دست و پا روتا ہے وہ
صبر سے ناآشنا صبح و مسا روتا ہے وہ

علامہ اقبال نے اس کی ایک نقل اپنے والد محترم شیخ نو رمحمد کو بھیجی تھی۔ روایت ہے کہ مرثیہ پڑھتے ہوئے اس کے سو ز و گداز سے ان پر گریہ طاری ہو جاتا اور وہ دیر تک روتے رہتے۔ مرثیے میں یہ سوز و گداز اس وجہ سے پیدا ہوا کہ اقبال کے پیش نظر یہ ایک جذباتی موضوع تھا۔

 

فارسیت

یہ مرثیہ بھی اقبال کی ان نظموں میں سے ہے جن پر فارسی کا غالب اثر ہے۔ بحیثیت مجموعی پوری نظم پر ایک نظر دوڑانے سے یہی احساس ہوتا ہے ۔ مصرعوں کی تراش اور تراکیب کی بناوٹ بھی اسی پر شاہد ہے۔

خفتگانِ لالہ زار و کوہسار و رودبار
ہوتے ہیں آخر عروس زندگی سے ہمکنار

 

حسن بیان کے چند پہلو

خالص فنی اعتبار سے مرثیہ حسنِ بیان کا ایسا خوبصورت نمونہ ہے جس کی مثال اردو شاعری میں شائد ہی ملے گی۔ رشید احمد صدیقی کہتے ہیں،

” فن کا کمال ہی یہ ہے کہ فن کے سارے وسائل کام میں لائے گئے ہوں لیکن ان میں ایک بھی توجہ پر بار نہ ہو۔“

نظم میں زبان و بیان او ر صنائع بدائع کے وسائل غیر شعوری طور پر استعمال کئے گئے ہیں ۔حسن بیان کے چند پہلو ملاحظہ ہوں۔

تشبیہات:۔

یاد سے تیری دل درد آشنا معمور ہے
جیسے کعبے میں دعائوں سے فضا معمور ہے

صنعت مراعاة النظیر:۔

زلزلے ہیں ، بجلیاں ہیں ، قحظ ہیں آلام ہیں
کیسی کیسی دخترانِ مادرِ ایام ہیں

صنعت طباق ایجابی:۔ علم کی سنجیدہ گفتاری ، بڑھاپے کا شعور
دینوی اعزاز کی شوکت ، جوانی کا غرور

صنعت ترافق:۔

دفتر ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیات
تھی سراپا دین و دنیا کا سبق تیری حیات

صنعت ایہام تضاد:۔

مثل ِ ایوانِ سحر مرقد فروزاں ہو ترا
نو رسے معمور یہ خاکی شبستا ں ہو ترا

قافیوں کی تکرار:۔

دل مرا حیراں نہیں ، خنداں نہیں گریاں نہیں
خفتگانِ لالہ زار و کوہسار و رود بار

محاکات:۔

زندگی کی اوج گاہوں سے اتر آتے ہیں ہم
صحبت مادر میں طفل ِسادہ رہ جاتے ہیں ہم

مجموعی جائزہ

نظم کو پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ جدا ہونے عزیز ہستی کے بارے میں اقبال کا طرز فکر اور پیرایہ اظہار ایک سچے مومن اور راسخ العقیدہ مسلمان کا ہے۔ جو والدہ کو خدا کے سپرد کرتے ہوئے دست بہ دعا ہیں کہ باری تعالیٰ مرحومہ کی قبر کو نور سے بھر دے اور اس پر اپنی رحمت کی شبنم افشانی کرتا رہے۔

نظم کے بارے میں سید وقار عظیم لکھتے ہیں،

” اقبال کی شخصیت دو مختلف اندازوں میں جلوہ گر ہوئی۔ ایک شخصیت تو اقبال کی وہی فلسفیانہ شخصیت ہے۔ جس کی بدولت اقبال کو اردو شاعری میں ایک منفرد حیثیت ملی ہے۔ اور دوسری حیثیت اس مجبور اور مغموم انسان کی ہے جو ماں کی یاد میں آنسو بہاتے وقت یہ بھول جاتا ہے کہ وہ ایک مفکر اور فلسفی بھی ہے۔“

خودی

اقبال کا پیغام یا فلسفہ حیات کیا ہے اگر چاہیں تو اس کے جواب میں صرف ایک لفظ ”خودی“ کہہ سکتے ہیں اس لئے کہ یہی ان کی فکر و نظر کے جملہ مباحث کا محور ہے اور انہوں نے اپنے پیغام یا فلسفہ حیات کو اسی نام سے موسوم کیا ہے۔ اس محور تک اقبال کی رسائی ذات و کائنات کے بارے میں بعض سوالوں کے جوابات کی تلاش میں ہوئی ہے۔ انسان کیا ہے؟ کائنات اور اس کی اصل کیا ہے؟ آیا یہ فی الواقع کوئی وجود رکھتی ہے یا محض فریب نظر ہے؟ اگر فریب نظر ہے تو اس کے پس پردہ کیاہے؟ اس طرح کے اور جانے کتنے سوالات ہیں جن کے جوابات کی جستجو میں انسان شروع سے سرگرداں رہا ہے۔اس طرح کے سوالات جن سے انسان کے وجود کا اثبات ہوتا ہے۔ اردو شاعری میں اقبال سے پہلے غالب نے بھی اُٹھائے تھے۔

جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں
ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے

لیکن اقبا ل کے سوالات و جوابات کی نوعیت اس سلسلے میں غالب سے بہت مختلف ہے، یہ غالب نے ”عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے“ اور ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے۔“ کے عقیدے سے قطع نظر کرکے ، وجدانی طور پر ایک لمحے کے لئے محسوس کیا ہے اسے بیان کر دیا ہے اقبال نے ان سوالوں کے جواب میں دلائل و برہان سے کام لیا ہے۔ اور اسے ایک مستقل فلسفہ حیات میں ڈھال دیا ہے۔

اگر گوئی کہ من وہم و گماں است
نمودش چوں نود ایں و آں است

یہی فلسفہ حیات ہے جو بعض عناصرِخاص سے ترکیب پا کر اقبال کے یہاں مغرب و مشرق کے حکمائے جدید سے بالکل الگ ہوگیا ہے اس کا نام فلسفہ خودی ہے اور اقبال اسی کے مفسر و پیغامبر ہیں ۔ اس فلسفے میں خدابینی و خودبینی لازم و ملزوم ہیں۔ خود بینی ، خدابینی میں سے خارج نہیں بلکہ معاون ہے۔ خودی کا احساس ذات خداوند ی کا ادراک اور ذات ِ خداوندی کا ادراک خودی کے احساس کا اثبات و اقرار ہے خدا کو فاش تر دیکھنے کے لئے خود کو فاش تر دیکھنا از بس ضروری ہے۔ اگر خواہی خُدارا فاش دیدن
خودی رافاش تر دیدن بیا موز

 

اقبال کا تصور ِ خودی

تصو ر خودی کو اقبال کے فلسفہ حیات و کائنات میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اگر خودی کے تصور کو سمجھ لیا جائے تو اقبال کی شاعری کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے اقبالیات کے ہر نقاد نے خودی پر کسی نہ کسی شکل میں اظہار خیال کیا ہے۔ڈاکٹر سےد عبداللہ اس سلسلے میں لکھتے ہیں۔

”خودی خود حیات کا دوسرا نام ہے۔ خودی عشق کے مترادف ہے۔ خودی ذوق تسخیر کا نام ہے۔ خودی سے مراد خود آگاہی ہے۔ خودی ذوق طلب ہے ۔ خودی ایمان کے مترادف ہے۔ خودی سرچشمہ جدت و ندرت ہے۔ خودی یقین کی گہرائی ہے۔ خودی سوز حیات کا سرچشمہ ہے اور ذوق تخلیق کا ماخذ ہے۔“

اقبال کے ہاں خودی سے مراد

خودی فارسی زبان کا لفظ ہے جو لغوی اعتبار سے درج ذےل معانی رکھتا ہے ١) انانیت، خود پرستی ، خود مختاری ، خود سری ، خود رائی

ب) خود غرضی

ج) غرور ، نخوت ، تکبر

”خودی“ کا لفظ اقبال کے پیغا م یا فلسفہ حیات میں تکبر و غروریا اردو فارسی کے مروجہ معنوں میں استعمال نہیں ہوا۔ خودی اقبال کے نزدیک نا م ہے احساسِ غیرت مندی کا ،جذبہ خوداری کا اپنی ذات و صفات کا پاس و احساس کا، اپنی انا کو جراحت و شکست سے محفوظ رکھنے کا، حرکت و توانائی کو زندگی کا ضامن سمجھنے کا، مظاہراتِ فطرت سے برسر پیکار رہنے کا اور دوسروں کا سہارا تلاش کرنے کے بجائے اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کا۔ یوں سمجھ لیجئے کہ اقبال کے نقطہ نظر سے ”خودی“ زندگی کا آغاز ، وسط اور انجام سبھی کچھ ہے فرد وملت کی ترقی و تنزل ، خود ی کی ترقی و زوال پر منحصر ہے۔ خودی کا تحفظ ، زندگی کا تحفظ اور خودی کا استحکام ، زندگی کا استحکام ہے۔ ازل سے ابد تک خودی ہی کی کارفرمائی ہے۔ اس کی کامرانیاں اور کار کشائیاں بے شمار اور اس کی وسعتیں اور بلندیاں بے کنار ہیں۔اقبال نے ان کا ذکر اپنے کلام میں جگہ جگہ نئے انداز میں کیا ہے۔

خودی کیا ہے راز دورنِ حیات
خودی کیا ہے بیدارئی کائنات
ازل اس کے پیچھے ابد سامنے
نہ حداس کے پیچھے نہ حد سامنے
زمانے کی دھارے میں بہتی ہوئی
ستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئی
ازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیر
ہوئی خاک ِ آدم میں صورت پذیر
خودی کا نشیمن ترے دل میں ہے
فلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہے

کہیں یہ ظاہر کیا ہے کہ لاالہ الا اللہ کا اصل راز خودی ہے توحید ، خودی کی تلوارکو آب دار بناتی ہے اور خودی ، توحید کی محافظ ہے۔

خودی کا سرِ نہاں لاالہ الا اللہ
خودی ہے تیغ فساں لاالہ الا اللہ

کہیں یہ بتایا ہے کہ انسان کی ساری کامیابیوں کا انحصار خودی کی پرورش و تربیت پر ہے۔ قوت اور تربیت یافتہ خودی ہی کی بدولت انسان نے حق و باطل کی جنگ میں فتح پائی ہے۔ خودی زندہ اور پائندہ ہو تو فقر میں شہنشائی کی شان پیدا ہو جاتی ہے۔ اور کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی تصرف میں آجاتا ہے۔

خودی ہے زندہ تو ہے فقر میں شہنشاہی
ہے سنجرل و طغرل سے کم شکوہِ فقیر
خودی ہو زندہ تو دریائے بیکراں پایاب
خودی ہو زندہ تو کہسار پر نیاں و حریر

ڈاکٹر افتخار صدیقی” فروغِ اقبال “ میں اقبال کے نظریہ خودی کے بارے میں رقمطراز ہیں۔

” نظریہ خودی ، حضرت علامہ اقبال کی فکر کا موضوع بنا رہا ۔ جس کے تما م پہلوئوں پر انہوں نے بڑی شرح و بسط کے ساتھ روشنی ڈالی ہے ۔ اقبال نے ابتداءہی میں اس بات کو واضح کر دیا کہ خودی سے ان کی مراد غرور و نخوت ہر گز نہیں بلکہ اس سے عرفان ِ نفس اور خود شناسی مراد ہے۔“

چنانچہ ”اسرار خودی“ کے پہلے ایڈیشن کے دیباچے میں لکھتے ہیں،

” ہاں لفظ”خودی “ کے متعلق ناظرین کو آگاہ کردینا ضروری ہے کہ یہ لفظ اس نظم میں بمعنی ”غرور “استعمال نہیں کیا گیا جیسا کہ عام طور پر اُردو میں مستعمل ہے اس کا مفہوم محض احساس نفس یا تعینِ ذات ہے۔“ تقریباً یہی مفہوم اقبال کے اس شعر میں ادا ہوا ہے۔

خودی کی شوخی و تندی میں کبر و ناز نہیں
جو ناز ہو بھی تو بے لذت نیاز نہیں

اقبال کے تصور ِ خودی میں صوفیانہ فکر کے بیشتر عناصر ملتے ہیں لیکن صوفیوں کی خودی کا تصور روحانی ہوتا ہے ان کی روحانی انا اس درجہ محکم ہے کہ وہ مادی خودی کو وجود ِ مطلق کا جز قرار دیتے ہیں۔ جبکہ اقبال خودی کے مادی لوازم کو نظر انداز نہیں کرتے اور اس مادی خودی کو بھی بر حق اگرچہ تغیر پذیر جانتے ہیں، صوفی وجود اور خودی کو تسلیم کرلینے کے بعد فنائے خودی میں اپنی نجات سمجھتا ہے۔ اُس کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اس خودی کو بے خودی میں بد ل دے تاکہ وہ اپنی اصل سے مل جائے ۔ صوفی اسے ترکِ خود یا نفی خود کے نام سے یاد کرتے ہیں جبکہ اقبال عارضی خودی کی اہمیت تسلیم کرتے ہیں اور بے خودی تک پہنچنے کے لئے خودی کو ہی ذریعہ اور وسیلہ بناتے ہیں۔

  اقبال کے تصور خودی کے ماخذ

اقبال کے تصور خودی کا ماخذ ڈھونڈنے کے لئے نقادوں نے طرح طرح کی قیاس آرائیاں کیں ۔ اس سلسلے میں نطشے، برگساں ، ہیگل، اور لائڈ ماتھر وغیر ہ کا نام لیا گیا ۔ جبکہ خود اقبال نے اس قسم کے استفادے سے انکار کیا۔ خلیفہ عبد الحکیم کے خیال میں اقبال نطشے سے نہیں فشٹے سے متاثر تھے۔ کیونکہ نطشے تو منکر خدا ہے۔ اقبال کو نطشے کی تعلیم کا وہی پہلو پسند ہے جو اسلام کی تعلیم کا ایک امتیازی عنصر ہے۔ اگرچہ ”اسرار خودی“ کے اکثر اجزاءفلسفہ مغرب سے ماخوذ ہیں اور یہاں مسلمان فلسفیوں کے خیالات بہت کم ہیں لیکن اسلامی تصوف میں عشق کا نظریہ اقبال نے مولانا روم سے لیا ہے۔ اور اقبال کی شاعری کا انقلاب انگیز پیغام دراصل رومی کے فیض کا نتیجہ ہے۔ اس بارے میں عبدا لسلام ندوی لکھتے ہیں کہ،

” خودی کا تصور ڈاکٹر صاحب کے فلسفہ کی اساس ہے اور اسی پر ان تما م فلسفیانہ خیالات کی بنیاد ہے بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ یورپین فلسفہ بالخصوص نطشے سے ماخوذ ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس تخیل کو ڈاکٹر صاحب نے مولانا روم سے اخذ کیا ہے۔“

بقول خلیفہ عبدالحکیم ،

”رومی انفرادی بقا ءکا قائل ہے اور کہتا ہے کہ خدا میں انسان اس طرح محو نہیں ہو جاتا جس طرح کہ قطرہ سمندر میں محو ہو جاتا ہے۔ بلکہ ایسا ہوتا ہے جیسے کہ سورج کی روشنی میں چراغ جل رہا ہے جیسے لوہا آگ میں پڑ کر آگ ہو جاتا ہے لیکن اس کے باوجود اس کی انفرادیت باقی رہتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے فلسفہ خودی کے لئے بھی یہی نظریہ مناسب تھا اس لئے انہوں نے اس کو مولانا روم سے اخذ کیا ہے۔“ اس سے یہ مطلب نہیں سمجھنا چاہیے کہ ڈاکٹر صاحب کے فلسفے کی اپنی کوئی حیثیت نہیں بلکہ اُن کے فلسفہ خودی کے تمام اساسی مضامین درحقیقت قرآن سے ماخوذ ہیں۔

 خودی اور فطرت

اقبال کے نزدیک خودی اپنی تکمیل اور استحکام کے لئے غیر خودی سے ٹکراتی ہے جس نسبت سے کوئی شے خودی میں مستحکم اور غیر خو د پر غالب ہے اُسی نسبت سے اُس کا درجہ مدارج حیات میں نفیس ہوتا ہے۔مخلوقات میں انسان اس لئے برتر ہے کہ اس کی ذات میں خودی ہے ۔ اور اس خودی سے فطرت ِ انسانی مشاہدہ کی پابند ہے۔ اقبال کہتا ہے کہ خودی کی منزل زمان و مکاں کی تسخیر پر ختم نہیں ہوتی شاعر کا چشمِ تخیل انسان کی جدوجہد و عمل کے لئے نئے نئے میدان دکھاتا ہے۔

خودی کی یہ ہے منزل اولیں
مسافر یہ تیرا نشیمن نہیں
تری آگ اس خاکداں سے نہیں
جہاں تجھ سے تو جہاں سے نہیں

  خودی اور عشق

خودی کو آگے بڑھانے میں ایک چیز بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اقبال نے اسے کبھی آرزو اور کبھی عشق کا نام دیا ہے۔ ارتقائے خودی میں عشق سب سے بڑا محرک ثابت ہوتا ہے۔

عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بم
عشق سے مٹی کی تصویروں میں سوزِ دم بدم
اقبال نے عشق کے کئی مدارج بیان کئے ہیں،
عشق فقیہہ حرم ، عشق امیر جنود
عشق ہے ابن اسبیل ، اس کے ہزاروں مقام

چنانچہ کہیں عشق جمالی صورت اختیار کر لیتا ہے اور کہیں جلالی رنگ میں جھلک دکھاتا ہے۔

عشق کے مضراب سے نغمہ تارِ حیات
عشق سے نورِ حیات عشق سے نارِ حیات

ڈاکٹر عابد حسین ”خودی اور عشق کا راستہ واضح کرتے ہوئے اپنے مضمون’ ’ اقبال کا تصور خودی میں لکھتے ہیں،

” اس راہ میں ایک رہنما کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اور وہ رہنما عشق ہے عشق اُس مرد ِکامل کی محبت کو کہتے ہیں جو معرفت نفس کے مدارج سے گزر کر خودی کی معراج پر پہنچ چکا ہے۔“

مردِ خدا کاعمل ، عشق سے صاحب فرو غ
عشق ہے اصلِ حیات ، موت ہے اس پر حرام

  خودی اور فقر

طلب و ہدایت کے لئے کسی مرد ِ کامل کے آگے سرِ نیاز جھکانا توخودی کو مستحکم کرتا ہے۔ لیکن مال و دولت و منصب کے لئے دست نگر ہونا اس ضعیف بناتا ہے۔ گدائی صرف اِ سی کا نام نہیں کہ مفلس دولت مند کا طفیلی بن جائے بلکہ دولت جمع کرنے کا ہروہ طریقہ جس میں انسان محنت نہ کرے بلکہ دوسروں کی محنت سے فائدہ اُٹھائے اقبال کے نزدیک گداگری ہے۔ حتیٰ کہ بادشا ہ جو غریبوں کی کمائی پر بسر کرتا ہے سوال و گداگر ی کا مجرم ہے

میکدے میں ایک دن ایک مرد زیرک نے کہا
ہے ہمارے شہر کا سلطان گدائے بے نوا

اس کے نعمت خانے کی ہر چیز ہے مانگی ہوئی
دینے والا کون ہے مرد ِ غریب و بے نوا

گدائی اور فقر میں زمین و آسمان کا فرق ہے گدائی مال کی حاجت میں دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلا تا ہے جبکہ فقر مادی لذتوں سے بے نیاز کائنات کی تسخیر کرنا، فطرت پر حکمرانی اور مظلوموں کو ظالموں کے پنجے سے نجات دلانا ہے۔

ایک فقر سکھاتا ہے صیاد کو نخچھری
اک فقر سے کھلتے ہیں اسرارِ جہانگیری
اک فقر سے قوموں میں مسکینی و دلگیری
اک فقر سے مٹی میں خاصیت ِ اکسیری

تربیت خودی کے تین مراحل

خودی سے تعمیری کام لینے کے لئے اس کی تربیت ضروری ہے بے قید و بے ترتیب خودی کی مثال شیطان ہے۔ اقبال بھی گوئٹے کی طرح اسے تخلیق کی عظیم الشان قوت سمجھتے ہیں جو صراط ِ مستقیم سے بھٹک گئی ہے۔خودی کی منازل کے علاوہ تربیت خودی کے مراحل انتہائی اہم ہیں یہ مراحل تین ہیں ۔

1) اطاعت الہٰی:۔ اقبال کے نزدیک خودی کا پہلا درجہ اطاعت ہے یعنی کہ اللہ کے قانون ِ حیات کی پابندی کرنا

2) ضبط نفس:۔ دوسرا درجہ ضبط نفس ہے انسان نفس کو جس کی سرکشی کی کوئی حد نہیں قابو میں لائے

3) نیابت الہٰی:۔ ان دونوں مدار ج سے گزرنے کے بعد انسان اس درجے پر فائز ہو جائے گا ۔

جسے انسانیت کا اوج کمال سمجھنا چاہیے ۔ یہ نیابت الہٰی کا درجہ ارتقائے خودی کا بلند ترین نصب العین ہے۔

 خودی اور خدا کا تعلق

طالب خودی ”مرد خدا“ کی محبت اس قدر برتر اور سرشار ہوتی ہے اور کیف و سرور کی وجہ سے خدا کی اتنی محبت اس کے دل میں پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ خودی کے کل مراحل طے کرنے کے باوجود اپنے آپ کو ناتمام محسوس کرتا ہے اسی کشش کا نام عشق ِ حقیقی ہے۔

عشق بھی ہو حجاب میں ، حسن بھی ہو حجاب میں
یا تو خود آشکار ہو، یا مجھے آشکار کر
تو ہے محیطِ بیکراں ، میں ہوں ذرا سی آب جو
یا مجھے ہم کنار کر ، یا مجھے بے کنا ر کر

متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندی
مقام ِ بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی

بندگی میں انسان کو سکون ملتا ہے بحرحال یہ جدائی انسان کے لئے مبارک ہے کیونکہ یہی خودی وجہ حیات ہے۔

  بے خودی

اقبال کے فلسفہ خودی کی تفصیلات اور جزئیات کے مطالعہ سے اس قانون کا علم ہوتا ہے جس پر عمل کرکے انسان اس درجہ کو پالینے کے قابل ہو جاتا ہے جو اسے حقیقتاً خلیفتہ اللہ کے منصب کا اہل بنا دیتا ہے۔ اس قانون کی پابندی خودی کی تکمیل کے لئے لازمی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ انسان تنہائی کی زندگی نہیں گزارتا وہ لازماً کسی معاشرہ ، کسی قوم اور کسی ملت کا فرد ہوتا ہے۔ فرد اور ملت کے درمیان رابطہ کے بھی کچھ اصول اور قوانین ہوتے ہیں اسی رابطے اور قوانین و اصولوں کواقبال نے بے خودی سے تعبیر کیا ہے

اس رابطہ کو واضح کرنے کے لئے اقبال نے تصوف کی ایک مشہور اصطلاح استعمال کی ہے۔ فارسی اور اردو کے صوفی شعرا نفس انسانی کو قطرے سے اور ذات ایزدی کو دریا سے تشبیہ دیتے آئے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ ” عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا“ لیکن اقبال نے اس تمثیل کو فرد اور ملت کے درمیان ربط و تعلق ظاہر کرنے کے لئے استعما ل کیا ہے۔ فرد کی مثال ایک قطرہ کی ہے اور ملت دریا کی طرح ہے۔ مگر اقبال کی نظر میں یہ قطرہ ، دریا میں مل جانے کے بعد اپنی ہستی کو فنا نہیں کر ڈالتا بلکہ اس طریقہ سے اس کی ہستی مزید استحکام حاصل کر لیتی ہے۔ وہ بلند اور دائمی مقاصد سے آشنا ہو جاتا ہے ۔ اس کی قوتیں منظم اور منضبط ہو جاتی ہیں اور اس کی خودی پائیدار اور لازوال بن جاتی ہے۔

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

دراصل ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بے خودی سے اقبال کی مراد اجتماعی خودی ہے۔

  انفرادی خودی اور اجتماعی خودی کا تعلق

ڈاکٹر سید عبداللہ ”طیف اقبال ‘ ‘ میں اس موضوع پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں

”خودی کی ایسی صورت جو اپنے علاوہ دوسرے انسانوں کو نظر انداز کر ے وہ تخریب اور بگاڑ کی ایک شکل ہے۔ لہٰذا انسانی تجربے نے بتا یا کہ خودی کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ہم رنگ قسم کی خودی ، شعور، سے متحد ہو جاتی ہے۔ یہاں سے ایک اجتماعی خودی کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ جس طرح افراد کا شعور ایک جزو ہوتا ہے، اسی طرح اجتماعی خودی کا شعور بھی انفرادی خودی کے مانند ہم رنگ کے ساتھ شیرازہ بند ہوتا ہے۔

گویا انفرادی خودی اور اجتماعی خودی ایک دوسرے سے متضاد اور متصادم نہیں ہیں ۔ بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ فرد اپنی خودی کے ارتقاءاو ر استحکام کے بعد ملت کا ایک بیش قیمت سرمایہ بنتا ہے۔ اور ملت اپنے آئین اور قوانین کو فرد پر لاگو کرکے اُس کی خودی کو تعمیری اور تخلیقی حدود کی پابند رکھتی ہے۔ یہی وہ حقیقی ربط ہے جو فرد اور ملت کے درمیان لازماً موجود ہونا چاہیے۔یعنی اقبال کی بے خودی دراصل ملت اسلامیہ یا اسلامی ریاست کا قیام ہے۔ جس کے قانون کے اندر رہتے ہوئے خودی کے مکمل اور بہترین تربیت ہو سکتی ہے۔

  تکمیل خودی کے لئے ملت اسلامیہ کی ضرورت

مندرجہ بالا بحث سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ خالص فلسفیانہ نظریے کی حد تک انسانیت کا ایک عالمگیر تصور ممکن ہے۔ لیکن جب اس تصور کو ایک معین اور زندہ نصب العین کی صورت دی جائے تو وسیع سے وسیع نظر رکھنے والا شخص بھی اس بات پر مجبور ہو جاتا ہے کہ انسانیت کی تکمیل کا معیار کسی خاص ملت کو بنائے۔ اقبال کے نزدیک ملت بیضائے اسلام اس معیار پر پوری اترتی ہے۔ ان کی نظر میں انسان کی خودی کی حقیقی تکمیل اور فرد و ملت کا متوازن ربط صرف اسلام ہی کی ذریعہ ممکن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فرد ملت کا متوازن ربط صرف اسلام ہی کے ذریعہ ممکن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام میں فرد اور ملت کا رشتہ نسل یا وطن کے روابط کی بنیاد پر استوار نہیں ہوتا بلکہ توحید اور رسالت کا وسیع اور ہمہ گیر عقیدہ اس کی بنیاد بنتا ہے۔

جہاں تک فرد کا تعلق ہے اسے حقیقی آزادی ملت اسلامیہ کے اندر ہی حاصل ہوئی کیونکہ اسی ملت نے نوع انسان کو حقیقی معنوں میں حریت، مساوات، اور اخوات کا نمونہ دکھایا ۔ توحید کے عقیدہ نے نسل و انسب کے امتیاز کو مٹا دیا ۔ غریبوں کو امیروں اور زیر دستوں کو زبردستوں کے تسلط سے آزاد کرکے عدل و انصاف کے اعلیٰ ترین معیار کو قائم کئے اور اسلام کے رشتوں سے انسانوں کو ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا ۔ دوسری جانب جماعت کے بارے میں بھی یہی ملت اعلیٰ ترین معیار قائم کرتی ہے۔ڈاکٹر سید عبداللہ اس سلسلہ میں فرماتے ہیں

”ملت محمد کوانسانی اجتماعی خودی کے لئے ایک مثالی جماعت کہا جاسکتا ہے۔

 بے خودی سے خودی کا استحکام

آخر ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ فرد کے لئے جس طرح اپنی خودی کی تربیت ، ارتقاءاور استحکام ضروری ہے اسی طرح اس خودی کو ایک آئین اور قانون کی حدود میں لانا بھی ضروری ہے۔ یہ آئین اور قانون وہ ملت مہیا کرتی ہے۔ جس میں وہ فرد رکن ہوتا ہے۔ اس آئین کی حدود میں آنے کے بعد وہ تمام افراد جن کی انفرادی خودی تربیت کے مراحل سے گزر چکی ہے، ایک اجتماعی خودی کو تشکیل دیتے ہیں۔ یہ اجتماعی خودی مربوط ہو جانے کے بعد ایک جگہ پھر افراد کی انفرادی خودی کے تحفظ اور استحکام کے وسائل پیدا کرتی ہے۔

لیکن ایسی ملت جو انفرادی اور اجتماعی طور پر خودی کی تربیت اور استحکام کے وسائل پیدا کر سکے اور دنیا میں منشائے خداوندی کو پورا کرنے کا باعث بن سکے۔ وہ صرف ملتِ اسلامیہ ہی ہو سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ اور کسی قوم میں وہ خصوصیات موجود نہیں جو ایک عالمگیر انسانی برادری کی تشکیل کرنے کے لئے ضروری ہیں۔ صرف ملت اسلامیہ ہی وہ قوم ہے جو رنگ ، نسل ، زبان ، ملک ، علاقہ اور قبیلہ جیسے محدود امتیازات کو ختم کرکے ایک وسیع انسانی برادری کا تصور دیتی ہے۔ ایسا ہمہ گیر اور وسیع تصور دنیا کی اور کسی قوم کے پاس موجود نہیں ہے۔

 احساسِ خودی کی توسیع

بے خودی یا اجتماعی خودی کی تشکیل کے بعد ملت کے احساس خودی کی تو سیع کے لئے جن ذرائع کی ضرورت ہے وہ علم ِ کائنات اور تسخیر کائنات ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی لازمی ہے کہ ملت اپنی تاریخ اور روایات کی حفاظت کرے ۔ تاریخ اقوام کی زندگی کے لئے قوتِ حافظہ کا درجہ رکھتی ہے۔ اور حافظہ ہی وہ چیز ہے جس سے مختلف ادراکات کے درمیان ربط اور تسلسل پیداہوتا ہے۔ خارجی حیات کے ہجوم میں ”میں “ یا ”ان “ کا مرکز حافظہ کے ذریعے ہی ہاتھ آٹا ہے ۔ گویا حافظہ کے ذریعے فرد اپنے احساس ِ خودی کی حفاظت کرتا ہے اس طرح تاریخ کے ذریعہ ملت کی زندگی کے مختلف ادوار میں ربط اور تسلسل پیدا ہوتا ہے۔ یہی شیرازہ بندی ہے اس کے شعورِ خودی کی کفیل اور اس کے بقائے دوام کی ضامن بنتی ہے۔ دنیا میں وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو اپنے حال کا رشتہ ایک طرف ماضی سے اور دوسری طرف مستقبل سے استوار رکھتی ہے۔

تمام بحث سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ اقبال بے خودی یا اجتماعی خودی کی صورت میں ایک ایسی ملت یا ریاست کا تصور پیش کرتے ہیں جس کے زیر اثر رہتے ہوئے انفرادی خودی کو استحکام اور دوام حاصل ہو سکے۔

  مجموعی جائزہ

الغرض خودی کا تصور اقبال کی شاعری کا بنیادی تصور ہے جس کے بغیر ہم اقبال کی شاعری کا تصور بھی نہیں کرسکتے یہ اقبال کے فلسفہ حیات کی بنیادی اینٹ ہے خودی کا لفظ اقبال نے غرور کے معنی میں استعمال نہیں کیا بلکہ اس کا مفہوم احساسِ نفس یا اپنی ذات کا تعین ہے یہ ایک چیز ہے ، جس کے بارے میں احادیث میں بھی موجود ہے۔

ترجمہ:۔ ”یعنی جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا“

یوں سمجھ لیجئے کہ اقبال ہمیں اپنی ذات کے عرفان کا جو درس دے رہے ہیں وہ دراصل اپنے رب کو پہچاننے کی تلقین کا دوسرا نام ہے۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

اقبال اور مغربی تہذیب

مغربی تہذیب سے مراد وہ تہذیب ہے جو گذشتہ چا ر سو سالوں کے دوران یورپ میں اُبھری اس کا آغاز سولہویں صدی عیسوی میں اُس وقت سے ہوتا ہے جب مشرقی یورپ پر ترکوں نے قبضہ کیا ۔ یونانی اور لاطینی علوم کے ماہر وہاں سے نکل بھاگے اور مغربی یورپ میں پھیل گئے یورپ جو اس سے قبل جہالت کی تاریکی میں بھٹک رہا تھا ان علماءکے اثر سے اور ہسپانےہ پر عیسائیوں کے قبضہ کے بعد مسلمانوں کے علوم کے باعث ایک نئی قوت سے جاگ اُٹھا ۔ یہی زمانہ ہے جب یورپ میں سائنسی ترقی کا آغاز ہوا۔ نئی نئی ایجادات ہوئیں اُن کے باعث نہ صرف یورپ کی پسماندگی اور جہالت کا علاج ہوگیا۔ بلکہ یورپی اقوام نئی منڈیاں تلاش کرنے کے لئے نکل کھڑی ہوئیں ان کی حریصانہ نظریں ایشیاءاور افریقہ کے ممالک پر تھیں۔ انگلستان ، فرانس ، پرُ تگال اور ہالینڈ سے پیش قدمی کی اور نت نئے ممالک کو پہلے معاشی اور پھر سےاسی گرفت میں لیتا شروع کر دیااس طرح تھوڑے عرصہ میں ان اقوام نے ایشیاءاور افریقہ کے بیشتر ممالک پر قبضہ کرکے وہاں اپنی تہذیب کو رواج دیا اس رواج کی ابتداءیونانی علوم کی لائی ہوئی آزاد خیالی اور عقلی تفکر سے ہوئی۔ جس نے سائنسی ایجادات کی گود میں آنکھ کھولی تھی۔ سائنسی ایجادات اور مشینوں کی ترقی نے اس تہذیب کو اتنی طاقت بخش دی تھی کہ محکوم ممالک کا اس نے حتیٰ المقدور گلا گھونٹنے کی کوشش کی۔ وہاں کے عوام کی نظروں کو اپنی چکاچوند سے خیرہ کر دیا اور وہ صدیوں تک اس کے حلقہ اثر سے باہر نہ آسکے ۔ مسلمان ممالک خاص طور پر اس کا ہدف بنے ۔ ترکی ، ایران، مصر ، حجاز ، فلسطین ، مراکش ، تیونس، لیبیا، سوڈان ، عراق ، شام غرض تمام ممالک کو یورپ نے اپنا غلام بنا لیا اور ہندوستان پر قبضہ کر کے یہاں کے مسلمانوں کو ان کی شاندار تہذیب سے بدظن کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔

نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب مغرب کی
یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

اقبال کو شک اس کی شرافت میں نہیں ہے
ہر ملک میں مظلوم کا یورپ ہے خریدار

اقبال نے اپنے کلام میں جابجا مغربی تہذیب و تمدن کی خامیوں پر نکتہ چینی کی ہے اور مسلم معاشرے کو ان کے مضر اثرات سے بچنے کی تلقین کی ہے ۔ بعض نقادوں کے خیال میں اقبال نے مغربی تہذیب پر اعتراضات کرکے انصاف سے کام نہیں لیا۔ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم اس بارے میں لکھتے ہیں۔

” اقبال کے ہاں مغربی تہذیب کے متعلق زیادہ تر مخالفانہ تنقید ملتی ہے۔ اور یہ مخالفت اس کے رگ و پے میں اس قدر رچی ہوئی ہے کہ اکثر نظموں میں جا و بے جا ضرور اس پر ایک ضرب رسید کر دیتا ہے۔“

یہ کہنا کہ اقبال کو مغربی تہذیب میں خوبی کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا کلام اقبال سے سطحی واقفیت کا نتیجہ ہے۔ اقبال نے تہذیب ِ مغرب کے صرف انہی پہلو ئوں پر تنقید کی ہے جنہیں وہ مسلم معاشرے کے لئے مضر سمجھتے تھے۔ ورنہ جہاں تک اچھے پہلوئوں کا تعلق ہے اقبال اس سے کبھی منکر نہیں ہوئے۔

اپنی ایک لیکچر میں انہوں نے اسلامی تہذیب و تمدن کی اہمیت جتانے کے بعد کھل کر کہا ہے۔ ” میری ان باتوں سے یہ خیال نہ کیا جائے کہ میں مغربی تہذیب کا مخالف ہوں ۔ اسلامی تاریخ کے ہر مبصر کو لامحالہ اس امر کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ ہمارے عقلی و ادراکی گہوارے کو جھلانے کی خدمت مغرب نے ہی انجام دی ہے۔“

اسی طرح ایک اور جگہ وہ صاف صاف کہتے ہیں،

مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حذر کر
فطرت کا ہے ارشاد کہ ہر شب کو سحر کر

+ نوشته شده توسط khial hussain در Sat 17 Sep 2011 و ساعت 7:33 AM |

اقبال نے مغربی تہذیب کی جو مخالفت کی ہے اس کی وجہ سیاسی ہے اقبال کے زمانے میں ہندوستان میں دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک وہ جو مغربی معاشرے کی ہر بات کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ یہ قدامت پرستوں کا طبقہ تھا جسے اپنی تہذیب پر فخر تھا چاہے وہ اچھی ہو یا بری ، دوسرا طبقہ اپنے آپ کو روشن خیال سمجھتے ہوئے مغرب کی تقلید کو اپنی زندگی کی معراج سمجھتا تھا۔ خصوصاً جو لوگ یورپ سے ہو کر آئے تھے ان کی آنکھیں وہاں کی چکاچوند سے چندھیا جاتی تھیں۔ ہاں ان میں اقبال جیسے لوگ بھی تھے جو مغرب جاکر وہاں سے مرعوب ہو کر نہیں آئے تھے۔ بلکہ اُس کی خوبیوں اور خامیوں کے بارے میں واضح نقطہ نظر کے حامل ہو کر وطن واپس لوٹے تھے۔ لیکن ایسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ مغرب سے مرعوب حضرات جب وطن واپس آئے تو انہیں مغرب کا ہر گوشہ فردوس کی مانند نظر آتا ہے۔ اقبال کو صرف یہ دکھ نہیں تھا کہ ہندوستان انگریزوں کی غلامی قبول کر چکا ہے بلکہ اُسے اس بات کا رنج تھا کہ تمام عالم اسلام یورپی اقوام کی ہوس گیری کا شکار ہوگیا ہے۔ اس بات نے اقبال کے دل میں مغربی تہذیب کے خلاف نفرت کے جذبات بھر دئیے ورنہ اقبال نے اُس کے روشن پہلوئوں کی جابجا تعریف کی ہے۔

 اقبال کے نزدیک مغربی تہذیب کی خامیاں

مغربی تہذیب سے مراد وہ تہذیب ہے جو گذشتہ تین سو سال سے یورپ میں پیدا ہوئی اور جن کی بنیاد عقلیت ، مادیت اور سائنسی ترقی پر ہے اقبال نے یورپی تہذیب کی خامیوں کو کھل کر آشکارہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی نظر میں اس تہذیب کی بڑی بڑی خامیاں حسبِ ذیل ہیں۔

وہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندانِ مغرب کو
ہوس کی پنجہ خونیں میں تیغ کار زاری ہے
تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا
جہاں میں جس تمدن کی بناءسرمایہ داری ہے

یہ پیر کلیسا کے کرامات ہیں آج
بجلی کے چراغوں سے منور کئے افکار
جلتا ہے مگر شام و فلسطیں پر مرادل
تدبیر سے کھلتا نہیں یہ عقدہ دشوار

 مادیت

اقبال کے نزدیک اس تہذیب کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ مادی ترقی اور کسبِ زر کو زندگی کی معراج سمجھتی ہے انسانی اخلاق اور روحانی اقدار کی ان کی نظر میں کوئی قیمت نہیں۔ چنانچہ انسانی زندگی میں توازن ، اعتدال اور ہم آہنگی قائم نہ رہ سکی۔

یورپ میں بہت ، روشنی علم و ہنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمہ حیواں ہے یہ ظلمات
یہ علم ، یہ حکمت ، یہ تدبر ، یہ حکومت
پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساوات

اقبال فرماتے ہیں کہ میں مشرق و مغرب کے مےخانوں سے خوب واقف ہوں مشرق میں ساقی نہیں اور مغرب کی صبا بے مزہ ہے ۔ جب تک ساقی کی حوصلہ مندیاں اور ذوق صبا ایک جگہ جمع نہ ہو جائیں ۔ اس وقت تک مےخانہ حیات آباد و بارونق نہیں ہو سکتا ۔ مشرق اور مغرب کی موجودہ ذہنیت کا نقشہ وہ ان الفاظ میں کھینچتا ہے۔

بہت دیکھے ہیں میں نے مشرق و مغرب کے مےخانے
یہاں ساقی نہیں پیدا وہاں بے ذوق ہے صبا

اقبال کے خیال میں تہذےب حاضر نے جھوٹے معبودوں کا خاتمہ کیا ہے لیکن اس کے بعد اثبات حقیقت کی طرف اس کا قدم نہیں اُٹھ سکا ۔ اس لئے اس کی فطرت میں ایک واویلا پیدا ہو رہا ہے۔

دبا رکھا ہے اس کو زخمہ ور کی تیز دستی نے
بہت نیچے سروں میں ہے ابھی یورپ کا واویلا

اس مادہ پرستی نے یورپ کو اخلاقی انحطاط سے دوچار کیا ہے۔ اسے خبر نہیں کہ حقیقی راحت مادی اسباب میں نہیں روحانی بلندی میں ہے۔

ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش ِ جہاں کا دوام
وائے تمنائے خام ، وائے تمنائے خام

سائنسی ترقی نے مغرب کی مادی حیثیت سے غیر معمولی طاقت بخش دی ہے اور اُسے ظاہری شان و شوکت سے مالا مال کیا لیکن انسانیت کے اصلی جوہر کو نقصان پہنچایا یہ علوم و فنون انسان کو حقیقی راحت اور آسودگی پہنچانے کے بجائے اُس کی موت کا پروانہ بن گئے۔ انہی آثار کو دیکھ کر اقبال نے پیشن گوئی کی کہ،

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخ ِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

اقبال کو مغربی تہذیب سے یہی شکایت ہے کہ وہ ظاہری اور خارجی فلاح و بہبود پر نظر رکھتی ہے اور روح کی پاکیزگی اور بلندی کا کوئی دھیان نہیں کرتی۔ حالانکہ یہی انسانی افکار و اعمال کا سرچشمہ ہے یورپ نے عناصر ِ فطرت کوتو تسخیر کر لیا لیکن روحانی نشوو نما اور صفائی قلب کی طرف توجہ نہ دے سکا۔

ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
اپنی حکمت کے خم و پیچ میں الجھا ایسا
آج تک فیصلہ نفع و ضرر کر نہ سکا
جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شب تاریک سحر کر نہ سکا

مغرب میں اخلاقی اور روحانی اقدار سے روگردانی کا سبب یہ بنا کہ سائنس کے انکشافات قدم قدم پر ان کے جامد دینی عقائد سے ٹکراتے تھے ۔ علم کی روشنی نے ان جامد عقائد کو متزلزل کیا تو و ہ مذہب اور مذہب کی پیش کردہ روحانی اقدار سے ہی منکر ہوگئے مادی اسباب کی فراوانی نے تعیش اور خود غرضی کو فروغ دیا۔ عورت کو بے محابا آزادی مل گئی اور معاشرہ میں فساد برپا ہوگیا۔ روحانی اور اخلاقی اقدار کی غیرموجودگی میں مےخواری ، عریانی ، سود خوری ، اور اخلاقی پستی نے جنم لیا اور ان امراض نے یورپی تہذیب کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا۔ اقبال کو اسی لئے ایوان ِ فرنگ سست بنیاد نظر آیا تھا اور وہ اسے ایک سیل بے پناہ کی زد میں سمجھتے تھے۔

پیر مےخانہ یہ کہتا ہے کہ ایوانِ فرنگ
سست بنیاد بھی ہے آئےنہ دیوار بھی ہے
خبر ملی ہے خدایان ِ بحر و بر سے مجھے
فرنگ رہگزر سیلِ بے پناہ میں ہے

خود بخود گرنے کو ہے پکے ہوئے پھل کی طرح
دیکھے پڑتا ہے آخر کس کی جھولی میں فرنگ

اس کا یہ مطلب نہیں کہ اقبال مادی ترقی کے سرے سے مخالف ہیں ،شیخ محمد اکرام ”موج کوثر“ میں لکھتے ہیں، ”اقبال پنڈت جواہر لال نہرو کے جواب میں کہتا ہے ”اسلا م کی روح مادے کے قریب سے نہیں ڈرتی ، قرآن کا ارشاد ہے کہ تمہارا دنیا میں جو حصہ ہے اس کو نہ بھولو۔“

  عقلیت پرستی

اقبال کے نزدیک مغربی تہذیب کی ایک خامی یہ بھی ہے کہ اس کی بنیاد عقلیت پرستی پر ہے یہ عجیب بات ہے کہ جدید ترین تمدن انسانی افعال و افکار کو عقل کے علاہ کسی اور کسوٹی پر پرکھنے کے لئے تیار نہیں۔ اقبال کے نزدیک عقل حقیقت تک پہنچنے کا کوئی موزوں پیمانہ نہیں اس ناموزوں پیمانے سے حاصل شدہ نتائج ہمارے لئے حتمی درجہ نہیں رکھتے ۔ اگرچہ مغرب کے سارے فلسفی عقل پرستی کا شکار ہیں لیکن اقبال اس کے مخالف ہیں۔

عذاب دانش حاضر سے باخبر ہوں میں
کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثلِ خلیل

نئی تہذیب کی بد قسمتی ہے کہ اس نے عقل کو بے لگام چھوڑ دیا ہے۔ کہ وہ قافلہ انسانی کو جس طرف چاہے لے جائے عقل یقینا زندگی کا بیش بہا جوہر ہے لیکن اس جوہر کی باگیں عشق کے ہاتھ میں ہونی چاہیں عقل و عشق کی معاونت سے اچھے نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔

 سائنس کی ہلاکت آفرینی

اقبال کے نزدیک مغربی تہذیب کی ایک خامی یہ بھی ہے کہ اس کے فرزندوں نے مظاہر فطرت کو تسخیر کرکے اپنے فائدے کو پیش نظر رکھا لیکن بحیثیت مجموعی انسانیت کے لئے ہلاکت آفرینی کے اسباب پیدا کئے ۔ مغربی ممالک بے پناہ قوت حاصل کرنے کے بعد کمزور ممالک کو اپنی ہوس کا شکار بنانے پر تل گئے مغرب والوں نے کارخانے بنائے جو سرمایہ داروں کے ہاتھ آگئے اور مزدور ایک دوسری قسم کی غلامی میں آزادی سے محرو م ہوگئے۔نئی تہذیب کے پرور دہ تاجرانِ فرنگ کے اسی رویے کے خلاف اقبال یہ کہہ کر احتجاج کیا۔

جسے کساد سمجھتے ہیں تاجرانِ فرنگ
وہ شے متاعِ ہنر کے سوا کچھ اور نہیں


مشرق کے خداوند سفیرانِ فرنگی
مغرب کے خداوند درخشندہ فلذات
ظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جوا ہے
سود ایک کا لاکھوں کے مرگ مفاجات
ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

اقبال سائنسی ترقی کے خلاف نہیں وہ خود تسخیر کائنات کے مبلغ ہیں انہیں شکایت ہے کہ مغرب نے فطرت کو تو اپنے بس میں کر لیا ہے لیکن اس سے صحیح معنوں میں کام نہیں لیا۔ اور وہ کام ہے انسانیت کی خدمت۔

 

 مغربی تہذیب کی خوبیاں

بعض نقادوں کے نزدیک اقبال کا نقطہ نظر مغربی تہذیب کی نسبت یکسر مختلف ہے۔ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کا یہ کہنا درست نہیں کہ ” کہ اقبال کو مغربی تہذیب میں خوبی کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا۔“ یہ رائے اقبال کے حق میں منصفانہ نہیں ہے اقبال نے تو مغربی تہذیب کی خامیوں کے ساتھ ساتھ اس کی خوبیوں کا بھی اعتراف کیا ہے۔مثلاً

اہل مغرب کی سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کے وہ بے حد معترف تھے اور چاہتے تھے کہ مسلمان بھی اس میدان میں ان کی تقلید کریں ان کے نزدیک سائنس پر اہل فرنگ کی اجارہ داری نہیں ہے بلکہ ایک لحاظ سے یہ مسلمانوں کی گم شدہ متا ع ہے۔ جسے حاصل کرنا ان کا فرض ہے تسخیر کائنات کے لئے کی جانے والی سائنسی ایجادات کو وہ بہت تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں چنانچہ اقبال سائنس کوفرنگی زاد نہیں مسلمان زاد بتاتے ہیں۔

حکمت اشیاءفرنگی زاد نیست
اصل اور جز لذتِ ایجاد نیست
نیک اگر بینی مسلماں زادہ است
ایں گلے از دست ما افتادہ است

اقبال نے مغرب کی عقل پرستی اور مادہ پرستی کی غلامی پر سخت تنقید کی ہے۔ کیونکہ زندگی کو صرف عقل اور مادہ تک محدود کر لیاجائے تو انسانیت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا ۔ وہ اس افادی نقطہ نظر کے مخالف ہیں جو ہر قیمت پر صرف اپنا فائدہ دیکھتا ہے اور دوسروں کے نقصان کی پرواہ نہیں کرتا۔ مگر اس بات کے وہ قائل ہیں کہ عملی زندگی کے لئے مادی ترقی کی بھی ضرورت ہے اور عقل بھی بڑا قیمتی جوہر ہے وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ عقل اور مادہ کی ترقی اور کار گزاریوں پر روحانی اور اخلاقی پابندیاں عائد ہوں ورنہ مادی ترقیوں اور عقل کے کارناموں کے وہ معترف ہیں اور ان کی تحسین کرتے ہیں۔

یورپی علم و ہنر نے اہل فرنگ کی تمدنی زندگی کو جو ظاہری صفائی اور سلیقہ مدنی عطا کی اسے بھی اقبال قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہیں افرنگ کا ہر وہ قریہ فردوس کی مانند نظر آتا ہے۔ اور ان کا جی چاہتا ہے کہ ہمارے شہر بھی اسی طرح جنت منظر بن جائیں۔

اقبال اہل یورپ کی سود خوری ، میخواری ، عریانی ، بے حیائی اور مادر پدر آزادی کے تو سخت مخالف ہیں لیکن وہاں کی بہت سی اخلاقی خوبیوں کی تعریف بھی کرتے ہیں۔ اہل یورپ کی محنت کی عادت ، ایفائے عہد، پابندی وقت ، کاروباری دیانت اور اسی قسم کی اخلاقی خوبیوں کے باعث انہیں یورپ کے کفار اپنے ہاں کے مسلمانوں کی نسبت اسلام کے زیادہ پابند نظر آتے ہیں یورپ نے زندگی کی جو نعمتیں حاصل کی ہیں ان کے نزدیک وہ انہی اسلامی اُصولوں پر کاربند رہنے کا نتیجہ ہیں اور یہی اسلامی خوبیاں ہیں جو یورپ میں پائی جاتی ہیں مگر ہم مسلمان ان سے محروم ہیں۔

 

اندھی تقلید کی مذمت

اقبال نے مغربی تہذیب اور علوم کا گہری نظر سے مطالعہ کیا تھاوہ مغربی معاشرہ کی خامیو ں اور خوبیوں سے اچھی طرح آگاہ تھے۔ چنانچہ انہوں نے مغربی تہذیب کی خامیوں پر نکتہ چینی کرنے کے ساتھ ساتھ ان مشرقی رہنمائوں کی بھی مذمت کی ہے جو مغرب کی اندھی تقلید کو شعار بنا کر ترقی یافتہ قوموں کے زمرہ میں شامل ہونے کی خوش فہمی میں مبتلا تھے۔ انہوں نے مغرب کی حقیقی خوبیوں کو چھوڑ کر صرف ظاہری باتوں کو اپنا لیا ، اور ضروری اور غیر ضروری میں کوئی تمیز روا نہیں رکھی۔

اس قسم کے تجدید اور ترقی کی کوششیں مصر ، ترکی، ایران اور افغانستان میں ہوئیں، مصطفی کمال پاشا نے ترکی میں خلافت کو ختم کر دیا۔ فقہی امور میں قران کو بالائے طاق رکھ دیا ۔ علماءکو یہ تیغ کرا دیا۔ عربی رسم الخط ترک کر کے لاطینی رسم الخط اختیا ر کر لیا اور بذعم خود اپنے ملک کو ترقی یافتہ بنا دیا۔ امیر امان اللہ خان نے افغانستان اور رضاشاہ نے ایران کو بھی اسی طرح جدید طرز کا ملک بنا نا چاہا۔ ان سب رہنمائوں نے ظاہری اُمور کو کافی سمجھا اور یہ کوشش نہ کی کہ اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کی اچھائیوں کی اساس پر ایک نئی تہذیب کی بنیاد رکھے۔ اقبال نے اسی رویہ کی مذمت کی ہے۔

نہ مصطفےٰ نہ رضا شاہ میں ہے اس کی نمود
کہ روح شرق بد ن کی تلاش میں ہے ابھی

اقبال کو اس بات کو بہت رنج ہے کہ مشرقی ممالک اپنی نا سمجھی کے باعث تہذیب ِ مغرب کی اندھی تقلید کے پھندے میں پھنستے چلے جا رہے ہیں اس غفلت پر وہ اس طرح نوحہ کرتے ہیں۔

پختہ افکار کہاں ڈھونڈنے جائے کوئی
اس زمانے کی ہوا رکھتی ہے ہر چیز کو خام

اقبال کو اپنے ہم وطنوں سے بھی یہی شکوہ ہے وہ مغرب کی تقلید کو ترقی کا زینہ سمجھتے ہیں حالانکہ ترقی کے لئے لباس کی خاص وضع قطع اور اپنی زبان چھوڑ کر بدیسی زبان اختیار کر لینا۔ اور عورتوں کو بے پردہ کر دینا اور شراب و چنگ کا سہارا لینا ضروری نہیں بلکہ یہ تو وہ راستہ تھا جو ہمیں تہذیبی اور فکری اعتبار سے مفلس بنا رہا تھا۔ اوراسی ذریعہ سے مغربی اقوام سےاسی غلامی کے ساتھ ساتھ ہم پر اپنی ذہنی غلامی بھی مسلط کر رہے تھے۔

قوت مغرب نہ از چنگ و رباب
نے زرقص دخترانِ بے حجاب

  اقبال کی پسندیدہ تہذیب

اقبال کو مغربی تہذیب میں اگر کچھ خامیاں نظر آتی ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ملتِ اسلامیہ اور اسکی مروجہ تہذیب سے خوش ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انھیں اپنی قوم میں بہت سی خامیاں نظرآتی ہیں وہ دیکھتے ہیں کہ اس قوم کے آگے کوئی مقصد یا نصب العین نہیں، ان کے دل گرمی ، تڑپ اور حرارت سے محروم ہیں۔دین کا نام لینے والے تو بہت ہیں لیکن دین کے اصولوں پر چلنے والے بہت کم ہیں۔ اسے نہ راستے کا پتہ ہے اور نہ منزل کا چنانچہ حال یہ ہے کہ،

تیرے محیط میں کہیں گوہر زندگی نہیں
ڈھونڈ چکا میں موج موج ، دیکھ چکا صدف صدف

اگرچہ اقبال مشرق و مغرب دونوں کی موجودہ حالت سے مایوس ہیں لیکن اُسے ایک امید ہے کہ مسلمان قوم کے پاس دین اسلام کی شکل میں ایک ایسا لائحہ عمل ہے جس کی مدد سے وہ زندگی کی دوڑ میں مغربی اقوام سے آگے بھی بڑھ سکتے ہیں۔ اور اپنی اصلاح بھی کر سکتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ وہ جدید مغربی علوم و فنون سے بھی واقف ہوں اور اپنے ورثے سے بھی بیگانہ نہ ہوں۔

  مجموعی جائزہ

مختصر یہ کہ یہی وہ تہذیب ِاسلامی ہے جس کے اقبال آرزو مند ہیں ۔ اس تہذیب کے عناصر میں اخوت ، مساوات، جمہوریت ، آزادی ، انصاف پسندی ، علم دوستی ، احترام انسانی، شائستگی ، روحانی بلندی اور اخلاقی پاکیزگی شامل ہیں اور ان کی بنیاد پر یقینا ایک صحت منداور متوازن معاشرہ کا خواب دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ صالح عناصر ظاہر ہے کہ موجودہ مغربی تہذیب میں موجود نہیں اس لئے اقبال اس کی مخالفت زیادہ اور تعریف کم کرتے ہیں۔

وہ آنکھ کہ ہے سرمہ افرنگ سے روشن
پرکار سخن ساز ہے! نمناک نہیں ہے

حیات تازہ اپنے ساتھ لائی لذتیں کیا کیا
رقابت خود فروشی ، ناشکیبائی ، ہوسناکی

اقبال کا تصور تعلیم

اردو میں تعلیم کا لفظ، دو خاص معنوں میں مستعمل ہے ایک اصطلاحی دوسر ے غیر اصطلاحی ، غیر اصطلاحی مفہوم میں تعلیم کا لفظ واحد اور جمع دونوں صورتوں میں استعمال ہو سکتا ہے اور آدرش ، پیغام ، درسِ حیات، ارشادات، ہدایات اور نصائح کے معنی دیتا ہے۔ جیسے آنحضرت کی تعلیم یا تعلیمات ، حضرت عیسیٰ کی تعلیم یا تعلیمات اور شری کرشن کی تعلیمات، کے فقروں میں ، لیکن اصطلاحی معنوں میں تعلیم یا ایجوکیشن سے وہ شعبہ مراد لیا جاتا ہے جس میں خاص عمر کے بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما، تخیلی و تخلیقی قوتوں کی تربیت و تہذیب ، سماجی عوامل و محرکات ، نظم و نسق مدرسہ، اساتذہ ، طریقہ تدریس ، نصاب ، معیار تعلیم ، تاریخ تعلیم ، اساتذہ کی تربیت اور اس طرح کے دوسرے موضوعات زیر بحث آتے ہیں۔

علامہ اقبال کے تعلیمی تصورات یا فلسفہ تعلیم کے متعلق کتب و مقالات کی شکل میں اب تک جو کچھ لکھا گیا ہے اس میں تعلیم کے اصطلاحی مفہوم سے کہیں زیادہ تعلیم کے عام مفہوم کوسامنے رکھاگیا ہے۔ یعنی جو کچھ لکھا گیا ہے اس میں درس و تدریس ، تعلیم یا طلبہ و مدارس کے توسط سے پیدا ہونے والے مسائل سے بحث کرنے کے بجائے عام طور پر وہی باتیں کہی گئی ہیں جواقبال کے فکرو فن یا فلسفہ خودی و بےخودی یا تصور فرد و جماعت کے حوالے سے ، ان کو ایک بزرگ مفکر یا عظیم شاعر ثابت کرنے کے لئے کہی جاتی ہیں ، حالانکہ ان باتوں کا تعلق ، تعلیم کے اصطلاحی مفہوم سے نہیں بلکہ تعلیم کے اس عام مفہوم سے ہے جس کے دائرے میں ہر بزرگ اور صاحبِ نظر فلسفی یا شاعر کا پیغام درس حیات آ جاتا ہے۔

مانا کہ اقبال کے تصور ِ تعلیم کے ضمن میں ایسا کرنا بعض وجوہ سے ناگزیر ہے اور اقبال کے مقاصد ِتعلیم کے تعین کے سلسلے میں ان کے فلسفہ خودی و بےخودی یا فلسفہ حیات کو بحرحال سامنے رکھنا پرتا ہے۔ لیکن اقبال کے عام فلسفہ حیات کو اصطلاحی معنوں میں تعلیم یا فلسفہ تعلیم سے تعبیر کرنا یا محض ان دلائل کی بنیاد پر انہیں ایک عظیم مفکر تعلیم یا ماہر تعلیم کہنا مناسب نہیں معلوم ہوتا ۔ اس لئے کہ بقول قاضی احمد میاں اختر جو نا گڑھی،

” اقبال نہ تو فن ِ تعلیم کے ماہر تھے نہ انہوں نے اس فن کی تحصیل کی تھی، نہ اس موضوع پر انہوں نے کوئی کتاب لکھی بجز اس کے کہ کچھ مدت تک بحیثیت پروفیسر کالج میں درس دیتے رہے کوئی مستقل تعلیمی فلسفہ انہوں نے نہیں پیش کیا۔“

با ایں ہمہ ، اقبال کے تعلیمی افکا ر سے کلیتاً صرف نظر نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نے تعلیم کی فنی اور عملی صورتوں پر غور کیا ہے مسائل تعلیم کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا ہے۔ اپنے فلسفہ حیات میں مناسب جگہ دی ہے۔ تعلیم کے عام معنی و اثرات پر روشنی ڈالی ہے اس کے ڈھانچے اغراض اور معیار کو موضوع گفتگو بنایا ہے اور اپنے عہد کے نظام ِ تعلیم پر تنقیدی نگاہ ڈالی ہے۔ مدرسہ ، طلبہ ، اساتذہ اور نصاب ، سب پر اظہار خیال کیا ہے صرف مشرق نہیں ، مغرب کے فلسفہ تعلیم اور نظام ِ کار کو بھی سامنے رکھا ہے۔ دونوں کا ایک دوسرے سے مقابلہ کیا ہے ان کے درمیان حد ِ فاضل کھینچی ہے۔ خرابیوں اور خوبیوں کا جائزہ لیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ زندگی کو کامیاب طریقے سے برتنے اور اس کی مزاحمتوں پر قابو پالینے کے لئے کس قسم کی تعلیم اور نظام تعلیم کی ضرورت ہے۔

افراد اور اقوام کی زندگی میں تعلیم و تربیت کو وہ بنیادی اہمیت حاصل ہے کہ افراد کی ساری زندگی کی عمارت اسی بنیاد پر تعمیر ہوتی ہے اور اقوام اپنے تعلیمی فلسفہ کے ذریعہ ہی اپنے نصب العین ، مقاصد ِ حیات، تہذیب و تمدن اور اخلاق و معاشرت کا اظہار کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال نے قومی زندگی کے اسی اہم پہلو پر گہرا غور و خوص کیا ہے۔ اور اپنے افکار کے ذریعہ ایسی راہ متعین کرنے کی کوشش کی ہے جو ایک زندہ اور جاندار قوم کی تخلیق کا باعث بن سکے۔

ابتداءمیں تو اقبال نے قوم کے تعلیمی پہلو پر کوئی خاص توجہ نہیں دی ۔ خاص طور پر اپنی شاعری کے پہلے اور دوسرے دور میں اس موضوع پر انہوں نے کچھ نہیں لکھا البتہ آخر میں انہوں نے اس قومی پہلو کو بھر پور اہمیت دی۔ اور ” ضرب کلیم‘ میں تو ”تعلیم و تربیت“ کا ایک مستقل عنوان قائم کیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی جابجا ایسے اشعار ملتے ہیں ۔جن میں صحیح تعلیم اور اس کے مقاصد کی نشاندہی کی گئی ہے۔بقول ڈاکٹر سید عبداللہ،

” اقبال نے تعلیم کے عملی پہلوئوں پر کچھ زیاد ہ نہیں لکھا مگر ان کے افکار سے ایک تصور تعلیم ضرور پیدا ہوتا ہے۔ جس کو اگر مرتب کر لیاجائے تو اس پر ایک مدرسہ تعلیم کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔“

 

 مروج نظام ہائے تعلیم

اقبال نے زمانے میں دو نظام تعلیم ملک میں پہلو بہ پہلو رائج تھے ایک تو قدیم دینی نظام ِ تعلیم تھا جو مذہبی مدارس میں رائج تھا۔ یہ صدیوں سے ایک ہی ڈگر پر چلا آرہا تھا۔ وقت کے تقاضوں نے اس میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی تھی اور اس کے باوجود اسے اپنی جگہ مکمل سمجھا جاتا تھا۔ دوسرا نظام حکمران انگریز قوم کا رائج کردہ تھا جو لارڈ میکالے کے فکر کی پیداوار تھا اس کا مقصد نوجوانوں کو حصول ِ علم میں مدد دینے ۔ انتظامی مشینر ی کے کل پرزے ڈھانچے کے علاوہ ایسی نسل تیار کرنا تھا جو ذہناً اپنے ملک و قوم کے بجائے حکمران قوم سے وابستہ ہو۔

ان دو نوں نظاموں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو ملک اور قوم کی امنگوں اور مقاصد کی ترجمانی کرنے کی اہمیت رکھتا ہو۔ چنانچہ اقبال نے ان پر بھر پور تنقید کی ہے

 

قدیم دینی مدارس کی جامد تعلیم

اقبال نے دیکھا تھا کہ قدیم دینی مدارس میں قرآن و حدیث کی تعلیم جس طریقہ سے دی جاتی ہے۔ وہ طلباءکو ارکانِ اسلام اور فقہی مسائل سے تو آگا ہ کر دیتی ہے لیکن وہ دین کی روح سے آشنا نہیں ہوتے ، مشاہدہ کائنات اور تسخیر کائنات کے مضامین کا ان کے نصاب سے کوئی تعلق نہیں ہے ان مدارس کے فارغ التحصیل طلباءزندگی کے گوناگوں مسائل کو سمجھنے اور انہیں حل کرنے کی صلاحیت سے عاری رہتے ہیں۔ اور بدلتے ہوئے زمانہ کے تقاضوں کا جواب نہیں دے سکتے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نظام تعلیم نے کئی بڑے علما ءبھی پیدا کئے جنہوں نے دینِ حق کو زندہ رکھنے کی خدمت انجام دی لیکن ان مدرسوں کے تربیت یافتہ زیادہ تر لوگ وہی تھے جنہیں ”ملا“ کہا جاتا ہے۔ اور جن کی خصوصیات میں تنگ نظری ، تعصب، جہالت اور رجعت پسندی نمایاں رہی ہیں۔ اقبال نے”بال جبریل “ میں ایک نظم ”مُلا“ انہی کو پیش نظر رکھ کر لکھی ہے۔

میں بھی حاضر تھا وہاں ضبط سخن کر نہ سکا
حق سے جب حضر ت مُلا کو ملا حکم ِ بہشت
عرض کی میں نے الہٰی میری تقصیر معاف
خوش نہ آئیں گے اسے حور و شراب و لب کشت

مُلا سے اقبال اس لئے بیزار ہیں کہ اس کے پاس دین ہے دین کی حرارت نہیں ، وہ دین کی روح سے بےگانہ ہوگیا ہے۔ اس کی نماز ، روزہ ، سب رسمی بن گئے ہیں اور حیات کے ان اعلیٰ مقاصد تک اس کی پہنچ نہیں رہی جو دین کا نصب العین ہیں ،

اُٹھا میں مدرسہ و خانقا ہ سے غمناک
نہ زندگی ، نہ محبت، نہ معرفت نہ نگاہ

تیری نماز میں باقی جلال ہے نہ جمال
تیری اذان میں نہیں ہے مری سحر کا پیام

قوم کیا چیز ہے ، قوموں کی امامت کیاہے
اس کو کیا سمجھیں یہ بےچار ے دو رکعت کے امام

اقبال کو دینی عالموں سے جو توقع ہے اور ان کے علم کا جو تقاضا ہے وہ اپنی قوم کے نوجوانوں کی اصلاح اور صحیح تعلیم و تربیت ہے اسی لئے وہ تما م تر مایوسی کے باوجود دعوت دیتے ہیں،

اللہ رکھے تیرے جوانوں کو سلامت
دی ان کو سبق خود شکنی خود نگر ی کا

 

 جدید انگریزی مدارس کی گمراہ تعلیم

قدیم دینی مدارس کی جامد ، بے روح اور زمانہ کے تقاضوں سے نا آشنا تعلیم کے ساتھ اقبال جدید انگریز ی تعلیم سے بھی نالاں تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ تعلیم سراسر مادیت پر مبنی تھی اور دین و مذہب سے اس کا کوئی واسطہ نہیں تھا۔ ان کی نظر میں یہ نظام ِ تعلیم دین کے خلاف ایک بہت بڑی سازش تھی جوانوں کو اعلیٰ اسلامی اقدار سے محروم کر رہی تھی۔ یہ تعلیم ضرورت سے زیادہ تعقل زدہ تھی اس نے الحاد اور بے دینی پھیلانے کی بھر پور کوشش کی ہے جسے اقبال نفر ت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر
لب خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ

اور یہ اہلِ کلیسا کا نظام ِ تعلیم
ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف

اقبال رسمی اور جامد تعلیم سے اس قدر نالاں نہیں جتنے جدید مغربی تعلیم سے ہیں مغربی تعلیم کے بارے میں وہ بہت تلخ ہیں اس کی کئی وجوہ ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔

 

 مذہب سے بیزاری

مغربی تعلیم کی بنیاد ہی مادیت پر ستی ہے وہ عقل پرستی ، تن پروری ، تعیش و آرام کی دلدادگی کا سبق دیتی ہے اس سے مسلمان نوجوانوں کے عقائد متزلزل ہو جاتے ہیں مغربی تہذیب کی اندھی تقلید ان سے ان کا نصب العین چھین لیتی ہے اور انہیں اندھیروں میں بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیتی ہے یہ بے دینی اور الحاد انہیں احساس ِ کمتری میں مبتلا کر دیتی ہے اور ان شاہیں بچوں کو خاکبازی کا سبق دے کر انہیں توحید کے نظریہ سے دور لے جاتی ہے۔

گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا
کہاں سے آئے صدا لاالہ الا اللہ

شکایت ہے مجھے یا رب خُداوندانِ مکتب سے
سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا

ترے صوفے ہیں افرنگی ، ترے قالین ایرانی
لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی

 

بے مقصدیت

مغربی تعلیم کی روح بلند مقاصد سے خالی ہے اس کا نصب االعین صرف معاش کا حصول ہے اور یہ نوجوانوں کو پیٹ کا غلام بنا کر اسے دنیاوی لذتوں میں اُلجھا دیتی ہے اس طر ح بلند مقاصد سے وہ بالکل عاری ہو جاتے ہیں۔

وہ علم نہیں زہر ہے احرار کے حق میں
جس علم کا حاصل ہو جہاں ِ میں دو کفِ جو

عصر حاضر ملک الموت ہے تیرا جس نے
قبض کی روح تری، دے کے تجھے فکر معاش
فیض فطر ت نے تجھے دیدہ شاہیں بخشا
جس میں رکھ دی ہے غلامی نے نگاہِ خفاش

 احساس کمتری

مغربی تعلیم نوجوانوں کو اپنی قومی تاریخ و روایات سے بیگانہ کرکے مغربی طرز معاشرت رفتار و گرفتا ر اور طرزِ حیات کا دلدادہ بنا دیتی ہے۔ اور مغرب کے جھوٹے میعار ، جھوٹے نظریات اور جھوٹی اقدار کی چمک دمک ان کی نگاہوں کو خیر ہ کر دیتی ہے اس طرح وہ اپنی فطری حریت ، دلیری ، شجاعت اور بلند پروازی کو چھوڑ کر ایک احساس ِ کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ مغرب کی بھونڈی تقلید کی کوشش میں وہ مغرب کی خرابیوں کو اپنا لیتے ہیں اور خوبیوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔

یہ بتانِ عصر ِ حاضر کہ بنے ہیں مدرسے میں
نہ ادائے کافرانہ ، نہ تراش ِ آزرانہ

  امومیت کی موت

مغربی تعلیم کا ایک بہت بڑا لمیہ یہ ہے اس نے عورت کو جذبہ امومیت سے بیگانہ کر دیا ہے۔ عورت اس فرض سے جان چرانے لگی ہے جونئی نسل کی تخلیق اور تعلیم و تربیت کی صورت میں قدرت نے اس کے سپرد کیا تھا یہ گویا قومی خود کشی کے مترادف ہے۔

جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن
کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت
بیگانہ رہے دیں سے اگر مدرسہ زن
ہے عشق و محبت کے لئے علم و ہنر موت

 

 استادوں کی گمراہی

مغربی تعلیم نے تدریس کی ذمہ داری جن لوگوں کے سپرد کی ہے وہ خود بے راہ ہیں ۔ وہ نہ ان علوم پر گہری نظر رکھتے ہیں جو وہ پڑھاتے ہیں اور نہ تعلیم کے حقیقی مقاصد سے آشنا ہیں اور جسے خود راہ کی خبر نہ ہوگی وہ دوسرے کی رہنمائی کیونکر کر سکتا ہے اقبال نے ”ضرب کلیم “ میں اساتذہ کے عنوان سے لکھا ہے۔

مقصد ہو اگر تربیت لعل و بدخشاں
بے سودہے بھٹکے ہوئے خورشید کا پرتو
دنیا ہے روایات کے پھندوں میں گرفتار
کیا مدرسہ ، کیا مدرسہ والوں کی تگ و دو
کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت
وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو

مختصر یہ کہ مغربی نظام تعلیم اقبال کی نظر میں سرتاپا بے مقصد اور لغو ہے اور قوم کے لئے زہر ِ ہلاہل کا اثر رکھتی ہے اس سے نوجوانوں کی تما م تر صلاحیتیں مفلوج ہو جاتی ہیں ۔ اور قوم اپنی راہ سے یکسر بھٹک جاتی ہے۔

  اقبال کا فلسفہ تعلیم

مروجہ دینی اور مغربی نظامہائے تعلیم کو ردکرنے کے بعد اقبال اپنی قوم کے نوجوانوں کے لئے ایک ایسے نظامِ تعلیم کے خواہاں ہوتے ہیں جو ان کی خودی کی تربیت کر سکے ان کا فلسفہ تعلیم ان کے فلسفہ خودی کے تابع ہے۔ڈاکٹر سید عبداللہ نے ”طیف اقبال “ نے اس سلسلہ میں کہا ہے،

” اقبال نے اپنے نظریہ تعلیم میں طریق کار کا سلسلہ تربیت خودی پر مبنی کیا ہے خودی کی تربیت کے لئے ایک ایسانظام درکار ہے جس میں کلیت پائی جائے جس میں حواس کی تربیت ، وجدان اور جذبے کی تربیت کا پہلو بھی ہو اور ان روحانی رشتوں کا احساس بھی جو نفس ِ انسانی میں قدرت کی طرف سے پائے جاتے ہیں تربیت خودی کے اس نظام کو اقبال نے ”اسرار خودی“ اور ”رموزبےخودی“ میں اچھی طرح بیان کیا ہے۔“

اس طرح اقبال ایسی تعلیم کے حق میں ہیں جو خودی کی تربیت کرے اور اسے استحکام بخشے اور جو تعلیم ایسا نہ کر سکے وہ ان کے نزدیک نہ صرف بیکار ہے بلکہ نقصان دہ

تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو
ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے اُسے پھیر

خودی ہو علم سے محکم تو غیر ت جبریل
خودی ہو عشق سے محکم تو صور اسرافیل

ایسی تعلیم جو اقبال کے اس معیار پر پوری اُترنے والی ہو وہ کیا ہو سکتی ہے اس سلسلہ میں اقبال نے خواجہ غلام حسین کے نام اپنے ایک ”خط“ میں وضاحت کی ہے۔

” علم سے میری مراد وہ علم ہے جس کا دارومدار حواس پر ہے عام طورپر میں نے علم کا لفظ انہی معنوں میں استعمال کیا ہے اس علم سے ایک طبعی قوت ہاتھ آتی ہے جس کو دین کے ماتحت رہنا چاہیے اگر دین کے ماتحت نہ رہے تو محض شیطانیت ہے ۔“

  علم کے دورذریعے

علم کے حصول کے دوذریعے ہیں ایک علم وہ ہے جو عقل اور حواس کے ذریعہ سے حاصل ہوتا ہے اور دوسرا وہ جس کی بنیاد ایمان اور وجدان پر ہے۔ اقبال کے نزدیک یہ دونوں باہم متصادم نہیں ہیں۔ بلکہ ان دونوں کا ارتباط ضروری ہے۔

جوہر میں ہو لاالہ تو کیا خوف
تعلیم ہو گو فرنگیانہ

 

 تعلیم کا مقصد

اقبال کے نزدیک دینی تعلیم بھی اتنی ہی ضروری ہے جس قدر دنیاوی تعلیم ، اور پھر دونوں کے درمیان گہرا ربط اور تعلق بھی لازمی ہے محض دینی یا صرف دنیاوی تعلیم اپنی جگہ کافی نہیں ، اور نہ انہیں علیحدہ رکھ کر بہتر نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اُن کے نزدیک تعلیم کا بنیادی مقصد تو یہی ہے کہ وہ انسان کی قلب ماہیت اور روحانی اصلاح کرکے اس کے اندر حفظِ خودی کی خوبیاں پیدا کردے ۔ اسے توحید ، علم ، عشق ، بلند ہمتی ، سخت کوشی ، پاک دامنی ، فقر ، رواداری ، اور درویشی قناعت جیسی صفات سے آراستہ کرکے ایک مثالی انسان بنا دے۔

علم از سامان حفظ زندگی است
علم از اسبابِ تقویم خودی است

 فیضانِ نظر

انسانیت کے بلند منصب کے لئے ضروری ،کتابی علوم کے علاوہ بزرگوں اور ان کے فیضانِ نظر کی تاثیر ہی وہ چیز ہے جو انسان کے قلب و نظر کی پرورش اور روشنی کے لئے لازمی چیز ہے اس کے بغیر مکتب کی تعلیم عموماً نا مکمل اور بے فائدہ رہتی ہے۔ او ر صاحب ِ قلب و نظر بزرگوں کی ایک نگاہ بعض اوقات ایسا کام کر جاتی ہے جو مدتوں کی مکتبی تعلیم بھی نہیں کر سکتی۔

یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی!

 

اقبال تعلیمی مضامین کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں اور اس کے نظام تعلیم کے خصوصیات یہ ہے کہ اس میں کلیت پائی جاتی ہے۔ مادے کو بھی روحانیت کو بھی ، خدا کو بھی ، انسان کو بھی اور نیچر کو بھی وہ سب چیزوں کو اپنی جگہ اہمیت دیتے ہیں۔

 

 دینی علوم اور سائنسی علوم

اقبال کے نزدیک دین اور سائنس دو الگ الگ مضمون نہیں بلکہ ایک ہی مضمون کے دو حصے ہیں کیوں کہ قران نے بار بار مسلمانوں کو مطالعہ کائنات اور تسخیر فطرت کی دعوت دی ہے اقبال کے خیا ل میںدینی علوم ، خدا، کائنات اور انسان تینوں کے مجموعی تشخص پر مشتمل ہیں اور انہیں الگ الگ نہیں کیا جا سکتا اسی تصور کے زیر اثر اقبال نے ایک ایسے نظام ِ تعلیم کاخاکہ پیش کیا ہے جس میں دین، سائنس اور حکمت کو ایک واحد مضمون کی حیثیت سے دیکھا گیا ہے۔

 

 فلسفیانہ علوم

اقبال حکمت و فلسفہ کے باب میں ایک طرف سائنسی فلسفیوں کے ہم خیال ہیں جو فلسفے کے تصورات کو سائنس کے تجربات و انکشافات سے ہم آہنگ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور دوسری طرف عینی ( آئیڈیا لسٹ ) فلسفیوں کے ہم رائے ہیں جو علم کے مقابلہ میں محض تعقل کو کافی نہیں سمجھتے اور ایک برتر سر چشمہ علم کی ضروت کو ناگزیر خیال کرتے ہیں یہی نقطہ نظر خالص سائنسی طریق کار کے متعلق ہے۔

 

 تاریخ و روایات

اقبال نے تاریخ و روایت یا روایات کو اپنے تصور ِ تعلیم میں خاص جگہ دی ہے۔ تاریخ انسانی کردار کی تعمیر ، ملت کی تنظیم اور حقائق کے انکشاف کا بہت بڑا ذریعہ ہے ۔ا قبال کی نظر میں جو قومیں اپنی تاریخ و روایات سے بیگانہ رہتی ہیں۔ وہ اپنی ہستی گو گم کر بیٹھتی ہیں۔اس کے علاوہ اقبال نے ادبیات و فنونِ لطیفہ پر ”ضرب کلیم “ میں ایک علیحدہ عنوان قائم کرکے کھل کر اظہار ِ خیال کیا ہے۔ وہ ان تمام فنون کو اپنے فلسفہ خود ی کے تابع گردانتے ہیں ان کے نزدیک وہی فن درست ہے جو قوتِ حیات کی ترجمانی کرے اور خودی کی نشوونما میں ممدو معاون ثابت ہو۔

 

 حاصل کلام

آخر تمام بحث کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اقبال کی نظر میں تعلیم کا حقیقی مقصد انسانی سیرت و کردار کی تعمیر کرکے اس کی تسخیر ِ حیات کی صلاحیت کو تقویت پہنچانا ہے اور اس کے ساتھ ہی خدا ، کائنات ، اور انسان کو ایک کلی نظام کی حیثیت سے دیکھنا ہے۔ چنانچہ محض مادی یا محض روحانی تعلیم کو مقصود ٹھہرا لینا درست نہیں ، روح اور مادہ کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا اور تعلیم کا فرض ہے کہ تن اور من دونوں کی ضروریات کو پیش نظر رکھے اور جسمانی اور روحانی تقاضوں کو یکساں اہمیت دے اس کے ساتھ ہی تعلیم کا مقصد انسان کو تسخیر کائنات کے لئے تیار کرنا بھی ہے اور اسے ایسے سانچے میں ڈھالنا بھی کہ وہ خود کو مفید شہری بنا کر صالح معاشرے کو وجود میں لانے میں مدد دے اور تعلیم کا آخری اور بڑا مقصد خودی کی تقویت اور استحکام ہے۔

جوانوں کو میری آہ سحر دے
پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر دے

سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کا م دنیا کی امامت کا

اقبال کا مرد مومن

اقبال کے افکار میں ”مرد مومن“ یا ”انسان کامل“کا ذکر جا بجا ملتا ہے۔ اس کے لئے وہ ” مرد حق“ ”بندہ آفاقی“ ”بندہ مومن“ ”مرد خدا“ اور اس قسم کی بہت سی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں حقیقتاً یہ ایک ہی ہستی کے مختلف نام ہیں جو اقبال کے تصور خودی کا مثالی پیکر ہے۔

نقطہ پرکار حق مرد خدا کا یقیں
اور عالم تم ، وہم و طلسم و مجاز

عالم ہے فقط مومن جانباز کی میراث
مومن نہیں جو صاحب ادراک نہیں ہے

ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ
غالب وکار آفریں ، کار کشا ، کارساز

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہےں تقدیریں

غرض یہ مثالی ہستی اقبال کو اتنی محبوب ہے کہ باربار اس کا ذکر کرتے ہیں اس سلسلہ میں جو سوالات اٹھائے گئے ہیں ان میں سے اہم یہ ہیں کہ اقبال نے مرد مومن ک تصور کو کہاں سے اخذ کیا ہے؟ ان کے مرد مومن کی صفات کیا ہیں؟ ان کا یہ تصور محض تخیلی ہے یا کوئی حقیقی شخصیت ان کے لئے مثال بنی ہے۔ ان سوالات کا جوابات ان کے کلام کے گہر ے مطالعے کے بعد دیا جا سکتا ہے۔

اس بارے میں مختلف آرا ءملتی ہیں کہ اقبال نے مرد مومن کا تصور کہاں سے اخذ کیاہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کی اساس خالصتاً اسلامی تعلیمات پر ہے اور اس سلسلہ میں اقبال نے ابن مشکویہ اور عبدالکریم الجیلی جیسے اسلامی مفکرین سے بھی استفادہ کیا ہے۔ ایک گروہ اس تصور کو مغربی فلسفی نیٹشے کے فوق البشر کا عکس بتاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اقبال نے خیال قدیم یونانی فلاسفرز سے حاصل کیا ہے۔ اور کچھ اسے مولانا روم کی دین قرار دیتے ہیں۔ اس لئے ان تمام مختلف اور متضاد آراءکے پیش نظر ضروری ہے کہ مرد مومن کے متعلق بات کرنے سے قبل ان افکار کا جائزہ لیا جائے جو مشرق اور مغرب میں اقبال سے قبل اس سلسلہ میں موجود تھے۔ اور اقبال نے ان سے کس حد تک استفادہ کیا اس کا انداز ہ بھی ہم بخوبی لگا سکیں گے۔

+ نوشته شده توسط khial hussain در Sat 17 Sep 2011 و ساعت 7:25 AM |

 

[ترمیم] اسلامی تصور

بنیادی اسلامی تعلیمات سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے بے حساب صلاحیتوں سے نوازا ہے اور اس کی بلندی کے امکانات کو لامحدود بنا دیا ہے ۔ اسے زمین پر اپنا خلیفہ اور اشرف المخلوقات ہونے کا اعزاز عطا فرمایا ہے۔ اور اس کے درجات کو یہاں تک بلند فرما دیا ہے کہ وہ اللہ کے اوصاف کا آئینہ بن سکتا ہے۔ مگر اس کے لئے شرط یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی اس طریقہ سے کرے کہ خدا کے انعامات کا سزاوار بن سکے۔ مسلمانوں کے لئے بہترین نمونہ عمل رسول کی زندگی ہے۔ وہ اپنے آپ کو اس سیرت مبارکہ کا مکمل طور پر پیروکار بنالے تو اللہ کے رنگ میں رنگا جائے گا اور اللہ کا پسندیدہ بندہ قرار پائے گا۔ اسلام کا حقیقی مقصود ایسے ہی انسان پیدا کرنا ہے۔

[ترمیم] مسلمان مفکرین

مسلمان مفکرین نے بھی انسانِ کامل کے تصور اور اس کے روحانی ارتقاءکے بارے میں بحث کی ہے۔

”بعض لوگ اس قدر سریع الفکر، صحیح النظر اور صائب الرائے ہوتے ہیں کہ آئندہ ہونے والے واقعات کی پیشن گوئی کر سکتے ہیں۔ گویا یہ لوگ غیب کی باتوں کو ایک باریک پردہ کی آڑ سے دیکھ لیتے ہیں ۔ جب انسان اس بلند درجہ پر پہنچ جاتا ہے تو وہ ملائکہ کی سرحد میں داخل ہو جاتا ہے۔ یعنی ایک ایسی شخصیت عالم وجود میں آجاتی ہے جو انسانی شخصیت سے بلند ہوتی ہے اور اس میں اور فرشتوں میں بہت تھوڑا فرق رہ جاتا ہے۔

”ابن مُشکویہ“

”انسان کامل یا مرد مومن کی زندگی، جو آئین الہٰی کے مطابق ہوتی ہے ، فطرت کی عام زندگی میں شریک ہوتی ہے اور اشیاءکی حقیقت کا راز اس کی ذات پر منکشف ہو جاتاہے۔ اس منزل پر پہنچ کر انسان کامل غرض کی حدود سے نکل کر جوہر کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس کی آنکھ خدا کی آنکھ ، اس کا کلام خدا کا کلام اور اس کی زندگی خدا کی زندگی بن جاتی ہے۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں انسانیت اور الہٰیت ایک ہو جاتی ہیں اور اس کا نتیجہ انسانِ ربانی کی پیدائش ہے۔“ ”عبدالکریم الجیلی“

 

[ترمیم] نیٹشے کا فوق البشر

یہ مشہور جرمن فلسفی ہے جس نے اپنی کئی کتابوں میں فوق البشر انسان کے تصور کو پیش کیا ہے۔ نیٹشے اوائل عمری میں خدا کا منکر تھا۔ بعد میں اسے ایسے انسان کی تلاش کی لگن ہوگئی جو سپر مین ، فوق البشر یا مرد برتر کہلا سکے۔اس بارے میں وہ کہتا ہے۔

” فوق البشر وہ اعلی فرد ہوگا جو طبقہ اشرافیہ سے ظہور کرے گا اور جو معمولی انسانوں کے درمیان میں خطرات کو جھیلتے ہوئے ابھرے گا اور سب پر چھا جائے گا۔

نیٹشے نسلی برتری کا زبردست حامی ہے اور مخصوس نسل کو محفوظ رکھنے اور خصوصی تربیت و برداخت پر خاص زور دیتاہے۔ فوق البشر کے لئے مروجہ اخلاقیات کو وہ زہر سمجھتا ہے۔ اور اس اسے غلامانہ اخلاق سے دور رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ اور اُسے خیر و شر کے معیار سے ماورا خیال کرتا ہے۔ اور اس کے مقاصد کے پیش نظر ہر قسم کی جنگ کو جائز قرار دیتا ہے۔بقول پروفیسر عزیز احمد ”نیٹشے کے فوق البشر کی تین خصوصیات ہیں ۔ قوت فراست اور تکبر“

[ترمیم] اقبال کا مرد مومن

اقبال کے کلام میں مرد مومن کی صفات اور خصوصیات کو کافی تفصیل سے پیش کیا گیا ہے اور ان صفات کا بار بار تذکر ہ اس صورت سے کیا گیا ہے۔ کہ اس کی شخصیت اور کردار کے تمام پہلو پوری وضاحت سے سامنے آجاتے ہیں ۔ یہ مرد مومن وہی ہے جس نے اپنی خودی کی پوری طرح تربیت و تشکیل کی ہے اور تربیت اور استحکامِ خودی کے تینوں مراحل ضبط نفس، اطاعت الہٰی،اور نیابت الہٰی طے کرنے کے بعد اشرف المخلوقات اور خلیفتہ اللہ فی الارض ہونے کا مرتبہ حاصل کر لیا ہے۔ اس کے کردار اور شخصیت کی اہم خصوصیات کلام اقبال کی روشنی میں مندرجہ ذیل ہیں۔

[ترمیم] 1)تجدید حیات

اقبال کا مرد مومن حیات و کائنات کے قوانین کا اسیر نہیں بلکہ حیات و کائنات کو اسیر کرنے والا ہے۔ قرآن مجید نے انسانوں کو تسخیر کائنات کی تعلیم دی ہے اور مرد مومن عناصر فطرت کو قبضے میں لے کر ان کی باگ اپنی مرضی کے مطابق موڑتاہے۔ وہ وقت کا شکار نہیں بلکہ وقت اس کے قبضہ میں ہوتا ہے۔

جہاں تمام ہے میراث مرد مومن کی
مری کلام پہ حجت ہے نکتہ لولاک

مہر و مہ و انجم کا محاسب ہے قلندر
ایام کا مرکب نہیں راکب ہے قلندر

گویا کافرکا کمال صرف مادہ کی تسخیر ہے لیکن مردمومن مادی تسخیر کو اپنا مقصود قرار نہیں دیتا بلکہ اپنے باطن سے نئے جہانو ں کی تخلیق بھی کرتا ہے۔ وہ زمان و مکان کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے ۔ عرفانِ خودی کے باعث اسے وہ قوت حاصل ہو جاتی ہے جس سے حیات و کائنات کے اسرار و رموز اس پر منکشف ہوتے ہیں اور اس کی ذات جدت و انکشاف اور ایجاد و تسخیر کی آماجگاہ بن جاتی ہے۔ وہ اپنے عمل سے تجدید حیات کرتاہے۔ اس کی تخلیق دوسروں کے لئے شمع ہدایت بنتی ہے۔

کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق

خودی کی جلوتوں میں مصطفائی
خودی کی خلوتوں میں کبریائی
زمین و آسمان و کرسی و عرش
خودی کی رو میں ہے ساری خدائی

بقول ڈاکٹر یوسف حسین خان، ” اپنے نفس میں فطرت کی تمام قوتوں کو مرتکز کرنے سے مرد مومن میں تسخیر عناصر کی غیر معمولی صلاحیتیں پیداہو جاتی ہیں جن کے باعث وہ اپنے آپ کو نےابت الہٰی کا اہل ثابت کرتا ہے اور اس کی نظر افراد کے افکار میں زلزلہ ڈال دیتی ہے۔ اور اقوام کی تقدیر میں انقلاب پیدا کر دیتی ہے۔

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازوکا
نگاہِ مرد مومن سے بدل جاتی ہےں تقدیریں

[ترمیم] 2)عشق

بندہ مومن کے لئے ضروری ہے کہ کو وہ اپنی تمام تر کوششوں کو عشق کے تابع رکھے۔ نہ صرف خودی کا استحکام عشق کا مرہون ِ منت ہے بلکہ تسخیر ذات اور تسخیر کائنات کے لئے بھی عشق ضروری ہے اور عشق کیا ہے ؟ اعلیٰ ترین نصب العین کے لئے سچی لگن ، مقصد آفرینی کا سر چشمہ، یہ جذبہ انسان کو ہمیشہ آگے بڑھنے اور اپنی آرزئوں کو پورا کرنے کے لئے سر گرم عمل رکھتا ہے۔ یہ جذبہ مرد مومن کو خدا اور اس کے رسول کے ساتھ گہری محبت کی بدولت عطا ہوتا ہے۔ اسی کے ذریعہ سے اس کے اعمال صالح اور پاکیزہ ہو جاتے ہیں اسے دل و نگاہ کی مسلمانی حاصل ہوتی ہے۔ اور کردار میں پختگی آجاتی ہے ۔

وہ مرد مجاہد نظر آتا نہیں مجھ کو
ہو جس کے رگ و پے میں فقط مستی کردار

یہی جذبہ عشق ہے جو مسلمان کو کافر سے جد ا کرتا ہے

اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی
نہ ہو تو مرد مسلماں بھی کافر و زندیق

سید وقار عظیم اپنی کتاب ”اقبال شاعر اور فلسفی“ میں اس بارے میں لکھتے ہیں، " اقبال نے اس اندرونی کیفیت ، اسی ولولہ انگیز محرک اور زبردست فعالی قوت کو عشق کا نام دیا ہے۔ اور اسے خودی کے سفر میں یا انسانی زندگی کے ارتقاءمیں سب سے بڑا رہنما قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرد مومن کی عملی زندگی میں اس جذبہ محرک کو سب سے زیادہ جگہ دی گئی ہے۔"

مرد خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغ
عشق ہے اصل حیات ، موت ہے اس پر حرام

[ترمیم] 3)جہد و عمل

اقبال جسے ”مستی کردار “کہتے ہیں وہ دراصل عمل اور جدوجہد کا دوسر ا نام ہے ان کے ہاں پیہم عمل اور مسلسل جدوجہد کو اسی قدر اہمیت دی گئی ہے کہ مرد مومن کے لئے عمل سے ایک لمحہ کے لئے بھی مفر نہیں

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

یقین ِ محکم ، عمل پیہم ، محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

[ترمیم] 4)جمال و جلال

مردمومن کی ذات میں جمالی اور جلالی دونوں کیفیات بیک وقت موجود ہوتی ہیں ۔ بظاہر یہ کیفیات متضاد نظر آتی ہیں لیکن بباطن یہ ایک دوسرے سے جد ا نہیں اور مرد مومن کی زندگی ان دونوں صفات کی حامل ہوتی ہے ۔ وہ درویشی و سلطانی اور قاہری و دلبری کی صفات کا بیک وقت حامل ہوتا ہے۔ اس کی سیرت میں نرمی اور سختی کا امتزاج ہوتا ہے اور اس کے مضبوط و قوی جسم کے پہلو میں ایک دل درد آشنا ہوتاہے۔جوبے غرض ، بے لوث ، پاک اور نفسانیت سے خالی ہوتا ہے۔ اسی لئے ابنائے زمانہ کے حق میں اس کا وجود خدا کی رحمت ثابت ہوتاہے۔

اس کی امیدیں قلیل، اس کے مقاصد جلیل
اس کی ادا دلفریب اس کی نگہ دل نواز
نرم دم گفتگو ، گرم دم جستجو
رزم ہو یا بزم ہو ، پاک دل پاک باز

وہ رزم گاہ ِ حیات میں شمشیر بے نیام ہوتا ہے تو شبستان محبت میں کوئی دوسرا اس سے زیادہ نرم نہیں ہو سکتا۔

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم
دریائوں کے دل جس سے دہل جائیں و ہ طوفان

 

[ترمیم] 5)حق گوئی و بیباکی

مرد مومن جرات مند ، بے خوف اور حق گو ہوتا ہے ۔ اسے نہ جابر و قاہر انسان خوفزدہ کر سکتے ہیں اور نہ موت اسے ڈرا سکتی ہے۔ وہ ایمان کی قوت سے حق و صداقت کا پرچم بلند کرتا ہے اور شر کی قوتوں کے مقابلہ میں پوری قوت کے ساتھ اس طرح ڈٹ جاتا ہے کہ انہیں پسپا ہونا پڑتا ہے۔ اور پھر معاشرہ اسی نصب العین کی جانب رجوع کرتا ہے۔ جو مرد مومن کا مقصود زندگی ہے۔

ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان
قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان

 

[ترمیم] 6)فقر و استغنا

مردِ مومن کا ایک امتیازی وصف فقر و استغنا ہے۔ وہ نیٹشے کے مرد برتر کی طرح تکبر و غرور کا مجسم نہیں بلکہ اقبال کے ہاں تو فقر کو اس قدر اہمیت حاصل ہے کہ وہ اسلام کو ”فقر غیور“ کی اصطلاح سے تعبیر کرتے ہیں ۔ درویشی، فقر اور قلندری پر اقبال نے بار بار زور دیا ہے اور اسے تکمیل ِ خودی کے لئے لازمی اور انتہائی اہم عنصر کی حیثیت دی ہے۔ ان کے ہاں فقر کا کیا درجہ ہے اور مرد مومن کی زندگی میں اس کا کیا مقام ہے اس کا اندازہ مندرجہ زیل اشعار سے لگایا جا سکتا ہے۔

نہیں فقر و سلطنت میں کوئی امتیاز ایسا
یہ سپہ کی تیغ بازی ، وہ نگہ کی تیغ بازی

کسے خبر کہ ہزاروں مقام رکھتا ہے
وہ فقر جس میں ہے بے پردہ روح قرآنی

مٹا یاقیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے
وہ کیاتھا؟ زور حیدر ، فقر بوذر ، صدق سلمانی

فقر ارتقائے خودی سے حاصل ہوتا ہے۔ انسان کامل کے فقر اور فقر کافر(رہبانیت) میں بڑا بنیادی فرق ہے۔ رہبانیت جنگل میں پناہ ڈھونڈتی ہے۔ فقر کائنات کی تسخیر کرتا ہے اور اس کے لئے اپنی خودی کو فروغ دیتا ہے۔ فقر کا کام رہبانیت کے گوشہ عافیت میں پناہ لینا نہیں بلکہ فطرت کے اسراف اور معاشرت کے شر اور ناانصافی کا مقابلہ کرنا ہے خواہ اس میں سخت سے سخت اندیشہ کیوں نہ ہو۔

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری
کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری

ان بڑی بڑی اور اہم صفات کے علاوہ اقبال کے مرد مومن میں عدل ، حیا ، خوفِ خدا، قلب سلیم ، قوت ، صدق ، قدوسی ، جبروت ، بلند پروازی ، پاک ضمیری ، نیکی ، پاکبازی وغیر ہ شامل ہیں۔

قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان
ہمسایہ جبریل امیں بندہ خاکی
ہے اس کا نشیمن نہ بخارا نہ سمر قند
یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن!
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن
قدرت کے مقاصد کا عیار اس کے ارادے
دنیا میں بھی میزان ، قیامت میں بھی میزان

اور ان تمام صفات کا حامل انسان وہ ہے جو حاصل کائنات اور مقصود کائنات ہے۔

 

[ترمیم] موازنہ

انسان کامل یا مرد مومن کے لئے اسلامی معیار ہمارے سامنے ہیں اس کے علاوہ مشرقی اور مغربی مفکرین کے ہاں انسان کامل کا جو تصور ملتا ہے۔ ان سے اقبال کے مرد مومن کا کا موازنہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اقبال نے اسلامی تعلیمات کو اپنے لئے معیار بنایا ہے۔ مرد مومن اور سچے مسلمان کے لئے اسلام نے جو معیار مقرر کیا ہے بنیادی طور پر اقبال نے اسی کو اپنا یا ہے۔

جبکہ مسلمان مفکرین میں عبدالکریم الجیلی کے افکار سے اقبال نے اثر قبول کیاہے ۔ جیلی نے انسان کامل کے روحانی ارتقاءکے تین مراحل مقرر کئے ہیں ۔ اقبال نے بھی تربیت خودی کے تین مراحل رکھے ہیں۔

جہاں تک نیٹشے کا تعلق ہے تو یہ رائے درست نہیں کہ اقبال نے اپنے مردمومن کا تصور نیٹشے کے مرد برتر سے اخذ کیا ہے۔ اقبال کا انسان کامل اخلاق فاضلہ کا نمونہ ہے اور اپنی زندگی میں اعلیٰ قدروں کی تخلیق کرتا ہے۔ برخلاف اس کے نیٹشے کا فوق البشر کسی اخلاق کا قائل نہیں ، خیر و شر کو وہ محض اضافی حیثیت دیتا ہے۔ اور سب سے بڑی بات کہ وہ منکر خداہے۔ اور اُس کے ہاں فوق البشر کے لئے بھی خدا کا کوئی تصور نہیں اس کا قول ہے کہ ”خدا مرگیا “ تاکہ فوق البشر زندہ رہے۔

[ترمیم] حاصل کلام

مندرجہ بالا تمام تفصیلی بحث کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اقبال انسان کامل کے تمام مشرقی و مغربی تصورات سے واقف ہیں اور ان سے انہوں نے استفادہ ضرور کیا ہوگا۔ لیکن ان کے مرد مومن کی صفات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ انہوں نے اس تصور کی بنیاد صرف اسلامی تعلیمات پر ہی رکھی ۔ انکی تصور خودی میں فرد کے لئے مردمومن بننا اور جماعت کے لئے ملت اسلامیہ کے ڈھانچہ میں ڈھلنا ایک اعلیٰ نصب العین کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ تصور محض خیالی نہیں بلکہ حقیقی ہے کےونکہ اسلام کے عروج کے زمانہ میں ایسی ہستیاں موجود رہی ہیں۔

اب یہ بات بلا خوف کہی جا سکتی ہے کہ اقبال کا انسان کامل، مسلمان صوفیاءکے انسان کامل اور نیٹشے کے مرد برتر سے مختلف ہے اور اپنی مخصوص شخصیت ، منفرد کردار ، نرالی آن بان کے باعث وہ دوسروں کے پیش کردہ تصورات کی نسبت زیاد ہ جاندار ، متوازن ، حقیقی اور قابل ِ عمل کردار ہے۔

اقبال کا تصور عورت

وکیپیڈیا سے

:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

اقبال پر یہ اعتراض تجدید پسند حلقوں کی جانب سے اکثر کیا جاتا ہے کہ وہ عورت کو جدید معاشرہ میں اس کا صحیح مقام دینے کے حامی نہیں ہیں جبکہ انہوں نے اس باب میں تنگ نظری اور تعصب سے کام لیا ہے اور آزادی نسواں کی مخالفت کی ہے۔ یہ اعتراض وہ لوگ کرتے ہیں جو آزادی نسواں کے صرف مغربی تصور کوپیش نظر رکھتے ہیں اور اس معاشرتی مقام سے بے خبر ہیں جو اسلام نے عورت کو دیا ہے اقبال کے تمام نظریات کی بنیاد خالص اسلامی تعلیمات پر ہے اس ليے وہ عورت کے بارے میں وہی کچھ کہتے ہیں جس کی تعلیم اسلام نے دی ہے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں اقبال کے خیالات کا جائزہ لینے سے پہلے آزادی نسواں کے مغربی تصور اور اسلامی تعلیمات کا مختصر تعارف ضروری ہے۔

[ترمیم] آزادی نسواں کا مغربی تصور

مغرب میں آزادی نسواں کا جو تصور اُبھرا ہے وہ افراد و تفریظ کا شکا ر ہونے کے باعث بہت غیر متوازن ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک طویل عرصہ تک دیگر معاشروں کی طرح مغرب میں بھی عورت کو کسی قسم کا کوئی معاشرتی حق حاصل نہیں تھا اور اس کی حیثیت مرد کے غلام کی سی تھی۔ اسی ردعمل کے طور پر وہاں آزادی نسواں کی تحریک شروع ہوئی اور اس کی بنیاد مر دوزن کی مساوات پر رکھی گئی مطلب یہ تھا کہ ہر معاملہ میں عورت کومرد کے دوش بدوش لایا جائے ۔ چنانچہ معاشرت، معیشت ، سیاست اور زندگی کے ہر میدان میں عورت کو بھی ان تمام ذمہ داریوں کا حق دار گردانا گیا جواب تک صرف مرد پوری کیا کرتا تھا۔ ساتھ ہی عورت کو وہ تمام حقوق بھی حاصل ہوگئے جو مرد کو حاصل تھے ۔ اسی بات کو آزادی نسواں یا مساوات مرد وزن قرار دیا گیا ۔ اس کا نتیجہ اس بے بنیاد آزادی کی صورت میں برآمد ہوا کہ عورت تمام فطری اور اخلاقی قیود سے بھی آزاد ہو گئی۔

[ترمیم] اسلامی تعلیمات

اسلام نے عورت کو مرد کے برابر حقوق چودہ سو سال قبل اس وقت دئیے تھے۔ جب عورت کے حقوق کا تصور ابھی دنیا کے کسی بھی معاشرہ میں پیدا نہیں ہوا تھا۔ عورت اور مرد کی مساوات کا نظریہ دنیا میں سب سے پہلے اسلام نے پیش کیا اور اس طرح عورت کو مرد کی غلامی سے نجات دلائی جس میں وہ صدیوں سے جکڑی ہوئی تھی اس مساوات کی بنیاد قرآن مجید کی اس تعلیم پر ہے جس میں فرمایا گیا کہ

” تم (مرد ) ان کے (عورت ) کے ليے لباس ہو اور وہ تمہارے ليے لباس ہیں۔“

اس طرح گویا مختصر ترین الفاظ اور نہایت بلیغ انداز میں عورت اور مرد کی رفاقت کو تمدن کی بنیاد قرار دیا گیا اور انہیں ایک دوسرے کے ليے ناگزیر بتاتے ہوئے عورت کو بھی تمدنی طور پر وہی مقام دیا گیا ہے جو مرد کو حاصل ہے اس کے بعد نبی کریم نے حجتہ الودع کے خطبہ میں ارشاد فرمایا ۔

” عورتوں کے معاملہ میں خدا سے ڈرو تمہارا عورتوں پر حق ہے اور عورتوں کا تم پر حق ہے۔“

یہاں بھی عورت کو مرد کے برابر اہمیت دی گئی ہے اور عورتوں پر مردوں کی کسی قسم کی برتری کا ذکر نہیں ہے اس طرح تمدنی حیثیت سے عورت اور مرد دونوں اسلام کی نظر میں برابر ہیں۔ اور دونوں کو یکساں اہمیت حاصل ہے۔

یہ تعلیمات اس کائناتی حقیقت پر مبنی ہیں ۔ کہ ہر انسان ایک دوسرے کا محتاج ہے اور ہر شے ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہے۔ اور اس طرح سب کو یکساں اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دنیا کا کوئی بھی تعلق ہو اس میں ایک فریق کو کچھ نہ کچھ غلبہ حاصل ہوتا ہے یہ ایک فطری اصول ہے۔ اور اسی بناءپر چند چیزوں میں مرد کو عورت پر برتری اور فضیلت حاصل ہے۔ اس کی وجہ حیاتیاتی اور عضویاتی فرق بھی ہے اور فطرت کے لحاظ سے حقوق و مصالح کی رعایت بھی ہے اسی ليے قران نے مرد کو عورت پر نگران اور ”قوامیت “ کی فوقیت دی ہے۔ مگر دوسری جانب اسلام نے ہی عورت کو یہ عظمت بخشی ہے کہ جنت کو ماں کے قدموں تلے بتا یا ہے گویا کچھ باتوں میں اگر مرد کو فوقیت حاصل ہے تو تخلیقی فرائض میں عورت کو بھی فوقیت حاصل ہے۔ فرق صرف اپنے اپنے دائرہ کار کا ہے۔یہی وہ تعلیمات ہیں جنہوں نے دنیا کی ان عظیم خواتین کو جنم دیا کہ زندگی کے ہر میدان میں ان کے روشن کارنامے تاریخ اسلام کا قابلِ فخر حصہ ہیں۔

[ترمیم] اقبال کا نظریہ

عورت کے بارے میں اقبال کا نظریہ بالکل اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے وہ عورت کے ليے وہی طرز زندگی پسند کرتے ہیں جو اسلام کے ابتدائی دور میں تھا کہ مروجہ برقعے کے بغیر بھی وہ شرعی پردے کے اہتمام اور شرم و حیا اور عفت و عصمت کے پورے احساس کے ساتھ زندگی کی تما م سرگرمیوں میں پوری طرح حصہ لیتی ہیں۔ اس ليے طرابلس کی جنگ میں ایک لڑکی فاطمہ بنت عبداللہ غازیوں کو پانی پلاتے ہوئے شہید ہوگئی تو اس واقعہ سے وہ اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے اسی لڑکی کے نام کوہی عنوان بنا کر اپنی مشہو ر نظم لکھی ۔

فاطمہ! تو آبرو ئے ملت مرحوم ہے

ذرہ ذرہ تیری مشتِ خاک کا معصوم ہے

یہ جہاد اللہ کے رستے میں بے تیغ و سپر!

ہے جسارت آفریں شوق شہادت کس قدر!

یہ کلی بھی اس گلستانِ خزاں منظر میں تھی

ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی


اقبال کی نظر میں عورت کا ایک مخصوص دائرہ کار ہے۔ اور اسی کے باہر نکل کر اگر وہ ٹائپسٹ، کلرک اور اسی قسم کے کاموں میں مصروف ہو گی تو اپنے فرائض کو ادا نہیں کرسکے گی۔ اور اسی طرح انسانی معاشرہ درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ البتہ اپنے دائرہ کار میں اسے شرعی پردہ کے اہتمام کے ساتھ بھی اسی طریقہ سے زندگی گزارنی چاہیے کہ معاشرہ پر اس کے نیک اثرات مرتب ہوں اور اس کے پرتو سے حریم ِ کائنات اس طرح روشن ہو جس طرح ذاتِ باری تعالی کی تجلی حجاب کے باوجود کائنات پر پڑ رہی ہے۔

[ترمیم] مرد کی برتری

اس سلسلہ میں ڈاکٹر یوسف حسین خان”روح اقبال “ میں لکھتے ہیں ۔

”اقبال کہتا ہے کہ عورت کو بھی وہی انسانی حقوق حاصل ہیں جو مرد کو لیکن دونوں کا دائرہ عمل الگ الگ ہے دونوں اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق ایک دوسرے کے ساتھ تعاون عمل کرکے تمدن کی خدمت انجام دے سکتے ہیں۔ وہ (اقبال ) مرد اور عورت کی مکمل مساوات کا قائل نہ تھا۔“

عورت پر مرد کی برتری کی وجہ اقبال کی نظر میں وہی ہے جو اسلام نے بتائی ہے کہ عورت کا دائرہ کار مرد کی نسبت مختلف ہے اس لحاظ سے ان کے درمیان مکمل مساوات کا نظریہ درست نہیں۔ اس عدم مساوات کا فائدہ بھی بالواسطہ طور پر عورت کو ہی پہنچتا ہے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری مرد پر آتی ہے۔

اک زندہ حقیقت مرے سینے میں ہے مستور

کیا سمجھے گا وہ جس کی رگو ں میں ہے لہو سرد

نے پردہ ، نہ تعلیم ، نئی ہو کہ پرانی

نسوانیت زن کا نگہبان ہے فقط مرد

جس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ پایا

اس قوم کا خورشید بہت جلد ہوا زرد

یہی احتیاج اور کمزوری و ہ نکتہ ہے جس کے باعث مر د کو عورت پر کسی قدر برتری حاصل ہے اور یہ تقاضائے فطرت ہے۔ اس کے خلاف عمل کرنے سے معاشرے میں انتشار لازم آتا ہے۔

[ترمیم] پردہ

اقبال عورت کے ليے پردہ کے حامی ہیں کیونکہ شرعی پردہ عورت کے کسی سرگرمی میں حائل نہیں ہوتا۔ بلکہ اس میں ایک عورت زندگی کی ہر سرگرمی میں حصہ لے سکتی ہے اور لیتی رہی ہے اسلام میں پردہ کا معیار مروجہ برقعہ ہر گز نہیں ہے اسی برقعہ کے بارے میں کسی شاعر نے بڑ ا اچھا شعر کہا ہے۔

بے حجابی یہ کہ ہر شے سے ہے جلوہ آشکار

اس پہ پردہ یہ کہ صورت آج تک نادید ہے

بلکہ اصل پردہ وہ بے حجابی اور نمود و نمائش سے پرہیز اور شرم و حیا کے مکمل احساس کا نام ہے اور یہ پردہ عورت کے ليے اپنے دائرہ کا ر میں کسی سرگرمی کی رکاوٹ نہیں بنتا ۔ اقبال کی نظر میں اصل بات یہ ہے کہ آدمی کی شخصیت اور حقیقت ذات پر پردہ نہ پڑا ہو اور اس کی خودی آشکار ہو چکی ہو۔

بہت رنگ بدلے سپہر بریں نے

خُدایا یہ دنیا جہاں تھی وہیں ہے

تفاوت نہ دیکھا زن و شو میں ، میں نے

وہ خلوت نشیں ہے! یہ خلوت نشیں ہے!

ابھی تک ہے پردے میں اولاد آدم

کسی کی خودی آشکارا نہیں ہے

اس بارے میں پروفیسر عزیز احمد اپنی کتاب ”اقبال نئی تشکیل “ میں لکھتے ہیں:

” اقبال کے نزدیک عورت اور مرد دونوں مل کر کائنات عشق کی تخلیق کرتے ہیں عورت زندگی کی آگ کی خازن ہے وہ انسانیت کی آگ میں اپنے آپ کو جھونکتی ہے۔ اور اس آگ کی تپش سے ارتقاءپزیر انسان پیدا ہوتے ہیں۔۔۔۔ اقبال کے نزدیک عورت کو خلوت کی ضرورت ہے اور مرد کو جلوت کی۔“

یہی وجہ ہے کہ اقبال ، عورت کی بے پردگی کے خلاف ہیں ان کے خیال میں پرد ہ میں رہ کر ہی عورت کو اپنی ذات کے امکانات کو سمجھنے کا موقعہ ملتا ہے۔ گھر کے ماحول میں وہ سماجی خرابیوں سے محفوظ رہ کر خاندان کی تعمیر کا فرض ادا کرتی ہے ۔ جو معاشرہ کی بنیادی اکائی ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ اپنے گھر میں وہ یکسوئی کے ساتھ آئند ہ نسل کی تربیت کا اہم فریضہ انجام دیتی ہے اس کے برخلاف جب پردے سے باہر آجاتی ہے تو زیب و زینت ، نمائش ، بے باکی، بے حیائی اور ذہنی پراگندگی کا شکار ہو جاتی ہے چنانچہ یہ فطری اصول ہے کہ عورت کے ذاتی جوہر خلوت میں کھلتے ہیں جلوت میں نہیں۔ ”خلوت“ کے عنوان سے ایک نظم میں اقبال نے کہا ہے۔

رسوا کیا اس دور کو جلوت کی ہوس نے

روشن ہے نگہ آئنہ دل ہے مکدر

بڑھ جاتا ہے جب ذوق نظر اپنی حدوں سے

ہو جاتے ہیں افکار پراگندہ و ابتر

آغوش صدف جس کے نصیبوں میں نہیں ہے

وہ قطرہ نیساں کبھی بنتا نہیں گوہر

خلوت میں خودی ہوتی ہے خود گیر و لیکن

خلوت نہیں اب دیر و حرم میں بھی میسر!

 

[ترمیم] عورتوں کی تعلیم

اقبال عورت کے ليے تعلیم کو ضروری سمجھتے ہیں لیکن اس تعلیم کا نصاب ایسا ہونا چاہیے جو عورت کو اس کے فرائض اور اس کی صلاحیتوں سے آگاہ کرے اور اس کی بنیاد دین کے عالمگیر اُصولوں پر ہونی چاہیے۔ صرف دنیاوی تعلیم اور اسی قسم کی تعلیم جو عورت کو نام نہاد آزادی کی جانب راغت کرتی ہو۔ بھیانک نتائج کی حامل ہوگی۔

تہذیب فرنگی ہے اگر مرگ امومت

ہے حضرت انسان کے ليے اس کا ثمرموت

جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن

کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت

بیگانہ رہے دیں سے اگر مدرسہ زن

ہے عشق و محبت کے ليے علم و ہنر موت


اقبال کے خیال میں اگر علم و ہنر کے میدان میں کوئی بڑا کارنامہ انجام دے سکے تو اس کا مرتبہ کم نہیں ہو جاتا ۔ اس کے ليے یہ شرف ہی بہت بڑا ہے کہ زندگی کے ہر میدان میں کارہائے نمایاں انجام دینے والے مشاہیر اس کی گود میں پروان چڑھتے ہیں اور دنیا کا کوئی انسان نہیں جو اس کا ممنونِ احسان نہ ہو۔

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز ِ دروں

شرف میں بڑھ کر ثریا سے مشت خا ک اس کی

کہ ہر شرف ہے اسی درج کادر مکنوں!

مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن!

اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطوں

 

[ترمیم] آزادی نسواں

اقبال اگرچہ عورتوں کے ليے صحیح تعلیم ، ان کی حقیقی آزادی اور ان کی ترقی کے خواہاں ہیں۔ لیکن آزادی نسواں کے مغربی تصور کو قبول کرنے کے ليے وہ تیار نہیں ہیں اس آزادی سے ان کی نظر میں عورتوں کی مشکلات آسان نہیں بلکہ اور پیچیدہ ہو جائیں گی ۔ اور اس طرح یہ تحریک عورت کو آزاد نہیں بلکہ بے شمار مسائل کا غلام بنا دے گی۔ ثبوت کے طور پر مغربی معاشرہ کی مثال کو وہ سامنے رکھتے ہےں جس نے عورت کو بے بنیاد آزادی دے دی تھی تو اب وہ اس کے ليے درد ِ سر کا باعث بنی ہوئی ہے۔ کہ مرد و زن کا رشتہ بھی کٹ کر رہ گیا ہے۔

ہزار بار حکیموں نے اس کو سلجھایا!

مگر یہ مسئلہ زن رہا وہیں کا وہیں

قصور زن کا نہیں ہے کچھ اس خرابی میں

گواہ اس کی شرافت پہ ہیں مہ پرویں

فساد کا ہے فرنگی معاشرت میں ظہور!

کہ مرد سادہ ہے بےچارہ زن شناس نہیں


اقبال کی نظر میں آزادی نسواں یا آزادی رجال کے نعرے کوئی معنی نہیں رکھتے بلکہ انتہائی گمراہ کن ہیں۔ کیونکہ عورت اور مرد دونوں کو مل کر زندگی کا بوجھ اُٹھانا ہوتا ہے۔ اور زندگی کو آگے بڑھانے اور سنوارنے کے ليے دونوں کے باہمی تعاون ربط اور ہم آہنگی کی ضرورت ہوتی ہے دونوں کے کامل تعاون کے بغیر زندگی کاکام ادھورا اور اس کی رونق پھیکی رہ جاتی ہے۔ اس ليے ان دونوں کو اپنے فطری حدود میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے زندگی کو بنانے سنوارنے کا کام کرنا چاہیے اور ایک دوسرے کا ساتھی ثابت ہونا چاہیے۔ نہ کہ مدمقابل چنانچہ آزادی نسواں کے بارے میں وہ فیصلہ عورت پر ہی چھوڑ تے ہیں کہ وہ خود سوچے کہ اس کے ليے بہتر کیا ہے۔

اس بحث کا کچھ فیصلہ میں کر نہیں کر سکتا

گو خوب سمجھتا ہوں کہ یہ زہر ہے ، وہ قند

کیا فائدہ کچھ کہہ کے بنوں اور بھی معتوب

پہلے ہی خفا مجھ سے ہیں تہذیب کے فرزند

اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش

مجبور ہیں ، معذور ہیں، مردان خرد مند

کیا چیز ہے آرائش و قیمت میں زیادہ

آزادی نسواں کہ زمرد کا گلوبند!

 

[ترمیم] امومیت

اقبال کی نظر میں عورت کی عظمت کا راز اس کے فرض امومیت میں پوشیدہ ہے معاشرتی اور سماجی زندگی میں ماں کو مرکز ی حیثیت حاصل ہے۔ اور خاندانوں کی زندگی اسی جذبہ امومیت سے ہی وابستہ ہے۔ ماں کی گود پہلا دبستان ہے جو انسان کو اخلاق اور شرافت کا سبق سکھاتا ہے۔ جس قوم کی مائیں بلند خیال عالی ہمت اور شائستہ و مہذب ہو گی اس قوم کے بچے یقینا اچھا معاشرہ تعمیر کرنے کے قابل بن سکیں گے۔ گھر سے باہر کی زندگی میں مرد کو فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ لیکن گھر کے اندر کی زندگی میں عورت کو فوقیت حاصل ہے ۔ کیونکہ اس کے ذمہ نئی نسل کی پرورش ہوتی ہے۔ اور اس نئی نسل کی صحیح پرورش و پرداخت پر قوم کے مسقبل کا دارمدار ہوتا ہے۔ اس ليے عورت کا شرف و امتیاز اس کی ماں ہونے کی وجہ سے ہے۔ جس قوم کی عورتیں فرائض ِ امومت ادا کرنے سے کترانے لگتی ہے اس کا معاشرتی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ اس کا عائلی نظام انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ افراد خاندان کے درمیان رشتہ عورت کمزور پڑ جاتا ہے۔ اور اخلاقی خوبیاں دم توڑ دیتی ہیں ۔ مغربی تمد ن کی اقدار عالیہ کو اس ليے زوال آگیاہے کہ وہاں کی عورت آزادی کے نام جذبہ امومت سے بھی محروم ہوتی چلی جا رہی ہے۔

کوئی پوچھے حکیم یورپ سے

ہند و یونان ہیں جس کے حلقہ بگوش!

کیا یہی ہے معاشرت کا کمال

مرد بےکار و زن تہی آغوش!


عورتوں کے ليے مغربی تعلیم کی بھی اقبال اسی ليے مخالفت کرتے ہیں کہ اس سے ماں کی مامتا کی روایت کمزور پڑتی ہے اور عورت اپنی فطری خصوصیات سے محروم ہو جاتی ہے۔

اقبال کی نظر میں دنیا کی تمام سرگرمیوں کی اصل ماں کی ذات ہے ، ماں کی ذات امین ممکنات ہوتی ہے اور دنیا کے انقلابات مائوں کی گود میں ہی پرور ش پاتے ہیں۔ اسی ليے ماں کی ہستی کسی قوم کے ليے سب سے زیادہ قیمتی متاع ہوتی ہے۔ جو قوم اپنی مائوں کی قدر نہیں کرتی اس کا نظام ہستی بہت جلد بکھر جاتا ہے۔

جہاں رامحکمی از اُمیات ست

نہاد شان امین ممکنا ت ست

اگر ایں نکتہ را قومی نداند

نظام کروبارش بے ثبات ست


ماں کی ہستی اس قدر بلند مرتبت ہے کہ قوم کہ حال و مسقبل انہی کے فیض سے ترتیب پاتا ہے۔ قوم کی تقدیر بنانے میں ماں کا کردار بنیادی ہے اس ليے عورت کو چاہیے کہ فرض امومیت کی ادائیگی میں اپنی پوری صلاحیتیں صرف کر دی کہ اس کی خودی کا استحکام اسی ذریعہ سے ہوتا ہے۔

 

[ترمیم] مثالی کردار

اقبال نے حضرت فاطمہ کے کردار کو عورتوں کے ليے مثال اور نصب العین قرار دیا ہے بےٹی ، بیوی اور ماں کی حیثیت سے حضرت فاطمہ نے جو زندگی بسر کی وہ دنیا کے تما م عورتوں کے ليے نمونہ ہے۔

فررع تسلیم را حاصل بتول

مادراں راسوہ کامل بتول

فطرت تو جذبہ ہا دارد بلند

چشم ہوش از اُسوہ زُ ہرا مند


اقبال کے نزدیک انسانی خودی کے بنیادی اوصاف فقر، قوت ، حریت اور سادگی سے عبارت ہیں اور یہ تمام حضرت فاطمہ کی زندگی میں بدرجہ اتم جمع ہوگئے تھے۔ انہی اوصاف نے ان کے اُسوہ کو عورتوں کے ليے رہتی دنیا تک مثالی بنا دیا ہے۔ اور ان کی ہستی کی سب سے بڑھ کریہ دلیل ہے کہ حضرت امام حسین جیسی عظیم و مدبر شخصیت کو انہوں نے اپنی آغوش میں پروان چڑھایا ۔ اقبال کی نظر میں عورت کے بطن سے اگر ایک ایسا آدمی پیدا ہوجائے جو حق پرستی اور حق کی خدمت کو اپنی زندگی کا نصب العین اور مقصد قرار دے تو اس عورت نے گویا اپنی زندگی کے منشاءکو پورا کر دیا۔ اسی ليے وہ مسلمان عورتوں سے مخاطب ہو کرکہتے ہیں۔

اگر پندے ز درد پشے پذیری

ہزار اُمت بمیرد تو نہ میری!

بتو ے باش و پنہاں شواز یں عصر

کہ در آغوش شبیرے بگیری!

 

[ترمیم] حاصل کلام

عورت کے بارے میں اقبال کے خیالات کا ہر پہلو جائزہ لینے کے بعد یہ الزام قطعاً بے بنیاد ثابت ہو جاتا ہے کہ انہوں نے عورت کے متعلق تنگ نظری اور تعصب سے کا م لیا ہے دراصل ان کے افکار کی بنیاد اسلامی تعلیمات پر ہے اور عورت کے متعلق بھی وہ انہی حدود و قیود کے حامی ہیں جو اسلام نے مقرر کی ہیں۔ ےہ حدود و قیود عورت کو نہ تو اس قدر پابند بناتی ہیں جو پردہ کے مروجہ تصور نے سمجھ لیا ہے۔ اور نہ اس قدر آزادی دیتی ہیں جو مغرب نے عورت کو دے دی ہے۔ نہ یہ پردہ اسلام کا مقصد ہے اور نہ یہ آزادی اسلام دیتا ہے۔ اسلام عورت کے ليے ایسے ماحول اور مقام کا حامی ہے جس میں وہ اپنی تمام تر صلاحیتیں بہتر طور پر استعمال کرسکے اور یہی بات اقبال نے کہی ہے یہ فطرت کے بھی عین مطابق ہے اس کی خلاف ورزی معاشرت میں لازماً بگاڑ اور نتشار کا باعث بنتی ہے۔

 

+ نوشته شده توسط khial hussain در Sat 17 Sep 2011 و ساعت 7:15 AM |

خود انسان میں مختلف پھلو پائے جاتے ھیں: ایک طرف تو نظری (تھیوری) اور عملی (پریکٹیکل) پھلو اس میں موجود ھے اور دوسری طرف اس میں ذاتی اور اجتماعی پھلو بھی پایا جاتا ھے، اور ایک دوسرے رخ سے جسمانی پھلو کے ساتھ روحی اور نفسیاتی پھلو بھی اس میں موجود ھے، جبکہ اس بات میں کوئی شک نھیں ھے کہ مذکورہ پھلوؤں کے لئے مخصوص قوانین کی ضرورت ھے، تاکہ ان کے تحت انسان کے لئے زندگی کا صحیح راستہ کھل جائے، اور منحرف اور گمراہ کن راستہ بند ھوجائے۔

امام مھدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ظھور کا انتظار، منتظر کے تمام پھلوؤں پر موثر ھے، انسان کے فکری اور نظری پھلو جو انسان کے اعمال و کردار کا بنیادی پھلو ھے ، انسانی زندگی کے بنیادی عقائد پر اپنے حصار کے ذریعہ حفاظت کرتا ھے۔ دوسرے الفاظ میں یوں عرض کیا جائے کہ صحیح انتظار اس بات کا تقاضا کرتا ھے کہ منتظر اپنی اعتقادی اور فکری بنیادوں کو مضبوط کرے تاکہ گمراہ کرنے والے مذاھب کے جال میں نہ پھنس جائے یا امام مھدی علیہ السلام کی طولانی غیبت کی وجہ سے یاس و ناامیدی کے دلدل میں نہ پھنس جائے۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ھیں:

”لوگوں پر ایک زمانہ وہ آئے گا کہ جب ان کا امام غائب ھوگا، خوش نصیب ھے وہ شخص جو اس زمانہ میں ھمارے امر (یعنی ولایت) پر ثابت قدم رھے“۔

یعنی غیبت کے زمانہ میں دشمن نے مختلف شبھات کے ذریعہ یہ کوشش کی ھے کہ شیعوں کے صحیح عقائد کو ختم کردیا جائے، لیکن ھمیں انتظار کے زمانہ میں اپنے عقائد کی حفاظت کرنا چاہئے۔

انتظار ، عملی پھلو میں انسان کے اعمال اور کردار کو راستہ دیتا ھے، ایک حقیقی منتظر کو عملی میدان میں کوشش کرنا چاہئے کہ امام مھدی علیہ السلام کی حکومت حق کا راستہ فراھم ھوجائے، لہٰذا منتظر کو اس سلسلہ میں اپنی اور معاشرہ کی اصلاح کے لئے کمرِ ھمت باندھنا چاہئے، نیز اپنی ذاتی زندگی میں اپنی روحی اور نفسیاتی حیات اور اخلاقی فضائل کو کسب کرنے کی طرف مائل ھو اور اپنے جسم و بدن کو مضبوط کرے تاکہ ایک کار آمد طاقت کے لحاظ سے نورانی مورچہ کے لئے تیار رھے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:

”جو شخص امام قائم علیہ السلام کے ناصر و مددگار میں شامل ھونا چاھتا ھے اسے انتظار کرنا چاہئے اور انتظار کی حالت میں تقویٰ و پرھیزگاری کا راستہ اپنانا چاہئے اور نیک اخلاق سے مزین ھونا چاہئے“۔

اس ”انتظار“ کی خصوصیت یہ ھے کہ یہ انسان کو اپنی ذات سے بلند کرتا ھے اور اس کو معاشرہ کے ھر شخص سے جوڑ دیتا ھے، یعنی انتظار نہ صرف انسان کی ذاتی زندگی میں موٴثر ھوتا ھے بلکھ معاشرہ میں انسان کے لئے مخصوص منصوبہ بھی پیش کرتا ھے اور معاشرہ میں مثبت قدم اٹھانے کی رغبت بھی دلاتا ھے، اور چونکہ حضرت امام مھدی علیہ السلام کی حکومت اجتماعی حیثیت رکھتی ھے، لہٰذا ھر انسان اپنے لحاظ سے معاشرہ کی اصلاح کے لئے کوشش کرے اور معاشرہ میں پھیلی برائیوں کے سامنے خاموش اور بے توجہ نہ رھے، کیونکہ عالمی اصلاح کرنے والے کے منتظر کو فکر و عمل کے لحاظ سے اصلاح اور خیر کے راستہ کو اپنانا چاہئے۔

مختصر یہ ھے کہ ”انتظار“ ایک ایسا مبارک چشمہ ھے جس کا آب حیات انسان اور معاشرہ کی رگوں میں جاری ھے، اور زندگی کے تمام پھلوؤں میں انسان کو الٰھی رنگ اور حیات عطا کرتا ھے، اور خدائی رنگ سے بھتر اور ھمیشگی رنگ اور کونسا ھو سکتا ھے؟!

قرآن کریم میں ارشاد ھوتا ھے:

”رنگ تو صرف اللہ کا رنگ ھے اور اس سے بھتر کس کا رنگ ھوسکتا ھے اور ھم سب اسی کے عبادت گزار ھیں “۔

مذکورہ مطالب کے پیش نظر "مصلح کل" حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے منتظرین کی ذمّہ داری ”الٰھی رنگ اپنانے“ کے علاوہ کچھ نھیں ھے جو انتظار کی برکت سے انسان کی ذاتی اور اجتماعی زندگی کے مختلف پھلوؤں میں جلوہ گر ھوتا ھے، جس کے پیش نظر ھماری وہ ذمّہ داریاں ھمارے لئے مشکل نھیں ھوں گی، بلکہ ایک خوشگوار واقعہ کے عنوان سے ھماری زندگی کے ھر پھلو میں ایک بھترین معنی و مفھوم عطا کرے گی۔ واقعاً اگر ملک کا مھربان حاکم اور محبوب امیر قافلہ ھمیں ایک شائستہ سپاھی کے لحاظ سے ایمان کے خیمہ میں بلائے اور حق و حقیقت کے مورچہ پر ھمارے آنے کا انتظار کرے تو پھر ھمیں کیسا لگے گا؟ کیا پھر ھمیں اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں کوئی پریشانی ھوگی کہ یہ کام کرو اور ایسا بنو، یا ھم خود چونکہ انتظار کے راستہ کو پہچان کر اپنے منتخب مقصد کی طرف قدم بڑھاتے ھوئے نظر آئیں گے۔

خود انسان میں مختلف پھلو پائے جاتے ھیں: ایک طرف تو نظری (تھیوری) اور عملی (پریکٹیکل) پھلو اس میں موجود ھے اور دوسری طرف اس میں ذاتی اور اجتماعی پھلو بھی پایا جاتا ھے، اور ایک دوسرے رخ سے جسمانی پھلو کے ساتھ روحی اور نفسیاتی پھلو بھی اس میں موجود ھے، جبکہ اس بات میں کوئی شک نھیں ھے کہ مذکورہ پھلوؤں کے لئے مخصوص قوانین کی ضرورت ھے، تاکہ ان کے تحت انسان کے لئے زندگی کا صحیح راستہ کھل جائے، اور منحرف اور گمراہ کن راستہ بند ھوجائے۔

امام مھدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ظھور کا انتظار، منتظر کے تمام پھلوؤں پر موثر ھے، انسان کے فکری اور نظری پھلو جو انسان کے اعمال و کردار کا بنیادی پھلو ھے ، انسانی زندگی کے بنیادی عقائد پر اپنے حصار کے ذریعہ حفاظت کرتا ھے۔ دوسرے الفاظ میں یوں عرض کیا جائے کہ صحیح انتظار اس بات کا تقاضا کرتا ھے کہ منتظر اپنی اعتقادی اور فکری بنیادوں کو مضبوط کرے تاکہ گمراہ کرنے والے مذاھب کے جال میں نہ پھنس جائے یا امام مھدی علیہ السلام کی طولانی غیبت کی وجہ سے یاس و ناامیدی کے دلدل میں نہ پھنس جائے۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ھیں:

”لوگوں پر ایک زمانہ وہ آئے گا کہ جب ان کا امام غائب ھوگا، خوش نصیب ھے وہ شخص جو اس زمانہ میں ھمارے امر (یعنی ولایت) پر ثابت قدم رھے“۔

یعنی غیبت کے زمانہ میں دشمن نے مختلف شبھات کے ذریعہ یہ کوشش کی ھے کہ شیعوں کے صحیح عقائد کو ختم کردیا جائے، لیکن ھمیں انتظار کے زمانہ میں اپنے عقائد کی حفاظت کرنا چاہئے۔

انتظار ، عملی پھلو میں انسان کے اعمال اور کردار کو راستہ دیتا ھے، ایک حقیقی منتظر کو عملی میدان میں کوشش کرنا چاہئے کہ امام مھدی علیہ السلام کی حکومت حق کا راستہ فراھم ھوجائے، لہٰذا منتظر کو اس سلسلہ میں اپنی اور معاشرہ کی اصلاح کے لئے کمرِ ھمت باندھنا چاہئے، نیز اپنی ذاتی زندگی میں اپنی روحی اور نفسیاتی حیات اور اخلاقی فضائل کو کسب کرنے کی طرف مائل ھو اور اپنے جسم و بدن کو مضبوط کرے تاکہ ایک کار آمد طاقت کے لحاظ سے نورانی مورچہ کے لئے تیار رھے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:

”جو شخص امام قائم علیہ السلام کے ناصر و مددگار میں شامل ھونا چاھتا ھے اسے انتظار کرنا چاہئے اور انتظار کی حالت میں تقویٰ و پرھیزگاری کا راستہ اپنانا چاہئے اور نیک اخلاق سے مزین ھونا چاہئے“۔

اس ”انتظار“ کی خصوصیت یہ ھے کہ یہ انسان کو اپنی ذات سے بلند کرتا ھے اور اس کو معاشرہ کے ھر شخص سے جوڑ دیتا ھے، یعنی انتظار نہ صرف انسان کی ذاتی زندگی میں موٴثر ھوتا ھے بلکھ معاشرہ میں انسان کے لئے مخصوص منصوبہ بھی پیش کرتا ھے اور معاشرہ میں مثبت قدم اٹھانے کی رغبت بھی دلاتا ھے، اور چونکہ حضرت امام مھدی علیہ السلام کی حکومت اجتماعی حیثیت رکھتی ھے، لہٰذا ھر انسان اپنے لحاظ سے معاشرہ کی اصلاح کے لئے کوشش کرے اور معاشرہ میں پھیلی برائیوں کے سامنے خاموش اور بے توجہ نہ رھے، کیونکہ عالمی اصلاح کرنے والے کے منتظر کو فکر و عمل کے لحاظ سے اصلاح اور خیر کے راستہ کو اپنانا چاہئے۔

مختصر یہ ھے کہ ”انتظار“ ایک ایسا مبارک چشمہ ھے جس کا آب حیات انسان اور معاشرہ کی رگوں میں جاری ھے، اور زندگی کے تمام پھلوؤں میں انسان کو الٰھی رنگ اور حیات عطا کرتا ھے، اور خدائی رنگ سے بھتر اور ھمیشگی رنگ اور کونسا ھو سکتا ھے؟!

قرآن کریم میں ارشاد ھوتا ھے:

”رنگ تو صرف اللہ کا رنگ ھے اور اس سے بھتر کس کا رنگ ھوسکتا ھے اور ھم سب اسی کے عبادت گزار ھیں “۔

مذکورہ مطالب کے پیش نظر "مصلح کل" حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے منتظرین کی ذمّہ داری ”الٰھی رنگ اپنانے“ کے علاوہ کچھ نھیں ھے جو انتظار کی برکت سے انسان کی ذاتی اور اجتماعی زندگی کے مختلف پھلوؤں میں جلوہ گر ھوتا ھے، جس کے پیش نظر ھماری وہ ذمّہ داریاں ھمارے لئے مشکل نھیں ھوں گی، بلکہ ایک خوشگوار واقعہ کے عنوان سے ھماری زندگی کے ھر پھلو میں ایک بھترین معنی و مفھوم عطا کرے گی۔ واقعاً اگر ملک کا مھربان حاکم اور محبوب امیر قافلہ ھمیں ایک شائستہ سپاھی کے لحاظ سے ایمان کے خیمہ میں بلائے اور حق و حقیقت کے مورچہ پر ھمارے آنے کا انتظار کرے تو پھر ھمیں کیسا لگے گا؟ کیا پھر ھمیں اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں کوئی پریشانی ھوگی کہ یہ کام کرو اور ایسا بنو، یا ھم خود چونکہ انتظار کے راستہ کو پہچان کر اپنے منتخب مقصد کی طرف قدم بڑھاتے ھوئے نظر آئیں گے۔

 

 

+ نوشته شده توسط khial hussain در Sat 10 Sep 2011 و ساعت 7:59 PM |

 

 

چند سال قبل كینیا (افریقہ) كے ایك باشندے بنام "ابو محمد" نے "ادارہ رابطہ عالم اسلامی" سے حضرت مہدی (ع) كے ظھور كے بارے میں سوال كیا تھا۔

اس ادارے كے جنرل سكریٹری "جناب محمد صالح اتغزاز" نے جو جواب ارسال كیا، اس میں اس بات كی با قاعدہ تصریح كی ھے كہ وھابی فرقے كے بانی "ابن تیمیہ" نے بھی ان روایات كو قبول كیا ھے جو حضرت امام مھدی علیہ السلام كے بارے میں وارد ھوئی ھیں۔ اس جواب كے ذیل میں سكریٹری موصوف نے وہ كتابچہ بھی ارسال كیا ھے جسے پانچ جید علمائے كرام نے مل كر تحریر كیا ھے۔ اس كتابچے كے اقتباسات قارئین محترم كی خدمت میں پیش كئے جاتے ھیں: ۔۔۔۔

عظیم مصلح كا اسم مبارك مھدی (ع) ھے۔ آپ كے والد كا نام "عبد اللہ" ھے اور آپ مكّہ سے ظھور فرمائیں گے۔ ظھور كے وقت ساری دنیا ظلم و جور و فساد سے بھری ھوگی۔ ھر طرف ضلالت و گمراھی كی آندھیاں چل رھی ھوں گی۔ حضرت مہدی (ع) كے ذریعہ خداوندعالم دنیا كو عدل و انصاف سے بھر دے گا، ظلم و جور و ستم كانشان تك بھی نہ ھوگا۔"

رسول گرامی اسلام (ص) كے بارہ جانشینوں میں سے وہ آخری جانشین ھوں گے، اس كی خبر خود پیغمبر اسلام (ص) دے گئے ھیں، حدیث كی معتبر كتابوں میں اس قسم كی روایات كا ذكر باقاعدہ موجود ھے۔"

حضرت مہدی (ع) كے بارے میں جو روایات وارد ھوئی ھیں خود صحابۂ كرام نے ان كو نقل فرمایا ھے ان میں سے بعض كے نام یہ ھیں:۔

(1) علی ابن ابی طالب (ع)، (2) عثمان بن عفان، (3) طلحہ بن عبیدہ، (4) عبد الرحمٰن بن عوف، (5) عبد اللہ بن عباس،(6) عمار یاسر، (7) عبد اللہ بن مسعود، (8) ابوسعید خدری، (9) ثوبان، (10) قرہ ابن اساس مزنی، (11) عبد اللہ ابن حارث، (12) ابوھریرہ، (13) حذیفہ بن یمان، (14) جابر ابن عبد اللہ (15) ابو امامہ، (16) جابر ابن ماجد، (17) عبد اللہ بن عمر (18) انس بن مالك، (19) عمران بن حصین، (20) ام سلمہ۔

پیغمبر اسلام (ص) كی روایات كے علاوہ خود صحابہ كرام كے فرمودات میں ایسی باتیں ملتی ھیں جن میں حضرت مہدی (ع) كے ظھور كو باقاعدہ ذكر كیا گیا ھے۔ یہ ایسا مسئلہ ھے جس میں اجتہاد وغیرہ كا گذر نہیں ھے جس كی بناء پر بڑے اعتماد سے یہ بات كہی جاسكتی ھے كہ یہ تمام باتیں خود پیغمبر اسلام (ص) كی روایات سے اخذ كی گئی ھیں۔ ان تمام باتوں كو علمائے حدیث نے اپنی معتبر كتابوں میں ذكر كیا ھے جیسے:۔

سنن ابی داؤد، سنن ترمذی، ابن ماجہ، سنن ابن عمر والدانی، مسند احمد، مسند ابن یعلی، مسند بزاز، صحیح حاكم، معاجم طبرانی (كبیر و متوسط)، معجم رویانی، معجم دار قطنی، ابو نعیم كی "اخبار المھدی"۔ تاریخ بغداد، تاریخ ابن عساكر، اور دوسری معتبر كتابیں۔

علمائے اسلام نے حضرت مھدی (ع) كے موضوع پر مستقل كتابیں تحریر كی ھیں جن میں سے بعض كے نام یہ ھیں:

اخبار المھدی؛ تالیف: ابو نعیم

القول المختصر فی علامات المھدی المنتظر؛ تالیف: ابن ھجر ھیثمی

التوضیح فی تواتر ماجاء فی المنتظر والد جال والمسیح؛ تالیف: شوكانی

المھدی؛ تالیف: ادریس عراقی مغربی

الوھم المكنون فی الرد علی ابن خلدون؛ تالیف: ابو العباس بن عبد المومن المغربی

مدینہ یونی یورسٹی كے وائس چانسلر نے یونی ورسٹی كے ماھنامہ میں اس موضوع پر تفصیل سے بحث كی ھے، ھر دور كے علماء نے اس بات كی باقاعدہ تصریح كی ھے كہ وہ حدیثیں جو حضرت مھدی (ع) كے بارے میں وارد ھوئی ھیں وہ متواتر ھیں جنھیں كسی بھی صورت سے جھٹلایا نہیں جاسكتا۔ جن علماء نے حدیثوں كے متواتر ھونے كا دعویٰ كیا ھے ان كے نام اور كتابوں كے نام حسب ذیل ھیں، جن میں تواتر كا ذكر كیا گیا ھے:۔

1۔ السخاوی اپنی كتاب فتح المغیث میں

2۔ محمد بن السنادینی اپنی كتاب شرح العقیدہ میں

3۔ ابو الحسن الابری اپنی كتاب مناقب الشافعی میں

4۔ ابن تیمیہ اپنے فتوؤں میں

5۔ سیوطی اپنی كتاب الحاوی میں

6۔ ادریس عراقی مغربی اپنی كتاب المھدی میں

7۔ شوكانی اپنی كتاب التوضیح فی تواتر ماجاء میں

8۔ شوكانی اپنی كتاب فی المنتظر والدجال والمسیح میں

9۔ محمد جعفر كنانی اپنی كتاب نظم المتناثر میں

10۔ ابو العباس عبد المومن المغربی اپنی كتاب الوھم المكنون میں

ھاں ابن خلدون نے ضرور اس بات كی كوشش كی ھے كہ ان متواتر اور ناقابل انكار حدیثوں كو ایك جعلی اور بے بنیاد حدیث لا مھدی الا عیسیٰ (حضرت عیسیٰ كے علاوہ اور كوئی مھدی نہیں ھے) كے ھم پلّہ قرار دے كر ان حدیثوں سے انكار كیا جائے۔ لیكن علمائے اسلام نے اس مسئلہ میں ابن خلدون كے نظریے كی باقاعدہ تردید كی ھے خصوصاً ابن عبد المومن نے تو اس موضوع پر ایك مستقل كتاب الوھم المكنون تحریر كی ھے۔ یہ كتاب تقریباً 30 برس قبل مشرق اور مغرب میں شائع ھوچكی ھے۔

حافظان حدیث اور دیگر علمائے كرام نے بھی ان حدیثوں كے متواتر ھونے كی صراحت فرمائی ھے۔

ان تمام باتوں كی بنا پر ھر مسلمان پر واجب ھے كہ وہ حضرت مھدی كے ظھور پر ایمان و عقیدہ ركھے۔ اھل سنت والجماعت كا بھی یہی عقیدہ ھے اور ان كے عقائد میں سے ایك ھے۔

ھاں وہ اشخاص تو ضرور اس عقیدے سے انكار كرسكتے ھیں جو روایات سے بے خبر ھیں، یادین میں بدعت كو رواج دینا چاھتے ھیں، (ورنہ ایك ذی علم اور دیندار كبھی بھی اس عقیدے سے انكار نہیں كرسكتا۔)"

سكریٹری انجمن فقۂ اسلامی

محمد منتصر كنانی

اس جواب كی روشنی میں یہ بات كس قدر واضح ھوجاتی ھے كہ حضرت مھدی (ع) كے ظھور كا عقیدہ صرف ایك خالص اسلامی عقیدہ ھے كسی بھی دوسرے مذھب سے یہ عقیدہ اخذ نہیں كیا گیا ھے۔

ایك بات ضرور قابل ذكر ھے وہ یہ كہ اس جواب میں حضرت امام مھدی (ع) كے والد بزرگوار كا اسمِ مبارك عبد اللہ ذكر كیا گیا ھے۔ جب كہ اھل بیت علیہم السلام سے جو روایات وارد ھوئی ھیں۔ ان میں بطور یقین حضرت كے والد بزرگوار كا اسم مبارك حضرت امام حسن عسكری علیہ السلام ھے

اس شبہ كی وجہ وہ روایت ھے جس كے الفاظ یہ ھیں "اسم ابیہ اسم ابی" (ان كے والد كا نام میرے والد كا نام ھے) جبكہ بعض دوسری روایات میں ابی (میرے والد) كے بجائے ابنی (میرا فرزند) ھے، صرف نون كا نقطہ حذف ھوجانے یا كاتب كی غلطی سے یہ اختلاف پیدا ھوگیا ھے۔ اسی بات كو "گنجی شافعی" نے اپنی كتاب "البیان فی اخبار صاحب الزمان" میں ذكر كیا ھے، اس كے علاوہ

1۔ یہ جملہ اھل سنت كی اكثر روایات میں موجود نہیں ھے

2۔ ابن ابی لیلیٰ كی روایت كے الفاظ یہ ھیں: اسمہ اسمی اسم ابیہ اسم ابنی۔ (اس كا نام میرا نام ھے، اس كے والد كا نام میرے فرزند كا نام ھے) فرزند سے مراد حضرت امام حسن علیہ السلام ھیں۔

3۔ اھل سنت كی بعض روایات میں اس بات كی تصریح كی گئی ھے كہ امام زمانہ كے والد بزرگوار كا نام حسن ھے۔

4۔ اھلبیت علیہم السلام سے جو روایات وارد ھوئی ھیں جو تواتر كی حد كو پہونچتی ھیں ان میں صراحت كے ساتھ یہ بات ذكر كی گئی ھے كہ حضرت امام مھدی علیہ السلام كے والد بزرگوار كا اسم مبارك حسن ھے

+ نوشته شده توسط khial hussain در Sat 10 Sep 2011 و ساعت 7:56 PM |

 

 

دینی رھبروں کے ذریعہ احادیث اور روایات میں ظھور کا انتظار کرنے والوں کی بھت سی ذمّہ داریاں بیان ھوئی ھیں، ھم یھاں پر ان میں سے چند اھم ذمّہ داریاں کو بیان کرتے ھیں۔

امام کی پہچان

امام علیہ السلام کی شناخت اور پہچان کے بغیر راہ انتظار کو طے کرنا ممکن نھیں ھے، انتظار کی وادی میں صبر و استقامت کرنا امام علیہ السلام کی صحیح شناخت سے وابستہ ھے، لہٰذا امام مھدی علیہ السلام کے اسم گرامی اور نسب کی شناخت کے علاوہ ان کی عظمت اور ان کے رتبہ و مقام کی کافی مقدار میں شناخت بھی ضروری ھے۔

”ابو نصر“ امام حسن عسکری علیہ السلام کےخادم،امام مھدی علیہ السلام کی غیبت سے پھلے امام عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ھوئے، امام مھدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) نے ان سے سوال کیا: کیا مجھے پہچانتے ھو؟ انھوں نے جواب دیا: جی ھاں، آپ میرے مولا و آقا اور میرے مولا و آقا کے فرزند ھیں! امام علیہ السلام نے فرمایا: میرا مقصد ایسی پہچان نھیں ھے!؟ ابو نصر نے عرض کی: آپ ھی فرمائیں کہ آپ کا مقصد کیا تھا۔

امام علیہ السلام نے فرمایا:

”میں پیغمبر اسلام (ص) کا آخری جانشین ھوں، اور خداوندعالم میری (برکت کی) وجہ سے ھمارے خاندان اور ھمارے شیعوں سے بلاؤں کو دور فرماتا ھے“۔

اگر منتظر کو امام علیہ السلام کی معرفت حاصل ھوجائے تو پھر وہ اسی وقت سے اپنے کو امام علیہ السلام کے مورچہ پر دیکھے گا اور احساس کرے گا کہ امام علیہ السلام اور ان کے خیمہ کے نزدیک ھے، لہٰذا اپنے امام کے مورچہ کو مضبوط بنانے میں پَل بھر کے لئے کوتاھی نھیں کرے گا۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ھیں:

”جو شخص اس حال میں مرے کہ اپنے امام زمانہ کو پہچانتا ھو تو ظھور کا جلد یا تاخیر سے ھونا کوئی نقصان نھیں پھونچاتا، اور جو شخص اس حال میں مرے کہ اپنے امام زمانہ کو پہچانتا ھو تو وہ اس شخص کی طرح ھے جو امام کے خیمہ اور اور امام کے ساتھ ھو“۔

قابل ذکر ھے کہ یہ معرفت اور شناخت اتنی اھم ھے کہ معصومین علیھم السلام کے کلام میں بیان ھوئی ھے اور جس کو حاصل کرنے کے لئے خداوندعالم سے مدد طلب کرنا چاہئے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

”حضرت امام مھدی علیہ السلام کی طولانی غیبت کے زمانہ میں باطل خیال کے لوگ (اپنے دین اور عقائد میں) شک و شبہ میں مبتلا ھوجائیں گے، امام علیہ السلام کے خاص شاگرد جناب زرارہ نے کھا: آقا اگر میں وہ زمانہ پائوں تو کونسا عمل انجام دوں؟

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اس دعا کو پڑھو:

”پرودگارا! مجھے تو اپنی ذات کی معرفت کرادے اور اگر تو نے مجھے اپنی ذات کی معرفت نہ کرائی تو میں تیرے نبی کو نھیں پہچان سکتا، پرودگارا! تو مجھے اپنے رسول کی معرفت کرادے اور اگر تو نے اپنے رسول کی پہچان نہ کرائی تو میں تیری حجت کو نھیں پہچان سکوں گا، پروردگارا! تو مجھے اپنی حجت کی معرفت کرادے اور اگر تو نے مجھے اپنی حجت کی پہچان نہ کرائی تو میں اپنے دین سے گمراہ ھوجاؤں گا“۔

قارئین کرام! مذکورہ دعا میں نظام کائنات کے مجموعہ میں امام علیہ السلام کی عظمت کی معرفت بیان ھوئی ھے اور وہ خداوندعالم کی طرف سے حجت اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا حقیقی جانشین اور تمام لوگوں کا ھادی و رھبر ھے جس کی اطاعت سب پر واجب ھے، کیونکہ اس کی اطاعت خداوندعالم کی اطاعت ھے۔

معرفت امام کا دوسرا پھلو امام علیہ السلام کے صفات اور ان کی سیرت کی پہچان ھے معرفت کا یہ پھلو انتظار کرنے والے کی رفتار و گفتار پر بھت زیادہ موثر ھوتا ھے، اور ظاھر سی بات ھے کہ انسان کو امام علیہ السلام کی جتنی معرفت ھوگی اس کی زندگی میں اتنے ھی آثار پیدا ھوں گے۔

+ نوشته شده توسط khial hussain در Sat 10 Sep 2011 و ساعت 7:51 PM |
 
 
 
 
 
+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 30 Aug 2011 و ساعت 2:40 PM |
+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 30 Aug 2011 و ساعت 12:8 PM |
+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 30 Aug 2011 و ساعت 11:56 AM |
+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 30 Aug 2011 و ساعت 11:55 AM |
 

+ نوشته شده توسط khial hussain در Sat 27 Aug 2011 و ساعت 7:2 PM |
 

 

+ نوشته شده توسط khial hussain در Sat 27 Aug 2011 و ساعت 7:0 PM |
خبری فوٹو//
بندرعباس- مہر نیوز: : رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی موجودگي میں فوجی دستوں (نداجا) کی مشترکہ پریڈ منعقد ہوئی۔
 

 

+ نوشته شده توسط khial hussain در Sat 27 Aug 2011 و ساعت 6:57 PM |

+ نوشته شده توسط khial hussain در Sat 27 Aug 2011 و ساعت 6:53 PM |
لندن
 
 جرمن
 
افغانستان کابل
 
 پاکستان
 
 لبنان بیروت
 

عراق۔ بغداد

 
 جرمن
 
 
لندن
 
یمن
 

 پاکستان

 
 
 پاکستان
 
لندن
 
 پاکستان
 
لندن
 
پاکستان
 
 عراق۔ بغداد
 
جرمن
 
لندن
 
 پاکستان
+ نوشته شده توسط khial hussain در Sat 27 Aug 2011 و ساعت 6:52 PM |
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
+ نوشته شده توسط khial hussain در Sat 27 Aug 2011 و ساعت 6:40 PM |

کد خبر:100068 -
+ نوشته شده توسط khial hussain در Sat 27 Aug 2011 و ساعت 6:23 PM |

 

+ نوشته شده توسط khial hussain در Sat 27 Aug 2011 و ساعت 6:19 PM |

 

+ نوشته شده توسط khial hussain در Sat 27 Aug 2011 و ساعت 6:14 PM |
 
اسلام ٹائمز: حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے یہ تاکید کرتے ہوئے کہ فلسطین کی پاک سرزمین اپنے اصلی مکینوں کے پاس لوٹ آئے گی کہا کہ انشاءاللہ بہت جلد مسجد اقصی میں نماز ادا کریں گے۔
انشاءاللہ بہت جلد مسجد اقصی میں نماز ادا کریں گے، سید حسن نصراللہ
اسلام ٹائمز- فارس نیوز ایجنسی کے مطابق حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کل جمعۃ الوداع کے دن جنوبی لبنان کے قصبے مارون الراس میں عالمی قدس ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب مسجد اقصی میں قدس شریف کی آزادی کی نماز شکرانہ ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور عالمی استعماری قوتیں اس کوشش میں مصروف ہیں کہ مسئلہ فلسطین کو بھلا دیا جائے لیکن ہم یوم القدس مناتے ہیں تاکہ قدس شریف کو اپنی جہادی، مالی، ثقافتی اور اعتقادی ذمہ داریوں میں باقی رکھیں اور اس بات پر زور دیں کہ فلسطین اور قدس شریف ہمارے دین، ہماری ثقافت، رمضان مبارک میں ہمارے روزے، ہماری نماز اور ہمارے جہاد کا حصہ ہے اور انکے بغیر ہماری نماز، جہاد اور تمام اقدار ادھوری اور کھوکھلی ہیں۔ سید حسن نصراللہ نے او آئی سی، عرب اور اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ قدس شریف کو یہودیانے کی اسرائیلی سازش کا نوٹس لیتے ہوئے اسکے خلاف موثر اقدامات انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ سرزمین فلسطین کے ایک انچ یا اسکے پانی کے ایک قطرے یا اسکی گیس اور تیل کے ایک ذرے سے چشم پوشی کرے۔
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے مصر کے بدلتے ہوئے سیاسی حالات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تبدیلیاں نئے مصر کی نوید دیتی ہیں کیونکہ اگر سابق صدر حسنی مبارک برسر اقتدار ہوتے تو وہ ایلات کے واقعے پر فلسطینیوں کو سرزنش کرتے۔ لیکن اب مصری عوام ملک سے اسرائیلی سفیر کے نکالے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مصر فلسطین کے حق میں سرگرم عمل ہو جائے تو خطے میں اسٹریٹجک تبدیلیاں آ سکتی ہیں کیونکہ مصر کی جانب سے تھوڑی سی فعالیت نے اسرائیل کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور بنجمن نیتن یاہو کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ غزہ پر بڑا زمینی حملہ کرنے سے قاصر ہے۔
سید حسن نصراللہ نے شام کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شام پر بین الاقوامی دباو کی اصل وجہ وہاں کی حکومت، فوج اور قوم کا ملکی اور عربی مفادات پر ڈٹ جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دباو کوئی نئی چیز نہیں بلکہ کئی عشروں سے شام کی ملت اور رہنماوں پر موجود ہے۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اگر شام کے رہنما صرف ایک دن مغربی قوتوں کے سامنے کمزور موقف اختیار کرتے تو عرب اسرائیل امن منصوبہ کامیاب ہو جاتا اور مسئلہ فسلطین کو بھلا دیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ شام کے رہنما مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھنے اور اسے اسرائیل کی مرضی کے مطابق حل نہ ہونے میں مرکزی کردار کے حامل ہیں۔ انہوں نے تاکید کی کہ اگر شام لبنان اور فسلطین میں اسلامی مزاحمت کا ساتھ نہ دیتا تو لبنان کی سرزمین کبھی بھی اسرائیلی قبضے سے آزاد نہ ہوتی۔
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ لبنان اب انتہائی طاقتور ہو چکا ہے اور اپنی سرزمین کا دفاع کرنا جانتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اسلامی مزاحمت، لبنانی قوم اور فوج آپس میں متحد ہیں یہ ملک اپنے قومی مفادات کے منافی فیصلوں کو کبھی بھی قبول نہیں کرے گا۔ سید حسن نصراللہ نے تاکید کی کہ لبنانی قوم، فوج اور اسلامی مزاحمت کے اتحاد نے اسرائیل کی سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک دشمن عناصر چاہے وہ لبنان سے باہر ہوں چاہے اندر، شدت سے اس اتحاد کو ختم کرنے کے درپے ہیں لیکن وہ ہمیشہ کی طرح ناکام رہیں گے۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ ایک دن وہ آئے گا جب ہم سرزمین فلسطین کی خوشبو کو احساس کرنے کیلئے مارون الراس تک محدود رہنے پر مجبور نہیں ہوں گے بلکہ مسجد اقصی اور "المھد" کنیسہ میں نماز ادا کریں گے۔ انہوں نے اسرائیل کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اے صہیونیستی فوجیو، سن لو، یہ پاک سرزمین اپنے حقیقی مالکین کے پاس لوٹ آئے گی اور خداوند عالم کا ارادہ بھی یہی
+ نوشته شده توسط khial hussain در Sat 27 Aug 2011 و ساعت 5:59 PM |
 
اسلام ٹائمز: اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر نے جمعۃ الوداع یوم القدس کو عظیم بین الاقوامی اسلامی دن قرار دیا جس دن امت مسلمہ اس حق کو زندہ رکھنے کیلئے آواز بلند کرتی ہے جسے مٹانے کیلئے استکباری قوتیں ساٹھ سال سے کوشش میں مصروف ہیں۔
یوم القدس ایک عظیم اور اہم بین الاقوامی اسلامی دن ہے، آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
اسلام ٹائمز- فارس نیوز ایجنسی کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے یوم قدس کو عظیم اور اہم بین الاقوامی اسلامی دن قرار دیا جس دن ملت ایران اور مسلمان اقوام ایسے حق کو آشکار کرنے کیلئے صدا بلند کرتے ہیں جسکو چھپانے کیلئے عالمی استکباری قوتیں گذشتہ 60 سال سے سازشوں میں مصروف ہیں۔ وہ کل رات اپنی ملاقات کیلئے آئے یونیورسٹی اساتید و طلاب کے عظیم اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔
قائد انقلاب اسلامی ایران نے کہا کہ ایران میں اسلامی جمہوری نظام کا قیام، جمعۃ الوداع کا روز قدس کے طور پر اعلان اور تہران میں اسرائیلی سفارتخانے کی جگہ فلسطینی سفارتخانے کی تاسیس وہ جارحانہ اقدامات تھے جنہوں نے دنیا کے نقشے سے فلسطین کو محو کرنے کی استکبار جہانی کی سازشوں کو ناکام بنا دیا۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تاکید کی کہ روز قدس انقلاب اسلامی ایران کی حفاظت کی ضمانت بھی فراہم کرتا ہے لہذا قدس ریلی میں شرکت کرنے والا ہر شخص درحقیقت قومی سلامتی اور اسلامی انقلابی اقدار کی حفاظت میں برابر کا شریک ہے۔
ولی امر مسلمین جہان حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اس امید کا اظہار کیا کہ خدا کے لطف و کرم سے اس سال بھی یوم قدس ایران اور تمام اسلامی ممالک میں پورے جوش و جذبے سے منایا جائے گا۔
خبرکا کوڈ : 94485
+ نوشته شده توسط khial hussain در Sat 27 Aug 2011 و ساعت 5:53 PM |
 
اسلام ٹائمز:اس میں بھی کوئی شک نہيں کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے شام کے کئي شہروں میں عوام کے پرامن مظاہروں سے غلط فائدہ اٹھا کر جہاں ایک طرف مغربی حلقے سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں پر حملہ کرنے والے شرپسند عناصر کی حمایت کر رہے ہيں، وہیں سعودی عرب یمن اور بحرین میں آمروں کی مکمل حمایت کی جا رہی ہے اور صرف تحریک ہی نہيں بلکہ عوام کو ہی کچل کر رکھ دینے کی کوشش ہو رہی ہے، آخر جمہوریت کے دعویدار مغربی ممالک کا یہ دہرا معیار کیوں ہے؟ شام میں مٹھی بھر شرپسندوں کی حمایت اور یمن، بحرین، سعودی عرب اور اردن وغیرہ کی عوامی تحریکوں کی مخالفت کیوں ہو رہی ہے؟ یہی وہ سوال جو ہر عام انسان کے ذہنوں میں پیدا ہو رہا ہے
شام میں حمایت اور یمن، بحرین، سعودی عرب اور اردن میں مخالفت
تحریر:محمد علی نقوی
شام کے صدر بشار اسد کی تقریر کے بعد دمشق کے ہزاروں افراد نے اس ملک کے مختلف علاقوں میں جلوس نکال کر ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ بشار اسد کی تقریر ختم ہونے کے بعد شام کے سینکڑوں باشندوں نے دمشق میں الزھرا، النزھۃ اور وادی الذھب کے علاقوں میں مظاہرے کر کے شام کے صدر بشار اسد کے موقف کی حمایت کا اعلان کیا۔ بشار اسد نے دمشق یونیورسٹی میں شام کے سیاسی حالات کے بارے میں تقریر کی تھی۔ بشار اسد نے اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ آئين میں ترمیم کے لئے نئی پارلمینٹ کی ضرورت ہے، اور شام میں سیاسی اصلاحات کے سلسلے میں سب سے اہم کام ملک میں سیاسی جماعتوں اور انتخابات کے قانون کی تدوین کے لئے ایک کمیٹی کی تشکیل ہے اور یہ کام گفتگو اور مذاکرات کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ بشار اسد نے اس بات پر زور دیتے ہوۓ کہ لوگوں کے قتل میں ملوث افراد کا کیفر کردار تک پہنچایا جانا ضروری ہے کہا کہ اس سلسلے میں ایک کمیٹی کسی کی مداخلت کے بغیر اپنا کام کر رہی ہے۔
 واضح رہے کہ شام میں تین ماہ سے بدامنی پائی جاتی ہے اور اس بدامنی میں اغیار سے وابستہ مسلح افراد ملوث ہیں۔ عام شہریوں اور سیکورٹی فورسز پر ان افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سینکڑوں افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ شام کے خلاف دشمن کی سازشیں یوں تو ایک عرصے سے جاری تھیں لیکن گذشتہ ہفتوں کے دوران اس میں نیا موڑ اس وقت آیا جب صیہونی حکومت کے حامی مغربی ممالک کے ساتھ بعض مسلمان ملکوں نے بھی دانستہ طور پر دشمن کے قدم سے قدم ملا کر جانے انجانے میں صیہونی حکومت کی مدد کا بیڑا اٹھا لیا اور شام میں اپنے بعض ایجنٹوں کے ذریعے ملک میں فتنہ کھڑا کر کے اسے صیہونی حکومت کے سامنے کمزور کرنے اور مغربی سازشوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ 
ایران کی پارلیمنٹ میں خارجہ پالیسی اور قومی سلامت کمیشن کے ترجمان کاظم جلالی کے بقول شام کے خلاف عالمی سطح پر جاری پروپگينڈے اور میڈیا وار امریکہ اور صیہونی حکومت کی شازشوں کی غماز ہیں اور اس طرح، دشمن، شام کو صیہونی حکومت کے خلاف جاری مزاحمت کو توڑنا اور شام کو اس مزاحمت سے الگ کرنا چاہتا ہے۔ کاظم جلالی کے بقول ایک طرف تو امریکہ صیہونی حکومت کے خلاف قرارداد کو ویٹو کرتا ہے اور دوسری طرف شام کے ایٹمی پروگرام کو سلامتی کونسل میں بھیجتا ہے۔
گذشتہ دنوں کے حالات و واقعات کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ امریکہ کی اس سازش کو کامیاب بنانے کا بیڑا علاقے میں امریکہ کے سب سے بڑے ایجنٹ سعودی عرب نے اٹھا رکھا ہے جس کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ سعودی عرب بعض قبائل کو بھڑکا کر شام میں بدامنی پھیلا رہا ہے۔
سعودی عرب اردن کے الرمثا علاقے اور عراق کے الانبار علاقے سے قبیلے شمر کے ذریعے شام میں بدامنی پھیلا رہا ہے۔ جسر الشغور اور جبل الزاویہ نامی شہروں میں مسلح افراد کے حملوں میں ایک سو بیس لوگ مارے گئے تھے، جنمیں زیادہ تر تعداد سکیورٹی اھلکاروں کی تھی۔ شام کے علماء اور دانشوروں کو صیہونی حکومت خلاف صف اول میں کھڑے اس ملک کے خلاف سامراجی سازشوں کا بخوبی علم ہے اسی بنا پر شام کے مفتی شیخ بدرالدین نے ملکی امن و سلامتی کے خلاف خطروں کے مقابل قومی اتحاد کے تحفظ کے ضرورت پر زور دیا۔
شام کے مفتی نے ائمہ جمعہ اور عیسائی مذہبی رہنماؤں سے ملاقات میں کہا کہ شام خاص طور پر دیر الزور صوبے میں شرپسند عناصر کی سازش ائمہ جمعہ، مساجد کے پیش اماموں اور مسیحی مذہبی رہنماؤں کی استقامت و پائیداری سے ناکامی سے دوچار ہوئی ہے۔ شیخ بدرالدین حسون نے شرپسند عناصر کی ناکامی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ شام کے عوام ہوشیاری کے ساتھ فتنہ گر عناصر اور بعض ذرائع ابلاغ کے مذموم مقاصد کی راہ میں رکاوٹ بنے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل بھی شام کے ممتاز عالم دین عبدالرحمن الضلع نے قومی سطح پر گفتگو کے آغاز کے لیے بشار اسد کی دعوت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ شام کی حکومت اور قوم کو ہم آہنگی اور اتحاد و یکجہتی کے ساتھ ملکی امور کو چلانے کی کوشش کرنی چاہئے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہيں کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے شام کے کئي شہروں میں عوام کے پرامن مظاہروں سے غلط فائدہ اٹھا کر جہاں ایک طرف مغربی حلقے سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں پر حملہ کرنے والے شرپسند عناصر کی حمایت کر رہے ہيں، وہیں سعودی عرب یمن اور بحرین میں آمروں کی مکمل حمایت کی جا رہی ہے اور صرف تحریک ہی نہيں بلکہ عوام کو ہی کچل کر رکھ دینے کی کوشش ہو رہی ہے، آخر جمہوریت کے دعویدار مغربی ممالک کا یہ دہرا معیار کیوں ہے؟ شام میں مٹھی بھر شرپسندوں کی حمایت اور یمن، بحرین، سعودی عرب اور اردن وغیرہ کی عوامی تحریکوں کی مخالفت کیوں ہو رہی ہے؟ یہی وہ سوال جو ہر عام انسان کے ذہنوں میں پیدا ہو رہا ہے
فرانس کی جانب سے فلسطینی مملکت کے حامی اور صیہونی حکومت کے دشمن شام کے خلاف سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کرنے کی تیاری اور امریکہ برطانیہ اور دوسرے مغربی ممالک کی جانب سے شام پر دباؤ کا مقصد صرف یہ ہے کہ شام کو صیہونیت مخالف اس کے بنیادی موقف سے پیچھے ہٹنے اور مغربی ممالک کے مطالبات کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جائے۔ لیکن بعید نظر آتا ہے کہ شام صیہونیت مخالف موقف سے پیچھے ہٹے گا۔
+ نوشته شده توسط khial hussain در Sat 27 Aug 2011 و ساعت 5:50 PM |
عراق اور شام کے خلاف نئی سعودی سازش کا انکشاف
اسلام ٹائمز: باخبر ذرائع نے شام کے خلاف نئی سعودی سازش کا انکشاف کیا ہے جسکے تحت بدامنی پھیلانے کیلئے عید فطر کے بعد بڑے پیمانے پر جدید اسلحہ شام اسمگل کیا جانا ہے۔
عراق اور شام کے خلاف نئی سعودی سازش کا انکشاف
اسلام ٹائمز- العالم نیوز چینل کے مطابق باخبر ذرائع نے فاش کیا ہے کہ سعودی عرب عراق میں سیاسی عمل کو سبوتاژ کرنے اور شام کی حکومت کو سرنگون کرنے کی خاطر بڑا سازشی منصوبہ بنانے میں مصروف ہے۔ اس سازش کے تحت عراق میں موجود دہشت گروہوں اور چند بکے ہوئے سیاستدانوں کے ذریعے عید سعید فطر کے بعد شام-عراق بارڈر پر بڑے پیمانے پر فسادات کروانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ سعودی اور اردنی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور صدام دور کی بعث پارٹی سے وابستہ دہشت گرد گروہوں کو اس منصوبے کو عملی شکل دینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں طے پایا ہے کہ سعودی عرب اور اردن کے انٹیلی جنس اداروں سے وابستہ دہشت گرد گروہ سیاسی انتشار پھیلا کر کوشش کریں گے عراق کے مغربی حصے خاص طور پر الانبار اور نینوا کے صوبوں کی مکمل خودمختاری کا زمینہ فراہم کیا جا سکے۔ رپورٹس کے مطابق اس کام کیلئے سعودی عرب نے بڑے پیمانے پر رقوم مختص کر رکھی ہیں اور صرف عراق کیلئے 4 ارب ڈالر کی رقم مختص کی جا چکی ہے۔ طے پایا ہے کہ مختلف قسم کے جدیدترین ہتھیار تجارت اور سرمایہ کاری کی آڑ میں عراق کے مغربی علاقوں تک پہنچائے جائیں جہاں سے یہ اسلحہ شام کے دہشت گرد سلفی گروہوں تک پہنچایا جائے گا۔ شام کے سلفی گروہوں کی اصلی ذمہ داری صدر بشار اسد کی حکومت کو سرنگون کر کے سعودی عرب کی پٹھو حکومت کو برسراقتدار لانا ہے۔
باخبر ذرائع نے مزید بتایا کہ اس منصوبے کے تحت بڑے پیمانے پر اسلحہ سعودی عرب اور اردن سے عراق کے راستے شام سمگل کیا جانا ہے جس میں جدید مشین گنیں، دوربین والی رائفلز اور انفرا ریڈ کیمرے [رات کو دیکھنے والے آلات] والی رائفلز بھی شامل ہیں۔ کہا جاتا ہے ایسی ہی قسم کا کچھ اسلحہ عراق سیکورٹی فورسز نے حالیہ دنوں میں پکڑ کر اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔
+ نوشته شده توسط khial hussain در Sat 27 Aug 2011 و ساعت 5:36 PM |
پاراچنار، طالبان کی درندگی کا نشانہ بننے والے پانچ افراد اپنے آبائی قبرستانوں میں سپرد خاک
اسلام ٹائمز: طالبان اور انکے ہمخیال منگل قبیلے کے ہاتھوں افغانستان کے صوبہ پکتیا کے علاقے لژہ کی پہاڑیوں میں بے دردی سے قتل کئے جانے والے پانچ مغویوں بشمول خاتون کو سینکڑوں اشک بار روزہ داروں کی موجودگی میں اپنے آبائی علاقوں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ اہل علاقہ اور علمائے کرام نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے پاکستانی حکومت کی ناکامی قراد دیا
پاراچنار، طالبان کی درندگی کا نشانہ بننے والے پانچ افراد اپنے آبائی قبرستانوں میں سپرد خاک
پاراچنار:اسلام ٹائمز۔ طالبان دہشت گرد اور ان کے ہم خیال منگل قبیلے کے ہاتھوں 15 اگست کو افغانستان کے صوبہ پکتیا کے علاقے لژہ کی پہاٹیوں میں بے دردی سے قتل کئے جانے والے پانچ مغویوں بشمول خاتون کو سینکڑوں اشک بار روزہ داروں کی موجودگی میں اپنے آبائی علاقوں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ تدفین کے وقت اہل علاقہ اور علمائے کرام نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے پاکستان حکومت کی ناکامی قراد دیا اور کہا کہ اگر حکومت ٹل پاراچنار روڈ کھول دیتی یا پھر کانوائے کا بندوبست کر دیتی تو یہ لوگ افغانستان کے دور دراز اور دشوار گزار راستوں سے ہوکر پشاور سے پاراچنار نہ آتے۔
یوم القدس کے موقع پر بھی اس تازہ واقعے پر زبردست احتجاج کرتے ہوئے مقررین نے واضح کیا کہ اب تک 50 سے زائد افراد افغانستان کے راستے میں قتل کئے جاچکے ہیں۔ جو حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کیونکہ پاراچنار حصہ تو پاکستان کا ہے مگر اسکے باشندوں پر پاکستان کی خاک میں قدم رکھنا حرام ہوگیا ہے۔ جبکہ حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ یہی راستہ خود حکومتی عہدیداروں خصوصا ایف سی کے لئے بالکل کھلا اور محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان کے مہینے میں نہتے مغویوں بشمول خاتون کو سنگسار کرکے بے دردی سے شہید کرنا نہ صرف اسلام اور افغان و پختون روایات کے منافی ہیں بلکہ ان دہشت گرد طالبان اور منگل قبیلے نے زمانہ جاہلیت اور خوارج کی درندگی کی یاد تازہ کر دی ہے۔
واضح رہے کہ یہ پانچوں افراد 14 اگست کو پشاور سے افغانستان کے راستے پاراچنار آرہے تھے کہ نامعلوم افراد نے منگل قبیلے کے علاقے لژہ سے انہیں اغوا کر لیا۔ رہائی کیلئے 70 روپے کا معاوضہ طلب کیا گیا۔ اور پھر مزید مذاکرات ناکام رہے۔ شہید ہونے والوں میں منور علی، خیال حسین، جاوید حسین، سلطان علی اور اس کی اہلیہ شامل ہیں۔
+ نوشته شده توسط khial hussain در Sat 27 Aug 2011 و ساعت 5:29 PM |
+ نوشته شده توسط khial hussain در Fri 26 Aug 2011 و ساعت 3:49 AM |
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 23 Aug 2011 و ساعت 7:32 AM |