امام خمینی معاصر تاریخ کا مردِ مجاہد (حصّہ اوّل )

امام خميني رضوان لله تعالي عليه

امام خمینی(رہ) ایک ایسے عظیم انقلاب کے موجد و بانی تھے جس نے شہنشاہوں کے2500سالہ اقتدار کا یکسر خاتمہ کیا ۔ انہوں نے اپنی بے لوث و پرخلوص قیادت کے بل پر امریکہ ، روس اور دیگر عالمی طاقتوں کے اثر و رسوخ کو ختم کرکے اسلامی معاشرے کو پاک و صاف کرانے کی جدوجہد آخری دم تک جاری رکھی ....دیکھتے ہی دیکھتے سرزمین ایران کے کلمہ گو نوجوان اور بزرگ مع خواتین جن کے سینوں میں جوش وخروش اور انقلابی لہر موجزن تھی ‘ عیش وآرام چھوڑ کر سڑکوں پر نکل آئے ۔ انہوں نے شاہی لوازمات ٹھکرائے ،امام خمینی(رہ) کے فرمان کو دلوں سے لگائے ،سلطنتی نظام کے خاتمے اور اسلامی حکومت کے قیام کا نعرہ بلند کیا ۔ الغرض پرخلوص اور دیانتدارانہ قیادت کے زیر اثرخوابیدہ قوم کواسلامی انقلاب کے طلوع کی خوش خبری سننے کو ملی ۔

امام خمینی (رہ) کو ابتداء ہی سے اس بات کا احساس تھا کہ دنیا کے ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں کی نمائندگی کرنے دو عظیم طاقتوں کے سیاسی ونظریاتی حملوں کا مقابلہ کرنے اور اسلامی مقاصد کے دفاع وتحفظ کے لئے ایرانی جیالوں کو صف اوّل میں کھڑا ہونا ہے ۔ دنیا والوں پر یہ حقیقت آشکار ہوگی کہ امام کی بے لوث اور بروقت رہنمائی میں امت نے تمام رکیک حملوں کا مقابلہ کیا ۔

۔ امام خمینی(رہ)  نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں فرمایا تھا :

” یہ اسلامی تحریک کسی شخص پر قائم نہيں ہے ۔ میں آپ کے درمیان رہوں یا نہ رہوں مگر یاد رکھو کہ اتحاد ویگانگت کی ڈگر سے وابستہ تحریکی سفر جاری رکھ کے ہی آپ کو منزل ملے گی “۔

.اس وقت اسلامی دنیا امام خمینی(رہ)  کے بوئے ہوئے تحریکی پودے کو تناوردرخت کی صورت میں دیکھ رہی ہے ۔ بلاشبہ امام خمینی (رہ)کا انقلابی مشن اور ان کا لازوال پیغام آبندہ نسلوں کے لئے بھی مفید اور تعمیری ثابت ہوگا کیونکہ امام انقلاب(رہ)  نے آ ج کے انسان کو یہ سبق دیا ہے کہ سیاسی ، اقتصادی اور ثقافتی قوتوں کے سامنے جھکنا ذلت ورسوائی کے مترادف ہوگا ۔

ان کی وصیت میں سے ایک جھلک پیش خدمت ہے :

” اسلامی ممالک کے غیور عوام سے میری وصیت ہے کہ آپ اس انتظار میں نہ رہیں کہ کوئی باہر سے آ کر اسلامی احکامات کے مفاد کے سلسلے میں آپ کے مقاصد میں کسی طرح کی مدد کرے ۔ آپ خود اس حیات بخش عمل کے لئے جو آزادی کو اپنے ہمراہ لاتا ہے اقدام کیجئے‘ اسلامی ممالک کے علماءاعلام اور خطبائے کرام کا فریضہ ہے کہ وہ حکومتوں کی بڑی طاقتوں کی غلامی سے آزاد ہونے اور اپنی قوم سے مفاہمت کرنے کی دعوت دیں“۔

+ نوشته شده توسط khial hussain در Tue 22 Mar 2011 و ساعت 12:54 PM |