امام خمینی معاصر تاریخ کا مردِ مجاہد (حصّہ اوّل )

امام خميني رضوان لله تعالي عليه

امام خمینی(رہ) ایک ایسے عظیم انقلاب کے موجد و بانی تھے جس نے شہنشاہوں کے2500سالہ اقتدار کا یکسر خاتمہ کیا ۔ انہوں نے اپنی بے لوث و پرخلوص قیادت کے بل پر امریکہ ، روس اور دیگر عالمی طاقتوں کے اثر و رسوخ کو ختم کرکے اسلامی معاشرے کو پاک و صاف کرانے کی جدوجہد آخری دم تک جاری رکھی ....دیکھتے ہی دیکھتے سرزمین ایران کے کلمہ گو نوجوان اور بزرگ مع خواتین جن کے سینوں میں جوش وخروش اور انقلابی لہر موجزن تھی ‘ عیش وآرام چھوڑ کر سڑکوں پر نکل آئے ۔ انہوں نے شاہی لوازمات ٹھکرائے ،امام خمینی(رہ) کے فرمان کو دلوں سے لگائے ،سلطنتی نظام کے خاتمے اور اسلامی حکومت کے قیام کا نعرہ بلند کیا ۔ الغرض پرخلوص اور دیانتدارانہ قیادت کے زیر اثرخوابیدہ قوم کواسلامی انقلاب کے طلوع کی خوش خبری سننے کو ملی ۔

امام خمینی (رہ) کو ابتداء ہی سے اس بات کا احساس تھا کہ دنیا کے ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں کی نمائندگی کرنے دو عظیم طاقتوں کے سیاسی ونظریاتی حملوں کا مقابلہ کرنے اور اسلامی مقاصد کے دفاع وتحفظ کے لئے ایرانی جیالوں کو صف اوّل میں کھڑا ہونا ہے ۔ دنیا والوں پر یہ حقیقت آشکار ہوگی کہ امام کی بے لوث اور بروقت رہنمائی میں امت نے تمام رکیک حملوں کا مقابلہ کیا ۔

۔ امام خمینی(رہ)  نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں فرمایا تھا :

” یہ اسلامی تحریک کسی شخص پر قائم نہيں ہے ۔ میں آپ کے درمیان رہوں یا نہ رہوں مگر یاد رکھو کہ اتحاد ویگانگت کی ڈگر سے وابستہ تحریکی سفر جاری رکھ کے ہی آپ کو منزل ملے گی “۔

.اس وقت اسلامی دنیا امام خمینی(رہ)  کے بوئے ہوئے تحریکی پودے کو تناوردرخت کی صورت میں دیکھ رہی ہے ۔ بلاشبہ امام خمینی (رہ)کا انقلابی مشن اور ان کا لازوال پیغام آبندہ نسلوں کے لئے بھی مفید اور تعمیری ثابت ہوگا کیونکہ امام انقلاب(رہ)  نے آ ج کے انسان کو یہ سبق دیا ہے کہ سیاسی ، اقتصادی اور ثقافتی قوتوں کے سامنے جھکنا ذلت ورسوائی کے مترادف ہوگا ۔

ان کی وصیت میں سے ایک جھلک پیش خدمت ہے :

” اسلامی ممالک کے غیور عوام سے میری وصیت ہے کہ آپ اس انتظار میں نہ رہیں کہ کوئی باہر سے آ کر اسلامی احکامات کے مفاد کے سلسلے میں آپ کے مقاصد میں کسی طرح کی مدد کرے ۔ آپ خود اس حیات بخش عمل کے لئے جو آزادی کو اپنے ہمراہ لاتا ہے اقدام کیجئے‘ اسلامی ممالک کے علماءاعلام اور خطبائے کرام کا فریضہ ہے کہ وہ حکومتوں کی بڑی طاقتوں کی غلامی سے آزاد ہونے اور اپنی قوم سے مفاہمت کرنے کی دعوت دیں“۔

+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 22 Mar 2011 و ساعت 12:54 PM |
                                                       قرآن میں دعا :                     (خیال حسین دانش)

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُواْ لِي وَلْيُؤْمِنُواْ بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ. (سوره بقره، آيه 186)

اور اے پیغمبر! اگر میرے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کریں تو میں ان سے قریب ہوں. پکارنے والے کی آواز سنتا ہوں جب بھی پکارتا ہے لہٰذا مجھ سے طلب قبولیت کریں اور مجھ ہی پرایمان و اعتماد رکھیں کہ شاید اس طرح راہ راست پر آجائیں

قُلْ أَرَأَيْتَكُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللَّهِ تَدْعُونَ إِن كُنْتُمْ‏صَادِقِينَ * بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِن شَاءَ وَتَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ * وَلَقَدْأَرْسَلْنَا إِلَى‏ أُمَمٍ مِن قَبْلِكَ فَأَخَذْنَاهُم بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ * فَلَوْلَا إِذْجَاءَهُم بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلكِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ(سوره انعام، آيات 43 - 40)

آپ ان سے کہئے کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تمہارے پاس عذاب یا قیامت آجائے تو کیا تم اپنے دعوے کی صداقت میں غیر خدا کو بلاؤ گے ۔نہیں تم خدا ہی کو پکارو گے اور وہی اگر چاہے گا تو اس مصیبت کو رفع کرسکتا ہے ....اور تم اپنے مشرکانہ خداؤں کو بھول جاؤ گے ۔ہم نے تم سے پہلے والی اُمتوں کی طرف بھی رسول بھیجے ہیں اس کے بعد انہیں سختی اور تکلیف میں مبتلا کیا کہ شاید ہم سے گڑ گڑائیں ۔پھر ان سختیوں کے بعد انہوں نے کیوں فریاد نہیں کی بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہوگئے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لئے آراستہ کردیا ہے

قُلْ مَن يُنَجِّيكُم مِن ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُونَهُ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً لَئِنْ أَنْجَانَا مِن‏هذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ * قُلِ اللَّهُ يُنَجِّيكُم مِنْهَا وَمِن كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ أَنْتُمْ تُشْرِكُونَ(سوره انعام، آيات 64 - 63)

ان سے کہئے کہ خشکی اور تری کی تاریکیوں سے کون نجات دیتا ہے جسے تم گڑگڑا کر اور خفیہ طریقہ سے آواز دیتے ہو کہ اگر اس مصیبت سے نجات دے دے گا تو ہم شکر گزار بن جائیں گے ۔کہہ دیجئے کہ خد اہی تمہیں ان تمام ظلمات سے اور ہر کرب و بے چینی سے نجات دینے والا ہے اس کے بعد تم لوگ شرک اختیار کرلیتے ہو۔

وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا وَادْعُوهُ خَوْفاً وَطَمَعاً إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ‏قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ۔(سوره اعراف، آيه 56)اور خبردار زمین میں اصلاح کے بعد فساد نہ پیدا کرنا اور خدا سے ڈرتے ڈرتے اور امیدوار بن کر دعا کرو کہ اس کی رحمت صاحبان حسن عمل سے قریب تر ہے۔

سب سے پہلے اس بات کو جاننے کی ضرورت ہے کہ دعا کیلئے اہداف اور حکمتیں ہیں اگر انسان ان کو جان لیں گویا اس نے بہت بڑے خزانے کو پایا لیا ہے ۔ایک ایسا خزانہ جس کے بارے میں اسے پہلے کوئی علم نہیں تھا ۔  اپنے زندگی کے  پیچیدہ مشکلات کیلئے  چارہ کار   پا لیتا ہے  اپنے دشواریوں کیلئے راہ حل مل جاتا ہے  دل کی آلودگیوں اور دردوں کے واسطے دوا  پالیتا ہے ۔اگرچہ دعا کے بارے میں قرآنی آیات پراکندہ طور پر وارد ہوئی ہیں لیکن مجموعی طور پر ایک فکر کو  تشکیل دیتی ہیں ۔

ہر مکان میں دعا :

انسان مشکلات کے وقت راہ حل کی تلاش میں ہوتا ہے اور فطرتا جانتا ہے کہ راہ حل خدا کے ہاتھ میں ہے ۔اور مشکل چاہے جتنا بڑا ہی کیوں نہ ہو اور انسان کو نا امیدی کیطرف بلا رہا ہو  پھر بھی اس کا راہ حل خدا کے ہاتھ میں ہے ۔ لیکن خدا کہاں ہے ؟ کس طرف ہم رخ کر لیں تاکہ خدا  سے نزدیک ہو جائیں آیا خدا مسجد میں ہے ؟ یا صحر ا  اور پہاڑوں میں ہے ؟ بلآخرہ کہاں پر ہم خدا کے زیادہ نزدیک ہیں ؟ یہ سوال ہم سب کے لئے پیش آتا ہے ۔ صرف رسول اکرم ص  کے زمانے والے لوگوں کے ساتھ مختص نہیں ہے  جو رسول اکرم خدا کے بارے پوچھا کرتے تھ ۔ ہم  بھی جب مشکلات کیساتھ روبرو  ہوجاتے ہیں تو ایسی  جگہ کی تلاش میں ہوتے ہیں جو خدا کے نزدیک ہو  تاکہ وہاں سے بہتر طریقے پر خدا کو بلا سکیں ۔لیکن خدا نے اس سوال کا کچھ اسطرح سے جواب دیا ہے ۔

 وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ۔۔۔۔۔۔۔(بقرہ ۱۸۶) ۔ اور اے پیغمبر! اگر میرے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کریں تو میں ان سے قریب ہوں۔پس لازم نہیں ہے کہ انسان فاصلہ طے کرِکے کسی خاص مکان میں خدا کو پکارے  کیونکہ خدا ہر بندے کے قریب ہے ۔ دعای ابو حمزہ ثمالی میں ہم پڑھتے ہیں کہ ۔۔"وَاَنَّ الرَّاحِلَ إِلَيْكَ قَريبُ الْمَسافَةِ، وَأَنَّكَ لا تَحْتَجِبُ عَنْ خَلْقِكَ اِلّا أَنْ تَحْجُبَهُمُ‏الْأَعْمالُ دُونَكَ". آپ کی طرف کوچ کرنے والے کا راستہ کوتاہ ہے  اور  اپنے مخلوق سے پوشیدہ نہیں ہے  مگر یہ کہ ان کے اعمال ان کو پس پردہ ڈال دیتے ہیں ۔

امیر المومنین سے خدا اور زمین و آسمان کے درمیان فاصلے کے بارے میں پوچھا گیا  تو آپ نے فرمایا  یہ فاصلہ وہی مستجاب شدہ  دعا ہے ۔ چونکہ مستجاب دعا اربوں میل زمین و آسمان کے فاصلے کو  پلک جپکتے  طے کر لیتا ہے ۔  اسی طرح رسول اکرم سے سوال ہو ا کہ آیا  خدا ہمارے نزدیک ہے تاکہ اس سے آہستہ طور پر راز و نیاز کریں یا نہیں بلکہ دور ہے تاکہ بلند آواز سے اس کو بلا لیں ۔ تو  آنحضرت وحی کے انتظار میں خاموش  رہا  کہ اس حوالے سے سورہ بقرہ کی ۱۸۶ نمبر  آیت نازل ہوئی ۔ جس میں خطاب ہے کہ جب میرے بندے تم میرے بارے میں پوچھے تو انہیں بتا دو کہ میں قریب ہوں ۔۔۔۔خدا  اپنے بندوں کی دعا دو شرطوں کی بنا پر قبول کر لیتا ہے ۔ پہلی شرط یہ ہے کہ صرف خدا کو پکارے  یعنی جب خدا کو پکار رہا ہو تو ہمہ تن و جان خدا کی طرف متوجہ ہو اور پیوند  ظاہری کے ساتھ ساتھ باطنی پیوند بھی برقرار رہے ۔ إِذَا دَعَانِ اسی مطلب کیطرف اشارہ کر رہا ہے   ایسا نہ ہو کہ ظاہری طور پر  یا رب پڑھ رہا  ہو مگر  دلی رابطہ کہی اور ہو  ۔جیسا کہ اس آیت کی تفسیر میں ہے ۔

( ...فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوىً)سوره طه، آيه 12)

کہ جوتوں کے اتارنے سے  مراد بیوی بچوں کی محبت ہے  یعنی جب مجھ سے ملنا چاہتے ہو  تو ضروری ہے کہ  دلی محبت میرے بغیر کسی اور سے نہ ہو   چونکہ یہ آیت حضرت موسی علیہ السلام کے متعلق ہے جب وہ بیابان میں اس تاریک  اور ٹھنڈی رات میں اپنی حاملہ بیوی کے لئے آگ کی جستجو میں تھا  جس کا دل  اسی کے بارے میں مشغول تھا ۔جب پروردگار عالم اس نازک حالت میں اپنی نبی کو  مستجاب الدعا کے لئے یہ حکم دے رہا ہے  تو  ہم سب تو بہتر طور پر اس حکم اور شرط کے پابند ہونے چاہیئے کہ جب بھی خدا کو پکاریں تو پورے اخلاص کیساتھ پکاریں اور اسوقت صرف اور صرف اسی ذات کی طرف توجہ ہو  ۔ ایسا نہ ہو کہ ظاہری طور پر خدا خدا کر رہا ہو لیکن دل و جان سے اسباب مادی پر امید باندھا ہو ۔

دوسری شرط یہ ہے کہ خدا پر حقیقی ایمان ہو اور اس کے مطابق اس کے فرامین پر عمل ہو ۔ 

اس شرط کو ہم بقرہ کی آیت ۱۸۶ کے دوسرے حصے میں پاتے ہیں  ۔  ...فَلْيَسْتَجِيبُوا لِيْ وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ۔

لہٰذا مجھ سے طلب قبولیت کریں اور مجھ ہی پرایمان و اعتماد رکھیں کہ شاید اس طرح راہ راست پر آجائیں ۔ جیسا کہ روایت میں اس حال میں مجھ سے دعا کریں جب قبول دعا پر  یقین رکھتے ہو ں (عدہ الداعی ص ۱۰۳ )۔ تب خدا ہماری دعا قبول کرلیتا ہے کہ ہم بھی اس کے فرامین پر عمل پیرا ہو   خد ا کی ذات پر مکمل ایمان ہوں  اور ساری زندگی اس کے فرامین کے مطابق ہو اس طرح ہو تو  انسان راہ راست اور  راہ رشد میں قرار پاتا ہے ۔اسی حوالے ایک روایت میں اسطرح آیا ہے ایک گروہ نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا کہ ہم خدا کو پکارتے ہیں مگر ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتی ہیں ؟امام نے فرمایا : اس وجہ یہ ہے کہ جسے پکارتے ہے اسکو  جانتے نہیں ہو۔   (تفسیر میزان ج دوم ص ۴۵)

دعا  کی حکمت:

دعا کی حکمت کے حوالے سے آیت میں آیا ہے ۔

 قُلْ أَرَأَيْتَكُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللَّهِ تَدْعُونَ إِن كُنْتُمْ‏صَادِقِينَ * بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِن شَاءَ وَتَنْسَوْنَ مَاتُشْرِكُونَ * وَلَقَدْأَرْسَلْنَا إِلَى‏ أُمَمٍ مِن قَبْلِكَ فَأَخَذْنَاهُم بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ(سوره انعام، آيات 42 - 40)

آپ ان سے کہئے کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تمہارے پاس عذاب یا قیامت آجائے تو کیا تم اپنے دعوے کی صداقت میں غیر خدا کو بلاؤ گے .نہیں تم خدا ہی کو پکارو گے اور وہی اگر چاہے گا تو اس مصیبت کو رفع کرسکتا ہے ....اور تم اپنے مشرکانہ خداؤں کو بھول جاؤ گے . ہم نے تم سے پہلے والی اُمتوں کی طرف بھی رسول بھیجے ہیں اس کے بعد انہیں سختی اور تکلیف میں مبتلا کیا کہ شاید ہم سے گڑ گڑائیں .اس آیت کے ابتدا میں خدا  فرماتے ہیں کہ جب عذاب الہی یا موت  آجاتاہے تو انسان خدا کو پکارتا ہے اور جعلی شرکاء کو بھول جاتا ہے ۔ اس کے بعد دعا کی ایک حکمت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ خداوند متعال  کیوں اپنے بندوں کو سختی اور تکلیف میں مبتلا کر دیتا ہے ؟ کیوں انہیں آزمائش میں ڈال دیتا ہے ؟ آیت میں اس کا جواب آیا ہے ۔  لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ۔ کہ شاید ہم سے گڑ گڑائیں ۔یعنی ہدف یہ ہے کہ بندے خدا کے طرف جائیں ۔ چونکہ عام حالات میں انسان خدا کو بھول جاتا ہے  جب مشکلات کیساتھ روبرو ہوجاتا ہے تو خدا یاد آتا ہے ۔امام صادق علیہ السلام سے فرماتے ہیں : دعا کرو یہ نہ  کہو کہ مقدر میں سب کچھ پہلے سے لکھا ہے اور دعا اسے تبدیل نہیں کرسکتا ہے چونکہ دعا خود ایک عبادت ہے ۔ اورخدا نے فرمایا ہے   إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ۔(غافر /60) یقینا جو لوگ میری عبادت سے اکڑتے ہیں وہ عنقریب ذلّت کے ساتھ جہّنم میں داخل ہوں گے نیز فرمایا ہے  ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۔   (اصول کافی ج ۲ ح ۳ )

البتہ ِ بعض افراد ایسے بھی ہیں جو  عذاب اور سختی کی حالت میں بھی خدا کو یاد نہیں کرتے ہیں  اس کی وجہ یہ ہے ان کی فطرت وضمیر مر چکی ہوتی ہے  وہ ضمیر اور وجدان جو مشکلات کے وقت بیدار ہوجاتی ہے ۔ جیسا کہ خود خدا ان کے بارے میں یوں فرماتے ہیں ۔

فَلَوْلاَ إِذْ جَاءَهُم بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلكِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوايَعْمَلُونَ

(سوره انعام، آيه 43) پھر ان سختیوں کے بعد انہوں نے کیوں فریاد نہیں کی بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہوگئے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لئے آراستہ کردیا ہے۔

پس ان آ یات کے مطابق خدا کی طرف توجہ اور  گریہ و زاری مشکلات و مصائب کی فوائد میں سے ہیں ۔ حالانکہ مشکلات ختم ہو جایئنگے لیکن وہ ایمان جو توجہ بہ خدا اور گریہ و زاری سے دل میں پختہ ہوا ہے وہ قائم رہے گا ۔

روایت میں آیا ہے کہ  رسول اکرم ایک شخص کی دعوت پر اس کے گھر  گئے  جب داخل ہوئے تو کیا دیکھا کہ گھر کی دیوار پر مرغی نے انڈا دیا ہے اس پر رسول اکرنے حیرت کا اظہار کیا  تو جواب میں اس شخص نے آنحضرت سے فرمایا کہ یا  رسول اللہ آپ اس بات پر تعجب کر رہے ہو  قسم اس ذات پر جس نے آپ کو   بر حق مبعو ث کیا ہے میں اب تک کسی مصیبت میں گرفتار نہیں ہوا ہوں ۔ اس پر رسول اکرم اس کے ہاں سے فورا  اٹھ کر  جانے لگے اور فرمایا  جس شخص پر کوئی مصیبت نہیں آتا ہو  اس انسان  میں خدا کو کوئی اچھائی نہیں دکھاتی ہے ۔ پس وہ انسان جو زندگی میں کسی مشکل اور مصیبت میں گرفتار نہیں ہوتا ہو اسے خوشحال نہیں ہونا چاہیئے  چونکہ یہ غرور کی علامت ہے  اس کے مقابلے میں جو شخص مشکلات اور میں مصائب میں گرفتار ہوتا ہے اس کا روح بلندی حاصل کرلیتا ہے اور نور خدا کیساتھ منور ہو جاتا ہے ذات لایزال کیطرف متوجہ ہوجاتا کا اس توجہ اور رابطہ بہ خدا  کا فائدہ  ان مشکلات میں گرفتاری سے کہیں زیادہ ہے ۔  پس دعا کی ایک حکمت یہ ہے کہ انسان خدا کے حضور میں جایئں اور اس ذات سے وابستہ و مرتبط رہے ۔

دعا کرنے کے اصول :

جیسا کہ آیت مجیدہ میں آیا ہے : قُلْ مَن يُنَجِّيكُم مِن ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُونَهُ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً...

(.سوره انعام، آيه 63)ان سے کہئے کہ خشکی اور تری کی تاریکیوں سے کون نجات دیتا ہے جسے تم گڑگڑا کر اور خفیہ طریقہ سے آواز دیتے ہو۔

اس بنا پر دعا تضرع اور گڑگڑا ہت کی حال میں ہونی چاہیے دوسری بات یہ کہ  خفیہ طریقے سے ہو  یعنی خد ا اور بندے کے درمیان راز ہو ۔ اسی طرح بندے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے رب سے عہد کریں کہ اگر خدا نے اس کی دعا مستجاب کرلی تو وہ خدا کا شکر گزار اور فرمان بردار بندہ رہے گا ۔ ...لَئِنْ أَنْجَانَا مِن هذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ(سوره انعام، آيه 63)

کہ اگر اس مصیبت سے نجات دے دے گا تو ہم شکر گزار بن جائیں گے۔ لیکن بہت سارے ایسے افراد ہیں جن کی مشکلات کو خدا برطرف کر دیتاہے لیکن وہ اپنے عہد و پیمان کے مخافت کرتے ہوئے  اپنی گذشتہ والی زندگی کی طرف لوٹ جاتے ہیں ۔ قُلْ اللَّهُ يُنَجِّيكُم مِنْهَا وَمِن كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ أَنْتُمْ تُشْرِكُونَ۔(سوره انعام، آيه 64)کہہ دیجئے کہ خد اہی تمہیں ان تمام ظلمات سے اور ہر کرب و بے چینی سے نجات دینے والا ہے اس کے بعد تم لوگ شرک اختیار کرلیتے ہو۔

وَلاَ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا وَادْعُوهُ خَوْفاً وَطَمَعاً إِنَّ رَحْمَةَ اللَّهِ قَرِيبٌ‏مِنَ الْمُحْسِنِينَ(سوره اعراف، آيه 56)

اور خبردار زمین میں اصلاح کے بعد فساد نہ پیدا کرنا اور خدا سے ڈرتے ڈرتے اور امیدوار بن کر دعا کرو کہ اس کی رحمت صاحبان حسن عمل سے قریب تر ہے۔پس دعا کی حالت میں انسان کو  امید و خوف کیساتھ ہونا چاہیئے ۔ دعا کی فورا استجابت پر  مطمئن نہیں ہونا چاہئے ۔  اسی طرح رحمت خدا سے نا امید بھی نہیں ہونا چاہیئے ۔  دعا کی متعلق قرآن مجید میں بہت سارے آیات نازل ہوئی ہے لیکن اس مختصر سے مقالے میں اس سے زیادہ گنجائش نہیں تھی اس دعا کیساتھ کہ خدا وند متعال مسلمین و مستضعفین جہان کو ظالم حکرانوں پر فتح و نصرت عطا کریں ۔ آمین ۔

 

 

 

+ نوشته شده توسط khial hussain در Sun 17 Apr 2011 و ساعت 4:1 PM |
اسلامی جمہوریۂ پاکستان

جنوبی ايشياء ميں واقع ہے۔ پاکستان کے مشرق ميں بھارت، شمال مشرق ميں چین اور مغرب ميں افغانستان اور ايران اور جنوب ميں بحيرہ عرب واقع ہيں۔ پاکستان کا مطلب ہے پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ اور يہ نام چودھری رحمت علی نے 1933ء کو تجويز کيا تھا۔


فہرست

تاريخ

711 میں اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور میں محمد بن قاسم برصغیر (موجودہ پاکستان و ہندوستان) کے خاصے حصے کو فتح کرتا ہے اور یوں برصغیر (موجودہ پاکستان) دنیا کی سب سے بڑی عرب ریاست کا ایک حصہ بن جاتا ہے جس کا دارالحکومت دمشق، زبان عربی اور مذہب اسلام تھا۔ یہ علاقہ سیاسی، مذہبی اور ثقافتی طور پر عرب دنیا سے جڑ جاتا ہے۔ اس واقعہ نے برصغیر اور جنوبی ایشیاء کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

سن 1947 سے پہلے بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش برطانوی کالونی تھے اور برصغیر کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کی آزادی (انگریزوں سے) کی تحریک کے دوران ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنے لیے ایک علیحدہ ملک کا مطالبہ کیا۔ "پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ" اس تحریک کا مقبول عام نعرہ تھا۔ اس مطالبے کے تحت تحریک پاکستان وجود میں آئی۔ اس تحریک کی قیادت محمد علی جناح نے کی۔ 14 اگست 1947 کو پاکستان وجود میں آیا۔ تقسیم برصغیر پاک و ہند میں انگریزوں نے کچھ ایسے سقم چھوڑے جو پاکستان اور انڈیا کے درمیان 1948اور 1965 میں کشمیر کے مسئلہ پر دو جنگوں کا سبب بن گئے۔ اس کے علاوہ چونکہ پاکستانی پنجاب میں بہنے والے تمام دریا انڈیا کے زیر قبضہ کشمیر سے ہوکر آتے تھے لہذا پاکستان کو 1960 میں انڈیا کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کرنا پڑا جس کے تحت پاکستان کومشرقی دریاؤں ستلج، بیاس اور راوی سے دستبردار ہونا پڑا۔ جبکہ دریائے سندہ، چناب اور جہلم پر پاکستان کا حق تسلیم کر لیا گیا۔

1947 سے لے کر 1948 تک پاکستان کو بڑی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ بھارت نے پاکستان کے حصہ میں آنے والی رقم پاکستان کو ادا نہ کی۔ اس کے علاوہ صنعتی ڈھانچے کے نام پر پاکستان کے حصے میں گنتی کے چند کارخانے آئے اور مزید برآں کئی اندرونی و بیرونی مشکلات نے بھی پاکستان کو گھیرے رکھا۔ 1948ء میں جناح صاحب کی اچانک وفات ہو گئیی۔ ان کے بعد حکومت لیاقت علی خان کے ہاتھ میں آئی۔ 1951 میں لیاقت علی خان کو شہید کر دیا گیا۔ 1951ء سے 1958ء تک کئی حکومتیں آئییں اور ختم ہو گئییں۔ 1956ء میں پاکستان میں پہلا آئیین نافذ ہوا۔ اس کے با وجود سیاسی بحران کا نتیجہ یہ ہوا کہ 1958ء میں پاکستان میں مارشل لاء لگ گیا۔

پاکستان میں موجود تمام بڑے آبی ڈیم جنرل ایوب کے دور آمریت میں بنائیے گئیے۔ ایوب دور میں پاکستان میں ترقی تو ہوئی لیکن مشرقی پاکستان دور ہوتا گیا۔ 1963 میں پاکستان کے دوسرے آئیین کا نفاذ ہوا۔ مگر مشرقی پاکستان کے حالات آہستہ آہستہ بگڑتے گئے۔ ایوب خان عوامی احتجاج کی وجہ سے حکومت سے علیحدہ تو ہو گئے لیکن جاتے جاتے انہوں نے حکومت اپنے فوجی پیش رو جنرل ہحیٰی خان کے حوالے کر دی جو کہ اس کے بالکل بھی اہل نہ تھے۔ 1971 کے عام انتخابات میں مشرقی پاکستان سے عوامی لیگ کی واضح کامیابی کے باوجود فوجی حکمران یحیٰی خان نے اقتدار کی منتقلی کی بجائیے مشرقی پاکستان میں فوجی اپریشن کو ترجیح دی۔ ہندوستان نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے علیحدگی پسندوں کو بھرپور مالی اور عسکری مدد فراہم کی جس کے نتیجے میں آخرکار دسمبر 1971ء میں سقوط ڈھاکہ ہوگیا اور مشرقی پاکستان ایک علیحدہ ملک بنگلہ دیش کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا۔

1972 سے لے کر 1977 تک پاکستان میں پی پی پی کی حکومت تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے صدر اور بعد ازاں وزیر اعظم رہے۔ اس دور میں وطن عزیز کی تمام سیاسی جماعتوں کی رضامندی سے آئین پاکستان مرتب اور نافذ العمل کیا گیا۔ اس دور میں سوشلسٹ اور پین اسلامک عنصر بڑھا۔ اس دور میں پاکستان میں صنعتوں اور اداروں کو قومیا لیا گیا۔ اس دور کے آخر میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی اور اس کے نتیجے میں 1977 میں دوبارہ مارشل لاء لگ گیا۔

اگلا دور 1977 تا 1988 مارشل لاء کا تھا۔ اس دور میں پاکستان کے حکمران جنرل ضیا الحق تھے۔ افغانستان میں جنگ کی وجہ سے پاکستان کو بہت امداد ملی۔ اسی دور میں 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات ہوئے اور جونیجو حکومت بنی جسے 1988 میں ضیاء الحق نے برطرف کر دیا- 1988ء میں صدر مملکت کا طیارہ گر گیا اور ضیاء الحق کے ساتھ ساتھ پاکستان کی اعلٰی عسکری قیادت کی اکثریت زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ پاکستان میں پھر سے جمہوریت کا آغاز ہو گیا۔

اس کے بعد 1988 میں انتخابات ہوئے اور بينظير بھٹو کی قیادت میں پی پی پی اور اس کی حلیف جماعتیں اقتدار میں آئیں۔ کچھ عرصہ بعد صدر غلام اسحاق خان نے حکومت کو برطرف کر دیا۔ 1990 میں نواز شریف کی قیادت میں آئی جے آئی اور اس کی حلیف جماعتیں اقتدار میں آئیں۔ 1993 میں یہ حکومت بھی برطرف ہو گئی۔

اس کے بعد پاکستان کے نئے صدر فاروق لغاری تھے۔ اگلے انتخابات 1993 میں ہوئے اور ان میں دوبارہ پی پی پی اور اس کی حلیف جماعتیں اقتدار میں آئیں۔ صدر فاروق احمد لغاری کے حکم پر یہ حکومت بھی بر طرف ہو گئی۔ 1997 میں انتخابات کے بعد دوبارہ نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ ن اور اس کی حلیف جماعتیں اقتدار میں آئیں۔ اس حکومت کے آخری وقت میں سیاسی اور فوجی حلقوں میں کشیدگی بڑھ گئی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1999 میں دوبارہ فوجی حکومت آ گئی۔ صدر مملکت پرويز مشرف بنے اور 2001 میں ہونے والے انتخابات کے بعد وزیر اعظم ظفر اللہ خان جمالی بنے۔

2004میں وقت کے جنرل مشرف نے شوکت عزیز کو وزیر اعظم بنانے کا فيصله کیا . مختصر عرصہ کے لیے چوہدرى شجاعت حسين نے وزیراعظم کی ذمہ داریاں سرانجام دیں اور شوکت عزیز کے قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہونے کے بعد وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہو گئے۔ شوکت عزیز صاحب قومی اسمبلی کی مدت 15 نومبر 2007ء کو ختم ہونے کے بعد مستعفی ہو گئے۔ 16 نومبر 2007ء کو سینٹ کے چیرمین جناب میاں محمد سومرو نے عبوری وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔ فروری 2008ء میں الیکشن کے بعد پی پی پی پی نے جناب یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم نامزد کیا جنہوں نے مسلم لیگ (ن)، اے این پی کی حمایت سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔

سياست

پاکستان ايک وفاقی جمہوريہ ہے۔

علاقائی تقسیم

پاکستان کا نقشہ

پاکستان ميں 4 صوبے، 2 وفاقی علاقے اور پاکستانی کشمير کے 2 حصے ہيں۔ حال ہی میں پاکستانی پارلیمنٹ نے گلگت بلتستان کو بھی پاکستان کے پانچویں صوبے کی حیثیت دے دی ہے۔

صوبہ جات

وفاقی علاقے


پاکستانی کشمير


جغرافيہ

پاکستان جنوبی ایشیا کے شمال مغربی حصے میں واقع ہے۔

پاکستان کے مشرقی علاقے میدانی ہیں جبکہ مغربی اور شمالی علاقے پہاڑی ہیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا دریا دریائے سندھ ہے۔ یہ دریا پاکستان کے شمال سے شروع ہوتا ہے اور صوبے خیبر پختونخواہ، پنجاب اور سندھ سے گزر کر سمندر میں گرتا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخواہ کے مشرقی علاقے، صوبہ سندھ کے وسطی علاقے اور پنجاب کے شمالی، وسطی اور وسطی جنوبی علاقے میدانی ہیں۔ یہ علاقے نہری ہیں اور زیر کاشت ہیں۔ صوبہ سندھ کے مشرقی اور صوبہ پنجاب کے جنوب مشرقی علاقے صحرائی ہیں۔ زیادہ تر بلوچستان پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہے لیکن سبی کا علاقہ میدانی اور صحرائی ہے۔ سرحد کے مغربی علاقوں میں نیچے پہاڑ ہیں جبکہ شمالی سرحد اور شمالی علاقہ جات میں دنیا کا سب سے اونچا پہاڑی سلسلہ واقع ہے۔

معيشت

پاکستان دوسری دنيا کا ايک ترفی پزير ملک ہے۔ پاکستان کے اندرونی معاملات ميں فوج كى بيجا مداخلت، کثیر اراضی پر قابض افراد (وڈیرے ، جاگیردار اور چوہدری وغیرہ) کی عام انسان کو تعلیم سے محروم رکھنے کی نفسیاتی اور خود غرضانہ فطرت (تاکہ بیگار اور سستے پڑاؤ (labor camp) قائم رکھے جاسکیں)، اعلٰی عہدوں پر فائز افراد کا اپنے مفاد میں بنایا ہوا دوغلا تعلیمی نظام (تاکہ کثیر اراضی پر قابض افراد کو خوش رکھا جاسکے اور ساتھ ساتھ اپنی اولاد کی [عموماً انگریزی اور/ یا ولایت میں تعلیم کے بعد] اجارہ داری کيليے راہ کو کھلا رکھا جاسکے)، مذہبی علماؤں کا کم نظر اور اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کا رویہ اور بيرونی کشيدگی کی وجہ سے ملک کی معيشت زيادہ ترقی نہيں کر سکی۔ پہلے پاکستان کی معيشت کا زيادہ انحصار زراعت پر تھا۔ مگر اب پاکستان کی معيشت (جو کہ کافی کمزور سمجھی جاتی ہے) نے گیارہ ستمبر کے امریکی تجارتی مرکز پر حملے، عالمی معاشی پستی، افغانستان جنگ، پانک کی کمی اور بھارت کے ساتھ شديد کشيدگی کے با وجود کچھ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کيا  ابھی پاکستان کی معيشت مستحکم ہے اور تيزی سے بڑھنا شروع ہو گئی ہے  کراچی سٹاک ایکسچینج کے کے ايس سی انڈکس گزستہ دو سالوں سے دنيا بھر ميں سب سے بہترين کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے

اعداد و شمار

پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنيا کا چھٹا سب سے بڑا ملک ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی آبادی بہت تيزی سے بڑھ رہی ہے۔

پاکستان کے 96.7 فيصد شہری مسلمان ہيں جن ميں سے تقريباً 20 فيصد اہل تشیع 77 فيصد اہل سنت اور تقریباً 3 فيصد ديگر مذاہب سے تعلق رکھتے ہيں۔ تقريباً ايكـ فيصد پاکستانی ہندو اور اتنے ہی پاکستانی عیسائی ہيں۔ ان کے علاوہ کراچی ميں پارسی، پنجاب و‌سرحد ميں سکھ اور شمالی علاقوں ميں قبائلی مذاہب کے پيرو کار بھی موجود ہيں۔

پاکستان کی قومی زبان اردو ہے۔ ليکن زيادہ تر دفتری کام انگريزی ميں کیے جاتے ہيں۔ پاکستان کے خواص بھی بنيادی طور پر انگريزی کا استعمال کرتے ہيں۔ پاکستان ميں تمام تر اعلیٰ تعليم بھی انگريزی ميں ہی دی جاتی ہے۔ با وجود اس کے اردو پاکستان کی عوامی و قومی زبان ہے۔ اردو کے علاوہ پاکستان ميں کئ اور زبانيں بولی جاتی ہيں، ان ميں پنجابی، سرائکی، سندھی، گجراتی، بلوچی، براہوی، پشتو اور ہندکو زبانیں قابلِ ذکر ہيں۔

پاکستان ميں مختلف قوموں سے تعلّق رکھنے والے لوگ آباد ہيں، ان ميں زيادہ نماياں پنجابی، سندھی، پٹھان، بلوچی اور مہاجر ہيں۔ ليکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کے درميان فرق کم ہوتا جا رہا ہے۔

شہر بلحاظ آبادی (تخمینہ 2010ء)[1]
درجہ شہر صوبہ آبادی درجہ شہر صوبہ آبادی

Karachi downtown.jpg
کراچی, سندھ
Minar-e-Pakistan.jpg
لاہور, پنجاب

1 کراچی سندھ 13,205,339 11 سرگودھا پنجاب 600,501
2 لاہور پنجاب 7,129,609 12 بہاولپور پنجاب 543,929
3 فیصل آباد پنجاب 2,880,675 13 سیالکوٹ پنجاب 510,863
4 راولپنڈی پنجاب 1,991,656 14 سکھر سندھ 493,438
5 ملتان پنجاب 1,606,481 15 لاڑکانہ سندھ 456,544
6 حیدرآباد سندھ 1,578,367 16 شیخوپورہ پنجاب 426,980
7 گوجرانوالہ پنجاب 1,569,090 17 جھنگ پنجاب 372,645
8 پشاور خیبر پختونخوا 1,439,205 19 رحیم یار خان پنجاب 353,112
9 کوئٹہ بلوچستان 896,090 18 مردان خیبر پختونخوا 352,135
10 اسلام آباد وفاقی دارالحکومت 689,249 20 گجرات پنجاب 336,727

تہذیب

پاکستان کی بہت قديم اور رنگارنگ تہذيب ہے۔ پاکستان کا علاقہ ماضی ميں دراوڑ، آريا، ہن، ايرانی، يونانی، عرب، ترک اور منگول لوگوں کی رياستوں ميں شامل رہا ہے۔ ان تمام تہذيبون نے پاکستان کی موجودہ تہذيب پر بہت گہرا اثر چھوڑا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف صوبوں ميں لباس، کھانے، زبان اور تمدن کا فرق پايا جاتا ہے۔ اس ميں اس علاقوں کی تاريخی عليحدگی کے ساتھ ساتھ موسم اور آب و ہوا کا بھی بہت اثر ہے۔ ليکن ايک اسلامی تہذيب کا حصہ ہونے کی وجہ سے اس ميں کافی تہذيبی ہم آہنگی بھی موجود ہے۔


پاکستان ميں بہت مختلف قسم کی موسيقی ملتی ہے۔ کلاسيکی موسيقی، نيم کلاسيکی موسيقی، لوک موسيقی اور اس کے ساتھ ساتھ جديد پاپولر ميوزک سب ہی کے پاکستان ميں بلند پايہ موسيقار موجود ہيں۔ پاکستان دنيا بھر ميں قوالی کا مرکز ہے۔

پاکستانی تہذيب ميں مغربی عناصر بڑھتے جا رہے ہيں۔ يہ امراء اور روساء ميں اور بڑے شہروں ميں زيادہ نماياں ہے کيونکہ مغربی اشياء، ميڈيا اور تہذيب تک ان کی زيادہ رسائ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ايک بڑھتی ہوئی تحريک ہے جو کہ مغربی اثرات کو کم ديکھنا چاہتی ہے۔ کچھ جکہوں ميں اس تحريک کا زيادہ جھکا‏ؤ اسلام اور کچھ ميں روايات کی طرف ہے۔

پاکستانيوں کی بڑی تعداد امريکہ، برطانيہ، آسٹريليا، کنيڈا اور مشرق وسطی ميں مقيم ہے- ان بيرون ملک پاکستانيوں کا پاکستان پر اور پاکستان کی بين الاقوامی تصوير پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ ان لوگوں نے ماضی ميں پاکستان ميں بہپ سرمايہ کاری بھی کی ہے۔

پاکستان کا سب سے پسندينہ کھيل کرکٹ ہے۔ پاکستان کی کرکٹ ٹيم دنيا کی اچھی ٹيموں ميں شمار ہوتی ہے۔ کرکٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان ميں ہاکی بھی بہت شوق سے کھيلی جاتی ہے۔ ہاکی جو كہ پاكستان كا قومى كھيل بھى ہےـ چوگان (پولو) پاکستان کے شمالی علاقہ جات كے لوگوں كا كھيل ہے اور اس كھيل كى پيدايش بھى يہيں ہوئى اور آج تک ان علاقوں ميں بہت شوق سے کھيلی جاتی ہے۔

صحت عامہ

دیگر انسانی بنیادی ضروریات کی ناپیدی اور انحطاط کے ساتھ ساتھ صحت عامہ کا شعبہ بھی پاکستان میں انتہائی تنزل کا شکار ہے۔ جہاں دنیا ڈی این اے ویکسین اور وراثی معالجات کی جانب سفر کر رہی ہے وہاں پاکستان میں بڑے ہی نہیں بچے تک ناقص غذا اور صفائی ستھرائی کی عدم دستیابی و غلاظت سے جنم لینے والے امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اچھا اور مناسب علاج صرف اعلٰی طبقے اور پیسے والے امیر افراد کے ليے مخصوص ہے جبکہ غریب سرکاری شفاخانوں میں طبیبوں اور ممرضات ہی کی نہیں چپراسیوں اور بھنگیوں تک کی باتیں اور دھتکار سے گذر دوا حاصل کر پاتے ہیں۔ سرکاری شفاخانے دنیا بھر کی تہذیب یافتہ اقوام میں اپنا ایک معیار رکھتے ہیں مگر پاکستان میں انکی حالت ایسی ہے کہ جسے دیکھنے کے بعد اس قوم کی تہذیبی اقدار کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔

تعطيلات

تعطيل نام وجہ
12 ربیع الاول جشن عید میلاد النبی ولادت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
9 اور 10 محرم یوم عاشورہ حضرت حسین بن علی کی شہادت کا دن
10 ذوالحجۃ عيد الاضحى حضرت ابراہيم علیہ السلام کی قربانی کی ياد ميں
1 شوال عيد الفطر رمضان کے اختتام پر اللہ كى نعمتوں كى شكرگزارى كا دن
1 مئی يوم مزدور مزدوروں کا عالمی دن
14 اگست يوم آزادی اس دن 1947ء میں پاکستان وجود میں آیا ہوا
25 دسمبر ولادت قائد قائد اعظم کی ولادت کا دن
23 مارچ يوم پاکستان 1940میں اس روز منٹو پارک (موجودہ اقبال پارک) میں قراردادِ پاکستان منظور ہوئی

قومی چیزیں

پاکستان کے قومی نشانات
جھنڈا ہلالی پرچم
نغمہ "پاک سر زمین"
گیت ("دل دل پاکستان")
جانور مارخور
پرندہ چکور
پھول یاسمین
درخت دیودار'
پھل آم
کھیل ہاکی
کیلنڈر عیسوی
گہرا سبز رنگ جس پر ہلال اور پانچ کونوں والا ستارہ بنا ہوا ہے۔ جھنڈے میں شامل سبز رنگ مسلمانوں کی، سفید رنگ کی بٹی پاکستان میں آباد مختلف مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ قومی پرچم گیارہ اگست 1947 کو دستور ساز اسمبلی نے دی تھی۔ اس پرچم کو لیاقت علی خان نے دستور ساز اسمبلی میں پیش کیا۔
  • قومی لباس - شلوار قمیض، جناح کیپ، شیروانی (سردیوں میں)
  • قومی پرندہ - پاکستان کا قومی پرندہ چکور ہے۔
  • قومی مشروب - گنے کا رس
  • قومی نعرہ - پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا للہ
یہ نعرہ مشہور شاعر اصغر سودائی نے 1944ء میں لگایا جو تحریک پاکستان کے دوران بہت جلد زبان زدوعام ہو گیا۔ ان کا تعلق سیالکوٹ سے ہے۔

ریاستی نشان

پاکستان کا ریاستی نشان

ریاستی نشان درج ذیل نشانات پر مشتمل ہے۔

چاند اور ستارہ جو کہ روایتی طور پر اسلام سے ریاست کی عقیدت اور محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ چوکور شیلڈ جس میں ملک کی چار اہم صنعتوں کی علامت کندہ ہے۔ شیلڈ کے ارد گرد پھول اور پتیاں بنی ہوئی ہیں جو وطن عزیز کے بھر پور ثقافتی ماحول کی عکاسی کرتی ہیں۔ علامت کے چاروں طرف بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کا قول۔۔۔ اتحاد، ایمان، نظم تحریر ہے۔

زبانیں

زبان بیان
اردو قومی زبان
انگریزی سرکاری زبان
پنجابی 45٪
سندھی 15٪
سرائیکی (پنجابی سے ملتی جلتی) 10٪
اردو
پشتو 12٪
بلوچی
ہندکو، کھوار، براہوی، برشاشکی، چترالی اور دیگر زبانیں

اہم شہر

 
شہر بلحاظ آبادی (تخمینہ 2010ء)[1]
درجہ شہر صوبہ آبادی درجہ شہر صوبہ آبادی

Karachi downtown.jpg
کراچی, سندھ
Minar-e-Pakistan.jpg
لاہور, پنجاب

1 کراچی سندھ 13,205,339 11 سرگودھا پنجاب 600,501
2 لاہور پنجاب 7,129,609 12 بہاولپور پنجاب 543,929
3 فیصل آباد پنجاب 2,880,675 13 سیالکوٹ پنجاب 510,863
4 راولپنڈی پنجاب 1,991,656 14 سکھر سندھ 493,438
5 ملتان پنجاب 1,606,481 15 لاڑکانہ سندھ 456,544
6 حیدرآباد سندھ 1,578,367 16 شیخوپورہ پنجاب 426,980
7 گوجرانوالہ پنجاب 1,569,090 17 جھنگ پنجاب 372,645
8 پشاور خیبر پختونخوا 1,439,205 19 رحیم یار خان پنجاب 353,112
9 کوئٹہ بلوچستان 896,090 18 مردان خیبر پختونخوا 352,135
10 اسلام آباد وفاقی دارالحکومت 689,249 20 گجرات پنجاب 336,727

کراچی، لاہور، سا ہیوال، فیصل آباد، ملتان، حیدر آباد، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ، ڈیرہ اسماعیل خان، بہاولپور، سرگودھا، جھنگ، سکھر، ڈیرہ غازی خان، جہلم, سیالکوٹ، گجرات، گوادر، چترال، سوات، مری، شیخوپورہ، گوجرانوالہ،چترال وغیرہ

+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 5 Apr 2011 و ساعت 5:30 PM |
اسلامی جمہوریۂ ایران

(عرف عام: ایران، سابق نام: فارس، موجودہ فارسی نام: جمہوری اسلامی ایران) جنوب مغربی ایشیا کا ایک ملک ہے جو مشرق وسطی میں واقع ہے۔ ایران کی سرحدیں شمال میں آرمینیا، آذربائیجان اور ترکمانستان، مشرق میں پاکستان اور افغانستان اور مغرب میں ترکی اور عراق سے ملتی ہیں۔ مزید برآں خلیج فارس بھی اس سے ملحق ہے۔ شیعہ اسلام ملک کا سرکاری مذہب اور فارسی قومی زبان ہے۔

ایران دنیاکی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ ملک کی تاریخ ہزاروں سالوں پر محیط ہے۔ یورپ اور ایشیا کے وسط میں ہونے کے باعث اس کی تاریخی اہمیت ہے۔ ایران اقوام متحدہ، غیر وابستہ ممالک کی تحریک (ناماسلامی کانفرنس تنظیم (او آئی سی) اور تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) کا بانی رکن ہے۔ تیل کے عظیم ذخائر کی بدولت بین الاقوامی سیاست میں ملک اہم ترین کردار ادا کرتا ہے۔ لفظ ایران کا مطلب آریاؤں کی سرزمین ہے۔

ایران مشرق وسطی میں واقع ہے۔ اس کے شمال میں آرمینیا، آذربائیجان، ترکمانستان اور بحیرہ قزوین، مشرق میں افغانستان اور پاکستان، جنوب میں خلیج فارس اور خلیج اومان جبکہ مغرب میں عراق اور ترکی واقع ہیں۔ ملک کا وسطی و مشرقی علاقہ وسیع بے آب و گیاہ صحراؤں پر مشتمل ہے جن میں کہیں کہیں نخلستان ہیں۔ مغرب میں ترکی اور عراق کے ساتھ سرحدوں پر پہاڑی سلسلے ہیں۔ شمال میں بھی بحیرہ قزوین کے ارد گرد زرخیز پٹی کے ساتھ ساتھ کوہ البرس واقع ہیں۔

ایران کو انتظامی طور پر تیس صوبوں یا استان میں تقسیم کیا گیا ہے۔


صوبہ اردبیل

صوبہ آذربایجان شرقی

صوبہ آذربایجان غربی

صوبہ بوشهر

صوبہ چهارمحال و بختیاری

صوبہ فارس

صوبہ گیلان

صوبہ گلستان

صوبہ همدان

صوبہ هرمزگان

صوبہ ایلام

صوبہ اصفهان

صوبہ کرمان

صوبہ کرمانشاه

صوبہ خراسان شمالی

صوبہ خراسان رضوی

صوبہ خراسان جنوبی

صوبہ خوزستان

صوبہ کهگیلویه و بویراحمد

صوبہ کردستان

صوبہ لرستان

صوبہ مرکزی

صوبہ مازندران

صوبہ قزوین

صوبہ قم

صوبہ سمنان

صوبہ سیستان و بلوچستان

صوبہ تهران

صوبہ یزد

صوبہ زنجان

سیاست

موجودہ آئین 1979ء کے انقلاب کے بعد منظور کیا گیا جس کے مطابق ایران کو ایک اسلامی جمہوریہ اور اسلامی تعلیمات کو تمام سیاسی، سماجی اور معاشی تعلقات کی بنیاد قرار دیا گیا۔ مجموعی اختیارات رہبر معظم (سپریم لیڈر) کے پاس ہوتے ہیں۔ آجکل آیت اللہ علی خامنہ ای رہبر معظم ہیں۔ رہبر معظم کا انتخاب ماہرین کی ایک مجلس (مجلس خبرگان) کرتی ہے جس میں پورے ایران سے 96 علماء منتخب کئے جاتے ہیں۔ رہبر معظم مسلح افواج کا کمانڈر انچیف ہوتا ہے۔ حکومت کا سربراہ صدر ہوتا ہے جسے پورے ملک سے بالغ رائے دہی کی بنیاد پر منتخب کیا جاتا ہے۔ آئین کے تحت کوئی فرد دو سے زیادہ مرتبہ صدر نہیں بن سکتا۔ قانون سازی کے اختیارات مجلس کے پاس ہیں جو 290 منتخب اراکین پر مشتمل اور 4 سال کے لئے علاقوں اور مذہبی برادریوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ عیسائیوں، زرتشتوں اور یہودیوں کے اپنے نمائندے مجلس میں شامل ہیں۔ مجلس کے منظور شدہ قوانین منظوری کے لئے شوری نگہبان کے پاس بھیجے جاتے ہیں۔

شوری نگہبان اس لحاظ سے مجلس کے منظور کردہ قوانین کا جائزہ لیتی ہے کہ وہ آئین اور اسلامی قوانین کے مطابق ہیں۔ اس میں رہبر معظم کی جانب سے نامزد کردہ 6 مذہبی رہنما اور عدلیہ کے نامزد کردہ 6 قانونی ماہرین شامل ہوتے ہیں جن کی منظوری مجلس دیتی ہے۔ کونسل کو مجلس، مقامی کونسلوں، صدارت اور مجلس خبرگان کے امیدواروں کو ویٹو کردینے کا اختیار بھی ہوتا ہے۔

قانون سازی کے حوالے سے مجلس اور کونسل کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کے حل کے لئے 1988ء میں "مجمع تشخیص مصلحت نظام" (ایکسپیڈیئنسی کونسل) قائم کی گئی۔ اگست 1989ء سے یہ قومی پالیسی اور آئینی امور پر رہبر معظم کا مشیر ادارہ بن گئی۔ اس کے سربراہ سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی ہیں اور اس میں حکومت کے تینوں شعبوں کے سربراہ اور شوری نگہبان کے مذہبی ارکان شامل ہیں۔ رہبر معظم تین سال کے لئے ارکان نامزد کرتا ہے۔

مجلس کے بڑے گروہوں کو عموما "اصلاح پسند" اور "قدامت پرست" کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ اس وقت مجلس میں "آبادگاران" کا اتحاد غالب ہے۔ یہ قدامت پرست ہیں۔

 بین الاقوامی تعلقات

ایران اور اس کے صوبہ جات (اردو نقشہ)

1997ء میں صدر خاتمی کے منتخب ہونے کے بعد ایران کے زیادہ تر ممالک سے تعلقات بہتر ہوئے۔ 1998ء میں برطانیہ اور ایران کے تعلقات اس یقین دہانی پر بحال ہوئے کہ ایرانی حکومت کا سلمان رشدی کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ 1999ء میں برطانیہ اور ایران نے سفارتکاروں کا تبادلہ کیا۔

ایران اور امریکہ کے تعلقات 1980ء میں ٹوٹے اور آج تک بحال نہیں ہوئے۔ جولائی 2001ء میں امریکہ نے ایران اور لیبیا پر پابندیوں کے قانون میں مزید 5 سال کے لئے توسیع کردی۔ جنوری 2002ء میں صدر بش نے ایران کو "بدی کے محور" (Axis of Evil) کا حصہ قرار دیا۔ اس وقت ایران مغربی طاقتوں کی جانب سے جوہری پروگرام، مبینہ دہشت گردی، مشرق وسطی کے امن کو خراب کرنے کے خواہشمند گروہوں کی مبینہ سرپرستی اور دیگر الزامات کا نشانہ بنا ہوا ہے۔

 عراق سے تعلقات

1980ء کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات کبھی معمول پر نہیں آسکے تاہم عراق کے تنازعے پر ایران نے غیر جانبدار ہونے کا اعلان کردیا اگرچہ اس نے فوجی کارروائی پر تنقید کی لیکن اس نے اعلان کیا کہ وہ تنازعے سے باہر رہے گا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ ایک مستحکم اور متحد عراق کے لئے کام کرنا چاہتا ہے۔ ایران کا عراق کی عبوری حکومت کے ساتھ براہ راست دو طرف معاہدہ ہے۔ ایران بجلی کی فراہمی کے سلسلے میں عراق کی مدد کررہا ہے۔ 30 نومبر 2004ء کو عراق میں سلامتی، عام انتخابات کے بروقت انعقاد اور بیرونی عناصر کی مداخلت روکنے پر غور کے لئے ایران میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس کی میزبانی ایرانی وزارت داخلہ نے کی۔ اس کانفرنس میں عراق، سعودی عرب، کویت، ترکی، اردن اور مصر کے وزرائے داخلہ اور سیکورٹی حکام نے شرکت کی۔

 افغانستان

ایران افغان خانہ جنگی سے بھی متاثر ہورہا ہے اور وہاں استحکام کے فروغ کا خواہاں نظر آرہا ہے۔ ایران نے افغانستان کی تعمیر نو کے لئے 5 سالوں میں 560 ملین ڈالرز دینے کا وعدہ کیا ہے۔ دونوں ملکوں نے منشیات کے خلاف ایک دوسرے سے بھرپور تعاون کیا ہے۔ ایران میں لاکھوں افغان مہاجرین رہائش پذیر ہیں جن کی وطن واپسی کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔

 اسرائیل

1979ء میں انقلابِ اسلامی کے بعد سے ایران کا موقف یہ رہا ہے کہ اسرائیل کا وجود غیر قانونی ہے۔ ایران اب بھی اسرائیل کی پرجوش مخالفت پر قائم ہے۔ وہ مشرق وسطی میں امن قائم کرنے کے اقدامات پر بھی اعتراضات کرتا رہتا ہے اور مبینہ طور پر فلسطین اور لبنان کے ان اسرائیل مخالف گروہوں کی مدد کرتا رہتا ہے۔ 2002ء میں ایرانی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ اگر اسرائیل اور فلسطین کو کوئی معاہدہ قابل قبول ہو تو ایران ایسے دو طرفہ معاہدے کو رد نہیں کرے گا۔

 قدرتی آفات

ایران انتہائی متحرک زلزلے کی پٹی پر واقع ہے جس کی وجہ سے یہاں آئے دن زلزلے آتے رہتے ہیں۔ 1991ء سے اب تک ملک میں ایک ہزار زلزلے کے جھٹکے ریکارڈ کئے جاچکے ہیں جن سے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 17 ہزار 600 جانیں ضائع ہوئیں۔ 2003ء میں جنوب مشرقی ایران میں شدید زلزلے نے تباہی مچادی۔ اس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 6.3 تھی اور اس نے قدیم قصبہ بام کو صفحہ ہستی سے مٹادیا۔ اس زلزلے میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔

+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 5 Apr 2011 و ساعت 5:24 PM |
5 اگست ملت اسلامیہ پاکستان کے شہید قائد اور وحدت مسلمین کے علمبردا ===ر علامہ سید عارف حسین حسینی=== کی برسی ہے ۔ ان کو استعماری ایجنٹوں نے 5 اگست 1988 ء کی صبح پشاور میں واقع اپنی درسگاہ مدرسۂ جامعۃ المعارف الاسلامیہ میں نماز فجر کے وقت شہید کیا ۔ شہید عارف حسینی کی شہادت کی خبر پاکستان بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اسلامیان پاکستان میں صف ماتم بچھ گئی اور عالم اسلام کے گوشے گوشے میں اس بھیانک قتل پر غم و اندوہ کا اظہار کیا گیا ۔ شہید عارف سے بچھڑنے کا غم بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) پر بھی گراں گذرا چنانچہ آپ نے اپنے تعزیتی پیغام میں لکھا : " میں اپنے عزیز فرزند سے محروم ہوگیاہوں " واقعا" شہید عارف امام خمینی (رح) کے روحانی فرزند تھے ، آپ کو امام امّت سے عشق کی حد تک لگاؤتھا ، شہید عارف نے نجف اشرف سے ہی امام انقلاب خمینی بت شکن سے لو لگالی تھی ، شہید عارف انہی ایام میں نجف پہنچے تھے جب امام خمینی (رح) جلاوطن ہوکر عراق پہنچے تھے ۔ شہید ملّت اسلامیہ علامہ سید عارف حسین حسینی پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار سے چند کلومیٹر دور پاک افغان سرحد پر واقع گاؤں پیواڑ میں 25 نومبر 1946 ء کو پیدا ہوئے ۔ آپ کا تعلق پاڑہ چنار کے معزّز سادات گھرانے سے تھا ، جس میں علم و عمل کی پیکر کئی شخصیات نے آنکھیں کھولی تھیں ۔ شہید عارف حسینی ابتدائی دینی و مروجہ تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کرنے کے بعد پاکستان کے بعض دینی مدارس میں زیرتعلیم رہے اور علمی پیاس بجھانے کے لئے 1967 ء میں نجف اشرف روانہ ہوئے ۔ نجف اشرف میں شہید محراب آیت اللہ مدنی جیسے استاد کے ذریعے آپ حضرت امام خمینی (رح) سے متعارف ہوئے ۔ آپ باقاعدگی سے امام خمینی (رح) کے دروس ، نماز اور دیگر پروگراموں میں شرکت کرتے تھے ۔ 1974 ء میں شہید عارف حسین حسینی پاکستان واپس آئے ، لیکن ان کو واپس عراق جانے نہیں دیا گیا تو قم کی دینی درسگاہ میں حصول علم میں مصروف ہوگئے ۔ قم میں آپ نے شہید آیت اللہ مطہری ، آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی ، آیت اللہ وحید خراسانی جیسے علمائے اعلام سے کسب فیض کیا ۔ آپ علم و تقوی کے زیور سے آراستہ ہونے کے ساتھ ساتھ قم میں امام خمینی (رح) کی اسلامی تحریک سے وابستہ شخصیات سے بھی رابطے میں رہے چنانچہ قا‏ئد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای اور شہید آیت اللہ ہاشمی نژاد کے خطبات و دروس میں بھی شامل ہوتے رہے ۔ شہید عارف حسینی کی انقلابی سرگرمیوں کی وجہ سے آپ کو ایک دفعہ شاہی خفیہ پولیس ساواک نے گرفتار کیا ۔ شہید عارف حسین حسینی 1977 ء میں پاکستان واپس گئے اور مدرسۂ جعفریہ پاڑہ چنار میں بحیثیت استاد اپنی خدمات انجام دیں ، اس کے علاوہ آپ نے کرم ایجنسی کے حالات بدلنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ۔ جب 1979 ء میں انقلاب اسلامی ایران کامیاب ہوا تو آپ نے پاکستان میں اسلامی انقلاب کے ثمرات سے عوام کو آگاہ کرنے اور امام خمینی (رح) کے انقلابی مشن کو عام کرنے کا بیڑا اٹھایا ۔شہید عارف حسینی نے پاکستان کی ملّت تشیّع کو متحد و منظم کرنے کے لئے بھرپور کوششیں کیں اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے قیام میں اہم کردار ادا کیا اگست 1983ء میں تحریک کے قائد علامہ مفتی جعفر حسین کی وفات کے بعد 1984 ء میں پاکستان کے جیّد شیعہ علما و اکابرین کے ایما پر علامہ شہید عارف حسینی کو ان کی قائدانہ صلاحیتوں ، انقلابی جذبوں اور اعلی انسانی صفات کی بناپر تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا نیا قائد منتخب کیا گیا ۔ علامّہ شہید عارف حسینی کا دور قیادت پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی فوجی حکومت کے خلاف سیاسی جماعتوں کی جد و جہد کے دور سے مطابقت رکھتاتھا ۔ چنانچہ آپ نے پاکستانی سیاست میں کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے ملک کی تقدیر بدلنے کے لئے طویل جد و جہد کی ۔ اس سے قبل پاکستانی سیاست میں اہل تشیع کا مؤثر کردار نہیں تھا ، لیکن شہید عارف حسینی نے اپنے ملک گیر دوروں لانگ مارچ کے پروگراموں ، کانفرنسوں اور دیگر پروگراموں کے ذریعے دین اور سیاست کے تعلق پر زور دیتے ہوئے اپنی قوم کو سیاسی اہمیت کا احساس دلایا ، اس سلسلے میں لاہور کی عظیم الشان قرآن و سنت کانفرنس قابل ذکر ہے ۔ آپ پاکستانی شہری ہونے کے ناطے سیاسی و اجتماعی امور میں ہر مسلک و مکتب اور زبان و نسل سے تعلق رکھنے والوں کی شرکت کو ضروری سمجھتے تھے ۔ علامہ عارف حسین حسینی نے پاکستان میں امریکی ریشہ دوانیوں کو نقش بر آب کرنے اور قوم کو سامراج کے ناپاک عزائم سے آگاہ کرنے کے لئے بھی موثر کردار ادا کیا ۔ علامہ شہید عارف حسین حسینی اتحاد بین المسلمین کے عظیم علمبردار تھے ، آپ فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کے شدید مخالف تھے ، اس سلسلے میں آپ نے علمائے اہل سنت کے ساتھ مل کر امت مسلمہ کی صفوں میں وحدت و یک جہتی کے لئے گرانقدر خدمات انجام دیں ۔ شہید علامہ سید عارف حسین حسینی کی ہمہ گیر شخصیت آپ کے مکتب میں فیض حاصل کرنے والے تمام لوگوں کے لئے ایک کامل نمونے کی حیثیت رکھتے تھی ، آپ صبر و حلم ، زہد و تقوی ، ایثار و فداکاری ، شجاعت و بہادری اور حسن خلق جیسے اعلی انسانی صفات سے متصف عظیم انسان تھے ۔ رات کی تاریکیوں میں خداوند عالم سے راز و نیاز اور دن کو اسلام و مسلمین کی خدمت کا جذبہ آپ کی شخصیت کا طرۂ امتیاز تھا ، اس سلسلے میں آپ اپنے جد گرامی حضرت علی (ع) کی پیروی کرتے تھے ۔ سامعین علامہ شہید سید عارف حسین حسینی ایک عظیم قائد ، نڈر اور بےباک رہنما ، پر خلوص اور جذبۂ خدمت سے سرشار انسان اور باعلم عالم دین تھے ، ان کی یاد تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گی ۔ آج علامہ شھید عارف حسینی کے نقش قدم پر چلتے ہویے مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک بار پھر اسی سوچ اور فکر کو زندہ کرہی ہے جسے شھید عارف حسینی نے پاکستان کی محب وطن شیعہ عوام کو دیا تھا
+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 5 Apr 2011 و ساعت 5:16 PM |
madineh_29
+ نوشته شده توسط khial hussain در Fri 1 Apr 2011 و ساعت 6:20 PM |
Imam Ali_42
+ نوشته شده توسط khial hussain در Fri 1 Apr 2011 و ساعت 6:19 PM |
Bit Almoqadas_3
+ نوشته شده توسط khial hussain در Fri 1 Apr 2011 و ساعت 6:17 PM |
Imam Ali_39
+ نوشته شده توسط khial hussain در Fri 1 Apr 2011 و ساعت 6:9 PM |
Imam Hassan Askari_8
+ نوشته شده توسط khial hussain در Fri 1 Apr 2011 و ساعت 6:6 PM |
Imam Hassan Askari_10
+ نوشته شده توسط khial hussain در Fri 1 Apr 2011 و ساعت 6:1 PM |
Imam Hussain
+ نوشته شده توسط khial hussain در Fri 1 Apr 2011 و ساعت 5:58 PM |
امام حسین
+ نوشته شده توسط khial hussain در Fri 1 Apr 2011 و ساعت 5:55 PM |
Imam Reza_32
+ نوشته شده توسط khial hussain در Fri 1 Apr 2011 و ساعت 5:52 PM |
Imam Reza_25
+ نوشته شده توسط khial hussain در Fri 1 Apr 2011 و ساعت 5:51 PM |
حضرت ابالفضل
+ نوشته شده توسط khial hussain در Fri 1 Apr 2011 و ساعت 5:47 PM |
Imam Jawad_2
+ نوشته شده توسط khial hussain در Fri 1 Apr 2011 و ساعت 5:43 PM |
Hazrat Zeinab_8
+ نوشته شده توسط khial hussain در Fri 1 Apr 2011 و ساعت 5:39 PM |
fatemeye_masome_5
+ نوشته شده توسط khial hussain در Fri 1 Apr 2011 و ساعت 5:36 PM |
fatemeye_masome_17
+ نوشته شده توسط khial hussain در Fri 1 Apr 2011 و ساعت 5:34 PM |
fatemeye_masome_12
+ نوشته شده توسط khial hussain در Fri 1 Apr 2011 و ساعت 5:30 PM |
یزیدی آمریت – جدید علمانیت بمقابلہ حسینی حقِ حاکمیت (1)

ڈاکٹر حسن رحیم پور ازغدی نے حال ہی میں جامعہ تہران کے الہیات ڈپارٹمنٹ میں "حسینی مکتب کے اصولوں کا جائزہ" کے عنوان سے منعقدہ سمینار سے خطاب کیا۔ یہاں ڈاکٹر صاحب کے خطاب کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے جس میں انھوں نے اہل بیت (ع) کی تعلیمات کی روشنی میں حقِ حاکمیت، حکومت اور قانونی جواز کی تشریح کی ہے۔

یزیدی آمریت – جدید علمانیت بمقابلہ حسینی حقِ حاکمیت (1)

مقرر: حسن رحیم پور ازغدی

ترجمہ و تکمیل: ف.ح.مہدوی

 

  يزیدی آمریتیں اور جدید علمانیتیں (سیکولر قوتیں) سیاسی مشروعیت (Political Legitimacy) کو حقانیت (Rightfulness) سے الگ سمجھتی ہیں۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سید الشہداء علیہ السلام سے منقولہ بعض عبارات میں آپ (ع) نے نہ صرف اپنے زمانے کے انسانوں بلکہ ہر زمانے اور ہر مقام و جغرافیئے سے تعلق رکھنے والے انسانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ:

"ہم اور اموی حکمرانوں کے درمیان رونما ہونے والا تنازعہ اقتدار کا جھگڑا نہیں ہے"۔

آپ (ع) نے تمام زمانوں کے انسانوں کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ:

"بات یہ نہیں ہے کہ کون حاکم ہو اور کون محکوم ہو؛ یہ بنیادی بات نہیں ہے بلکہ جھگڑا دو مکاتب اور دو قسم کی سیرتوں کے درمیان ہے خواہ ان دونوں مکاتب کا رنگ مذہبی ہی کیوں نہ ہو اور دونوں مکاتب کا مدعا مذہبی ہی کیوں نہ ہو۔ لیبل اور نشان کی کوئی اہمیت نہیں ہے"۔

یعنی یہ کہ حکومت کے سلسلے میں دو قسم کی روشیں اور دو قسم کے مکاتب موجود ہیں۔

کسی نے سیدالشہداء (ع) سے دریافت کیا:

یابن رسول اللہ (ص)! اس تحریک سے آپ کا ہدف و مقصد کیا ہے؟

سیدالشہداء (ع) نے فرمایا:

"اریـد ان آمـر بالمعروف وانهی عن المنکر و اسیر بسیرة جدّی محمّد و سیرة ابی علی‌بن ابی طالب، میرا عزم اور میرا ہدف و مقصد وہی ہے جو میرے نانا رسول اللہ (ص) کا تھا اور جو میرے والد امیرالمؤمنین (ع) کا تھا کہ نیکیوں اور بھلائیوں کا حکم دوں اور برائیوں سے منع کروں؛ میں بھی اسی مقصد سے سیاسی، سماجی اور تربیتی میدان میں اترا ہوں جس مقصد کے لئے میرے نانا اور والد اترے تھے"۔

چنانچہ بحث اشخاص و افراد کے بارے میں نہیں ہے بلکہ بحث خاندان، معاشرے، سیاست، اقتصاد اور نظام عدل اور قضاوت (Judiciary) کے لئے دو سیرتوں اور دو روشوں کے درمیان ہے اور ان دو روشوں اور سیرتوں کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرکے پیش کرنے کے لئے ہم ایک روایت امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں:

امام صادق علیہ السلام سے پوچھا جاتا تھا کہ امویوں سے اہل بیت (ع) کا جھگڑا کس بات پر ہے؟ اور علوی، حسنی اور حسینی اسلام اور اموی اسلام کے درمیان کیا فرق ہے؟

امام صادق علیہ السلام نے عمار بن احوص سے مخاطب ہوکر ان دو مکاتب کی بہترین انداز میں توصیف کرکے انہیں بہترین انداز میں الگ الگ کرکے پیش کیا اور فرمایا: ہمارے اور معاویہ کے مکاتب میں اختلاف "تربیت اور انتظام" کی بنیاد پر ہے؛

فرماتے ہیں: " فلا تخرقوا بهم، أما علمت أن امارة بني امية كانت بالسيف والعسف والجور، وأن إمامتنا بالرفق والتألف والوقار والتقية وحسن الخلطة والورع والاجتهاد فرغبوا الناس في دينكم وفي ما أنتم فيه" (1)

لوگوں پر زیادہ دباؤ نہ ڈالو اور انہیں اکتاہٹ سے دوچار مت کرو بلکہ ان کے استعداد اور ان کے ظرف و قابلیت کا لحاظ رکھو، کیا تم نہیں جانتے کہ بنو امیہ کی حکمرانی اور ان کا طرز عمل تلوار، دباؤ، ناانصافی اور حق کشی پر مبنی تھا اور طاقت اور وہ تشدد و حق کشی کے ذریعے معاشرے پر مسلط ہونا اور مسلط رہنا چاہتے تھے اور ان کا اس کے سوا کوئی مقصد نہیں تھا۔ انھوں نے اپنے زمانے میں "طاقت اور تشدد" کو حکومت کے حصول کا وسیلہ قرار دیا تھا اور ان کے ہاں طاقت اور اقتدار کو عدل اور تربیت کے حصول کا ذریعہ نہیں سمجھا جاتا تھا۔

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ہمارا طرز عمل اور ہماری تربیتی روش و سیرت مہربانی، محبت، رواداری، تحمل اور الفت پر مبنی ہے، ہماری انتظامی اور تربیتی روش محبت، عشق، برادری و اخوت، نرمش اور مہربانی و متانت اور وقار و "تقیّہ" پر مبنی ہے؛ [ہاں] حتی اگر آپ حاکم بھی ہیں پھر بھی تقیّہ کرو، البتہ تقیّہ سے مراد منافقت و دھوکہ بازی، فریب کاری، چہرے اور بھیس تبدیل کرنا اور دین و حق و عدل کو اپنے مفادات پر قربان کرنا نہیں ہے؛ یہ تقیّہ نہیں ہے بلکہ تقیّہ وہ ہے جو اہل بیت (ع) نے متعارف کرایا ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ:

"ماحول کو صحیح انداز سے پہچان لو اور معاشرے کی قابلیتوں اور ظرفیتوں (Capabilities & Capacities) کو پرکھو اور اسی بنیاد پر عمل کرو؛ یعنی ہر شخص سے ہر مقام اور ہر زمانے میں جس طرح چاہو، سلوک نہیں کیا جاسکتا۔ یعنی رتبہ بندی اور طبقہ بندی (Classification) اور حساب و کتاب کے ساتھ اور انتظامِ بحران (Crisis Management) کے ساتھ؛ یعنی جب تم بات کرنا چاہتے ہو خواہ وہ بات حق ہی کیوں نہ ہو یہ مت کہو کہ "مجھے لوگوں سے کیا لینا دینا" بلکہ یہ بات مد نظر رکھو کہ بات "کس سے"، "کیونکر/ کیسے"، "کہاں"، (اور کیوں) کررہے ہو؟۔ اصول یہ ہے کہ بات صحیح ہونی چاہئے لیکن یہی کافی نہیں ہے۔ حق بات کرلینی چاہئے لیکن مذکورہ چار سوالات کا بھی جواب دینا چاہئے۔ کس سے؟ کیسے؟ کہاں؟ اور کیوں؟۔

بعض مواقع پر اگر آپ حق کی ایک بڑی ظرفیت کا مطالبہ کریں تو جن سے مطالبہ کررہے ہیں وہ پورا حق آپ کو دینے سے انکار کردیں گے؛ یعنی آپ کم از کم کو بھی نافذ نہیں کرسکیں گے۔ یہاں عقلانیت (Rationality) کی شرائط کو مد نظر رکھیں۔ تقیّہ سے مراد جدوجہد میں عقلانیت (Rationality in Struggle) اور جدوجہد کی طبقہ بندی یا زُُمرہ بندی (Rationality in Classification) ہے۔

امام صادق علیہ السلام اس روایت میں فرماتے ہیں کہ انتظام و تربیت اور حکمرانی ہماری رائے میں ـ حتی اگر آپ برسراقتدار بھی ہوں ـ ایک قسم کے تقیئے پر بھی مبنی ہے۔ یعنی یہ کہ حالات کا لحاظ رکھیں اور جس فرد یا معاشرے کو مورد خطاب قرار دیتے ہیں اس کی حالت کو بھی مد نظر رکھیں البتہ اس کا مطلب ساز باز، پسپائی اور حق و حقیقت پر مسامحت اور سمجھوتہ کرنا حقائق کو ظاہری صورت دے کر (Snow Job کرکے) راضی ہونا نہیں ہے۔

حدیث امام صادق (ع) میں دوسرا اہم اصول "حُسنُ الخلطۃ" ہے؛ یعنی ہماری حکومتی اور تربیتی روش لوگوں کے ساتھ حسن المخالطہ اور بہتر انداز سے میل جول رکھنا ہے۔ خلطہ سے مراد لوگوں کے ساتھ میل جول رکھنا اور ان کے ساتھ مخلوط رہنا، منکسر اور متواضع ہونا؛

امام (ع) فرمانا چاہتے ہیں کہ "حاکم اور عوام کے درمیان کوئی سرحد حائل نہیں ہے"۔ حاکم کو عوام سے ظاہری طور پر ممتاز نہیں ہونا چاہئے اور اسی عوام کے بیچ کسی خاص امتیازی نشان سے پہچانا نہیں جانا چاہئے۔ یعنی اگر آپ حاکم ہیں تو لوگوں کے بیچ رہیں لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ آپ لوگوں کے بیچ رہیں ان کے ساتھ حسن سلوک بھی روا رکھیں، نہ کہ آپ لوگوں کے بیچ رہیں اور ان کے ساتھ ہتک آمیز سلوک روا رکھیں! یہ بھی نہیں ہونا چاہئے۔

روایت میں اہل بیت (ع) کی روش میں "الورع" یعنی پاکدامنی اور گناہ سے بچ کر رہنے، کا بھی ذکر ہے یعنی یہ کہ آپ نہ صرف عوامی طاقت اور دولت کا غلط استعمال نہ کریں بلکہ اپنی ذاتی دولت سے بھی غلط فائدہ نہ اٹھائیں۔ اور اس کے بعد "الاجتہاد" یعنی کوشش کا ذکر ہے جس سے مراد یہ ہے کہ برسر اقتدار آکر پوری طاقت سے اسلامی اقدار اور حق و حقیقت کے احیاء اور مسلمانوں کے حقوق اور اسلامی احکام و فرائض کے قیام کے لئے قیام و اقدام کریں۔

امام (ع) نے فرمایا: ہماری سنت اور سیرت و روش یہ ہے۔

معلوم ہوا کہ حقِ حکمرانی اور سیاست کے بارے میں دو مختلف قسم کے نظریات ہیں۔ ایک روش سیف و جور یعنی تلوار اور ستم کی بنیاد پر ہے یعنی طاقت و تشدد و تذلیل و تحقیر، کچلنا، حقوق کی تضییع کرنا اور نا انصافی پیشہ کرنا؛ اور ایک قسم کی روش وہ ہے جو امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ رفق و تألف و وقار، مہربانی، نرمی، تقیّہ، عوام کے ساتھ حسن معاشرت، ورع اور عوام کی خدمت کے لئے پوری طاقت سے کوشش و اجتہاد کرنا۔

ہاں البتہ! اگر ضرورت پڑے تو اقدار کے تحفظ کے لئے تلوار اور طاقت کا استعمال بھی ضروری ہوسکتا ہے لیکن بنیاد تلوار اور طاقت نہیں ہے۔

تلوار اور طاقت سب سے پہلی راہ حل نہیں ہے بلکہ آخری راہ حل ہے۔

اس کے بعد امام صادق علیہ السلام نے عمار بن احوص سے مخاطب ہوکر فرمایا: "فرغبوا الناس في دينكم وفي ما أنتم فيه" اس طرح لوگ آپ کے دین کی طرف راغب ہوجائیں گے اور ان دینی رجحانات کی طرف جو آپ نے اپنائے ہیں یعنی یہ کہ آپ لوگوں کو اس طرح اپنے مکتب کی طرف رغبت دلائیں۔ ہمارے کام کا اصول ایمانی اصول ہے، عوامی گروہوں اور طبقوں کو مختلف قسم کے رجحانات سے اپنے دین کی طرف بلائیں اور جذب کریں۔

امام حسین علیہ السلام سفر کربلا میں مختلف مواقع پر اپنی تحریک اور شہادت کا فلسفہ بیان کرنے کے لئے مختلف قسم کی تعبیرات اور عبارات استعمال کرتے رہے ہیں۔ آپ (ع) نے مختلف مواقع پر حق اور حقوق کے مسئلے کی طرف اشارہ فرمایا؛ "خدا کا حق اور لوگوں کا حق (حق اللہ اور حق الناس)" فرمایا: حکومت اور جدوجہد کے لئے ہمارا محرک (Motive) "حق" ہے۔ کوئی اور چیز ہمارا مقصد و ہدف نہیں ہے۔

کسی نے امام حسین (ع) سے دریافت کیا: صورت حال آپ کے حق میں نہیں ہے اور ابھی سے معلوم ہے کہ اس تنازعے میں آخر کار آپ سب مارے جائیں گے یا قیدی بنائے جائیں گے؛ اس کے باوجود آپ نے قیام کیوں کیا؟ فرمایا:

"الا ترون ان الحق لا یُعمَلُ به" کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ "حق" پر عمل نہیں ہورہا " و ان الباطل یا یُتناهی عنه" (2) کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ باطل کی بات، باطل کے اخلاقیات، باطل کے معاشی و اقتصادی نظام اور باطل کی حکمرانی کا مسئلہ درپیش ہے اور اس باطل کی کسی جانب سے بھی مخالفت نہیں ہورہی؟ تم مجھ سے کیوں پوچھتے ہو کہ میں نے اس تحریک کا آغاز کیوں کیا؟ یہ تو تم سے پوچھا جانا چاہئے کہ تم کیوں نہیں اٹھتے؟ کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ باطل اعلانیہ انداز سے میدان میں آیا ہے؟ کیوں اس پر اعتراض و احتجاج نہیں کرتے ہو؟ جبکہ تم دیکھ رہے ہو کہ حق مظلوم ہے اور اس پر عمل نہیں ہورہا؛ یہی بات اٹھ کر اعتراض و احتجاج کرنے کے لئے کافی ہے۔

ایک دوسری روایت میں منقول ہے کہ یزید نے مدینہ کے والی "ولید بن عتبہ" کو خط لکھ کر حکم دیا کہ جا کر امام حسین (ع) سے بیعت لے۔ ولید نے کہا: آپ سرتسلیم خم کریں ورنہ ہمیں حکم ہوا ہے کہ آپ سے سختی سے نمٹ لیں۔

روایت میں ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے اپنے چالیس انصار و اعوان و افراد خاندان کو مسلح ہوکر تیار رہنے کی ہدایت فرمائی اور فرمایا: میں حاکم کے پاس جارہا ہوں تم مدینہ کی سڑکوں میں منتشر ہوجاؤ اور تیار رہو اور اگر میں صحیح سلامت واپس لوٹ کر آیا تو درست ورنہ حاکم کے حکومت خانے میں داخل ہوجاؤ اور دارالحکومہ میں موجود لوگوں سے لڑ پڑو۔ امام (ع) کے اس اقدام کا فلسفہ یہ تھا کہ یزید اپنے والی کے ذریعے کربلا کی تحریک کو شروع ہونے سے قبل ہی نیست و نابود کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔

ولید نے بیعت کا تقاضا کیا تو امام علیہ السلام نے فرمایا: "انا اهل بيت النبوة و معدن الرسالة و مختلف الملائكة و مهبط الرحمة بنا فتح الله و بنا ختم" (3) = ہم اہل بیت نبی (ع) ہیں اور ایسے خاندان میں پروان چڑھے اور پلے بڑھے ہیں جو خاندان نبوت ہے اور جہاں وحی نازل ہوتی رہی ہے اور جہاں ملائکہ کا آنا جانا رہتا ہے، پوری انسانیت پر نازل ہونے والی وحی ہمارے خاندان میں نازل ہوتی رہی ہے اور اللہ نے ہم سے آغاز کیا اور ہم پر ختم کرے گا۔ ہمارے پاس ہے آغاز و اختتام اور فراخی اور تمام امور کا انجام و عاقبت؛ تم کس طرح مجھ سے بیعت مانگتے ہو؟

اس گفتگو سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسئلہ سیاسی اقتدار کا نہیں بلکہ اس سے کہیں آگے بڑھ کر ہے۔ اس مسئلے کا تعلق نبوت و رسالت اور ہبوط ملائکہ اور نزول رحمت اور نزول فتح الہی جیسے مسائل سے ہے۔ یہاں در حقیقت امام (ع) اپنی تحریک کے لئے فلسفی ـ کائناتی اور الہیاتی بنیادیں بیان کررہے ہیں۔

فرماتے ہیں: بیعت کے بارے میں ہماری سوچ کا محور اقتدار اور طاقت نہیں ہے بلکہ اس کا مدار و محور حکمت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سامنے کون ہے؟ مجھ سے بیعت کس کے لئے مانگ رہے ہو؟

فرماتے ہیں: "و يزيد رجل شارب الخمر و قاتل النفس المحَّرمة معلن بالفسق" (4) [اگر بیعت یزید کے لئے مانگ رہے ہو تو] یزید تو شرابخوار ہے اور ان لوگوں کا قاتل ہے جن کا خون اللہ نے حرام کررکھا ہے اور وہ اعلانیہ گناہ کرتا ہے۔

یعنی صرف ذاتی طور پر گنہگار اور فاسق نہیں ہے بلکہ گناہ کرتا ہے تو لوگوں کی موجودگی میں کرتا ہے؛ یعنی یہ کہ وہ معاشرے میں برائیوں کا رواج عام کرنا چاہتا ہے۔ یزیدی منطق یہ ہے کہ وہ معاشرے میں اعلانیہ نیکی اور برائی کے معیار تبدیل کرکے معاشرے پر ٹھونسنا چاہتا تھا۔ اقدار اور ناہنجاریوں کی جگہ تبدیل کرنا چاہتا تھا اور اسلامی اقدار کی توہین کررہا تھا۔ انسانی حقوق کے حوالے سے بھی وہ کسی انسان کے لئے قدر و قیمت کا قائل نہیں تھا۔ جبکہ "ایک انسان کی جان اللہ کا حریم ہے۔

ابوعبداللہ علیہ السلام اپنی بات جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں: کیا تم مجھ سے اس کے لئے بیعت مانگتے ہو؟ نہ صرف میں بلکہ میری طرح کا کوئی شخص بھی اس جیسے کی بیعت نہیں کرے گا۔ حتی اگر میں حسین بھی نہ ہوتا اور ایسے خاندان کا چشم و چراغ بھی نہ ہوتا پھر بھی اس جیسے کی بیعت نہ کرتا؛ اور مجھ جیسے کو اس جیسے کی بیعت نہیں کرنی چاہئے۔ "مثلی لایبایع مثله"۔ (5)

یعنی یہ جو بحث ہوتی رہی ہے کہ "حسین اور یزید کا جھگڑا ذاتی جھگڑا تھا" یہ بحث اب ختم ہوئی۔ یعنی یہ کہ یہ مسئلہ کربلا اور عاشورا تک محدود نہیں ہے۔ یہ جو امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:

"کل یوم عاشورا و کل ارض کربلا = ہر روز عاشورا ہے اور ہر زمیں کربلا ہے" یعنی ہر جگہ اور ہمیشہ "مثلی لایبایع مثله" (مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کرے گا) یعنی وہ لوگ جو اخلاقی طور پر فاسد اور برائی میں گھرے ہوئے ہیں اور برائی کو رائج کرکے اجتماعیت اور سماجیت دینا چاہتے ہیں اور اللہ کے حقوق اور حدود کے پابند نہیں ہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے (ناقابل قبول ہیں اور) ایسے لوگوں ایسی جماعتوں اور ایسی سوچ رکھنے والوں کی حکومت غیر قانونی اور نامشروع (Illegitimate) ہے اور انہیں حاکمیت کا حق حاصل نہیں ہے۔

امام علیہ السلام نے ایک مقام پر فرمایا: "اللهم‌ انک‌ تعلم‌ انه‌ لم‌ یکن‌ ما کان‌ منّا تنافساً فی‌ سلطان‌ و لا التماساً من‌ فضول‌الحطام‌ و لکن‌ لنری‌ المعالم‌ من‌ دینک‌ و نظهر الاصلاح‌ فی‌ بلادک‌ و یأمن‌ المظلومون‌ من‌عبادک‌ و یعمل‌ بفوائهنک‌ و سننک‌ و احکامک‌" (6)

خداوندا! تو جانتا ہے کہ جو کچھ ہم سے سرزد ہوا اور سرزد ہوگا اقتدار کے جھگڑے کی بنیاد پر نہ تھا اور نہ ہوگا۔ ہماری حرکت (یا تحریک) کی بنیاد حکومت نہیں تھی اور نہ ہوگی۔ خداوندا! تو جانتا ہے کہ ہم نے جو احتجاج کیا اور جو صدا اٹھائی اور جس جدوجہد اور جنگ کا ہم نے آغاز کیا جبکہ ہم اس کے انجام سے بھی واقف ہیں، اور جانتے ہیں کہ تو ہمیں مقتول اور ہمارے خاندان کو اسیر دیکھنا چاہتا ہے؛ چنانچہ جب ہم نے اس حرکت کا آغاز کیا تو ہم دنیا میں سے اضافی حصے کے خواہاں نہیں تھے؛ ہم اقتدار، دولت و ثروت اور شہرت کے خواہاں تھے اور نہ ہونگے۔ (7) ہم نے چاہا کہ "حق اور باطل کے پرچم پہچان لئے جائیں" تا کہ کل کلاں کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہم نہیں جانتے تھے کہ حق کیا اور باطل کیا ہے؟ اور کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ "ہم سمجھ رہے تھے کہ حق وہی ہے جو معاویہ اور یزید کہہ رہے تھے"۔

امام حسین علیہ السلام فرمارہے ہیں کہ: "میں قتل ہورہا ہوں تا کہ تم سمجھ سکو کہ اسلام وہ نہیں ہے جو یہ کہتے ہیں"۔ آپ (ع) در حقیقت فرمارہے تھی کہ:

ہم اخلاقی، انتظامی اور حکومتی برائیوں اور بے راہرویوں کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں اور اعلانیہ جدوجہد کررہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ تمام سرزمینوں میں تمام مظلومین کو ان کا حق ملے اور کمزور طبقات، طاقتوں کے پاؤں تلے نہ روندے جائیں۔ سب کو اپنے حقوق کو یقینی طور پر مل جائیں [اور انسانوں کو سماجی اور قانونی تحفظ حاصل ہو]۔

ایک موقع پر آپ (ع) سے منقول ہے کہ آپ (ع) نے اہل کوفہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "فلَعمری ما الامام الا العامل بالكتاب، والاخذ بالقسط، والدائن بالحق، والحابس نفسه على ذات الله"۔ (8)
[میری جان کی قسم! امام برحق وہ ہے جو کتاب اللہ پر عمل کرے، قسط و عدل کی راہ پر گامزن ہو، حق کی پیروی کرے اور اپنی ہستی کو ذات الہی اور اللہ کے احکام کی تعمیل کرنے اور کرانے کے لئے وقف کردے]۔
[یعنی] میری جان کی قسم! کہ میں کتاب اللہ پر عمل کرنے والا ہوں؛ جانتے ہو کن لوگوں کو امامت اور حکومت کا حق حاصل ہے؟ صرف ان لوگوں کو بنی نوع انسان پر حکومت کرنے کا حق حاصل ہے جو خدا کے قوانین کے مطابق حکومت کریں، عدل الہی کو ملحوظ رکھیں، اور سماجی قسط و عدل کو نافذ کریں، کوشش کریں کہ معاشرے کے تمام طبقوں کو ان کے حقوق ملیں، اپنے فرائض پر عمل کریں اور حق کے بغیر کسی اور چیز کی دعوت نہ دیں۔ معیار صرف اور صرف حق ہو۔ صرف ان لوگوں کو حاکمیت کا حق حاصل ہے جو اپنے آپ کو خدا کے لئے وقف کریں اور خدا کے سوا کسی اور شخص یا چیز کے لئے نہ بولیں، اور کوئی کام سرانجام نہ دیں؛ ان لوگوں کو حاکمیت کا حق حاصل ہے ان کے سوا کسی کو بھی بنی نوع انسان پر حکمرانی کا حق حاصل نہیں ہے۔ کتاب خدا پر عمل اور سماجی عدل کا نفاذ ہو اور تعلیمی و ثقافتی اور تبلیغی و ابلاغی امور کی دعوت بھی حق کی جانب دعوت ہو؛ حکام ایسے افراد ہوں جو اپنے آپ کو راہ خدا کے لئے وقف کریں اور اپنی ذات کے لئے کوئی بھی کام نہ کریں؛ حسینی حکومت یہی ہے۔
کسی نے امام حسین (ع) سے کہا: یہ لوگ (اموی) آپ کو نیست و نابود کردیں گے!
امام علیہ السلام نے فرمایا: ، "ليس شأني شأن من يخاف الموت ما اهون الموت علی سبیل نیل العزّ و احیاء الحقّ" (9) میری شان اس شخص کی مانند نہیں ہے جو موت سے خوفزدہ ہوتا ہے۔ موت ہماری نظر میں اس موت جیسی نہیں ہے جو تمہاری نظر میں ہے۔ انسانی عزت و شرف اور حق و حقیقت کے احیاء کی راہ میں موت کتنی شیریں ہے۔ یہ ہے انتظام، حکمرانی، تربیت اور حکومت کے بارے میں اہل بیت (ع) کا نظریہ۔
سیاسیات میں کبھی کبھار پبش آتا ہے کہ جب آپ سیاسی قانونیت (Political Legitimacy) کی بات کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ "دینی اور اخلاقی قانونی جواز کی بات نہ کریں! یعنی یہ کہ یہاں عمرانیاتی اور سیاسی مشروعیت (قانونی جواز) (Sociological & Political Legitimacy) کی بات ہورہی ہے"۔ یعنی یہ کہ یہاں صرف قوتِ حاکمیت (Might of Governance) کے بارے میں بات ہونی چاہئے حق حاکمیت (Right of Governance) کے بارے میں بات نہیں ہونی چاہئے۔ یہاں دو نگاہیں اور دو نظریات ہیں۔
یہ صرف امام حسین علیہ السلام کے زمانے تک محدود نہیں تھا جب اموی مشینری کا نظریہ یہ تھا کہ حق حاکمیت اور الہی مشروعیت کی بات نہیں ہونی چاہئے اور حکمرانی کے لئے اخلاقی اور فلسفی یعنی دینی دلیل نہیں لائی جانی چاہئے۔ [آج بھی ولایت اہل بیت (ع) کے مخالفین کا یہی نظریہ ہے]۔
اہل بیت (ع) سے کہا گیا: یہ درست نہیں ہے کہ نبوت اور خلافت دونوں آپ کے خاندان تک ہی محدود ہو؛ نبوت آپ کے پاس تھی خلافت اور امارت بھی ہمارے لئے ہے۔ ایک حصہ آپ کا اور ایک حصہ ہمارا۔ بعض لوگوں نے اس مسئلے کو اس نگاہ سے دیکھا۔ [وہ اس مسئلے کو الہی سطح سے گرا کر ‌زمینی سطح پر لانا چاہتے تھے]۔
جبکہ اہل بیت (ع) کا کہنا تھا کہ "تم حکومت اور خلافت کا مسئلہ نبوت کے مسئلے سے الگ نہیں کرسکتی"۔ تم سیاسی مشروعیت (قانونیت) کو دینی مشروعیت یعنی حقانیت سے جدا نہیں کرسکتے اور تمہیں ایسا کرنا بھی نہیں چاہئے۔ کیونکہ یہ ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے ہیں۔
ابتداء میں ہمیں مشروعیت اور قانونیت کی تکوینی اور کیہانی بنیادوں (Cosmic Basis) کو اخلاقی، فلسفی اور دینی حوالے سے حل کرنا چاہئے اور اس کے بعد ہی اعتباری (*) مسائل [(*)، اور قراردادی مسائل، کنونشنز، پروٹوکولز، شہریوں کے حق اطاعت، کی باری آئے گی۔ یہ سب اعتباری (*) (اور غیر ذاتی) حقوق ہیں جنہیں ایک حقیقی اور ذاتی حق کے اوپر استوار ہونا چاہئے۔
اسی وقت بھی اس مسئلے کے اوپر تنازعہ جاری ہے۔ دنیا کی سب سے گاڑھی اور سنگین ترین آمریتوں سے لے کر نازک ترین اور رقیق ترین جمہوریتوں تک کی طرف سے اس سوال کا منفی جواب دیا جارہا ہے اور اس اصول کو قابل قبول نہیں سمجھا جاتا۔ یا اس سوال کا منفی جواب دیتے ہیں؛ یا اس کا جواب دیتے ہی نہیں یا پھر اسے گول کردیتے ہیں؛ "سکوت کی سازش"۔
سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی مشروعیت کو بنیادی، فلسفی اور اخلاقی مشروعیت سے علیحدہ کیا جاسکتا ہے؟
یعنی کیا حق حاکمیت کو مسئلہ حقانیت کے اصول سے الگ کیا جاسکتا ہے؟
ہم کہتے ہیں کہ الگ نہیں کیا جاسکتا۔
تمام یزیدی آمریتوں کا کہنا تھا کہ ایسا ہوسکتا ہے اور تمام جدید سیکولر مکاتب اور علمانی حکومتیں بھی کہتی ہیں کہ ایسا ہوسکتا ہے۔
پوری تاریخ کے دوران اقتدار کے سلسلے میں منفعت طلبانہ سوچ اور مصلحت پسندانہ (Pragmatic) سوچ دینی سوچ پر غالب چلی آرہی ہے اور اس وقت بھی یہی حال ہے۔ ان کی اکثریت ہے۔ دنیا میں بھی ان کی اکثریت ہے اور آکادمیک و جامعاتی مسائل میں بھی یہی سوچ غالب ہے اور اس سوچ کے حامیوں کی اکثریت ہے۔ قدیم زمانے میں بھی یہ مسئلہ تھا اور جدید زمانے میں بھی ہے۔
میں صرف اس لئے کہ کسی کو مورد الزام نہ ٹہراؤں بعض تعبیرات آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جو بعینہ مغربی سیاسیات کے متون و مآخذ میں موجود ہیں حتی کہ ہمارے اپنے ملک [اور دیگر اسلامی ممالک] میں بھی پڑھائے جاتے ہیں۔ جب وہ حکومت (گورنمنٹ) کی بات کرتے ہیں تو گورنمنٹ کا مساوی لفظ یا ہم معنی (Equal) کلمہ جو وہ لاتے وہ ہے "دوسروں کو کنٹرول کرنا" یعنی وہ ادارہ جو دوسروں کو کنٹرول کرتا اور قابو میں رکھتا ہے۔
حکومت اور حاکمیت ہے کیا؟ سیاسیات (P.Sciences) میں حکومت کی تعریف یہ ہے کہ حکمران اقلیت کیونکر محکوم اکثریت کو کنٹرول کرے گی؟ پوری دنیا میں یہی صورت حال ہے۔ کیونکہ پوری دنیا میں حکام کی تعداد بہت کم ہے مثلاً کئی ہزار ایسے افراد ہیں جو ممالک پر حکومت کررہے ہیں۔ دنیا میں مرسوم سیاسیات کی کتابوں میں کہا گیا ہے کہ "جدید علم سیاست سیاسی اقلیت کے ذریعے اکثریت کو کنٹرول کرنی کا فن ہی"۔ یہ ان کا پورا مسئلہ ہے۔ بات کنٹرول کرنی کی ہے۔ یہ علم سیاست اقتدار کی تحفظ اور اس کی توسیع و فروغ کے لئے مختلف قسم کی وسائل اور مشینریوں سے بحث کرتا ہے۔
مادی نگاہ میں "سیاست" کا مطلب حصول اقتدار کا فن اقتدار کی تحفظ کا فن اور طاقت برہانی کا فن۔
امام حسین علیہ السلام اور اسلام کی نگاہ میں سیاست کنٹرول سے شروع نہیں ہوا کرتی۔ مسئلہ تکوینی حقیقت اور حق و باطل سے شروع ہوتا ہے؛ حقانیت کے مسئلے کے بعد بات یہاں تک پہنچتی ہے کہ "کن لوگوں کو حاکمیت کا حق پہنچتا ہے اور کیوں؟ اس سوال کا جواب دینا پڑے گا اور اس کے بعد ہی آپ تیسرے زینے تک پہنچتے ہیں جہاں حاکمیت کے کے  طرز عمل (Mechanism) اور سماج کو کنٹرول کرنے کی باری آتی ہے۔ جب ابتدائی مرحلوں سے گذر کر اور سوالات کا جواب دے کر تیسرے مرحلے میں پہنچتے ہیں تو آپ دیکھتے ہیں کہ یہ میکینزم اور یہ کنٹرول مقید اور مشروط ہونا چاہئے ان دو جوابات پر جو آپ پہلے دو سوالوں کو فراہم کرتے ہیں۔ یعنی یہ کہ میکینزم اور کنٹرول فلسفی، قانونی اور اخلاقی اور شرعی و دینی جواب سے مشروط ہونا چاہئے۔
یاد رکھیں کہ اسلامی منطق اور اسلام کے سیاسی فلسفے میں "اقتدار کو کنٹرول کرنے کے لئے ہر قسم کے میکینزم سے استفادہ کرنے کی اجازت نہیں ہے"۔
امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا: یہی امور جو معاویہ انجام دیتا رہتا ہے میں اس سے دس گنا زیادہ جانتا اور انجام دے سکتا ہوں؛ میں خوب جانتا ہوں کہ اس کو کس طرح گرادوں لیکن کیا کروں کہ میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں! ہمارا ہدف "ہر قیمت پر اقتدار کا حصول نہیں ہے"۔
اس زمانے میں مسلمانوں کے درمیان افواہ اڑی تھی اور زبانزد خاص و عام ہوئی تھی کہ "علی علیہ السلام اچھے ہیں لیکن معاویہ زیادہ سیاسی ہے!"۔
امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: میں معاویہ سے کئی گنا زیادہ سیاسی ہوں؛ (10) مگر ہم سیاست کو شریعت اور اخلاق سے مشروط سمجھتے ہیں مطلق اور غیر مشروط سیاست ہمارا ہدف نہیں ہے۔ ہمارے ہاں معیشت و اقتصاد اخلاق و شریعت سے مشروط ہو تو قابل قبول ہے۔
وہ [علمانی جمہوریتیں اور آمریتوں کے حامی] اس شرط کو قابل قبول نہیں سمجھتے ہیں؛ وہ سیاست کو دین سے الگ کردیتے ہیں، معاشیات کو بھی اخلاق سے الگ قرار دیتے ہیں؛ وہ غیر مشروط اور مطلق سیاست کے حامی ہیں؛ انہیں غیر مشروط آزادی حاصل ہے لیکن ہمیں ایسی آزادی حاصل نہیں ہے۔ ہمارے لئے انسانیت اقتدار اور دولت و ثروت پر مقدم ہے۔ لہذا وہ کہتے ہیں کہ طاقت، دولت، سیاست، اقتصاد اور انسانی حقوق دین اور اخلاق سے جدا ہیں۔
ہمیں لڑنا ہے لیکن بندھے ہاتھوں سے لڑنا پڑے گا کیونکہ ہمارے اہداف الہی اور انسانی ہیں وہ کھلے ہاتھوں سے لڑتے ہیں کیونکہ ان کا پورا ہدف اسی دنیا تک محدود ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کسی نقطے پر ہم شکست کھائیں تو وہ کہیں گے کہ "ان لوگوں نے شکست کھائی ہے چنانچہ وہی لوگ درست ہیں جو کامیاب ہوگئے ہیں! بعض لوگوں کا خیال ہے کہ "جب بھی ہم حق و حقیقت کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ہمیں شکست ہوتی ہے اور ہم ناکام ہوجاتے ہیں" لیکن ایسا نہیں ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ شکست اور فتح بھی جدوجہد کا فلسفہ مدنظر رکھ کر ہی با معنی ہوجاتی ہے، اگر آپ کے ہاں جدوجہد کا فلسفہ یہی ہے کہ کسی بھی قیمت پر اقتدار اور دولت پر قبضہ کیا جائے تو اس فلسفے کے مطابق شکست سے مراد اقتدار اور دولت کو کھودینا اور فتح یعنی طاقت و اقتدار اور دولت و سرمایہ حاصل کرنا ہے۔
چنانچہ اگر جدوجہد کا فلسفہ اللہ کی رضا و خوشنودی اور الہی و انسانی نشو و نما اور ارتقاء اور فرائض پر عمل اور احیائے حق کے لئے کوشش ہے تو اس پر محض مادی شکست یا مادی فتح اثرانداز نہیں ہوسکتی۔ بلکہ ـ خواہ فتح ہو خواہ شکست ہو ـ جتنی بھی کوشش آپ نے کی ہے اتنی ہی آپ صاحب حریت ہوگئے ہیں اور آپ نے دوسروں کو بھی پہلے سے زیادہ حریت عطا کی ہے یعنی آپ نے فتح حاصل کی ہے؛ چاہے آپ سیدالشہداء علیہ السلام کی مانندقتل کئے جائیں یا علی (ع) کی طرح حکومت تشکیل دیں، آپ فاتح ہیں۔ کیونکہ شہادت اور حکومت کا قیام دونوں احیائے حق کے لئے ہیں ورنہ نہ تو حکومت کا قیام ہدف و مقصد ہے اور نہ ہی شہادت بلکہ یہ دونوں وسیلے ہیں احیائے حق کے لئے۔
حکومت اور حکومت و حاکمیت کی روش کی محض مادی تعریف کے مطابق Government اس رسمی اور تدریجی عمل کا نام ہے جس کے ذریعے اقتدار اور طاقت کو نظم و باقاعدگی دی جاتی ہیں اور اسے آرگنائز اور ریگولرائز کیا جاتا ہے؛ گورنمنٹ حکمرانی کرنے کا ادارہ اور اقتدار کے نظام کے لئے سلسلہ مراتب اور ڈسپلن (یا Control Hierarchy) ہے؛ اس نظام کے حامیوں کے نزدیک مشروعیت (legitimacy)  کے معنی بھی یہی ہیں۔
سیاسی علوم (Political Sciences) میں مشروعیت یا قانونی جواز کی تعریف کیا ہے؟

+ نوشته شده توسط khial hussain در Fri 1 Apr 2011 و ساعت 5:7 PM |

تہذیب و ثقافت ( دوسرا حصہ )

ثقافتی یلغار یہ ہے کہ کوئی گروہ یا سسٹم اپنے سیاسی مقاصد کے لئے کسی قوم کو اسیر بنا لے۔ اس کی ثقافتی بنیادوں کو نشانہ بنائے۔ یہ سسٹم اس قوم میں کچھ نئی چیزیں اور افکار متعارف کراتا ہے۔ پھر انہی افکار و نظریات اور طرز عمل کو مستحکم بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی کو ثقافتی یلغار کہتے ہیں۔ ثقافتی تعاون اور لین دین کا مقصد موجودہ ثقافت کو مستحکم اور کامل بنانا ہوتا ہے۔ جبکہ ثقافتی یلغار میں ایک ثقافت کو نشانہ بناکر مٹا دیا جاتا ہے۔ ثقافتی لین دین میں جو قوم کسی دوسری قوم سے کچھ حاصل کرتی اور لیتی ہے، وہ دوسری قوم کی ثقافت کے مختلف پہلوؤں پر غور کرتی ہے، اس کی خوبیوں کی نشاندہی کرتی ہے اور پھر انہی خوبیوں کو اپنانے کی کوشش کرتی ہے مثال کے طور پر علم و دانش وغیرہ۔

ثقافتی لین دین میں انتخاب کا اختیار ہمارے پاس ہوتا ہے جبکہ ثقافتی یلغار میں انتخاب دشمن کرتا ہے۔ ثقافتی لین دین اس لئے ہوتا ہے کہ خود کو کامل بنایا جائے یعنی اپنی قومی ثقافت کو کامل بنایا جائے جبکہ ثقافتی یلغار اس لئے ہوتی ہے کہ ایک ملک کی ثقافت کا خاتمہ کر دیا جائے۔ ثقافتی لین دین اور تعاون اچھی چیز ہے لیکن ثقافتی یلغار بہت مذموم شیء ہے۔ ثقافتی تعاون، دو مضبوط ثقافتوں میں انجام پا سکتا ہے لیکن ثقافتی یلغار ایک طاقتور قوم کمزور قوم پر کرتی ہے۔

مغربی ثقافت اچھائیوں اور برائيوں کا مجموعہ ہے۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مغربی ثقافت میں صرف برائياں ہی برائياں ہیں۔ جی نہیں، مغربی ثقافت بھی مشرقی ثقافتوں کی مانند خوبیوں اور عیوب کا مجموعہ ہے۔ ایک دانشمند اور علم دوست قوم اور صاحبان عقل و خرد دوسروں کی خوبیاں اپنی ثقافت میں شامل کر لیتے ہیں لیکن ان کی برائیوں سے پرہیز کرتے ہیں۔

اسلامی ثقافت ایک معیاری ثقافت ہے، جو ایک معاشرے کے لئے اور انسانوں کے کسی بھی گروہ اور جماعت کے لئے اعلی ترین اقدار و معیارات کی حامل ہے۔ یہ کسی بھی معاشرے کو سربلند و سرفراز اور عزیز و با وقار بنا کر ترقی و کامرانی کی راہ پر لگا سکتی ہے۔ امت مسلمہ مختلف قوموں، نسلوں اور مکاتب فکر سے تشکیل پائی ہے۔ قدیمی ترین تہذیبیں اور وسیع ثقافتیں انہی علاقوں میں پھلی پھولی اور فروغ پائی ہیں جہاں آج مسلمان آباد ہیں۔ یہ تنوع، یہ رنگا رنگ انداز، کرہ زمین کے حساس علاقوں کی مالکیت امت مسلمہ کی اہم خصوصیات ہیں۔ تاریخ و ثقافت کی مشترکہ میراث اس امت کی طاقت میں اور بھی اضافہ کر سکتی ہے۔

ختم شد

بشکریہ ولایت ڈاٹ کام

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 4:43 PM |

مغربی دنیا کے دلفریب نعر ے

مرگ بر آمریکہ

حقوق بشر کا ڈھنڈورا پیٹنا ،جمہوریت کیلئے شور مچانا اور آزادي کا راگ الاپنا، دنیا ميں کون ہے جو ان باتوں پر یقین کرے گا ، یہ نعرے آج بے اثر ہو چکے ہيں۔ حقوق بشر کي حمايت و طرفداري یا دنیا ميں جمہوریت کا علمدار بننا ،وہ نعرے ہيں کہ جن کا اظہار امریکي صدر اور اسي جیسے دوسرے ہر وقت اپني تقریروں ميں کر تے رہتے ہيں ليکن آج کوئي ان کي باتوں پر یقين کر نے والا نہيں ۔انہوں نے دنیا کے بد ترین ڈکٹیٹروں (آمروں) کا اتنا بھر پو ر ساتھ  دیا اور اپنے شيطاني مقاصد کو عملي جامہ پہنانے کي خاطر ان کي اتني مدد کي ہے کہ آج امریکہ کا چہرہ پوري دنیا کیلئے بے نقاب ہوچکا ہے ۔صرف ہم ہي نہيں (ہم تو کئي سالوں سے ان حقائق سے آگاہ ہيں ) بلکہ پوري دنیا کیلئے امریکي نعرے اپنا اثر کھو چکے ہيں ۔ امریکہ کي منہ زوري، دوسرے ملکوں پر تسلط کي خواہش (اور دھونس و دھمکي کي سياست ) اس بات کا باعث بني کہ یورپي ممالک بعض مسائل ميں امریکہ کے مقابل صف آرا ہو گئے کیونکہ وہ بھي امریکي نیت بھانپ چکے ہيں اور( ايک بڑے) خطرے کا احساس کر رہے ہيں ۔

 

ولي امر مسلمین حضرت آیت اللہ سید علي خامنہ اي  کے خطابات سے اقتباس

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 4:42 PM |

مینار پاکستان

مینار پاکستان

پس منظر

مینار پاکستان لاہور میں عین اسی جگہ تعمیر کیا گیا ہے جہاں مارچ 1940ء میں قائد اعظم محمد علی جناح کی صدارت میں منعقدہ آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں تاریخی قراردار پاکستان منظور ہوئی۔ اس کو یادگار پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ اس جگہ کو اس وقت منٹو پارک کہتے تھے جو کہ سلنطت برطانیہ کا حصہ تھی۔ آج کل اس پارک کو اقبال پارک کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔

 

سفارشاتی کمیٹی

اس کی تعمیر کے سلسلہ میں 1960ء میں اس وقت کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اور اسی کمیٹی کی منظور شدہ شفارشات اور ڈیزائن پر اس مینار کی تشکیل ہوئی تھی۔ مختار مسعود بھی اس کمیٹی کے سرکردہ رکن تھے۔

 

تعمیر

اس کا ڈیزائن ترک ماہر تعمیرات مرات خان نے تیار کیا۔ تعمیر کا کام میاں عبدالخالق اینڈ کمپنی نے 23 مارچ 1960ء میں شروع کیا۔ اور 21 اکتوبر 1968ء میں اس کی تعمیر مکمل ہوئی۔ اس کی تعمیر کی کل لاگت 75 لاکھ روپے تھی۔

 

مینار کا ڈھانچہ

یہ 18 ایکڑ رقبے پر محیط ہے۔ مینار کی بلندی 196 فٹ ہے اور مینار کے اوپر جانے کے لیے 324 سیڑھیاں ہیں جبکہ اس کے علاوہ جدید لفٹ بھی نصب کی گئی ہے۔

مینار کا نچلا حصہ پھول کی پتیوں سے مشہابہت رکھتا ہے۔ اس کی سنگ مرمر کی دیواروں پر قرآن کی آیات، محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کے اقوال اور مسلمانوں کی آزادی کی مختصر تاریخ کندہ ہے۔ اس کے علاوہ قرارداد پاکستان کا مکمل متن بھی اردو اور بنگالی دونوں زبانوں میں اس کی دیواروں پر کندہ کیا گیا ہے۔

مینار پر جو خطاطی کی گئی ہے وہ حافظ محمد یوسف سدیدی، صوفی خورشید عالم، محمد صدیق الماس رقم، ابن پروین رقم اور محمد اقبال کی مرہونِ منت ہے -

 

مینار کا احاطہ

مینار پاکستان کے احاطے میں پاکستان کے قوامی قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری کا مزار بھی ہے۔

مینار پاکستان کے اردگرد خوبصورت سبزہ زار، فوارے، راہداریاں اور ایک جھیل بھی موجود ہے۔

جون 1984ء میں ایل ڈی اے نے مینار پاکستان کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 4:41 PM |

یوم آزادی کے روز

یوم آزادی کے روز

   بات سیدھی سی ہے کہ مجھے ظالم لوگ درندوں کی طرح نوچ رہے تھے، میرے گھر میں آگ لگی ہوئی تھی، میری دینی روایات پامال ہو رہی تھیں، میری عزت سرعام نیلام ہو رہی تھی، میرے گلے میں جرائم کا طوق اور کاندھوں پر الزامات کا بوجھ تھا، میں دربدر مارا مارا پھر رہا تھا، میرا کوئی وطن اور کوئی ٹھکانا نہ تھا، میرے خون سے زیادہ گائے کا خون محترم تھا، میری جان سے زیادہ مال مویشی قیمتی تھے۔ میرا جرم میرا قصور یہ تھا کہ میں اِسلام کا نام لیتا تھا اور مسلمان کہلواتا تھا، لوگ میرے دین کا مذاق اڑاتے تھے، میری عبادت گاہوں کا تقدس پامال کرتے تھے ایسے میں نظیر اکبر آبادی اقبال، حالی اور محمد علی جناح جیسے لوگ میری مدد کو اُٹھے اُنہوں نے میرے زخم سہلائے، مجھے میری منزل کا پتا بتایا، میرے حوصلوں کو بلند کیا، اُنہوں نے مجھے یقین دلایا کہ میں ہی فرزند ِ اسلام ہوں ، میں ہی معمارِ بشریت ہوں اور میں ہی اللہ کے آخری دین کا حقیقی وارث ہوں۔

 چنانچہ میں اُٹھ کھڑا ہوا، میں نے ظالموں اور غاصبوں کے خلاف اعلان بغاوت کردیا، سامراجی طاقتوں کے سامنے سینہ سپر ہو گیا، میں نے اسلام کیلئے ایک آزاد اور خودمختار ریاست کا مطالبہ کردیا، میں ایک ایسے ملک کے خواب دیکھنے لگا جہاں اسلام ہی اسلام ہو گا، جہاں مواخاتِ مدینہ جیسی مواخات ہوگی، جہاں بزمِ رسالت جیسی مساوات ہوگی، جہاں مسندِ اقتدار پر دیندار لوگ جلوہ افروز ہوں گے، جہاں عدل و انصاف کا پرچم لہرائے گا، جہاں کالے اور گورے کی تمیز نہیں ہوگی، جہاں امیر اور غریب کا فرق نہیں ہوگا، جہاں مذہب کی مذہب سے دشمنی نہیں ہوگی، جہاں انسان کا انسان سے بیر نہیں ہوگا، جہاں جیلوں میں کوئی بے گناہ نہیں ہو گا، جہاں دیہاتوں میں کوئی جاہل نہیں ہو گا، جہاں شہروں میں کوئی فتنہ نہیں ہو گا، جہاں اداروں میں کوئی کرپشن نہیں ہوگی، جہاں پولیس رشوت نہیں لے گی، جہاں فوج عوام کو گولیاں نہیں مارے گی، جہاں عزّت و شرف کا معیار تقویٰ ہو گا، جہاں مارکیٹوں میں ذخیرہ اندوزی نہیں ہوگی اور جہاں دودھ میں پانی نہیں ملایا جائے گا ۔

پاکستان کا پرچم

میرا یہ خواب ہر غاصب کو ناگوار گزرا، میرا آزادی کا نعرہ ہر ظالم کو برا لگا، چنانچہ مجھے سامراجی شکنجوں میں کسا گیا، مجھے ٹارچر سیلوں میں زد و کوب کیا گیا، مجھے گلیوں اور بازاروں میں رسواء کیا گیا، مجھے مقدس عبادت گاہوں کے اندر خون میں نہلایا گیا، مجھے عزّت کی ضربیں لگائی گئیں، مجھے غیرت کے زخم لگائے گئے لیکن میں مسلسل اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہی رہا، میری زبان پر صرف ایک ہی نعرہ تھا،

 ”لے کے رہیں گے پاکستان ۔ بن کے رہے گا پاکستان“

 اور میرے دل میں صرف ایک ہی عشق موجزن تھا کہ

”پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ“

   میرے شہر جلے، میری عزّت و ناموس داغدار ہوئی، میری جائیدادیں تباہ ہوئیں، مجھے ہجرتیں کرنی پڑیں، میں نے آگ اور خون کا دریا پار کیا اور تب جا کر مجھے میرا پیارا وطن پاکستان نصیب ہوا، تب جا کر  14 اگست1947ء کا وہ حسین سورج طلوع  ہوا کہ جس نے میری سسکیوں کو مسرتوں میں بدل دیا، جس نے میری آہوں کو خوشیوں میں تبدیل کردیا، جس نے میرے اشکوں کو نغموں میں ڈھال دیا، جس نے میرے خوابوں کو حقیقت میں اتار دیا، جس نے میرے جذبوں کو سچ کر دکھایا، جس نے میرے دعووں کو عملی کر دکھایا اب میں بہت خوش تھا اب میں اپنے زخموں کو بھول چکا تھا، اب میں ایک آزاد ملک کا آزاد شہری تھا، اب میں ایک باوقار قوم کا عزت مند فرت تھا، اب میں فخر اور اعتماد کے ساتھ سر اُٹھا کر چلتا تھا، لیکن لیکن مجھے یہ کیا معلوم تھا کہ اتنے دکھ سہنے کے بعد ملنے والی یہ خوشی بھی عارضی ہوگی مجھے کیا معلوم تھا کہ سامراجی پٹّھو اِس آزاد ملک پر بھی حکومت کریں گے، مجھے کہاں خبر تھی کہ اب مجھے غیر نہیں اپنے لوٹیں گے، اب مجھے دشمن نہیں دوست زخم لگائیں گے ، اب میری عبادت گاہوں کے تقدّس کو سکھ نہیں ”نام نہاد مذھب کے ٹھیکیدار“ پامال کریں گے، اب میرے قتل کے حکم نامے پر انگریز سرکار نہیں، اپنے لوگ دستخط کیا کرے گے، اب میں  ہندوستان کے ٹارچر سیلوں میں نہیں آزاد پاکستان کے اذیّت کدوں میں کچلا جاوں گا، اب مجھے ہندو سینا نہیں بلکہ مسلمان  اغواء کریں گے۔  

   آئیے! اس مرتبہ پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر ہم سب مل کر بیٹھیں مل کر سوچیں کہ وہ ”دو قومی نظریہ“ کہاں گیا جو ہماری اساس اور بنیاد تھا؟! وہ مائیں کہاں مر گئیں جو اقبال اور محمد علی جناح جیسے بیٹوں کو جنم دیتی تھیں؟! وہ سیاست دان کہاں کھو گئے جو پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کا نعرہ لگاتے تھے؟! وہ ادیب کہاں چلے گئے جو اکبر الہ آبادی کی طرح قوم کا درد رکھتے تھے؟! اسکولوں ، کالجز، یونیورسٹیز اور دینی مدارس کے وہ طالب علم اور استاد کہاں چلے گئے جنہوں نے پاکستان کی آزادی، خود مختاری اورنظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنی تھی؟! 

   اس سال یوم آزادی کے روز میں بھی سوچتا ہوں اور آپ بھی سوچئے! ہم سب مل کر اسلام کے نام پر دہشت گردی، ہدیے کے نام پر رشوت، تفریح کے نام پر فحاشی، امن کے نام پر قتل و غارت، تعلیم کے نام پر جہالت اور جمہوریت کے نام پر آمریت کو کیسے روک سکتے ہیں آئیے مل کر دودھ میں پانی ملانے والوں کو روکیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔

تحریر: نذر حافی  ( شیعہ نیوز سینٹر )

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 4:38 PM |

مطالبہ پاکستان اور عظیم رہبران

علامه اقبال

اِس اَمر پر ضرور غور و فکر کرنا چاہئیے کہ اُن کی اِس جسارت کے باعث ہماری نئی نسل کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت کس حد تک متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ ہمارا ازلی دشمن نہ تو مسئلہ کشمیر حل کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی ابھی تک خطے میں پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر عملدرامد کیلئے تیار ہوا ہے بلکہ بدستور اکھنڈ بھارت کے منصوبوں کو آگے بڑھانے میں مصروف ہے ۔ سول سوسائیٹی میں یہی سوالات گردش کر رہے ہیں کہ کیا سیاق و سباق کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے محض مفروضوں اور چند بھارتی و مغربی تھنک ٹینکس کی ڈِس انفارمیشن کی بنیاد پر بانیانِ پاکستان کی تمام تر well documented جدوجہد پر پانی پھیر کر نئے تاریخی نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں؟ مجھے یقین ہے کہ جب تک ڈاکٹر صفدر محمود جیسے محب وطن موجود ہیں ایسا نہیں ہو سکتا ۔

 

حقیقت یہی ہے کہ مخصوص سیاسی مفادات کے حامل افراد کی جانب سے سقوط ڈھاکہ کے بعد بانیانِ پاکستان کے خلاف ناقابل فہم نظریات کو ہوا دینے کے باوجود اسلامی جمہوریہ پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی اُمنگوں کے ترجمان کے طور پر زندہ و پائندہ ہے بلکہ اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے لہذا محض جدید تحقیق کے نام پر بانیانِ پاکستان کی بے مثال خدمات کو نہ تو پس پشت ڈالا جا سکتا ہے اور نہ ہی اُن کے مقام کو کم تر کیا جا سکتا ہے ۔

جواهر لعل نهرو

یہاں میں اپنوں کی توجہ ہندوستان کے سابق وزیراعظم اور کانگریس پارٹی کے سابق صدر مرحوم جواہر لال نہرو کے ایک سیاسی تجزیہ پر مبذول کرانا چاہوں گا جسے تشریح کی ضرورت نہیں ہے ۔ اُنہوں نے اپنی کتاب " تلاشِ ہندوستان " میں جو علامہ اقبال کی وفات کے کافی عرصہ بعد 1944-45 میں احمد آباد قلعہ میں قید کے دوران لکھی گئی ،میں لکھا " مسلمان عوام اور متوسط طبقے کی ذہنیت کی تشکیل واقعات نے کی تھی لیکن موخر الذکر طبقے خصوصاً نوجوانوں کو متاثر کرنے میں سر محمد اقبال کا اہم حصہ ہے ۔ ابتدا میں اقبال نے اُردو میں پُرزور قومی نظمیں لکھیں جو بہت مقبول ہوئیں ۔

 جنگ بلقان کے دوران اُنہوں نے اسلامی موضوع اختیار کئے ۔ وہ اپنے زمانے کے حالات اور مسلمانوں کے جذبات سے متاثر ہوئے اور خود اُنہوں نے اُن کے جذبات پر اثر ڈالا اور اُنہیں اور شدید تر کر دیا لیکن وہ عوام کی قیادت نہیں کر سکتے تھے کیونکہ وہ ایک عالم شاعر اور فلسفی تھے ۔ اُنہوں نے اپنی اُردو اور فارسی شاعری کے ذریعے تعلیم یافتہ مسلمانوں کیلئے ایک فلسفیانہ نظریہ مہیا کر دیا اور اُن میں تفریقی رجحان پیدا کر دیا ۔ یوں تو اُن کی ہردلعزیزی اُن کے کمال شاعری کی وجہ سے تھی لیکن اُس کا ایک بڑا سبب یہ بھی تھا کہ وہ مسلم ذہن کی اُس ضرورت کو پورا کر رہے تھے کہ اُسے اپنے لئے ایک لنگر مل جائے ۔ آزادی کی جدوجہد میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے اہم حصہ لیا تھا لیکن ہندوستان کی اِس قومی تحریک میں ہندوئوں کا غلبہ تھا اور اِس پر اُن کا ہی رنگ چھایا ہوا تھا ، اِس لئے مسلم ذہن میں ایک کشمکش پیدا ہوئی اور بہتوں نے تفریق کا راستہ اختیار کیا جس کی طرف اقبال کے فلسفے اور شاعری نے اُن کی رہنمائی کی تھی " ۔ علامہ اقبال کی وفات سے چند ماہ قبل جواہر لال اقبال کی بیماری پر عیادت کیلئے اقبال سے ملاقات کیلئے آئے جس کا تذکرہ اپنی کتاب میں کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں " میرے رخصت ہونے سے ذرا دیر پہلے اُنہوں نے مجھ سے فرمایا کہ تم میں اور جناح میں کیا چیز مشترک ہے ؟

محمد علی جناح

 وہ (جناح) ایک سیاست دان ہیں اور تم (نہرو) ایک محب وطن ! مجھے اُمید ہے کہ مجھ میں اور جناح میں اب بھی بہت کچھ مشترک ہو گا لیکن محب وطن ہونا اب کوئی قابل تعریف چیز نہیں سمجھی جاتی ... ہاں اقبال کا یہ خیال یقینا درست تھا کہ میں کچھ زیادہ سیاست دان نہیں ہوں" ۔ جواہر لال کے تجزیہ کے بعد اِس اَمر کو اچھی طرح جان لینا چاہئیے کہ علامہ اقبال بیماری کے باوجود قائداعظم کی سیاسی بصیرت کو محسوس کرتے ہوئے اپنے تاریخی خطوط کے ذریعے آخری دم تک مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ وطن کی جدوجہد میں دامے درمے سخنے شامل رہے۔ اُنہوں نے اپنی وفات سے دس ماہ قبل 21 جون 1937 میں قائداعظم کے نام جو خط لکھا ، اُس کے مندرجات سے ہی علامہ اقبال کی حصول پاکستان کی تحریک سے دلی وابستگی کی دلیل مل جاتی ہے ۔

 

اُنہوں نے قائداعظم کو اپنے مکتوب میں لکھا " مسلم صوبہ جات کی علیحدہ فیڈریشن ، واحد ذریعہ ہے ، ہندوستان میں امن و امان کے استحکام کا اور مسلمانوں کو غیر مسلموں کے غلبہ سے بچانے کا ، شمال مغربی اوربنگالی مسلمانوں کو کیوں نہ حقِ استصواب رائے کا مستحق جانا جائے جس طرح ہندوستان کے اندر (ہندوئوں) یا باہر دوسری قوموں کو دئیے جانے کا کہا جاتا ہے" ۔ یہی وجہ ہے کہ قائداعظم نے لاہور میں 23 مارچ 1940 کی قرارداد پاکستان کی منظوری کے بعد یہ کہنے سے گریز نہیں کیا کہ آج علامہ اقبال کا خواب پورا ہوا ہے کیونکہ اگر اقبال آج زندہ ہوتے تو بہت خوش ہوتے کہ آج ہم نے وہی کچھ کیا ہے جو وہ چاہتے تھے ۔ تو پھر علامہ اقبال کے مطالبہ پاکستان سے دستبرداری کا مفہوم کس کے مفادات کو پورا کرنے کیلئے نکالا جاتا ہے ؟

 

اندریں حالات نظریہء پاکستان اور تحریک پاکستان کے حوالے سے قائداعظم اور علامہ اقبال کی ہرزہ سرائی کرنے والے اکا بر ین سے میری یہی درخواست ہے کہ وہ بانیان پاکستان کی سیاسی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے ا پنی غلطیوں کا احساس کریں اور بانیان پاکستان کی قبروں پر جا کر فاتحہ خوانی کریں۔ مجلس احرار نے قائداعظم کے اصولی موقف کی ہمیشہ ہی مخالفت کی تھی لیکن امیر شریعت سید عطا شاہ بخاری نے پاکستان بننے کے بعد لاہور میں مجلس احرار کے ایک جلسہ عام میں یہ کہہ کر اپنی جماعت کو توڑنے کا اعلان کیا کہ متحدہ ہندوستان کی حمایت اُن کی غلطی تھی ۔ قائداعظم کی وفات پر اُنہوں نے کہا کہ قائداعظم ایک عہد آفریں شخصیت تھے، اسلامی تاریخ میں اُنہوں نے بیش بہا اضافہ کیا ہے جو پاکستان کے نام سے رہتی دنیا تک یادگار رہے گا ۔ یقینا قائداعظم کا پاکستان آج ایک ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے اُن کے خوابوں کی تعبیر ہے ۔ میں اسٹینلے والپرٹ Stanley Wolpert کے اِن خوبصورت جملوں کیساتھ اپنے مضمون کو ختم کرتا ہو ں " Few individuals significantly alter the course of history. Fewer still modify the map of the world. Hardly anyone can be credited with creating a nation state. Mohammad Ali Jinnah did all three."

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 4:37 PM |

پاکستان قدرت کا ایک انمول عطیہ

یوم آزادی پاکستان

دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت پاکستان، 14 اگست 1947 کو معرض وجود میں آیا ۔ پاکستان کا قیام چودہویں صدی ہجری کا سب سے اہم واقعہ ہے جو علامہ محمد اقبال کے خوابوں کی تعبیر،قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت کا ثمراور لاکھوں مسلمانوں کی بارگاہِ شہادت ہے پاکستان کی بنیاد لاالہ الااللہ پر رکھی گئی تھی. انگریز اور ہندو دونوں کی یہ انتہائی کوشش تھی کہ مسلمانوں کے لئے ایک آزاد ریاست معرض وجود میں نہ آئے کیونکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر ایسا ہو گیا تو پھر اسلام کو بحیثیت دین متعارف کرانے کے لئے تجربہ گاہ میسر آ جائے گی اور یہ صورت حال غیر مسلم اقوام کو کسی صورت بھی پسند نہ تھی .یہ قائد اعظم محمد علی جناح کی خداداد بصیرت،قوت فیصلہ اور عزمِ بلند کی کرشمہ سازی تھی کہ مختصر سے وقت میں مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر تمام مسلمان جمع ہو گئے ۔

یوم آزادی پاکستان

 مسلمانانِ ہند کے اجتماعی مطالبہ کے سامنے سارے دشمنانِ اسلام کی مردہ تدبیریں ناکام ہو گئیں اور ایک حسین و جمیل اسلامی مملکت (اسلامی جمہوریہ پاکستان) نقشہ عالم پر نمودار ہو گئی۔ غلامی کی بھیانک زنجیروں کو توڑنا کوئی آسان کام نہیں اس کے لئے بڑے مضبوط ہاتھوں اور فولاد جیسے ارادے کی ضرورت ہوتی ہے آزادی کی جن معطر ہواؤں سے آج ہماری سانسیں مہک رہی ہیں ان ہواؤں میں ان شہیدوں کی خوشبو مکمل طور پر رچی ہوئی ہے جو آزادی کی راہوں پر اپنے خون کے چراغ جلا کر اجالے بکھیرتے رہے۔ یہ ملک صرف اورصرف دو قومی نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا اور اس الگ خطے کا مطالبہ محض اس لئے کیا گیا تھا کہ یہاں اسلامی آئین اور قانون کو پورے وقار کے ساتھ نافذ کیا جائے اور پھر تجربہ گاہ کی بنیاد پر اسلام کے پیغامِ امن وسلامتی کو پوری دنیا تک پہنچانے کا اہتمام کیا جائے گا اسی نظریہ کی بنیاد پر یہ ملک آج تک قائم ہے اور انشاء اللہ قیامت تک قائم رہے گا .

بشکریہ آن لائن اردو انٹرنیشنل

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 4:35 PM |

فلسطین، اقبال کی نظر میں (حصّہ دوّم)

اگرچہ عثمانی سلطنت اس دور میں اسلام کے ایک ظاہری پوست کی حامل تھی جبکہ تفرقہ سازیوں اور استعمار زدگیوں نے اس کے بعد مسلمانوں کی حالت اور بھی بدتر کردی۔ علامہ اقبال نے عالم اسلام کی پہلی اور بعد کی حالت سے متعلق اپنی پریشانی اور اضطراب کا اظہار ہر کوچہ و خیابان میں کیا ان کا کہنا تھا:

 

اقبال کو شک اس کی شرافت میں نہیں ہے
ہر ملت مظلوم کا یورپ ہے خریدار
یہ پیر کلیسا کی کرامت ہے کہ اس نے
بجلی کے چراغوں سے منور کیے افکار
جلتا ہے مگر شام و فلسطین پہ مرا دل
تدبیر سے کُھلتا نہیں یہ عقدہ دشوار
ترکان جفا پیشہ کے پنجے سے نکل کر
بیچارے ہیں تہذیب کے پھندے میں گرفتار

 

ایک اور مقام پر شاہان وقت میں سے ایک کی غداری کا گلہ کرتے ہیں کہ اس نے مغربی استعمار سے مل کر عثمانی ترکوں کے خلاف سازش کی:

 

بیچتا ہے ہاشمی ناموس دین مصطفی(ص)
خاک و خوں میں مل رہا ہے ترکمان سخت کوش
آگ ہے، اولادِ ابراہیم(ع) ہے، نمرود ہے!
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے؟

 

  اقبال نے عوام کے لیے ایجاد کیے گئے اس پرفریب نظریے کو رد کردیا کہ چونکہ یہودی کسی قدیم زمانے میں سالہا سال سرزمین فلسطین میں بود و باش رکھتے تھے اور پھر مدتوں پہلے اسے ترک کردیا اس لیے اس سرزمین پر ان کا ایک تاریخی حق ہے اور ان کو اجازت دی جانی چاہیے کہ فلسطینی مسلمانوں کی زمینوں کو خریدے بغیر ان کے مالک بن جائیں اور وہاں رہائش اختیار کرلیں۔ انہوں نے جواب میں کہا کہ اگر سابقہ ملکیت اور سکونت کسی کے لیے یہ حق ثابت کرسکتی ہے تو پھر مسلمانوں کو اندلس کی سرزمین پر حق حاکمیت اور حکومت کیوں حاصل نہیں انہیں وہاں سے بے رحمی سے نکال دیا گیا تھا جبکہ یہودیوں نے صدیوں پہلے فلسطین کو خود ترک کردیا تھا مگر مسلمانوں نے نکالے جانے سے پہلے اسپین کو ترک نہیں کیا تھا۔

 

ہے خاک فلسطین پہ یہودی کا اگر حق
ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہل عرب کا

 

 ہرچند کہ یہ موضوع آپ کے لیے نیا ہو تاہم اقبال کے اشعار اور خطوط سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ اس حکیم رہنما نے اس سازش کے واقع ہوجانے سے پہلے ہی اس کی تشخص کرلی اور اس سے بچنے کے لیے پروگرام وضع کیا تھا۔ انہوں نے اس تاریخی سازش یعنی عالم اسلام کے وسط میں ایک سرطانی غدود پیدا کرنے سے نجات حاصل کرنے کی راہ پالی تھی اور زندگی کے آخری لحظات تک اس مقصد کے لیے سرگرم رہے۔

تحریر : مرتضیٰ صاحب فصول

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 4:34 PM |

فلسطین، اقبال کی نظر میں

قدس

بادی النظر میں شاید یہ بات عجیب معلوم ہو کہ ایک ایسی شخصیت جو صہیونستی غاصب ریاست کی تشکیل سے پہلے ہی اس دنیا سے جا چکی تھی اس کے افکار، گفتار اور نوشتار نے کس حد تک اس واقعہ کی کامیاب پیش بینی کی اور اس سلسلے میں اس کی رہنمائی موجودہ دور کے لوگوں کے لیے سمت دہندہ ہے۔

     حق یہ ہے کہ علامہ اقبال نے ایک روشن خیال متعہد اور دور اندیش مصلح کے طور پر اسلامی معاشرے کی مصلحتوں کو اپنی تلاش اور جدوجہد کا مطمح نظر قرار دے رکھا تھا اوراپنے اردگرد موجود لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں وقف کررکھی تھیں۔

     دنیا اور بین الاقوامی سیاست سے متعلق اقبال کی شناخت نے معاصر مسلمانوں کے لیے راہ کی دشواریاں اور اس کی پرخطر کھائیوں اور گھاٹیوں کو واضح کردیا اور اس کے نتیجے میں ان مناسب حکمت عملیوں کو، جو ان کی عقل رسا سے ظہور پذیر ہوئیں انہوں نے اپنے گہرے عشق سے ممزوج کرکے اپنے اشعار و مکتوبات کے ذریعے دوسروں کو منتقل کیا۔

     اٹھارویں سے بیسویں صدی تک اہل مغرب کی مہم جوئی ،نفع اندوزی اور تفوق طلبی جس کی وجہ سے ان کے طمع کے تیز اور نوکیلے دانت مشرقی ممالک کی سرزمینوں میں گڑھے ہوئے تھے، اور دوسری طرف مسلمانوں کی عدم آگہی اور بے توجہی نے اقبال کو آئندہ نسلوں کے مستقبل کے بارے میں پریشان کیا ہوا تھا۔ اسی دوران اسلامی ممالک کے سربراہوں کی نالائقیاں، خودفروشیاں اور غداریاں تھیں کہ وہ اس بات کے لیے تیار تھے کہ کسی قیمت پر بھی اپنے ملکوں کو اغیار کے ہاتھ بیج دیں اور اپنی چند روزہ طاقت، مال اور حکومت کو باقی رکھیں اور اس طرح مسلمانوں کو پہلے سے زیادہ بے پناہ اور بے آسرا کردیں اور یہی فکر یں اور اندیشے اس آگاہ مصلح کو شب و روز مشغول کیے رکھتے تھے۔ ان مسائل اور مشکلات کے حل کی راہ جو اقبال نے دکھائی وہ سب کے لیے اظہر من الشمس اور آشکار ہے یعنی خود شناسی یا اپنے آپ کو پالینا اور علمی و تمدنی پس ماندگی کو دور کرنا ۔ ان کا کہنا تھا :

 

گفت جانا محرم اسرار شو
خاور از خواب گران بیدار شو
ہیچ قومی زیر چرخ لاجورد
بی جنون ذو فنون کاری نکرد
احتساب خویش کن از خود مرو
یک دو دم از غیر خود بیگانہ شو
تا کجا این خوف و وسواس و ہراس
اندر این کشور مقام خود شناس
شعلہ ای از خاک آن باز آفرین
آن طلب، آن جستجو باز آفرین

 

     اس مجموعی خوف و اندیشہ کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے خاص موضوعات بھی تھے جنہوں نے اقبال کے فکر کو اپنی طرف مبذول کررکھا تھا۔ ان میں سے بعض قومی، بعض علاقائی اور بعض بین الاقوامی تھے۔

     ان اہم ترین فکروں اور اندیشوں میں سے ایک موضوع فلسطین کا تھا۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ عالم اسلام کے عین وسط میں ایک صہیونسٹی حکومت کا وجود میں آنا ایک تیس سالہ سازش کا ماحصل تھا جس میں روس، امریکا اور انگلستان کے سیاستدانوں نے ،جو اس سازش کے اہم ترین عامل اور کارگزار تھے حصہ لیا اور جس کا ایک نتیجہ عثمانی سلطنت کا سقوط اور عالم اسلام کے مختلف حصوں میں نسلی، لسانی اختلافات پیدا کرکے اپنے لیے ایک مستقر اور دستاویز کا تیار کرنا تھا۔  

تحریر : مرتضیٰ صاحب فصول

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 4:32 PM |

لہی (Lehi) دہشت گرد گروپ :

برطانیہ کی طرف سے دباو کے نتیجے میں ارگون نے 1939ء سے برطانیہ کے خلاف اپنی دہشت گرد کاروائیاں بند کر دیں اور اسکے کچھ ممبران برطانوی فوج میں شامل ہو گئے۔

1948ء میں سویڈن نژاد اقوام متحدہ کے ایلچی برناڈٹ کے قتل کے بعد اشٹرن کے اکثر اراکین کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔

 ان دونوں کے سب سے زیادہ فعال اراکین جو زندہ بچنے میں کامیاب ہو گئے تھے نے ایک نیا دہشت گرد گروپ تشکیل دیا جسکا نام لہی رکھا گیا۔ یہ گروپ ممبران کی تعداد کے حوالے سے سب سے چھوٹا گروپ تھا لیکن سب سے زیادہ فعال اور سرگرم تھا۔

اس گروپ نے اشٹرن اور ارگون کے برخلاف روس کے ساتھ اپنی سیاسی وابستگی قائم کی اور آئرلینڈ کے مزاحمتی گروپ آئی آر اے کے طرز پر کاروائیاں شروع کر دیں۔

اشٹرن کا سب سے زیادہ سنگدل اور بے رحم ممبر اسحاق شامیر بھی اس گروپ میں شامل ہو گیا۔ شامیر اس گروپ میں مائیکل آئرلینڈی کے نام سے مشہور تھا۔ اسرائیل کے امور کے ماہر شلنڈر اس گروپ کی دہشت گردانہ کاروائیوں کے بارے میں لکھتا ہے: "یہ گروپ سب سے چھوٹا دہشت گرد گروہ تھا لیکن 1942ء سے 1948ء کے درمیان ہونے والے قاتلانہ حملوں میں سے 71 فیصد اس گروہ نے انجام دیئے۔ اس گروپ کا پہلا لیڈر 1942ء میں تل ابیب میں پولیس کے ساتھ مقابلے میں مارا گیا"۔ اس گروپ کی سب سے بڑی دہشت گردانہ کاروائی 1944ء میں مصر میں لارڈ موین، برطانوی فوجی کمانڈر کا قتل تھی۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 4:31 PM |

صیہونیستی ٹروریسٹ گروہوں کی تشکیل (حصّہ سوّم)

اشٹرن گروپ:

یہ گروپ 1930 کے عشرے کے آخر میں ارگون سے الگ ہوا۔ اس گروپ کے سربراہ کا نام ابراہم اشٹرن تھا جو برطانیہ کا شدید مخالف اور نسل پرستانہ، نازی اور فاشیستی سوچ کا مالک تھا۔ اشٹرن 1939ء میں جرمنی کے خلاف برطانیہ کی مدد کیلئے صیہونیستوں کے بھیجے جانے پر احتجاج کے طور پر ارگون سے علیحدہ ہو گیا اور "اشٹرن" کے نام سے اپنے نئے دہشت گرد گروپ کی بنیاد ڈالی۔ وہ موسولینی کے قریبی دوستوں میں سے تھا۔ اس نے اپنے گروپ میں شامل جنگجووں کو برطانیہ اور عربوں کے خلاف فلسطین میں منظم کیا۔ اشٹرن نے اپنے نسل پرستانہ عقائد اور نازیزم اور فاشیزم کے ساتھ دلبستگی کی بدولت یہ عہد کیا تھا کہ فلسطین میں صیہونیستی حکومت کی تشکیل

” مسلح گروہ تشکیل دینے کی خواہش، وایزمین کی طرف سے اسرائیلی ریاست بنانے کا اعلان اور سیاسی صیہونیسم کی تشکیل وہ عوامل تھے جنہوں نے یہودیوں کو برطانیہ کے ہاتھ میں ایک آلہ کار کے طور پر تبدیل کر دیا اور برطانیہ انہیں اپنے استعماری اہداف کے حصول کی خاطر استعمال کرنا شروع ہو گیا۔ “

میں اٹلی اور جرمنی کی حمایت کے بدلے یہ حکومت جرمنی کے ساتھ وفادار رہے گی اور فلسطین میں یہودیوں کے مقدس مقامات واٹیکن کے ساتھ وابستہ رہیں گے۔ یہود ایجنسی کے مقابلے میں اشٹرن کا موقف بظاہر ایک تضاد تھا لیکن درحقیقت عالمی صیہونیزم کے اہداف کے مطابق تھا۔ اس گروپ کی دہشت گردانہ کاروائیاں اس قدر وسیع تھیں کہ برطانیہ کے جاسوسی ادارے M15 کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے: "اس ادارے کی طرف سے انجام دی گئی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ دو گروپ اشٹرن اور ارگون تقریبا 100 دہشت گردانہ کاروائیوں میں شریک رہے ہیں، جسکی بنیاد پر انکے کچھ ممبران کو سزائے موت جبکہ دوسروں کو عمر قید سنائی گئی ہے"۔

اشٹرن گروپ کی دہشت گردانہ کاروائیاں:

یہ گروہ اپنی نازی اور فاشیستی سوچ کی وجہ سے اپنے مقاصد کو دہشت گردانہ کاروائیوں کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ یہ تمام دہشت گردانہ اقدامات سیاسی صیہونیزم کے اہداف کے مطابق تھیں۔

ذیل میں کچھ دہشت گردانہ کاروائیوں کی لسٹ دی جا رہی ہے:

جنوری 1942ء: 2 برطانوی فوجی افسروں کی ملاقات کی جگہ پر بم دھماکہ،

22 اپریل 1942ء: ایک پولیس افسر اور اسکے ساتھیوں پر ناکام قاتلانہ حملہ،

6 نومبر 1944ء: جنگ کے دوران برطانوی سفیر لارڈ موین کا قتل،

25 اپریل 1946ء: فوجی بیرکس میں 9 برطانوی فوجیوں کا قتل،

4 جنوری 1948ء: یافا کے ایک چوک میں بم دھماکہ جو 30 عام شہریوں کے قتل اور 98 کے زخمی ہونے کا باعث بنا،

3 مارچ 1948ء: حیفا میں ایک فوجی گاڑی کا سامنے بم دھماکہ،

31 مارچ 1948ء: قاہرہ سے حیفا جانے والی ٹرین کی پٹڑی کو مائن سے اڑانا جس کی وجہ سے 40 عرب باشندے قتل اور 60 زخمی ہو گئے،

17 ستمبر 1948ء: مسئلہ فلسطین کے بارے میں اقوام متحدہ کے ایلچی کنٹ فولک برناڈٹ اور اسکے ایک ساتھی کا قتل۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 4:29 PM |

صیہونیستی ٹروریسٹ گروہوں کی تشکیل (حصّہ دوّم)

1۔ بیتار گروپ:

اس گروپ کا نام اپنے بانی برٹ یوسف ٹرومیلڈر کے نام سے لیا گیا ہے۔ یہ شخص 1920 میں جلیلیہ کیمپ کے فلسطینی مہاجرین کے ساتھ ایک لڑائی میں ہلاک ہو گیا تھا۔ اس گروپ میں شامل شدت پسند یہودی جوان "براون شرٹ گروپ" کے نام سے مشہور تھے۔ اس گروپ کے افراد ھاگانا آرگنائزیشن سے نکل کر آئے تھے۔ جابوٹینسکی نے بھی اس گروپ کی سربراہی کی تھی۔

2- ارگون زیائی لیومی گروپ:

یہ شدت پسند گروہ 1930 کی دہائی کے اواسط میں ھاگانا سے الگ ہونے والے افراد نے تشکیل دیا اور 1940 کی دہائی میں مناخیم بگن کی سرکردگی میں سرگرم عمل رہا۔ مناخیم بگن نے اپنی ڈائری میں اس گروپ کی تشکیل، تنظِم اور دہشت گردانہ کاروائیوں کی مکمل تفصیل لکھی ہے۔ اس نے اس گروہ کی تشکیل کے بارے میں لکھا ہے: "ہم نے ایک فوج تشکیل دی اور اسکا نام ارگون رکھا اور اس میں مختلف سیکشنز کو تشکیل دیا جن میں کمانڈوز کا سیکشن، انقلابی سیکشن اور پروپیگنڈہ سیکشن شامل تھے"۔ اسکے بعد وہ اس گروپ کے تنظیمی ڈھانچے اور اسکے طرز کار کی وضاحت کرتا ہے۔ وہ ارگون کے اندرونی سیسٹم کے بارے میں کہتا ہے: "ہمارا اندرونی سیسٹم دو بنیادوں پر استوار تھا؛ پہلی اطاعت اور دوسری مخفی کاری۔ ارگون اپنے اس اندرونی سیسٹم اور کامیاب دہشت گردانہ کاروائیوں کے ذریعے بہت جلد ایک خوفناک صیہونیستی دہشت گرد تنظیم میں تبدیل ہو گئی حتی کہ بیگن یہ اعتراف کرتا ہے کہ: "ہر جگہ اس تنظیم کے نام کا خوف اور دہشت طاری تھی۔ ایسی دہشت جو صرف کہانیوں میں ملتی ہے۔ اس رعب و وحشت نے ہماری کامیابیوں میں بہت اہم کردار ادا کیا جو اسکے بغیر ممکن نہ تھیں"۔ ارگون کی کامیابیاں باعث بنیں کہ 1940ء کی دہائی میں یہود ایجنسی ارگون کے رہنماوں کے ساتھ ایک معاہدہ طے کرے جسکے مطابق دونوں کے درمیان دہشت گردانہ کاروائیاں انجام دینے میں تعاون اور ہمکاری برقرار ہو گیا۔

ارگون گروپ کے دہشت گردانہ اقدامات:

اس گروپ کی دہشت گردانہ کاروائیوں کی لسٹ درج ذیل ہے:

2 جولائی 1939ء: بیت المقدس کی فروٹ مارکیٹ میں بم دھماکہ،

12 اور 26 فروری 1944ء: بیت المقدس کی فروٹ مارکیٹ میں بم دھماکہ،

25 فروری 1944ء: دو برطانوی پولیس اہلکاروں کا قتل،

8 اکتوبر 1944ء: برطانوی ہائی کمیشن کے قتل کی کوشش اور سر ہارولڈ مک میچل کا قتل،

27 ستمبر 1944ء: چار پولیس چوکیوں پر حملہ اور کئی پولیس اہلکاروں اور عام افراد کا قتل،

مارچ اور مئی 1945ء: مختلف جگہوں پر بم دھماکے اور کئی پولیس اہلکاروں اور عام افراد کا قتل،

13 ستمبر 1946ء: تل ابیب اور حیفا میں عثمانی بینکوں پر حملہ،

1 اکتوبر 1946: روم میں برطانوی سفارتخانے میں بم دھماکہ،

13 مارچ 1947ء: بیت المقدس میں برطانوی فوجی مرکز میں بم دھماکہ،

19 جولائی 1947ء: حیفا میں ایک برطانوی پولیس اہلکار کا قتل اور دوسرے کو زخمی کرنا،

16 دسمبر 1947ء: ڈیلی ٹائمز کو بھیجے گئے ایک خط کے ذریعے برطانوی عہدے داروں کو دھمکی،

1 مارچ 1948ء: فلسطین کو تقسیم کرنے کے اقوام متحدہ کے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے 254 فلسطینی دیہاتیوں کا قتل عام۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 4:28 PM |

صیہونیستی ٹروریسٹ گروہوں کی تشکیل

سیاسی صیہونیزم کی تشکیل کے اسباب

صیہونیزم اور ٹروریزم

برطانیہ بیت المقدس پر قبضہ کرنے اور اس بات کا یقین کر لینے کے بعد کہ اب خلافت عثمانی میں اس سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رہی، وہاں پر ایک آزاد اور خودمختار یہودی ریاست قائم کرنے کے اپنے فیصلے کے بارے میں شک و تردید کا شکار ہو گیا۔ لہذا برطانیہ نے جیوش لژیون کے مزید اعضاء کو فلسطین آنے سے روک دیا اور اکتوبر 1919 میں اس مسلح گروہ کے سربراہ ولادیمیر جابوٹینسکی کو بھی 30 ماہ تک برطانوی فوج میں ملازمت کرنے کے بعد اپنے عہدے سے برکنار کر دیا۔ اس طرح سے یہ مسلح گروہ رسمی طور پر ختم ہو گیا۔ لیکن جابوٹینسکی نے مقامی عرب باشندوں کے مقابلے میں یہودی مہاجرین کی حفاظت کے سلسلے میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ لہذا فلسطین میں مختلف قسم کے مسلح صہیونیست گروہ معرض وجود میں آنا شروع ہو گئے۔ ہم ان مسلح گروہوں پر ایک مختصر نظر ڈالیں گے اور ساتھ ہی وہ عمدہ دہشت گردانہ کاروائیاں بھی ذکر کریں گے جو ان گروہوں نے انجام دیں۔

1۔ ھاگانا آرگنائزیشن:

دسمبر 1919 میں جابوٹینسکی نے فلسطین کے کچھ مہاجر یہودیوں کو متقاعد کیا کہ یہودیوں کے دفاع کیلئے "ھاگانا" نامی ایک تنظیم بنائی جائے۔ یہ مسلح گروہ در واقع جیوش ایجنسی کی فوج کی حیثیت رکھتا تھا۔ جیوش ایجنسی ابتدا سے ہی اس کوشش میں تھی کہ ھاگانا آرگنائزیشن کو فلسطین کی سیکورٹی

” سیاسی صیہونیزم انیسویں صدی میں مختلف وجوہات کی بنا پر معرض وجود میں آیا۔ ان میں سے ایک وجہ یہودی ستیزی کی بحث ہے جو 1880 کی دہائی کے شروع میں "یوگرومز" کی شکل میں روس میں ظاہر ہوئی۔ “

فورسز کے طور پر متعارف کروائے۔ اسی مقصد کیلئے جابوٹینسکی نے برطانوی جنرل رونلڈ ریسٹورس سے مذاکرات کئے اور اس سے مطالبہ کیا کہ وہ ھاگانا آرگنائزیشن کے افراد کو بیت المقدس کی پولیس کے طور پر بھرتی کرے۔ جیوش ایجنسی نے ھاگانا آرگنائزیشن کو مختلف مواقع پر کبھی برطانیہ کے حق میں اور کبھی اسکے خلاف استعمال کیا۔

ھاگانا کے دہشت گردانہ اقدامات:

جولائی 1933: حیسیم آرلوسوروف کا قتل،

17 جولائی 1937: فلسطین میں تین عرب باشندوں کا قتل،

25 نومبر 1940: پیٹریا بحری جہاز میں دھماکہ جس میں فلسطین آنے والے یہودی مہاجر سوار تھے۔ 140 مہاجر ہلاک ہو گئے،

24 فروری 1942: استقروما بحری جہاز میں دھماکہ جس میں 769 یہودی مہاجر سوار تھے۔ سب اس حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ جیوش ایجنسی نے اسکو یہودی مہاجرین کی طرف سے اعتراض کے طور پر خودکشی کا واقعہ قرار دیا،

20 فروری 1947: حیفا کے نزدیک عراق کی آئل پائپ لائن میں دھماکہ۔ اس دہشت گردانہ اقدام میں موشہ دایان بھی شریک تھا،

19 دسمبر 1947: صفر کے نزدیک ایک عرب دیہات میں دو گھروں کو مسمار کرنا جس میں 10 افراد جن میں سے 5 بچے تھے جاں بحق ہو گئے،

20 دسمبر 1947: قزازہ کے دیہات پر حملہ اور گھروں کو دھماکے سے اڑا دینا۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 4:23 PM |
 

شہید ڈاکٹر چمران کے مختصر حالات زندگی

شہید ڈاکٹر چمران

پیدایش اورتعلیم

معاشرتی سرگرمیاں

انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد

وزارت دفاع میں تعیناتی

شهادت

پیدایش اور تعلیم

ڈاکڑ مصطفی چمران کا شمار ایران کی چند معروف شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی قوم کے لۓ عظیم انقلابی سرگرمیاں انجام دیں اور قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ۔ آپ سن 1311 ھ.ش کو تهران میں پیدا ہوۓ۔

آپ نےاپنی ابتدائی تعلیم کا آغاز  تهران میں واقع  انتصاریه سکول سے   کیا  اور پھر دارالفنون1  اور البرز 2 جیسے مدارس میں اپنی تعلیم  کو جاری رکھا . اس کے  بعد تہران یونیورسٹی کے ٹیکنیکل ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لیا اور سن 1336 ھجری شمسی  میں  الیکٹرومیکانیک کے شعبہ میں اپنی ڈگری مکمل کی ۔ پھر ایک سال تک اسی ڈیمارٹمنٹ میں انہوں نے تدریس کی ۔ 

شہید ڈاکٹر چمران تہران یونیورسٹی میں

 

انہوں نے اپنی تعلیم کے دوران ہر کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کی .  اور سن 1337 ھجری شمسی میں اعلی تعلیم کی غرض سے اسکالرشپ  پر امریکا   تشریف لے گۓ اور وہاں دنیا کے معروف ترین دانشمندوں کی موجودگی میں تحقیقاتی سرگرمیاں انجام دیں ۔ انہوں نے امریکا کی مشہور یونیورسٹیوں کیلی فورنیا اور برکلے  میں اعلی علمی ذوق کے حامل اساتذہ کی زیر نگرانی الیکٹرونیک اور پلازما فزیکس کے شعبہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری جاصل کی ۔

شہید ڈاکٹر چمران امریکا میں

امریکا میں اپنے قیام کے دوران انہوں نے اپنے بعض دوسرے دوستوں کی مدد سے پہلی بار اسلامک اسٹوڈنٹس سوسائٹی ( انجمن دانشجویان اسلامی ) کی بنیاد رکھی اور اس کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لۓ انہوں نے انتھک جدوجہد کی ۔  امریکا میں  موجود ایرانی اسٹوڈنٹ کمیونیٹی میں ان کا شمار اس سوسائیٹی کے سرگرم  رکن کی حیثیت سے ہوتا تھا ۔ ان کو اپنی  سرگرمیوں کی سزا یہ ملی کہ  ایران میں موجود حکومت شاہ نے ان کا تعلیمی وظیفہ روک دیا ۔

 

معاشرتی سرگرمیاں 

 جب آپ کی عمر پندرہ سال کو پہنچی تو  ھدایت مسجد 3  میں مرحوم آیت اللہ طالقانی  کے درس تفسیر قرآن  اور استاد شہید مرتضی  مطہری 4 کے درس منطق اور فلسفے  کی کلاسوں میں شرکت کیا کرتے تھے ۔ 

آپ تہران یونیورسٹی میں  اسلامک اسٹوڈنٹس سوسائٹی کے ابتدائی اراکین میں سے تھے ۔ سیاسی تنازیات میں ڈاکٹر مصدق کے دور( چودھویں اسمبلی ) سے لے کر تیل کی صنعت کے قومی تحویل میں آنے تک سرگرم عمل رہے ۔

 

انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد

ڈاکٹر چمران جو ملک سے باہر تشریف لے گۓ تھے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد  23 سال کا عرصہ ملک سے باہر گزار کر وطن واپس آ گۓ ۔  یہاں واپس آنے کے بعد انہوں نے اپنی تمام  علمی اور انقلابی صلاحیتوں  کو تعمیری کاموں میں صرف کرنے کے لۓ انقلاب اسلامی کی خدمت میں پیش کر دیا ۔ آپ کو وزیراعظم کا معاون مقرر کر دیا گیا اور اس دوران آپ نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈالتے ہوۓ کردستان میں موجود شورش کا حل نکالا ۔

 

وزارت دفاع میں تعیناتی

کردستان  میں بے نظیر کامیابی حاصل کرنے کے بعد آپ کو تهران کی طرف بلایا گیا اور امام خمینی (رح) کے حکم پر  وزارت دفاع  سے منسلک ہو کر اپنے فرائض انجام دینے لگے ۔

 

شهادت

 آپ خرداد کے مہینے سن 1360 ھجری شمسی میں  شہادت کے رتبہ پر فائز ہو‎ۓ اور ہمیشہ کے لۓ خالق حقیقی سے جا ملے ۔

وضاحت طلب الفاظ

 1.دارالفنون : سکول کا نام ہے جوتهران میں  ناصرالدین شاه کے زمانے میں  امیر کبیر کے حکم کے  تحت  نئے جدید سائنسی علوم   سیکهنے کے لئے بنایا گیا ۔

2. البرز هائے سکول : تهران کے پرانے سکولوں میں سے ہے . چونکه اس کے پیچهے البرز پهاڑ واقع  تها اس لۓ  البرز کے نام سے جانا جاتا تھا ۔

3.هدایت مسجد : آیت الله طالقانی کی کلاسیں (تفسیر قرآن) اسی مسجد میں تشکیل پاتی تهیں ۔

4.شهید مطهری : معروف ایرانی معلم کہ اسے وہ  حیثیت ملی کہ جس کے یوم شهادت پر استاد کا دن (روز معلم)  کا نام رکها گیا ہے ۔

پیشکش  :  شعبہ تحریر و پیشکش تبیان
+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 4:22 PM |

شہید ڈاکٹر مصطفی چمران

شہید ڈاکٹر مصطفی چمران

شہید ڈاکٹر مصطفی چمران  سنہ 1311 ھ ش کو تہران میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے الیکٹرانک کے شعبۂ  میں تعلیم حاصل کی اور اسی میدان میں امریکہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ شہید چمران نے ایران میں اپنی تعلیم کے دوران شاہی حکومت کے خلاف انقلاب میں بھر پور حصہ لیا اور امریکہ میں بھی اپنی اس جد وجہد کو جاری رکھا۔ کچھ عرصے کے بعد وہ لبنان چلے گئے جہاں لاپتہ شیعہ رہنما امام موسیٰ صدر کے ساتھ مل کر صیہونی حکومت کے خلاف جد و جہد شروع کی اور لبنان کے محروم طبقات اور فلسطینی آوارہ وطنوں کی امداد کے لئے " تحریک محرومین " کی بنیاد رکھی۔

شہید ڈاکٹر چمران سنہ 1357 ھ ش مطابق سنہ 1979 ع میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ایران واپس آ گئے اوروزیر دفاع کے عہدے پر فائز ہوئے ۔

 کچھ عرصے کے بعد اسلامی مجلس کے پہلے انتخابات میں تہران کے نمائندہ منتخب ہوئے ۔ ایران عراق جنگ کے دوران مجاہدین کی صف میں شامل ہوئے اور رضاکار فورسز سپاہ پاسداران کی قیادت کی ۔

ڈاکٹر چمران عارفانہ شخصیت کے مالک تھے ۔ 31 خرداد سنہ 1360 ھ ش کو ایران کے معروف دانشور اور مجاہد ڈاکٹر مصطفیٰ چمران نے جارح عراقی فوجیوں سے جنگ کے دوران جام شہادت نوش کیا۔

 ان کی شہادت کے بعد امام خمینی (رح) نے اپنے ایک پیغام میں فرمایا تھا کہ :

 " ڈاکٹر چمران نے پاک و صاف عقیدے کے ساتھ ، خالصانہ طور پر بغیر کسی سیاسی گروپ سے وابستہ ہوئے خدا کی راہ میں جہاد کیا۔انہوں نے بڑی سربلندی کے ساتھ زندگي گزاری اور سرفرازي کے ساتھ شہید ہوئے اور حق تعالیٰ سے جا ملے ۔"

اردو ریڈیو تہران

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 4:18 PM |

تہذیب و ثقافت  سے کیا مراد ہے ؟

تہذیب و ثقافت یعنی وہ رسم و رواج اور طور طریقے جو ہماری اور آپ کی زندگی پر حکم فرما ہیں۔ تہذیب و ثقافت یعنی ہمارا ایمان و عقیدہ اور وہ تمام عقائد و نظریات جو ہماری انفرادی اور سماجی زندگی میں شامل ہیں۔

ہم تہذیب و ثقافت کو انسانی زندگی کا بنیادی اصول سمجھتے ہیں۔ ثقافت یعنی ایک معاشرے اور ایک قوم کی اپنی خصوصیات اور عادات و اطوار، اس کا طرز فکر، اس کا دینی نظریہ، اس کے اہداف و مقاصد، یہی چیزیں ملک کی تہذیب کی بنیاد ہوتی ہیں۔ یہی وہ بنیادی چیزیں ہیں جو ایک قوم کو شجاع و غیور اور خود مختار بنا دیتی ہیں اور ان کا فقدان قوم کو بزدل اور حقیر بنا دیتا ہے۔

تہذیب وثقافت قوموں کے تشخص کا اصلی سرچشمہ ہے۔ قوم کی ثقافت اسے ترقی یافتہ، با وقار، قوی و توانا، عالم و دانشور، فنکار و ہنرمند اور عالمی سطح پر محترم و با شرف بنا دیتی ہے۔ اگر کسی ملک کی ثقافت زوال و انحطاط کا شکار ہو جائے یا کوئی ملک اپنا ثقافتی تشخص گنوا بیٹھے تو باہر سے ملنے والی ترقیاں اسے اس کا حقیقی مقام نہیں دلا سکیں گی اور وہ قوم اپنے قومی مفادات کی حفاظت نہیں کر سکے گا۔

ثقافت کے دو حصے ہیں۔ ایک حصہ ان امور اور مسائل سے تعلق رکھتا ہے جو ظاہر و آشکار ہیں اور نگاہیں انہیں دیکھ سکتی ہیں۔ ان امور کا قوم کے مستقبل اور تقدیر میں بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔ البتہ اس کے اثرات دراز مدت میں سامنے آتے ہیں۔ یہ امور قوم کی اہم منصوبہ بندیوں میں موثر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر لباس کیسا ہو، کیسے پہنا جائے اور بدن ڈھانکنے کا کون سا انداز نمونہ عمل قرار دیا جائے؟ یہ چیزیں تہذیب کے ظاہر و آشکار امور میں شمار ہوتی ہیں۔ اسی طرح کسی علاقے میں معماری کا انداز کیا ہے؟ گھر کس طرح بنائے جاتے ہیں، رہن سہن کا طریقہ کیا ہے؟ یہ سب معاشرے کی ظاہری ثقافت کا آئینہ ہے۔

عوامی ثقافت کا دوسرا حصہ جو پہلے حصے کی ہی مانند ایک قوم کی تقدیر طے کرنے میں موثر ہوتا ہے لیکن اس کے اثرات فورا ظاہر ہو جاتے ہیں اور انہیں بآسانی محسوس بھی کیا جاتا ہے یعنی یہ ثقافتی امور خود تو نمایاں اور واضح نہیں ہیں لیکن ان کے اثرات معاشرے کی ترقی اور اس کی تقدیر کے تعین میں بہت نمایاں ہوتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ اہم اخلاقیات ہیں، یعنی معاشرے کے افراد کی ذاتی اور سماجی زندگی کا طور طریقہ کیسا ہے؟

عوامی ثقافت میں انسان دوستی، مرد میداں ہونا، خود غرضی اور آرام طلبی سے دور ہونا، قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دینا وغیرہ کا نام لیا جا سکتا ہے۔

بنابریں ثقافت معاشرے کے پیکر میں روح اور جان کا درجہ رکھتی ہے۔ قوموں پر تسلط اور غلبے کے لئے اغیار اپنی تہذیب و ثقافت کی ترویج کی کوشش کرتے ہیں جو کوئی نیا طریقہ نہیں ہے بلکہ بہت پہلے سے یہ طریقہ چلا آ رہا ہے۔ البتہ پچھلے سو دو سو برسوں سے مغربی ممالک نے جدید وسائل کے استعمال سے اپنے تمام اقدامات کو بہت زیادہ منظم کر لیا ہے۔ اب وہ یہی کام پوری منصوبہ بندی سے کر رہے ہیں اور وہ ان مقامات اور پہلوؤں کی نشاندہی کر چکے ہیں جہاں انہیں زیادہ کام کرنا ہے۔

دنیا کی تمام بیدار قومیں اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کسی قوم نے اپنی ثقافت کو بیگانہ ثقافتوں کی یلغار کا نشانہ بننے اور تباہ و برباد ہونے دیا تو نابودی اس قوم کا مقدر بن جائے گی۔ غلبہ اسی قوم کو حاصل ہوا جس کی ثقافت غالب رہی ہے۔ تہذیب و ثقافت کا غلبہ بہت ممکن ہے کہ سیاسی، اقتصادی، اور فوجی غلبے کی مانند ہمہ گیر برتری کا پیش خیمہ ہو۔

ثقافتی تسلط، اقتصادی تسلط اور سیاسی تسلط سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ اگر ایک قوم نے دوسری قوم پر ثقافتی اور تہذیبی غلبہ حاصل کر لیا تو قومی تشخص پر سوالیہ نشان لگ جانے کے بعد اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اگر کسی قوم کو اس کی تاریخ، اس کے ماضی، اس کی تہذیب و ثقافت، اس کے تشخص، اس کے علمی، مذہبی، قومی، سیاسی اور ثقافتی افتخارات سے جدا کر دیا جائے، ان افتخارات کو ذہنوں سے محو کر دیا جائے، اس کی زبان کو زوال کی جانب دھکیل دیا جائے، اس کا رسم الخط ختم کر دیا جائے تو وہ قوم اغیار کی مرضی کے مطابق ڈھل جانے کے لئے تیار ہو جاتی ہے۔ اب یہ قوم زندگی سے محروم ہو چکی ہے۔ اب اس کی نجات کا واحد راستہ یہ ہے کہ کوئی عظیم شخصیت پیدا ہو جو اسے اس صورت حال سے باہر نکالے۔ 

 جاری ہے

بشکریہ ولایت ڈاٹ کام

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 4:17 PM |

کیا مغربی ممالک میں مسلمانوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے؟

نیو یارک میں اسلامک سینٹر کے قیام کا منصوبہ جن وجوہات کی بنا پر متنازعہ قرار دیا جا رہا ہے ان میں سے ایک یہ خوف بھی ہے کہ  شاید مسلمان امریکہ میں اسلامی قوانین کے نفاذ کی کوشش کر رہے ہیں اور اہم مقامات پر اپنی عبادت گاہوں کی تعمیر سے وہ اس مشن میں کامیاب ہو جائیں  گے۔

جارج ٹاون یونیورسٹی کے پروفیسر جوناتھن براؤن کا کہنا ہے کہ یہ شبہات بے بنیاد ہیں کیونکہ امریکہ اور یورپ میں بسنے والے مسلمان وہاںٕ ایسی کوئی کوشش کرتے دکھائی نہیں دے رہے۔

دوسری جانب مسلم اکثریتی ممالک میں یہ سوچ بھی عام نظر آتی ہے کہ امریکہ اور یورپی ممالک میں مسلمانوں کی مذہبی آزادیوں کو سلب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جس کی مثالیں ہیں فرانس اور بلیجئم میں برقعے پرپابندی، سوئٹزر لینڈ میں میناروں کی تعمیر پر پابندی اور ہالینڈ کی پارلیمنٹ سے اٹھنے والی اسلام اور امیگریشن مخالف آوازیں۔

جرمنی کے شہرنیورمنبرگ میں قائم ایرلنگن یونیورسٹی میں اسلام اور مغربی آئین کے ایک ماہر، پروفیسر ماتھیاس روہ کہتے ہیں کہ ان اقدامات کا اسلام اور مغرب کے درمیان تعلقات پریقیناً منفی اثر ہو رہا ہے، لیکن یہ اقدامات  اکثریت کی نہیں بلکہ ایک ایسی قدامت پسند اقلیت کی سوچ کی ترجمانی کرتے ہیں جو یورپ میں اسلام کے کردار کے بارے میں بعض حلقوں کے شکوک و شبہات کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

تاہم پروفیسر روہ کہتے ہیں:

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان ممالک کے مسلمانوں کے پاس اپنے مذہبی عقائد کے مطابق زندگی گزارنے کا کوئی راستہ نہیں رہا۔  ان کے لیے عدلیہ کا دروازہ کھلا ہے جس کا مقصد ہی اقلیت کے حقوق کی حفاظت ہے کیونکہ اکثریت خود اپنے حقوق کی حفاظت کر سکتی ہے۔

یونیورسٹی آف ٹورانٹو میں قانون کے پروفیسرڈاکٹر محمد فضل کے مطابق یورپ اور امریکہ میں آئین کی بنیاد مذہبی آزادی پر ہےاور نجی زندگی میں مسلمانوں کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ اپنی زندگی اسلامی عقائد کے مطابق گزاریں،  لیکن وہ عقیدے کی بنیاد پر ایسا کوئی کام نہیں کر سکتے جو آئین سے متصادم ہو۔

تاہم وہ کہتے ہیں کہ اسلامی قوانین دراصل کیا ہیں اور مسلم اقلیتی ممالک میں ان کا دائرہ کار کیا ہے؟ اس کی وضاحت کے لیے ضروری ہے کہ مغرب سے مسلمانوں کی ایک متحد آواز سامنے آئے جو سب کے لیے ان سوالوں کے جواب دے سکے۔

مغربی ممالک میں اسلام اور آئین کے بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلمان مغرب میں سماجی دھارے کا حصہ یقینا ہیں ۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ مسلم دنیا ور مغربی ممالک میں سیاسی اور معاشی مسائل کی طرف عوام اور حکمرانوں کی توجہ مبذول کرانے کے لیے مذہب کی زبان کا سہارا نہ لیا جائے اور نہ ہی وہ اور ہم کی فضا قائم کی جائے، کیونکہ ایسی سوچ عوام کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے بجائے ان میں انتشار پیدا کرتی ہے جو موجودہ مسائل کے حل کے بجائے بہت سے نئے مسائل کو جنم دیتی ہے۔

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 4:15 PM |

پاکستان کے شہر " پشاور "  میں واقع اہم مقامات ( حصّہ دوّم )

پشاور میوزیم

پشاور میوزیم 

پشاور میوزیم  کا پرانا نام وکٹوریہ میموریل ہال تھا ۔ یہ میوزیم  پرانے شہر کے درمیان جیل برج اور ریلوے اسٹیشن سے پانچ منٹ کی مسافت  پر واقع ہے ۔ اس میوزیم کو 1905 ء میں بنایا گیا ۔ میوزیم ایک بڑے ہال پر مشتمل ہے جس کے دونوں اطراف گیلریاں ہیں ۔  میوزیم میں قدیم گندھارا تہذیب کے بارے میں  فن پارے، مہاتما بدھ کے مجسمے موجود ہیں۔  اس میوزیم میں ایک مسلم گیلری بھی قائم ہے جس میں اسلامی  تاریخی چیزیں رکھی گئی ہیں ۔

صدر بازار

یہ بازار بہت ہی صاف ستھرا ہے جس میں لمبے تاڑ کے درخت  لگاۓ گۓ ہیں ۔ یہاں پر موجود مکانات کے سامنے لان موجود ہیں جن میں گھاس اگائي گئی ہے ۔  اس علاقے میں گورنر ہاؤس، جدید ہوٹلز، اولڈ مشنری ایڈورڈ کالج، اسٹک میوزیم اور عالی شان شاپنگ سنٹر  کے ساتھ ساتھ سیاحوں کے لیۓ معلوماتی مرکز بناۓ گۓ ہیں ۔

خالد بن ولید  باغ

یہ  باغ صدر کا دل ہے ۔ یہ ایک بہت ہی قدیم باغ  ہے جسے مغلیہ دور حکومت میں تعمیر کیا گیا تھا ۔ درخت اس باغ کی خوبصورت اور عظمت کو اور بھی زیادہ کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔

پشاور کلب

اس کا پرانا نام کنٹونمنٹ کلب تھا اور یہ سرسید روڈ  پر واقع ہے ۔

درہ خیبر

کوہ سلیمان پر واقع یہ خوبصورت درہ ہے جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمد و رفت کے لیۓ بےحد مشہور ہے ۔  یہ درہ افغانستان کے علاقے جمرود  سے طورخم  تک پھیلا ہوا ہے ۔ اس ارد گرد افغان مہاجرین کے لیۓ کیمپ تعمیر کیۓ گۓ ہیں ۔

قلعہ جمرود

یہ پشاور سے 18 کلومیٹر کے فاصلے پر خیبر پاس کے قریب واقع ہے جسے 1823 ء میں سکھوں نے تعمیر کیا تھا ۔ مشہور سکھ جنرل ہری سنگھ کی موت اسی مقام پر ہوئی تھی اور انہیں اسی جگہ پر دفن کیا گیا ۔

درہ آدم خیل

یہ درہ پشاور  کے جنوب میں کوہاٹ جانے والی شاہراہ سے 42 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔   یہاں پر دیسی ساخت کا اسلحہ تعمیر کیا جاتا ہے ۔ اس کا اصل نام  " زرغون خیل  " ہے ۔

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 4:14 PM |

پاکستان کے شہر " پشاور "  میں واقع اہم مقامات

مسجد مہابت خان

مسجد مہابت خان

 یہ پشاور کی سب سے مشہور مسجد ہے جس کو 1670 ء میں مغلیہ بادشاہوں کے دور حکومت میں تعمیر کروایا گیا ۔  اس کا فن تعمیر مغل طرز کا ہے ۔  اس کے نام کو ایک مقامی گورنر کے نام سے منسوب کیا گیا جس نے مغلیہ بادشاہوں کے دور حکمرانی میں مختلف خدمات انجام دیں تھیں ۔  مسجد کے وسط میں وضو خانہ اور مغرب میں نماز خانہ ہے ۔ اس مسجد کے دو مینار اور تین گںبد ہیں جن پر نقاشی کی گئی ہے ۔ یہ  بہت ہی خوبصورت مسجد ہے اور جب بھی سیاح پشاور کا رخ کرتے ہیں تو مسجد مہابت خان کو دیکھنے کی تمنا ضرور ان کے دل میں ہوتی ہے ۔

قلعہ بالاسر

پشاور کا قدیم شہر چونکہ قلعہ نما تھا جس کے 16 داخلی دروازے ہوا کرتے تھے ۔  اس قلعہ کو " بالا سر " کا نام دیا گیا ۔ یہ بہت ہی وسیع و عریض قلعہ  تھا ۔  اس کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ  راولپنڈی سے پشاور کی طرف آتے ہوۓ دور سے ہی یہ قلعہ دکھائی دیتا  تھا ۔  پاکستان اور افغانستان کے بارڈر پر واقع درہ خیبر سے بھی اس قلعہ کا نظارہ کیا جا سکتا تھا ۔ سب سے پہلے اس قلعہ کو  مغلیہ سلطنت کے پہلے حکمران ظہیرالدین محمد بابر نے 1526 ء میں تعیمر کروایا  تھا ۔  1830 ء میں  پشاور کے گورنر ہری سنگھ  نلوا نے  فرانسیسی ماہرین کی زیر نگرانی اس قلعہ کو ایک بار پھر تعمیر کروایا جو آج بھی  موجود ہے اور اسے دیکھنے کے لیۓ سیاح اس قلعہ کا رخ کر رہے ہیں ۔

چوک یادگار

 یہ چوک قدیم  شہر کا مرکز ہوا کرتا  تھا اور اس چوک کو سیاسی لحاظ سے بےحد اہمیت حاصل تھی ۔  یہاں سے بہت سی سیاسی تحریکوں نے جنم لیا ۔  آج یہ چوک ایک تجارتی مرکز کی صورت میں دکھائی دیتا ہے جس میں قماش قماش کی دکانیں ، زیورات کی دکانیں ، زرمبادلہ کی تبدیلی ، قالین فروشی اور الیکٹرونکس کا سامان دستیاب ہے ۔   زلزلے سے محفوظ رہنے کے لیۓ چوک کے اردگرد کی عمارات لکڑی  اور کچی اینٹوں سے بنائی گئی ہیں ۔ لکڑی سے بنی ہوئی یہ عمارات خوبصورتی کا  عمدہ نمونہ ہیں ۔ بالکونیوں  پر دھاتی کشیدہ کاری بھی کی گئی ہے ۔ آج اس چوک کو بیشتر تجارتی مرکز کی حیثیت سے ہی جانا جاتا ہے ۔

پشاور چھاؤنی

پشاور کا یہ علاقہ جدید طرز پر تعمیر کیا گیا ہے جس میں پارک کثرت سے موجود ہیں ۔

 

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 4:12 PM |

حضرت آیة اللہ العظمی حاج شیخ محمدتقی بہجت

حاج شیخ محمد تقی بهجت

حضرت آیة اللہ العظمی حاج شیخ محمدتقی بہجت سن ۱۳۳۴ ہجری قمری میں فومن نامی شہرمیں پیداہوئے ۔ آپ کے والدکربلائی محمودبہجت اپنے علاقہ کی ایک مورد اعتماد شخصیت تھے۔

 

آیة اللہ بہجت نے  اپنی ابتدائی تعلیم فومن کے مکتب خانہ میں حاصل کی اور ادبیات قمری پڑھنے کے بعد وہ قم آئے اور یہاں پر تھوڑا عرصہ رکنے کے بعد کربلائے معلی تشریف لے گئے ۔ وہاں پر انہوں نے آیة اللہ العظمی ابوالقاسم خوئی سے کسب فیض کیا۔

 

سن ۱۳۵۲ ہجری قمری میں اپنی تعلیم کو پورا کرنے کے ہدف سے انہوں نے نجف کا سفر اختیار کیا اور وہاں پر آخوند خراسانی کے ایک شاگرد سے علم حاصل کرتے ہوئے آیة اللہ آقا ضیاء عراقی اورآیة اللہ نائینی کے درس میں شریک ہو نے لگے ۔ اس کے بعدانہوں نے آیة اللہ حاج شیخ محمدغروی اصفہانی سے بھی استفادہ کیا۔

انہوں نے آیة اللہ العظمی حاج سیدابوالحسن اصفہانی اورحاج شیخ محمدکاظم شیرازی سے بھی علم حاصل کیا ۔ ا نہوں نے علم فقہ واصول کے علاوہ ابن سیناکی کتاب اشارات اورملاصدراکی کتاب اسفارکومرحوم سیدحسین بادکوئی سے پڑھا۔

 

سن ۱۳۶۴ ہجری قمری میں ایران واپس آکرقم میں آیة اللہ بروجردی اورآیة اللہ کوہ کمری سے فقہ واصول میں استفادہ کیا۔

وہ   تقریبا ۵۰ سال کے ہیںاور اپنے گھر پر ہی فقہ واصول کادرس خارج کہ تے ہیں ۔وہ اس وقت قم کے عظیم علماء میں  گنے جاتے ہیں اوراپنے زہدو عرفان کے لئے مشہورہیں۔

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 4:5 PM |
+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 4:3 PM |

استاد شہید مرتضی مطہری  کی زندگی کے مختصر حالات

 

استاد شهید مطہری

استاد شہید مطہری 13 بہمن 1298 ہجری شمسی مطابق 12 جمادی الاول 1338ہجری قمری کو قریہ فریمان کے ایک روحانی خانوادہ میں پیدا ہوۓ جو اس وقت منطقہ میں تبدیل ہوگیا ہے یہ مشہد مقدس سے 75 کلو میٹرپر واقع ہے-

اپنے بچپن کے دوران گہر ہی میں ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔12 سال کی عمر میں حوزہ علمیہ مشہد مقدس تشریف لے گۓ اور علوم اسلامی کی ابتدائی تعلیم کے حصول میں مشغول ہوگۓ

1316 ھجری شمسی میں رضا خان کی شدید سختی ودوستان کی مخالفت کے باوجود عازم حوزہ علمیہ قم ہوۓ۔

اسی زمانے میں آیۃ اللہ العظمی حاج شیخ عبد الکریم حائری موسس گرانقدر حوزہ کا انتقال ہوا تھا ۔ اور حوزہ کی باگ ڈور تین بزرگ ہستیوں سید محمد حجت، سید صدرالدین صدر، وسید محمد تقی خوانساری کے ہاتھوں میں تھی ۔

15 سال قم میں اقامت کے دوران مرحوم حضرت آيۃ اللہ العظمی بروجردی سے فقہ و اصول، اور 12 سال حضرت امام خمینی (رہ) سے فلسفہ ملا صدرا، عرفان، اخلاق، اور اصول اور مرحوم سید محمد حسین طباطبائی سے فلسفہ ، الھیات ،شفای بو علی اور دوسرے دروس حاصل کۓ ۔

آیۃ اللہ العظمی بروجردی کے قم ھجرت سے پہلے کبھی کبھی استاد شھید بروجرد جاتے تھے اور آیۃ اللہ بروجردی سے استفادہ کرتے تھے ۔

مؤلف شھید نے ایک مدت تک مرحوم آیۃ اللہ حاج علی آقا شیرازی سے اخلاق و عرفان میں معنوی استفادہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ استاد شھید نے دوسرے استادوں سے مثلامرحوم آیۃ اللہ سید محمد حجت سے اصول، اور مرحوم آیۃ اللہ سید محمد محقق داماد سے فقہ پڑھی۔

شھید مطھری نے قم میں قیام کے دوران تحصیل علم دین کے علاوہ امور اجتماعی وسیاسی میں بھی شرکت کی اور فدائیان اسلام کے ساتھ قریبی ارتباط تھا۔

1331ھجری شمسی میں جب آپکا شمار معروف مدرسین اور حوزہ کی مستقبل کی امید میں ہوتا تھا اسوقت آ پ نے تھران مہاجرت کی اور مدرسہ مروی میں درس دینے لگے۔اور تحقیقی تالیف اور تقریر میں مشغول ہوگۓ۔

1334ھجری شمسی میں جلسہ تفسیر دانشمندان انجمن اسلامی شھید مطھری کے توسط سے تشکیل پایا ۔ اور اسی سال الھیات یونیورسٹی اور معارف اسلامی تھران یونیورسٹی کا آغاز کیا۔

1337-1338ھجری شمسی میں جب انجمن اسلامی پزشک (ڈاکٹر) تشکیل پائی تو استاد شھید مطھری اس کے اصل مقرر تھے۔ اور 1340سے 1350 تک کی تقریر اس انجمن کے افراد پر منحصر تھی ۔اور آپ کی اہم بحثیں یادگار کے طور پر اب بھی باقی ہیں۔

1241 ھجری شمسی سے (آغاز نھضت امام خمینی (رہ) استاد شھید مطھری ایک فعال شخص کی طرح امام (رہ) کے ساتھ ساتھ تھے۔

استاد شهید مطہری

امام خمینی (رہ) کی جلاوطنی کے بعد استاد مطھری اور ان کے دوستوں کی ذمہ داریاں بہت زیادہ بڑھ گئی تھی اور اسی زمانہ میں آپ نے ان موضوعات پر کتابیں تالیف کیں جن کی جامعہ کو ضرورت تھی اور یونیورسٹیوں، ڈاکٹروں کی انجمن، مسجد ھدایت، مسجد جامع نارمک اور۔۔۔ میں تقریریں کیں ۔اور کلی طور پر استاد مطھری (جوکہ ایک نہضت اسلامی کے معتقد تھے ہرنہضت کے نہيں) نے نہضت کے محتوا کو اسلامی کرنے کیلۓ اسلامی فکروں اور اسکی کجروی و انحرفات کی بہت زیادہ تلاش و جستجو کی اور سختی سے کاروائی کی ۔

1346 ھجری شمسی میں چند قدیم دوستوں کی مدد سے حسینیہ ارشادکی تا سیس کی۔ لیکن کچھ مدت کے بعد بسبب تنہا اور من مانی ،اور ھیئت کے ایک رکن کے بغیر مشاورت کے استاد شھید مطھری کی طرح اجرا کی ممانعت ،اور ایک روحانی ھیئت کی تشکیل کہ حسینیہ کا علمی اور تبلیغی کام اس کے زیر نظر ہوگا، 1349 ھجری شمسی میں بہت زیادہ سختی جوکہ اس موسس کیلۓ کی گئی تھی اور اس سبب سے کہ بہت زیادہ مستقبل کی امید بند ہوگئی تھی جب کہ ان چند سالوں میں خون دل پیا تھا اس ھیئت کی عضو مدیریت سے استعفا دیدیا ،اور اس کو ترک کردیا ۔

1348 ھجری شمسی میں ایک اطلاعیہ شھید مطھری و حضرت علامہ طباطبائی اور آیۃ اللہ حاج سید ابوالفضل مجتھدی زنجانی کے امضاء سے فلسطین کے بے گھر افراد کی کمک کیلۓ شائع ہوا اور اسکا اعلان حسینیہ ارشاد کی ایک تقریر میں بھی کیا جسکی وجہ سے آپکو گرفتار کرلیا گیا اور کچھ مدت انفرادی زندان میں رہے۔

1349 سے 1351 ھجری شمسی تک مسجد الجواد کا تبلیغی پروگرام آپکے زیر نظر تھا اور غالبا خود اصل مقرر تھے ،یہاں تک کہ وہ مسجد بھی حسینیہ ارشاد کے بعد بند ہوگئی اور دوسری مرتبہ استاد مطھر ی پر کچھ مدت کے لۓ پابندی لگ گئی ۔

اس کے بعد استاد مطھری مسجد جاوید، مجد ارک و ۔ ۔ ۔ میں تقریر کرتے تھے۔ کچھ مدت کے مسجد جاوید بھی بند کردی گئی یہاں تک کہ حدودا 1353 ھجری شمسی میں ممنوع المنبر قرار دیدۓ گۓ اور یہ ممنوعیت انقلاب اسلامی کی کامیابی تک باقی رہی ۔

شھید مطھری کی پربرکت زندگی میں ان کی اہم ترین خدمات :علم افکار ومعانی اصیل اسلامی کی تدریس، تقریریں، اور تالیف کتاب ہے

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 3:58 PM |

حضرت سید عارف حسین حسینی کی شہادت

شھید سید عارف حسین حسینی 13 مرداد سن 1367 شمسی کو پارا چنار سے پشاور تشریف لاۓ اور رات " رسھ علمیھ دارلمعارف"میں بسر کی ۔ اگلی صبح 14 مرداد کو انہیں لاہور میں ایک نشریاتی ادارے کو انٹرویو دینا تھا اور اس کے بعد ایک بڑے اجتماع سے خطاب کے دوران ایک اہم مسئلے کو لوگوں کو بتانا چاہتے تھے ۔

اسی جمعہ کی صبح جب وہ نماز ادا کرنے کے بعد دوبارہ وضو کرنے کی غرض سے مدرسھ علمیھ دارلمعارف کی دوسری منزل کی طرف گۓ  وضو کرنے کے بعد جب وہ واپس سیڑھیاں اتر رہے تھے تو اسی دوران  نامعلوم دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بن گۓ ۔  گولی لگنے کے بعد جب وہ زمین پر گر رہے تھے تو ان کے منہ سے لا الھ الا اللہ کی فریاد بلند ہوئی ۔ ایک عینی شاھد کا کہنا ہے کہ :

" مجھے ابھی تک ان کے زمین پر گرنے کی وجہ معلوم نہ ہو پائی تھی ۔ میں دوڑ کر ان کے نزدیک ہوا تاکہ ان کو زمین سے اٹھاؤں لیکن جب میں نے انہیں زمین سے اٹھایا تو دیکھتا ہوں کہ ان کا سینہ اور منہ گولیوں کا نشانہ بن چکا ہے ۔ "

واقعہ کی اطلاع پر مدرسہ کے طالب علم موقع پر پہنچ گۓ ۔۔ شھید عارف حسین حسینی کے بیٹے سید علی اور سید محمد حسینی جو اسی رات کو اپنے والد کے ہمراہ پارا چنار سے پشاور آۓ تھے ، وہ بھی روتے ہوۓ اپنے والد کے خون  میں لت پت جسم کے قریب پہنچے ۔ انہیں فوری  طور پر طبی مرکز میں پہنچایا گیا مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوۓ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ بعد میں  میڈیکل تحقیقات سے پتہ چلا کہ ان پر چلائی جانے والی گولیاں زہریلی بھی تھی ۔ خدا انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرماۓ ۔ آمین !

 

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 3:53 PM |

سید عارف حسین کی سیاسی سرگرمیاں

علامہ سید عارف حسین حسینی

سید عارف حسین حسینی مذھب کے ساتھ ساتھ سیاست کے میدان میں بھی دلچسپی رکھتے تھے اور نجف میں اپنے قیام کے دوران جب انہیں حضرت امام خمینی رح کے نزدیک رہنے کا موقع ملا تو ان کے اندر سیاسی اور فکری تحولات ایجاد ہوۓ ۔  انہیں بعض وجوہات کی بنا پر عراق سے نکال دیا گیا جس کے بعد وہ پاکستان تشریف لے آۓ ۔  پاکستان آ کر انہوں نے سیاسی اور مذھبی سرگرمیوں میں بہت ہی فعال  کردار ادا کیا ۔ سن 1353  شمسی میں انہوں نے ایک بار نجف اشرف کا رخ کیا کیونکہ وہ مزید علم حاصل کرنا چاہتے تھے مگر  بدقسمتی سے انہیں عراق میں داخل نہیں ہونے دیا گیا اور پھر انہیں مجبوری کے تحت واپسی کا راستہ اختیار کرنا پڑا ۔  واپسی پر  وہ قم تشریف لے گۓ اور پھر قم میں حوزہ علمیھ قم میں مقیم ہو گۓ ۔ یہاں پر انہوں نے دوسرے انقلابی کارکنوں کے ساتھ مل سیاسی سرگرمیوں میں پھرپور حصہ لینا شروع کر دیا اور قم میں مقیم  دوسرے پاکستانی نژاد طالب علموں کو بھی اسلامی انقلاب کے لیے جدوجہد کے لیۓ ترغیب دی ۔ ان کی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے وہ حکومت کی نظر میں آ گۓ اور حکومتی اہلکاروں نے ان پر نظر رکھنی شروع کر دی ۔  اسی دور وہ ان کی گرفتاری عمل میں آئی اور انہیں ملک  سے باہر کر دیا گیا جس کے بعد وہ واپس پاکستان تشریف لے گۓ ۔ پاکستان جا کر بھی وہ بیکار نہیں بیٹھے بلکہ پاکستان میں بھی انہوں نے اپنی سیاسی سرگرمیوں  کا سلسلہ جاری رکھا  اور پاکستان کی عوام میں شاہ ایران کا اصل چہرہ بےنقاب کیا ۔ انہوں نے حضرت امام خمینی کی حمایت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رہی ۔ انہوں نے امام خمینی کو مسلمانوں کے رہبر کے طور پر پاکستان میں متعارف کروایا ۔ ان کی اس محنت کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے پشاور میں ایک بڑے اجتماع کے دوران حضرت امام خمینی کی حمایت کا اعلان کیا اور لوگوں کی امام کی حمایت کے لیۓ تیار کیا ۔

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 3:52 PM |

سید عارف حسین کی تعلیمی سرگرمیاں

سید عارف حسین کو ابتداء ہی سے علم حاصل کرنے کا بےحد شوق تھا اور انہوں نے اپنے شوق کی تکمیل کےلیۓ نیک لوگوں کا راستہ اختیار کیا ۔ سب سے پہلے انہوں نے اپنے والد  سید فضل سے تعلیم و تربیت حاصل کی ۔ ان کے والد تقوی میں کمال تھے جن سے سید عارف حسین نے بےحد فائدہ اٹھایا ۔ جب وہ سکول جانے کی عمر کو پہنچے تو انہوں نے اسکول میں داخلہ لیا اور بڑی تیزی سے علمی منازل طے کرتے چلے گۓ ۔ انٹرمیڈیٹ  کرنے کے بعد انہوں نے  مذھبی تعلیم کی طرف توجہ دی اور حوزہ علمیھ جعفریھ پارا چنار میں داخلہ لیا ۔   اس مدرسہ میں انہیں استاد حاجی غلام جعفر لقمان سے ادبیات عرب جاننے کا موقع ملا  اور انہوں نے یہاں پر مذھبی میدان میں اپنے علم میں قابل قدر اضافہ کیا ۔ اپنی علمی تشنگی کو سیر کرنے کے لیۓ وہ 1346  شمسی میں نجف شریف (عراق ) میں واقع ایک حوزہ علمیھ میں چلے گۓ  ۔  مالی مشکلات ہونے کے باوجود  انہوں نے اپنا تعلیمی سفر جاری  رکھا اور مدرسہ علمیھ " بشریھ "  اور پھر مدرسھ علمیھ دارالحکمھ میں مقیم رہے ۔ سید عارف حسین حسینی بڑے خوش قسمت انسان تھے کہ انہیں بہت ہی قابل اساتذہ کے زیر سایہ رہنے کا موقع ملا ۔ ان کے اساتذہ میں آیت اللہ سید اسداللہ مدنی کہ جن سے انہوں نے " شرح لمعھ " ، سید مجتبی لنکرانی سے " رسایل " ، آیت اللہ مرتضوی سے " مکاسب " ، آیت اللہ شھید مرتضی مطھری سے " درس فلسفھ ، آیت اللہ فاضل لنکرانی سے " جلد اول کفلیھ " ، آیت اللہ محسن حرم پناہی  سے " درس عقائد " ، آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی سے " خارج اصول " ، آیت اللہ شیخ جواد تبریزی سے " خارج فقھ "   وغیرہ وغیرہ کے علوم حاصل کیے 

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 3:51 PM |

علامہ سید عارف حسین حسینی کی پیدائش

علامہ سید عارف حسین حسینی

علامہ سید عارف حسین حسینی  ایک مشہور عالم دین تھے جنہوں نے  اسلام  کو لوگوں میں عام کرنے لیۓ قابل قدر خدمات انجام دیں ۔ آپ کے والد کا نام سید فضل حسین تھا اور آپ 1320 ہجری شمسی میں  پاکستان کے قبا‏ئلی علاقہ بنام  پارا چنار  میں ایک مذھبی اور روحانی خاندان میں پیدا ہوۓ ۔  پارا چنار کا علاقہ پاکستان کے صوبہ سرحد (جس کا نیا نام خیبر پختونخواہ ہے ) کے مرکزی شہر پشاور سے تقریبا 200 کلومیٹر کے فاصلے پر پاکستان اور افغانستان کے بارڈر پر واقع ہے۔ سید عارف کا خاندان پارا چنار کے ایک دیہات میں رہتا تھا جو پارا چنار سے کوئی 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس دیہات کا نام  «پیوار» ہے اور اس میں تین  قبیلے «غندی خیل»، «علی زائی» و «دویرزائی» رہتے ہیں ۔ سید عارف حسین حسینی کا تعلق دویرزائی «پیوار»  سے ہے ۔ اس علاقے میں تقریبا 200 ہزار کے شیعہ آباد ہیں ۔ اس علاقے کے لوگ  بڑے شہروں سے دور ہونے اور آزاد قبائلی قوانین اور رسوم میں جکڑے ہونے کی وجہ  سے پسماندہ ہیں اور زندگی کی بنیادی ضرویات سے آج بھی محروم ہیں ۔

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 3:49 PM |

قومی وحدت اور اسلامی انسجام

 

آیت اللہ العظمی خامنہ ای

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے نئے سال کو قومی یکجہتی و وحدت اور اسلامی انسجام کا سال قراردیا ہے ولی امر مسلمین نے نئے شمسی سال کے آغاز اور عید نوروز کی مناسبت سے حرم امام رضا (ع) میں لاکھوں زائرین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نئے سال کی آمد پر مبارک باد پیش کی اور نئے سال کو قومی یکجہتی اور اسلامیانسجام کا سال قراردیا ہے رہبر معظم نے ایرانی عوام کو زندہ دل، دلیر اور شجاع قراردیتے ہوئے فرمایا کہ ایران کے زندہ دل عوام کو اپنی پیشرفت اور ترقی کے سلسلے میں داخلی اور بین الاقوامی سطح پر اپنے مقام اور منزلت کو پہچاننا چاہیے رہبر معظم نے فرمایا کہ آج ایرانی عوام  زندگی کے تمام شعبوں میں اسلامی ممالک اور امت اسلامی کے لئے نمونہ عمل ہے ایرانی عوام کی غیرت وطن پرستی اور دینی شعور ان کی عزت اور سرافرازی و سربلندی اور قومی استقلال  کا سبب ہے انھوں نے فرمایا کہ اگرچہ سامراجی طاقتوں نے 200 سال تک ایران پر تسلط پیدا کرکے اس کو علمی میدانوں میں آگے بڑھنے سے روک دیا لیکن حالیہ تین دہائیوں میں ایرانی عوام نے علم کی بلند ترین چوٹیوں کو فتح کرکے ثابت کردیا ہے کہ وہ دیگر قوموں کے لئے نمونہ عمل بننے کی قدرت اور توانائی سے بہرہ مند ہیں رہبر معظم نے فرمایا کہ ایران کے غیور اور بہادر جوانوں نے علمی میدان میں ایران کو دنیا کے چند معدود ممالک کی صف میں لاکر کھڑا کردیا ہے جس کی وجہ سے سامراجی طاقتوں پر لرزا طاری ہوگیا ہے اور وہ ایرانی دانشمندوں کی علمی پیشرفت و ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے اب سکیورٹی کونسل کا سہارا لینے پر مجبور ہوگئیں ہیں رہبر معظم نے فرمایا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام بین الاقوامی قوانین اور ایٹمی ایجنسی کی نگرانی میں جاری ہے لیکن اگر ایرانی عوام کو اس کے حقوق سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی تو ایران بھی اس کا ویسا ہی جواب دیگا رہبر معظم نے فرمایا کہ سامراجی طاقتوں نے ایران کے خلاف کئی محاذوں پر جنگ چھیڑ رکھی ہے جن میں نفسیاتی جنگ ، اقتصادی جنگ اور ایران پر علمی راہیں مسدود کرنے کی جنگ شامل ہیں رہبر معظم نے سامراجی طاقتوں کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ  ایرانی عوام نے اقتصادی پابندیوں کے سائے میں ایٹمی ٹیکنالوجی  حاصل کرکے ثابت کردیا ہے کہ ایرانی عوام قانون کے پابند ہیں لیکن کسی کی طاقت کے دباؤ اور زور سے مرعوب ہونے والے نہیں ہیں انھوں نے فرمایا کہ امریکہ خلیجی ممالک کو ایران سے ڈرانے کی کوشش کررہا ہے جبکہ ایران کے ہمسایہ ممالک کوایران سےنہ ماضی میں کوئی خطرہ تھا اور نہ اب ہے ایران خلیجی ممالک کے ساتھ مشترکہ فوجی دفاعی معاہدہ منعقد کرنے کے لئے تیار ہے یوں تو ہرسال اسلامی انسجام اور وحدت کا سال ہے لیکن رہبر معظم نے اس سال کو وحدت اور اسلامی انسجام کا سال قراردیکر اس مسئلے کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا ہے کیونکہ اگر آج مسلمان آپس میں باہمی اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ نہیں کریں گے تو دشمنان اسلام اور سامراجی طاقتوں کو انھیں مغلوب بنانے کا اور موقع ملے گا

مترجم : سید ذاکر حسین جعفری

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 3:46 PM |

دین واحد کے ماننے والوں میں اختلاف کیوں ؟

دین اسلام ،دین خدا ھے ، نہ کسی خطّے سے مخصوص ھے نہ کسی فرد سے ۔ کراچی میں جھاں میں عشرہ پڑھتا ھوں وھاں کثرت سے اھلنست برادران بھی آتے ھیں ۔ وھاں کی انتظامیہ کمیٹی نے آخر میں شکریہ ادا کرنے کے لئے مجھ سے دو تین منٹ کی تقریر کرنے کے لئے کھا ۔ میں نے وھاں دو منٹ میں مجمع کے سامنے صرف ایک سوال رکھا کہ دین اسلام آیا تاکہ مومنین کے آپسی اختلافات اور کدورتوں کو دور کر کے انھیں ایک دوسرے کا بھائی قرار دے ۔

"" و اذکر نعمة اللہ علیکم اذ کنتم اعداءً فالّف بین قلوبکم فاصبحتم بنعمتہ اخوانا"" ( آل عمران /۱۰۳)

پھر ان میں اختلاف کیوں ھے؟ جو دین دو متغایر کو ایک بنانے کے لئے آیا تھا اور جس کا پیغام ھی یھی تھا کہ اسلام میں رنگ و نسل کی تمیز نھیں ھے کیونکہ مومنین ایک دوسرے کے بھائی ھیں ۔

"" انما المومنون اخوة""

پھر یہ ایک دوسرے کے دشمن کیوں ھو گئے ؟ میں آج تک یہ نھیں سمجھ سکا جو دین انسانیت کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لئے آیا تھا اسی کے نام پر آج مسلمان کیوں اختلاف کر رھے ھیں ؟ یہ میرے لئے ایک سوالیہ نشان ھے ۔ اسی موضوع پر آپ بھی ریسرچ کرتے رھئے اور میں بھی کرتا رھوں گا ۔ اس میں جتنا وقت صرف کریں اور کام کریں کم ھے ۔

                                                           مبلغ ڈاٹ نیٹ

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 3:45 PM |

شیعہ اور سنی علماءکے دوستانہ تعلقات

شیعہ اور سنی علماءکے دوستانہ تعلقات

تاریخ کے ہرمرحلے میں علماء اسلام کی سیرت مسلمانوں بلکہ اقوام عالم کے لۓ مشعل راہ رہی ہے تشنگان راہ حق کبھی بھی اس عظیم نعمت الھی سے بے نیازی کا اظہار نہیں کرسکتے ۔

 

  سیرت علماء کے تعلق سے جس چیزپر تحقیقات کۓ جانے کی ضرورت ہے وہ شیعہ و سنی علماءکے دوستانہ تعلقات اور مفاھمت آمیزروش اور اس کے مبارک ثمرات ہیں ،بے شک اس وسیع موضوع کا ایک مقالے یا مضمون میں حق ادانہیں کیاجاسکتا بلکہ اس کے لۓ وسیع تحقیقات کی ضرورت ہے جس کے تحت صاحب نظر افراد تاریخ کے اس اھم گوشہ پر روشنی ڈالیں‎ ۔

  علماء شیعہ میں بہت سی ایسی ھستیاں ہیں جن کے اھل سنت علماء کے ساتھ نہایت دوستانہ تعلقات تھے یہ لوگ اھل سنت علماء کے ساتھ علمی بحث و مباحثے بھی کیا کرتے تھے بلکہ علماءشیعہ میں بعض حضرات اھل سنت علماء کے شاگرد ہیں اسی طرح بعض علماءاھل سنت نے شیعہ علماءکے سامنے زانوے ادت تہ کیا ہے یہی نہیں بلکہ شیعہ علما ءنے اھل سنت علماءکو اجازہ روایت دیا ہے اور ان سے خود بھی اجازے لۓ ہیں،اس باھمی تعاون کا مبارک نتیجہ یہ نکلا کہ برادران اھل سنت کےعلماءپیروان اھل بیت یعنی شیعہ مسلمانوں کے عقائد و اصول سے آگاہ ہوۓ اور بہت سے غلط تصورات ابھامات اور تہمتوں کا ازالہ ہوا اور دوستی میں پختگي آئي ،یاد رہے اس دوستی سے فریقیں کے علماءکے اعتقادات میں کسی طرح کی تبدیلی یا خلل نہیں آیا بلکہ انہوں نے اپنے عقیدے اور موقف کو مستحکم بنانے کے لۓ ایک دوسرے کے نظریات سے پوری جرات کے ساتھ استفادہ کیا ۔

   قارئين کرام اس مختصر مقالے میں ہم بعض علماء شیعہ کا ذکر کررہے ہیں جن کی الھی شخصیت اور علمی عظمت میں ذرہ برابر شک نہیں کیاجاسکتا ان کے نظریات اور عملی سیرت فریقین کے نزدیک باعث تجلیل و تعظیم و تکریم ہے ۔

شیخ مفید محمد ابن نعمان البغدادی

سید شریف المرتضی علی ابن الحسین الموسوی

شیخ الطائفہ محمد بن الحسن الطوسی

علامہ حسن بن یوسف حلی

شہید اول محمد بن مکی الجزینی

شہید ثانی زین الدین بن علی العاملی

سید عبدالحسین شرف الدین العاملی

   اس مختصر مضمون میں ان تمام علماء عظام کی سیرت کا جائزہ نہیں لیا جاسکتا بنابریں ہم صرف شہید اول وثانی اور سید شرف الدین عاملی کی زندگي پر اختصار سے روشنی ڈالیں گے ۔

علامہ بزرگوار سید شرف الدین عاملی اسلامی امۃ کے اتحاد کو بے حد اھمیت دیتے تھے اسی وجہ سے انہوں نے اھل سنت علماء سے تعلقات بڑھاے ان سے ملاقاتیں کی اور بحث ومباحثے کۓ اور آج بھی ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ علامہ شرف الدین کا اسلوب ہی ثمر بخش و مفید واقع ہورہا ہے البتہ اس بات پربھی افسوس ہوتاہےکہ آپ کے بعد آنے والے علماء فریقین نے آپ کے بتاے ہوے راستے پر سنجیدگي سے عمل کرنا ترک کردیا ،اگر فریقین کے صف اول کے علماء علامہ شرف الدین کے راستہ پر عمل کرتے رہتے اور آپسی ملاقاتوں علمی تبادلوں اور علمی تعاون کا سلسلہ جاری رکھتے تو آج ہم کو ان مبارک کوششوں کے نہایت مفید ثمرات دیکھنےکوملتے ،بہرحال آج ہمیں بڑی خوشی ہے کہ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعدحضرت امام خمینی رضوان اللہ علیہ اور آپ کے برحق جانشین قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای مد ظلہ کی حکیمانہ قیادت میں عالم اسلام کو متحد کرنے کی مفید کوششیں ہورہی ہیں جو انشاءاللہ اسلام کی کامیابی کا باعث بنیں گي ۔

شہید اول محمد بن مکی العاملی ۔

  شہید اول کی علمی روش کا ایک اہم ترین پہلو یہ ہےکہ آپ نے کبھی بھی اپنے تعلقات کو کسی خاص فرقے گروہ یا شخص میں محدود نہیں رکھا بلکہ آپ عالم اسلام کی مختلف علمی شخصیتوں اور مکاتب فکر سے رابطے میں رہتے تھے ،مختلف مکاتب فکر کے علماء ومفکرین سے آپ کا علمی تعاون رھتا تھا ان ہی تعلقات کی بناپر آپ کی شخصیت جامع اور ھمہ گیر بن گئي ۔

  شہید اول نے علماء اھل سنت کی متعدد شخصیتوں سے اجازات روائي حاصل کۓ اسی طرح متعدد علماء عامہ کو اجازے دۓ ہیں آپ ابن الخازن کے اجازہ راوئي میں لکھتے ہیں کہ اور جہاں تک سوال ہے عامہ (اھل سنت ) کی کتب اور روایات کا تو میں ان کے چالیس علماء سے روایت کرتاہوں جن کا تعلق مدینے مکہ دارالسلام بغداد دمشق مصر بیت المقدس اور بیت لحم سے ہے ،میں نے صحیح بخاری کے لۓ علماء عامہ کی بڑی تعداد سے روایات نقل کی ہیں جن کی سند بخاری تک پہنچتی ہے اسی طرح میں نےمسند احمد و موطاء مالک ،مسند دارقطنی مسند بن ماجہ مستدرک    صحیحین اور دیگر کتابوں کے لۓ روایت کی ہے جن کا ذکر موجب تطویل کلام ہے

شہید اول ابن نجدہ کے اجازہ میں تحریر فرماتے ہیں میں انہیں اجازت دیتا ہوں ان تمام روایات کی جن کی میں نے حجازعراق و شام کے علماء اھل سنت سے روایت کی ہے اور وہ کثیر روایات ہیں ۔

شہید اول کے معروف اھل سنت اساتذہ

1 قاضی برھان الدین ابراھیم بن جماعۃ الکنانی متوفی سات سونوےھجری قمری،ان سے شہید اول نے شاطبیہ پڑھی ہے

2 قاضی القضاۃ عزالدین عبدالعزیزبن جماعۃ متوفی سات سو سڑسٹھ ھ ق ان کے بارے میں شھید فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھے مدینۃ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ھفتے کے دن ذی الحجہ کی بائيس سات سو چون ھ ق کو اجازہ عام جس میں معقول و منقول شامل ہیں دیا ۔

3 جمال الدین ابو احمد عبدالصمد بن الخلیل البغدادی شہید اول کو اجازہ دیتے ہوۓ انہوں نے لکھا ہےکہ کہتا ہےعبد فقیر رحمت کا محتاج بغداد میں حدیث نبوی کا قاری کہ میں نے اجازت دی شیخ الامام علامہ فقیہ صاحب تقوی وفضل زاھد و پارسا شمس الدین ابی عبداللہ محمد بن مکی بن محمدکو کہ وہ مجھ سے ان تمام روایات کونقل کرسکتے ہیں جو میرے لۓ جائزہیں ۔

4 محمد بن یوسف القرشی الکرمانی الشافعی الملقب بشمس الائمہ و صاحب شرح البخاری ،انہوں نے شیہد اول کو بغداد میں سات سو اٹھاون ھ ق میں اجازہ روایت دیا ۔

5 شرف الدین محمد بن بکتاش التستری البغدادی الشافعی ،مدرس مدرسہ نظامیہ

7 ملک القراء والحفاظ شمس الدین محمد بن عبداللہ البغدادی الحنبلی

8 فخرالدین محمد بن الاعزالحنفی

9 شمس الدین ابو عبدالرحمن محمد بن عبدالرحمن المالکی ،مستنصریہ کے مدرس۔

قابل ذکر ہے نویں صدی ہجری کے بزرگ عالم اھل سنت شمس الدین الجزری نے شہید اول کے بارے میں کہا ہےکہ شیخ الشیعہ اور مجتھد جوکہ نحو قرائت وفقہ میں امام ہیںوہ میرے ساتھ لمبی مدت تک رہے ہیں میں نے اس دوران ان سے کوئي ایسی بات نہیں سنی جو سنت کے برخلاف ہو۔

شہید ثانی زین الدین بن علی العاملی ،

شہید ثانی نے اپنی سوانح حیات میں اھل سنت علماء سے استفادہ کرنے کے بارے میں لکھا ہےکہ میں نوسوبیالیس ھجری قمری کے آغاز میں تحصیل علم کےلۓ مصر گیا اور وہاں بہت سے فاضل افراد سے کسب فیض کیا سب سے پہلے میں شیخ شمس الدین ابن طولوں الدمشقی الحنفی کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے صحیحین کا ایک حصہ پڑھا انہوں نے

مجھے صحیحین کی ان روایتوں کی اجازت دی جوان کے لۓ جائزتھیں یہ بات اسی سال ربیع الاول کی ہے ۔

شہید ثانی لکھتے ہیں کہ میں گذشتہ برس ربیع الاول کے وسط میں یوم جمعہ کو مصر پہنچاتھا اور علماء کے ایک گروہ کے ساتھ علمی کاموں میں لگ گيا وہ لکھتے ہیں کہ ان علماءمیں شیخ شھاب الدین احمد الرملی الشافعی ہیں جن سے میں نے فقہ میں منھاج النووی ،اور ابن حاجب کی مختصرالاصول کے اکثر حصے پڑھے ہیں اس طرح شرح العضدی بھی پڑھی ہے اور اس کے حواشی کا مطالعہ بھی کیا ہے جن میں السعدیہ والشریفیہ ہیں وہ لکھتے ہیں کہ میں نے ان سے فنون عربیہ اور عقلیہ حاصل کرنے کے لے بہت سی کتابیں پڑھی ہیں جن میں شرح التلخیص المختصر فی المعانی و البیان شامل ہے جو کہ سعد الدین تفتازانی کی کتاب ہے اس طرح اصول فقہ میں امام الحرمین جوینی کی ورقات کی شرح جو خود شیخ نے تحریر کی ہے ا س کا بھی درس لیا ہے ۔

شہید ثانی لکھتے ہیں کہ میں نے اذکارالنووی اور فقہ میں جمع الجوامع المحلی کے کچھ حصے اور علم نحو میں توضیح ابن ھشام اور بہت سی دیگر کتابوں کی تعلیم بھی حاصل کی ۔

شہید ثانی نے لکھا ہےکہ شیخ نے مجھے ان روایات کی اجازت عامہ دی جو ان کے لۓ جائزتھیں ۔

شہید ثانی لکھتے ہیں کہ میں نے جن علماء اھل سنت سے استفادہ کیا ان میں ملاحسین جرجانی بھی ہیں ہم نے ان سے ملا قوشجی کی شرح تجرید حاشیہ ملا جلال الدین الدوانی اور فن ھندسہ میں قاضی زادہ رومی کی شرح اشکال التاسیس اور ھیئۃ میں شرح چغمینی کا بھی درس پڑھا ۔

وہ کہتے ہیں ہم نے ملامحمد استرآبادی سے مطول کے بعض حصوں کی تعلیم حاصل کی ساتھ میں سید شریف اور جامی کے حاشیے بھی پڑھے ۔

ان میں ملامحمد گيلانی بھی ہیں جن سے ہم نے معانی و منطق کے بعض ابواب کی تعلیم حاصل کی ۔

شیخ شہاب الدین بن النجار النبلی بھی ہمارے استاد ہیں ہم نے ان سے جاربردی کی شرح شافیہ ۔عروض و قوافی میں شیخ زکریا انصاری کی شرح خزرجیہ کا درس لیا اور مختلف فنون و حدیث کی بہت سی کتابیں انہیں پڑھ کرسنائيں جن میں صحیحین بھی شامل ہیں انہوں نے مجھے ان تمام روایتوں کے نقل کرنے کی اجازت دی ہے جن کے وہ خود راوی ہیں۔

 

رز سرخ

شہید ثانی کہتے ہیں ان کے اساتذہ میں شیخ ابو الحسن البکری بھی شامل ہیں جن سے انہوں نے فقہ و تفسیر اور منھاج پر ان کی شرح کے بعض حصے پڑھے ہیں وہ لکھتےہیں کہ انہوں نے شیخ زین الدی الحری المالکی سے الفیہ بن مالک پڑھی ہے۔

شہید ثانی ناصرالدین اللقانی المالکی کے بارے میں کہتے ہیں کہ انہوں نے مصر میں علوم عقلیہ اور عربیہ میں ان سے زیادہ کسی کوعالم و فاضل نہیں پایا شہید ثانی نے ان سے تفسیر بیضاوی اور دیگر فنون کی کتابیں پڑھی ہیں۔

شہید ثانی کے ایک اور استاد جواھل سنت ہیں ان کانام شیخ ناصر الطبلاوی الشافعی ہے شہید کہتے ہیں میں نے انہیں ابی عمروکی قرائت کے مطابق قرآن پڑھ کرسنایا اور قرآت کے موضوع پر ان کا ایک رسالہ بھی پڑھا ۔

شہید نے لکھا ہے کہ انہوں نے جن افراد سے کسب فیض کیا ان میں شیخ شمس الدین محمد ابو النجاالنحاس بھی ہیں شہید نے انہیں قرات سبعہ کے مطابق قرآن پڑھ کرسنایا اور قرآت میں شاطبیہ کا درس پڑھا وہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے قراعشرہ کے مطابق قرائت قرآن شروع کی تھی لیکن اسے مکمل نہیں کرپاے ۔

شہید ثانی کے ایک اور سنی استاد عبدالحمید سہمودی ہیں ان سے شہید نے مختلف فنون کی کتابیں پڑھی ہیں اور اجازہ عام بھی حاصل کیا ۔

شہید ثانی کے ایک اور سنی استاد شیخ شمس الدین عبدالقادر الفرضی الشافعی ہیں جن سے شہید نے ریاضیات کی مختلف کتابیں پڑھی ہیں اور اجازہ عام بھی حاصل کیا ہے ،شہید ثانی لکھتے ہیں کہ انہوں نے مصر میں علماءکی بڑی تعداد سے کسب فیض کیا ہے جن کا ذکر تطویل کلام کا باعث ہے ۔

شہید ثانی مصرکے بعدنوسوتینتالیس ھجری قمری میں حجازکاسفرکرتے ہیں اس کے بعدبیت المقدس کی زیارت کےلۓ نوسواڑتالیس ھ ق میں فلسطین پہنچتے ہیں جہان وہ شیخ شمس الدین ابی اللطف المقدسی کے سامنے زانوے ادب تہ کرتےہیں اور ان سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے بعض حصے پڑھتےہیں شیخ انہیں اجازہ بھی عطاکرتے ہیں ۔

بیت المقدس کے بعد شہید ثانی بعلبک میں قیام پذیر ہوتےہیں اور یہاں ایک مدت تک مذاھب خمسہ اور دیگر علوم کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

علامہ سید شرف الدین العاملی

علاہ سید شرف الدین عاملی آفاقی شخصیت کےمالک ہیں اسلام و مسلمین کی فلاح وبہبود اور امت کے اتحاد کے لۓ ان کی کوششوں کو دنیا کبھی نہیں بھلاسکتی سید شرف الدین نے شیعہ سنی اتحاد کے لۓ اھل سنت کے بزرگ علماء سے رابط کیا اور تعلقات قائم کۓ ان سے استفادہ کیا اور انہیں بھی فیض پہنچایا،لبنان ودیگر اسلامی ممالک میں اسلامی امت کے اچھے حالات ان ہی کی مجاھدانہ کوششوں کا نتیجہ ہے ۔

سید شرف الدین اپنی کتاب ثبت الاسنادفی سلسلۃ الرواۃ میں اپنے اھل سنت اساتذہ اوررفقاءکےبارے میں لکھتے ہیں کہ میرے اھل سنت اساتذہ کی تعداد شیعہ اساتذہ سے زیادہ ہے لیکن میں صرف پانچ شخصیتوں کا ذکر کررہا ہوں جنہوں نے مجھے اجازے دیے ہیں ۔

1 استاد شیخ سلیم البشری المالکی شیخ الازھر تھے اور انہیں علماء مصر کا امام کہا جاتاتھا ان سے میری ملاقات مصر میں ہوئي الازھر میں ان کے درس میں کچھ دنوں تک شرکت کی ہم دونوں کے درمیان علمی رسائل کاتبادلہ ہوتارہتا تھا ان کے خطوط سے ان کے تقوی انصاف اور علمی اخلاقی اور ادبی لحاظ سے ان کی عظمت کا پتہ چلتا ہے ۔

دوسری شخصیت ہیں فقیہ و محدث محمد المعروف بہ شیخ بدالدین الدمشقی ہیں وہ دمشق میں شیخ الاسلام کے عھدے پرفائزتھے اور اپنے زمانے کے اعلم علماءمیں ان کا شمار ہوتاتھا تیرہ سو اڑتیس میں مجھے دمشق میں ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا اسی سال رمضان المبارک میں،میں نے ان کے درس میں

شرکت کی ہمارے درمیان حسن و قبح عقلی ،امکان رویت خدا اور اس کے محال ہونے ،قرآن کا حدوث اور قدم جیسے مسائل پر بحث ومباحثہ جاری رہا ۔

تیسری شخصیت علامہ کبیر ومحدث شہیر شيخ محمد بن محمد عبداللہ الخانی الخالدی النقشبندی الشافعی کی ہے دمشق میں ان سے ملاقات ہوئي،بیروت اور دمشق میں ان سے بعض حدیثیں سننے کاموقع ملا ۔

علامہ شرف الدین فرماتے ہیں ان کے اساتذہ میں چوتھی شخصیت شیخ محمد المعروف بہ شیخ توفیق الایوبی الانصاری الدمشقی کی ہے وہ لکھتے ہیں کہ ہم لوگوں نے ایک دوسرے سے کافی علمی استفادہ کیا۔

سید شرف الدین لکھتےہیں کہ ان کے ایک اور استاد کا نام شیخ محمد عبدالحی ابن الشیخ عبدالکبیر الکتانی الفاسی الادریسی ہیں سید لکھتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دوسرے کے پاس آیا جایا کرتے تھے اور ہمارے درمیان علمی مباحثہ رہا جس کے بڑے فائدے حاصل ہوۓ ہم نے اصول فقہ کے ابواب پربحث کی جس سے ان کی علمی عظمت کااندازہ ہوتاہے ۔

علامہ سید شرف الدین لکھتے ہیں کہ ان کا مصر کا دورہ ایک فردی دورہ تھا اوراس کا مقصد شیعہ سنی علماء کو نزدیک لانا، انہیں اھل بیت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماننے والوں کے عقائد نظریات سے آگاہ کرکے غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا تھا اور سید شرف الدین اپنے اس مقصد میں کامیاب رہے ۔

سید شرف الدین نے دورہ مصر میں المراجعات نامی مستدل کتاب لکھی جو امامیہ کےنزدیک اثبات امامت پر بے نظیر کتاب ہے اس کتاب میں ایک لفظ بھی حق و انصاف سے ہٹ کر نہیں ہے بلکہ باھمی احترام کے اصولوں پر کۓ جانے والے علمی مباحثوں کا بہترین نمونہ ہے ۔

امید کہ اسلامی مکاتب فکر اسی روش کو اپناتے ہوۓ ایک دوسرے کے بارے میں موجود غلط تصورات کا ازالہ کرکے اتحاد کا ثبوت پیش کریں کے کیونکہ آج یہی سب سے بڑی ضرورت ہے ۔

+ نوشته شده توسط khial hussain در Wed 23 Mar 2011 و ساعت 3:43 PM |